ابو
ثوبان سید محمد ارسلان قریشی عطاری (درجہ
سابعہ جامعۃ المدینہ فیضان عثمان
غنی، کراچی ،پاکستان)
حضرت یونس
علیہ السلام کا اصل نام "یونس بن متی" ہے اور انہیں قرآنِ کریم میں
"ذوالنون" کے لقب سے یاد کیا گیا ہے۔ حضرت یونس کا واقعہ قیامت تک آنے
والے انسانوں کے لیے توبہ، امید اور اصلاحِ نفس کی ایک بے نظیر مثال ہے۔
اللہ تعالیٰ نے آپ کو ایک ایسی قوم کی طرف بھیجا جو بت پرستی اور گناہوں میں
غرق تھی۔ آپ نے طویل عرصے تک انہیں دعوتِ حق دی، مگر انہوں نے حق کو جھٹلا دیا۔ جب
قوم مسلسل نافرمانی پر اڑی رہی، تو حضرت یونس علیہ السلام ناراض ہو کر بستی سے نکل
گئے۔ آپ نے یہ گمان کیا کہ یہ ہجرت آپ کے لئے جائز ہے کیونکہ اس کا سبب صرف کفر اور
کافروں کے ساتھ بغض اور اللہ تعالیٰ کے لئے غضب کرنا ہے، لیکن آپ نے اس ہجرت میں
اللہ تعالیٰ کے حکم کا انتظار نہ کیا ۔قرآنِ پاک اس منظر کو یوں بیان کرتا ہے:
وَ ذَا النُّوْنِ اِذْ ذَّهَبَ مُغَاضِبًا فَظَنَّ اَنْ لَّنْ نَّقْدِرَ
عَلَیْهِ
ترجمۂ کنزالایمان:
اور ذوالنون کو جب چلا غصہ میں بھرا تو
گمان کیا کہ ہم اس پر تنگی نہ کریں گے ۔(سورۃ
الانبیاء، 87)
آزمائش کا سفر اور اصلاحی پہلو :حضرت یونس علیہ السلام کو اللہ کے حکم سے ایک عظیم مچھلی نے نگل لیا۔مچھلی کے پیٹ کی اس تاریکی، سمندر کی گہرائی کے عالم میں حضرت یونس علیہ
السلام نے کائنات کے سب سے بڑے سچ کا اقرار کیا اور اپنی اس خطائے اجتہادی پر اللہ
کے حضور سچی توبہ پیش کی:
لَّاۤ اِلٰهَ اِلَّاۤ اَنْتَ سُبْحٰنَكَ اِنِّیْ كُنْتُ مِنَ الظّٰلِمِیْنَۚۖ(۸۷)
ترجمۂ کنزالایمان:
کوئی معبود نہیں سوا تیرے پاکی ہے تجھ کو
بیشک مجھ سے بے جا ہوا۔ (سورۃ الانبیاء، 87)
اس دعا (آیتِ کریمہ) میں ہمارے لیے سب سے بڑا اصلاحی سبق یہ ہے کہ جب انسان
اپنی غلطی کا اعتراف کر کے خود کو قصوروار مان لیتا ہے، تو اللہ کی رحمت متحرک ہو
جاتی ہے۔ اللہ تبارک و تعالٰی نے ان کی توبہ قبول فرمائی اور مچھلی کے پیٹ سے نجات
دی:فَاسْتَجَبْنَا لَهٗۙ-وَ نَجَّیْنٰهُ مِنَ الْغَمِّؕ-وَ كَذٰلِكَ نُـْۨجِی
الْمُؤْمِنِیْنَ(۸۸)
ترجمۂ
کنزالایمان: تو ہم نے اس کی پکار سن لی اورا سے غم سے نجات بخشی اور ایسی ہی نجات
دیں گے مسلمانوں کو۔ (سورۃ الانبیاء: 88)
اس واقعے سے ہماری زندگی کے لیے چند
اصلاحی پیغامات :
(1) صبر اور استقامت (جذبات میں جلد
بازی سے گریز): نیکی کی دعوت ہو یا روزمرہ کی زندگی، حالات کتنے ہی ناسازگار کیوں نہ ہوں،
انسان کو کبھی ہمت نہیں ہارنی چاہیے اور نہ ہی اللہ کے حکم اور مصلحت سے پہلے کوئی
قدم اٹھانا چاہیے۔ غصے یا جذبات میں لیا گیا فیصلہ اکثر آزمائش کا سبب بن جاتا ہے۔
(2)اعترافِ جرم اور توبہ :آج ہمارا
