اسلام ایک مکمل دین ہے جو اپنے ماننے والوں کو زندگی کے تمام معاملات میں رہنمائی کرتا ہے چاہے معاشرتی زندگی ہو یا نجی یا خاندانی یوں ہر پہلو میں اسلام میں مکمل رہنمائی موجود ہے کچھ لوگوں کی سوچ یہ ہے کہ صرف نماز قرآن اور دیگر عبادات ہی میں دین اسلام رہنمائی کرتا ہے تو یہ سوچ غلط ہے انسان کے پیدا ہونے سے لیکر مرنے تک بلکہ مرنے کے بعد والی زندگی غرض ہر ہر سانس میں اچھی اور مفید رہنمائی موجود ہے ان معاملات میں ایک جوائنٹ فیملی سسٹم ہے عموماً لوگ علیحدہ گھر میں رہنا پسند کرتے ہیں مگر بعض لوگ خاندانی نظام کو فروغ دیتے ہیں جس طرح تصویر کے دو رخ ہیں اچھا اور برا اسی طرح جوائنٹ فیملی سسٹم میں مثبت پہلو بھی ہیں اور منفی پہلو بھی۔

آ ئیے ان کے مثبت اور منفی پہلو پر نظر ڈالتے ہیں:

مثبت پہلو:

باہمی محبت میں اضافہ: جب خاندان کے افراد آ پس میں اچھے اخلاق و رویہ اختیار کرتے ہیں ایک دوسرے معاملات پر دوسروں کو ترجیح دیتے ہیں ایثار و قربانی دینے ہیں اس میں افراد میں محبت میں اضافہ ہوتا ہے مضبوط خاندانی نظام کو فروغ ملتا ہے مل کر کھانا کھانے اور آ نے جانے اور گھر کے کاموں میں ہاتھ بٹاتے ہیں تو محبتیں و احساسات کی فضا پیدا ہوتی ہے۔

ٹیم ورک کی صلاحیت پیدا ہوتی ہے: خاندان کے افراد کا آ پس میں کام تقسیم کرنا کاموں کا وقت مقرر ہونا نیز سونے جاگنے کے اوقات سے لیکر گھر اور باہر کے کاموں میں management کا ہونا یہ افراد کے اندر ٹیم ورک کی صلاحیت پیدا کرتا ہے اس طرح کئی صلاحیتیں ابھرتی ہیں اور بڑھتی ہیں کیونکہ صلاحیتں بڑھنے کے کئی مواقع ملتے ہیں اس کے علاؤہ ٹیم ورک میں قومت برداشت کا ہونا ضروری ہے یہ بھی اچھے انداز سے پروان چڑھتی ہے۔

والدین کی اچھے سے دیکھ بھال: جب والدین بچوں کی شادیاں کرنے کے بعد عموما جسمانی طور پر کمزور ہو جاتے ہیں انہیں خدمت و دیکھ بھال کی پہلے سے زیادہ ضرورت ہوتی ہے اس طرح سب بچے مل کر اپنے والدین کی مالی اور جسمانی خدمت آ سانی سے کر لیتے ہیں اور کسی بھی دیکھ بھال کا بوجھ نہیں آ تا جب سب بچے الگ رہ رہے ہوتے ہیں ایک بچے پر والدین کی خدمت کا بوجھ آ جاتا ہے اور وہ آ زمائش میں آ جاتا ہے اور دوسرے بچوں کو ان کی خدمت سے محرومی ہو جاتی ہے۔

مالی استحکام: جب افراد مل کر رہ رہے ہوتے ہیں گھریلو معاملات مثلا بجلی گیس کے بل سودا سلف اور دیگر اخراجات وغیرہ تقسیم ہو جاتےہیں اور سب آ سانی سے ادا کر لیتے ہیں اور کسی پر بوجھ نہیں آ تا اس طرح خلوص واحترام جیسے جذبات پیدا ہوتے ہیں۔

بچوں کی تربیت کا بہترین ذریعہ: جوائنٹ فیملی سسٹم میں بچے بڑوں کا ادب اور چھوٹوں پہ شفقت کرنا اور اس طرح کے اچھی عادات سیکھتے ہیں اور کسی انداز سے کرنا ہے یہ بھی دیکھتے ہیں اور یہ خوبصورت تربیفت اگلی نسلوں میں منتقل ہوتی ہے جو اچھے اثرات چھوڑتی ہے۔

آ ئیے اب منفی پہلوؤں پر گفتگو کرتے ہیں:

بےانصافی: جب ایک اولاد کو زیادہ توجہ محبت اور مال اور وقت دی جائے تو دوسرے بچوں کی حق تلفی ہوتی ہے اس سے بے انصافی کے گناہ میں مبتلا ہوں گے اور خاندان کی جڑیں کمزور ہو جائیں گی اور رشتے ختم ہوجانے کا سبب بنیں گے۔

بے پردگی: جب افراد مل کر رہ رہے ہوتے ہیں تو عموما بے پردگی اور نامحرموں دیور جیٹھ وغیرہ سے بے تکلفی جیسے گناہ میں مبتلا ہوں گے نتیجۃً بیوی کا شوہر سے میلان کم اور نامحرموں سے زیادہ ہونا شروع ہو جائے گا اور فسادات بڑھیں گے مگر باپردہ اور عورتوں اور مردوں کے لیے الگ نشستوں کا نظام ہو گا تو شریعت پر عمل اور فسادات سے محفوظ رہیں گے۔

نفرتیں بڑھنا: جب ایک دوسرے کے ساتھ اچھا سلوک کرنے کے بجائے برے گمان اور ایک دوسرے کا لڑوانے کا منفی ذہن ہوگا تو نفرتیں بڑھیں ایک دوسرے کے ساتھ نبھانے اور ساتھ چلنے کا جذبہ دم توڑے گا تو مل کر رہنے مین مشکلات اور رکاوٹیں آ ئیں گی

بچوں کی وجہ سے لڑائی کرنا۔

عموماً مائیں بچوں کی لڑائی پر ان کی بات مان کر آپس میں جھگڑے کرتی ہیں جس سے بچوں پر غلط اثر نیز بڑوں کے بھی دل دور ہو نا شروع ہو جائیں گے سکون برباد ہوگا اور ساتھ رہنے میں دشواری ہو گی۔