اسلام کی تاریخ قربانیوں کی تاریخ ہے اور اس تاریخ کے روشن ترین باب مجاہدین کے نام ہیں مجاہدین وہ ہستی ہیں جنہوں نے اپنا مال جان گھربار سب اللہ کی راہ میں قربان کیا اور دین اسلام کی اشاعت کے لیے اپنی تلواروں سے جہاد کیا اور کفر کو خاک میں ملایا اسلام نے بھی ان مجاہدین کو تنہا نہیں چھوڑا بلکہ اگر ہم تاریخ اسلام کو پڑھیں تو ہمیں ایسی بہت سی احادیث کریمہ ملیں گی جن میں مجاہدین کی حوصلہ افزائی کی گئی ہے اور ان کو بشارتوں سے نوازا گیا ہے۔

پیارے آقا ﷺ جب بھی کسی لشکر کو کسی علاقے کی طرف بھیجتے تو پہلے ان کے امیر کو بلاتے اور اسے وصیت فرماتے، جیسا کہ حضرت سلیمان بن بریدہ رضی اللہ عنہ اپنے والد سے روایت کرتے ہوئے فرماتے ہیں کہ پیارے آقا ﷺ جب کسی آدمی کو کسی لشکر یا سریّہ کا امیر بناتے تو آپ ﷺ اسے خاص طور پر اللہ سے ڈرنے اور جو ان کے ساتھ مسلمان (مجاہدین) ہوں ان کے ساتھ بھلائی کرنے کی وصیت فرماتے۔ (مسلم،ص 738، حدیث: 4522)

حضرت ابو تیمی رحمۃ اللہ علیہ اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ ہم حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ کے پاس تھے کہ ایک آدمی نے کہا کہ اگر میں آقا علیہ السلام کا زمانہ پا لیتا تو آپ ﷺ کے ساتھ جہاد کرتا، حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ نے کہا: تم ایسا کرتے۔ تحقیق ہم آقا ﷺ کے ساتھ غزوہ احزاب کی رات سخت ہوا اور سردی دیکھ چکے ہیں، پیارے آقا نے ارشاد فرمایا: کیا تم میں سے کوئی ایسا آدمی نہیں جو اس قوم کی خبر میرے پاس لائے؟ اللہ اسے قیامت کے دن میرا ساتھ نصیب فرمائے، پیارے آقا نے تین مرتبہ یوں ہی ارشاد فرمایا: ہم خاموش رہے اور ہم میں سے کسی نے بھی پیارے آقا کو جواب نہ دیا تو آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا: اے حذیفہ! کھڑے ہو جاؤ اور ہمارے پاس قوم کی خبر لے آؤ جب آپ ﷺ نے میرا نام لیا تو میرے لیے سوائے اٹھنے کے کوئی چارہ نہیں تھا، آقا نے فرمایا: جاؤ اور قوم کی میرے پاس خبر لے کر آؤ حضرت حذیفہ فرماتے ہیں کہ جب میں پیارے آقا کی طرف پشت پھیر کر چلنے لگا تو مجھے محسوس ہوا گویا کہ میں حمام میں چل رہا ہوں فرماتے ہیں میں خبر لے کر واپس آیا اور پیارے آقا کو خبر دی جب میں خبر دے کرفارغ ہو گیا تو مجھے سردی محسوس ہونے لگی تو پیارے آقا ﷺ نے مجھے اپنی بقیہ چادر اوڑھا دی جسے آپ اوڑھ کر نماز ادا کر رہے تھے اور میں صبح تک نیند کرتا رہا پس جب صبح ہو گئی تو آپ ﷺ نے فرمایا اے بہت سونے والے!اٹھ جاؤ۔ (مسلم، ص 763، حدیث: 4640)

حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے فرماتے ہیں غزوہ احد کے دن پیارے آقا ﷺ سات انصاریوں اور قریش کے دو آدمیوں کے ہمراہ اکیلے رہ گئے جب پیارے آقا کو کفار نے گھیر دیا تو آپ ﷺ نے فرمایا: جو انہیں ہم سے ہٹائے گا اس کے لیے جنت ہے یا وہ جنت میں میرا رفیق ہوگا تو انصار میں ایک آدمی آگے بڑھا اور جنگ کی یہاں تک کہ شہید ہو گیا پھر بھی کافروں نے آپ ﷺ کو گھیرے رکھا تو پیارے آقا الصلٰوۃ والسلام نے دوبارہ وہی الفاظ ارشاد فرمائے پس انصار میں سے ایک آدمی آگے بڑھ کر لڑا یہاں تک کہ وہ شہید ہو گیا یہ سلسلہ برابر اسی طرح چلتا رہا یہاں تک کہ ساتوں انصاری شہید ہو گئے تو پیارے آقا نے اپنے قریشی ساتھیوں سے فرمایا: ہم نے اپنے ساتھیوں سے انصاف نہیں کیا۔ (مسلم، ص 764، حدیث: 4641)

غزوہ خندق کے دن پیارے آقا ﷺ نے لوگوں کو جہاد کے لیے بلایا اور اس کی ترغیب دی، تین بار پیارے آقا نے پکارا تینوں مرتبہ حضرت زبیر رضی اللہ عنہ نے آپ کی دعوت کو قبول کیا اور لبیک کہا تو پیارے آقا نے ارشاد فرمایا:ہر نبی کے کچھ خاص حواری ہوتے ہیں اور میرے حواری زبیر (رضی اللہ عنہ) ہیں۔ (بخاری، 3/54، حدیث: 4113)

حضرت سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ پیارے آقا علیہ السلام نے احد کے روز میرے لیے اپنے والدین کو جمع فرما دیا (یعنی فرمایا تھا کہ میرے ماں باپ تم پر قربان ہوں)۔ (مسلم، ص 1009، حدیث: 6235)

حضرت سہل بن سعد رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ پیارے آقا ﷺ ہمارے پاس تشریف لائے اور حال یہ کہ ہم خندق کھود رہے تھے اور اپنے کندھوں پر مٹی اٹھا رہے تھے تو پیارے آقا ﷺ نے ارشاد فرمایا: اے اللہ! زندگی تو صرف آخرت کی زندگی ہے بس تو مہاجرین اور انصار کی مغفرت فرما۔ (بخاری،2/264، حدیث: 2835)

صحابہ کرام علیہم الرضوان وہ ہستی ہیں کہ ان کی نیکیاں رب تعالی کی بارگاہ میں قبول ہیں ان کے جہاد رب تعالی کی بارگاہ میں قبول ہیں اللہ پاک ہمیں بھی مجاہدین والا ایمان اور جذبہ عطا فرمائے اور ہمیں ان کے نقش قدم پر چلنے والا بنائے۔ آمین