ہمارے ہاں بہت سے گھرانوں میں مشترکہ خاندانی نظام رائج ہے، جہاں اس نظام کے بہت سے فوائد ہیں وہیں کچھ ضمنی اثرات بھی ہیں جو حقیقتاً تو معمولی حیثیت رکھتے ہیں لیکن بعض اوقات ہمارے ردِّ عمل کی وجہ سے بڑے اثرات کے حامل قرار پاتے ہیں۔

فائدے:

باہمی تعاون اور کفالت: خاندان کے تمام افراد مل کر معاشی بوجھ اٹھاتے ہیں، جس سے کم کمانے والے افراد کی بھی باعزت کفالت ہو جاتی ہے۔

بچوں کی تربیت: بچے اکیلے پن کا شکار نہیں ہوتے۔ انہیں چچا، تایا، اور پھوپھو کی صورت میں بڑوں کی شفقت اور نگرانی میسر رہتی ہے۔

بزرگوں کی خدمت: گھر کے بزرگوں کو تنہائی کا احساس نہیں ہوتا اور اولاد کو ان کی خدمت کرکے دعائیں سمیٹنے کا بھرپور موقع ملتا ہے۔

اسلامی اقدار کا فروغ: بڑوں کا ادب اور چھوٹوں سے شفقت کا ماحول قائم رہتا ہے، اور گھر میں دینی محافل (جیسے ہفتہ وار اجتماع یا نیکی کی دعوت) کا انعقاد آسان ہو جاتا ہے۔

مشکل وقت میں ڈھال: بیماری یا کسی بھی ناگہانی مصیبت کے وقت پورا خاندان ایک دوسرے کے شانہ بشانہ کھڑا ہوتا ہے۔

مُشترکہ خاندانی نظام میں رہتے ہوئے بعض اوقات ایسا بھی ہوتاہےکہ بچّےکبھی کھیل ہی کھیل میں تو کبھی واقعی لڑائی جھگڑے میں ایک دوسرے کو پِیٹ ڈالتے یا چوٹ پہنچا دیتے ہیں۔ ایسے میں والدین کو صبر و تحمُّل کے ساتھ ساتھ عقلمندی کا مظاہرہ کرنا چاہئے اور اس بات کو ہمیشہ پیشِ نظر رکھنا چاہئے کہ بچّوں کے آپس کے مسائل ہمیشہ کیلئے نہیں بلکہ بسا اوقات چند لمحوں کیلئے ہوتے ہیں ایسے میں والدین دخل اندازی نہ کریں تو وہی بچّے پھر سے اکٹھے کھیل رہے ہوں گے جبکہ اس کے بَرعکس رویّہ اپنانا خود اُن کے اور بچّوں کے لئے بھی نقصان دہ ہوگا کیونکہ آپ چیزوں کو جتنا بڑا بناتے جائیں گے وہ اتنی بڑی بنتی جائیں گی۔ جوائنٹ فیملی سسٹم میں اگر درج ذیل باتیں مدنظر رکھی جائیں تو یہ نظام بہت فائدہ مند ہوگا:

1۔ گھر میں سبھی بچّوں کی تربیت اس اندازسے جائے کہ سبھی پیار محبت اور اتفاق کے ساتھ رہیں۔ بِالخصوص بڑے بچّوں کو یہ تربیت دینی چاہئے کہ وہ چھوٹے بہن بھائی اورکزنز (چچازاد، تایازاد بہن بھائی وغیرہ)کا خیال رکھیں آپس میں کھیلتے ہوئےکسی ایک کو دوسرے کے ساتھ بُرا سلوک نہ کرنے دیں۔

2۔ بچّوں کی آپسی مار پیٹ میں اگر صورتِ حال زیادہ خراب نہ ہوتو والدین کو نظر انداز کرنا چاہئے، کیونکہ اس لڑائی پر آپ کی طرف سے دیا جانے والا ردِّ عمل ہی بچّوں کا اگلا لائحۂ عمل طے کرے گا وہ آپ سے سیکھتے ہیں آپ ہی اگر چھوٹی سی بات کو جنگ میں بدل دیں گے تو بچّے بھی اگلی بار وہی کریں گے کیونکہ دیکھنے میں یہی آتا ہے کہ بچّے شروع شروع میں واقعی صلح کر لیتے ہیں لیکن والدین کے ایسے مستقل رویّہ کو دیکھ کر وہ بھی آپس میں نفرتیں پال لیتے ہیں۔

3۔ والدین کو خود کے ساتھ ساتھ بچّوں کا بھی یہی ذہن بنانا چاہئے کہ ہم سب اکٹھے ہیں تو ایک ہی فیملی ہیں لہٰذا جیسے بھائی بھائی میں لڑائی کو بڑا مسئلہ نہیں بنایا جاتا ایسے ہی کزنز میں بھی یہی رویّہ رکھا جائے۔

4۔ ضرورتاً بچّوں کے جھگڑے میں دخل اندازی کرنی ہی پڑ جائے تو والدین کو فریق بننے کے بجائے بڑے پَن کا مظاہرہ کرنا چاہئے اور کسی بھی بچّے کو خصوصی اہمیت دیئے بغیر سب کی بات سُنی جائے اور حسبِ ضرورت تفہیم اور نرمی سے سمجھانے کا سلسلہ کیا جائے۔

یقیناً اخلاقی تربیت کیلئے ڈانٹ ڈپٹ اسے کی جاتی ہے جو اپنا ہو لہٰذا اپنے بھتیجے وغیرہ کوسمجھانے کیلئے ڈانٹنے میں کوئی حرج نہیں لیکن اگر کسی فساد کا اندیشہ ہو تو اس سے بچا جائے۔

5۔ بعض اوقات بچّوں کی لڑائی کا سبب ہم خود بن رہے ہوتے ہیں کہ بچّوں کے درمیان ان کی ذہنی صلاحیت یا جنس کی بنیادپر فرق رکھتے ہوئے کسی ایک کو چہیتا اور لاڈلا بنائے رکھتے ہیں اور دوسرے سے بے رُخی برتتے ہیں، ایسے میں نظر انداز ہونے والا بچّہ ہمارے اس رویے کا بدلہ دوسرے بچّوں سے لیتا ہے۔

6۔ یونہی بعض اوقات کوئی ایک بچّہ ہمارا لاڈلا ہونے کا غلط فائدہ بھی اٹھاتا ہے لہٰذا بچّوں کو ابتداء ہی لڑائی سے بچانے کے لئے ہمیں اپنے رویّہ پر بھی نظرِ ثانی کرتے رہنا چاہئے۔

7۔ والدین کو اس طرف بھی توجّہ دینی چاہئے کہ میڈیا وغیرہ نے بچّوں کی اکثریت کو بہت چالاک اور ہوشیار بنا دیا ہے، وہ زمانے چلے گئے جب کہا جاتا تھا کہ بچّے من کے سچّے ، لہٰذا صرف ان کے کہنے پر کوئی قدم نہ اٹھایا جائے بلکہ خود بھی دیکھ بھال لیا جائے کہ واقعی کچھ ہوا بھی ہے یا سارے بچّے مل کر کسی ایک کے خلاف مورچہ بنائے ہوئے ہیں اور کوئی جھوٹی کہانی گھڑ رہے ہیں!

جوائنٹ فیملی اور پرده: مشترکہ خاندانی نظام اور جوائنٹ فیملی سسٹم میں رہنا یا نہ رہنا یہ گھریلو انتظامی نوعیت کا مسئلہ ہے، اگر سب مل کر باہمی رضامندی سے ایک ساتھ رہنا چاہیں تو پردہ کے ساتھ رہ سکتے ہیں، اس طرح ساتھ رہنے میں کوئی حرج نہیں ہے۔

البتہ مشترکہ خاندانی نظام میں جب غیر محرموں کا آمنا سامنا رہتا ہو تو عورت پر لازم ہے کہ وہ اپنے آپ کو بڑی چادر سے چھپائے رکھے، مستقل چہرہ پر نقاب ڈال کر رکھنا ضروری نہیں ہے، البتہ گھریلو امور انجام دیتے ہوئے بڑی چادر لے کر اس کا گھونگھٹ بنالیا جائے؛ تاکہ چہرے پر غیر محرم کی نگاہ نہ پڑے، بلا ضرورت غیر محرم (دیور، جیٹھ، چچا زاد، ماموں زاد وغیرہ) سے بات چیت نہ کی جائے، اگر کبھی کوئی ضروری بات یا کام ہو تو آواز میں لچک پیدا کیے بغیر سختی کے ساتھ پردہ میں رہ کر ضرورت کی حد تک بات کی جائے۔

بےضرورت اختلاط یا ہنسی مذاق کرنے کی تو اجازت ہی نہیں، کبھی سارے گھر والے اکٹھے کھانے پر یا ویسے بھی بیٹھے ہوں تو خواتین پردہ کے ساتھ ایک طرف اور مرد ایک طرف رہیں، تاکہ اختلاط نہ ہو۔ گھر کے نامحرم افراد پر بھی لازم ہے کہ وہ بھی اس کا اہتمام کریں کہ گھر میں داخل ہوتے وقت بغیر اطلاع کے نہ داخل ہوں، بلکہ بتا کر یا کم ازکم کھنکار کر داخل ہوں، تاکہ کسی قسم کی بے پردگی نادانستگی میں بھی نہ ہو۔

لہذا جوائنٹ فیملی میں رہتے ہوئے ہمیں سبھی امور کا خیال رکھنا چاہئے تاکہ زندگی سکون کے ساتھ گزرے اور کسی کے حقوق کی حق تلفی نہ ہو۔