مجاہدین صحابہ سے مراد وہ صحابہ کرام ہے جنہوں نے اللہ کے رستے، دین کی سربلندی اور حق کی خاطر جہاد کیا۔

پیارے آقا ﷺ کی مجاہدین صحابہ کرام سے بے مثال محبت تھی آپ ﷺ غازیوں اور مجاہدین کی بے حد قدر فرماتے انکی خدمات کو سراہتے تھے آپ ﷺ نے مجاہدین کو اللہ کی راہ کا ضامن اور بہترین انسان قرار دیا حضور دو عالم ﷺ مجاہدین صحابہ کی صفات بیان کرتے ہوئے ان سے محبت کا اظہار فرماتے ہوئے ارشاد فرمایا کہ کچھ مومن مرد ایسے ہیں کہ مجھ سے بچھڑ جانا انکے دلوں کو اچھا نہیں لگتا اور میں اتنی سواریاں نہیں پاتا کہ انکو سوار کرا دوں اگر یہ لوگ نہ ہوتے تو میں کبھی کسی ایسے لشکر سے پیچھے نہ رہ جاتا جو اللہ کی راہ میں جہاد کرنے جا رہا ہے اور مجھے اس ذات کی قسم جس کی قبضہ قدرت میں میری جان ہے کہ یقیناً میری یہ تمنا ہے کہ میں اللہ کی راہ میں قتل کیا جاؤں پھر زندہ کیا جاؤ پھر قتل کیا جاؤں پھر زندہ کیا جاؤں پھر قتل کیا جاؤں پھر زندہ کیا جاؤں پھر قتل کیا جاؤں۔ (ابن ماجہ،3/335، حدیث: 2753)

سبحان اللہ اس حدیث مبارکہ میں پیارے آقا ﷺ کس قدر محبت سے صحابہ کرام کی خوبیاں بیان فرما رہے ہیں اسی طرح کئی اور روایات اور احادیث مبارکہ بھی ہے جس میں مجاہدین صحابہ سے محبت کا اظہار کیا جا رہا ہے پیارے آقا ﷺ جنگ میں شہید ہو جانے والے مجاہدین کے گھر والوں کے پاس جاتے ان سے حالات دریافت فرماتے جنگ میں صحابہ کرام کا خوب خیال رکھتے۔

اور ان کا خوب احترام فرماتے پیارے آقا ﷺ ان کی تعریف اور مرتبہ بیان کرتے ہوئے فرماتے ہیں کہ اللہ کی راہ میں جہاد کرنے والے کی مثال اس کی سی ہے جو دن کا روزہ دار اور رات کو آیات الہی کی تلاوت کرنے والا ہونہ روزے سے تھکے نہ نماز سے حالانکہ اللہ کی راہ کا مجاہد لوٹ آئے۔ (مسلم، ص 804، حدیث: 4869)

اسی طرح کئی اور روایات اور احادیث میں پیارے آقا ﷺ انکی تعریف اور ان سے محبت کا اظہار فرماتے ہیں۔

اللہ کریم ہمیں صحابہ کرام کی محبت عطا فرمائے اور ان کا فیضان عطا فرمائے۔ آمین