مجاہد صحابہ کرام رضی اللہ عنہم وہ ہستیاں تھیں جنہوں نے دین کے لیے اپنی جان، مال، گھربار سب کچھ قربان کر دیا۔ رسول اللہ ﷺ کو ایسے جانبازوں سے بے پناہ محبت تھی۔ آج ہم اسی محبت کی ایک جھلک سنتی ہیں۔

ایک صحابی حضرت سعد رضی اللہ عنہ تھے، رنگ کالا تھا، ایک دن بارگاہِ رسالت میں حاضر ہو کر عرض کیا: یا رسول اللہ ﷺ! کیا میرے کالے رنگ کی وجہ سے مجھے جنت میں جانے سے روک دیا جائے گا؟ آپ ﷺ نے فرمایا: کیا تم اللہ اور رسول پر ایمان رکھتے ہو؟ عرض کیا: جی ہاں! میں 8 ماہ پہلے ہی مسلمان ہوا ہوں، فرمایا: خدا کی قسم! پھر تمہارا رنگ تمہیں جنت سے نہیں روکے گا۔ پھر عرض کیا: یا رسول اللہ ﷺ! جب بات ایسی ہے تو پھر مجھے کوئی رشتہ کیوں نہیں دیتا؟ آپ ﷺ نے فرمایا: تم فلاں صحابی کے ہاں جاؤ اور کہو کہ اللہ کے رسول ﷺ نے تمہاری بیٹی کا نکاح مجھ سے کر دیا ہے۔

وہ صحابی فوراً راضی ہو گئے اور نکاح کر دیا۔ آپ ﷺ نے حضرت سعد رضی اللہ عنہ کے لیے گھر کا سامان بھی خریدوایا۔ شادی کے فوراً بعد جہاد کا اعلان ہوا، حضرت سعد سب چھوڑ کر میدان میں پہنچ گئے اور بہادری سے لڑتے ہوئے شہید ہو گئے۔ جب آپ ﷺ کو خبر ملی تو خود تشریف لے گئے، ان کا سر اپنی گود میں رکھا، چہرہ صاف کیا اور فرمایا: اے سعد! تمہاری خوشبو کتنی پیاری ہے، تم اللہ و رسول کے کتنے پیارے ہو۔

اللہ اکبر! کیسا نرالا نصیب ہے۔ زمانہ جن کو دیکھنے کے لیے ترستا ہے وہ اپنے غلاموں پر کیسی شفقت فرما رہے ہیں۔ اللہ بھی جہاد کرنے والوں سے بہت محبت فرماتا ہے۔

فَالَّذِیْنَ هَاجَرُوْا وَ اُخْرِجُوْا مِنْ دِیَارِهِمْ وَ اُوْذُوْا فِیْ سَبِیْلِیْ وَ قٰتَلُوْا وَ قُتِلُوْا لَاُكَفِّرَنَّ عَنْهُمْ سَیِّاٰتِهِمْ وَ لَاُدْخِلَنَّهُمْ جَنّٰتٍ تَجْرِیْ مِنْ تَحْتِهَا الْاَنْهٰرُۚ-ثَوَابًا مِّنْ عِنْدِ اللّٰهِؕ-وَ اللّٰهُ عِنْدَهٗ حُسْنُ الثَّوَابِ(۱۹۵) (پ 4، آل عمران: 195) ترجمہ کنز العرفان: پس جنہوں نے ہجرت کی اور اپنے گھروں سے نکالے گئے اور میری راہ میں انہیں ستایا گیا اور انہوں نے جہاد کیا اور قتل کر دیے گئے تو میں ضرور ان کے سب گناہ ان سے مٹا دوں گا اور ضرور انہیں ایسے باغات میں داخل کروں گا جن کے نیچے نہریں جاری ہیں۔ یہ اللہ کی بارگاہ سے اجر ہے اور اللہ ہی کے پاس اچھا ثواب ہے۔

پیاری بہنو! اس واقعے سے ہمیں سبق ملتا ہے کہ صحابہ کرام نے اپنی خواہشات کو دین پر قربان کر دیا اس لیے اللہ نے انہیں دنیا و آخرت کی کامیابی عطا فرمائی۔ ہمیں بھی چاہیے کہ ہم اپنی زندگی دین کے مطابق گزاریں، نماز کی پابندی کریں، پردے کا اہتمام کریں اور دین کی خدمت کے لیے ہر وقت تیار رہیں۔ اگر ہم سچے دل سے اللہ اور رسول ﷺ سے محبت کریں گے تو ان شاء اللہ ہمیں بھی جنت کا بہترین اجر ملے گا۔

اللہ ہمیں بھی صحابہ جیسا ایمان اور قربانی کا جذبہ عطا فرمائے۔