جھوٹی گواہی کا مطلب ہے غلط گواہی دینا یعنی کہ حق کے خلاف گواہی دینا اور یہی جھوٹی گواہی کا عام مطلب ہے۔ ارشادِ باری تعالیٰ ہے: وَ لَا تَقْفُ مَا لَیْسَ لَكَ بِهٖ عِلْمٌؕ-اِنَّ السَّمْعَ وَ الْبَصَرَ وَ الْفُؤَادَ كُلُّ اُولٰٓىٕكَ كَانَ عَنْهُ مَسْـٴُـوْلًا (۳۶) (پ 15، بنی اسرائیل: 36) ترجمہ کنز الایمان: اور اس بات کے پیچھے نہ پڑ جس کا تجھے علم نہیں بیشک کان اور آنکھ اور دل ان سب سے سوال ہونا ہے۔

تفسیر: جس بات کا علم نہیں اس بات کے پیچھے پڑنے سے مراد یہ ہے کہ جس چیز کو دیکھا نہ ہو اس کے بارے میں یہ نہ کہو کہ میں نے دیکھا ہے اور جس بات کو سنا نہ ہو اس کے بارے میں یہ نہ کہو کہ میں نے سنا ہے۔ ایک قول کے مطابق اس سے مراد یہ ہے کہ جھوٹی گواہی نہ دو۔ یاد رہے کہ جھوٹی گواہی دینا اور کسی پر جان بوجھ کر غلط الزام لگانا انتہائی مذموم فعل ہے۔ یہاں اس سے متعلق چند احادیث پیش خدمت ہیں۔

1۔ جھوٹے گواہ کے قدم ہٹنے بھی نہ پائیں گے کہ اللہ تعالیٰ اس کے لیے جہنم واجب کردے گا۔ (ابن ماجہ، 3/123، حدیث: 2373)

2۔ جس نے کسی مسلمان کو ذلیل کرنے کی غرض سے اس پر الزام عائد کیا تو اللہ پاک جہنم کے پل پر اسے روک لے گا یہاں تک کہ اپنے کہے ہوئے کہ مطابق سزا پالے۔ (ابو داود، 4/354، حدیث: 4883)

3۔ جو کسی مسلمان پر ایسی چیز کا الزام لگائے جس کے بارے میں وہ خود بھی جانتا نہ ہو تو اللہ تعالیٰ اسے جیسے ردغۃ الخبال (جہنمیوں کے خون اور پیپ جمع ہونے کا مقام ) میں اس وقت تک رکھے گا جب تک اپنے الزام کے مطابق عذاب نہ پائے۔ (مصنف عبدالرزاق، 11/ 425، حدیث: 20905)

افسوس فی زمانہ جھوٹی گواہی دینا ایک معمولی کام سمجھا جاتا ہے اور الزام تراشی کرنا تو اس قدر عام ہے کہ کوئی حد ہی نہیں جس کا جو دل کرتا ہے وہ دوسروں پر الزام لگاتا ہے اور جگہ جگہ ذلیل کرتا ہے اور ثبوت مانگیں تو یہ دلیل کہ میں نے کہیں سنا تھا یا مجھے کسی نے بتایا تھا یا آپ کی بات کا مطلب یہی تھا! اب کس نے بتایا؟ بتانے والا کتنا معتبر تھا؟ اس کو کہاں سے پتا چلا؟ اس کے پاس کیا قابل قبول ثبوت ہے؟ اس بات کرنے والے کے دل کا حال کیسے جان لیا؟ کوئی معلوم نہیں۔ مذکورہ آیت اور احادیث کو سامنے رکھتے ہوئے ہر ایک کو اپنے اپنے طرز عمل پر غور کرنے کی شدید حاجت ہے۔


جھوٹی گواہی ایک بہت برا فعل ہے جس کو معاشرے میں بھی برا سمجھا جاتا ہے کسی کے خلاف جھوٹی گواہی دینا حرام اور جہنم میں لے جانے والا کام ہے۔ ارشادِ باری تعالیٰ ہے: فَاجْتَنِبُوا الرِّجْسَ مِنَ الْاَوْثَانِ وَ اجْتَنِبُوْا قَوْلَ الزُّوْرِۙ(۳۰) (پ 17، الحج: 30) ترجمہ کنز الایمان: تو دور ہو بتوں کی گندگی سے اور بچو جھوٹی بات سے۔

فرامین مصطفیٰ:

1۔ جو شخص لوگوں کے ساتھ یہ ظاہر کرتے ہوئے چلا کہ یہ بھی گواہ ہے حالانکہ یہ گواہ نہیں وہ بھی جھوٹے گواہ کے حکم میں ہے اور جو بغیر جانے ہوئے کسی کے مقدمہ کی پیروی کرے تو وہ اللہ کریم کی ناخوشی میں ہے جب تک اس سے جدا نہ ہو جائے۔ (سنن کبری، 6/136، حدیث: 11444)

2۔ کبیرہ گناہ یہ ہیں: اللہ کے ساتھ شریک کرنا، ماں باپ کی نافرمانی کرنا، کسی کو ناحق قتل کرنا اور جھوٹی گواہی دینا۔ (بخاری، 4/ 358، حدیث: 6871)

3۔ نہ خیانت کرنے والے مرد اور نہ خیانت کرنے والی عورت کی گواہی جائز ہے نہ ایسے مرد کی جس پر حد لگائی گئی ہو اور نہ ایسی عورت کی، اور نہ اس کی جس کو اس سے عداوت ہو اور نہ اس کی جس کی گواہی کا تجربہ ہوچکا ہو اور نہ اس کے موافق جس کا تابع ہے یعنی اس کا کھانا پینا اس کے ساتھ ہو اور نہ اس کی جو ولا یا قرابت میں متہم ہو۔ (ترمذی، 4/84، حدیث: 2305 )

4۔ جو شخص لوگوں کے ساتھ یہ ظاہر کرتے ہوئے چلا کہ یہ بھی گواہ ہے حالانکہ یہ گواہ نہیں وہ بھی جھوٹے گواہ کے حکم میں ہے اور جو بغیر جانے ہوئے کسی کے مقدمہ کی پیروی کرے وہ اللہ تعالیٰ کی ناخوشی میں ہے جب تک اس سے جدا نہ ہو جائے۔ (سنن کبری، 6/136، حدیث: 11444)

5۔ سب سے بہتر میرے زمانے والے ہیں پھر جو ان کے بعد ہیں پھر ایسی قوم آئے گی کہ ان کی گواہی قسم پر سبقت لے جائے گی اور قسم گواہی پر یعنی لوگ گواہی دینے اور قسم کھانے میں بے باک ہوں گے۔(بخاری، 2/193، حديث:2652)

اللہ کریم ہمیں ہمیشہ سچ بولنے والا بنائے اور کسی کے خلاف جھوٹ بات کرنے سے بچائے۔ آمین


ارشادِ ربانی ہے: وَ الَّذِیْنَ لَا یَشْهَدُوْنَ الزُّوْرَۙ-وَ اِذَا مَرُّوْا بِاللَّغْوِ مَرُّوْا كِرَامًا(۷۲) (پ 19، الفرقان: 72) ترجمہ کنز الایمان: اورجو جھوٹی گواہی نہیں دیتے اور جب بیہودہ پر گزرتے ہیں اپنی عزت سنبھالے گزر جاتے ہیں۔

جھوٹی گواہی کی مذمت پر احادیث مبارکہ:

1۔ کبیرہ گناہ یہ ہیں: اللہ کے ساتھ شریک کرنا، ماں باپ کی نافرمانی کرنا، کسی کو ناحق قتل کرنا اور جھوٹی گواہی دینا۔ (بخاری، 4/ 358، حدیث: 6871)

2۔ جھوٹے گواہ کے قدم ہٹنے بھی نہ پائیں گے کہ اللہ تعالیٰ اس کے لیے جہنم واجب کر دے گا۔ ( ابن ماجہ، 3/123، حدیث: 2373)

3۔ جس نے ایسی گواہی دی جس سے کسی مسلمان مرد کا مال ہلاک ہو جائے یا کسی کا خون بہایا جائے، اس نے (اپنے اوپر ) جہنم (کا عذاب) واجب کر لیا۔ (معجم كبير، 11/172، حدیث: 11541)

4۔ جو شخص لوگوں کے ساتھ یہ ظاہر کرتے ہوئے چلا کہ یہ بھی گواہ ہے حالانکہ یہ گواہ نہیں وہ بھی جھوٹے گواہ کے حکم میں ہے اور جو بغیر جانے ہوئے کسی کے مقدمہ کی پیروی کرے وہ اللہ تعالیٰ کی ناخوشی میں ہے جب تک اس سے جدا نہ ہو جائے۔ (سنن كبرىٰ، 6/136، حدیث: 11444)

5۔ کیا میں تمہیں اكبر الكبائر یعنی سب سے بڑے کبيره گناہ کے متعلق نہ بتاؤں؟ ہم نے کہا: ضرور، اے اللہ کے رسول! آپ ﷺ نے تین دفعہ دریافت فرمایا، پھر یوں وضاحت فرمائی: اللہ تعالیٰ کے ساتھ شریک ٹھہرانا، والدین کی نافرمانی کرنا، پہلے آپ ٹیک لگائے ہوئے تھے، پھر سیدھے ہو کر بیٹھ گئے اور فرمایا: غور سے سنو! جھوٹی بات اور جھوٹی گواہی۔ آپ یہی کہتے رہے حتیٰ کہ میں نے کہا: شاید آپ چپ ہی نہ ہوں۔ (بخاری، 4/95، حدیث:5977 (

جھوٹی گواہی نفاق کی علامت ہے۔ رسول اللہ ﷺ نے جھوٹی گواہی کی شدید مذمت فرمائی، کیونکہ جھوٹی گواہی سے کسی کی جان جاسکتی ہے، مال ضائع ہوسکتا ہے، عزت پامال ہو سکتی ہے۔

اللہ پاک سب مسلمانوں کو اس گناہ کبیرہ سے محفوظ رکھے۔ آمین


جھوٹی گواہی ایک بُرا فعل ہے۔ جھوٹی گواہی دینے والے کی دنیا و آخرت برباد ہو جاتی ہے یہ ایک ایسی معاشرتی بیماری ہے جو سماج اور عدالتی نظام کو تباہ کر دیتی ہے۔

تعریف:حق کو ثابت کرنے کے لیے مجلسِ قاضی میں لفظ شہادت کے ساتھ سچی خبر دینے کو شہادت یا گواہی کہتے ہیں۔ (تنویر الابصار، 8/194)

احادیث مبارکہ کی روشنی میں جھوٹی گواہی کی مذمت:

1۔ رسول الله ﷺ صبح کی نماز پڑھ کرکھڑے ہوئے اور تین مرتبہ یہ ارشاد فرمایا: جھوٹی گواہی شرک کے ساتھ برابر کر دی گئی۔ (ابو داود، 3/427،حدیث: 3599)

2۔ جس نے جھوٹی قسم پر حلف اٹھایا تا کہ اس کے ذریعے اپنے مسلمان بھائی کا مال ہڑپ کرلے تو وہ اللہ تعالیٰ سے اس حال میں ملے گا کہ اللہ تعالیٰ اس پر سخت ناراض ہوگا۔ (بخاری، 4/290،الحدیث: 6659)

3۔ جس نے ایسی گواہی دی جس سے کسی مسلمان مرد کا مال ہلاک ہو جائے یا کسی کا خون بہایا جائے تو اُس نے (اپنے اوپر ) جہنم کو واجب کر لیا۔ (معجم کبیر، 11/172،حدیث: 11541)

4۔ جو کسی مسلمان کو ذلیل کرنے کی غرض سے اس پر الزام عائد کرے تو اللہ تعالیٰ جہنم کے پل پر اسے روک لے گا یہاں تک کہ اپنے کہنے کے مطابق عذاب پالے۔ (ابو داود، 4/354،حدیث: 4883)

5۔ جو کسی مسلمان ایسی چیز کا الزام لگائے جس کے بارے میں وہ خود بھی نہ جانتا ہو تو اللہ تعالیٰ اسے (جہنم کے ایک مقام) ردغۃالخبال میں اس وقت تک رکھے گا جب تک کہ اپنے الزام کے مطابق عذاب نہ پا لے۔ (مصنف عبد الرزاق، 11/ 425، حدیث: 20905)

اللہ پاک سے دعا ہے کہ ہمیں جھوٹی گواہی جیسے گناہ سے محفوظ فرمائے۔ آمین


اللہ پاک قرآن مجید میں ارشاد فرماتا ہے: وَ الَّذِیْنَ لَا یَشْهَدُوْنَ الزُّوْرَۙ-وَ اِذَا مَرُّوْا بِاللَّغْوِ مَرُّوْا كِرَامًا(۷۲) (پ 19، الفرقان: 72) ترجمہ کنز الایمان: اورجو جھوٹی گواہی نہیں دیتے اور جب بیہودہ پر گزرتے ہیں اپنی عزت سنبھالے گزر جاتے ہیں۔ جھوٹی گواہی کبیرہ گناہ ہے۔ گواہی نہ چھپاؤ کہ اس کو چھپانا حرام ہے اور دل کے گنہگار ہونے کی علامت ہے، کیونکہ اس میں صاحب حق کے حق کو ضائع کرنا پایا جاتا ہے اور جھوٹی گواہی دینے والا جس کے خلاف گواہی دیتا ہے اس پر ظلم کرتا ہے تو اس کی جھوٹی گواہی دینے کی وجہ سے اس کا مال، عزت،جان سب کچھ چلا جاتا ہے۔

جھوٹی گواہی کے متعلق احادیث مبارکہ:

1۔ جھوٹے گواہ کے قدم ہٹنے بھی نہ پائیں گے کہ اللہ پاک اس کے لیے جہنم واجب فرما دے گا۔ (ابن ماجہ، 3/123، حدیث: 2373)

2۔ جس نے ایسی گواہی دی جس سے کسی مسلمان مرد کا مال ہلاک ہو جائے یا کسی کا خون بہایا جائے تو اس نے اپنے اوپر جہنم کو واجب کر لیا۔(معجم کبیر، 11/ 172، حدیث: 11541)

3۔ بڑے گناہ یہ ہیں: اللہ پاک کے ساتھ شریک ٹھہرانا، والدین کی نافرمانی کرنا، کسی کو قتل کرنا اور جھوٹی گواہی دینا۔(بخاری، 4/ 358، حدیث: 6871)

4۔ جھوٹی گواہی اللہ پاک کے ساتھ شرک کرنے کے برابر ہے۔ (ابو داود، 3/427،حدیث: 3599)

5۔ مومن کی فطرت میں خیانت اور جھوٹ کے سوا ہر خصلت ہو سکتی ہے۔ ( مسند امام احمد، 8/276، حدیث:22232) لہذا معلوم ہوا کہ جھوٹی گواہی بہت بڑا گناہ ہے اس سے ہر مسلمان کا بچنا ضروری ہے۔ اللہ پاک ہمیں اس سے بچنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین


جھوٹی گواہی دینا ایک بہت برا عمل ہے۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: مَنْ شَهِدَ لِغَیْرِهِ بِغَیْرِ مَا یَعْلَمُ فَإِنَّمَا یَلْعَنُهُ اللّٰهُ وَ الْمَلائِکَةُ وَ النَّاسُ اَجْمَعُونَ یعنی جو شخص کسی کے بارے میں اس کے علم کے بغیر گواہی دے تو اللہ، فرشتے اور لوگ اس کو لعنت کرتے ہیں۔ اس حدیث سے صاف ظاہر ہوتا ہے کہ جھوٹی گواہی دینا اللہ پاک کی لعنت کا سبب ہے۔ ہمیں ہمیشہ سچی گواہی دینی چاہئے اور کسی کے بارے میں صرف اتنی گواہی دینی چاہئے جو ہمارے علم اور حقیقت کے مطابق ہو۔ اسلام میں صداقت اور امانتداری بہت اہم اخلاقی اقدار ہیں۔ ارشادِ باری تعالیٰ ہے: وَ لَا تَقْفُ مَا لَیْسَ لَكَ بِهٖ عِلْمٌؕ-اِنَّ السَّمْعَ وَ الْبَصَرَ وَ الْفُؤَادَ كُلُّ اُولٰٓىٕكَ كَانَ عَنْهُ مَسْـٴُـوْلًا (۳۶) (پ 15، بنی اسرائیل: 36) ترجمہ کنز الایمان: اور اس بات کے پیچھے نہ پڑ جس کا تجھے علم نہیں بیشک کان اور آنکھ اور دل ان سب سے سوال ہونا ہے۔

تفسیر: جس بات کا عِلم نہیں اس کے پیچھے نہ پڑنے سے مُراد یہ ہے کہ جس چیز کو دیکھا نہ ہو اُس کے بارے میں یہ نہ کہو کہ میں نے دیکھا ہے اور جس بات کو سُنا نہ ہو اس کے بارے میں یہ نہ کہو کہ میں نے سنا ہے۔ ایک قول کے مطابق اس سے مراد یہ ہے کہ جھوٹی گواہی نہ دو۔ حضرت عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے فرمایا: اس سے مراد یہ ہے کہ کسی پر وہ الزام نہ لگاؤ جو تم نہ جانتے ہو۔ (تفسیر مدارک، ص623)

یاد رہے! جھوٹی گواہی دینا اور کسی پر جان بوجھ کر غلط الزام لگانا انتہائی مذموم فعل ہے۔ اس حوالے سے چند احادیث ملاحظہ فرمائیں۔

احادیث مبارکہ:

1۔ جھوٹے گواہ کے قدم ہٹنے بھی نہ پائیں گے کہ اللہ تعالیٰ اُس کے لئے جہنم واجب کر دے گا۔ (ابنِ ماجہ، 3/123، حدیث: 2373)

2۔ جس نے کسی مسلمان کو ذلیل کرنے کی غرض سے اس پر الزام عائد کیا تو اللہ تعالیٰ جہنم کے پل پر اُسے روک لے گا یہاں تک کہ اپنے کہنے کے مطابق عذاب پا لے۔ (ابو داود، 4/354، حدیث: 4883)

اللہ پاک ہمیں جھوٹی گواہی اور الزام تراشی سے محفوظ فرمائے اور ہمیں اپنے اعضا کو اس کی اور اس کے پیارے حبیب ﷺ کی اِطاعت و رضا والے کاموں میں استعمال کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین


جھوٹ بولنے سے تعلق نہ رکھنا کامل ایمان والوں کا وصف ہے۔ جبکہ جھوٹی گواہی دینا اور کسی پر جان بوجھ کر غلط الزام لگانا انتہائی مذموم فعل ہے کثیر احادیث میں اس کی شدید مذمت بیان کی گئی ہے، یہاں ان میں سے چند احادیث ملاحظہ ہوں۔

احادیث مبارکہ:

1۔ جھوٹے گواہ کے قدم ہٹنے بھی نہ پائیں گے کہ اللہ پاک اس کے لیے جہنم واجب کردے گا۔ (ابن ماجہ،3/123، حدیث:2373)

2۔ جس نے کسی مسلمان کو ذلیل کرنے کی غرض سے اس پر الزام عائد کیا تو اللہ پاک جہنم کے پل پر اسے روک لے گا یہاں تک کہ اپنے کہنے کے مطابق عذاب پالے۔ (ابوداود، 4/ 354، حدیث: 4883)

3۔ کبیرہ گناہوں میں سے ایک گناہ جھوٹی گواہی دینا بھی ہے۔ (بخاری، 4/ 358، حدیث: 6871)

4۔ جس نے ایسی گواہی دی جس سے کسی مسلمان مرد کا مال ہلاک ہو جائے یا کسی کا خون بہایا جائے، اس نے اپنے اوپر جہنم کا عذاب واجب کرلیا۔ (معجم کبیر، 11/ 172، حدیث: 11541)

5۔ جو شخص لوگوں کے ساتھ یہ ظاہر کرتے ہوئے چلا کہ یہ بھی گواہ ہے حالانکہ یہ گواہ نہیں وہ بھی جھوٹے گواہ کے حکم میں ہے اور جو بغیر جانے ہوئے کسی مقدمہ کی پیروی کرے وہ اللہ پاک کی ناخوشی میں ہے جب تک اس سے جدا نہ ہو جائے۔ (سنن کبری، 6/136، حدیث: 11444)

الله پاک ہمیں جھوٹ بولنے، جھوٹی گواہی دینے اور جھوٹ کی آفت سے محفوظ فرمائے۔ آمین


قرآنِ پاک میں اللہ کریم نے مومنات کے بہت سارے اوصاف بیان فرمائے ہیں جن میں سے دس اوصاف درج ذیل ہیں: اللہ پاک ارشاد فرماتا ہے: اِنَّ الْمُسْلِمِیْنَ وَ الْمُسْلِمٰتِ وَ الْمُؤْمِنِیْنَ وَ الْمُؤْمِنٰتِ وَ الْقٰنِتِیْنَ وَ الْقٰنِتٰتِ وَ الصّٰدِقِیْنَ وَ الصّٰدِقٰتِ وَ الصّٰبِرِیْنَ وَ الصّٰبِرٰتِ وَ الْخٰشِعِیْنَ وَ الْخٰشِعٰتِ وَ الْمُتَصَدِّقِیْنَ وَ الْمُتَصَدِّقٰتِ وَ الصَّآىٕمِیْنَ وَ الصّٰٓىٕمٰتِ وَ الْحٰفِظِیْنَ فُرُوْجَهُمْ وَ الْحٰفِظٰتِ وَ الذّٰكِرِیْنَ اللّٰهَ كَثِیْرًا وَّ الذّٰكِرٰتِۙ-اَعَدَّ اللّٰهُ لَهُمْ مَّغْفِرَةً وَّ اَجْرًا عَظِیْمًا(۳۵) (پ 22، الاحزاب: 35) ترجمہ کنز العرفان: بےشک مسلمان مرد اور مسلمان عورتیں اور ایمان والے مرد اور ایمان والی عورتیں اور فرمانبردار مرد اور فرمانبردار عورتیں اور سچے مرد اور سچی عورتیں صبر کرنے والے اور صبر کرنے والیاں اور عاجزی کرنے والے اور عاجزی کرنے والیاں اور خیرات کرنے والے اور خیرات کرنے والیاں اور روزے رکھنے والے اور روزے رکھنے والیاں اور اپنی پارسائی کی حفاظت کرنے والے اور حفاظت کرنے والیاں اور اللہ کو بہت یاد کرنے والے اور بہت یاد کرنے والیاں ان سب کے لیے اللہ نے بخشش اور بڑاثواب تیار کررکھا ہے۔

اوصافِ مؤمنہ:

1۔ سب سے پہلے یہ وصف بیان کیا گیا ہے کہ وہ عورتیں جو کلمہ پڑھ کر اسلام میں داخل ہوئیں اور اللہ پاک کے احکام کی اطاعت کی اور ان کے سامنے سر تسلیم خم کر دیا، یہ شان ہے مومنہ عورت کی۔

2۔ اور وہ عورتیں جنہوں نے اللہ پاک کی وحدانیت اور خاتم النبیین ﷺ کی رسالت کی تصدیق کی اور تمام ضروریاتِ دین کو تسلیم کیا۔

3۔ وہ عورتیں جنہوں نے عبادات پر ہمیشگی اختیار کی اور ان عبادات کو ان کی حدود و شرائط کے مطابق ادا کیا، یہ ہیں ایمان والی عورتیں۔

4۔ وہ عورتیں ایمان والی ہیں جو اپنی نیت، قول اور فعل میں سچی ہوتی ہیں۔

5۔ وہ عورتیں جنہوں نے نفس پر انتہائی دشوار ہونے کے باوجود اللہ پاک کی رضا کے لیے جن کاموں کا حکم دیا گیا ان پر پابندی کی اور جن کاموں سے منع کیاگیا ان سے بچتی رہیں اور مصائب و آلام میں بے قراری اور شکایت کا مظاہرہ نہ کیا۔

6۔ وہ عورتیں جنہوں نے اطاعتوں اور عبادتوں میں اپنے دل اور اعضاء کے ساتھ عاجزی و انکساری کی۔

7۔ وہ عورتیں جنہوں نے اللہ پاک کے دیئے ہوئے مال میں سے اس کی راہ میں فرض و نفلی صدقات دیئے۔

8۔ وہ عورتیں جنہوں نے فرض کے ساتھ نفلی روزے بھی رکھے فرض عبادات کے ساتھ ساتھ نفلی عبادات کو بھی بجالائیں۔

9۔ وہ عورتیں جنہوں نے اپنی عفت اور پارسائی کی حفاظت کی اور ہر اس کام سے بچیں جو ان کے لیے جائز نہ تھا حلال نہ تھا۔

10۔ وہ عورتیں جو اپنے دل اور زبان کے ساتھ کثرت سے اللہ پاک کا ذکر کرتی ہیں (کثرت سے ذکر کرنے والوں میں بندہ تب شمار ہوتا ہے جب چلتے پھرتے اٹھتے بیٹھتے ہر حال میں ذکر اللہ کرے)۔

مذکورہ گفتگو سے پتا چلتا ہے یہ جو ان اوصاف سے متصف بناتِ حوا ہیں ان کے لیے رب تعالیٰ نے بخشش اور بڑا ثواب تیار کر رکھا ہے۔

ذکر میں تسبیح کرنا، اللہ تعالیٰ کی حمد کرنا، کلمہ طیبہ کا ورد کرنا، اللہ اکبر کہنا، قرآنِ مجید کی تلاوت کرنا، علمِ دین حاصل کرنا، نماز پڑھنا، میلادشریف منانا، نعت شریف پڑھنا وغیرہ ( 313 بار تسبیح کرنا کثرت میں شمار ہوتا ہے)۔ (صراط الجنان، 8/30تا32)


مؤمنات کے اوصاف درج ذیل ہیں:

1۔ اپنے عیوب کو دیکھنے والی ہو، اپنے عیوب پر غور و حوض کرنے والی ہو اپنے رب کے حضور رجوع کرنے والی ہو۔

2۔ اس کی آواز پست ہو، زیادہ خاموش رہنے والی ہو اور نرم خو ہو پاکیزہ زبان والی ہو۔

3۔ حیا کا اظہار کرنے والی ہو اور بے ہودہ کلامی سے بچنے والی ہو۔

4۔ کشادہ دل رکھنے والی ہو، بہت زیادہ صابرہ ہو، مکر کرنے والی نہ ہو، بہت زیادہ شکر ادا کرنے والی ہو۔

5۔ کسی سے اپنے دل میں کینہ رکھنے والی نہ ہو، عیوب سے پاک ہو، مہربان ہو، رحم دل ہو۔

6۔ اللہ پاک سے راضی رہنے والی ہو، پاکباز اور باوقار ہو۔

7۔ اچھی عادات والی ہو۔

8۔ اچھے اخلاق سے متصف ہو۔

9۔ نرم طبیعت والی ہو، جھوٹ سے پاک ہو اور تکبر سے بری ہو۔

10۔ اپنے نفس کی حفاظت کرنے والی ہو، پردہ کرنے والی ہو، خاوند کے ساتھ اچھا سلوک کرنے والی ہو، گھر والوں کے لیےمہربان ہو۔

مومنات نہ مائل ہونے والی ہوتی ہیں اور نہ ہی مائل کرنے والی ہوتی ہیں۔ ان کا اندازِ گفتگو، ان کی چال ڈھال، ان کا لباس، ان کی نظریں اور ان کے معاملات سب حیا کے دائرے میں ہوتے ہیں، وہ نہ ہی ہر غیر محرم کے دل میں بسنے والی ہوتی ہیں اور نہ ہی ہر ایک کو اپنے دل میں بسانے والی ہوتی ہیں۔


اوصافِ مؤمنات:

1۔ قرآن پاک میں ارشاد ہوا: وَ الْمُسْلِمٰتِ (پ 22، الاحزاب: 35) ترجمہ کنز العرفان: اور مسلمان عورتیں۔مسلمان عورتوں سے مراد وہ عورتیں ہیں جو کلمہ پرھ کر دائرہ اسلام میں آئیں اللہ کے احکام کی پیروی کی اور وہ مومنہ عورتیں جو دین اسلام کی سر بلندی کے لیے پیش پیش رہیں۔ (صراط الجنان، 8/ 30)

2۔ وَ الْمُؤْمِنٰتِ (پ 22، الاحزاب: 35) ترجمہ کنز العرفان: اور ایمان والی عورتیں۔مومن سے مراد وہ جن کا دل صاف ہو قرآن پاک میں مومنہ عورت کی صفتِ ایمان کا تذکرہ ہوا۔(صراط الجنان، 8/ 30)

مومنہ کی تعریف: وہ مومنہ عورتیں جنہوں نے اللہ کی وحدانیت اور نبی کریم ﷺ کی رسالت کی تصدیق کی اور تمام ضروریاتِ دین کو مانا۔

3۔ وَ الْقٰنِتٰتِ (پ 22، الاحزاب: 35) ترجمہ کنز العرفان: اور فرمانبردار عورتیں۔اس سے مراد وہ مومنہ عورتیں جنہوں نے عبادات پر ہمیشگی اختیار کی ہو انہیں(ان کی حدود و شرائط کے ساتھ) قائم کیا ہو۔(صراط الجنان، 8/ 30)

4۔ وَ الصّٰدِقٰتِ (پ 22، الاحزاب: 35) ترجمہ کنز العرفان: اور سچی عورتیں۔ مومنہ عورتوں میں یہ صفت شامل ہوتی ہے کہ وہ اپنے قول فعل میں سچی ہوتی ہیں۔ سچ مومنہ عورت کی گھٹی میں شامل ہوتا ہے۔

5۔ وَ الصّٰبِرٰتِ (پ 22، الاحزاب: 35) ترجمہ کنز العرفان: اور صبر کرنے والیاں۔ مومنہ عورت میں صبر ایسے شامل ہوتا ہے کہ معاملات نفس پر انتہائی دشوار ہونے کے باوجود اللہ کی رضا کے لیے طاعتوں کی پابندی کرتی اور ممنوعات سے بچتی رہتی ہے نیز مصائب و آلام میں بے قراری اور شکایت کا مظاہرہ نہیں کرتی۔ حدیث پاک میں صبر کرنے کی تلقین فرمائی گئی ہے اور صبر والوں کو بشارت بھی دی گئی ہے، لہذا مومنہ عورت کی اس صفت کو اپناتے ہوئے ہر حال میں صبر کا اپنے آپ کو عادی بنائیے۔

6۔ وَ الْخٰشِعٰتِ (پ 22، الاحزاب: 35) ترجمہ کنز العرفان: اور عاجزی کرنے والیاں۔ اس سے مراد وہ مومنہ عورتیں جنہوں نے طاعتوں اور عبادتوں میں اپنے دل اور اعضاء کے ساتھ عاجزی و انکساری کی۔ مومنہ عورت کی صفت کو اپناتے ہوئے ہر حال میں عاجزی کا مظاہرہ کرنا چاہیے۔

7۔ وَ الْمُتَصَدِّقٰتِ (پ 22، الاحزاب: 35) ترجمہ کنز العرفان: اور خیرات کرنے والیاں۔ مومنہ عورت کی صفت صدقہ و خیرات کرنے کو بیان کیا گیا، جنہوں نے اللہ کے دیئے ہوئے مال سے اس کی راہ میں خرچ کیا۔

ایک مرتبہ حضرت سودہ رضی اللہ عنہا کے پاس خیموں سے بھرا تھیلا حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے بھیجا، آپ نے پوچھا یہ کیا ہے؟ عرض کی گئی: درہم۔ اس پر حیران ہو کر فرمایا کہ کھجوروں کی طرح اتنے بڑے تھیلے میں؟ پھر آپ نے یہ سب راہِ خدا میں تقسیم کر دیا۔ (طبقات کبریٰ،8/45 ملخصاً)

8۔ وَ الصّٰٓىٕمٰتِ (پ 22، الاحزاب: 35) ترجمہ کنز العرفان: اور روزے رکھنے والیاں۔ مومنہ عورت کی صفت روزہ کو بیان کیا گیا وہ عورتیں جنہوں نے نفل و فرض روزے رکھے۔ منقول ہے: جس نے ہر مہینے کے ایام بیض(13،14،15) کے تین روزے رکھے وہ روزے رکھنے والوں میں شمار ہوگا۔ (صراط الجنان، 8/ 31)

9۔ وَ الْحٰفِظٰتِ (پ 22، الاحزاب: 35) ترجمہ کنز العرفان: اور حفاظت کرنے والیاں۔ اس سے مراد وہ مومنہ عورتیں جنہوں نے اپنی عفت و پارسائی کو محفوظ رکھا اور جو حلال نہیں اس سے بچی۔ حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا کی پاکدامنی کی گواہی رب تعالیٰ نے قرآن پاک میں دی ہے اور یہاں بھی مومنہ عورت کی صفت پارسائی کی حفاظت کو بیان کیا گیا ہے۔

10۔ وَّ الذّٰكِرٰتِۙ- (پ 22، الاحزاب: 35) ترجمہ کنز العرفان: اور بہت یاد کرنے والیاں۔ اس سے مراد وہ مومنہ عورتیں جو اپنے دل و زبان سے کثرت سے اللہ پاک کا ذکر کرتی ہیں۔ کہا گیا ہے کہ بندہ کثرت سے ذکر کرنے والوں میں شمار تب ہوتا ہے جب وہ کھڑے بیٹھے اٹھتے ہر حال میں اللہ پاک کا ذکر کرے۔

قرآن پاک میں مومنہ عورتوں کی یہ دس صفات و مراتب بیان ہوئے۔ اللہ پاک ہمیں مومنین کا صدقہ عطا کرے۔ آمین


مومن وہ ہے جو ایمان کی صفت سے متصف زندگی اللہ پاک اور اس کے پیارے محبوب ﷺ کے احکام کے مطابق گزارے، اللہ پاک نے قرآن مجید میں مومنین و مومنات کی متعدد صفات بیان فرمائی ہیں جن میں سے مؤمنات کی 10صفات درج ذیل ہیں۔

