اسلام ایک ایسا دین ہے جو خاندان کو معاشرے کی بنیادی اکائی قرار دیتا ہے، اسلام میں والدین بہن بھائیوں رشتہ داروں اور بزرگوں کے ساتھ حسنِ سلوک صلہ رحمی اور باہمی تعاون کی تعلیم دی گئی ہے جوائنٹ فیملی سسٹم مشترکہ خاندانی نظام بھی اسی خاندانی تعلق کا ایک نمونہ ہےجس میں ایک ہی گھر یا ایک ہی نظام کے تحت کئی افراد مل کر رہتے ہیں اگر اس نظام میں محبت انصاف اور حقوق کی ادائیگی ہو تو یہ بہت سے فوائد کا باعث بنتا ہے لیکن اگر ناانصافی حسد اور بے جا مداخلت ہو تو اس کے منفی اثرات بھی سامنے آتے ہیں۔

وَ اعْبُدُوا اللّٰهَ وَ لَا تُشْرِكُوْا بِهٖ شَیْــٴًـا وَّ بِالْوَالِدَیْنِ اِحْسَانًا وَّ بِذِی الْقُرْبٰى (پ 5، النساء: 36) ترجمہ: اللہ کی عبادت کرو اور اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ ٹھہراؤ اور ماں باپ کے ساتھ بھلائی کرو اور رشتہ داروں کے ساتھ بھی۔اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے والدین اور رشتہ داروں کے ساتھ حسنِ سلوک کا حکم دیا ہے۔

جوائنٹ فیملی سسٹم اسی تعلیم پر عمل کا بہترین ذریعہ بن سکتا ہے بشرطیکہ خاندان کے تمام افراد ایک دوسرے کے حقوق کا خیال رکھیں عزت و احترام کریں اور انصاف سے کام لیں

حضرت ابو ایوب انصاری سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جو شخص چاہتا ہے کہ اس کے رزق میں کشادگی ہو اور اس کی عمر میں برکت ہو تو وہ صلہ رحمی کرےرشتہ داروں کے ساتھ اچھا تعلق رکھنے سے اللہ تعالیٰ رزق میں وسعت اور عمر میں برکت عطا فرماتا ہے۔ (بخاری، 4/97، حدیث: 5986)

اس حدیث سے معلوم ہوتا ہے کہ خاندان اور رشتہ داروں کے ساتھ اچھے تعلقات قائم رکھنا اسلام کی اہم تعلیم ہے جوائنٹ فیملی سسٹم میں اگر صلہ رحمی محبت اور تعاون ہو تو یہ اللہ تعالیٰ کی رحمت اور برکت کا ذریعہ بنتا ہےجوائنٹ فیملی سسٹم کے مثبت پہلوبزرگوں کی خدمت اور ان کے تجربات سے فائدہ حاصل ہوتا ہےبچوں کی اچھی تربیت اور اخلاقی تعلیم میں آسانی ہوتی ہےخوشی اور غم میں سب ایک دوسرے کا سہارا بنتے ہیں گھریلو اور مالی ذمہ داریاں تقسیم ہو جاتی ہیں۔

رشتہ داروں میں محبت اتحاد اور صلہ رحمی مضبوط ہوتی ہےاسلام نہ تو صرف جوائنٹ فیملی سسٹم کا حکم دیتا ہے اور نہ ہی الگ رہنے سے منع کرتا ہےبلکہ اسلام کا اصل مقصد یہ ہے کہ جہاں بھی خاندان رہے وہاں محبت عدل احترام صبر اور حقوق کی ادائیگی ہو اگر مشترکہ خاندان میں رہتے ہوئے ایک دوسرے کی عزت رازداری اور حقوق کا خیال رکھا جائے تو یہ نظام بہت مفید ثابت ہوتا ہے لیکن اگر ظلم بے جا مداخلت اور ناانصافی ہو تو الگ رہتے ہوئے بھی رشتہ داروں سے حسنِ سلوک اور صلہ رحمی برقرار رکھنا چاہئے۔

جوائنٹ فیملی سسٹم اپنی اصل میں ایک بہترین معاشرتی نظام ہے مگر اس کی کامیابی محبت انصاف برداشت باہمی احترام اور اسلامی تعلیمات پر عمل کرنے سے وابستہ ہے اگر ہر فرد اپنے فرائض ادا کرے اور دوسروں کے حقوق کا خیال رکھے تو مشترکہ خاندان سکون رحمت اور برکت کا گہوارہ بن جاتا ہے۔