حضور
کی مجاہدین صحابہ سے محبت از بنت خالد،فیضان ام عطار گلبہار سیالکوٹ
مجاہد کسے
کہتے ہیں؟ مجاهد (عربی لفظ جہد سے مشتق) اس شخص کو کہا جاتا ہے جو اللہ کی رضا کے
لیے،حق کی سربلندی یا مظلومین کی مدد کے لیے اپنی جان و مال کی قربانی دے کر
جدوجہد یا کوشش کرتا ہے۔ اصطلاحی طور پر مجاہد اس اسلامی جنگجو یا سپاہی کو کہتے
ہیں جو اسلام اور مسلمان کے دفاع کی خاطر میدان جنگ میں برسر پیکار ہو۔
اللہ کی راہ
میں جہاد کرنے والوں کا مقام انتہائی بلند اور عظیم ہے مجاہدین وہ لوگ ہیں جو حق
کی سربلندی مظلوموں کی مدد اور دین اسلام کے دفاع کے لیے اپنی جان و مال کی قربانی
دیتے ہیں۔
اللہ تعالی نے
مجاہدین کا درجہ گھر بیٹھنے والوں سے بہت بلند رکھا ہے، ارشاد باری تعالی ہے: فَضَّلَ اللّٰهُ
الْمُجٰهِدِیْنَ بِاَمْوَالِهِمْ وَ اَنْفُسِهِمْ عَلَى الْقٰعِدِیْنَ دَرَجَةًؕ- (پ 5،
النساء: 95) ترجمہ: اللہ نے بیٹھنے والوں پر جہاد کرنے والوں کو مال اور جان کے
ساتھ بہت بڑا درجہ دیا ہے۔
احادیث
مبارکہ:
تمام
نیکیوں کا خلاصہ: حضرت
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک شخص نے رسول اللہ ﷺ سے پوچھا: مجھے کوئی
ایسا عمل بتائیے جو جہاد کے برابر ثواب دے آپ نے فرمایا: تم میں اس کی طاقت نہیں
ہے۔ اس شخص نے دوبارہ عرض کیا،پھر تیسری بار بھی،آپ نے فرمایا: مجاہد کی مثال اس
شخص جیسی ہے جو دن رات روزے رکھتا ہو، عبادت میں کھڑا رہتا ہو اور اللہ کی آیات کی
پابندی کرتا ہو،یہاں تک کہ مجاہد جہاد سے واپس لوٹ آئے۔(مسلم، ص 804، حدیث: 4869)
صحابہ کرام کے
جہاد کے جذبہ اور میدان جنگ میں ان کی ثابت قدمیوں کو اللہ تعالی نے قرآن مجید میں
یوں سراہا ہے: مُحَمَّدٌ رَّسُوْلُ
اللّٰهِؕ-وَ الَّذِیْنَ مَعَهٗۤ اَشِدَّآءُ عَلَى الْكُفَّارِ رُحَمَآءُ
بَیْنَهُمْ تَرٰىهُمْ رُكَّعًا سُجَّدًا یَّبْتَغُوْنَ فَضْلًا مِّنَ اللّٰهِ وَ
رِضْوَانًا٘-سِیْمَاهُمْ فِیْ وُجُوْهِهِمْ مِّنْ اَثَرِ السُّجُوْدِؕ- (پ 26،
الفتح: 29) ترجمہ کنز العرفان: محمد اللہ کے رسول ہیں اور ان کے ساتھ والے کافروں
پر سخت اور آپس میں نرم دل ہیں،تو انہیں رکوع کرتے ہوئے،سجدے کرتے ہوئے دیکھے
گا،اللہ کا فضل و رضا چاہتے ہیں ان کی علامت ان کے چہروں میں سجدے کے نشان سے ہے۔
صحابہ کرام کی
شان اور مقام کے حوالے سے آپ ﷺ نے فرمایا: میرے صحابہ کو برا مت کہو،میرے صحابہ کو
برا مت کہو! قسم اس ذات کی جس کے ہاتھ میں میری جان ہے، اگر تم میں سے کوئی شخص
احد پہاڑ جتنا سونا بھی اللہ کی راہ میں خرچ کر دے،تو وہ ان کے ایک مد (تقریبا آدھا
کلو) یا آدھے مد صدقہ کے برابر بھی نہیں پہنچ سکتا۔ (بخاری، 2/ 522، حدیث: 3673)
جہاد
اور مجاہدین کا درجہ: حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ
رسول اللہ ﷺ سے پوچھا گیا: سب سے بہترین لوگ کون ہیں؟ آپ ﷺ نے فرمایا: وہ مومن جو
اللہ کی راہ میں اپنی جان اور مال سے جہاد کرتا ہے۔
Dawateislami