ہمارے معاشرے میں مشترکہ خاندانی نظام یعنی جوائنٹ فیملی سسٹم کو ایک اہم حیثیت حاصل ہے۔ یہ ایک ایسا نظام ہے جہاں ایک ہی چھت کے نیچے خاندان کے کئی افراد، جیسے دادا دادی، والدین، چچا چچی اور بہن بھائی مل جل کر رہتے ہیں۔ اس نظام میں جہاں محبت اور اپنائیت کا گہرا رنگ نظر آتا ہے، وہاں کچھ چیلنجز بھی سامنے آتے ہیں۔

اگر ہم اس کے مثبت پہلوؤں یعنی فوائد کی بات کریں تو اس نظام کا سب سے بڑا فائدہ یہ ہے کہ باہمی تعاون اور سکون میسر آتا ہے، اور دکھ سکھ میں پورا خاندان ساتھ کھڑا ہوتا ہے جس سے فیملی کا ہر فرد خود کو محفوظ محسوس کرتا ہے۔ اس کے علاوہ بچوں کو بزرگوں کی سرپرستی اور تربیت ملتی ہے، انہیں دادا دادی اور بڑے بزرگوں کی صحبت ملتی ہے جس سے ان کی اخلاقی تربیت بہتر ہوتی ہے۔ اللہ تعالیٰ نے رشتہ داروں کے اس باہمی حسنِ سلوک اور حقوق کی تاکید کرتے ہوئے سورہ النسا کی آیت نمبر 36 میں فرمایا ہے: وَ اعْبُدُوا اللّٰهَ وَ لَا تُشْرِكُوْا بِهٖ شَیْــٴًـا وَّ بِالْوَالِدَیْنِ اِحْسَانًا وَّ بِذِی الْقُرْبٰى (پ 5، النساء: 36) ترجمہ: اللہ کی عبادت کرو اور اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ ٹھہراؤ اور ماں باپ کے ساتھ بھلائی کرو اور رشتہ داروں کے ساتھ بھی۔

دوسری طرف اگر اس کے منفی پہلوؤں اور چیلنجز کو دیکھا جائے تو جوائنٹ فیملی میں سب سے بڑا مسئلہ پرائیویسی یعنی ذاتی زندگی کی کمی کا ہوتا ہے۔ میاں بیوی کو اپنی نجی زندگی کے لیے وقت اور سکون نہیں مل پاتا جس کی وجہ سے اکثر ذہنی دباؤ بڑھ جاتا ہے۔ اس کے ساتھ ہی بعض اوقات حد سے زیادہ دخل اندازی کی وجہ سے گھریلو ناچاقیاں پیدا ہوتی ہیں اور آپس کی غلط فہمیوں کی وجہ سے گھر کے کمزور افراد، جیسے بہو یا بچوں کے حقوق متاثر ہوتے ہیں۔ رشتہ داروں کے گھروں میں بلا اجازت دخل اندازی یا کسی کی نجی زندگی میں دخل دینے کے حوالے سے رسول اللہ ﷺ کا فرمان ہے، جو صحیح بخاری کی حدیث نمبر 6241 میں ہے کہ اجازت لینے کا حکم تو اسی لیے دیا گیا ہے تاکہ دوسروں کے نجی معاملات پر نظر نہ پڑے ـ