جوائنٹ
فیملی سسٹم کے مثبت و منفی پہلو از بنت ہدایت اللہ، نندپور سیالکوٹ
جوائنٹ فیملی
سسٹم (مُشترکہ خاندانی نظام) میں افراد کے مابین قربت کے بہت سے فوائد ہیں، لیکن
اس کے ساتھ ساتھ اس کے کئی اہم نقصانات اور چیلنجز بھی ہوتے ہیں جو روزمرہ زندگی
کو متاثر کرتے ہیں:
1۔ پرائیویسی
کا فقدان مشترکہ گھر میں ذاتی زندگی (Privacy) بہت محدود ہو جاتی ہے۔ میاں بیوی کے لیے
الگ سے وقت گزارنا اور اپنے جذبات کا آزادانہ اظہار کرنا مشکل ہو جاتا ہے، جس کے
نتیجے میں اکثر ذہنی تناؤ پیدا ہوتا ہے۔
2۔ مداخلت اور
آزادی میں کمی گھر کے بزرگوں یا دیگر افراد کی جانب سے روزمرہ کے فیصلوں جیسے بچوں
کی پرورش، گھریلو اخراجات، اور پکوان میں مسلسل دخل اندازی ہوتی ہے۔ اس سے
نوبیاہتا جوڑے، بالخصوص بہوؤں کی ذاتی آزادی بری طرح متاثر ہوتی ہے۔
3۔ بچوں کی
تربیت پر اثرات جوائنٹ فیملی میں بچوں کو زیادہ لوگوں سے پیار ملتا ہے لیکن ان کی
تربیت اور ڈسپلن میں مسائل بھی آتے ہیں۔ مختلف رشتہ داروں کی جانب سے الگ رویے
اپنانے سے بچے اکثر کنفیوژن کا شکار ہو جاتے ہیں۔
4۔ معاشی
مسائل اور اختلافات مشترکہ نظام میں اکثر کمانے والے افراد ایک جگہ جمع ہوتے ہیں
یا ایک ہی فرد تمام گھر کا بوجھ اٹھاتا ہے۔ اس غیر مساویانہ بوجھ یا آمدنی کے
مختلف ذرائع کے باعث معاشی چپقلش پیدا ہوتی ہے۔
5۔ سسرالی
تنازعات اور غلط فہمیاں ایک ہی چھت کے نیچے رہنے کی وجہ سے ساس، سسر، نندوں یا
دیوروں کے ساتھ روزانہ کی بنیاد پر چھوٹے موٹے مسائل بڑے جھگڑوں کی شکل اختیار کر
سکتے ہیں۔
6۔ شوہر کے
لیے مشکل صورتحال گھریلو ناچاقی کی صورت میں اکثر شوہر پنگ پانگ بال بن جاتا ہے۔
اسے ماں، بہنوں اور بیوی کے درمیان توازن برقرار رکھنے میں شدید مشکلات کا سامنا
کرنا پڑتا ہے، جو براہِ راست اس کی اپنی ازدواجی زندگی کو تباہ کر سکتا ہے۔
7۔ گھریلو ذمہ
داریوں کا بوجھ گھر میں بہت سے افراد ہونے کی وجہ سے اکثر کاموں کی تقسیم غیر
منصفانہ ہو جاتی ہے اور خاص طور پر خواتین پر پورا دن کھانا پکانے اور صفائی
ستھرائی جیسی ذمہ داریوں کا مسلسل بھاری دباؤ رہتا ہے۔
شیخِ طریقت،
امیرِاہلسنت حضرت مولانا ابو بلال محمد الیاس عطار قادری رضوی مد ظلہ العالی
پردےکے شرعی احکام پر مشتمل اپنی کتاب پردے کے بارے میں سوال جواب میں ایک سوال ”سسرال
میں دیور و جیٹھ وغیرہ سے کس طرح پردہ کيا جائے؟ سارا دن پردہ ميں رہنا بہت
دُشوار، گھر کے کام کاج کرتے وقت کیسے اپنےچہرہ کو چھپائے؟“ کے جواب میں تحریر فرماتے
ہیں: گھرميں رہتے ہوئے بھی بالخصوص دیور و جیٹھ وغیرہ کے معاملہ ميں محتاط رہنا ہو
گا۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمايا: عورتوں کے پاس جانے سے بچو۔ ایک شخص نے عرض کی: یارسول
اللہ! دیور کے متعلق کيا حکم ہے؟ فرمايا: دیور موت ہے۔ (بخاری، 3/472، حدیث: 5232)
دیور کا اپنی
بھابھی کے سامنے ہونا گويا موت کا سامنا ہےکہ يہاں فتنہ کا اندیشہ زيادہ ہے۔ مفتئ
اعظم پاکستان حضرتِ وقارِ مِلّت مولانا وقارُ الدّين علیہ رحمۃ اللہ المبین فرماتے
ہيں: ان رشتہ داروں سے جو نامَحرم ہيں چہرہ، ہتھیلی، گٹے، قدم اور ٹخنوں کے علاوہ
سِتْر (پردہ) کرنا ضروری ہے، زينت بناؤ سنگھار بھی ان کے سامنے ظاہِر نہ کياجائے۔
(وقا ر الفتاویٰ، 3/151)
امیرِ اہلسنت
مدظلہ العالی کچھ آگے چل کر مزید ارشاد فرماتےہیں: بَہَرحال اگرایک گھر ميں رہتے
ہوئے عورت کیلئے قریبی نامَحرم رشتہ داروں سے پردہ دشوار ہو تو چہرہ کھولنے کی تو
اجازت ہے مگر کپڑے ہرگز ایسے باریک نہ ہوں جن سے بدن یاسر کے بال وغیرہ چمکیں يا
ایسے چُست نہ ہوں کہ بدن کےاعضاء، جسم کی ہیئت(یعنی صورت وگولائی) اور سینے کا
اُبھار وغیرہ ظاہِر ہو۔ (پردے کے بارے میں سوال جواب، ص 50 تا 52 ملتقطاً)
جوائنٹ فیملی
سسٹم میں ذاتی آزادی کا فقدان، نجی زندگی (پرائیویسی) میں مسلسل مداخلت، گھریلو
ناچاقی، اور بچوں کی پرورش میں نظریاتی اختلافات جیسے مسائل جنم لیتے ہیں۔ اس نظام
میں اکثر مالی بوجھ کی غیر منصفانہ تقسیم اور فیصلوں میں انفرادیت ختم ہونے سے
ذہنی تناؤ بڑھتا ہے۔
جوائنٹ فیملی
سسٹم کے چند اہم نقصانات درج ذیل ہیں:
ذاتی
آزادی اور پرائیویسی کا فقدان: ایک ہی گھر میں کئی افراد کے رہنے سے
ذاتی زندگی اور نجی لمحات بری طرح متاثر ہوتے ہیں، جس کی وجہ سے افراد کھل کر اپنے
فیصلے نہیں کر پاتے۔
گھریلو
ناچاقی اور اختلافات: ساس بہو کے روایتی مسائل، نندوں کی مداخلت، اور
بچوں کی چھوٹی چھوٹی باتوں پر بڑے جھگڑے روزمرہ کا معمول بن جاتے ہیں۔
معاشی
بوجھ اور ناانصافی: اکثر کمانے والے افراد زیادہ محنت کرتے ہیں لیکن
آمدنی مشترکہ ہونے کے باعث سب میں برابر تقسیم ہوتی ہے، جس سے کم کمانے والوں کی
حوصلہ افزائی ہوتی ہے جبکہ زیادہ کمانے والے احساسِ محرومی کا شکار ہو سکتے ہیں۔
بچوں
کی پرورش اور تربیت: بچوں کی تربیت کے حوالے سے دادا دادی اور والدین کی
سوچ میں فرق ہوتا ہے۔ بزرگوں کی غیر ضروری لاڈ پیار اور ہر بات میں ٹوکنے کی عادت
سے بچوں میں ضد اور بگڑنے کے امکانات بڑھ جاتے ہیں۔
ازدواجی
تعلقات میں دوری: شوہر
اور بیوی کو ایک دوسرے کے ساتھ وقت گزارنے کا خاطر خواہ موقع نہیں ملتا اور اکثر
دوسرے رشتہ داروں کی موجودگی سے میاں بیوی کے نجی معاملات بھی متاثر ہوتے ہیں۔
فیصلے
کرنے میں تاخیر: گھر
