اسلام میں جوائنٹ فیملی سسٹم (مشترکہ خاندانی نظام) بذاتِ خود نہ فرض ہے نہ ناجائز۔ اصل اہمیت اس بات کی ہے کہ اس نظام میں حقوق ادا ہوں، انصاف ہو، پردے کا خیال رکھا جائے، اور کسی پر ظلم نہ ہو۔ شرعی پردے اور شرعی احکام کی پابندی کے ساتھ رہنا، جائز ہے۔

گھرميں رہتے ہوئے بھی بالخصوص دیور و جیٹھ وغیرہ کے معاملہ ميں محتاط رہنا ہو گا۔ صحیح بخاری میں حضرت سیدنا عُقْبہ بن عامِر رضی اللہ عنہ سےمروی ہے: نبی کریم ﷺ نے فرمايا: عورتوں کے پاس جانے سے بچو۔ ایک شخص نے عرض کی: یارسولَ اللہ! دیور کے متعلق کيا حکم ہے؟ فرمايا: دیور موت ہے۔ (بخاری، 3/472، حدیث: 5232)

دیور کا اپنی بھابھی کے سامنے ہونا گويا موت کا سامنا ہےکہ يہاں فتنہ کا اندیشہ زيادہ ہے۔ مفتئ اعظم پاکستان حضرتِ وقارِ مِلّت مولانا وقارُ الدّين علیہ رحمۃ اللہ المبین فرماتے ہيں: ان رشتہ داروں سے جو نامَحرم ہيں چہرہ، ہتھیلی، گٹے، قدم اور ٹخنوں کے علاوہ سِتْر (پردہ) کرنا ضروری ہے، زينت بناؤ سنگھار بھی ان کے سامنے ظاہِر نہ کياجائے۔ (وقا ر الفتاویٰ، 3/151)

بہرحال اسکے مثبت پہلو بھی ہیں اور منفی بھی۔

مثبت پہلو:

1۔ صلہ رحمی: رشتہ داروں سے تعلق مضبوط رہتا ہے، جو اسلام میں بہت پسندیدہ عمل ہے۔

2۔ بزرگوں کی خدمت: والدین اور بزرگوں کی دیکھ بھال آسان ہو جاتی ہے، جس کی اسلام نے بہت تاکید کی ہے۔

3۔ باہمی تعاون: گھر کے افراد ایک دوسرے کی مالی، جسمانی اور جذباتی مدد کرتے ہیں۔

4۔ بچوں کی بہتر تربیت: بچے دادا دادی اور دیگر بڑوں سے اچھے اخلاق اور تجربہ سیکھتے ہیں۔

5۔ مشکلات میں سہارا: بیماری، مالی تنگی یا کسی آزمائش میں خاندان ایک دوسرے کا ساتھ دیتا ہے۔

منفی پہلو:

1۔ پردے کے مسائل: دیور، جیٹھ اور دیگر غیر محرم مردوں کے ساتھ ایک ہی گھر میں رہنے سے پردے کی خلاف ورزی کا خطرہ بڑھ سکتا ہے۔

2۔ حقوق کی پامالی: بعض اوقات بہو یا دیگر افراد پر ضرورت سے زیادہ ذمہ داریاں ڈال دی جاتی ہیں، جو ظلم ہے۔

3۔ گھریلو جھگڑے: مداخلت، حسد، اور غلط فہمیوں کی وجہ سے اختلافات پیدا ہو سکتے ہیں۔

4۔ ازدواجی زندگی میں مداخلت: میاں بیوی کی نجی زندگی متاثر ہو سکتی ہے، جبکہ اسلام ان کی پرائیویسی اور باہمی حقوق کی حفاظت کرتا ہے۔

5۔ ناانصافی: اگر کسی ایک فرد کے ساتھ امتیازی سلوک ہو تو یہ اسلامی تعلیمات کے خلاف ہے۔

اسلام کا اصول یہ ہے کہ جہاں عدل، محبت، حسنِ سلوک، پردہ اور حقوق کی ادائیگی ہو، وہاں جوائنٹ فیملی سسٹم اچھا ہے۔ لیکن اگر اس سے ظلم، گناہ، پردے کی خلاف ورزی یا حقوق کی پامالی ہو تو ایسے ماحول کی اصلاح ضروری ہے، اور ضرورت پڑنے پر الگ رہائش اختیار کرنا بھی جائز ہے۔

بہرحال اگرایک گھر ميں رہتے ہوئے عورت کیلئے قریبی نامَحرم رشتہ داروں سے پردہ دشوار ہو تو چہرہ کھولنے کی تو اجازت ہے مگر کپڑے ہرگز ایسے باریک نہ ہوں جن سے بدن یاسر کے بال وغیرہ چمکیں يا ایسے چُست نہ ہوں کہ بدن کےاعضاء، جسم کی ہیئت(یعنی صورت وگولائی) اور سینے کا اُبھار وغیرہ ظاہِر ہو۔ (پردے کے بارے میں سوال جواب، ص 50 تا 52 ملتقطاً)

اللہ کریم ہمیں شرعی اصولوں کے مطابق زندگی گزارنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین