کریم ﷺ اپنے ساتھیوں (صحابہ کرام) سے بے پناہ پیار کرتے تھےآپﷺ نے فرمایا: جو مجھ سے محبت کرتا ہے اسے میرے صحابہ سے بھی محبت کرنی چاہیے۔ اسلام کی حفاظت کے لیے لڑنے والے مجاہدینِ صحابہ کے لیے آپ کے دل میں خاص شفقت، قدرومنزلت اور محبت تھی۔

یہ محبت چند عملی اور تاریخی مثالوں سے واضح ہوتی ہے:

خصوصی القابات: آپ ﷺ نے بہادر مجاہدین کو اللہ کی تلوار (جیسے حضرت خالد بن ولید) اور امت کا امین (جیسے حضرت ابوعبیدہ بن جراح) جیسے القابات سے نوازا۔

دعا اور تشویش: غزوات اور جنگوں کے دوران آپ ﷺ مجاہدین کی حفاظت کے لیے راتوں کو اٹھ کر دعائیں مانگتے۔ جنگِ بدر کے دن آپ ﷺ نے سجدے میں گڑگڑا کر ان کی کامیابی کے لیے دعا کی۔

فوجیوں کی ذاتی دیکھ بھال: آپ ﷺ جنگوں میں زخمی ہونے والے مجاہدین کی خود مرہم پٹی کرتے، ان کے اہل خانہ کا حال پوچھتے اور شہدا کے خاندانوں کی مالی معاونت فرماتے۔نبیِ کریم ﷺ نے مسلمانوں کو حکم دیا کہ وہ کبھی مجاہدینِ صحابہ کی توہین نہ کریں کیونکہ ان کا مقام و مرتبہ عام لوگوں سے بہت بلند ہے۔ ان کی قدر اور ان سے عقیدت ایمان کا لازمی حصہ ہے۔

نبیِ کریم ﷺ کی کئی صفات ہیں،آپ کی ایک صفت محبت بھی ہے جو ایک عظیم صفت ہے۔آقا ﷺ بچوں اور تمام صحابہ کرام علیہم الرضوان سے محبت فرماتے تھے۔ آئیے! آقا ﷺ کی صحابہ سے محبت کے چند واقعات پڑھتی ہیں۔

حضرت عبد اللہ بن مغفل رضی اللہ عنہ سے روایت ہے،رسولِ کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا:میرے صحابہ کے متعلق اللہ سے ڈرو،اللہ سے ڈرو۔میرے صحابہ رضی اللہ عنہم کے بارے میں اللہ سے ڈرو،اللہ سے ڈرو، میرے بعد انہیں نشانہ نہ بناؤ کیونکہ جس نے ان سے محبت کی تو میری محبت کی وجہ سے ان سے محبت کی اور جس نے ان سے بغض رکھا تو میرے بغض کی وجہ سے ان سے بغض رکھا اور جس نے انہیں ستایا اس نے مجھے ستایا اور جس نے مجھے ستایا اس نے اللہ پاک کو تکلیف دی اور جس نے اللہ کو تکلیف دی تو قریب ہے کہ اللہ پاک اسے پکڑے۔ (ترمذی، 5 /302،حدیث:3864)

حضرت علامہ مولانا سید مفتی محمد نعیم الدین مراد آبادی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں: مسلمان کو چاہیے کہ صحابہ کرام کا نہایت ادب رکھے،دل میں ان کی عقیدت و محبت کو جگہ دے،ان کی محبت حضور ﷺ کی محبت ہے اور جو بد نصیب صحابہ کرام کی شان میں بےادبی کے ساتھ زبان کھولے وہ دشمنِ خدا و رسول ﷺ ہیں۔ مسلمان ایسے شخص کے پاس نہ بیٹھیں۔(سوانحِ کربلا، ص 31)

اعلیٰ حضرت امامِ اہلِ سنت مولانا شاہ امام احمد رضا خان رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں:

اہلِ سنت کا ہے بیڑا پار اصحابِ حضور نجم ہیں اور ناؤ ہے عترت رسول اللہ کی

اسی طرح سرکار نے دیگر صحابہ کے فضائل بھی بیان فرمائے۔ ہمیں بھی تمام صحابہ سے پیار ہے ان شاءاللہ ان کے صدقے اپنا بیڑا پار ہے۔

اللہ پاک ہمیں ان نفوسِ قدسیہ کی سیرت کا مطالعہ کرنے اور ان کی سیرت پر عمل کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین بجاہ خاتم النبیین ﷺ