کا کوئی بھی بڑا فیصلہ، جیسے بچوں کی تعلیم، خرچے، یا گھر کی مرمت، سب کی مرضی کے
بغیر ممکن نہیں ہوتا، جس سے اکثر اہم کام وقت پر نہیں ہو پاتے۔
جوائنٹ
فیملی سسٹم کے مثبت و منفی پہلو از بنت خالد حسین، گلبہار سیالکوٹ
ہمارے ہاں بہت
سے گھرانوں میں جوائنٹ فیملی سسٹم رائج ہے جس کے فیملی پر جہاں بہت مثبت اثرات
مرتب ہوتے ہیں وہیں پر بہت منفی اثرات بھی رونما ہوتے ہیں اکثر اوقات ہمیں فوائد
کے ساتھ ساتھ بہت سے نقصانات کا بھی سامنا کرنا پڑتا ہے پہلے ہم جوائنٹ فیملی سسٹم
کہ کچھ مثبت اثرات پر بات کریں گے پھر منفی اثرات پر۔
مثبت
اثرات: جوائن
فیملی سسٹم کے بہت سے مثبت اثرات بھی موجود ہیں جن میں سے چند کا ذکر ہم اپنی
تحریر میں قلم بند کریں گے جیسے کہ مالی بوجھ میں کمی، بچوں کی پرورش، ذمہ داریوں
میں آسانی، بزرگوں کی شفقت اور آپس میں اتفاق و محبت وغیرہ۔
مالی
بوجھ میں کمی: جوائنٹ
فیملیز میں مالی حالات کو منظم انداز میں برقرار رکھنا تنہا فیملی کی نسبت زیادہ
بہتر ہے جیسے بجلی کا بل، گیس کا بل گھر کے اخراجات، کھانے پینے کا ساز و سامان
اور دوسری چھوٹی موٹی اشیاء وغیرہ ان سب چیزوں کو اکیلے کی نسبت جب سب مل جل کر
کریں گے تو سب کے لیے آسانی ہو جائے گی کسی ایک پر سارے کا سارا بوجھ نہیں آئے گا
یوں گھر کا نظام بہترین انداز میں چل سکے گا۔
بچوں
کی پرورش: جوائنٹ
فیملی میں بچوں کی پرورش زیادہ اچھی طرح ہو سکتی ہے کیونکہ سب بچوں سے پیار کرتے
ہیں اور انہیں سنبھالنے میں اس کی والدہ کی بہت حد تک مدد کرتے ہیں کام کاج کرنے
میں بھی آسانی ہوتی ہے بچے کو کسی کے پاس کھیلنے کے لیے چھوڑ کر گھر کے باقی کام
کاج اچھی طرح انجام دے سکتی ہیں اور ایسے بچہ سب کے پیار کا حصہ بھی پا لیتا ہے
اور اپنے بزرگوں یعنی دادا، دادی، چچا، پھوپھی کے پیار و شفقت سے محروم بھی نہیں
رہتا۔
ذمہ
داریوں میں آسانی: جوائنٹ فیملیز میں بہت سی ذمہ داریاں بآسانی اور
بہت بہتر انداز میں ادا ہو جاتی ہیں گھر کے بزرگ سب میں کوئی نہ کوئی ذمہ داری
تقسیم کر دیتے ہیں اس طرح ہر کوئی اپنی اپنی ذمہ داری پوری کر لیتا ہے جیسے گھر کے
کام کاج، کھانا تیار کرنا، کپڑے دھونا، برتن دھونا وغیرہ۔
بزرگوں
کی شفقت: جوائنٹ
فیملی میں ہمیں ہر وقت اپنے بڑے بزرگوں کی شفقت پیار محبت نصیب ہوتا رہتا ہے
بزرگوں سے گھر میں بہت رونق ہوتی ہے اور ہمیں ان کے تجربات سے بھی بہت کچھ سیکھنے
کو ملتا ہے بزرگ اللہ پاک کی بہت بڑی نعمت ہے اللہ ہمیں ان کی قدر کرنے کی توفیق
عطا فرمائے۔ آمین
آپس
میں اتفاق و محبت: بے شک اتفاق میں ہی برکت ہے اور جوائنٹ فیملی میں
سب بھائیوں کا آپس میں صاف اور مخلص دلی کے ساتھ رہنے سے پیار محبت احترام اور
اتفاق میں برکت نصیب ہوتی ہے اور یہ سب سے زیادہ بہترین چیز ہے لیکن افسوس کہ ایسا
بہت ہی کم دیکھنے کو ملتا ہے۔
منفی
اثرات: جیسے
ہم نے جوائنٹ فیملی کے مثبت اثرات پر بحث کی ایسے ہی اس کے فیملی کے افراد پر بہت
منفی اثرات بھی مرتب ہوتے ہیں جیسے لڑائی جھگڑے، فتنہ فساد حسد تکبر، بچوں کے
درمیان لڑائی اور بڑوں کے اختلافات، بے پردگی وغیرہ وغیرہ۔
لڑائی
جھگڑے: جوائنٹ
فیملی میں فتنہ فساد اور لڑائی جھگڑے زیادہ عام ہوتے ہیں اس کی بڑی وجہ بے اتفاقی،
صبر و تحمل کا نہ ہونا،غصے کو کنٹرول نہ کرنا ہے۔
جب گھروں میں
رہنے والے افراد کے درمیان سے اتفاق ختم ہو جاتا ہے تو فسادات جنم لیتے ہیں اور
لڑائی جھگڑوں کی صورت اختیار کر لیتے ہیں اور غصے پر کنٹرول نہ کرنے صبر سے کام نہ
لینے کی وجہ سے لڑائی جھگڑے اس قدر بڑھ جاتے ہیں کہ طلاقیں واقع ہو جاتی ہیں گھروں
کا سکون تباہ و برباد ہو جاتا ہے۔
بعض اوقات تو
نند بھابھی دیورانی جیٹھانی کے درمیان جاہ و منصب کی ضد بھی اس لڑائی جھگڑوں کا
سبب بنتی ہے لہذا اپنی زبانوں کو زیادہ دراز نہ چھوڑا جائے اور اپنے الفاظ کا چناؤ
ہمیشہ ایسے کرو کہ بعد میں شرمندگی نہ اٹھانی پڑے۔
حسد
و تکبر: جوائن
فیملی میں حسد تکبر بغض و کینہ زیادہ پایا جاتا ہے پھر چاہے حسد کسی کے مقام کی
وجہ سے ہو، کام کی وجہ سے،ذہانت کی وجہ سے،کسی کی خوبصورتی کی وجہ سے، دوسروں سے
اس کے زیادہ قربت کی وجہ سے ہی کیوں نہ ہو یہ گناہ کبیرہ اور جہنم میں لے جانے
والا کام ہے۔
بچوں
کے درمیان لڑائی اور بڑوں کے اختلافات: جوائنٹ فیملیز میں اکثر بچے
کھیل کود کے دوران لڑ پڑتے ہیں ایسی صورتحال میں بڑوں کو بچوں کی ہلکی پھلکی لڑائی
میں مداخلت نہیں کرنی چاہیے بلکہ پیار سے ان کی تفہیم کرنی چاہیے اور ان کو بتانا
چاہیے کہ آپ سب بہن بھائی ہیں اور اتفاق پیار محبت سے رہیں مگر جب والدین بچوں کی
لڑائی میں مداخلت کرتے ہیں تب والدین کے درمیان اختلافات پیدا ہو جاتے ہیں اور بعد
میں یہی لڑائی جھگڑوں کا سبب بھی بن جاتے ہیں۔
بے
پردگی: جوائنٹ
فیملی میں زیادہ تر پردے کی طرف اتنا دھیان نہیں دیا جاتا جو بہت ہی نامناسب کام
ہے جیسے کزن (لڑکیاں) اور کزن (لڑکے) ایک دوسرے سے پردہ نہیں کرتے جب کہ دونوں ایک
دوسرے کے لیے نامحرم ہیں اسی طرح نہ بھابھی دیور نہ بہنوئی سے پردہ کرتی ہے، بے
پردگی بہت سی برائیوں کو جنم دیتی ہے جیسے بدنگاہی، ملنا جلنا، ہاتھوں پہ ہاتھ
مارنا، غلط خیالات کا انا وغیرہ وغیرہ۔
اور بھی بہت
سارے منفی اثرات ہیں مگر ادھر چند کا ذکر ہی ہوا ہے۔
اہم
نوٹ: فیملی
چاہے جوائنٹ ہو یا اکیلی ہمارا اخلاق ہی ہمارا کردار نمایاں کرتا ہے، آپ چاہیں تو
جوائنٹ فیملی میں ہو یا الگ گھر میں اپنے والدین کے ساتھ ہمیشہ حسن سلوک کا معاملہ
کریں کہیں ایسا نہ ہو کہ والدین سب کے گھر بناتے رہیں اور آخر میں ان کا کوئی گھر
ہی نہ ہو۔
اللہ سے دعا
ہے کہ ہم سب کے گھروں کو امن و سکون کا گہوارہ بنائے اور ایک دوسرے کے درمیان پیار
محبت اخلاص احترام نصیب فرمائے۔ آمین
جوائنٹ فیملی
سسٹم سے مراد خاندان کے تمام افراد کا ایک ہی گھر میں ایک ہی چھت کے نیچے مل جل کر
زندگی گزارنا ہے جوائنٹ فیملی سسٹم کے جہاں بہت سے مثبت پہلو ہیں وہی اس کے منفی
پہلوؤں سے بھی انکار نہیں کیا جا سکتا۔
جوائنٹ
فیملی سسٹم کے مثبت پہلو: جوائنٹ فیملی سسٹم سے رشتوں کی
اہمیت،قدر ومنزلت اور محبت بڑھتی ہے ماں باپ،بہن بھائیوں،دادا دادی،چچا چچی،تایا
تائی وغیرہ رشتوں کی محبت اور ان کی شفقت ملتی ہے خوشی اور غم کے موقع پر ایک
دوسرے کا سہارا بنتے ہیں بچوں کی تربیت میں بزرگ حضرات اہم کردار ادا کرتے ہیں بچہ
اپنے بڑوں کے تجربات سے بہت کچھ سیکھتا ہے جو اس کے مستقبل کے لیے بہت فائدہ مند
ثابت ہو سکتا ہے اس کے برعکس انفرادی خاندانوں کے بچوں کی تربیت اس طرح احسن انداز
سے نہیں ہو پاتی کیونکہ ماں باپ اپنے کاموں میں مصروف نظر آتے ہیں اپنے بچوں کی
تربیت پر خاص توجہ نہیں دیتے انہیں سکول اور اساتذہ کے حوالے کر دیتے ہیں حالانکہ
بچے کی اولین درسگاہ گھر ہے۔
اسی طرح
جوائنٹ فیملی سسٹم میں بیمار اور ضعیف افراد کی دیکھ بھال اچھے طریقے سے ہوجاتی ہے
بزرگ افراد بچوں کے ساتھ وقت گزار کر تنہائی کا شکار نہیں ہوتے اور وہ بچے جن کے
ماں باپ کام کاج وغیرہ کرتے ہیں انہیں بھی خصوصی توجہ مل جاتی ہے اور وہ احساس
کمتری کا شکار نہیں ہوتے جوائنٹ فیملی سسٹم میں بچوں کی حوصلہ افزائی کی جاتی ہے
انہیں یہ احساس دلایا جاتا ہے کہ ہم آپ کے ساتھ ہیں اس کے برعکس انفرادی خاندانوں
کے بچے والدین کی طرف سے وقت نہ ملنے کی وجہ سے احساس کمتری کا شکار نظر آتے ہیں
اور یہ احساس کمتری بعض اوقات ڈپریشن کی صورت اختیار کر لیتی ہے،جوائنٹ فیملی سسٹم
سے اخراجات تقسیم کرنے میں آسانی ہوجاتی ہے اور ایک ہی فرد پر زیادہ بوجھ نہیں
پڑتا گھر کے وہ افراد جو معاشی طور پر کمزور ہو ان کے اخراجات بھی آسانی سے پورے
ہو جاتے ہیں،عورتوں کو کام کاج کرنے میں آسانی ہو جاتی ہے وہ گھر کے کام آپس میں
مل بانٹ کر کر لیتی ہیں۔
اسی طرح اس کے
چند منفی پہلو بھی ہیں:
جوائنٹ
فیملی سسٹم کے منفی پہلو: جوائنٹ فیملی سسٹم کی وجہ سے آپس میں
اختلافات اور غلط فہمیاں پیدا ہو جاتی ہیں انسان کی پرائیویسی متاثر ہوتی ہے وہ
اپنے ہی گھر میں آزادی کے ساتھ زندگی نہیں گزار پاتا بالغ نا محرم افراد کے ایک ہی
گھر میں رہتے ہوئے پردے کے مسائل پیدا ہوجاتے ہیں جس کی وجہ سے شرعی احکام پرعمل
کرنا مشکل ہو جاتا ہے کوشش کے باوجود بھی شرعی احکام پر احسن طریقے سے عمل نہیں ہو
پاتا،ساس بہو کے جھگڑوں کی وجہ سے بچوں پر منفی اثرات مرتب ہوتے ہیں،گھر کے کام
کاج وغیرہ کی غیر مساوی تقسیم،غیر ضروری اخراجات وغیرہ بھی جھگڑوں کا باعث بنتے
ہیں جس سے گھر کا سکون تباہ وبرباد ہو کر رہ جاتا ہے الغرض جوائنٹ فیملی سسٹم کے
جہاں بہت سے نقصانات ہیں وہی اس کے بہت سے فوائد بھی ہیں جن سے انکار نہیں کیا
جاسکتا۔
آخر میں اللہ
رب العزت سے یہ دعا ہے کہ ہمیں آپسی اختلافات سے بچنے اور شریعت مطہرہ پر احسن
طریقے سے عمل کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین ثم آمین
جوائنٹ فیملی
سسٹم یعنی مشرکہ زندگی گزارنا اس کے کئی مثبت پہلو بھی ہے اور منفی بھی اسی کو مد
نظر رکھتے ہوئے اسکے کئی فوائد بھی ہیں اور نقصانات بھی جو مشترکہ رہنے والوں کی
زندگیوں پر اثر انداز ہوتے ہیں جو انہیں سکون اور مسرت سے ہم کنار کرتے ہیں یا
ذہنی بے سکونی کا سبب بنتے ہیں، آئیے اس کے چند مثبت پہلو جانتے ہیں:
جوائنٹ فیملی
سسٹم کے کئی مثبت پہلو ہیں جیسا کہ جوائنٹ فیملی سسٹم میں گھروں کے اخراجات پورے
کرنا آسان ہوتا ہے اخراجات کو تقسیم کر کے بآسانی پورا کیا جاتا ہے یوں ہر فرد پر
کم بوجھ پڑتا ہے اور جو ان میں معاشی لحاظ سے تھوڑا کمزور ہوں اسکے اخراجات بھی
بآسانی پورے ہو جاتے ہیں اسی طرح بچوں کی پرورش اور دیکھ بھال کرنے پر بھی اثر
ہوتا ہے مثال کے طور پر اگر کسی کے والدین ملازمت یا کاروبار وغیرہ کرتے ہیں تو
اولاد کو مناسب وقت نہیں دے پاتے جس کی وجہ سے بچے احساس محرومی کا شکار ہو جاتے
ہیں جبکہ جوائنٹ فیملی میں دیگر افراد چاچی چاچا دادی دادا اور پھوپھو وغیرہ دیکھ
بھال کر لیتے ہیں جس سے بچہ تنہائی محسوس نہیں کرتا اور گھر کے بزرگ بھی نواسے
نواسیوں اور پوتے پوتیوں کے ساتھ وقت گزار کر تنہا محسوس نہیں کرتے اسی طرح بچہ
گھر کے بڑوں کے تجربات اور رہنمائی حاصل کرتا ہے جو اسکے مستقل کے لیے فائدہ مند
ہوتے ہیں اسی طرح گھر کی عورتوں کو بھی کام کاج کرنے میں آسانی ہوتی ہے وہ مل جل
کر بآسانی کام کو انجام دیتی ہے اگر کوئی بیمار یا اداس ہوں تو اسکی دلجوئی کرتی
ہے اور مشکلات یا اچانک ہونے والے حادثات کی صورت میں ایک دوسرے کا سہارا بنتے ہیں۔
اسی طرح اسکے
چند منفی پہلو بھی ہیں: جیسا کہ جوائنٹ فیملی سسٹم میں پرائیویسی نہیں مل پاتی اس
لئے میاں بیوی کا الگ سے وقت گزارنا اور اپنے جذبات کا اظہار کرنا مشکل ہو جاتا ہے
اور مناسب طور پر ایک دوسرے کو نہیں سمجھ پاتے بہوؤں کو ساس سسر اور نندوں وغیرہ
کی جانب سے کئی مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے کو مناسب آزادی نہیں دی جاتی اور اسی
میں شوہر بیچارہ ماں اور بیوی کے درمیان پستا ہے اور گھر کا سکون خراب ہو جاتا ہے
اسی طرح بچوں کی تربیت اور دیگر روز مرہ کے کاموں میں بزرگوں اور دیگر گھر کے
لوگوں کی مسلسل بے جا مداخلت ہوتی ہے اور اسی طرح بچوں کی تربیت پر بھی اثر پڑتا
ہے بچوں کو بے حد پیار دیا جاتا ہے مگر اس میں کوئی ڈسپلن نہیں ہوتا جس کی وجہ سے
بچے بگڑ جاتے ہیں زدی ہو جاتے ہیں الغرض اسکے بہت سے دنیاوی نقصانات ہیں۔
اسی طرح
جوائنٹ فیملی کے کچھ دینی نقصانات بھی ہیں جیسا کہ پردے کے متعلق اور بے جا بے
تکلفی وغیرہ۔
خلاصہ کلام یہ
ہے کہ جوائنٹ فیملی کے بہت سے نقصانات بھی ہیں جن کو مد نظر رکھ کر فوائد کو نظر
انداز نہیں کیا جا سکتا اسی طرح بہت سے فوائد ہے جنہیں مدنظر رکھ کر نقصانات کو
نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔
اللہ کریم سے
دعا ہے کہ ہمیں دعوت اسلامی کا سچا مبلغ بنائے اور دین کی خدمت کرنے والا بنائے۔
جوائنٹ
فیملی سسٹم کے مثبت و منفی پہلو از اخت ثناء اللہ، گلبہار سیالکوٹ
جوائنٹ فیملی
سسٹم یعنی مشترکہ خاندانی نظام کے بہت سے مثبت اور منفی پہلو ہیں جو افراد کی
زندگی پر اثر انداز ہوتے ہیں ذہنی سکون یا بے سکونی کا باعث بنتے ہیں آئیے ہم ان
اثرات کو جانتے ہیں جو جوائنٹ فیملی سسٹم میں رہنے والے افراد کی زندگیوں پر اثر
انداز ہوتے ہیں:
جوائنٹ
فیملی سسٹم کے دنیاوی فوائد: جوائنٹ فیملی میں باہمی تعاون سے گھر
کے افراد ایک دوسرے کی کام کاج، اخراجات وغیرہ میں مدد کرتے ہیں مشکلات میں ایک
دوسرے کی مدد کرتے اور سہارا بنتے ہیں مالی تنگی اور دیگر مسائل میں ایک دوسرے کا
ساتھ دیتے ہیں اسی طرح رستوں میں محبت، بھائی چارہ اور باہمی تعلق مضبوط ہوتا ہے
خاندان کے افراد ایک دوسرے کی صحبت میں رہنے کی وجہ سے تنہائی کا شکار نہیں ہوتے
مایوسی سے محفوظ رہتے ہیں۔
جوائنٹ
فیملی کے دینی فوائد: جوائنٹ فیملی کے دینی فوائد بھی بہت سے ہیں جیسے
بزرگوں کا احترام کرنا بچے بڑوں کو دیکھ کر بزرگوں کا احترام کرنا سیکھ جاتے ہیں
نماز اور عبادت کی ترغیب ملتی ہے دینی تعلیم اور تربیت میں آسانی ملتی ہے برائی سے
روکنے کی ترغیب ملتی ہے، الغرض جوائنٹ فیملی کے بہت سے دینی اور دنیاوی فوائد ہے
لیکن ان فوائد کو مد نظر رکھتے ہوئے نقصانات کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔
جوائنٹ
فیملی کے دنیاوی نقصانات: جوائنٹ فیملی میں پرائویسی کی کمی ہوتی
ہے معمولی باتوں پر آپس میں جھگڑے اور اختلافات پیدا ہوتے ہیں فیصلوں میں اختلافات
پیدا ہوتے ہیں جس کی وجہ سے صحیح فیصلہ کرنے میں مشکل پیش آتی ہے بچوں کی پرورش
میں اختلافات کا پایا جانا جس کے سبب بچے کی پرورش صحیح انداز میں نہیں کی جا سکتی
اسی طرح آزادی رائے میں کمی کا پایا جانا جس کی وجہ سے بہت سے افراد اپنی پسند کے
مطابق فیصلہ نہیں کر پاتے اور ذہنی تناؤ کا شکار ہو جاتے ہیں۔
جوائنٹ
فیملی کے دینی نقصانات: دینی لحاظ سے جوائنٹ فیملی کے نقصانات یہ ہیں کہ
پردے کے مسائل پیدا ہوتے ہیں بہت سے نامحرموں کا ایک ہی چھت کے نیچے رہنے کی وجہ
سے شرعی پردہ کرنا بہت مشکل ہوتا ہے گھروں میں ایک دوسرے سے حسد اور مقابلہ بازی
پیدا ہوتی ہے جو دنیا و آخرت کی رسوائی کا باعث ہے۔
الغرض جوائنٹ
فیملی کے بہت سے دینی و دنیاوی فوائد اور نقصانات ہے اسلامی لحاظ سے بہترین خاندان
وہ ہے جہاں لوگ ایک دوسرے کے ساتھ محبت، اخوت، بھائی چارے، ایک دوسرے کی اخلاقی
تربیت کرنے والے اور احساس کرنے والے ہوں۔
اللہ پاک سے
دعا ہے کہ ہمیں دین اور دنیا کی بھلائی عطا فرمائے اور ہمارا خاتمہ بالخیر فرمائے۔
جوائنٹ
فیملی سسٹم کے مثبت و منفی پہلو از بنت محمد جمیل، شفیع کا بھٹہ سیالکوٹ
خاندان معاشرے
کی بنیادی اکائی ہے۔عرب معاشرے میں اسلام کے ظہور سے پہلے کی بات کی جائے تو یہ
کہنا بیجا نہ ہوگا کہ وہاں ایک مربوط خاندانی نظام موجود تو تھا لیکن ہر قبیلہ
دوسرے سے برسرِ پیکار تھا اسلام آیا تو اللہ تعالی اور اس کے پیارے نبی حضرت محمد ﷺ
نے بہترین معاشرے کے لیے خاندانی نظام کو بہتر بنانے کیلئے اہم ہدایات دیں۔ اگر ہم
اس وقت کے عرب معاشرے پر نظر دوڑائیں تو معلوم ہوگا کہ نبی اکرم ﷺ اپنی پہلی زوجہ
محترمہ حضرت خدیجہ رضی اللہ عنہا کے ساتھ بہترین زندگی گزاری اور انکی وفات کے بعد
تمام ازواج مطہرات کے ساتھ مدینہ شریف میں جو زندگی گزاری وہ بھی بہترین تھی آپ ﷺ کی
عائلی زندگی کا ایک نہایت اہم پہلو یہ ہے کہ مدینہ شریف میں تمام ازواج مطہرات الگ
الگ حجروں میں قیام پذیر تھیں یعنی ہر ایک کی پرائیویسی کا خیال رکھا گیا۔ چاروں
خلفائے راشدین کی زندگی کا مطالعہ کرنے سے بھی یہی خوبصورت پہلو سامنے آتا ہے کہ
انکی بیویاں بھی ساس سسر سے الگ گھروں میں اپنے شوہر کے ساتھ رہیں۔اس سے پتہ چلتا
ہے کہ اسلام میں جوائنٹ فیملی کا کوئی تصور نہیں۔ جوائنٹ فیملی سسٹم برصغیر پاک و
ہند میں تھا یہ وہ خاندانی نظام ہے جو ہندوؤں یا سکھوں کے ساتھ رہتے ہوئے مسلمانوں
