جوائنٹ
فیملی سسٹم کے مثبت و منفی پہلو از بنت محمد جمیل، شفیع کا بھٹہ سیالکوٹ
خاندان معاشرے
کی بنیادی اکائی ہے۔عرب معاشرے میں اسلام کے ظہور سے پہلے کی بات کی جائے تو یہ
کہنا بیجا نہ ہوگا کہ وہاں ایک مربوط خاندانی نظام موجود تو تھا لیکن ہر قبیلہ
دوسرے سے برسرِ پیکار تھا اسلام آیا تو اللہ تعالی اور اس کے پیارے نبی حضرت محمد ﷺ
نے بہترین معاشرے کے لیے خاندانی نظام کو بہتر بنانے کیلئے اہم ہدایات دیں۔ اگر ہم
اس وقت کے عرب معاشرے پر نظر دوڑائیں تو معلوم ہوگا کہ نبی اکرم ﷺ اپنی پہلی زوجہ
محترمہ حضرت خدیجہ رضی اللہ عنہا کے ساتھ بہترین زندگی گزاری اور انکی وفات کے بعد
تمام ازواج مطہرات کے ساتھ مدینہ شریف میں جو زندگی گزاری وہ بھی بہترین تھی آپ ﷺ کی
عائلی زندگی کا ایک نہایت اہم پہلو یہ ہے کہ مدینہ شریف میں تمام ازواج مطہرات الگ
الگ حجروں میں قیام پذیر تھیں یعنی ہر ایک کی پرائیویسی کا خیال رکھا گیا۔ چاروں
خلفائے راشدین کی زندگی کا مطالعہ کرنے سے بھی یہی خوبصورت پہلو سامنے آتا ہے کہ
انکی بیویاں بھی ساس سسر سے الگ گھروں میں اپنے شوہر کے ساتھ رہیں۔اس سے پتہ چلتا
ہے کہ اسلام میں جوائنٹ فیملی کا کوئی تصور نہیں۔ جوائنٹ فیملی سسٹم برصغیر پاک و
ہند میں تھا یہ وہ خاندانی نظام ہے جو ہندوؤں یا سکھوں کے ساتھ رہتے ہوئے مسلمانوں
پر اثر انداز ہوا اور انہوں نے اسے اپنا لیا۔اب یہ سسٹم شروع تو ہو گیا لیکن اسکے
فوائد اور نقصانات کا جائزہ لینے ہیں۔
جوائنٹ
فیملی کے فوائد: جوائنٹ
فیملی سسٹم میں بچے اپنے دادا دادی چچا تایا پھوپھو وغیرہ کے ساتھ مل جل کر رہتے
ہیں تو انہیں ان رشتوں کی محبت کا احساس ہوتا ہے اور وہ بڑوں کا ادب واحترام
سیکھتے ہیں۔بڑوں کی باتوں کو صبر وتحمل سے برداشت کرنا سیکھتے ہیں۔اسکے ساتھ ساتھ
بچے صلہ رحمی سیکھتے ہیں۔ بچوں میں مل جل کر کام کرنے اور مل بانٹ کر کھانے کی
عادت پروان چڑھتی ہے۔
جوائنٹ
فیملی سسٹم کے نقصانات: جوائنٹ فیملی سسٹم میں بچے ایک دوسرے سے عموماً بد
ظن رہتے ہیں دادا دادی چچا تایا کی روک ٹوک کی وجہ سے عموماً چڑچڑے ہو جاتے ہیں
اور دوسرے بچوں کی شکایت لگا کر ہر معاملے میں قصور وار ہوتے ہوئے بھی بری الذمہ
ہو جاتے ہیں یا جھوٹ بولنے کے عادی ہو جاتے ہیں۔اگر ایک بچے کو مار یا ڈانٹ پڑی تو
باقی بچے اس پر ہنستے ہیں یعنی دوسروں کی تکلیف پر خوش ہوتے ہیں جو بہت بری عادت
ہے۔ عموماً خاندان کا ایک فرد کماؤ پوت ہوتا ہے اور باقی لوگ کم کما کر یا بالکل
فارغ بیٹھ کر ہر طرح کی عیاشیاں اور فضول خرچیاں کر رہے ہوتے ہیں۔یعنی کماؤ پوت تو
صلہ رحمی کرتے ہوئے سب کو پیسے دے لیکن فارغ بیٹھا شخص جب فضول خرچیوں سے باز نہیں
آتا تو گھر کا ماحول خراب ہوتا ہے۔بچے اپنے ہی والدین کے خلاف ہو جاتے ہیں اور
خاندانی نظام بالآخر دم توڑ دیتا ہے۔
لہٰذا بہتر
یہی ہے کہ بیٹے کی شادی کے بعد اپنے بیٹے اور بہو کو ایک دوسرے کے ساتھ بہترین وقت
گزارنے کا بھرپور موقع دیں انکی پرائیویسی کا خاص خیال رکھیں۔ خاندان کے باقی
افراد میاں بیوی کے معاملات میں مداخلت سے گریز کریں تاکہ بیٹے اور بہو والدین کی
صحیح معنوں میں عزت کریں اور ایک مفید معاشرے کا قیام عمل میں آئے۔
Dawateislami