جوائنٹ
فیملی سسٹم کے مثبت و منفی پہلو از بنت اسلام،نواں پنڈ آرائیاں سیالکوٹ
خاندان معاشرے
کی بنیادی اکائی ہے۔ اسلامی معاشرے میں جوائنٹ فیملی سسٹم کو ہمیشہ اہمیت حاصل رہی
ہے۔ اس نظام میں خاندان کے متعدد افراد ایک ساتھ رہتے ہیں اور ایک دوسرے کے حقوق و
فرائض ادا کرتے ہیں۔ جوائنٹ فیملی کے بہت سے فوائد ہیں، تاہم بعض اوقات اس کے کچھ
منفی اثرات بھی سامنے آتے ہیں۔
جوائنٹ فیملی
کی تعریف: جوائنٹ فیملی اس خاندانی نظام کو کہتے ہیں جس میں دادا، دادی، والدین،
چچا، تایا، پھوپھیاں اور دیگر قریبی رشتہ دار ایک ہی گھر یا مشترکہ نظام کے تحت
زندگی گزارتے ہیں۔
جوائنٹ
فیملی کی اہمیت: خاندان
میں اتحاد و اتفاق پیدا ہوتا ہے۔ بزرگوں کی عزت اور خدمت کا موقع ملتا ہے۔ اسلامی
اقدار اور روایات محفوظ رہتی ہیں۔ افراد میں احساسِ ذمہ داری پیدا ہوتا ہے۔ صلہ
رحمی کو فروغ ملتا ہے۔
جوائنٹ
فیملی کے مثبت اثرات:
1۔
باہمی تعاون: گھر
کے افراد ایک دوسرے کے دکھ سکھ میں شریک ہوتے ہیں اور مشکل حالات میں مدد فراہم
کرتے ہیں۔
2۔
احساسِ تحفظ: خاندان
کے افراد خود کو تنہا محسوس نہیں کرتے بلکہ انہیں ہر وقت سہارا میسر رہتا ہے۔
3۔
محبت اور بھائی چارہ: مشترکہ رہائش سے آپس میں محبت، اخوت اور ہمدردی کے
جذبات پیدا ہوتے ہیں۔
بزرگوں
کی سرپرستی اور تربیت: بزرگ افراد اپنی زندگی کے تجربات نوجوان نسل تک
منتقل کرتے ہیں۔ بچوں کی اخلاقی اور دینی تربیت بہتر انداز میں ہوتی ہے۔ خاندان
میں احترامِ بزرگاں کا جذبہ پیدا ہوتا ہے۔ اسلامی آداب سیکھنے کا موقع ملتا ہے۔
معاشی
فوائد: گھریلو
اخراجات تقسیم ہو جاتے ہیں۔ وسائل کا بہتر استعمال ہوتا ہے۔ مالی مشکلات میں
خاندان کے افراد ایک دوسرے کا سہارا بنتے ہیں۔ کم آمدنی والے افراد کو بھی مدد
حاصل ہوتی ہے۔
سماجی
فوائد: رشتہ
داروں کے تعلقات مضبوط ہوتے ہیں۔ بچوں میں سماجی مہارتیں پیدا ہوتی ہیں۔ صبر،
برداشت اور ایثار کا جذبہ فروغ پاتا ہے۔ خاندان معاشرے کے لیے ایک مثالی نمونہ
بنتا ہے۔
جوائنٹ
فیملی کے منفی اثرات:
1۔
نجی زندگی میں کمی: زیادہ افراد کے ساتھ رہنے کی وجہ سے بعض اوقات ذاتی
آزادی اور رازداری متاثر ہوتی ہے۔
2۔
اختلافات کا پیدا ہونا: گھریلو معاملات میں مختلف آراء کی وجہ سے جھگڑے اور
غلط فہمیاں پیدا ہو سکتی ہیں۔
3۔
مداخلت: بعض
اوقات خاندان کے افراد ایک دوسرے کے ذاتی معاملات میں غیر ضروری مداخلت کرتے ہیں۔ اخراجات
اور آمدنی کے معاملات پر اختلافات پیدا ہو سکتے ہیں۔
ذمہ
داریوں کی غیر مساوی تقسیم: کبھی بعض افراد پر زیادہ کام کا بوجھ آ
جاتا ہے جبکہ بعض کم ذمہ داریاں ادا کرتے ہیں۔
حسد
اور مقابلہ بازی: اولاد،
تعلیم یا مالی حیثیت کے حوالے سے حسد کے جذبات پیدا ہو سکتے ہیں۔
Dawateislami