سب سے بڑا المیہ یہ ہے کہ ہم اپنی غلطی ماننے کو تیار نہیں ہوتے اور دوسروں پر
الزام تراشی کرتے ہیں۔ حضرت یونس علیہ السلام کے اسوۂ حسنہ سے ہمیں یہ سبق ملتا ہے
کہ جب بھی کوئی پریشانی آئے، تو دوسروں کو کوسنے کے بجائے اپنے گریبان میں جھانکنا
چاہیے اور اپنی غلطی کا اعتراف کرنا چاہیے۔
(3)امید کا دامن نہ چھوڑنا :انسان کے
حالات مچھلی کے پیٹ جیسے تاریک اور دم گھٹنے والے ہی کیوں نہ ہو جائیں، جہاں بظاہر
بچنے کا کوئی راستہ نظر نہ آ رہا ہو، وہاں بھی اللہ کی رحمت پر یقین رکھنا چاہیے۔
اگر پکار سچی ہو، تو اللہ سمندر کی گہرائیوں سے بھی نجات کا راستہ نکال دیتا ہے۔
(4)قوموں کی اصلاح اجتماعی توبہ میں
ہے :جب حضرت یونس علیہ السلام دوبارہ اپنی قوم کی طرف لوٹے، تو انہوں نے سچے دل
سے توبہ کی اور اللہ ان پر مہربان ہو گیا۔ قرآن کہتا ہے:
فَلَوْ لَا كَانَتْ قَرْیَةٌ اٰمَنَتْ فَنَفَعَهَاۤ اِیْمَانُهَاۤ اِلَّا
قَوْمَ یُوْنُسَؕ-لَمَّاۤ اٰمَنُوْا كَشَفْنَا عَنْهُمْ عَذَابَ الْخِزْیِ فِی
الْحَیٰوةِ الدُّنْیَا وَ مَتَّعْنٰهُمْ اِلٰى حِیْنٍ(۹۸)
ترجمۂ
کنزالایمان: تو ہوئی ہوتی نہ کوئی بستی کہ ایمان لاتی تو اس کا ایمان کام آتا ہاں یونس
کی قوم جب ایمان لائے ہم نے ان سے رسوائی کا عذاب دنیا کی زندگی میں ہٹادیا اور
ایک وقت تک انہیں برتنے دیا۔(یونس:98)
یہ اس بات
کی دلیل ہے کہ اگر کوئی معاشرہ مجموعی طور پر اپنے گناہوں سے تائب ہو جائے، تو
عذاب بھی رحمت میں بدل جاتا ہے۔
حضرت یونس
علیہ السلام کا یہ واقعہ ہمیں سکھاتا ہے کہ انسان کتنا ہی نیک یا برگزیدہ کیوں نہ
ہو، وہ اللہ کی رحمت سے بے نیاز نہیں ہو سکتا۔ آیتِ کریمہ محض مصیبت ٹالنے کا وظیفہ
نہیں، بلکہ اپنے اندر عاجزی پیدا کرنے اور انا کو ختم کرنے کا ایک اعلامیہ ہے۔آج ہمیں
بھی ضرورت ہے کہ ہم اس واقعے کی روشنی میں اپنے اعمال کا محاسبہ کریں، اپنی غلطیوں
کی معافی مانگیں اور اللہ کی رحمت سے کبھی مایوس نہ ہوں۔اللہ تعالیٰ ہمیں قرآنِ مجید کے ان اصلاحی پہلوؤں کو اپنی عملی زندگی میں
نافذ کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین یا رب العالمین۔
قرآن پاک
اللہ تعالی کی عظیم الشان کتاب ہے اس کو اللہ تبارک و تعالی نے اپنے پیارے حبیب ﷺ پر
نازل فرمایا ہے اور یہ کتاب گزشتہ کتابوں کی تصدیق کرنے والی ہے اس میں اللہ تعالی
نےہمیں احکام بیان فرمائے اور گزشتہ انبیاء کرام کی امتوں کے احوال بیان فرمائے ہیں
اور بعض انبیاء کرام علیہ الصلوۃ والسلام کا تذکرہ صراحتا نام کے ساتھ ذکر فرمایا
ہے جن میں سے ایک حضرت یونس علیہ الصلاۃ والسلام ہیں۔
آپ علیہ
السلام کا اسمِ گرامی یونس بن متی ہے اور لقب ذو النون اور صاحب الحوت ہے ۔ آپ علیہ
السلام پر جدا گانہ کوئی کتاب یا صحیفہ نازل نہیں ہوا البتہ وحی کے ذریعے بعض
احکام نازل ہوئے جیسا کہ ارشاد باری تعالیٰ ہے:
اِنَّاۤ اَوْحَیْنَاۤ اِلَیْكَ كَمَاۤ اَوْحَیْنَاۤ اِلٰى نُوْحٍ وَّ النَّبِیّٖنَ
مِنْۢ بَعْدِهٖۚ-وَ اَوْحَیْنَاۤ اِلٰۤى اِبْرٰهِیْمَ وَ اِسْمٰعِیْلَ وَ اِسْحٰقَ
وَ یَعْقُوْبَ وَ الْاَسْبَاطِ وَ عِیْسٰى وَ اَیُّوْبَ وَ یُوْنُسَ وَ هٰرُوْنَ
وَ سُلَیْمٰنَۚ-وَ اٰتَیْنَا دَاوٗدَ زَبُوْرًاۚ(۱۶۳)
ترجمۂ
کنزالایمان: بیشک اے محبوب ہم نے تمہاری طرف وحی بھیجی جیسے وحی نوح اور اس کے بعد
پیغمبروں کو بھیجی اور ہم نے ابراہیم اور اسمٰعیل اور اسحٰق اور یعقوب اور ان کے
بیٹوں اور عیسیٰ اور ایوب اور یونس اور ہارون اور سلیمان کو وحی کی اور ہم نے داؤد
کو زبور عطا فرمائی۔(سورۃ النساء:163)
جیسا کہ
اللہ تعالیٰ ارشاد فرمایا:
فَلَوْ لَا كَانَتْ قَرْیَةٌ اٰمَنَتْ فَنَفَعَهَاۤ اِیْمَانُهَاۤ اِلَّا
قَوْمَ یُوْنُسَؕ-لَمَّاۤ اٰمَنُوْا كَشَفْنَا عَنْهُمْ عَذَابَ الْخِزْیِ فِی
الْحَیٰوةِ الدُّنْیَا وَ مَتَّعْنٰهُمْ اِلٰى حِیْنٍ(۹۸)
ترجمۂ
کنزالایمان: تو ہوئی ہوتی نہ کوئی بستی کہ ایمان لاتی تو اس کا ایمان کام آتا ہاں
یونس کی قوم جب ایمان لائے ہم نے ان سے رسوائی کا عذاب دنیا کی زندگی میں ہٹادیا
اور ایک وقت تک انہیں برتنے دیا۔(یونس:98)
حضرت یونس علیہ السلام کا دریائی
سفر اور مچھلی کا نگلنا:حضرت یونس علیہ السلام کو اپنی قوم کی توبہ معلوم نہیں تھی اور جب دیکھا کہ
قوم کو عذاب آنے کی جو خبر دی تھی اس میں تاخیر ہوگئی ہے تو آپ علیہ السلام اپنی
قوم کے کفر پر غضب ناک ہو کر اللہ تعالیٰ کی اجازت کے بغیر وہاں سے ہجرت کے ارادے
سے چلے گئے اور دریائی سفر اختیار فرمایا اور کشتی میں سوار ہوگئے اور جب کشتی بیچ
میں جا کر رک گئی تو ملّاحوں نے کہا کہ اس کشتی میں اپنے آقا سے بھاگا ہوا ایک
غلام بھی موجود ہے پھر جب قرعہ اندازی کی گئی تو اس میں آپ علیہ السلام کا نام مبارک
نکل آیا تو کشتی والوں نے آپ علیہ السلام کو پانی میں ڈال دیا اور آپ کو ایک بڑی
مچھلی نے نگل لیا اس وقت آپ علیہ السلام اپنے آپ کو ملامت کرنے لگے کہ نکلنے میں
جلدی کیوں کی ۔مروی ہے کہ اللہ تعالیٰ نے مچھلی کو الہام فرمایا کہ حضرت یونس علیہ
السلام کو تیرے لیئے غذا نہیں بنایا بلکہ تیرے پیٹ کو اس کے لیے قید خانہ بنایا ہے
لہذا تم نہ ان کی ہڈی توڑنا اور نہ ہی ان کے گوشت کو کاٹنا ۔(روح البیان سورۃ
الصافات آیت نمبر 142)
اس واقعے
کو اللہ تعالیٰ نے قرآن کریم میں ان آیات میں بیان فرمایا ہے :
وَ اِنَّ یُوْنُسَ لَمِنَ الْمُرْسَلِیْنَؕ(۱۳۹) اِذْ اَبَقَ اِلَى الْفُلْكِ الْمَشْحُوْنِۙ(۱۴۰) فَسَاهَمَ فَكَانَ مِنَ الْمُدْحَضِیْنَۚ (۱۴۱) فَالْتَقَمَهُ الْحُوْتُ وَ هُوَ مُلِیْمٌ(۱۴۲)
ترجمۂ
کنزالایمان: اور بے شک یونس پیغمبروں سے ہے۔جب کہ بھری کشتی کی طرف نکل گیا۔تو قرعہ
ڈالا تو دھکیلے ہوؤں میں ہوا۔ پھر اسے مچھلی نے نگل لیا اور وہ اپنے آپ کو ملامت کرتا تھا۔(صافات:139تا142)
ان واقعات
و روایات سے ہمیں یہ درس ملتا ہے کہ انبیاء کرام علیہم السلام اللہ تعالیٰ کی طرف
سے جو شریعت اور احکام لے کر تشریف لائے اس پر ہم سب کو ایمان لانا لازم ہوتا ہے
جو احکام ہمارے لئے سراپا رحمت اور راہِ ہدایت کے امیں ہوتے ہیں اور نبیاء کرام علیہم
السلام کی بات نہ ماننے کی صورت میں ہم عذاب کے مستحق ہوسکتے اور دوسرا سبق یہ ملا
کہ ہم سے جب بھی کوئی گناہ سرزد ہو جائے تو ہمیں اللہ تعالیٰ سے فوراً معافی طلب
کر لینی چاہئے تو اللہ تعالیٰ ہمیں اپنے فضل و کرم سے بخش دے گا جیسے حضرت یونس علیہ
السلام کی قوم کو بخشش دیا اللہ تعالیٰ ہمیں قرآن پاک پر عمل کرنے اور شریعت کا دامن
تھامے رکھنے کی توفیق عطاء فرمائے ۔
آپ کا نام
پاک یونس بن متی ہے چونکہ آپ مچھلی کے پیٹ میں تشریف لے گئے تھے اس وجہ سے آپ کو
ذوالنون اور صاحب الحوت یعنی مچھلی والے کہا جاتا ہے اور یہ دونوں آپ کے القاب ہیں،
آپ علیہ السلام حضرت ھود علیہ السلام کے اولاد میں سے ہیں، آپ قبیلے نینویٰ کے نبی
تھے، جو موصل کے علاقے دجلہ کے کنارے پر واقع تھی، آپ علیہ السلام نے چالیس سال بت
پرستی چھوڑنے اور توحید کی دعوت دی، لیکن انہوں آپ علیہ السلام کو جھٹلایا اور
اپنے شرک سے باز نہ آئے تب آپ علیہ السلام نے اللہ تعالیٰ کے حکم سے انہیں عذاب کی
خبر دی اور خود علاقے سے باھر تشریف لے گئے تو قوم نے علامات عذاب کا مشاہدہ کر کے
بارگاہ الہی میں سچی توبہ کرلی تو ان سے عذاب اٹھا لیا گیا، آپ علیہ السلام پر
جداگانہ کوئی کتاب یا صحیفہ نازل نہیں ہوا، البتہ وحی کے ذریعے آپ علیہ السلام پر
بعض احکامات نازل ہوئے، جیسا ارشاد باری تعالیٰ ہے ۔
فَاصْبِرْ لِحُكْمِ رَبِّكَ وَ لَا تَكُنْ كَصَاحِبِ الْحُوْتِۘ-اِذْ
نَادٰى وَ هُوَ مَكْظُوْمٌؕ(۴۸)
ترجمۂ
کنزالایمان: تو تم اپنے رب کے حکم کا انتظار کر واور اس مچھلی والے کی طرح نہ ہونا
جب اس حال میں پکارا کہ اس کا دل گھٹ رہا
تھا۔(سورۃ قلم:48)
تفسیر صراط الجنان:فَاصْبِرْ لِحُكْمِ
رَبِّكَ: تو تم اپنے رب کے حکم تک صبر کرو۔ یعنی اے حبیب! صَلَّی اللہ تَعَالٰی
عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ، کفار کو مہلت دینے اور ان کے خلاف آپ کی مدد کو
مُؤخّر کرنے کے معاملے میں آپ اپنے رب عَزَّوَجَلَّ کے حکم کا انتظار کریں اور
ان کی طرف سے پہنچنے والی ایذاؤں پر صبر کریں۔
وَ لَا تَكُنْ كَصَاحِبِ الْحُوْتِ: اور مچھلی والے کی طرح نہ ہونا۔
اس آیت ا ور اس کے بعد والی دو آیات کے شانِ نزول کے بارے میں ایک قول یہ ہے کہ
جب اُحد کے میدان میں تاجدارِ رسالت ﷺ نے
پیٹھ پھیر کر بھاگنے والے مسلمانوں کے خلاف دعا کرنے کا اراد ہ فرمایا تو یہ آیات
نازل ہوئیں اور ایک قول یہ ہے کہ جب حضورِ اقدس ﷺ نے ثقیف والوں کے خلاف دعا کا ارادہ فرمایا تو یہ آیات نازل ہوئیں اور
اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا کہ اے حبیب! صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ
وَسَلَّمَ، آپ اپنی قوم پر جلدی عذاب نازل کرنے کے معاملے میں مچھلی والے کی طرح
نہ ہونا تاکہ کہیں ان کی طرح آپ بھی آزمائش میں مبتلاء نہ ہو جائیں اور وہ وقت یاد
کریں جب اُس نے اِس حال میں اپنے رب عَزَّوَجَلَّ کوپکارا کہ وہ مچھلی کے پیٹ میں بہت
غمگین تھا۔یاد رہے کہ یہاں مچھلی والے سے مراد حضرت یونس عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ
وَالسَّلَام ہیں۔
اللہ پاک نے مزید ارشاد فرمایا :لَوْ لَاۤ اَنْ
تَدٰرَكَهٗ نِعْمَةٌ مِّنْ رَّبِّهٖ لَنُبِذَ بِالْعَرَآءِ وَ هُوَ مَذْمُوْمٌ(۴۹) فَاجْتَبٰىهُ رَبُّهٗ
فَجَعَلَهٗ مِنَ الصّٰلِحِیْنَ(۵۰)ترجمۂ کنزالایمان: اگر اس کے رب کی نعمت اس کی خبر کو نہ پہنچ جاتی تو
ضرور میدان پر پھینک دیا جاتا الزام دیا ہوا۔تو اسے اس کے رب نے چن لیا اور اپنے
قُربِ خاص کے سزاواروں میں کرلیا۔ (سورۃ قلم:49،50)
تفسیر
صراط الجنان:لَوْ لَاۤ اَنْ تَدٰرَكَهٗ نِعْمَةٌ مِّنْ رَّبِّهٖ: اگر اس کے رب کی نعمت
اسے نہ پالیتی۔اس آیت کی ایک تفسیر یہ ہے کہ اگر حضرت یونس عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ
وَالسَّلَام کے رب عَزَّوَجَلَّ کی رحمت ان کی دستگیری نہ کرتی اور اللہ تعالیٰ
اُن کے عذر اور دعا کو قبول فرما کر ان پر انعام نہ فرماتا تو وہ ضرور ملامت کئے
ہوئے مچھلی کے پیٹ سے چٹیل میدان میں پھینک دیئے جاتے لیکن ایسا نہیں ہوا بلکہ
اللہ تعالیٰ نے ان پر رحمت فرمائی اور وہ بغیر ملامت کئے ہوئے مچھلی کے پیٹ سے
باہر تشریف لائے ۔دوسری تفسیر یہ ہے کہ اگر حضرت یونس عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ
وَالسَّلَام کے رب عَزَّوَجَلَّ کی رحمت ان کی دستگیری نہ فرماتی تو وہ قیامت تک
مچھلی کے پیٹ میں ہی رہتے ،پھر وہ ضرور ملامت کئے ہوئے میدانِ حشر میں پھینک دیئے
جاتے۔
فَاجْتَبٰىهُ رَبُّهٗ: تو اسے اس کے رب نے چن لیا۔یعنی
حضرت یونس عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کے دعا کرنے اور اپنا عذر پیش کرنے کی
وجہ سے اللہ تعالیٰ نے انہیں چن لیا اور ان کی نیکی کی صفات کو مزید ترقی دی اور
انہیں ہر ایسا کام کرنے سے محفوظ کر دیا جسے چھوڑ دینابہتر ہو۔
