جوائنٹ
فیملی سسٹم کے مثبت و منفی پہلو از بنت اکبر خان، فیضان عطار کراچی
کسی بھی
خاندان کو چلانے کے لیے ایک نظام کی ضرورت ہوتی ہے اور ہمارے معاشرے میں دو نظام
پائے جاتے ہیں جن کے تحت خاندان کو آگے چلایا جاتا ہے وہ دو نظام یہ ہیں: جوائنٹ
فیملی سسٹم سیپرٹ فیملی سسٹم۔ جوائن فیملی سسٹم یہ ایسا نظام ہے جس میں گھر میں
تمام افراد ایک شخص کے ماتحت رہتے ہیں مثلا دادا دادی چاچو چاچی تایا تائی پھپھو
والدین بہن بھائی سب ایک ساتھ رہتے ہیں اور سیپریٹ فیملی سسٹم وہ ہوتا ہے جس میں آپ
اپنے والدین کے ساتھ الگ رہتے ہیں ہم یہاں پہ جوائنٹ فیملی سسٹم کے مثبت اور منفی
پہلو کے بارے میں بات کریں گے۔
جوائنٹ سسٹم
کے مثبت پہلو یہ ہیں:
جوائن فیملی
سسٹم ایک بہترین نظام ہے اس میں احساس ذمہ داریاں اور دیگر چیزیں پائی جاتی ہیں،
مثلا والدین کا احترام، دادا دادی کا احترام، بزرگوں کا احترام یہ تمام چیزیں
جوائنٹ فیملی سسٹم میں بچوں کو سکھائی جاتی ہیں، جوائن فیملی سسٹم میں خواتین کے
لیے کام کرنا آسان ہو جاتا ہے، کیونکہ ان کی ذمہ داریاں کم ہوجاتی ہیں، تمام
خواتین اپنے اپنے وقت پر اپنا اپنا کام سرانجام دیتی ہیں، جس کی وجہ سے ان کی
زندگی آسان ہو جاتی ہے اور ایک دوسرے کی مالی مدد بھی کرتے ہیں ایک دوسرے کا ساتھ
دیتے ہیں، دکھ غم میں شریک ہوتے ہیں اور خوشیاں مل کر سیلیبریٹ کرتے ہیں، بچوں میں
بھائی چارہ پیدا ہوتا ہے اور بڑوں کا احترام کرنا سیکھتے ہیں۔
جوائنٹ فیملی
سسٹم ایک مشترکہ نظام ہے جوائنٹ فیملی سسٹم کے مثبت پہلو ہونے کے ساتھ ساتھ اس کے
نقصانات بھی ہیں، مثلا ایسے نظام میں جھگڑے زیادہ ہوتے ہیں اور چھوٹی چھوٹی غلط
فہمیاں جھگڑوں کا باعث بنتی ہیں اس نظام میں آزادی نہیں ہوتی ہر کام کرنے سے پہلے
دوسروں سے رائے لینا ضروری ہوتی ہے اور دوسروں سے مشورہ لیے بغیر آپ کو کام کرنے
کی اجازت نہیں دی جاتی اور دوسروں کے مداخلت کو برداشت کرنا پڑتا ہے۔
جوائنٹ فیملی
سسٹم کا منفی پہلو یہ بھی ہے کہ اس میں جگہ کا تنازع اور گھریلو مسائل پر جھگڑے
اور گھر کے کاموں پر لڑائی جیسے معاملات کافی ہوتے ہیں جوائنٹ فیملی سسٹم بہترین
نظام ہے مگر یہ کہ اس میں رہنے والے لوگوں کے درمیان صبر تحمل اخوت بھائی چارہ
پایا جائے اور برداشت کرنے کی صلاحیت پائی جائے اگر یہ تمام چیزیں نہیں ہوں گی تو
جوائنٹ فیملی سسٹم بہترین نظام نہیں بن سکتا لیکن ہماری کوشش ہونی چاہیے کہ ہم
جوائنٹ فیملی سسٹم کو بہترین نظام بنائیں۔
Dawateislami