جوائنٹ فیملی سسٹم کے منفی اور مثبت پہلو درج ذیل ہیں:

مثبت پہلو (فوائد):

1۔ باہمی تعاون ہوتا ہے مشکل اور معاشی حالات میں ایک دوسرے کا سہارا اور مدد ملتی ہے دکھ سکھ کا سہارا ملتا ہے۔

خوشی اور غمی کے موقع پر خاندان کا اکٹھا ہونا اور باہمی تعلق مضبوط رہنا۔

2۔ بچوں کی بہترین تربیت ہوتی ہے دادا دادی اور بڑوں کی موجودگی سے بچوں کو شفقت اور اخلاقی تربیت ملتی ہے خاندان کا ہر فرد بچوں کی دیکھ بھال میں اپنا اپنا کردار ادا کرتا ہے دادا دادی نانا نانی کے لہجے کی مٹھاس اور سب کا ان کو کہانیاں سنانا انگلی پکڑ کر چلنا سکھانا ماموں یا چچا کا اسے باہر کی سیر کرانا کھانے پینے کی چیزیں دلوانا حالہ یا پھوپھو یا چاچی وغیرہ کا اٹھتے بیٹھنے بات چیت سونے جاگنے کے آداب سکھانا بچے کی شخصیت کی تعمیر کرتا ہے ایسے ہی بچوں میں خود مختاری آتی ہے اور وہ مختلف مزاج کے لوگوں کے درمیان رہنا سیکھ لیتا ہے یہی خصوصیات اسے معاشرے کا اہم فرد بنا دیتی ہیں۔

3۔ بوڑھوں کمزوروں یتیموں بیواؤں غریبوں اور مظلوموں کو سہارے کی بڑی ضرورت ہوتی ہے اور یہ ضرورت ایک خاندان اچھی طرح پوری کر سکتا ہے ایسے ہی آزمائش کسی پر بھی آ جائے خاندان والے مل کر اس کے لیے سائبان بن جاتے ہیں اور اسے آزمائشوں کی کڑی دھوپ سے بچانے میں اپنا کردار ادا کرتے ہیں۔

4۔ خوشیاں بانٹنے سے بڑھتی ہیں خاندان والے ایک دوسرے کی خوشیوں کے موقع پر بھی بھرپور طریقے سے شریک ہو کر خوشی میں اضافہ کرتے ہیں۔

جیسے ایک خاندان کے مل جل کر رہنے کے مثبت اثرات ہوتے ہیں ویسے ہی منفی پہلو بھی موجود ہوتے ہیں ہم ان کی چند بنیادی وجوہات کو بیان کریں گے۔

1۔ ہزار خوبیاں چھوڑ کر خامیوں کو پکڑ لیا جاتا ہے جو ظاہر سے سامنے والے کے دل سے محبت کو نکال دیتا ہے۔اس طرح دلوں میں ایک دوسرے کے لیے محبت کی بجائے نفرت پیدا ہوتی ہے۔

2۔ ایک دوسرے کی غیر موجودگی میں اس کی غیبت لگائی بجھائی کی نحوست ایک دوسرے کے بارے میں بدگمانی پیدا کرنا گناہوں کی تہمت لگانا کہ فلاں کی بیٹی ایسی ہے فلاں کی بیوی ویسی ہے فلاں فلاں رشتہ دار میرے خلاف سازش کر رہے ہیں فلاں کو یہ نعمت کیوں ملی؟ فلاں خوشحال کیوں ہے؟ یہ سارے انداز منفی ہیں اور واضح ہیں کہ ان کے نتائج بھی منفی ہی ہوں گے۔

3۔ منصب کے مطابق سلوک نہ کرنا بھی دوری کا سبب بنتا ہے ظاہر ہے بھکاری کو کچھ دے کر دروازے سے ہی رخصت کر دیا جاتا ہے اور معزز مہمان کو گھر میں بلا کر اہتمام کے ساتھ چائے پانی پیش کیا جاتا ہے جب ہم کسی کے حیثیت کے مطابق سلوک نہ کریں گے تو وہ خوشی سے جھومے گا یا صدمے سے چور ہوگا؟ اسی طرح اگر آپ کا بیٹا یا بیٹی اپنے سے بڑی عمر کی رشتہ دار مثلا چچا ماموں تایا سے تلخ لہجے میں بدتمیزی سے بات کرے تو اس کو روکنا سمجھانا آپ کا اخلاقی فریضہ ہے ایسے میں آپ کی خاموشی کو بڑے کی توہین پر رضامندی سمجھا جائے گا تو ظاہر ہے کہ یہ اس کی حیثیت کے خلاف ہے۔ایک اہم ترین بات یہ کہ جب اولاد اپنے سے بڑے کا ادب و احترام کرنا بھول جائے گی تو کل اس کے ہاتھ آپ کے گریبان تک بھی پہنچیں گے اس کی زبان آپ کی شان میں بھی پھول برسائے گی اس وقت آپ کو اپنی غلطی کا احساس ہوگا اس لیے ابھی وقت ہے سنبھل جائیے۔

4۔ کسی کی خوشیوں پر اسے مبارکباد نہ دینا یا غم میں اس کی دلجوئی اور ہمدردی نہ کرنا بھی رشتہ داروں میں دوری پیدا کرتا ہے۔

مصیبت آتی ہے اور اور چلی جاتی ہے لیکن انسان دو چہروں کو نہیں بھولتا ایک دکھ میں ساتھ دینے والے کو اور دوسرا ساتھ چھوڑنے والے کو اگر ہم قدرت رکھنے کے باوجود اپنے رشتہ دار کی مدد نہیں کریں گے تو اس کا دل ٹوٹے گا۔

5۔ مالدار ہونے کے بعد تکبر کا شکار ہو کر خاندان کے مالی طور پر کمزور افراد کو حقیر جاننے کی وجہ سے بھی خاندان ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہوتے ہیں۔

رشتہ داروں سے صلہ رحمی پر آقا کریم ﷺ کے تین فرامین ملاحظہ فرمائیے:

1۔ مسکین پر صدقہ کرنا ایک صدقہ ہے اور رشتہ دار پر صدقہ کرنے میں دو صدقے ہیں اور وہ صلہ رحمی ہے۔ (صحیح ابن خزیمہ،4/77، حدیث: 2385)

2۔ تم لوگ اپنے نسب ناموں کو جان لو تاکہ اس کی وجہ سے تم اپنے رشتہ داروں کے ساتھ نیک سلوک کرو یقین جانو کہ رشتہ داروں کے ساتھ نیک سلوک کرنا یہ گھر والوں میں حجت اور مال میں زیادتی اور عمر میں درازی کا سبب ہے۔ (ترمذی،3/394، حدیث: 1986)

3۔ نبی مکرم ﷺ سے دریافت کیا گیا کون سا صدقہ افضل ہے؟ تو آپ ﷺ نے فرمایا: جو کینہ پرور رشتہ دار پر کیا جائے۔ (مسند امام احمد، 5/228، حدیث: 15320)

اللہ رب العالمین سے دعا ہے کہ وہ ہمیں اپنے اہل و عیال اور خاندان والوں کے ساتھ اچھا اور نیک سلوک کرنے اور محبت کرنے کی توفیق عطا فرمائے اور ہم سب کی بے حساب مغفرت فرمائے۔ آمین