اسلام جہاں زندگی کے ہر شعبے میں ہماری رہنمائی کرتا ہے وہیں خانگی خاندانی اور انسانی حقوق کے متعلق سب سے بڑھ کر پیغام دیتا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے انسان کی تخلیق کی ابتدا ایک مرد اور ایک عورت حضرت آدم علیہ السلام اور حضرت حوا رضی اللہ عنہا سے فرمائی۔ پھر انہی دونوں سے پوری نسلِ انسانی کو زمین میں پھیلایا۔

قرآن مجید میں ارشاد ہے: یٰۤاَیُّهَا النَّاسُ اِنَّا خَلَقْنٰكُمْ مِّنْ ذَكَرٍ وَّ اُنْثٰى وَ جَعَلْنٰكُمْ شُعُوْبًا وَّ قَبَآىٕلَ لِتَعَارَفُوْاؕ- (پ 26، الحجرات: 13) ترجمہ: اے لوگو! بے شک ہم نے تمہیں ایک مرد اور ایک عورت سے پیدا کیا اور تمہیں قوموں اور قبیلوں میں تقسیم کیا تاکہ تم ایک دوسرے کو پہچانو۔

اسی میاں بیوی کے پاکیزہ رشتے سے خاندان کی بنیاد رکھی گئی، اسی طرح آگے چل کر خاندانوں سے قبیلے بنے، قبیلوں سے قومیں اور قوموں سے معاشرہ وجود میں آیا۔

لہذا خاندان معاشرے کی بنیادی اکائی ہے اور مضبوط خاندان ہی ایک مضبوط معاشرے کی بنیاد بنتا ہے۔ ہمارے معاشرے میں مشترکہ خاندانی نظام (جوائنٹ فیملی سسٹم) صدیوں سے رائج ہے، جس میں کئی لوگ ایک ساتھ رہتے ہیں، ایک دوسرے کے حقوق ادا کرتے ہیں اور خوشی و غم میں شریک ہوتی ہیں۔

دنیا سے الگ تھلگ معاشرے سے کٹ کر انسان کے لیے زندگی گزارنا اتنہائی مشکل ہے اسی لیے انسان ایک دوسرے کے سہارے رہنے کے نظام کے تحت ہیں اسی کے تحت انسان کسی معاشرے میں رہتے ہوے تعلقات استواء کرتا ہے اپنا گھر بناتا ہے پھر اس نظام کو احسن طریقے سے چلانے کی کوشش کرتا ہے اسی نظام کا نام خاندان ہے۔ (ماہنامہ فیضانِ مدینہ، جولائی 2026، ص 14)

شریعتِ مطہرہ نے ان کے درمیان باہمی حقوق و فرائض بھی مقرر کیے ہیں جہاں اس نظام کے بہت سے فوائد ہیں وہیں کچھ ضمنی اثرات بھی ہیں، آئیے اس کے مشترکہ خاندانی نظام کے مثبت اور منفی پہلو کا جائزہ لیتے ہیں:

مثبت پہلو:

1۔ محبت اور بھلائی: گھر کے بڑے بچوں کی تربیت کرنے میں اپنا کردار ادا کرسکتے ہیں بیماری یا مشکل وقت میں سب ایک دوسرے کا حوصلہ بن سکتے ہیں۔ایک بھائی دوسرے بھائی کو اکیلے پن کا احساس نہیں ہونے دیتا، جیسا کہ الدرر الحکام 1/ 323 میں منقول ہے رشتے جوڑنا گھر والوں میں محبت مال میں برکت اور عمر میں درازی ہے۔

2۔ مالی سہولت: اخراجات سب مل کر اٹھاتے ہیں۔ ایک گھر کا راشن، بجلی کا بل، کرایہ سب پر بوجھ کم پڑتا ہے۔ مالی ذمہ داریوں کی وضاحت ہوجاتی ہے جس سے بچت کا امکان بڑھتا ہے۔

3۔ بچوں کی تربیت: بچے گھر کے بڑوں دادا سے روایات اور تجربے کی باتیں سیکھ سکتے ہیں جس سے انکے کردار میں پختگی پیدا ہوگی۔

4۔ بزرگوں کی دیکھ بھال: بوڑھے والدین اکیلے نہیں رہتے۔ ان کی اولاد انکے سامنے ہوتی ہے جس سے وہ محبت رکھتے ہیں۔ ان سے حسن سلوک کامیاب خاندان کی بنیاد ہے اگر ایسا ہو تو معاشرے میں اولڈ ہاؤس بنانے کی نوبت نہیں آتی۔

5۔ تحفظ: اسلامی خاندانی نظام میں رشتوں کو مضبوط رکھنے پر زور دیتا ہے۔ ایک دوسرے سے حسنِ سلوک رکھنا محبت انصاف سے مل کر زندگی گزرنا مل کر فیصلے کرنا گھر کے سکون کی بنیاد بنتا ہے۔

منفی پہلو:

1۔ غیر ضروری مداخلت اگر ہر شخص دوسروں کے معاملات میں بلا ضرورت مداخلت کرے تو گھریلو سکون متاثر ہوتا ہے اور اختلافات پیدا ہوتے ہیں اور فیصلے تاخیر کا شکار ہوں گے۔

2۔ غیبت اور چغلی ایک ہی گھر میں رہتے ہوئے اگر زبان کی حفاظت نہ کی جائے تو غیبت، چغلی اور بدگمانی جیسے گناہ پیدا ہو سکتے ہیں۔

3۔ ناانصافی گھر کے افراد کے درمیان برابری نہ برتی جائے تو حسد، ناراضگی اور دل آزاری جنم لیتی ہے۔

4۔ برداشت کی کمی غصہ اور عدم برداشت معمولی باتوں کو بڑے جھگڑوں میں تبدیل کر دیتے ہیں، حالانکہ اسلام صبر اور حسنِ اخلاق کی تعلیم دیتا ہے۔

5. ذمہ داری کا احساس کم سب کا گھر ہے سوچ کی وجہ سے بعض لوگ کام نہیں کرتے اور دوسروں پر انحصار کرتے ہیں۔

الغرض مشترکہ نظام محبت، تعاون اور بچت کے لیے بہت اچھا ہے، لیکن اس کے لیے برداشت، قربانی اور عزت بہت ضروری ہے۔ اگر اختلافات بڑھ جائیں تو قران کریم حکم دیتا کہ خاندان کے بڑھے افراد صلح کروائیں۔۔کیونکہ اسلام محبت حکمت اور ذمہ داری کے ذریعے خاندان کو جھگڑوں سے محفوظ رکھنے کا نظام فراہم کرتا ہے۔

مشترکہ خاندان ہو یا الگ رہائش، اگر اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول ﷺ کی تعلیمات پر عمل کیا جائے تو ہر نظام کامیاب اور پُرسکون بن سکتا ہے۔ لہٰذا ہمیں چاہیے کہ اختلافات کے بجائے محبت، تعاون اور برداشت کو فروغ دیں تاکہ ہمارا گھر اور معاشرہ دونوں امن و سکون کا گہوارہ بن جائیں۔

اللہ کریم سے دعا ہے کہ وہ ہمیں اسلام کے اصولوں پر چلنے اور صبر سے کام لینے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین