جوائنٹ
فیملی سسٹم کے مثبت و منفی پہلو از بنت فیض رسول، فیضان عطار کراچی
معاشرے کا
جائزہ لیا جائے تو یہ بات سامنے آتی ہے کہ ہمارے معاشرے میں مشترکہ خاندانی نظام
رائج ہے یعنی خاندان کے تمام لوگ ایک ہی چھت کے نیچے مشترکہ مالیاتی نظام کے تحت
رہتے ہیں مشترکہ خاندانی نظام کے فوائد سے قطع نظری نہیں لیکن اسی کے ساتھ ساتھ اس
کے نقصانات بھی ہیں جو وقتی طور پر اگر چہ گھر کے سربراہ کو نظر نہیں آتے مگر وہ
خاندان کے افراد میں اتحاد و اتفاق پیدا کرنے کے بجائے نفرتوں کا باعث بنتے ہیں۔
جو ائنٹ فیملی
سسٹم میں بزرگوں کی موجودگی برکت کا باعث ہوتی ہے۔ اولاد کو اپنے والدین کے ساتھ
وقت گزارنے ان کی خدمت کرنے کا موقع نصیب ہوتا ہے۔ احادیث مبارکہ میں بھی بزرگوں کے
حوالے سے ارشاد فرمایا گیا: برکت تمہارے بزرگوں کے ساتھ ہے۔ (مستدرک، 1/228، حدیث:218)
بڑوں کی زندگی بھر کے تجربات سے اولاد مستفید ہوتی ہے۔
مشترکہ
خاندانی نظام میں کسی بھی دکھ غم، بیماری کے وقت پورا خاندان ایک دوسرے کے ساتھ
کندھا ملاکر کھڑا ہوتا ہے، چونکہ مشترکہ خاندانی نظام میں خاندان کے سب افراد مل
کر گھریلو اخراجات اٹھاتے ہیں اس طرح اخراجات کی تقسیم کاری ہو جاتی ہے اور گھر کا
بوجھ کسی ایک فرد متعین پر عائد نہیں ہوتا بچوں کی حفاظت کے حوالے سے بے فکری ہوتی
ہے کیونکہ گھر میں بڑے موجود ہوتے ہیں جو بچوں کی دیکھ بھال کرتے ہیں جوائنٹ فیملی
میں رہنے سے بچوں میں حسن معاشرت اور خود اعتمادی بھی پیدا ہوتی ہے۔
اب جوائنٹ
فیملی سسٹم کے منفی پہلو کی طرف نظر کرتے ہوئے انہیں بھی زیر بحث لاتے ہیں، اولاد
انسان کا قیمتی سرمایہ ہوتی ہے۔ حدیث مبارکہ میں حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے
روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جب انسان فوت ہو جائے تو اس کا عمل منقطع ہو
جاتا ہے سوائے تین اعمال کے (وہ منقطع نہیں ہوتے): صدقہ جاریہ یا ایسا علم جس سے
فائدہ اٹھایا جائے یا نیک بیٹا جو اس کے لیے دعا کرے۔ (مسلم، 886، حدیث: 1631)
جوائنٹ فیملی
میں بچوں کی اچھی تربیت کرنا ایک چیلنج ہے کیونکہ والدین کی طرف سے اگرچہ بچے کو
نیکی کرنے ادب، بات کرنے کی تمیز بتائی جاتی ہے مگر گھر کے دیگر افراد کا اس طرف رجحان
نہیں تو وہ وہی چیزیں اختیار کرے گا جو وہ اپنے ماحول میں دیکھے گا۔
جب تک بھائی
چارہ،اتحاد نہیں ہوتا تب تک ایک عظیم معاشرہ قائم نہیں ہوتا اور مشترکہ خاندانی
نظام میں اختلاف رائے، سوچنے کے انداز مختلف ہونے کی بناء پر نفرتیں جنم لیتی ہیں
جو کہ ناصرف ایک ناچاقی کی صورت ہوتی ہے بلکہ بچوں کے ذہنوں پر بھی برا اثر ڈالتی
ہے۔
کسی بھی
معاشرے کی اساس وہاں بسنے والی قوم کی وحدت اور امداد باہمی پر قائم ہوتی ہے یہ
وحدت اور امداد باہمی بھائی چارے اور محبت کے بغیر مکمل نہیں ہوتی مشترکہ خاندانی
نظام میں چونکہ افراد زیادہ ہوتے ہیں لہذا اختلاف رائے ہوجانا عام سی بات ہے لیکن
اس اختلاف کو جھگڑے میں تبدیل کرلینا انا کا مسئلہ بنالینے سے گھریلو ناچاقیاں
پیدا ہوں گی اور بچوں کی تربیت پر برے اثرات مرتب ہونگے۔
اسلام ہمیں
صلہ رحمی کا درس دیتا ہے لہذا اگر پیار،محبت، اتفاق، درگزر سے کام لیتے ہوئے اگر
ایک مشترکہ خاندانی نظام چلایا جائے تو وہ باعث رحمت ہوگا کیونکہ ہم بچپن سے سنتے
آرہے ہیں کہ اتفاق میں برکت ہے۔
مذکورہ بالا
بحث سے یہ بات واضح ہوتی ہے کہ مشترکہ خاندانی نظام ہمارے معاشرے میں برکت، تعاون،
مالی سہولت اور بچوں کی تربیت کے بے شمار فوائد لئیے ہوئے ہے بزرگوں کی دعائیں اور
گھر والوں کا ساتھ کسی نعمت سے کم نہیں۔
لیکن اس نظام
کی کامیابی کا دارومدار خاندان کے افراد کے اخلاق، برداشت اور قربانی پر ہے۔ اگر
انا، ضد اور اختلاف رائے کو ہوا دی جائے تو یہی نظام اتحاد کے بجائے نفرتوں کا سبب
بن جاتا ہے اور سب سے زیادہ نقصان بچوں کی تربیت کو ہوتا ہے۔
اس لیے ضروری
ہے کہ ہم اسلام کی تعلیم صلہ رحمی اور درگزر کو اپنائیں۔ اگر ہر فرد دوسرے کے حقوق
کا خیال رکھے، بڑے انصاف کریں اور چھوٹے ادب سے پیش آئیں تو یہ مشترکہ نظام نہ صرف
ایک گھر بلکہ پورے معاشرے کے لیے رحمت بن سکتا ہے۔ کیونکہ واقعی اتفاق میں برکت ہے
اور مضبوط خاندان ہی مضبوط قوم کی بنیاد ہیں۔
Dawateislami