اِنَّ الْمُسْلِمِیْنَ وَ الْمُسْلِمٰتِ وَ الْمُؤْمِنِیْنَ وَ الْمُؤْمِنٰتِ وَ الْقٰنِتِیْنَ وَ الْقٰنِتٰتِ وَ الصّٰدِقِیْنَ وَ الصّٰدِقٰتِ وَ الصّٰبِرِیْنَ وَ الصّٰبِرٰتِ وَ الْخٰشِعِیْنَ وَ الْخٰشِعٰتِ وَ الْمُتَصَدِّقِیْنَ وَ الْمُتَصَدِّقٰتِ وَ الصَّآىٕمِیْنَ وَ الصّٰٓىٕمٰتِ وَ الْحٰفِظِیْنَ فُرُوْجَهُمْ وَ الْحٰفِظٰتِ وَ الذّٰكِرِیْنَ اللّٰهَ كَثِیْرًا وَّ الذّٰكِرٰتِۙ-اَعَدَّ اللّٰهُ لَهُمْ مَّغْفِرَةً وَّ اَجْرًا عَظِیْمًا(۳۵) (پ 22، الاحزاب: 35) ترجمہ کنز العرفان: بےشک مسلمان مرد اور مسلمان عورتیں اور ایمان والے مرد اور ایمان والی عورتیں اور فرمانبردار مرد اور فرمانبردار عورتیں اور سچے مرد اور سچی عورتیں صبر کرنے والے اور صبر کرنے والیاں اور عاجزی کرنے والے اور عاجزی کرنے والیاں اور خیرات کرنے والے اور خیرات کرنے والیاں اور روزے رکھنے والے اور روزے رکھنے والیاں اور اپنی پارسائی کی حفاظت کرنے والے اور حفاظت کرنے والیاں اور اللہ کو بہت یاد کرنے والے اور بہت یاد کرنے والیاں ان سب کے لیے اللہ نے بخشش اور بڑاثواب تیار کررکھا ہے۔

صفاتِ مومنہ:

1۔ وہ مرد اور عورتیں جو کلمہ پڑھ کر اسلام میں داخل ہوئے اور انہوں نے اللہ تعالیٰ کے احکام کی اطاعت کی اور ان کے احکام کے سامنے سر تسلیم خم کر دیا۔

2۔ وہ مرد اور عورتیں جنہوں نے اللہ تعالیٰ کی وحدانیت اور نبی کریم ﷺ کی رسالت کی تصدیق کی اور تمام ضروریاتِ دین کو مانا۔

3۔ وہ مرد اور عورتیں جنہوں نے عبادات پر مداومت اختیار کی اور انہیں (ان کی حدود اور شرائط کے ساتھ ) قائم کیا۔

4۔ وہ مرد اور عورتیں جو اپنی نیت، قول اور فعل میں سچے ہیں۔

5۔ وہ مرد اور عورتیں جنہوں نے نفس پر انتہائی دشوار ہونے کے باوجود اللہ تعالیٰ کی رضا کے لیے طاعتوں کی پا بندی کی، ممنوعات سے بچتے رہے اور مصائب و آلام میں بے قراری اور شکایت کا مظاہرہ نہ کیا۔

6۔ وہ مرد اور عورتیں جنہوں نے طاعتوں عبادتوں میں اپنے دل اور اعضاء کے ساتھ عاجزی وانکساری کی۔

7۔ وہ مرد اور عورتیں جنہوں نے اللہ تعالیٰ کے عطا کئے ہوئے مال سے اس کی راہ میں فرض اور نفلی صدقات دیئے۔

8۔ وہ مرد اور عورتیں جنہوں نے فرض اور نفلی روزے رکھے۔ منقول ہے کہ جس نے ہر ہفتہ ایک درہم صدقہ کیا وہ خیرات کرنے والوں میں اور جس نے ہر مہینے ایام بیض ( یعنی قمری مہینے کی 13، 14، 15 تاریخ)کے تین روزے رکھے وہ روزے رکھنے والوں میں شمار کیا جاتا ہے۔

9۔ وہ مرد اور عورتیں جنہوں نے اپنی عفت اور پارسائی کو محفوظ رکھا اور جو حلال نہیں ہے اس سے بچے۔

10۔ وہ مرد اور عورتیں جو اپنے دل اور زبان کے ساتھ کثرت سے اللہ تعالیٰ کا ذکر کرتے ہیں۔ کہا گیا ہے کہ بندہ کثرت سے ذکر کرنے والوں میں اس وقت شمار ہوتا ہے جب کہ وہ کھڑے، بیٹھے، لیٹے ہر حال میں اللہ تعالیٰ کا ذکر کرے۔

خلاصہ یہ ہے کہ جو عورتیں اسلام، ایمان اور طاعت میں، قول اور فعل کے سچا ہونے میں، صبر، عاجزی و انکساری اور اپنی عفت و پارسائی کی حفاظت کرنے میں اور کثرت کے ساتھ اللہ تعالیٰ کا ذکر کرنے میں مردوں کے ساتھ ہیں، تو ایسے مردوں اور عورتوں کے لیے اللہ پاک نے ان کے اعمال کی جزا کے طور پر بخشش اور بڑا ثواب تیار کر رکھا ہے۔ ( ابو سعود، الاحزاب، تحت الآيۃ: 35: 7/321)

الله پاک سے دعا ہے کہ ہمیں سچی مؤمنہ بندیوں میں شامل فرمائے۔ آمین بجاہ خاتم النبیین ﷺ


مومنہ کی تعریف: اس کے معنی ہیں ایمان لانے والی یعنی مراد وہ عورت جو خالصتاً اللہ اور اس کے پیارے حبیب ﷺ پر ایمان لائے اور ان کے احکام کے آگے سر تسلیم خم کرے۔

صفات کی تعریف: صفت کی جمع ہے، ہر اچھی بری خوبی کو صفت کہتے ہیں مگر اکثر صفت کا اطلاق اچھی خوبی پر ہوتا ہے۔ اللہ کریم نے بہت مقامات پر قران کریم میں مومنات کی صفات بیان فرمائی ہیں جن میں سے چند یہ ہیں:

