خاندان کسی
بھی معاشرے کی بنیادی اکائی ہے اور اس کی مضبوطی ہی ایک مضبوط معاشرے کی ضمانت
ہوتی ہے ہمارے معاشرے میں جوائنٹ فیملی سسٹم ایک معروف خاندانی نظام ہے جس کے
ذریعہ افراد خاندان باہمی محبت تعاون اور صلہ رحمی کے مواقع حاصل کرتے ہیں البتہ
اس کے مثبت اور منفی دونوں پہلو ہیں جن کی اصلاح اسلامی تعلیمات کی روشنی میں ممکن
ہے اس کے کئی مثبت پہلو بھی ہیں جس کی طرف توجہ کی جائے تو خاندان باہمی محبت و
تعاون سے رہ سکتے ہیں ان میں سے چند نمایاں حیثیت رکھتے ہیں جو قابل ذکر بھی ہیں
جیسے جوائنٹ فیملی سسٹم میں والدین و بزرگوں کی خدمت کے کئی مواقع حاصل ہوتے ہیں
ان کے ساتھ حسن سلوک کا حکم تو قران و حدیث میں بھی ہے جیسے اللہ پاک قرآن پاک میں
ارشاد فرماتا ہے: وَّ بِالْوَالِدَیْنِ اِحْسَانًا (پ 5، النساء: 36) ترجمہ: اور
ماں باپ کے ساتھ بھلائی کرو۔
اسی طرح
جوائنٹ فیملی سسٹم میں بزرگوں کا ساتھ نصیب ہوتا ہے جن سے ان سے برکتیں حاصل کی جا
سکتی ہیں حدیث پاک میں حضور پر نور ﷺ نے ارشاد فرمایا: برکت تمہارے بزرگوں کے ساتھ
ہے۔ (مستدرک، 1/228، حدیث:218)
قرآن و حدیث
کے مطابق والدین اور گھر کے اکابرین کے ساتھ حسن سلوک کرنا ان کا ادب و احترام
کرنا نیکی کا کام ہے نیز مشترکہ خاندانی نظام صلہ رحمی کے مواقع فراہم کرتا ہے
رشتہ داروں میں محبت اور تعلق مضبوط ہوتا ہے نیز اخراجات میں معاونت اور وسائل کا
بہتر استعمال کرنے کا ذریعہ ہے صلہ رحمی کے متعلق فرمان مصطفیٰ ﷺ ہے: جو چاہے کہ
اس کے رزق میں وسعت دی جائے اور اس کی موت میں دیر کی جائے تو وہ صلہ رحمی کرے۔ (بخاری،4/97،
حدیث:5985)
مل جل کر رہنے
اور ساتھ کھانے کے متعلق حدیث پاک میں مذکور ہے کہ دو کا کھانا تین کو تین کا
کھانا چار کو کافی ہے نیز مسلمانوں کے دوسرے خلیفہ حضرت عمر فاروق اعظم رضی اللہ
عنہ روایت کرتے ہیں کہ سرکار مدینہ ﷺ کا فرمان برکت نشان ہے کہ اکٹھے ہو کر کھاؤ
الگ الگ نہ کھاؤ کہ برکت جماعت کے ساتھ ہے۔ (ابن ماجہ،4/21، حدیث: 3287)
ان تمام دلائل
پر نظر کریں تو اسلامی طرز زندگی کو اپناتے ہوئے جوائن فیملی سسٹم میں رہنا باعث
اجر و ثواب و بابرکت ہو سکتا ہے لیکن اگر اسلامی و شرعی طریقے کے مطابق عمل نہ کیا
جائے تو بعض ایسے پہلو بھی پائے جاتے ہیں جو اس نظام کی افادیت کو متاثر کر سکتے
ہیں ان خامیوں کی بروقت اصلاح نہ کی جائے تو خاندانی تعلقات میں کشیدگی پیدا ہو
سکتی ہے اگر خاندان کی اسلامی تعلیمات کے مطابق تربیت نہ ہو تو کئی منفی پہلو
سامنے آسکتے ہیں جیسے بےپردگی، دیور جیٹھ دیگر غیر محرم کزنز کا آپس میں بے تکلف
ہونا بعض اوقات مشترکہ خاندانی نظام میں محرم و نامحرم کے احکام اور پردے کے
تقاضوں کو نظر انداز کر دیا جاتا ہے جس سے شرعی قباحتیں پیدا ہونے کا اندیشہ رہتا
ہے جبکہ عورت کی بے پردگی موجب غضب الہی اور سبب تباہی ہے جیسا کہ اللہ تبارک و
تعالیٰ نے قران مجید میں ارشاد فرمایا: وَ لَا یَضْرِبْنَ بِاَرْجُلِهِنَّ لِیُعْلَمَ مَا
یُخْفِیْنَ مِنْ زِیْنَتِهِنَّؕ- (پ 18، النور: 31) ترجمہ کنز الایمان: اور
زمین پر پاؤں زور سے نہ رکھیں کہ جانا جائے ان کا چھپا ہوا سنگار۔
جوائنٹ فیملی
سسٹم میں غیر محرم سے سامنا ہونے کے امکانات زیادہ ہوتے ہیں، لہذا پردے کے احکام
کا خصوصی خیال رکھنا چاہیے اس طرح منفی پہلو کی اگر بات کریں تو بعض اوقات خاندان
کے افراد ایک دوسرے کے ذاتی معاملات میں غیر ضروری مداخلت کرنے لگتے ہیں جس سے دل
آزاری اور اختلافات پیدا ہوتے ہیں مشترکہ رہائش کے باعث بعض اوقات اپس میں موازنہ
حسد بدگمانی غیبت جیسی برائیاں جنم لیتی ہیں جو خاندانی محبت کو متاثر کرتی ہیں
بعض گھروں میں افراد ایک دوسرے کے شرعی اور معاشرتی حقوق کا خیال نہیں رکھتے جس کے
نتیجے میں ناانصافی اور ناراضی پیدا ہوتی ہے۔
غیبت کی مذمت
کے متعلق ارشاد باری تعالیٰ ہے: وَ لَا یَغْتَبْ بَّعْضُكُمْ بَعْضًاؕ-اَیُحِبُّ اَحَدُكُمْ
اَنْ یَّاْكُلَ لَحْمَ اَخِیْهِ مَیْتًا فَكَرِهْتُمُوْهُؕ-وَ اتَّقُوا اللّٰهَؕ-اِنَّ
اللّٰهَ تَوَّابٌ رَّحِیْمٌ(۱۲) (پ 26، الحجرات:12) ترجمہ کنز الایمان:
اور ایک دوسرے کی غیبت نہ کرو کیا تم میں کوئی پسند رکھے گا کہ اپنے مرے بھائی کا
گوشت کھائے تو یہ تمہیں گوارا نہ ہوگا اور اللہ سے ڈرو بے شک اللہ بہت توبہ قبول
کرنے والا مہربان ہے۔
حسد کے بارے
میں سنن ابی داؤد میں مروی ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا: حسد سے بچتے رہو کیونکہ
حسد نیکیوں کو اس طرح کھا جاتا ہے جس طرح آگ لکڑیوں کو کھا جاتی ہے۔ (ابوداود،
4/276، حدیث: 4903)
لہذا جوائنٹ
فیملی سسٹم میں رہنے کے لیے قبیح افعال کے بارے میں علم حاصل کرنا اور ان جیسے
منفی پہلوؤں سے بچنا لازمی ہے۔
Dawateislami