جوائنٹ فیملی سسٹم کے منفی اور مثبت پہلو درج ذیل ہیں:

مثبت پہلو (فوائد):

1۔ باہمی تعاون ہوتا ہے مشکل اور معاشی حالات میں ایک دوسرے کا سہارا اور مدد ملتی ہے دکھ سکھ کا سہارا ملتا ہے۔

خوشی اور غمی کے موقع پر خاندان کا اکٹھا ہونا اور باہمی تعلق مضبوط رہنا۔

2۔ بچوں کی بہترین تربیت ہوتی ہے دادا دادی اور بڑوں کی موجودگی سے بچوں کو شفقت اور اخلاقی تربیت ملتی ہے خاندان کا ہر فرد بچوں کی دیکھ بھال میں اپنا اپنا کردار ادا کرتا ہے دادا دادی نانا نانی کے لہجے کی مٹھاس اور سب کا ان کو کہانیاں سنانا انگلی پکڑ کر چلنا سکھانا ماموں یا چچا کا اسے باہر کی سیر کرانا کھانے پینے کی چیزیں دلوانا حالہ یا پھوپھو یا چاچی وغیرہ کا اٹھتے بیٹھنے بات چیت سونے جاگنے کے آداب سکھانا بچے کی شخصیت کی تعمیر کرتا ہے ایسے ہی بچوں میں خود مختاری آتی ہے اور وہ مختلف مزاج کے لوگوں کے درمیان رہنا سیکھ لیتا ہے یہی خصوصیات اسے معاشرے کا اہم فرد بنا دیتی ہیں۔

3۔ بوڑھوں کمزوروں یتیموں بیواؤں غریبوں اور مظلوموں کو سہارے کی بڑی ضرورت ہوتی ہے اور یہ ضرورت ایک خاندان اچھی طرح پوری کر سکتا ہے ایسے ہی آزمائش کسی پر بھی آ جائے خاندان والے مل کر اس کے لیے سائبان بن جاتے ہیں اور اسے آزمائشوں کی کڑی دھوپ سے بچانے میں اپنا کردار ادا کرتے ہیں۔

4۔ خوشیاں بانٹنے سے بڑھتی ہیں خاندان والے ایک دوسرے کی خوشیوں کے موقع پر بھی بھرپور طریقے سے شریک ہو کر خوشی میں اضافہ کرتے ہیں۔

جیسے ایک خاندان کے مل جل کر رہنے کے مثبت اثرات ہوتے ہیں ویسے ہی منفی پہلو بھی موجود ہوتے ہیں ہم ان کی چند بنیادی وجوہات کو بیان کریں گے۔

1۔ ہزار خوبیاں چھوڑ کر خامیوں کو پکڑ لیا جاتا ہے جو ظاہر سے سامنے والے کے دل سے محبت کو نکال دیتا ہے۔اس طرح دلوں میں ایک دوسرے کے لیے محبت کی بجائے نفرت پیدا ہوتی ہے۔

2۔ ایک دوسرے کی غیر موجودگی میں اس کی غیبت لگائی بجھائی کی نحوست ایک دوسرے کے بارے میں بدگمانی پیدا کرنا گناہوں کی تہمت لگانا کہ فلاں کی بیٹی ایسی ہے فلاں کی بیوی ویسی ہے فلاں فلاں رشتہ دار میرے خلاف سازش کر رہے ہیں فلاں کو یہ نعمت کیوں ملی؟ فلاں خوشحال کیوں ہے؟ یہ سارے انداز منفی ہیں اور واضح ہیں کہ ان کے نتائج بھی منفی ہی ہوں گے۔

3۔ منصب کے مطابق سلوک نہ کرنا بھی دوری کا سبب بنتا ہے ظاہر ہے بھکاری کو کچھ دے کر دروازے سے ہی رخصت کر دیا جاتا ہے اور معزز مہمان کو گھر میں بلا کر اہتمام کے ساتھ چائے پانی پیش کیا جاتا ہے جب ہم کسی کے حیثیت کے مطابق سلوک نہ کریں گے تو وہ خوشی سے جھومے گا یا صدمے سے چور ہوگا؟ اسی طرح اگر آپ کا بیٹا یا بیٹی اپنے سے بڑی عمر کی رشتہ دار مثلا چچا ماموں تایا سے تلخ لہجے میں بدتمیزی سے بات کرے تو اس کو روکنا سمجھانا آپ کا اخلاقی فریضہ ہے ایسے میں آپ کی خاموشی کو بڑے کی توہین پر رضامندی سمجھا جائے گا تو ظاہر ہے کہ یہ اس کی حیثیت کے خلاف ہے۔ایک اہم ترین بات یہ کہ جب اولاد اپنے سے بڑے کا ادب و احترام کرنا بھول جائے گی تو کل اس کے ہاتھ آپ کے گریبان تک بھی پہنچیں گے اس کی زبان آپ کی شان میں بھی پھول برسائے گی اس وقت آپ کو اپنی غلطی کا احساس ہوگا اس لیے ابھی وقت ہے سنبھل جائیے۔

4۔ کسی کی خوشیوں پر اسے مبارکباد نہ دینا یا غم میں اس کی دلجوئی اور ہمدردی نہ کرنا بھی رشتہ داروں میں دوری پیدا کرتا ہے۔

مصیبت آتی ہے اور اور چلی جاتی ہے لیکن انسان دو چہروں کو نہیں بھولتا ایک دکھ میں ساتھ دینے والے کو اور دوسرا ساتھ چھوڑنے والے کو اگر ہم قدرت رکھنے کے باوجود اپنے رشتہ دار کی مدد نہیں کریں گے تو اس کا دل ٹوٹے گا۔

5۔ مالدار ہونے کے بعد تکبر کا شکار ہو کر خاندان کے مالی طور پر کمزور افراد کو حقیر جاننے کی وجہ سے بھی خاندان ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہوتے ہیں۔

رشتہ داروں سے صلہ رحمی پر آقا کریم ﷺ کے تین فرامین ملاحظہ فرمائیے:

1۔ مسکین پر صدقہ کرنا ایک صدقہ ہے اور رشتہ دار پر صدقہ کرنے میں دو صدقے ہیں اور وہ صلہ رحمی ہے۔ (صحیح ابن خزیمہ،4/77، حدیث: 2385)

2۔ تم لوگ اپنے نسب ناموں کو جان لو تاکہ اس کی وجہ سے تم اپنے رشتہ داروں کے ساتھ نیک سلوک کرو یقین جانو کہ رشتہ داروں کے ساتھ نیک سلوک کرنا یہ گھر والوں میں حجت اور مال میں زیادتی اور عمر میں درازی کا سبب ہے۔ (ترمذی،3/394، حدیث: 1986)

3۔ نبی مکرم ﷺ سے دریافت کیا گیا کون سا صدقہ افضل ہے؟ تو آپ ﷺ نے فرمایا: جو کینہ پرور رشتہ دار پر کیا جائے۔ (مسند امام احمد، 5/228، حدیث: 15320)

اللہ رب العالمین سے دعا ہے کہ وہ ہمیں اپنے اہل و عیال اور خاندان والوں کے ساتھ اچھا اور نیک سلوک کرنے اور محبت کرنے کی توفیق عطا فرمائے اور ہم سب کی بے حساب مغفرت فرمائے۔ آمین

خاندان معاشرے کی بنیادی اکائی ہے ایک مضبوط اور خوشحال معاشرہ اسی وقت وجود میں آتا ہے جب اس کے خاندان مضبوط ہوں ہمارے معاشرے میں قدیم زمانے سے جوائنٹ فیملی سسٹم رائج ہے اس نظام میں دادا دادی تایا تائی چچا چچی والدین اور ان کے بچے ایک ہی گھر میں ایک ہی صحن میں مل کر رہتے ہیں اسے جوائنٹ فیملی سسٹم کہا جاتا ہے۔ لیکن موجودہ دور میں جوائنٹ فیملی سسٹم کے ساتھ بعض مسائل بھی پیدا ہوتے ہیں اس لیے جوائنٹ فیملی سسٹم کے مثبت پہلو بھی ہوتے ہیں اور منفی بھی اور ان میں سے درج ذیل یہ ہیں۔

جوائنٹ فیملی سسٹم کے مثبت پہلو: جوائنٹ فیملی سسٹم کا سب سے بڑا اور اچھا فائدہ یہ ہے کہ خاندان کے افراد ایک دوسرے کے دکھ سکھ میں شریک ہوتے ہیں اگر گھر کے کسی بھی افراد کو کوئی مشکل آجائے تو گھر کے دوسرے افراد اس کی مدد کرتے ہیں اور اس کا ساتھ دیتے ہیں اسی طرح کسی ایک شخص پر ذمہ داریوں کا بوجھ نہیں پڑتا ہے اور تمام افراد خوشحال اور پرسکون زندگی بسر کرتے ہیں اور جوائنٹ فیملی سسٹم کے ذریعے سے بچوں کی تربیت بہتر اور اچھے انداز میں ہوتی ہے دادا دادی اور گھر کے دوسرے بزرگ اپنے تجربات کی روشنی میں بچوں کو ادب و احترام سچائی صبر اور دینی تعلیمات سکھاتے ہیں جوائنٹ فیملی سسٹم سے بچے اپنے بڑوں کا احترام کرنا ان کی خدمت کرنا اور رشتہ داروں کا احترام کرنا سیکھتے ہیں۔

جوائنٹ فیملی سسٹم میں کسی ایک شخص پر ذمہ داریوں کا بوجھ نہیں ہوتا کیونکہ اس میں اخراجات کو تقسیم کر دیا جاتا ہے اور اگر گھر کے تمام افراد روزگار کرتے ہوں تو گھر کے مالی معاملات آسانی سے چلتے ہیں اور جوائنٹ فیملی سسٹم کی سب سے اچھی بات یہ ہے کہ شادی بیماری یا دیگر ضروری مواقع پر سب ایک دوسرے کا ساتھ دیتے ہیں اور سہارا بنتے ہیں جوائنٹ فیملی سسٹم سے بچے بور نہیں ہوتے اور تنہائی محسوس نہیں کرتے وہ اپنے بہن بھائیوں اور کزنز کے ساتھ پڑھتے کھیلتے اور ایک دوسرے کی مدد کرتے اور ساتھ دیتے ہیں اس سے محبتوں میں بھی اضافہ ہوتا ہے۔

جوائنٹ فیملی سسٹم کے منفی پہلو: اگرچہ اس نظام میں بہت سے فائدے بھی ہیں لیکن بعض اس سسٹم کے منفی پہلو بھی موجود ہیں سب سے اہم مسئلہ پردے کا ہے جوائنٹ فیملی سسٹم میں رہنے کی وجہ سے پردے کا بہت مسئلہ ہوتا ہے مثال کے طور پر اگر تایا جان اور چچا جان کے خاندان ایک ہی گھر میں رہتے ہوں اور ان کے بیٹے اور بیٹیاں بالغ ہو جائیں تو اس سے پردے میں دشواری پیش آسکتی ہے، اسلام میں چچازاد اور تایازاد بھائی بہن محرم نہیں ہوتے اس لیے ان کے درمیان پردے کے احکام موجود ہیں اگر گھر میں پردے کا مناسب اور بہتر انتظام نہ ہو تو خواتین کو مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔

اور پردے کے بارے میں قرآن پاک میں حکم ہوا: یٰۤاَیُّهَا النَّبِیُّ قُلْ لِّاَزْوَاجِكَ وَ بَنٰتِكَ وَ نِسَآءِ الْمُؤْمِنِیْنَ یُدْنِیْنَ عَلَیْهِنَّ مِنْ جَلَابِیْبِهِنَّؕ-ذٰلِكَ اَدْنٰۤى اَنْ یُّعْرَفْنَ فَلَا یُؤْذَیْنَؕ-وَ كَانَ اللّٰهُ غَفُوْرًا رَّحِیْمًا(۵۹) (پ 22، الاحزاب: 59) ترجمہ: اے نبی اپنی بیویوں اور صاحبزادیوں اور مسلمانوں کی عورتوں سے فرما دو کہ اپنی چادروں کا ایک حصہ اپنے منہ پر ڈالے رہیں یا اس سے نزدیک تر ہے کہ ان کی پہچان ہو تو ستائی نہ جائیں اور اللہ بخشنے والا مہربان ہے۔

اسی طرح جوائن فیملی سسٹم سے بعض اوقات گھریلو معاملات میں اختلافات پیدا ہو جاتے ہیں اور لڑائی وغیرہ ہونے لگتی ہے۔ بچوں کی تربیت اخراجات اور گھریلو فیصلوں پر رائے مختلف ہونے کی وجہ سے جھگڑے پیدا ہو جاتے ہیں بعض افراد دوسروں کے معاملات میں ضرورت سے زیادہ مداخلت کرتے ہیں جس سے گھر کا سکون متاثر ہوتا ہے اور بعض اوقات نوجوان اپنی مرضی کے مطابق فیصلے نہیں کر سکتے ہیں کیونکہ زیادہ تر فیصلے خاندان کے بزرگ کرتے ہیں اور جوائنٹ فیملی سسٹم میں بچوں کی بات کو اہمیت نہیں دی جاتی اور نہ ہی ان کی رائے لی جاتی ہے جس کی وجہ سے بچے بدتمیزی پر اتر جاتے ہیں اور ان کا رویہ اپنے بڑوں کے ساتھ اچھا نہیں ہوتا اسی طرح جوائنٹ فیملی سسٹم سے بہوں کے درمیان اختلافات بھی ہو جاتے ہیں جو پورے خاندان کے ماحول کو متاثر کرتے ہیں اور گھر کا سکون بھی برباد کرتے ہیں۔

جوائن فیملی سسٹم کو کامیاب بنانے کا طریقہ: جوائن فیملی سسٹم اس صورت میں کامیاب ہو سکتا ہے جب گھر کے تمام افراد ایک دوسرے کا ادب و احترام کرے برداشت اور صبر و تحمل سے کام لے اور آپس میں ایک دوسرے کے معاملات میں بلا وجہ مداخلت نہ کرے اور گھریلو ذمہ داریاں انصاف کے ساتھ تقسیم کریں اور اسلامی احکام خصوصا پردے اور حسن اخلاق پر عمل کرنا چاہیے۔


معاشرے کا جائزہ لیا جائے تو یہ بات سامنے آتی ہے کہ ہمارے معاشرے میں مشترکہ خاندانی نظام رائج ہے یعنی خاندان کے تمام لوگ ایک ہی چھت کے نیچے مشترکہ مالیاتی نظام کے تحت رہتے ہیں مشترکہ خاندانی نظام کے فوائد سے قطع نظری نہیں لیکن اسی کے ساتھ ساتھ اس کے نقصانات بھی ہیں جو وقتی طور پر اگر چہ گھر کے سربراہ کو نظر نہیں آتے مگر وہ خاندان کے افراد میں اتحاد و اتفاق پیدا کرنے کے بجائے نفرتوں کا باعث بنتے ہیں۔

جو ائنٹ فیملی سسٹم میں بزرگوں کی موجودگی برکت کا باعث ہوتی ہے۔ اولاد کو اپنے والدین کے ساتھ وقت گزارنے ان کی خدمت کرنے کا موقع نصیب ہوتا ہے۔ احادیث مبارکہ میں بھی بزرگوں کے حوالے سے ارشاد فرمایا گیا: برکت تمہارے بزرگوں کے ساتھ ہے۔ (مستدرک، 1/228، حدیث:218) بڑوں کی زندگی بھر کے تجربات سے اولاد مستفید ہوتی ہے۔

مشترکہ خاندانی نظام میں کسی بھی دکھ غم، بیماری کے وقت پورا خاندان ایک دوسرے کے ساتھ کندھا ملاکر کھڑا ہوتا ہے، چونکہ مشترکہ خاندانی نظام میں خاندان کے سب افراد مل کر گھریلو اخراجات اٹھاتے ہیں اس طرح اخراجات کی تقسیم کاری ہو جاتی ہے اور گھر کا بوجھ کسی ایک فرد متعین پر عائد نہیں ہوتا بچوں کی حفاظت کے حوالے سے بے فکری ہوتی ہے کیونکہ گھر میں بڑے موجود ہوتے ہیں جو بچوں کی دیکھ بھال کرتے ہیں جوائنٹ فیملی میں رہنے سے بچوں میں حسن معاشرت اور خود اعتمادی بھی پیدا ہوتی ہے۔

اب جوائنٹ فیملی سسٹم کے منفی پہلو کی طرف نظر کرتے ہوئے انہیں بھی زیر بحث لاتے ہیں، اولاد انسان کا قیمتی سرمایہ ہوتی ہے۔ حدیث مبارکہ میں حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جب انسان فوت ہو جائے تو اس کا عمل منقطع ہو جاتا ہے سوائے تین اعمال کے (وہ منقطع نہیں ہوتے): صدقہ جاریہ یا ایسا علم جس سے فائدہ اٹھایا جائے یا نیک بیٹا جو اس کے لیے دعا کرے۔ (مسلم، 886، حدیث: 1631)

جوائنٹ فیملی میں بچوں کی اچھی تربیت کرنا ایک چیلنج ہے کیونکہ والدین کی طرف سے اگرچہ بچے کو نیکی کرنے ادب، بات کرنے کی تمیز بتائی جاتی ہے مگر گھر کے دیگر افراد کا اس طرف رجحان نہیں تو وہ وہی چیزیں اختیار کرے گا جو وہ اپنے ماحول میں دیکھے گا۔

جب تک بھائی چارہ،اتحاد نہیں ہوتا تب تک ایک عظیم معاشرہ قائم نہیں ہوتا اور مشترکہ خاندانی نظام میں اختلاف رائے، سوچنے کے انداز مختلف ہونے کی بناء پر نفرتیں جنم لیتی ہیں جو کہ ناصرف ایک ناچاقی کی صورت ہوتی ہے بلکہ بچوں کے ذہنوں پر بھی برا اثر ڈالتی ہے۔

کسی بھی معاشرے کی اساس وہاں بسنے والی قوم کی وحدت اور امداد باہمی پر قائم ہوتی ہے یہ وحدت اور امداد باہمی بھائی چارے اور محبت کے بغیر مکمل نہیں ہوتی مشترکہ خاندانی نظام میں چونکہ افراد زیادہ ہوتے ہیں لہذا اختلاف رائے ہوجانا عام سی بات ہے لیکن اس اختلاف کو جھگڑے میں تبدیل کرلینا انا کا مسئلہ بنالینے سے گھریلو ناچاقیاں پیدا ہوں گی اور بچوں کی تربیت پر برے اثرات مرتب ہونگے۔

اسلام ہمیں صلہ رحمی کا درس دیتا ہے لہذا اگر پیار،محبت، اتفاق، درگزر سے کام لیتے ہوئے اگر ایک مشترکہ خاندانی نظام چلایا جائے تو وہ باعث رحمت ہوگا کیونکہ ہم بچپن سے سنتے آرہے ہیں کہ اتفاق میں برکت ہے۔

مذکورہ بالا بحث سے یہ بات واضح ہوتی ہے کہ مشترکہ خاندانی نظام ہمارے معاشرے میں برکت، تعاون، مالی سہولت اور بچوں کی تربیت کے بے شمار فوائد لئیے ہوئے ہے بزرگوں کی دعائیں اور گھر والوں کا ساتھ کسی نعمت سے کم نہیں۔

لیکن اس نظام کی کامیابی کا دارومدار خاندان کے افراد کے اخلاق، برداشت اور قربانی پر ہے۔ اگر انا، ضد اور اختلاف رائے کو ہوا دی جائے تو یہی نظام اتحاد کے بجائے نفرتوں کا سبب بن جاتا ہے اور سب سے زیادہ نقصان بچوں کی تربیت کو ہوتا ہے۔

اس لیے ضروری ہے کہ ہم اسلام کی تعلیم صلہ رحمی اور درگزر کو اپنائیں۔ اگر ہر فرد دوسرے کے حقوق کا خیال رکھے، بڑے انصاف کریں اور چھوٹے ادب سے پیش آئیں تو یہ مشترکہ نظام نہ صرف ایک گھر بلکہ پورے معاشرے کے لیے رحمت بن سکتا ہے۔ کیونکہ واقعی اتفاق میں برکت ہے اور مضبوط خاندان ہی مضبوط قوم کی بنیاد ہیں۔


جوائنٹ فیملی یعنی آپس میں مل جل کر رہنے کے ہمارے زندگی پر بہت سے اثرات مرتب ہوتے ہیں اگر آپس میں پیار اور اچھے اخلاق و انداز کے ساتھ رہا جائے تو یہ ہماری زندگی کو پرسکون اور خوشگوار بناتے ہیں اور اس کے مثبت اثرات ہوتے ہیں لیکن اگر دیکھا جائے تو اسی کے برعکس اگر ہم آپس میں بغض و حسد کرتے ہوئے غیبت کرتے ہوئے ایک دوسرے سے لڑتے جھگڑتے رہیں تو یہ سب ہمارے گھروں کے مدنی ماحول کو تباہ کرتے اور ہمارے اور ہمارے بچوں کی زندگیوں پر منفی اثرات مرتب کرتے ہیں اسی لیے کہا جاتا ہے کہ جوائنٹ فیملی کے مثبت اثرات ہیں تو اس کے برعکس منفی اثرات بھی موجود ہیں۔

جوائنٹ فیملی کے مثبت اثرات: آپس میں مل جل کر رہنے سے بچوں کی اچھی تربیت ہوتی ہے کیونکہ اس طرح جب چھوٹے بڑے مل کر رہتے ہیں تو چھوٹے اپنے ہر کام میں اپنے بڑوں سے رہنمائی کرواتے ہیں اور بڑے ان کو ایسی تجویز پیش کرتے ہیں جو ان کے لیے مناسب ہو کیونکہ بچوں کو کی جو اچھی تربیت ہے وہ بہت ہی اہمیت کی حامل ہے اگر ان کی تربیت اچھی ہوگی تو یہ ہمارے قوموں ملک اور دین کے لیے ترقی کا واحد ذریعہ ہے اور دین اسلام کی شمع جلانے کا بھی ایک واحد ذریعہ ہے اور اپنے والدین کا نام روشن کرنے کا بھی، جیسا کہ حدیث پاک میں ہے: حضرت جابر بن سمرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ حضور پاک ﷺ نے فرمایا: انسان کا اپنے بچے کو ادب سکھانا ایک صادق صدقہ کرنے سے بہتر ہے۔ (تربیت اولاد، ص 188)

ایک اور جگہ آپ ﷺ نے فرمایا: کسی باپ نے اپنے بیٹے کو اچھا ادب سکھانے سے بڑھ کر کوئی عطیہ نہیں دیا۔ (تربیت اولاد، ص 119)

اسی لیے والدین کو چاہیے کہ اپنے بچوں کی اچھی تربیت کریں اور یہ مل جل کر پیار و محبت سے رہنے کے ساتھ ہی ممکن ہے اس طرح ایک فائدہ یہ بھی ہے کہ آپس میں مل کر پیار سے رہنے سے گھر امن کا گہوارہ بنتا ہے مشکل وقت میں ایک دوسرے کی مدد کی جا سکتی ہے خوشی غمی کہ موقع پر ایک دوسرے کا ساتھ دیا جا سکتا ہے۔

جوائنٹ فیملی کے منفی اثرات: جوائنٹ فیملی کا ایک منفی اثر تو یہ ہے کہ ایک دوسرے کے غیبت و چغلی کی بہت کثرت ہوتی ہے کیونکہ جب ہم محفلیں لگا کر بیٹھ جاتے ہیں تو کئی کئی گھنٹوں تک فضول گفتگو کرتے اور معاذ اللہ نازیبا کلمات اور اس طرح غیبت چغلی اور ریاکاری جیسے گناہوں میں مبتلا ہوتے ہیں ایک دوسرے کے ساتھ رہنے سے ان کے بارے میں معلومات ہوتی ہے اگر انہیں کوئی کامیابی ملے تو اس سے ہمارے دلوں میں حسد پیدا ہوتا ہے اسی طرح لڑائی جھگڑے ہوتے ہیں جن سے گھروں کا ماحول اور ذہنی سکون برباد ہوتا ہے ایک دوسرے کو طعن اور تشنیع کا نشانہ بنایا جاتا ہے۔

بچوں پر بھی اس کے بہت منفی اثرات مرتب ہوتے ہیں، جیسا کہ غیبت اور چغلی کی مذمت قرآن پاک میں بھی فرمائی گئی: وَ لَا یَغْتَبْ بَّعْضُكُمْ بَعْضًاؕ-اَیُحِبُّ اَحَدُكُمْ اَنْ یَّاْكُلَ لَحْمَ اَخِیْهِ مَیْتًا فَكَرِهْتُمُوْهُؕ-وَ اتَّقُوا اللّٰهَؕ-اِنَّ اللّٰهَ تَوَّابٌ رَّحِیْمٌ(۱۲) (پ 26، الحجرات:12) ترجمہ کنز الایمان: اور ایک دوسرے کی غیبت نہ کرو کیا تم میں کوئی پسند رکھے گا کہ اپنے مرے بھائی کا گوشت کھائے تو یہ تمہیں گوارا نہ ہوگا اور اللہ سے ڈرو بے شک اللہ بہت توبہ قبول کرنے والا مہربان ہے۔

حدیث مبارکہ میں ہے: طعنہ زنی غیبت چغلی خوری اور بے گناہ لوگوں کے عیب تلاش کرنے والوں کو اللہ پاک قیامت کے دن کتوں کی شکل میں اٹھائے گا۔ (گناہوں کی معلومات، ص 55)

حسد کے متعلق بھی آیت مبارکہ ہے: یَحْسُدُوْنَ النَّاسَ عَلٰى مَاۤ اٰتٰىهُمُ اللّٰهُ مِنْ فَضْلِهٖۚ- (پ5، النساء: 54) ترجمہ: لوگوں سے حسد کرتے ہیں اس پر جو اللہ نے انہیں اپنے فضل سے دیا۔

فرامینِ مصطفیٰ ﷺ ہے: حسد سے دور رہو، کیونکہ حسد نیکیوں کو اس طرح کھا جاتا ہے جس طرح آگ خشک لکڑی کو۔ (گناہوں کی معلومات، ص 128)

اللہ کریم سے دعا ہے کہ اللہ پاک ہم سب کو مل جل کر پیار و محبت سے گزر بسر کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین


کسی بھی خاندان کو چلانے کے لیے ایک نظام کی ضرورت ہوتی ہے اور ہمارے معاشرے میں دو نظام پائے جاتے ہیں جن کے تحت خاندان کو آگے چلایا جاتا ہے وہ دو نظام یہ ہیں: جوائنٹ فیملی سسٹم سیپرٹ فیملی سسٹم۔ جوائن فیملی سسٹم یہ ایسا نظام ہے جس میں گھر میں تمام افراد ایک شخص کے ماتحت رہتے ہیں مثلا دادا دادی چاچو چاچی تایا تائی پھپھو والدین بہن بھائی سب ایک ساتھ رہتے ہیں اور سیپریٹ فیملی سسٹم وہ ہوتا ہے جس میں آپ اپنے والدین کے ساتھ الگ رہتے ہیں ہم یہاں پہ جوائنٹ فیملی سسٹم کے مثبت اور منفی پہلو کے بارے میں بات کریں گے۔

جوائنٹ سسٹم کے مثبت پہلو یہ ہیں:

جوائن فیملی سسٹم ایک بہترین نظام ہے اس میں احساس ذمہ داریاں اور دیگر چیزیں پائی جاتی ہیں، مثلا والدین کا احترام، دادا دادی کا احترام، بزرگوں کا احترام یہ تمام چیزیں جوائنٹ فیملی سسٹم میں بچوں کو سکھائی جاتی ہیں، جوائن فیملی سسٹم میں خواتین کے لیے کام کرنا آسان ہو جاتا ہے، کیونکہ ان کی ذمہ داریاں کم ہوجاتی ہیں، تمام خواتین اپنے اپنے وقت پر اپنا اپنا کام سرانجام دیتی ہیں، جس کی وجہ سے ان کی زندگی آسان ہو جاتی ہے اور ایک دوسرے کی مالی مدد بھی کرتے ہیں ایک دوسرے کا ساتھ دیتے ہیں، دکھ غم میں شریک ہوتے ہیں اور خوشیاں مل کر سیلیبریٹ کرتے ہیں، بچوں میں بھائی چارہ پیدا ہوتا ہے اور بڑوں کا احترام کرنا سیکھتے ہیں۔

جوائنٹ فیملی سسٹم ایک مشترکہ نظام ہے جوائنٹ فیملی سسٹم کے مثبت پہلو ہونے کے ساتھ ساتھ اس کے نقصانات بھی ہیں، مثلا ایسے نظام میں جھگڑے زیادہ ہوتے ہیں اور چھوٹی چھوٹی غلط فہمیاں جھگڑوں کا باعث بنتی ہیں اس نظام میں آزادی نہیں ہوتی ہر کام کرنے سے پہلے دوسروں سے رائے لینا ضروری ہوتی ہے اور دوسروں سے مشورہ لیے بغیر آپ کو کام کرنے کی اجازت نہیں دی جاتی اور دوسروں کے مداخلت کو برداشت کرنا پڑتا ہے۔

جوائنٹ فیملی سسٹم کا منفی پہلو یہ بھی ہے کہ اس میں جگہ کا تنازع اور گھریلو مسائل پر جھگڑے اور گھر کے کاموں پر لڑائی جیسے معاملات کافی ہوتے ہیں جوائنٹ فیملی سسٹم بہترین نظام ہے مگر یہ کہ اس میں رہنے والے لوگوں کے درمیان صبر تحمل اخوت بھائی چارہ پایا جائے اور برداشت کرنے کی صلاحیت پائی جائے اگر یہ تمام چیزیں نہیں ہوں گی تو جوائنٹ فیملی سسٹم بہترین نظام نہیں بن سکتا لیکن ہماری کوشش ہونی چاہیے کہ ہم جوائنٹ فیملی سسٹم کو بہترین نظام بنائیں۔


بنیادی طور پر خاندانی نظام کی دو اقسام رائج ہیں: مشترکہ خاندانی نظام اور علیحدہ خاندانی نظام۔

مشترکہ خاندانی نظام میں خاندان کے تمام افراد، جیسے والدین، بیٹے، بھائی، بہنیں، چچا، بھتیجے وغیرہ، ایک ساتھ رہتے ہیں۔ اس نظام میں ہر فرد کی آمدنی کو اس کی ذاتی ملکیت نہیں سمجھا جاتا بلکہ پورے خاندان کی مشترکہ آمدنی تصور کیا جاتا ہے، اور تمام افراد کے اخراجات اسی مشترکہ آمدنی سے پورے کیے جاتے ہیں۔

ایک متوازن اور دانشمندانہ خاندانی نظام خوشگوار زندگی کی بنیاد ہوتا ہے اور ایک ترقی یافتہ معاشرے کی تشکیل میں اہم کردار ادا کرتا ہے۔

مشترکہ خاندانی نظام کے فوائد: مشترکہ خاندانی نظام انسان دوستی، باہمی ہمدردی، اعتماد اور تعاون کی بہترین مثال ہے۔ اس نظام سے خاندان کے افراد کے درمیان محبت، اخوت اور باہمی تعلقات کو فروغ ملتا ہے۔ ایک ہی خاندان کے افراد ایک ہی درخت کی شاخوں کی مانند ہوتے ہیں، اس لیے ان کا ایک ساتھ رہنا، گھریلو معاملات کو مل کر چلانا اور ایک دوسرے کی مدد کرنا خوشی، اطمینان اور ذہنی سکون کا باعث بنتا ہے۔

اس نظام کا ایک اہم فائدہ یہ بھی ہے کہ اگر خاندان کا کوئی فرد بڑھاپے، بیماری، بےروزگاری یا کسی اور وجہ سے کمانے کے قابل نہ رہے تو اسے تنہا مشکلات کا سامنا نہیں کرنا پڑتا۔ پورا خاندان اس کی کفالت کرتا ہے، جس کی وجہ سے وہ محتاجی، ذلت اور ذہنی پریشانی سے محفوظ رہتا ہے۔

مشترکہ خاندانی ماحول میں بچے اور نوجوان بزرگوں کے تجربات سے بہت کچھ سیکھتے ہیں اور ان کی اخلاقی و سماجی تربیت بہتر انداز میں ہوتی ہے۔ اس کے علاوہ، مشترکہ خاندانی نظام میں مشکل وقت میں افراد کو جذباتی سہارا ملتا ہے، گھر کے کام اور دیگر ذمہ داریاں آپس میں تقسیم ہو جاتی ہیں، جس سے کام کا بوجھ کم ہوتا ہے اور پریشانی، مصیبت اور ذہنی تناؤ میں بھی کمی آتی ہے۔

مشترکہ خاندانی نظام کے نقصانات: خاندان انسانی معاشرے کی سب سے بنیادی اور قریبی اکائی ہے۔ اسی قربت کی وجہ سے اختلافات اور تنازعات کے پیدا ہونے کا امکان بھی زیادہ ہوتا ہے۔ اس لیے ضروری ہے کہ خاندان کے ہر فرد کے حقوق اور فرائض واضح ہوں تاکہ باہمی تعلقات خوشگوار رہیں۔

مشترکہ خاندانی نظام میں افراد کی تعداد زیادہ ہونے کی وجہ سے رائے، سوچ، مزاج اور نظریات میں اختلاف پیدا ہونا ایک فطری بات ہے۔ یہ اختلافات بعض اوقات دلوں میں نفرت، بدگمانی اور غلط فہمیوں کو جنم دیتے ہیں، جن کا نتیجہ جھگڑوں اور ناچاقی کی صورت میں سامنے آتا ہے۔

مشترکہ خاندانی نظام کا ایک بڑا مسئلہ یہ ہے کہ اس میں ذاتی رازداری (Privacy) نہ ہونے کے برابر ہوتی ہے۔ خاندان کے افراد ایک دوسرے کی ذاتی حدود اور رازداری کا مکمل احترام نہیں کر پاتے، جس سے ذہنی دباؤ، بے چینی اور غلط فہمیاں پیدا ہو سکتی ہیں۔

بعض اوقات گھر کے کچھ افراد گھریلو کاموں یا مالی ذمہ داریوں میں زیادہ حصہ لیتے ہیں، جبکہ دوسرے کم حصہ ڈالتے ہیں۔ اس صورتِ حال سے احساسِ ناانصافی پیدا ہوتا ہے، جو خاندان کے ماحول کو متاثر کرتا ہے۔

اسی طرح بزرگوں اور نوجوان نسل کے درمیان سوچ، طرزِ زندگی اور ترجیحات میں نمایاں فرق ہوتا ہے۔ اگر اس فرق کو حکمت کے ساتھ نہ سنبھالا جائے تو نوجوان اپنی صلاحیتوں کے مطابق فیصلے کرنے اور اپنی شخصیت کو بہتر انداز میں پروان چڑھانے میں مشکلات محسوس کر سکتے ہیں۔

مشترکہ خاندانی نظام میں مالی مسائل بھی پیدا ہو سکتے ہیں، کیونکہ گھر کے اکثر افراد خاندان کے سربراہ یا کمانے والے افراد پر انحصار کرتے ہیں۔ اس کے نتیجے میں بعض افراد اپنی تعلیم، کیریئر اور شادی جیسے اہم فیصلے آزادانہ طور پر نہیں کر پاتے، جس سے ان کی خودمختاری متاثر ہو سکتی ہے۔

مشترکہ خاندانی نظام کے اپنے بے شمار فوائد اور چند نقصانات ہیں۔ اگر خاندان کے افراد ایک دوسرے کے حقوق کا احترام کریں، ذمہ داریوں کو انصاف کے ساتھ تقسیم کریں اور باہمی محبت، برداشت اور تعاون کو فروغ دیں تو اس نظام کے نقصانات کو کم اور فوائد کو زیادہ مؤثر بنایا جا سکتا ہے۔

خاندان کسی بھی معاشرے کی بنیادی اکائی ہے اور اس کی مضبوطی ہی ایک مضبوط معاشرے کی ضمانت ہوتی ہے ہمارے معاشرے میں جوائنٹ فیملی سسٹم ایک معروف خاندانی نظام ہے جس کے ذریعہ افراد خاندان باہمی محبت تعاون اور صلہ رحمی کے مواقع حاصل کرتے ہیں البتہ اس کے مثبت اور منفی دونوں پہلو ہیں جن کی اصلاح اسلامی تعلیمات کی روشنی میں ممکن ہے اس کے کئی مثبت پہلو بھی ہیں جس کی طرف توجہ کی جائے تو خاندان باہمی محبت و تعاون سے رہ سکتے ہیں ان میں سے چند نمایاں حیثیت رکھتے ہیں جو قابل ذکر بھی ہیں جیسے جوائنٹ فیملی سسٹم میں والدین و بزرگوں کی خدمت کے کئی مواقع حاصل ہوتے ہیں ان کے ساتھ حسن سلوک کا حکم تو قران و حدیث میں بھی ہے جیسے اللہ پاک قرآن پاک میں ارشاد فرماتا ہے: وَّ بِالْوَالِدَیْنِ اِحْسَانًا (پ 5، النساء: 36) ترجمہ: اور ماں باپ کے ساتھ بھلائی کرو۔

اسی طرح جوائنٹ فیملی سسٹم میں بزرگوں کا ساتھ نصیب ہوتا ہے جن سے ان سے برکتیں حاصل کی جا سکتی ہیں حدیث پاک میں حضور پر نور ﷺ نے ارشاد فرمایا: برکت تمہارے بزرگوں کے ساتھ ہے۔ (مستدرک، 1/228، حدیث:218)

قرآن و حدیث کے مطابق والدین اور گھر کے اکابرین کے ساتھ حسن سلوک کرنا ان کا ادب و احترام کرنا نیکی کا کام ہے نیز مشترکہ خاندانی نظام صلہ رحمی کے مواقع فراہم کرتا ہے رشتہ داروں میں محبت اور تعلق مضبوط ہوتا ہے نیز اخراجات میں معاونت اور وسائل کا بہتر استعمال کرنے کا ذریعہ ہے صلہ رحمی کے متعلق فرمان مصطفیٰ ﷺ ہے: جو چاہے کہ اس کے رزق میں وسعت دی جائے اور اس کی موت میں دیر کی جائے تو وہ صلہ رحمی کرے۔ (بخاری،4/97، حدیث:5985)

مل جل کر رہنے اور ساتھ کھانے کے متعلق حدیث پاک میں مذکور ہے کہ دو کا کھانا تین کو تین کا کھانا چار کو کافی ہے نیز مسلمانوں کے دوسرے خلیفہ حضرت عمر فاروق اعظم رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ سرکار مدینہ ﷺ کا فرمان برکت نشان ہے کہ اکٹھے ہو کر کھاؤ الگ الگ نہ کھاؤ کہ برکت جماعت کے ساتھ ہے۔ (ابن ماجہ،4/21، حدیث: 3287)

ان تمام دلائل پر نظر کریں تو اسلامی طرز زندگی کو اپناتے ہوئے جوائن فیملی سسٹم میں رہنا باعث اجر و ثواب و بابرکت ہو سکتا ہے لیکن اگر اسلامی و شرعی طریقے کے مطابق عمل نہ کیا جائے تو بعض ایسے پہلو بھی پائے جاتے ہیں جو اس نظام کی افادیت کو متاثر کر سکتے ہیں ان خامیوں کی بروقت اصلاح نہ کی جائے تو خاندانی تعلقات میں کشیدگی پیدا ہو سکتی ہے اگر خاندان کی اسلامی تعلیمات کے مطابق تربیت نہ ہو تو کئی منفی پہلو سامنے آسکتے ہیں جیسے بےپردگی، دیور جیٹھ دیگر غیر محرم کزنز کا آپس میں بے تکلف ہونا بعض اوقات مشترکہ خاندانی نظام میں محرم و نامحرم کے احکام اور پردے کے تقاضوں کو نظر انداز کر دیا جاتا ہے جس سے شرعی قباحتیں پیدا ہونے کا اندیشہ رہتا ہے جبکہ عورت کی بے پردگی موجب غضب الہی اور سبب تباہی ہے جیسا کہ اللہ تبارک و تعالیٰ نے قران مجید میں ارشاد فرمایا: وَ لَا یَضْرِبْنَ بِاَرْجُلِهِنَّ لِیُعْلَمَ مَا یُخْفِیْنَ مِنْ زِیْنَتِهِنَّؕ- (پ 18، النور: 31) ترجمہ کنز الایمان: اور زمین پر پاؤں زور سے نہ رکھیں کہ جانا جائے ان کا چھپا ہوا سنگار۔

جوائنٹ فیملی سسٹم میں غیر محرم سے سامنا ہونے کے امکانات زیادہ ہوتے ہیں، لہذا پردے کے احکام کا خصوصی خیال رکھنا چاہیے اس طرح منفی پہلو کی اگر بات کریں تو بعض اوقات خاندان کے افراد ایک دوسرے کے ذاتی معاملات میں غیر ضروری مداخلت کرنے لگتے ہیں جس سے دل آزاری اور اختلافات پیدا ہوتے ہیں مشترکہ رہائش کے باعث بعض اوقات اپس میں موازنہ حسد بدگمانی غیبت جیسی برائیاں جنم لیتی ہیں جو خاندانی محبت کو متاثر کرتی ہیں بعض گھروں میں افراد ایک دوسرے کے شرعی اور معاشرتی حقوق کا خیال نہیں رکھتے جس کے نتیجے میں ناانصافی اور ناراضی پیدا ہوتی ہے۔

غیبت کی مذمت کے متعلق ارشاد باری تعالیٰ ہے: وَ لَا یَغْتَبْ بَّعْضُكُمْ بَعْضًاؕ-اَیُحِبُّ اَحَدُكُمْ اَنْ یَّاْكُلَ لَحْمَ اَخِیْهِ مَیْتًا فَكَرِهْتُمُوْهُؕ-وَ اتَّقُوا اللّٰهَؕ-اِنَّ اللّٰهَ تَوَّابٌ رَّحِیْمٌ(۱۲) (پ 26، الحجرات:12) ترجمہ کنز الایمان: اور ایک دوسرے کی غیبت نہ کرو کیا تم میں کوئی پسند رکھے گا کہ اپنے مرے بھائی کا گوشت کھائے تو یہ تمہیں گوارا نہ ہوگا اور اللہ سے ڈرو بے شک اللہ بہت توبہ قبول کرنے والا مہربان ہے۔

حسد کے بارے میں سنن ابی داؤد میں مروی ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا: حسد سے بچتے رہو کیونکہ حسد نیکیوں کو اس طرح کھا جاتا ہے جس طرح آگ لکڑیوں کو کھا جاتی ہے۔ (ابوداود، 4/276، حدیث: 4903)

لہذا جوائنٹ فیملی سسٹم میں رہنے کے لیے قبیح افعال کے بارے میں علم حاصل کرنا اور ان جیسے منفی پہلوؤں سے بچنا لازمی ہے۔

خلاصہ کلام یہ ہے کہ جوائنٹ فیملی سسٹم کے مثبت و منفی دونوں پہلو موجود ہیں اگر افراد خانہ ایک دوسرے کے حقوق کا خیال رکھیں صبر و برداشت سے کام لیں شرعی حدود کی پابندی کریں اور اسلامی تعلیمات کو اپنائیں تو یہ نظام محبت برکت اور باہمی تعاون کا ذریعہ بن سکتا ہے بصورت دیگر یہی نظام اختلافات اور ناچاقیوں کا سبب بھی بن سکتا ہے۔

جوائنٹ فیملی کے مثبت اور منفی پہلو پر بیان کرنے سے پہلے اسکے مثبت اثرات پر نظر ڈالنا ضروری ہے، پھر بعد میں منفی پہلوؤں کا ذکر کریں گے۔

سب سے پہلے یہ کہ جوائنٹ فیملی کے کیا معنی ہیں؟ پورا خاندان جہاں سب ایک ساتھ رہتے ہوں، الگ الگ بیٹے ہوں اور آپس کے باہمی تعلقات میں محبتیں ہوں، سکھ اور دکھ سانجھے ہوں۔

مثبت پہلو یہ ہے کہ اگر فیملی کے کم از کم دس افراد اکٹھے رہیں تو یہ بہت مضبوط ہوگی، اور زندگی میں اگر کوئی مشکل یا پریشانی درپیش ہو تو اسکا سامنا کرنے میں سارے افراد ساتھی بن کر اسکی پریشانی میں اسکا حوصلہ بنیں گے اور اسکی مدد کریں گے، اسے تنہا نہیں چھوڑیں گے۔

جبکہ عکسی طور پر دنیا میں ایسے لوگ بھی موجود ہوتے ہیں جو کہ لوٹ کر آپکے ساتھ رہتے ہیں اور آپکی فیملی کا حقدار ہوتے ہیں، لیکن وہ آپکی تکلیف میں آپکا ساتھ نہیں دیتے بلکہ آپ پر طنز کرنے والے، طعنے دینے والے لوگ ہوتے ہیں۔ اس وقت اور حالات میں جب انسان کمزور ہوجاتا ہے، اس وقت یہ لوگ آپکا مذاق اڑاتے ہیں بلکہ آپکو تنہا چھوڑ دیتے ہیں اور پریشانی میں دوسروں کے ساتھ اسکا اور اسکی اپنائیت کا احساس ختم کر دیتے ہیں۔

جوائنٹ فیملی کے جو منفی اثرات ہیں ان میں یہ شامل ہے کہ کچھ لوگ اگر ایک ساتھ رہتے ہیں تو وہاں کا اثر بھی ایک غیر معمولی انداز میں ہوتا ہے۔ کسی ایک کے آپس کے منفی رویے کا اثر آپکے اوپر بھی منفی طریقے سے ہونے لگتا ہے، اور یہ بھی خراب رویہ آپکے تمام لوگوں پر اثرانداز ہوتا ہے۔ اس گھر میں اگر کوئی شخص گالی دیتا ہے یا جھوٹ بولتا ہو تو بچے اس چیز کو جلدی سیکھیں گے، وہی گالیاں دینا سیکھیں گے، گھر کا ماحول گھر کے بچوں پر بہت زیادہ منفی اثر کرتا ہے۔

کیونکہ جیسا کسی کے گھر کا رہن سہن، آداب، گفتگو یا ادب وغیرہ جیسے طریقے انسان کی فیملی کو نمایاں کرتی ہے۔ اس چیز سے اندازہ ہوسکتا ہے کہ انسان کس فیملی سے تعلق رکھتا ہے۔ لہٰذا بھلائی اسی میں ہے کہ ہم سنتِ رسول کے مطابق زندگی بسر کریں۔


اسلام میں جوائنٹ فیملی سسٹم (مشترکہ خاندانی نظام) بذاتِ خود نہ فرض ہے نہ ناجائز۔ اصل اہمیت اس بات کی ہے کہ اس نظام میں حقوق ادا ہوں، انصاف ہو، پردے کا خیال رکھا جائے، اور کسی پر ظلم نہ ہو۔ شرعی پردے اور شرعی احکام کی پابندی کے ساتھ رہنا، جائز ہے۔

گھرميں رہتے ہوئے بھی بالخصوص دیور و جیٹھ وغیرہ کے معاملہ ميں محتاط رہنا ہو گا۔ صحیح بخاری میں حضرت سیدنا عُقْبہ بن عامِر رضی اللہ عنہ سےمروی ہے: نبی کریم ﷺ نے فرمايا: عورتوں کے پاس جانے سے بچو۔ ایک شخص نے عرض کی: یارسولَ اللہ! دیور کے متعلق کيا حکم ہے؟ فرمايا: دیور موت ہے۔ (بخاری، 3/472، حدیث: 5232)

دیور کا اپنی بھابھی کے سامنے ہونا گويا موت کا سامنا ہےکہ يہاں فتنہ کا اندیشہ زيادہ ہے۔ مفتئ اعظم پاکستان حضرتِ وقارِ مِلّت مولانا وقارُ الدّين علیہ رحمۃ اللہ المبین فرماتے ہيں: ان رشتہ داروں سے جو نامَحرم ہيں چہرہ، ہتھیلی، گٹے، قدم اور ٹخنوں کے علاوہ سِتْر (پردہ) کرنا ضروری ہے، زينت بناؤ سنگھار بھی ان کے سامنے ظاہِر نہ کياجائے۔ (وقا ر الفتاویٰ، 3/151)

بہرحال اسکے مثبت پہلو بھی ہیں اور منفی بھی۔

مثبت پہلو:

1۔ صلہ رحمی: رشتہ داروں سے تعلق مضبوط رہتا ہے، جو اسلام میں بہت پسندیدہ عمل ہے۔

2۔ بزرگوں کی خدمت: والدین اور بزرگوں کی دیکھ بھال آسان ہو جاتی ہے، جس کی اسلام نے بہت تاکید کی ہے۔

3۔ باہمی تعاون: گھر کے افراد ایک دوسرے کی مالی، جسمانی اور جذباتی مدد کرتے ہیں۔

4۔ بچوں کی بہتر تربیت: بچے دادا دادی اور دیگر بڑوں سے اچھے اخلاق اور تجربہ سیکھتے ہیں۔

5۔ مشکلات میں سہارا: بیماری، مالی تنگی یا کسی آزمائش میں خاندان ایک دوسرے کا ساتھ دیتا ہے۔

منفی پہلو:

1۔ پردے کے مسائل: دیور، جیٹھ اور دیگر غیر محرم مردوں کے ساتھ ایک ہی گھر میں رہنے سے پردے کی خلاف ورزی کا خطرہ بڑھ سکتا ہے۔

2۔ حقوق کی پامالی: بعض اوقات بہو یا دیگر افراد پر ضرورت سے زیادہ ذمہ داریاں ڈال دی جاتی ہیں، جو ظلم ہے۔

3۔ گھریلو جھگڑے: مداخلت، حسد، اور غلط فہمیوں کی وجہ سے اختلافات پیدا ہو سکتے ہیں۔

4۔ ازدواجی زندگی میں مداخلت: میاں بیوی کی نجی زندگی متاثر ہو سکتی ہے، جبکہ اسلام ان کی پرائیویسی اور باہمی حقوق کی حفاظت کرتا ہے۔

5۔ ناانصافی: اگر کسی ایک فرد کے ساتھ امتیازی سلوک ہو تو یہ اسلامی تعلیمات کے خلاف ہے۔

اسلام کا اصول یہ ہے کہ جہاں عدل، محبت، حسنِ سلوک، پردہ اور حقوق کی ادائیگی ہو، وہاں جوائنٹ فیملی سسٹم اچھا ہے۔ لیکن اگر اس سے ظلم، گناہ، پردے کی خلاف ورزی یا حقوق کی پامالی ہو تو ایسے ماحول کی اصلاح ضروری ہے، اور ضرورت پڑنے پر الگ رہائش اختیار کرنا بھی جائز ہے۔

بہرحال اگرایک گھر ميں رہتے ہوئے عورت کیلئے قریبی نامَحرم رشتہ داروں سے پردہ دشوار ہو تو چہرہ کھولنے کی تو اجازت ہے مگر کپڑے ہرگز ایسے باریک نہ ہوں جن سے بدن یاسر کے بال وغیرہ چمکیں يا ایسے چُست نہ ہوں کہ بدن کےاعضاء، جسم کی ہیئت(یعنی صورت وگولائی) اور سینے کا اُبھار وغیرہ ظاہِر ہو۔ (پردے کے بارے میں سوال جواب، ص 50 تا 52 ملتقطاً)

اللہ کریم ہمیں شرعی اصولوں کے مطابق زندگی گزارنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین


جوائنٹ فیملی کہتے کسے ہیں؟ جوائنٹ فیملی سے مراد وہ خاندانی نظام ہے جس میں والدین، اولاد، دادا، دادی، چچا، تایا اور ان کے اہلِ خانہ ایک ہی چھت کے نیچے محبت، خلوص اور اشتراک کے ساتھ زندگی گزارتے ہیں۔ ان کا کھانا، رہائش اور بنیادی ضروریات مشترکہ ہوتی ہیں۔ یہ نظام ہماری مشرقی تہذیب کی بنیاد ہے۔ اسلام نے بھی ہمیشہ رشتوں کو جوڑنے، ایک دوسرے کا سہارا بننے اور صلہ رحمی کرنے کی تعلیم دی ہے۔ جوائنٹ فیملی اسی اسلامی تعلیم کی جیتی جاگتی مثال ہے۔اس کے مختلف پہلو ہیں:

جوائنٹ فیملی کے مثبت پہلو: گھر محبت اور اپنائیت کا گہوارہ بن جاتا ہے، جوائنٹ فیملی کا مطلب ہی یہ ہے کہ گھر میں کوئی اجنبیت نہیں ہوتی۔ یہاں ہر چہرہ اپنا لگتا ہے۔ خوشی آئے تو اس کا احساس سب کے دل میں ہوتا ہے۔ غم آئے تو آنسو سب کی آنکھوں میں ہوتے ہیں۔ یہاں میرا مسئلہ نہیں ہوتا، ہمارا مسئلہ ہوتا ہے۔ سب آپس میں مل جل کر رہتے ہیں۔ ان سب کے اخلاق محبت اور آپس میں اپنائیت کی وجہ سے ہی گھر کے رزق میں برکت آتی ہے۔

نبی ﷺ نے فرمایا: جو چاہتا ہے رزق میں برکت ہو وہ رشتے جوڑے۔(بخاری، 4/97، حدیث: 5986)

اسی طرح سے مشکل وقت میں مضبوط سہارے ملتے ہیں سب ایک دوسرے کا خیال رکھتے ہیں۔کسی کو بھی کسی بھی حالات میں اکیلا نہیں چھوڑتے ہیں۔

جوائنٹ فیملی میں جب ایک قدم ڈگمگاتا ہے تو دس ہاتھ اسے تھامنے کے لیے بڑھ جاتے ہیں۔ بیماری میں رات بھر جاگنا، پیسے کی تنگی میں سب کا حصہ ڈالنا، بچوں کو سنبھالنا۔ یہ سب بغیر کہے ہو جاتا ہے۔ ایک دوسرے کی مدد کرتے ہیں۔

اسی طرح بچوں کی سنہری تربیت ہوتی ہے، آج کل کے بچے تنہائی اور موبائل کا شکار ہیں۔ لیکن جوائنٹ فیملی میں بچہ دادا کی گود، دادی کی لوری اور کزنز کے شور میں پلتا ہے۔ وہاں اسے ادب، احترام، قربانی اور محبت عملی طور پر ملتی ہے۔ یہ تربیت کسی کتاب سے نہیں ملتی۔ ایک دوسرے کو نیک کام اور نماز کی عملی ترغیب دلاتے ہیں۔

منفی اثرات: لیکن اسی طرح جوائنٹ فیملی کے کچھ منفی اثرات بھی ہیں کہ اگر خاندان کے افراد کےدرمیان انصاف اخوت اور متوازن نظام نہ ہو اور سب گھر کے افراد مین کامون مین اخراجات مین منصفانہ تقسیم کاری نہ ہو احترام باہمی محبت نہ ہو تو یہی جوائنٹ فیملی آپس مین خونی رشتوں کے درمیان تنازعات احساس کمتری بغض و کینہ جیسی برائیاں جنم لیتی ہیں۔

الغرض یہ سارے کا سارا نظام ہمدردی محبت اخوت احساس پر مشتمل ہو تو اس کی مثال نہین ملتی کہ اتفاق میں ہی برکت ہے۔


اسلام ایک مکمل دین ہے جو اپنے ماننے والوں کو زندگی کے تمام معاملات میں رہنمائی کرتا ہے چاہے معاشرتی زندگی ہو یا نجی یا خاندانی یوں ہر پہلو میں اسلام میں مکمل رہنمائی موجود ہے کچھ لوگوں کی سوچ یہ ہے کہ صرف نماز قرآن اور دیگر عبادات ہی میں دین اسلام رہنمائی کرتا ہے تو یہ سوچ غلط ہے انسان کے پیدا ہونے سے لیکر مرنے تک بلکہ مرنے کے بعد والی زندگی غرض ہر ہر سانس میں اچھی اور مفید رہنمائی موجود ہے ان معاملات میں ایک جوائنٹ فیملی سسٹم ہے عموماً لوگ علیحدہ گھر میں رہنا پسند کرتے ہیں مگر بعض لوگ خاندانی نظام کو فروغ دیتے ہیں جس طرح تصویر کے دو رخ ہیں اچھا اور برا اسی طرح جوائنٹ فیملی سسٹم میں مثبت پہلو بھی ہیں اور منفی پہلو بھی۔

آ ئیے ان کے مثبت اور منفی پہلو پر نظر ڈالتے ہیں:

مثبت پہلو:

باہمی محبت میں اضافہ: جب خاندان کے افراد آ پس میں اچھے اخلاق و رویہ اختیار کرتے ہیں ایک دوسرے معاملات پر دوسروں کو ترجیح دیتے ہیں ایثار و قربانی دینے ہیں اس میں افراد میں محبت میں اضافہ ہوتا ہے مضبوط خاندانی نظام کو فروغ ملتا ہے مل کر کھانا کھانے اور آ نے جانے اور گھر کے کاموں میں ہاتھ بٹاتے ہیں تو محبتیں و احساسات کی فضا پیدا ہوتی ہے۔