1،2) اسلام لانے والیاں اور ایمان لانے والیاں: اِنَّ الْمُسْلِمِیْنَ وَ الْمُسْلِمٰتِ وَ الْمُؤْمِنِیْنَ وَ الْمُؤْمِنٰتِ ( پ 22، الاحزاب:35) ترجمہ کنز الایمان: بے شک مسلمان مرد اور مسلمان عورتیں اور مومن مرد اور مومن عورتیں۔ اس آیت میں پہلی صفت اسلام ہے جو اللہ اور اس کے رسول کی فرمانبرداری ہے اور دوسری صفت ایمان ہے کہ وہ اعتقادِ صحیح اور ظاہر و باطن کا موافق ہونا ہے۔ (تفسیر مصباحین،5/619 )

3) اطاعت کرنے والیاں: وَ الْقٰنِتِیْنَ وَ الْقٰنِتٰتِ (پ 22، الاحزاب: 35) ترجمہ کنز الایمان: فرمانبردار مرد اور فرمانبردار عورتیں۔مومنہ عورت کی ایک صفت قنوت یعنی طاعت بھی ہے کہ وہ عورتیں جو کہ اللہ اور اس کے رسول ﷺ کے حکم کے آگے سر تسلیم خم کر دیتی ہوں اور حکم کو بجا لاتی ہوں۔ (تفسیر مصباحین،5/619 )

4) سچ بولنے والیاں: وَ الصّٰدِقِیْنَ وَ الصّٰدِقٰتِ (پ 22، الاحزاب: 35) ترجمہ کنز الایمان: سچے مرد اور سچی عورتیں۔ صدق بھی ان لوگوں کی صفت ہے اور یہ صدقِ نیت و صدقِ اقوال و افعال ہے یعنی نیت بھی اپنے باطن میں سچ کرے اور افعال اور اقوال میں بھی سچ ہی کریں یہ بھی مومنات کی صفت ہے۔

5) صبر کرنے والیاں: وَ الصّٰبِرِیْنَ وَ الصّٰبِرٰتِ (پ 22، الاحزاب: 35 ) ترجمہ کنز الایمان: صبر کرنے والے مرد اور صبر کرنے والی عورتیں۔ یہ بھی مومنات کی صفات سے ہے کہ اس آیت میں صبر کا بیان ہے، کہ طاعات کی پابندی کرنا اور ممنوعات سے احتراز رکھنا خواہ نفس پر کتنا ہی شوق اور گراں گزرے رضائے الہی کے لیے اختیار کیا جائے۔

6) خشوع اختیار کرنے والیاں: وَ الْخٰشِعِیْنَ وَ الْخٰشِعٰتِ (پ 22، الاحزاب: 35 ) ترجمہ کنز العرفان: عاجزی والے مرد اور عاجزی والی عورتیں۔ اس صفت کا بیان کیا گیا کہ عاجزی کرنے والیاں یہ خشوع کا بیان ہے جو طاعتوں اور عبادتوں میں قلب جوارح کے ساتھ متواضع ہونا ہے ان کے تمام افعال سے عاجزی و خشوع محسوس ہوتا ہے۔

7) صدقہ کرنے والیاں: وَ الْمُتَصَدِّقِیْنَ وَ الْمُتَصَدِّقٰتِ (پ 22، الاحزاب: 35) ترجمہ کنز الایمان: صدقہ کرنے والے اور صدقہ کرنے والیاں۔ یہاں ایک صفت صدقہ کرنا بیان ہوئی جو اللہ تعالیٰ کی عطا کی ہوئی ہے، اس سے مراد یہ ہے کہ اللہ کے عطا کردہ مال سے اس کی راہ میں بطریق فرض و نفل دینا ہے پھر مال کے علاوہ اپنی جان بھی صدقہ کر دیتے ہیں راہ خدا میں۔

8) روزہ رکھنے والیاں: وَ الصَّآىٕمِیْنَ وَ الصّٰٓىٕمٰتِ (پ 22، الاحزاب: 35) ترجمہ کنز الایمان: روزہ رکھنے والے اور روزہ رکھنے والیاں۔ یہ بھی ایک صفت کا بیان ہے کہ روزہ رکھنے والیاں یہ فرض و نفل دونوں کو شامل ہے۔ منقول ہے کہ جس نے ہر مہینے ایام بیض کے تین دنوں کے روزے رکھے تو وہ صائمین میں شمار ہوگا۔

9) پارسائی کو محفوظ رکھنے والیاں: وَ الْحٰفِظِیْنَ فُرُوْجَهُمْ وَ الْحٰفِظٰتِ (پ 22، الاحزاب: 35) ترجمہ کنز الایمان: اپنی شرم گاہوں کی حفاظت کرنے والے مرد اور حفاظت کرنے والی عورتیں۔ یہاں صفتِ عفت کا بیان ہوا اور وہ یہ ہے کہ اپنی پارسائی کو محفوظ رکھیں اور جو حلال نہیں اس سے بچیں۔

10) کثرت سے ذکر کرنے والیاں: وَ الذّٰكِرِیْنَ اللّٰهَ كَثِیْرًا وَّ الذّٰكِرٰتِۙ- (پ 22، الاحزاب: 35) ترجمہ کنز الایمان: کثرت سے اللہ کا ذکر کرنے والے مرد اور ذکر کرنے والی عورتیں۔ ذکر میں تسبیح، تحمید، تحلیل، تکبیر، قرأتِ قرآن، علمِ دین کا پڑھنا، پڑھانا، نماز، وعظ و نصیحت، میلاد شریف اور نعت پڑھنا وغیرہ سب داخل ہیں۔ کہا گیا ہے کہ بندہ ذاکرین میں جب شمار ہوتا ہے جبکہ وہ کھڑے بیٹھے لیٹے ہر حال میں اللہ کا ذکر کرے۔

اللہ سے دعا ہے کہ جو ہم نے صفات پڑھی ان پر عمل کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین بجاہ النبی الامین