جوائنٹ فیملی یعنی آپس میں مل جل کر رہنے کے ہمارے زندگی پر بہت سے اثرات مرتب ہوتے ہیں اگر آپس میں پیار اور اچھے اخلاق و انداز کے ساتھ رہا جائے تو یہ ہماری زندگی کو پرسکون اور خوشگوار بناتے ہیں اور اس کے مثبت اثرات ہوتے ہیں لیکن اگر دیکھا جائے تو اسی کے برعکس اگر ہم آپس میں بغض و حسد کرتے ہوئے غیبت کرتے ہوئے ایک دوسرے سے لڑتے جھگڑتے رہیں تو یہ سب ہمارے گھروں کے مدنی ماحول کو تباہ کرتے اور ہمارے اور ہمارے بچوں کی زندگیوں پر منفی اثرات مرتب کرتے ہیں اسی لیے کہا جاتا ہے کہ جوائنٹ فیملی کے مثبت اثرات ہیں تو اس کے برعکس منفی اثرات بھی موجود ہیں۔

جوائنٹ فیملی کے مثبت اثرات: آپس میں مل جل کر رہنے سے بچوں کی اچھی تربیت ہوتی ہے کیونکہ اس طرح جب چھوٹے بڑے مل کر رہتے ہیں تو چھوٹے اپنے ہر کام میں اپنے بڑوں سے رہنمائی کرواتے ہیں اور بڑے ان کو ایسی تجویز پیش کرتے ہیں جو ان کے لیے مناسب ہو کیونکہ بچوں کو کی جو اچھی تربیت ہے وہ بہت ہی اہمیت کی حامل ہے اگر ان کی تربیت اچھی ہوگی تو یہ ہمارے قوموں ملک اور دین کے لیے ترقی کا واحد ذریعہ ہے اور دین اسلام کی شمع جلانے کا بھی ایک واحد ذریعہ ہے اور اپنے والدین کا نام روشن کرنے کا بھی، جیسا کہ حدیث پاک میں ہے: حضرت جابر بن سمرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ حضور پاک ﷺ نے فرمایا: انسان کا اپنے بچے کو ادب سکھانا ایک صادق صدقہ کرنے سے بہتر ہے۔ (تربیت اولاد، ص 188)

ایک اور جگہ آپ ﷺ نے فرمایا: کسی باپ نے اپنے بیٹے کو اچھا ادب سکھانے سے بڑھ کر کوئی عطیہ نہیں دیا۔ (تربیت اولاد، ص 119)

اسی لیے والدین کو چاہیے کہ اپنے بچوں کی اچھی تربیت کریں اور یہ مل جل کر پیار و محبت سے رہنے کے ساتھ ہی ممکن ہے اس طرح ایک فائدہ یہ بھی ہے کہ آپس میں مل کر پیار سے رہنے سے گھر امن کا گہوارہ بنتا ہے مشکل وقت میں ایک دوسرے کی مدد کی جا سکتی ہے خوشی غمی کہ موقع پر ایک دوسرے کا ساتھ دیا جا سکتا ہے۔

جوائنٹ فیملی کے منفی اثرات: جوائنٹ فیملی کا ایک منفی اثر تو یہ ہے کہ ایک دوسرے کے غیبت و چغلی کی بہت کثرت ہوتی ہے کیونکہ جب ہم محفلیں لگا کر بیٹھ جاتے ہیں تو کئی کئی گھنٹوں تک فضول گفتگو کرتے اور معاذ اللہ نازیبا کلمات اور اس طرح غیبت چغلی اور ریاکاری جیسے گناہوں میں مبتلا ہوتے ہیں ایک دوسرے کے ساتھ رہنے سے ان کے بارے میں معلومات ہوتی ہے اگر انہیں کوئی کامیابی ملے تو اس سے ہمارے دلوں میں حسد پیدا ہوتا ہے اسی طرح لڑائی جھگڑے ہوتے ہیں جن سے گھروں کا ماحول اور ذہنی سکون برباد ہوتا ہے ایک دوسرے کو طعن اور تشنیع کا نشانہ بنایا جاتا ہے۔

بچوں پر بھی اس کے بہت منفی اثرات مرتب ہوتے ہیں، جیسا کہ غیبت اور چغلی کی مذمت قرآن پاک میں بھی فرمائی گئی: وَ لَا یَغْتَبْ بَّعْضُكُمْ بَعْضًاؕ-اَیُحِبُّ اَحَدُكُمْ اَنْ یَّاْكُلَ لَحْمَ اَخِیْهِ مَیْتًا فَكَرِهْتُمُوْهُؕ-وَ اتَّقُوا اللّٰهَؕ-اِنَّ اللّٰهَ تَوَّابٌ رَّحِیْمٌ(۱۲) (پ 26، الحجرات:12) ترجمہ کنز الایمان: اور ایک دوسرے کی غیبت نہ کرو کیا تم میں کوئی پسند رکھے گا کہ اپنے مرے بھائی کا گوشت کھائے تو یہ تمہیں گوارا نہ ہوگا اور اللہ سے ڈرو بے شک اللہ بہت توبہ قبول کرنے والا مہربان ہے۔

حدیث مبارکہ میں ہے: طعنہ زنی غیبت چغلی خوری اور بے گناہ لوگوں کے عیب تلاش کرنے والوں کو اللہ پاک قیامت کے دن کتوں کی شکل میں اٹھائے گا۔ (گناہوں کی معلومات، ص 55)

حسد کے متعلق بھی آیت مبارکہ ہے: یَحْسُدُوْنَ النَّاسَ عَلٰى مَاۤ اٰتٰىهُمُ اللّٰهُ مِنْ فَضْلِهٖۚ- (پ5، النساء: 54) ترجمہ: لوگوں سے حسد کرتے ہیں اس پر جو اللہ نے انہیں اپنے فضل سے دیا۔

فرامینِ مصطفیٰ ﷺ ہے: حسد سے دور رہو، کیونکہ حسد نیکیوں کو اس طرح کھا جاتا ہے جس طرح آگ خشک لکڑی کو۔ (گناہوں کی معلومات، ص 128)

اللہ کریم سے دعا ہے کہ اللہ پاک ہم سب کو مل جل کر پیار و محبت سے گزر بسر کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین