خاندان معاشرے کی بنیادی اکائی ہے ایک مضبوط اور خوشحال معاشرہ اسی وقت وجود میں آتا ہے جب اس کے خاندان مضبوط ہوں ہمارے معاشرے میں قدیم زمانے سے جوائنٹ فیملی سسٹم رائج ہے اس نظام میں دادا دادی تایا تائی چچا چچی والدین اور ان کے بچے ایک ہی گھر میں ایک ہی صحن میں مل کر رہتے ہیں اسے جوائنٹ فیملی سسٹم کہا جاتا ہے۔ لیکن موجودہ دور میں جوائنٹ فیملی سسٹم کے ساتھ بعض مسائل بھی پیدا ہوتے ہیں اس لیے جوائنٹ فیملی سسٹم کے مثبت پہلو بھی ہوتے ہیں اور منفی بھی اور ان میں سے درج ذیل یہ ہیں۔

جوائنٹ فیملی سسٹم کے مثبت پہلو: جوائنٹ فیملی سسٹم کا سب سے بڑا اور اچھا فائدہ یہ ہے کہ خاندان کے افراد ایک دوسرے کے دکھ سکھ میں شریک ہوتے ہیں اگر گھر کے کسی بھی افراد کو کوئی مشکل آجائے تو گھر کے دوسرے افراد اس کی مدد کرتے ہیں اور اس کا ساتھ دیتے ہیں اسی طرح کسی ایک شخص پر ذمہ داریوں کا بوجھ نہیں پڑتا ہے اور تمام افراد خوشحال اور پرسکون زندگی بسر کرتے ہیں اور جوائنٹ فیملی سسٹم کے ذریعے سے بچوں کی تربیت بہتر اور اچھے انداز میں ہوتی ہے دادا دادی اور گھر کے دوسرے بزرگ اپنے تجربات کی روشنی میں بچوں کو ادب و احترام سچائی صبر اور دینی تعلیمات سکھاتے ہیں جوائنٹ فیملی سسٹم سے بچے اپنے بڑوں کا احترام کرنا ان کی خدمت کرنا اور رشتہ داروں کا احترام کرنا سیکھتے ہیں۔

جوائنٹ فیملی سسٹم میں کسی ایک شخص پر ذمہ داریوں کا بوجھ نہیں ہوتا کیونکہ اس میں اخراجات کو تقسیم کر دیا جاتا ہے اور اگر گھر کے تمام افراد روزگار کرتے ہوں تو گھر کے مالی معاملات آسانی سے چلتے ہیں اور جوائنٹ فیملی سسٹم کی سب سے اچھی بات یہ ہے کہ شادی بیماری یا دیگر ضروری مواقع پر سب ایک دوسرے کا ساتھ دیتے ہیں اور سہارا بنتے ہیں جوائنٹ فیملی سسٹم سے بچے بور نہیں ہوتے اور تنہائی محسوس نہیں کرتے وہ اپنے بہن بھائیوں اور کزنز کے ساتھ پڑھتے کھیلتے اور ایک دوسرے کی مدد کرتے اور ساتھ دیتے ہیں اس سے محبتوں میں بھی اضافہ ہوتا ہے۔

جوائنٹ فیملی سسٹم کے منفی پہلو: اگرچہ اس نظام میں بہت سے فائدے بھی ہیں لیکن بعض اس سسٹم کے منفی پہلو بھی موجود ہیں سب سے اہم مسئلہ پردے کا ہے جوائنٹ فیملی سسٹم میں رہنے کی وجہ سے پردے کا بہت مسئلہ ہوتا ہے مثال کے طور پر اگر تایا جان اور چچا جان کے خاندان ایک ہی گھر میں رہتے ہوں اور ان کے بیٹے اور بیٹیاں بالغ ہو جائیں تو اس سے پردے میں دشواری پیش آسکتی ہے، اسلام میں چچازاد اور تایازاد بھائی بہن محرم نہیں ہوتے اس لیے ان کے درمیان پردے کے احکام موجود ہیں اگر گھر میں پردے کا مناسب اور بہتر انتظام نہ ہو تو خواتین کو مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔

اور پردے کے بارے میں قرآن پاک میں حکم ہوا: یٰۤاَیُّهَا النَّبِیُّ قُلْ لِّاَزْوَاجِكَ وَ بَنٰتِكَ وَ نِسَآءِ الْمُؤْمِنِیْنَ یُدْنِیْنَ عَلَیْهِنَّ مِنْ جَلَابِیْبِهِنَّؕ-ذٰلِكَ اَدْنٰۤى اَنْ یُّعْرَفْنَ فَلَا یُؤْذَیْنَؕ-وَ كَانَ اللّٰهُ غَفُوْرًا رَّحِیْمًا(۵۹) (پ 22، الاحزاب: 59) ترجمہ: اے نبی اپنی بیویوں اور صاحبزادیوں اور مسلمانوں کی عورتوں سے فرما دو کہ اپنی چادروں کا ایک حصہ اپنے منہ پر ڈالے رہیں یا اس سے نزدیک تر ہے کہ ان کی پہچان ہو تو ستائی نہ جائیں اور اللہ بخشنے والا مہربان ہے۔

اسی طرح جوائن فیملی سسٹم سے بعض اوقات گھریلو معاملات میں اختلافات پیدا ہو جاتے ہیں اور لڑائی وغیرہ ہونے لگتی ہے۔ بچوں کی تربیت اخراجات اور گھریلو فیصلوں پر رائے مختلف ہونے کی وجہ سے جھگڑے پیدا ہو جاتے ہیں بعض افراد دوسروں کے معاملات میں ضرورت سے زیادہ مداخلت کرتے ہیں جس سے گھر کا سکون متاثر ہوتا ہے اور بعض اوقات نوجوان اپنی مرضی کے مطابق فیصلے نہیں کر سکتے ہیں کیونکہ زیادہ تر فیصلے خاندان کے بزرگ کرتے ہیں اور جوائنٹ فیملی سسٹم میں بچوں کی بات کو اہمیت نہیں دی جاتی اور نہ ہی ان کی رائے لی جاتی ہے جس کی وجہ سے بچے بدتمیزی پر اتر جاتے ہیں اور ان کا رویہ اپنے بڑوں کے ساتھ اچھا نہیں ہوتا اسی طرح جوائنٹ فیملی سسٹم سے بہوں کے درمیان اختلافات بھی ہو جاتے ہیں جو پورے خاندان کے ماحول کو متاثر کرتے ہیں اور گھر کا سکون بھی برباد کرتے ہیں۔

جوائن فیملی سسٹم کو کامیاب بنانے کا طریقہ: جوائن فیملی سسٹم اس صورت میں کامیاب ہو سکتا ہے جب گھر کے تمام افراد ایک دوسرے کا ادب و احترام کرے برداشت اور صبر و تحمل سے کام لے اور آپس میں ایک دوسرے کے معاملات میں بلا وجہ مداخلت نہ کرے اور گھریلو ذمہ داریاں انصاف کے ساتھ تقسیم کریں اور اسلامی احکام خصوصا پردے اور حسن اخلاق پر عمل کرنا چاہیے۔