حضور کی
مجاہدین صحابہ سے محبت از بنت محمد ارشد، جامعۃ المدینہ پاکپورہ سیالکوٹ
حضورِ اکرم ﷺ
کی حیاتِ مبارکہ کا ہر پہلو انسانیت کے لیے رہنمائی اور محبت کا شاہکار ہے۔ آپ ﷺ
نے جہاں عام انسانوں، یتیموں اور کمزوروں پر شفقت فرمائی، وہاں دینِ اسلام کی
حفاظت اور سربلندی کے لیے اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کرنے والے مجاہدین سے بھی بے
پناہ محبت اور خصوصی شفقت کا اظہار فرمایا۔ حضور ﷺ مجاہدین کی نہ صرف حوصلہ افزائی
فرماتے، بلکہ ان کے جذبے کو سراہتے اور ان کے اہل و عیال (خاندان) کا خیال رکھنے
کی بھی سخت تاکید فرماتے تھے۔ آپ ﷺ کی ان سے محبت کا سب سے بڑا ثبوت یہ ہے کہ آپ ﷺ
نے کئی مواقع پر خود میدانِ جنگ میں ان کی قیادت فرمائی چنانچہ:
1۔
جنگِ بدر کے موقع پر مجاہدین کے لیے دعا: حضور علیہ الصلوۃ والسلام چھپر
تلے تشریف لے گئے اور مصروفِ دعا ہو گئے۔ کبھی عجز و انکسار کی تصویر بن کر دعائیں
کرتے اور کبھی ناز بھرے انداز میں فتح یابی کی دعائیں مانگتے، کبھی نیاز بھرے
انداز میں رب کی رحمت طلب کرتے اور کبھی سجدہ کناں ہو کر اسمائے حسنیٰ کی تکرار
کرتے۔ یہ سجدے اور ان میں کی گئی دعائیں، یہ اشک باریاں اور ناز و نیاز کی سر
گوشیاں دیر تک جاری رہیں، ان میں آپ ایسے محو ہوئے کہ مبارک چادر شانوں سے ڈھلک
گئی مگر آپ کے معمول میں کوئی فرق نہ آیا۔ حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ یہ منظر
دیکھ کر تڑپ اٹھے، آگے بڑھے، چادر مبارک شانوں پر درست کی، پشت انور سے چمٹ گئے
اور نہایت غمگسارانہ انداز میں عرض کرنے لگے: یانبی اللهﷺ! آپ کو اپنے پروردگار سے
اتنی ہی درخواست کافی ہے، اللہ پاک تمام وعدے پورے فرمائے گا، فتح عطا فرما کر آپ کے
چہرے کو اور روشن فرمائے گا۔ آپ کی دعائیں رنگ لائیں، رب کی مدد بھی شامل حال رہی،
پانچ ہزار فرشتے زرد اور سفید رنگ کے عمامے باندھے شریک ہوئے اور فتح نصیب ہوئی۔
2۔مجاہدین
کے لیے دعا اور رشک کا اظہار:حضورِ اکرم ﷺ کو مجاہدین کے اس جذبے سے
اتنی محبت تھی کہ آپ ﷺ نے خود اس راستے میں بار بار جان پیش کرنے کی خواہش کا
اظہار فرمایا۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے!
میری یہ خواہش ہے کہ میں اللہ کی راہ میں شہید کیا جاؤں، پھر زندہ کیا جاؤں، پھر
شہید کیا جاؤں، پھر زندہ کیا جاؤں اور پھر شہید کیا جاؤں۔ (ابن ماجہ،3/335، حدیث:
2753)
3۔
مجاہدین کے گھر والوں کی دیکھ بھال کرنے والے کے لیے خوشخبری: آپ ﷺ
نے فرمایا: جس نے اللہ کی راہ میں جہاد کرنے والے کا سامان تیار کیا (یا اس کی
مالی مدد کی) تو یقیناً اس نے بھی جہاد کیا، اور جس نے کسی مجاہد کے پیچھے اس کے
گھر والوں کی بھلائی کے ساتھ دیکھ بھال کی، تو یقیناً اس نے بھی جہاد کیا۔ (بخاری،
2/267، حدیث: 2843)
4۔
مجاہد کی ایک رات کی پہرے داری کی فضیلت: اسلامی سرحدوں کی حفاظت کرنے
والے مجاہدین کی محبت میں آپ ﷺ نے ان کی راتوں کے جاگنے کو جہنم کی آگ سے نجات کا
ذریعہ بتایا۔
حدیثِ مبارکہ:
حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے ہوئے
سنا: دو آنکھیں ایسی ہیں جنہیں (جہنم کی) آگ نہیں چھوئے گی: ایک وہ آنکھ جو اللہ
کے خوف سے رو پڑی، اور ایک وہ آنکھ جس نے اللہ کی راہ میں (سرحد پر) پہرہ دیتے
ہوئے رات گزاری۔ (ترمذی، 3/239،حدیث:1645)
5۔
اللہ کی راہ میں نکلنے والے کا مقام: حضور ﷺ نے مجاہدین کی ہر چھوٹی بڑی
کوشش کو دنیا کی تمام نعمتوں سے افضل قرار دیا۔ آپ ﷺ نے فرمایا: اللہ کی راہ میں
ایک صبح یا ایک شام گزارنا، دنیا اور جو کچھ اس میں ہے، ان سب سے بہتر ہے۔ (بخاری،
2/251، حدیث: 2792)
یہ احادیثِ
مبارکہ اس بات کا منہ بولتا ثبوت ہیں کہ حضور ﷺ کے دل میں ان لوگوں کے لیے کتنا
اعلیٰ مقام اور محبت تھی جو اپنا گھر بار چھوڑ کر دین کی سر بلندی کے لیے نکلتے
تھے۔ آپ ﷺ نے نہ صرف ان کی حوصلہ افزائی فرمائی بلکہ امت کو بھی ان کے حقوق اور
احترام کی تاکید کی ہے۔
Dawateislami