پر اثر انداز ہوا اور انہوں نے اسے اپنا لیا۔اب یہ سسٹم شروع تو ہو گیا لیکن اسکے
فوائد اور نقصانات کا جائزہ لینے ہیں۔
جوائنٹ
فیملی کے فوائد: جوائنٹ
فیملی سسٹم میں بچے اپنے دادا دادی چچا تایا پھوپھو وغیرہ کے ساتھ مل جل کر رہتے
ہیں تو انہیں ان رشتوں کی محبت کا احساس ہوتا ہے اور وہ بڑوں کا ادب واحترام
سیکھتے ہیں۔بڑوں کی باتوں کو صبر وتحمل سے برداشت کرنا سیکھتے ہیں۔اسکے ساتھ ساتھ
بچے صلہ رحمی سیکھتے ہیں۔ بچوں میں مل جل کر کام کرنے اور مل بانٹ کر کھانے کی
عادت پروان چڑھتی ہے۔
جوائنٹ
فیملی سسٹم کے نقصانات: جوائنٹ فیملی سسٹم میں بچے ایک دوسرے سے عموماً بد
ظن رہتے ہیں دادا دادی چچا تایا کی روک ٹوک کی وجہ سے عموماً چڑچڑے ہو جاتے ہیں
اور دوسرے بچوں کی شکایت لگا کر ہر معاملے میں قصور وار ہوتے ہوئے بھی بری الذمہ
ہو جاتے ہیں یا جھوٹ بولنے کے عادی ہو جاتے ہیں۔اگر ایک بچے کو مار یا ڈانٹ پڑی تو
باقی بچے اس پر ہنستے ہیں یعنی دوسروں کی تکلیف پر خوش ہوتے ہیں جو بہت بری عادت
ہے۔ عموماً خاندان کا ایک فرد کماؤ پوت ہوتا ہے اور باقی لوگ کم کما کر یا بالکل
فارغ بیٹھ کر ہر طرح کی عیاشیاں اور فضول خرچیاں کر رہے ہوتے ہیں۔یعنی کماؤ پوت تو
صلہ رحمی کرتے ہوئے سب کو پیسے دے لیکن فارغ بیٹھا شخص جب فضول خرچیوں سے باز نہیں
آتا تو گھر کا ماحول خراب ہوتا ہے۔بچے اپنے ہی والدین کے خلاف ہو جاتے ہیں اور
خاندانی نظام بالآخر دم توڑ دیتا ہے۔
لہٰذا بہتر
یہی ہے کہ بیٹے کی شادی کے بعد اپنے بیٹے اور بہو کو ایک دوسرے کے ساتھ بہترین وقت
گزارنے کا بھرپور موقع دیں انکی پرائیویسی کا خاص خیال رکھیں۔ خاندان کے باقی
افراد میاں بیوی کے معاملات میں مداخلت سے گریز کریں تاکہ بیٹے اور بہو والدین کی
صحیح معنوں میں عزت کریں اور ایک مفید معاشرے کا قیام عمل میں آئے۔
جوائنٹ
فیملی سسٹم کے مثبت و منفی پہلو از بنت جواد، تلواڑہ مغلاں سیالکوٹ
جوائن فیملی
میں دادا دادی چچا تایا بہن بھائی والدین سب ایک گھر میں رہتے ہیں یہ پاکستان میں
نظام آج بھی عام ہے۔
مثبت
پہلو: بچوں
کی تربیت دادا دادی کی دعائیں اور کہانیاں اور بچے اقتدار سیکھتے ہیں۔ گھر میں
کمانے والا ایک نہیں ہوتا بلکہ تین چار لوگ ہوتے ہیں جو مل کر کماتے ہیں گھر کا
خرچہ مل کر چلتا ہے۔ بچوں کی دیکھ بھال اگر امی جاب پر ہوں تو خالہ یا پھپو بچوں
کو سنبھا لیتی ہیں آیا کا خرچہ نہیں ہوتا۔ کھانا پکانے کی ذمہ داری ایک عورت پر
نہیں ہوتی بالکل سب مل کر یہ ذمہ داریاں ادا کرتے ہیں۔ بچے ادب سیکھتے ہیں عید اور
شادیوں میں رونق ہوتی ہے ایک بندے کے پیسے سے 20 لوگ خوش ہوتے ہیں، برتن کپڑے سب
چیزیں شیئر ہوتی ہیں خرچہ کم۔ حدیث پاک میں ہے جو اللہ اور آخرت پر ایمان رکھتا ہے
وہ رشتے جوڑے۔
منفی
پہلو: چھوٹے
سے فیصلے کے لیے بھی 10 لوگوں کی رائے چاہیے ہوتی ہے۔ سب سے بڑا مسئلہ چھوٹی سی
بات بھی طوفان بن جاتی ہے اس سے چیز ملی مجھے کیوں نہیں ملی۔ ایک کمانے والا دس
کھانے والے بجٹ نہیں بنتا۔ اکیلے رہ کر بزنس کرنا مشکل۔ ذہنی ٹینشن: اتنی دیر سے
کیوں آئے؟ یہ کیوں پہنا وغیرہ وغیرہ۔ انسان گھٹن محسوس کرتا ہے۔
فرمان باری
تعالیٰ ہے: وَّ كُلُوْا وَ
اشْرَبُوْا وَ لَا تُسْرِفُوْا ۚ- (پ 8، الاعراف:
31) ترجمہ: اور کھاؤ پیو اور حد سے نہ گزرو۔ یہ آیت ہمیں گھر کے اخراجات اور زندگی
میں میانہ روی سکھاتی ہے جو بہت ضروری ہے۔
حدیث پاک ہے: مسلمان
مسلمان کا بھائی ہے نہ اس پر ظلم کرے نہ اس سے بےیار و مددگار چھوڑے۔ (مسلم، ص 1386، حدیث: 2564) اس میں جوڑنے کا
حکم دیا گیا ہے اگر ذہنی اذیت ہو تو الگ ہونا جائز ہے۔ فرمان مصطفیٰ ﷺ: نرمی جس
چیز میں ہو اسے خوبصورت بنا دیتی ہے۔ (مسلم، ص 1398، حدیث: 2594)
اللہ پاک ہمیں
رشتے نبھانے اور عزت کے ساتھ رہنے کی توفیق دے۔ آمین
جوائنٹ
فیملی سسٹم کے مثبت و منفی پہلو از بنت جاوید آصف، تلواڑہ مغلاں سیالکوٹ
ہمارے ہاں بہت
سے گھرانوں میں مشترکہ خاندانی نظام رائج ہے، جہاں اس نظام کے بہت سے فوائد ہیں
وہیں کچھ ضمنی اثرات بھی ہیں جو حقیقتاً تو معمولی حیثیت رکھتے ہیں لیکن بعض اوقات
ہمارے ردِّ عمل کی وجہ سے بڑے اثرات کے حامل قرار پاتے ہیں۔
فائدے:
باہمی
تعاون اور کفالت: خاندان
کے تمام افراد مل کر معاشی بوجھ اٹھاتے ہیں، جس سے کم کمانے والے افراد کی بھی
باعزت کفالت ہو جاتی ہے۔
بچوں
کی تربیت: بچے
اکیلے پن کا شکار نہیں ہوتے۔ انہیں چچا، تایا، اور پھوپھو کی صورت میں بڑوں کی
شفقت اور نگرانی میسر رہتی ہے۔
بزرگوں
کی خدمت: گھر
کے بزرگوں کو تنہائی کا احساس نہیں ہوتا اور اولاد کو ان کی خدمت کرکے دعائیں
سمیٹنے کا بھرپور موقع ملتا ہے۔
اسلامی
اقدار کا فروغ: بڑوں
کا ادب اور چھوٹوں سے شفقت کا ماحول قائم رہتا ہے، اور گھر میں دینی محافل (جیسے
ہفتہ وار اجتماع یا نیکی کی دعوت) کا انعقاد آسان ہو جاتا ہے۔
مشکل
وقت میں ڈھال: بیماری
یا کسی بھی ناگہانی مصیبت کے وقت پورا خاندان ایک دوسرے کے شانہ بشانہ کھڑا ہوتا
ہے۔
مُشترکہ
خاندانی نظام میں رہتے ہوئے بعض اوقات ایسا بھی ہوتاہےکہ بچّےکبھی کھیل ہی کھیل
میں تو کبھی واقعی لڑائی جھگڑے میں ایک دوسرے کو پِیٹ ڈالتے یا چوٹ پہنچا دیتے
ہیں۔ ایسے میں والدین کو صبر و تحمُّل کے ساتھ ساتھ عقلمندی کا مظاہرہ کرنا چاہئے
اور اس بات کو ہمیشہ پیشِ نظر رکھنا چاہئے کہ بچّوں کے آپس کے مسائل ہمیشہ کیلئے