ٹیم ورک کی صلاحیت پیدا ہوتی ہے: خاندان کے افراد کا آ پس میں کام تقسیم کرنا کاموں کا وقت مقرر ہونا نیز سونے جاگنے کے اوقات سے لیکر گھر اور باہر کے کاموں میں management کا ہونا یہ افراد کے اندر ٹیم ورک کی صلاحیت پیدا کرتا ہے اس طرح کئی صلاحیتیں ابھرتی ہیں اور بڑھتی ہیں کیونکہ صلاحیتں بڑھنے کے کئی مواقع ملتے ہیں اس کے علاؤہ ٹیم ورک میں قومت برداشت کا ہونا ضروری ہے یہ بھی اچھے انداز سے پروان چڑھتی ہے۔

والدین کی اچھے سے دیکھ بھال: جب والدین بچوں کی شادیاں کرنے کے بعد عموما جسمانی طور پر کمزور ہو جاتے ہیں انہیں خدمت و دیکھ بھال کی پہلے سے زیادہ ضرورت ہوتی ہے اس طرح سب بچے مل کر اپنے والدین کی مالی اور جسمانی خدمت آ سانی سے کر لیتے ہیں اور کسی بھی دیکھ بھال کا بوجھ نہیں آ تا جب سب بچے الگ رہ رہے ہوتے ہیں ایک بچے پر والدین کی خدمت کا بوجھ آ جاتا ہے اور وہ آ زمائش میں آ جاتا ہے اور دوسرے بچوں کو ان کی خدمت سے محرومی ہو جاتی ہے۔

مالی استحکام: جب افراد مل کر رہ رہے ہوتے ہیں گھریلو معاملات مثلا بجلی گیس کے بل سودا سلف اور دیگر اخراجات وغیرہ تقسیم ہو جاتےہیں اور سب آ سانی سے ادا کر لیتے ہیں اور کسی پر بوجھ نہیں آ تا اس طرح خلوص واحترام جیسے جذبات پیدا ہوتے ہیں۔

بچوں کی تربیت کا بہترین ذریعہ: جوائنٹ فیملی سسٹم میں بچے بڑوں کا ادب اور چھوٹوں پہ شفقت کرنا اور اس طرح کے اچھی عادات سیکھتے ہیں اور کسی انداز سے کرنا ہے یہ بھی دیکھتے ہیں اور یہ خوبصورت تربیفت اگلی نسلوں میں منتقل ہوتی ہے جو اچھے اثرات چھوڑتی ہے۔

آ ئیے اب منفی پہلوؤں پر گفتگو کرتے ہیں:

بےانصافی: جب ایک اولاد کو زیادہ توجہ محبت اور مال اور وقت دی جائے تو دوسرے بچوں کی حق تلفی ہوتی ہے اس سے بے انصافی کے گناہ میں مبتلا ہوں گے اور خاندان کی جڑیں کمزور ہو جائیں گی اور رشتے ختم ہوجانے کا سبب بنیں گے۔

بے پردگی: جب افراد مل کر رہ رہے ہوتے ہیں تو عموما بے پردگی اور نامحرموں دیور جیٹھ وغیرہ سے بے تکلفی جیسے گناہ میں مبتلا ہوں گے نتیجۃً بیوی کا شوہر سے میلان کم اور نامحرموں سے زیادہ ہونا شروع ہو جائے گا اور فسادات بڑھیں گے مگر باپردہ اور عورتوں اور مردوں کے لیے الگ نشستوں کا نظام ہو گا تو شریعت پر عمل اور فسادات سے محفوظ رہیں گے۔

نفرتیں بڑھنا: جب ایک دوسرے کے ساتھ اچھا سلوک کرنے کے بجائے برے گمان اور ایک دوسرے کا لڑوانے کا منفی ذہن ہوگا تو نفرتیں بڑھیں ایک دوسرے کے ساتھ نبھانے اور ساتھ چلنے کا جذبہ دم توڑے گا تو مل کر رہنے مین مشکلات اور رکاوٹیں آ ئیں گی

بچوں کی وجہ سے لڑائی کرنا۔

عموماً مائیں بچوں کی لڑائی پر ان کی بات مان کر آپس میں جھگڑے کرتی ہیں جس سے بچوں پر غلط اثر نیز بڑوں کے بھی دل دور ہو نا شروع ہو جائیں گے سکون برباد ہوگا اور ساتھ رہنے میں دشواری ہو گی۔


خاندان معاشرے کی بنیادی اکائی ہے۔ اسلامی معاشرے میں جوائنٹ فیملی سسٹم کو ہمیشہ اہمیت حاصل رہی ہے۔ اس نظام میں خاندان کے متعدد افراد ایک ساتھ رہتے ہیں اور ایک دوسرے کے حقوق و فرائض ادا کرتے ہیں۔ جوائنٹ فیملی کے بہت سے فوائد ہیں، تاہم بعض اوقات اس کے کچھ منفی اثرات بھی سامنے آتے ہیں۔

جوائنٹ فیملی کی تعریف: جوائنٹ فیملی اس خاندانی نظام کو کہتے ہیں جس میں دادا، دادی، والدین، چچا، تایا، پھوپھیاں اور دیگر قریبی رشتہ دار ایک ہی گھر یا مشترکہ نظام کے تحت زندگی گزارتے ہیں۔

جوائنٹ فیملی کی اہمیت: خاندان میں اتحاد و اتفاق پیدا ہوتا ہے۔ بزرگوں کی عزت اور خدمت کا موقع ملتا ہے۔ اسلامی اقدار اور روایات محفوظ رہتی ہیں۔ افراد میں احساسِ ذمہ داری پیدا ہوتا ہے۔ صلہ رحمی کو فروغ ملتا ہے۔

جوائنٹ فیملی کے مثبت اثرات:

1۔ باہمی تعاون: گھر کے افراد ایک دوسرے کے دکھ سکھ میں شریک ہوتے ہیں اور مشکل حالات میں مدد فراہم کرتے ہیں۔

2۔ احساسِ تحفظ: خاندان کے افراد خود کو تنہا محسوس نہیں کرتے بلکہ انہیں ہر وقت سہارا میسر رہتا ہے۔

3۔ محبت اور بھائی چارہ: مشترکہ رہائش سے آپس میں محبت، اخوت اور ہمدردی کے جذبات پیدا ہوتے ہیں۔

بزرگوں کی سرپرستی اور تربیت: بزرگ افراد اپنی زندگی کے تجربات نوجوان نسل تک منتقل کرتے ہیں۔ بچوں کی اخلاقی اور دینی تربیت بہتر انداز میں ہوتی ہے۔ خاندان میں احترامِ بزرگاں کا جذبہ پیدا ہوتا ہے۔ اسلامی آداب سیکھنے کا موقع ملتا ہے۔

معاشی فوائد: گھریلو اخراجات تقسیم ہو جاتے ہیں۔ وسائل کا بہتر استعمال ہوتا ہے۔ مالی مشکلات میں خاندان کے افراد ایک دوسرے کا سہارا بنتے ہیں۔ کم آمدنی والے افراد کو بھی مدد حاصل ہوتی ہے۔

سماجی فوائد: رشتہ داروں کے تعلقات مضبوط ہوتے ہیں۔ بچوں میں سماجی مہارتیں پیدا ہوتی ہیں۔ صبر، برداشت اور ایثار کا جذبہ فروغ پاتا ہے۔ خاندان معاشرے کے لیے ایک مثالی نمونہ بنتا ہے۔

جوائنٹ فیملی کے منفی اثرات:

1۔ نجی زندگی میں کمی: زیادہ افراد کے ساتھ رہنے کی وجہ سے بعض اوقات ذاتی آزادی اور رازداری متاثر ہوتی ہے۔

2۔ اختلافات کا پیدا ہونا: گھریلو معاملات میں مختلف آراء کی وجہ سے جھگڑے اور غلط فہمیاں پیدا ہو سکتی ہیں۔

3۔ مداخلت: بعض اوقات خاندان کے افراد ایک دوسرے کے ذاتی معاملات میں غیر ضروری مداخلت کرتے ہیں۔ اخراجات اور آمدنی کے معاملات پر اختلافات پیدا ہو سکتے ہیں۔

ذمہ داریوں کی غیر مساوی تقسیم: کبھی بعض افراد پر زیادہ کام کا بوجھ آ جاتا ہے جبکہ بعض کم ذمہ داریاں ادا کرتے ہیں۔

حسد اور مقابلہ بازی: اولاد، تعلیم یا مالی حیثیت کے حوالے سے حسد کے جذبات پیدا ہو سکتے ہیں۔