مجاہدین صحابہ سے مراد وہ جلیل القدر صحابہ کرام علیہم الرضوان ہیں جنہوں نے دین اسلام کی سربلندی کی خاطر اپنی جان ومال کے ساتھ اللہ پاک کی راہ میں جہاد کیا نبی کریم ﷺ مجاہدین صحابہ کرام علیہم الرضوان سے بہت محبت فرماتے تھے نبی کریم ﷺ کی مجاہدین صحابہ کرام سے محبت کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ نبی پاک ﷺ مجاہدین صحابہ کرام کا ادب واحترام فرماتے،ان کی دلجوئی فرماتے اور ان سے مشورہ فرماتے تھے،زخمی صحابہ کرام علیہم الرضوان کی عیادت کو جایا کرتے اور ان کا خاص خیال رکھتے،مجاہدین صحابہ کرام علیہم الرضوان جب جہاد کے لیے نکلتے تو ان کے پیچھے ان کے گھروں کو جایا کرتے اور ان کے گھر والوں کی ضروریات کا خاص خیال رکھتے اور ان کے لئے عزت و احترام کا اظہار فرماتے۔

تاریخ اسلام میں حضور کی مجاہدین صحابہ کرام سے محبت کے کئی واقعات ملتے ہیں چنانچہ اسی طرح کا ایک واقعہ غزوہ بدر ہےغزوہ بدر کے موقع پر آپ ﷺ کے پاس جنگی وسائل کم تھے آپ ﷺ کے پاس صرف ستر اونٹ،دو گھوڑے اور تین سو آٹھ مجاہدین تھے تین تین مجاہدین کے لئے ایک ایک اونٹ تھا چنانچہ حضور ﷺ،حضرت علی رضی اللہ عنہ اور حضرت مرثد غنوی رضی اللہ عنہ کو ایک اونٹ پر باری باری سوار ہونا تھا جب نبی کریم ﷺ کے اترنے کی باری آتی تو دونوں مجاہدین عرض کرتے یارسول اللہ ﷺ آپ سوار رہیں ہم پیدل چل لیں گے تو آپ ﷺ فرماتے کہ تم مجھ سے زیادہ قوی نہیں ہو اور میں تمہاری نسبت اجر و ثواب سے زیادہ بے نیاز نہیں ہوں۔ (سیرت رسول عربی، ص 126)

اس واقعے سے یہ صاف صاف جھلک رہا ہے کہ نبی کریم ﷺ مجاہدین صحابہ سے کس قدر محبت فرماتے تھے کہ ان کے ساتھ ساتھ خود بھی پیدل چلنے کی مشقت کو برداشت کیا اور اپنے صحابہ کرام سے برابری کا معاملہ فرمایا ان کو زیادہ مشقت اٹھانے نہیں دی، نبی کریم ﷺ مجاہدین صحابہ سے اس قدر محبت فرماتے تھے کہ کہ آپ نے مجاھدین صحابہ کرام کو امت کے بہترین لوگ قرار دیا نبی کریم ﷺ نہ صرف خود مجاہدین صحابہ سے محبت فرماتے،ان کے لیے آسانیاں فرماتے بلکہ اپنے اصحاب کو بھی ان سے محبت کرنے،ان کے لیے جنگی ساز و سامان کی تیاری کرنے اوران کے اہل و عیال کی نگہبانی کرنے کا حکم ارشاد فرماتے نبی کریم ﷺ مجاہدین کی محبت میں جہاد کرنے والوں کو جہاد نہ کرنے والوں کے برابر درجہ نہ دیتے تھے چنانچہ حضرت براء بن عازب رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا کہ کوئی ہڈی یا تختی وغیرہ لاؤ پھر آپ ﷺ نے حکم دیا کہ اس پرلکھا جائے کہ جہاد میں شریک نہ ہونے والے اور جہاد کرنے والے برابر نہیں ہوسکتے۔

اس حدیث پاک میں نبی کریم ﷺ اللہ کی راہ میں جہاد کرنے والوں کی قربانیوں اور جذبوں کو سراہتے ہوئے فرما رہے ہیں کہ جہاد کرنے والے اور جہاد نہ کرنے والے برابر نہیں ہوسکتے۔

آخر میں اللہ رب العزت سے یہ دعا ہے ہمیں نبی کریم ﷺ کی سنت پر عمل کرتے ہوئے مجاہدین صحابہ کرام سے محبت کرنے اور اپنے نفس کے ساتھ جہاد کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