جوائنٹ
فیملی سسٹم کے مثبت و منفی پہلو از بنت خالد حسین، گلبہار سیالکوٹ
ہمارے ہاں بہت
سے گھرانوں میں جوائنٹ فیملی سسٹم رائج ہے جس کے فیملی پر جہاں بہت مثبت اثرات
مرتب ہوتے ہیں وہیں پر بہت منفی اثرات بھی رونما ہوتے ہیں اکثر اوقات ہمیں فوائد
کے ساتھ ساتھ بہت سے نقصانات کا بھی سامنا کرنا پڑتا ہے پہلے ہم جوائنٹ فیملی سسٹم
کہ کچھ مثبت اثرات پر بات کریں گے پھر منفی اثرات پر۔
مثبت
اثرات: جوائن
فیملی سسٹم کے بہت سے مثبت اثرات بھی موجود ہیں جن میں سے چند کا ذکر ہم اپنی
تحریر میں قلم بند کریں گے جیسے کہ مالی بوجھ میں کمی، بچوں کی پرورش، ذمہ داریوں
میں آسانی، بزرگوں کی شفقت اور آپس میں اتفاق و محبت وغیرہ۔
مالی
بوجھ میں کمی: جوائنٹ
فیملیز میں مالی حالات کو منظم انداز میں برقرار رکھنا تنہا فیملی کی نسبت زیادہ
بہتر ہے جیسے بجلی کا بل، گیس کا بل گھر کے اخراجات، کھانے پینے کا ساز و سامان
اور دوسری چھوٹی موٹی اشیاء وغیرہ ان سب چیزوں کو اکیلے کی نسبت جب سب مل جل کر
کریں گے تو سب کے لیے آسانی ہو جائے گی کسی ایک پر سارے کا سارا بوجھ نہیں آئے گا
یوں گھر کا نظام بہترین انداز میں چل سکے گا۔
بچوں
کی پرورش: جوائنٹ
فیملی میں بچوں کی پرورش زیادہ اچھی طرح ہو سکتی ہے کیونکہ سب بچوں سے پیار کرتے
ہیں اور انہیں سنبھالنے میں اس کی والدہ کی بہت حد تک مدد کرتے ہیں کام کاج کرنے
میں بھی آسانی ہوتی ہے بچے کو کسی کے پاس کھیلنے کے لیے چھوڑ کر گھر کے باقی کام
کاج اچھی طرح انجام دے سکتی ہیں اور ایسے بچہ سب کے پیار کا حصہ بھی پا لیتا ہے
اور اپنے بزرگوں یعنی دادا، دادی، چچا، پھوپھی کے پیار و شفقت سے محروم بھی نہیں
رہتا۔
ذمہ
داریوں میں آسانی: جوائنٹ فیملیز میں بہت سی ذمہ داریاں بآسانی اور
بہت بہتر انداز میں ادا ہو جاتی ہیں گھر کے بزرگ سب میں کوئی نہ کوئی ذمہ داری
تقسیم کر دیتے ہیں اس طرح ہر کوئی اپنی اپنی ذمہ داری پوری کر لیتا ہے جیسے گھر کے
کام کاج، کھانا تیار کرنا، کپڑے دھونا، برتن دھونا وغیرہ۔
بزرگوں
کی شفقت: جوائنٹ
فیملی میں ہمیں ہر وقت اپنے بڑے بزرگوں کی شفقت پیار محبت نصیب ہوتا رہتا ہے
بزرگوں سے گھر میں بہت رونق ہوتی ہے اور ہمیں ان کے تجربات سے بھی بہت کچھ سیکھنے
کو ملتا ہے بزرگ اللہ پاک کی بہت بڑی نعمت ہے اللہ ہمیں ان کی قدر کرنے کی توفیق
عطا فرمائے۔ آمین
آپس
میں اتفاق و محبت: بے شک اتفاق میں ہی برکت ہے اور جوائنٹ فیملی میں
سب بھائیوں کا آپس میں صاف اور مخلص دلی کے ساتھ رہنے سے پیار محبت احترام اور
اتفاق میں برکت نصیب ہوتی ہے اور یہ سب سے زیادہ بہترین چیز ہے لیکن افسوس کہ ایسا
بہت ہی کم دیکھنے کو ملتا ہے۔
منفی
اثرات: جیسے
ہم نے جوائنٹ فیملی کے مثبت اثرات پر بحث کی ایسے ہی اس کے فیملی کے افراد پر بہت
منفی اثرات بھی مرتب ہوتے ہیں جیسے لڑائی جھگڑے، فتنہ فساد حسد تکبر، بچوں کے
درمیان لڑائی اور بڑوں کے اختلافات، بے پردگی وغیرہ وغیرہ۔
لڑائی
جھگڑے: جوائنٹ
فیملی میں فتنہ فساد اور لڑائی جھگڑے زیادہ عام ہوتے ہیں اس کی بڑی وجہ بے اتفاقی،
صبر و تحمل کا نہ ہونا،غصے کو کنٹرول نہ کرنا ہے۔
جب گھروں میں
رہنے والے افراد کے درمیان سے اتفاق ختم ہو جاتا ہے تو فسادات جنم لیتے ہیں اور
لڑائی جھگڑوں کی صورت اختیار کر لیتے ہیں اور غصے پر کنٹرول نہ کرنے صبر سے کام نہ
لینے کی وجہ سے لڑائی جھگڑے اس قدر بڑھ جاتے ہیں کہ طلاقیں واقع ہو جاتی ہیں گھروں
کا سکون تباہ و برباد ہو جاتا ہے۔
بعض اوقات تو
نند بھابھی دیورانی جیٹھانی کے درمیان جاہ و منصب کی ضد بھی اس لڑائی جھگڑوں کا
سبب بنتی ہے لہذا اپنی زبانوں کو زیادہ دراز نہ چھوڑا جائے اور اپنے الفاظ کا چناؤ
ہمیشہ ایسے کرو کہ بعد میں شرمندگی نہ اٹھانی پڑے۔
حسد
و تکبر: جوائن
فیملی میں حسد تکبر بغض و کینہ زیادہ پایا جاتا ہے پھر چاہے حسد کسی کے مقام کی
وجہ سے ہو، کام کی وجہ سے،ذہانت کی وجہ سے،کسی کی خوبصورتی کی وجہ سے، دوسروں سے
اس کے زیادہ قربت کی وجہ سے ہی کیوں نہ ہو یہ گناہ کبیرہ اور جہنم میں لے جانے
والا کام ہے۔
بچوں
کے درمیان لڑائی اور بڑوں کے اختلافات: جوائنٹ فیملیز میں اکثر بچے
کھیل کود کے دوران لڑ پڑتے ہیں ایسی صورتحال میں بڑوں کو بچوں کی ہلکی پھلکی لڑائی
میں مداخلت نہیں کرنی چاہیے بلکہ پیار سے ان کی تفہیم کرنی چاہیے اور ان کو بتانا
چاہیے کہ آپ سب بہن بھائی ہیں اور اتفاق پیار محبت سے رہیں مگر جب والدین بچوں کی
لڑائی میں مداخلت کرتے ہیں تب والدین کے درمیان اختلافات پیدا ہو جاتے ہیں اور بعد
میں یہی لڑائی جھگڑوں کا سبب بھی بن جاتے ہیں۔
بے
پردگی: جوائنٹ
فیملی میں زیادہ تر پردے کی طرف اتنا دھیان نہیں دیا جاتا جو بہت ہی نامناسب کام
ہے جیسے کزن (لڑکیاں) اور کزن (لڑکے) ایک دوسرے سے پردہ نہیں کرتے جب کہ دونوں ایک
دوسرے کے لیے نامحرم ہیں اسی طرح نہ بھابھی دیور نہ بہنوئی سے پردہ کرتی ہے، بے
پردگی بہت سی برائیوں کو جنم دیتی ہے جیسے بدنگاہی، ملنا جلنا، ہاتھوں پہ ہاتھ
مارنا، غلط خیالات کا انا وغیرہ وغیرہ۔
اور بھی بہت
سارے منفی اثرات ہیں مگر ادھر چند کا ذکر ہی ہوا ہے۔
اہم
نوٹ: فیملی
چاہے جوائنٹ ہو یا اکیلی ہمارا اخلاق ہی ہمارا کردار نمایاں کرتا ہے، آپ چاہیں تو
جوائنٹ فیملی میں ہو یا الگ گھر میں اپنے والدین کے ساتھ ہمیشہ حسن سلوک کا معاملہ
کریں کہیں ایسا نہ ہو کہ والدین سب کے گھر بناتے رہیں اور آخر میں ان کا کوئی گھر
ہی نہ ہو۔
اللہ سے دعا
ہے کہ ہم سب کے گھروں کو امن و سکون کا گہوارہ بنائے اور ایک دوسرے کے درمیان پیار
محبت اخلاص احترام نصیب فرمائے۔ آمین
Dawateislami