جوائنٹ
فیملی سسٹم کے مثبت و منفی پہلو از بنت بدر زمان،لطیف آباد حیدرآباد
پیاری پیاری
اسلامی بہنو! آج کل جوں ہی فیملی میں اضافہ ہوتا رہتا ہے ساتھ رہنا لوگوں کے لیے
مشکل ہو جاتا ہے میاں بیوی کو پرائیویسی نہیں مل پاتی، ہر بات سب کو پتا ہوتی ہے
مالیاتی تنازعات اور ناانصافی ہو جاتی ہے کمانے والے اور نہ کمانے والے افراد کے
درمیان گھر کے اخراجات کی تقسیم اکثر بے چینی اور تلخی کا باعث بنتی ہے نیز لڑائی
جھگڑے تک نوبت آ پہنچتی ہے اور ان سب باتوں کا آخر حل یہ ہی نکلتا ہے کہ اچھا خاصہ
ساتھ ٹوٹ کر رہ جاتا ہے، بھائیوں میں اختلافات پیدا ہوجاتے ہیں اگر لڑائی زیادہ
بڑھ جائے تو قطع تعلقی تک کرلی جاتی ہے، بےچارے بوڑھے ماں باپ جنہوں نے اس گھر کو
بنانے جوڑ کر رکھنے میں ساری زندگی گزار دی آج ان کے سامنے ہی یہ گھر والے جدا ہو
رہے ہیں بکھر رہیں ہیں ٹوٹ رہیں ہیں۔
ذرا سوچئے کہ
جب یہ وقت ہم پر آئے گا تو ہم پر کیا گزرے گی اگر ہمارے بڑھاپے میں ہماری اولاد نے
بھی یہی سب کیا تو ظاہر ہے بچے گیلی مٹی کی مانند ہیں اسے جو شکل دی جائے گی وہ
وہی اختیار کریں گے۔
اسلام میں بلاوجہ
3 دن سے زیادہ قطع تعلقی کی ممانعت ہے۔ رشتہ داروں سے قطع رحمی کرنے والے کی سخت
وعید آئی ہے، نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: قطع رحمی کرنے والا (رشتہ داروں سے تعلق توڑنے
والا) جنت میں داخل نہ ہوگا۔ (بخاری، 4/97، حدیث: 5984)
جہاں جوائنٹ
فیملی کے منفی اثرات بیان ہوئے اسی طرح جوائنٹ فیملی کے کئی مثبت اثرات بھی موجود
ہیں، مثلاً
مالی
مدد: خرچے
شئیر ہو جاتے ہیں۔ کرایہ، بل، راشن کا بوجھ کم ہو جاتا ہے۔
بچوں
کی تربیت: دادا
دادی، سب مل کر بچوں کی پرورش کرتے ہیں۔ بچے محبت اور سیکھنے کا ماحول پاتے ہیں۔
روایات:
بڑوں
سے رسم و رواج منتقل ہوتے ہیں۔
مشکل
میں سہارا: بیماری،
نوکری چلی جائے، یا کوئی ایمرجنسی ہو تو سب ایک دوسرے کا ساتھ دیتے ہیں۔
آئیے پیارو
محبت سے مل جل کر رہنے حسنِ سلوک پر حدیث ملاحظہ فرمائیں، حضرت ابوہریرہ رضی اللہ
عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: تم اس وقت تک جنت میں داخل نہیں ہو
سکتے جب تک کہ تم ایمان نہ لاؤ اور تم اس وقت تک مومن نہیں ہو سکتے جب تک کہ آپس
میں محبت نہ کرو۔ کیا میں تمہیں ایک ایسی چیز نہ بتاؤں کہ جب تم اسے کرو تو آپس
میں محبت ہونے لگے؟ اپنے درمیان سلام کو عام کرو۔ (مسلم، ص 47، حدیث: 54)
حضرت نعمان بن
بشیر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: مسلمانوں کو آپس میں
ایک دوسرے پر رحم کرنے، محبت کرنے اور شفقت کرنے میں ایک جسم کی طرح دیکھو کہ جب
جسم کے کسی حصے کو تکلیف پہنچتی ہے تو سارا جسم بخار اور بے خوابی میں اس کا ساتھ
دیتا ہے۔ (بخاری، 4/103، حدیث: 6011)
پیاری پیاری
اسلامی بہنو! دیکھا آپ نے پیارا آقا جان ﷺ کا پیارا فرمان اے کاش یہ حدیث مبارکہ
ہمارے دلوں میں اثر کر جائے اور ہم آپس میں پیار و محبت حسنِ سلوک سے پیش آئیں اور
سلام کو بھی عام کریں۔
Dawateislami