مجاہد کی تعریف: لفظ مجاہد عربی زبان کے لفظ جہد سے نکلا ہے،جس کے معنی کوشش اور مشقت کے ہیں۔ اصطلاح میں مجاہد اس کو کہتے ہیں جو اللہ پاک کی راہ میں حق کی سربلندی،سچائی کے فروغ یا اپنے وطن اور مظلوموں کی حفاظت کے لیے جدو جہد اور جہاد کرے۔

قرآن مجید میں اللہ پاک نے مجاہدین کی فضیلت اور محبت کو بیان فرمایا ہے ارشاد فرمایا: اِنَّ اللّٰهَ یُحِبُّ الَّذِیْنَ یُقَاتِلُوْنَ فِیْ سَبِیْلِهٖ صَفًّا كَاَنَّهُمْ بُنْیَانٌ مَّرْصُوْصٌ(۴) (پ 28، الصف: 4) ترجمہ: بیشک اللہ ان لوگوں سے محبت کرتا ہے جو اس کی راہ میں (یوں) صف بستہ ہو کر لڑتے ہیں گویا وہ ایک ایسسہ پلائی ہوئی دیوار ہیں۔

نبی کریم ﷺ کی مجاہدین اسلام سے محبت بے مثال اور لازوال تھی۔ آپ ﷺ نے مجاہدین کو اللہ کی راہ میں امت کا بہترین طبقہ قرار دیا اور انکو دنیا و آخرت کی کامیابی کی خوشخبری سنائی۔

مجاہدین کے لئے دعا اور رشک کا اظہار: آپ مجاہدین کے مقام پر اس حد تک رشک فرماتے تھے کہ خود بار بار جام شہادت نوش کرنے کی تمنا کرتے تھے۔ اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے! میری یہ خواہش ہے کہ میں اللہ کی راہ شہید کیا جاؤں،پھر زندہ کیا جاؤں،پھر کیا جاؤں۔ (ابن ماجہ،3/335، حدیث: 2753)

مجاہدین کے اہل و عیال کی کفالت اور محبت: آپﷺ نے مجاہدین کے پیچھے ان کے گھر والوں کا خیال رکھنے کو خود جہاد کے برابر قرار دیتے تھے اور اس میں کوتاہی کرنے والوں کو سخت تنبیہ فرماتے تھے۔ جس نے کسی مجاہد کو جہاد کا سامان تیار کر کے دیا اس نے بھی جہاد کیا، اور جو کسی مجاہد کے پیچھے اس کے گھر والوں کی خیر خواہی کے ساتھ دیکھ بھال کرے،اس نے جہاد کیا ۔ (بخاری، 2/267، حدیث: 2843)

غزوہ احد کے شہدا اور زخمیوں سے محبت: غزوہ احد کے موقع پر حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ کے والد شہید ہوئے تو آپ ﷺ نے انکی تسلی کے لیے فرمایا:جابر کیا میں تمہیں نہ بتاؤں کہ اللہ نے تمہارے والد سے کسی طرح بات کی؟ اللہ نے جب بھی کسی سے بات کی تو پردے کے پیچھے سے کی لیکن تمہارے والد سے آمنے سامنے بات کی اور فرمایا، اے میرے بندے تمنا کر میں تجھے عطا کروں گا، (ابن ماجہ،3/361، حدیث: 2800)آپ ﷺ نے فرمایا: دو آنکھوں کو جہنم کی آگ نہیں چھوئے گی: ایک وہ جو اللہ پاک کے خوف سے روئے اور دوسری جو اللہ پاک کی راہ میں پہرہ دیتے ہوئے رات گزارے۔ (ترمذی، 3/239،حدیث:1645)

آقا جان ﷺ مجاہدین سے بے پناہ محبت فرماتے تھے غزوات کے دوران انکے حال و احوال دریافت فرماتے انکی تیمارداری کرتے تھے ان سے نہایت محبت و الفت کا اظہار فرمایا کرتے تھے ہم پر بھی لازم ہے کہ مجاہدین سے محبت کریں ان کے خون کے ہر ہر قطرے کی قدر دانی کریں انکی سیرت کو اپنی عملی زندگی میں اپنائیں۔