جن خوش نصیبوں نے ایمان کی حالت میں حضور ﷺ سے ملاقات کی اور ایمان پر ہی ان کا خاتمہ ہوا ان خوش نصیبوں کو صحابی کہتے ہیں۔ (نخبۃ الفکر، ص 11)

صحابی رسول ہونا اللہ پاک کی بہت بڑی نعمت ہے، کوئی بڑے سے بڑا ولی بھی کسی صحابی کے درجے کو نہیں پہنچ سکتا۔

آیت مبارکہ ہے: لَا یَسْتَوِیْ مِنْكُمْ مَّنْ اَنْفَقَ مِنْ قَبْلِ الْفَتْحِ وَ قٰتَلَؕ-اُولٰٓىٕكَ اَعْظَمُ دَرَجَةً مِّنَ الَّذِیْنَ اَنْفَقُوْا مِنْۢ بَعْدُ وَ قٰتَلُوْاؕ-وَ كُلًّا وَّعَدَ اللّٰهُ الْحُسْنٰىؕ- (پ 27، الحدید: 10) ترجمہ کنز الایمان: تم میں برابر نہیں وہ جنہوں نے فتحِ مکہ سے قبل خرچ اور جہاد کیا وہ مرتبہ میں اُن سے بڑے ہیں جنہوں نے بعد فتح کے خرچ اور جہاد کیا اور ان سب سے اللہ جنت کا وعدہ فرماچکا ہے۔

اس آیت مبارکہ میں اللہ پاک نے تمام صحابہ کرام سے جنت کا وعدہ فرمایا ہے۔

حضور ﷺ کی مجاہدین صحابہ سے محبت: نبی کریم ﷺ اپنے تمام صحابہ کرام سے محبت فرماتے تھے چنانچہ حضور ﷺ نے جنگ خندق کے موقع پر جب کفار مدینہ کا محاصرہ کیے ہوئے تھے اور کسی کے لئے شہر سے باہر نکلنا دشوار تھا تین بار ارشاد فرمایا کہ کون ہے جو قوم کفار کی خبر لائے تینوں مرتبہ حضرت زبیر بن عوام نے جو حضور ﷺ کی پھوپھی کے فرزند ہیں یہ کہا کہ میں یا رسول اللہ ﷺ خبر لاؤں گا حضرت زبیر کی جان نثاری سے خوش ہوکر حضور ﷺ نے فرمایا کہ ہر نبی کے لیے حواری ہوتے ہیں اور میرا حواری زبیر ہے اسی طرح حضرت زبیر کو بارگاہ رسالت سے حواری کا خطاب ملا جو کسی دوسرے صحابی کو نہیں ملا۔ (بخاری، 3/54، حدیث: 4113)

اسی طرح حضرت سعد رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ حضور ﷺ نے یوم احد میں میرے لئے اپنے والدین کو جمع فرمایا یعنی فرمایا تم پر میرے ماں باپ قربان اسی طرح اسی طرح جو صحابہ کرام جنگ بدر کے جہاد میں شریک ہو گئے اور تمام صحابہ میں ایک خصوصی شرف کے ساتھ ممتاز ہیں اور ان خوش نصیبوں کے فضائل میں ایک بہت ہی عظیم الشان فضیلت یہ ہے کہ ان سعادت مندوں کے بارے میں حضور ﷺ نے فرمایا کہ بے شک اللہ تعالی اہل بدرسے واقف ہے اور اس نے یہ فرما دیا ہے کہ تم اب جو عمل کرو بلاشبہ تمہارے لئے جنت واجب ہو چکی ہے یا یہ فرمایا کہ میں نے تمہیں بخش دیا۔ (بخاری، 3/12، حدیث: 3983)

حضرت ہلال بن انس سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے حضرت زید و جعفر اور ابن رواحہ کے وصال کی خبر آنے سے پہلے ہی ان کی وفات کی خبر دی اور فرمایا: زید نے جھنڈا لیا وہ شہید ہو گئے پھر جعفر نے جھنڈا لیا وہ بھی شہید ہوگئے پھر ابن رواحہ نے جھنڈا لیا وہ بھی شہید ہو گئے اور آپ ﷺ کی آنکھوں سے آنسو جاری تھے یہاں تک کہ جھنڈا اس شخص نے لیا جو اللہ کی تلواروں میں سے ایک تلوار ہیں اور اللہ پاک نے انہیں فتح عطا فرمائی یعنی خالد بن ولید رضی اللہ عنہ۔ (بخاری، 2/548، حدیث: 3757)

جنگ احد کے موقع پر ایک شخص ابو عامر واحب کفار کی طرف سے لڑ رہا تھا اگر اس کے بیٹے حضرت حنظلہ پرچم اسلام کے نیچے جہاد کر رہے تھے حضرت حنظلہ نے حضور ﷺ عرض کی رسول اللہ ﷺ مجھے اجازت دیجئے کہ میں اپنی تلوار سے اپنے باپ ابو عامر کا سر کاٹ لوں مگر حضور ﷺ کی رحمت نہیں گوارا نہ فرمایا کہ بیٹے کی تلوار باپ کا سر کاٹے حضرت حنظلہ اس قدر جوش میں بھرے تھے کہ سر ہتھیلی پر رکھ کر انتہائی جانبازی کے ساتھ لڑتے ہوئے قلب لشکر تک پہنچ گئے اور کفار کے سپہ سالار ابو سفیان پر حملہ کردیا قریب تھا کہ حضرت حنظلہ کی تلوار ابو سفیان کا فیصلہ کر دے کہ اچانک پیچھے سے شداد بن اسود نے جھپٹ کر وار کو روکا اور حضرت حنظلہ کو شہید کر دیا حضرت حنظلہ کے بارے میں حضور ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ فرشتے حنظلہ کو غسل دے رہے ہیں ان کی زوجہ سے دریافت کیا تو اس نے کہا کہ جنگ احد کی کی رات وہ اپنی بیوی کے ساتھ سوئےغسل کی حاجت تھی مگر جب دعوت جنگ کی آواز کان میں پڑی تو وہ اسی حالت میں شریک جنگ ہو گئے یہ سن کر حضور ﷺ نے فرمایا: یہی وجہ ہے جو فرشتوں نے انہیں غسل دیا اسی واقعہ کی بنا پر حضرت حنظلہ کو غسیل الملائکہ کے لقب سے یاد کیا جاتا ہے۔ (سیرت مصطفی، ص 263)

ان واقعات سے معلوم ہوا کہ حضور ﷺ اپنے صحابہ کرام سے محبت فرماتے ہیں اور اسی محبت کی بنا پر انہیں مختلف خطابات سے نوازتے۔

اللہ کریم ہمیں بھی حضور ﷺ کے صحابہ سے حقیقی محبت نصیب فرمائے اور ان کا صدقہ ہمیں بھی عطا فرمائے۔ آمین