جوائنٹ
فیملی سسٹم کے مثبت و منفی پہلو از بنت جواد، تلواڑہ مغلاں سیالکوٹ
جوائن فیملی
میں دادا دادی چچا تایا بہن بھائی والدین سب ایک گھر میں رہتے ہیں یہ پاکستان میں
نظام آج بھی عام ہے۔
مثبت
پہلو: بچوں
کی تربیت دادا دادی کی دعائیں اور کہانیاں اور بچے اقتدار سیکھتے ہیں۔ گھر میں
کمانے والا ایک نہیں ہوتا بلکہ تین چار لوگ ہوتے ہیں جو مل کر کماتے ہیں گھر کا
خرچہ مل کر چلتا ہے۔ بچوں کی دیکھ بھال اگر امی جاب پر ہوں تو خالہ یا پھپو بچوں
کو سنبھا لیتی ہیں آیا کا خرچہ نہیں ہوتا۔ کھانا پکانے کی ذمہ داری ایک عورت پر
نہیں ہوتی بالکل سب مل کر یہ ذمہ داریاں ادا کرتے ہیں۔ بچے ادب سیکھتے ہیں عید اور
شادیوں میں رونق ہوتی ہے ایک بندے کے پیسے سے 20 لوگ خوش ہوتے ہیں، برتن کپڑے سب
چیزیں شیئر ہوتی ہیں خرچہ کم۔ حدیث پاک میں ہے جو اللہ اور آخرت پر ایمان رکھتا ہے
وہ رشتے جوڑے۔
منفی
پہلو: چھوٹے
سے فیصلے کے لیے بھی 10 لوگوں کی رائے چاہیے ہوتی ہے۔ سب سے بڑا مسئلہ چھوٹی سی
بات بھی طوفان بن جاتی ہے اس سے چیز ملی مجھے کیوں نہیں ملی۔ ایک کمانے والا دس
کھانے والے بجٹ نہیں بنتا۔ اکیلے رہ کر بزنس کرنا مشکل۔ ذہنی ٹینشن: اتنی دیر سے
کیوں آئے؟ یہ کیوں پہنا وغیرہ وغیرہ۔ انسان گھٹن محسوس کرتا ہے۔
فرمان باری
تعالیٰ ہے: وَّ كُلُوْا وَ
اشْرَبُوْا وَ لَا تُسْرِفُوْا ۚ- (پ 8، الاعراف:
31) ترجمہ: اور کھاؤ پیو اور حد سے نہ گزرو۔ یہ آیت ہمیں گھر کے اخراجات اور زندگی
میں میانہ روی سکھاتی ہے جو بہت ضروری ہے۔
حدیث پاک ہے: مسلمان
مسلمان کا بھائی ہے نہ اس پر ظلم کرے نہ اس سے بےیار و مددگار چھوڑے۔ (مسلم، ص 1386، حدیث: 2564) اس میں جوڑنے کا
حکم دیا گیا ہے اگر ذہنی اذیت ہو تو الگ ہونا جائز ہے۔ فرمان مصطفیٰ ﷺ: نرمی جس
چیز میں ہو اسے خوبصورت بنا دیتی ہے۔ (مسلم، ص 1398، حدیث: 2594)
اللہ پاک ہمیں
رشتے نبھانے اور عزت کے ساتھ رہنے کی توفیق دے۔ آمین
Dawateislami