نہیں بلکہ بسا اوقات چند لمحوں کیلئے ہوتے ہیں ایسے میں والدین دخل اندازی نہ کریں
تو وہی بچّے پھر سے اکٹھے کھیل رہے ہوں گے جبکہ اس کے بَرعکس رویّہ اپنانا خود اُن
کے اور بچّوں کے لئے بھی نقصان دہ ہوگا کیونکہ آپ چیزوں کو جتنا بڑا بناتے جائیں
گے وہ اتنی بڑی بنتی جائیں گی۔ جوائنٹ فیملی سسٹم میں اگر درج ذیل باتیں مدنظر
رکھی جائیں تو یہ نظام بہت فائدہ مند ہوگا:
1۔ گھر میں
سبھی بچّوں کی تربیت اس اندازسے جائے کہ سبھی پیار محبت اور اتفاق کے ساتھ رہیں۔
بِالخصوص بڑے بچّوں کو یہ تربیت دینی چاہئے کہ وہ چھوٹے بہن بھائی اورکزنز (چچازاد،
تایازاد بہن بھائی وغیرہ)کا خیال رکھیں آپس میں کھیلتے ہوئےکسی ایک کو دوسرے کے
ساتھ بُرا سلوک نہ کرنے دیں۔
2۔ بچّوں کی
آپسی مار پیٹ میں اگر صورتِ حال زیادہ خراب نہ ہوتو والدین کو نظر انداز کرنا
چاہئے، کیونکہ اس لڑائی پر آپ کی طرف سے دیا جانے والا ردِّ عمل ہی بچّوں کا اگلا
لائحۂ عمل طے کرے گا وہ آپ سے سیکھتے ہیں آپ ہی اگر چھوٹی سی بات کو جنگ میں بدل
دیں گے تو بچّے بھی اگلی بار وہی کریں گے کیونکہ دیکھنے میں یہی آتا ہے کہ بچّے
شروع شروع میں واقعی صلح کر لیتے ہیں لیکن والدین کے ایسے مستقل رویّہ کو دیکھ کر
وہ بھی آپس میں نفرتیں پال لیتے ہیں۔
3۔ والدین کو
خود کے ساتھ ساتھ بچّوں کا بھی یہی ذہن بنانا چاہئے کہ ہم سب اکٹھے ہیں تو ایک ہی
فیملی ہیں لہٰذا جیسے بھائی بھائی میں لڑائی کو بڑا مسئلہ نہیں بنایا جاتا ایسے ہی
کزنز میں بھی یہی رویّہ رکھا جائے۔
4۔ ضرورتاً
بچّوں کے جھگڑے میں دخل اندازی کرنی ہی پڑ جائے تو والدین کو فریق بننے کے بجائے
بڑے پَن کا مظاہرہ کرنا چاہئے اور کسی بھی بچّے کو خصوصی اہمیت دیئے بغیر سب کی
بات سُنی جائے اور حسبِ ضرورت تفہیم اور نرمی سے سمجھانے کا سلسلہ کیا جائے۔
یقیناً اخلاقی
تربیت کیلئے ڈانٹ ڈپٹ اسے کی جاتی ہے جو اپنا ہو لہٰذا اپنے بھتیجے وغیرہ
کوسمجھانے کیلئے ڈانٹنے میں کوئی حرج نہیں لیکن اگر کسی فساد کا اندیشہ ہو تو اس
سے بچا جائے۔
5۔ بعض اوقات
بچّوں کی لڑائی کا سبب ہم خود بن رہے ہوتے ہیں کہ بچّوں کے درمیان ان کی ذہنی
صلاحیت یا جنس کی بنیادپر فرق رکھتے ہوئے کسی ایک کو چہیتا اور لاڈلا بنائے رکھتے
ہیں اور دوسرے سے بے رُخی برتتے ہیں، ایسے میں نظر انداز ہونے والا بچّہ ہمارے اس
رویے کا بدلہ دوسرے بچّوں سے لیتا ہے۔
6۔ یونہی بعض
اوقات کوئی ایک بچّہ ہمارا لاڈلا ہونے کا غلط فائدہ بھی اٹھاتا ہے لہٰذا بچّوں کو
ابتداء ہی لڑائی سے بچانے کے لئے ہمیں اپنے رویّہ پر بھی نظرِ ثانی کرتے رہنا
چاہئے۔
7۔ والدین کو
اس طرف بھی توجّہ دینی چاہئے کہ میڈیا وغیرہ نے بچّوں کی اکثریت کو بہت چالاک اور
ہوشیار بنا دیا ہے، وہ زمانے چلے گئے جب کہا جاتا تھا کہ بچّے من کے سچّے ، لہٰذا صرف ان کے کہنے پر
کوئی قدم نہ اٹھایا جائے بلکہ خود بھی دیکھ بھال لیا جائے کہ واقعی کچھ ہوا بھی ہے
یا سارے بچّے مل کر کسی ایک کے خلاف مورچہ بنائے ہوئے ہیں اور کوئی جھوٹی کہانی
گھڑ رہے ہیں!
جوائنٹ
فیملی اور پرده: مشترکہ
خاندانی نظام اور جوائنٹ فیملی سسٹم میں رہنا یا نہ رہنا یہ گھریلو انتظامی نوعیت
کا مسئلہ ہے، اگر سب مل کر باہمی رضامندی سے ایک ساتھ رہنا چاہیں تو پردہ کے ساتھ
رہ سکتے ہیں، اس طرح ساتھ رہنے میں کوئی حرج نہیں ہے۔
البتہ مشترکہ
خاندانی نظام میں جب غیر محرموں کا آمنا سامنا رہتا ہو تو عورت پر لازم ہے کہ وہ
اپنے آپ کو بڑی چادر سے چھپائے رکھے، مستقل چہرہ پر نقاب ڈال کر رکھنا ضروری نہیں
ہے، البتہ گھریلو امور انجام دیتے ہوئے بڑی چادر لے کر اس کا گھونگھٹ بنالیا جائے؛
تاکہ چہرے پر غیر محرم کی نگاہ نہ پڑے، بلا ضرورت غیر محرم (دیور، جیٹھ، چچا زاد،
ماموں زاد وغیرہ) سے بات چیت نہ کی جائے، اگر کبھی کوئی ضروری بات یا کام ہو تو آواز
میں لچک پیدا کیے بغیر سختی کے ساتھ پردہ میں رہ کر ضرورت کی حد تک بات کی جائے۔
بےضرورت اختلاط
یا ہنسی مذاق کرنے کی تو اجازت ہی نہیں، کبھی سارے گھر والے اکٹھے کھانے پر یا
ویسے بھی بیٹھے ہوں تو خواتین پردہ کے ساتھ ایک طرف اور مرد ایک طرف رہیں، تاکہ
اختلاط نہ ہو۔ گھر کے نامحرم افراد پر بھی لازم ہے کہ وہ بھی اس کا اہتمام کریں کہ
گھر میں داخل ہوتے وقت بغیر اطلاع کے نہ داخل ہوں، بلکہ بتا کر یا کم ازکم کھنکار
کر داخل ہوں، تاکہ کسی قسم کی بے پردگی نادانستگی میں بھی نہ ہو۔
لہذا جوائنٹ
فیملی میں رہتے ہوئے ہمیں سبھی امور کا خیال رکھنا چاہئے تاکہ زندگی سکون کے ساتھ
گزرے اور کسی کے حقوق کی حق تلفی نہ ہو۔
جوائنٹ
فیملی سسٹم کے مثبت و منفی پہلو از بنت انور، تلواڑہ مغلاں سیالکوٹ
اسلام جہاں
زندگی کے ہر شعبے میں ہماری رہنمائی کرتا ہے وہیں خانگی خاندانی اور انسانی حقوق
کے متعلق سب سے بڑھ کر پیغام دیتا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے انسان کی تخلیق کی ابتدا ایک
مرد اور ایک عورت حضرت آدم علیہ السلام اور حضرت حوا رضی اللہ عنہا سے فرمائی۔ پھر
انہی دونوں سے پوری نسلِ انسانی کو زمین میں پھیلایا۔
قرآن مجید میں
ارشاد ہے: یٰۤاَیُّهَا النَّاسُ
اِنَّا خَلَقْنٰكُمْ مِّنْ ذَكَرٍ وَّ اُنْثٰى وَ جَعَلْنٰكُمْ شُعُوْبًا وَّ
قَبَآىٕلَ لِتَعَارَفُوْاؕ- (پ 26، الحجرات: 13) ترجمہ: اے لوگو!
بے شک ہم نے تمہیں ایک مرد اور ایک عورت سے پیدا کیا اور تمہیں قوموں اور قبیلوں
میں تقسیم کیا تاکہ تم ایک دوسرے کو پہچانو۔
اسی میاں بیوی
کے پاکیزہ رشتے سے خاندان کی بنیاد رکھی گئی، اسی طرح آگے چل کر خاندانوں سے قبیلے
بنے، قبیلوں سے قومیں اور قوموں سے معاشرہ وجود میں آیا۔
لہذا خاندان
معاشرے کی بنیادی اکائی ہے اور مضبوط خاندان ہی ایک مضبوط معاشرے کی بنیاد بنتا
ہے۔ ہمارے معاشرے میں مشترکہ خاندانی نظام (جوائنٹ فیملی سسٹم) صدیوں سے رائج ہے،
جس میں کئی لوگ ایک ساتھ رہتے ہیں، ایک دوسرے کے حقوق ادا کرتے ہیں اور خوشی و غم
میں شریک ہوتی ہیں۔
دنیا سے الگ
تھلگ معاشرے سے کٹ کر انسان کے لیے زندگی گزارنا اتنہائی مشکل ہے اسی لیے انسان
ایک دوسرے کے سہارے رہنے کے نظام کے تحت ہیں اسی کے تحت انسان کسی معاشرے میں رہتے
ہوے تعلقات استواء کرتا ہے اپنا گھر بناتا ہے پھر اس نظام کو احسن طریقے سے چلانے
کی کوشش کرتا ہے اسی نظام کا نام خاندان ہے۔ (ماہنامہ فیضانِ مدینہ، جولائی 2026،
ص 14)
شریعتِ مطہرہ
نے ان کے درمیان باہمی حقوق و فرائض بھی مقرر کیے ہیں جہاں اس نظام کے بہت سے
فوائد ہیں وہیں کچھ ضمنی اثرات بھی ہیں، آئیے اس کے مشترکہ خاندانی نظام کے مثبت
اور منفی پہلو کا جائزہ لیتے ہیں:
مثبت
پہلو:
1۔
محبت اور بھلائی: گھر
کے بڑے بچوں کی تربیت کرنے میں اپنا کردار ادا کرسکتے ہیں بیماری یا مشکل وقت میں
سب ایک دوسرے کا حوصلہ بن سکتے ہیں۔ایک بھائی دوسرے بھائی کو اکیلے پن کا احساس
نہیں ہونے دیتا، جیسا کہ الدرر الحکام 1/ 323 میں منقول ہے رشتے جوڑنا گھر والوں
میں محبت مال میں برکت اور عمر میں درازی ہے۔
2۔
مالی سہولت: اخراجات
سب مل کر اٹھاتے ہیں۔ ایک گھر کا راشن، بجلی کا بل، کرایہ سب پر بوجھ کم پڑتا ہے۔
مالی ذمہ داریوں کی وضاحت ہوجاتی ہے جس سے بچت کا امکان بڑھتا ہے۔
3۔
بچوں کی تربیت: بچے
گھر کے بڑوں دادا سے روایات اور تجربے کی باتیں سیکھ سکتے ہیں جس سے انکے کردار
میں پختگی پیدا ہوگی۔
4۔
بزرگوں کی دیکھ بھال: بوڑھے والدین اکیلے نہیں رہتے۔ ان کی اولاد انکے
سامنے ہوتی ہے جس سے وہ محبت رکھتے ہیں۔ ان سے حسن سلوک کامیاب خاندان کی بنیاد ہے
اگر ایسا ہو تو معاشرے میں اولڈ ہاؤس بنانے کی نوبت نہیں آتی۔
5۔
تحفظ: اسلامی
خاندانی نظام میں رشتوں کو مضبوط رکھنے پر زور دیتا ہے۔ ایک دوسرے سے حسنِ سلوک
رکھنا محبت انصاف سے مل کر زندگی گزرنا مل کر فیصلے کرنا گھر کے سکون کی بنیاد
بنتا ہے۔
منفی
پہلو:
1۔ غیر ضروری
مداخلت اگر ہر شخص دوسروں کے معاملات میں بلا ضرورت مداخلت کرے تو گھریلو سکون
متاثر ہوتا ہے اور اختلافات پیدا ہوتے ہیں اور فیصلے تاخیر کا شکار ہوں گے۔
2۔ غیبت اور
چغلی ایک ہی گھر میں رہتے ہوئے اگر زبان کی حفاظت نہ کی جائے تو غیبت، چغلی اور
بدگمانی جیسے گناہ پیدا ہو سکتے ہیں۔
3۔ ناانصافی
گھر کے افراد کے درمیان برابری نہ برتی جائے تو حسد، ناراضگی اور دل آزاری جنم
لیتی ہے۔
4۔ برداشت کی
کمی غصہ اور عدم برداشت معمولی باتوں کو بڑے جھگڑوں میں تبدیل کر دیتے ہیں،
حالانکہ اسلام صبر اور حسنِ اخلاق کی تعلیم دیتا ہے۔
5. ذمہ داری
کا احساس کم سب کا گھر ہے سوچ کی وجہ سے بعض لوگ کام نہیں کرتے اور دوسروں پر
انحصار کرتے ہیں۔
الغرض مشترکہ
نظام محبت، تعاون اور بچت کے لیے بہت اچھا ہے، لیکن اس کے لیے برداشت، قربانی اور
عزت بہت ضروری ہے۔ اگر اختلافات بڑھ جائیں تو قران کریم حکم دیتا کہ خاندان کے
بڑھے افراد صلح کروائیں۔۔کیونکہ اسلام محبت حکمت اور ذمہ داری کے ذریعے خاندان کو
جھگڑوں سے محفوظ رکھنے کا نظام فراہم کرتا ہے۔
مشترکہ خاندان
ہو یا الگ رہائش، اگر اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول ﷺ کی تعلیمات پر عمل کیا جائے تو
ہر نظام کامیاب اور پُرسکون بن سکتا ہے۔ لہٰذا ہمیں چاہیے کہ اختلافات کے بجائے
محبت، تعاون اور برداشت کو فروغ دیں تاکہ ہمارا گھر اور معاشرہ دونوں امن و سکون
کا گہوارہ بن جائیں۔
اللہ کریم سے
دعا ہے کہ وہ ہمیں اسلام کے اصولوں پر چلنے اور صبر سے کام لینے کی توفیق عطا فرمائے۔
آمین
جوائنٹ
فیملی سسٹم کے مثبت و منفی پہلو از بنت محمد نواز،پاکپورہ سیالکوٹ
اسلام ایک
ایسا دین ہے جو خاندان کو معاشرے کی بنیادی اکائی قرار دیتا ہے، اسلام میں والدین
بہن بھائیوں رشتہ داروں اور بزرگوں کے ساتھ حسنِ سلوک صلہ رحمی اور باہمی تعاون کی
تعلیم دی گئی ہے جوائنٹ فیملی سسٹم مشترکہ خاندانی نظام بھی اسی خاندانی تعلق کا
ایک نمونہ ہےجس میں ایک ہی گھر یا ایک ہی نظام کے تحت کئی افراد مل کر رہتے ہیں اگر
اس نظام میں محبت انصاف اور حقوق کی ادائیگی ہو تو یہ بہت سے فوائد کا باعث بنتا
ہے لیکن اگر ناانصافی حسد اور بے جا مداخلت ہو تو اس کے منفی اثرات بھی سامنے آتے
ہیں۔
وَ اعْبُدُوا اللّٰهَ وَ لَا
تُشْرِكُوْا بِهٖ شَیْــٴًـا وَّ بِالْوَالِدَیْنِ اِحْسَانًا وَّ بِذِی
الْقُرْبٰى (پ
5، النساء: 36) ترجمہ: اللہ کی عبادت کرو اور اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ ٹھہراؤ
اور ماں باپ کے ساتھ بھلائی کرو اور رشتہ داروں کے ساتھ بھی۔اس آیت میں اللہ
تعالیٰ نے والدین اور رشتہ داروں کے ساتھ حسنِ سلوک کا حکم دیا ہے۔
جوائنٹ فیملی
سسٹم اسی تعلیم پر عمل کا بہترین ذریعہ بن سکتا ہے بشرطیکہ خاندان کے تمام افراد
ایک دوسرے کے حقوق کا خیال رکھیں عزت و احترام کریں اور انصاف سے کام لیں
حضرت ابو ایوب
انصاری سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جو شخص چاہتا ہے کہ اس کے رزق میں
کشادگی ہو اور اس کی عمر میں برکت ہو تو وہ صلہ رحمی کرےرشتہ داروں کے ساتھ اچھا
تعلق رکھنے سے اللہ تعالیٰ رزق میں وسعت اور عمر میں برکت عطا فرماتا ہے۔ (بخاری، 4/97،
حدیث: 5986)
اس حدیث سے
معلوم ہوتا ہے کہ خاندان اور رشتہ داروں کے ساتھ اچھے تعلقات قائم رکھنا اسلام کی
اہم تعلیم ہے جوائنٹ فیملی سسٹم میں اگر صلہ رحمی محبت اور تعاون ہو تو یہ اللہ
تعالیٰ کی رحمت اور برکت کا ذریعہ بنتا ہےجوائنٹ فیملی سسٹم کے مثبت پہلوبزرگوں کی
خدمت اور ان کے تجربات سے فائدہ حاصل ہوتا ہےبچوں کی اچھی تربیت اور اخلاقی تعلیم
میں آسانی ہوتی ہےخوشی اور غم میں سب ایک دوسرے کا سہارا بنتے ہیں گھریلو اور مالی
ذمہ داریاں تقسیم ہو جاتی ہیں۔
رشتہ داروں
میں محبت اتحاد اور صلہ رحمی مضبوط ہوتی ہےاسلام نہ تو صرف جوائنٹ فیملی سسٹم کا
حکم دیتا ہے اور نہ ہی الگ رہنے سے منع کرتا ہےبلکہ اسلام کا اصل مقصد یہ ہے کہ
جہاں بھی خاندان رہے وہاں محبت عدل احترام صبر اور حقوق کی ادائیگی ہو اگر مشترکہ
خاندان میں رہتے ہوئے ایک دوسرے کی عزت رازداری اور حقوق کا خیال رکھا جائے تو یہ
نظام بہت مفید ثابت ہوتا ہے لیکن اگر ظلم بے جا مداخلت اور ناانصافی ہو تو الگ
رہتے ہوئے بھی رشتہ داروں سے حسنِ سلوک اور صلہ رحمی برقرار رکھنا چاہئے۔
جوائنٹ فیملی
سسٹم اپنی اصل میں ایک بہترین معاشرتی نظام ہے مگر اس کی کامیابی محبت انصاف
برداشت باہمی احترام اور اسلامی تعلیمات پر عمل کرنے سے وابستہ ہے اگر ہر فرد اپنے
فرائض ادا کرے اور دوسروں کے حقوق کا خیال رکھے تو مشترکہ خاندان سکون رحمت اور
برکت کا گہوارہ بن جاتا ہے۔
ہمارے معاشرے
میں مشترکہ خاندانی نظام یعنی جوائنٹ فیملی سسٹم کو ایک اہم حیثیت حاصل ہے۔ یہ ایک
ایسا نظام ہے جہاں ایک ہی چھت کے نیچے خاندان کے کئی افراد، جیسے دادا دادی،
والدین، چچا چچی اور بہن بھائی مل جل کر رہتے ہیں۔ اس نظام میں جہاں محبت اور
اپنائیت کا گہرا رنگ نظر آتا ہے، وہاں کچھ چیلنجز بھی سامنے آتے ہیں۔
اگر ہم اس کے
مثبت پہلوؤں یعنی فوائد کی بات کریں تو اس نظام کا سب سے بڑا فائدہ یہ ہے کہ باہمی
تعاون اور سکون میسر آتا ہے، اور دکھ سکھ میں پورا خاندان ساتھ کھڑا ہوتا ہے جس سے
فیملی کا ہر فرد خود کو محفوظ محسوس کرتا ہے۔ اس کے علاوہ بچوں کو بزرگوں کی
سرپرستی اور تربیت ملتی ہے، انہیں دادا دادی اور بڑے بزرگوں کی صحبت ملتی ہے جس سے
ان کی اخلاقی تربیت بہتر ہوتی ہے۔ اللہ تعالیٰ نے رشتہ داروں کے اس باہمی حسنِ
سلوک اور حقوق کی تاکید کرتے ہوئے سورہ النسا کی آیت نمبر 36 میں فرمایا ہے: وَ اعْبُدُوا اللّٰهَ
وَ لَا تُشْرِكُوْا بِهٖ شَیْــٴًـا وَّ بِالْوَالِدَیْنِ اِحْسَانًا وَّ بِذِی
الْقُرْبٰى (پ
5، النساء: 36) ترجمہ: اللہ کی عبادت کرو اور اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ ٹھہراؤ
اور ماں باپ کے ساتھ بھلائی کرو اور رشتہ داروں کے ساتھ بھی۔
دوسری طرف اگر
اس کے منفی پہلوؤں اور چیلنجز کو دیکھا جائے تو جوائنٹ فیملی میں سب سے بڑا مسئلہ
پرائیویسی یعنی ذاتی زندگی کی کمی کا ہوتا ہے۔ میاں بیوی کو اپنی نجی زندگی کے لیے
وقت اور سکون نہیں مل پاتا جس کی وجہ سے اکثر ذہنی دباؤ بڑھ جاتا ہے۔ اس کے ساتھ
ہی بعض اوقات حد سے زیادہ دخل اندازی کی وجہ سے گھریلو ناچاقیاں پیدا ہوتی ہیں اور
آپس کی غلط فہمیوں کی وجہ سے گھر کے کمزور افراد، جیسے بہو یا بچوں کے حقوق متاثر
ہوتے ہیں۔ رشتہ داروں کے گھروں میں بلا اجازت دخل اندازی یا کسی کی نجی زندگی میں
دخل دینے کے حوالے سے رسول اللہ ﷺ کا فرمان ہے، جو صحیح بخاری کی حدیث نمبر 6241
میں ہے کہ اجازت لینے کا حکم تو اسی لیے دیا گیا ہے تاکہ دوسروں کے نجی معاملات پر
نظر نہ پڑے ـ
جوائنٹ
فیملی سسٹم کے مثبت و منفی پہلو از بنت بدر زمان،لطیف آباد حیدرآباد
پیاری پیاری
اسلامی بہنو! آج کل جوں ہی فیملی میں اضافہ ہوتا رہتا ہے ساتھ رہنا لوگوں کے لیے
مشکل ہو جاتا ہے میاں بیوی کو پرائیویسی نہیں مل پاتی، ہر بات سب کو پتا ہوتی ہے
مالیاتی تنازعات اور ناانصافی ہو جاتی ہے کمانے والے اور نہ کمانے والے افراد کے
درمیان گھر کے اخراجات کی تقسیم اکثر بے چینی اور تلخی کا باعث بنتی ہے نیز لڑائی
جھگڑے تک نوبت آ پہنچتی ہے اور ان سب باتوں کا آخر حل یہ ہی نکلتا ہے کہ اچھا خاصہ
ساتھ ٹوٹ کر رہ جاتا ہے، بھائیوں میں اختلافات پیدا ہوجاتے ہیں اگر لڑائی زیادہ
بڑھ جائے تو قطع تعلقی تک کرلی جاتی ہے، بےچارے بوڑھے ماں باپ جنہوں نے اس گھر کو
بنانے جوڑ کر رکھنے میں ساری زندگی گزار دی آج ان کے سامنے ہی یہ گھر والے جدا ہو
رہے ہیں بکھر رہیں ہیں ٹوٹ رہیں ہیں۔
ذرا سوچئے کہ
جب یہ وقت ہم پر آئے گا تو ہم پر کیا گزرے گی اگر ہمارے بڑھاپے میں ہماری اولاد نے
بھی یہی سب کیا تو ظاہر ہے بچے گیلی مٹی کی مانند ہیں اسے جو شکل دی جائے گی وہ
وہی اختیار کریں گے۔
اسلام میں بلاوجہ
3 دن سے زیادہ قطع تعلقی کی ممانعت ہے۔ رشتہ داروں سے قطع رحمی کرنے والے کی سخت
وعید آئی ہے، نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: قطع رحمی کرنے والا (رشتہ داروں سے تعلق توڑنے
والا) جنت میں داخل نہ ہوگا۔ (بخاری، 4/97، حدیث: 5984)
جہاں جوائنٹ
فیملی کے منفی اثرات بیان ہوئے اسی طرح جوائنٹ فیملی کے کئی مثبت اثرات بھی موجود
ہیں، مثلاً
مالی
مدد: خرچے
شئیر ہو جاتے ہیں۔ کرایہ، بل، راشن کا بوجھ کم ہو جاتا ہے۔
بچوں
کی تربیت: دادا
دادی، سب مل کر بچوں کی پرورش کرتے ہیں۔ بچے محبت اور سیکھنے کا ماحول پاتے ہیں۔
روایات:
بڑوں
سے رسم و رواج منتقل ہوتے ہیں۔
مشکل
میں سہارا: بیماری،
نوکری چلی جائے، یا کوئی ایمرجنسی ہو تو سب ایک دوسرے کا ساتھ دیتے ہیں۔
آئیے پیارو
محبت سے مل جل کر رہنے حسنِ سلوک پر حدیث ملاحظہ فرمائیں، حضرت ابوہریرہ رضی اللہ
عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: تم اس وقت تک جنت میں داخل نہیں ہو
سکتے جب تک کہ تم ایمان نہ لاؤ اور تم اس وقت تک مومن نہیں ہو سکتے جب تک کہ آپس
میں محبت نہ کرو۔ کیا میں تمہیں ایک ایسی چیز نہ بتاؤں کہ جب تم اسے کرو تو آپس
میں محبت ہونے لگے؟ اپنے درمیان سلام کو عام کرو۔ (مسلم، ص 47، حدیث: 54)
حضرت نعمان بن
بشیر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: مسلمانوں کو آپس میں
ایک دوسرے پر رحم کرنے، محبت کرنے اور شفقت کرنے میں ایک جسم کی طرح دیکھو کہ جب
جسم کے کسی حصے کو تکلیف پہنچتی ہے تو سارا جسم بخار اور بے خوابی میں اس کا ساتھ
دیتا ہے۔ (بخاری، 4/103، حدیث: 6011)
پیاری پیاری
اسلامی بہنو! دیکھا آپ نے پیارا آقا جان ﷺ کا پیارا فرمان اے کاش یہ حدیث مبارکہ
ہمارے دلوں میں اثر کر جائے اور ہم آپس میں پیار و محبت حسنِ سلوک سے پیش آئیں اور
سلام کو بھی عام کریں۔
Dawateislami