جوائنٹ
فیملی سسٹم کے مثبت و منفی پہلو از بنت ایاز خان، گلبہار سیالکوٹ
جوائنٹ فیملی
سسٹم سے مراد خاندان کے تمام افراد کا ایک ہی گھر میں ایک ہی چھت کے نیچے مل جل کر
زندگی گزارنا ہے جوائنٹ فیملی سسٹم کے جہاں بہت سے مثبت پہلو ہیں وہی اس کے منفی
پہلوؤں سے بھی انکار نہیں کیا جا سکتا۔
جوائنٹ
فیملی سسٹم کے مثبت پہلو: جوائنٹ فیملی سسٹم سے رشتوں کی
اہمیت،قدر ومنزلت اور محبت بڑھتی ہے ماں باپ،بہن بھائیوں،دادا دادی،چچا چچی،تایا
تائی وغیرہ رشتوں کی محبت اور ان کی شفقت ملتی ہے خوشی اور غم کے موقع پر ایک
دوسرے کا سہارا بنتے ہیں بچوں کی تربیت میں بزرگ حضرات اہم کردار ادا کرتے ہیں بچہ
اپنے بڑوں کے تجربات سے بہت کچھ سیکھتا ہے جو اس کے مستقبل کے لیے بہت فائدہ مند
ثابت ہو سکتا ہے اس کے برعکس انفرادی خاندانوں کے بچوں کی تربیت اس طرح احسن انداز
سے نہیں ہو پاتی کیونکہ ماں باپ اپنے کاموں میں مصروف نظر آتے ہیں اپنے بچوں کی
تربیت پر خاص توجہ نہیں دیتے انہیں سکول اور اساتذہ کے حوالے کر دیتے ہیں حالانکہ
بچے کی اولین درسگاہ گھر ہے۔
اسی طرح
جوائنٹ فیملی سسٹم میں بیمار اور ضعیف افراد کی دیکھ بھال اچھے طریقے سے ہوجاتی ہے
بزرگ افراد بچوں کے ساتھ وقت گزار کر تنہائی کا شکار نہیں ہوتے اور وہ بچے جن کے
ماں باپ کام کاج وغیرہ کرتے ہیں انہیں بھی خصوصی توجہ مل جاتی ہے اور وہ احساس
کمتری کا شکار نہیں ہوتے جوائنٹ فیملی سسٹم میں بچوں کی حوصلہ افزائی کی جاتی ہے
انہیں یہ احساس دلایا جاتا ہے کہ ہم آپ کے ساتھ ہیں اس کے برعکس انفرادی خاندانوں
کے بچے والدین کی طرف سے وقت نہ ملنے کی وجہ سے احساس کمتری کا شکار نظر آتے ہیں
اور یہ احساس کمتری بعض اوقات ڈپریشن کی صورت اختیار کر لیتی ہے،جوائنٹ فیملی سسٹم
سے اخراجات تقسیم کرنے میں آسانی ہوجاتی ہے اور ایک ہی فرد پر زیادہ بوجھ نہیں
پڑتا گھر کے وہ افراد جو معاشی طور پر کمزور ہو ان کے اخراجات بھی آسانی سے پورے
ہو جاتے ہیں،عورتوں کو کام کاج کرنے میں آسانی ہو جاتی ہے وہ گھر کے کام آپس میں
مل بانٹ کر کر لیتی ہیں۔
اسی طرح اس کے
چند منفی پہلو بھی ہیں:
جوائنٹ
فیملی سسٹم کے منفی پہلو: جوائنٹ فیملی سسٹم کی وجہ سے آپس میں
اختلافات اور غلط فہمیاں پیدا ہو جاتی ہیں انسان کی پرائیویسی متاثر ہوتی ہے وہ
اپنے ہی گھر میں آزادی کے ساتھ زندگی نہیں گزار پاتا بالغ نا محرم افراد کے ایک ہی
گھر میں رہتے ہوئے پردے کے مسائل پیدا ہوجاتے ہیں جس کی وجہ سے شرعی احکام پرعمل
کرنا مشکل ہو جاتا ہے کوشش کے باوجود بھی شرعی احکام پر احسن طریقے سے عمل نہیں ہو
پاتا،ساس بہو کے جھگڑوں کی وجہ سے بچوں پر منفی اثرات مرتب ہوتے ہیں،گھر کے کام
کاج وغیرہ کی غیر مساوی تقسیم،غیر ضروری اخراجات وغیرہ بھی جھگڑوں کا باعث بنتے
ہیں جس سے گھر کا سکون تباہ وبرباد ہو کر رہ جاتا ہے الغرض جوائنٹ فیملی سسٹم کے
جہاں بہت سے نقصانات ہیں وہی اس کے بہت سے فوائد بھی ہیں جن سے انکار نہیں کیا
جاسکتا۔
آخر میں اللہ
رب العزت سے یہ دعا ہے کہ ہمیں آپسی اختلافات سے بچنے اور شریعت مطہرہ پر احسن
طریقے سے عمل کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین ثم آمین
Dawateislami