جب حضرت یونس علیہ السلام مچھلی کے پیٹ میں تشریف لائے تو آپ کو کئی قسموں
کی تاریکیوں کا سامنا ہوا، جیسے دریا کی تاریکی، رات کی تاریکی اور مچھلی کے پیٹ کی
تاریکی، ان اندھیروں میں آپ علیہ السلام نے اللہ تعالیٰ سے اس طرح دعا کی: اے میرے
رب عزّوجلّ، تیرے سوا کوئی معبود نہیں تو ہر عیب سے پاک ہے اور مجھ سے بے جا ہوا
کہ میں اپنی قوم سے تیرا اذن اور اجازت پانے سے پہلے ہی جدا ہو گیا۔الله پاک نے قرآن مجید میں ارشاد فرمایا :
وَ ذَا النُّوْنِ اِذْ ذَّهَبَ مُغَاضِبًا فَظَنَّ اَنْ لَّنْ نَّقْدِرَ
عَلَیْهِ فَنَادٰى فِی الظُّلُمٰتِ اَنْ لَّاۤ اِلٰهَ اِلَّاۤ اَنْتَ
سُبْحٰنَكَ اِنِّیْ كُنْتُ مِنَ
الظّٰلِمِیْنَۚۖ(۸۷) ترجمۂ کنزالایمان: اور ذوالنون کو
جب چلا غصہ میں بھرا تو گمان کیا کہ ہم اس
پر تنگی نہ کریں گے تو اندھیریوں میں پکارا کوئی معبود نہیں سوا تیرے
پاکی ہے تجھ کو بیشک مجھ سے بے جا ہوا۔(انبیاء:87)
تفسیر
صراط الجنان: وَ ذَاالنُّوْنِ:اور
ذوالنون کو (یاد کرو)۔ یہاں سے حضرت یونس بن متّٰی عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ
وَالسَّلَام کا واقعہ بیان کیا جا رہا ہے۔ اس کا خلاصہ یہ ہے کہ حضرت یونس عَلَیْہِ
الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کی قوم کے لوگوں نے آپ کی دعوت قبول نہ کی اور نہ ہی نصیحت
مانی بلکہ وہ اپنے کفر پر ہی قائم رہے تھے، تو حضرت یونس عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ
وَالسَّلَام غضبناک ہو کر اپنی قوم کے علاقے سے تشریف لے گئے اور آپ نے یہ گمان کیا
کہ یہ ہجرت آپ کے لئے جائز ہے کیونکہ اس کا سبب صرف کفر اور کافروں کے ساتھ بغض
اور اللہ تعالیٰ کے لئے غضب کرنا ہے، لیکن آپ نے اس ہجرت میں اللہ تعالیٰ کے حکم
کا انتظار نہ کیا تھا جس کی وجہ سےاللہ تعالیٰ نے انہیں مچھلی کے پیٹ میں ڈال دیا،
وہاں کئی قسم کی تاریکیاں تھیں جیسے دریا کی تاریکی ، رات کی تاریکی اور مچھلی کے
پیٹ کی تاریکی ، ان اندھیروں میں حضرت یونس عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام نے
اپنے پروردگار عَزَّوَجَلَّ سے اس طرح دعا کی کہ اے میرے رب! عَزَّوَجَلَّ، تیرے
سوا کوئی معبود نہیں اور تو ہرعیب سے پاک ہے، بیشک مجھ سے بے جا ہوا کہ میں اپنی
قوم سے تیرا اِذن اور اجازت پانے سے پہلے ہی جدا ہو گیا۔( مدارک، الانبیاء، تحت
الآیۃ: ۸۷، ص۷۲۴)
مقبول دعائیہ کلمات: حضرت سعدرَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُ
سے روایت ہے ،رسول کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا
’’حضرت یونس نے مچھلی کے پیٹ میں جب دعا مانگی تو یہ کلمات کہے’’لَاۤ اِلٰهَ اِلَّاۤ اَنْتَ سُبْحٰنَكَ اِنِّیْ كُنْتُ مِنَ الظّٰلِمِیْنَ‘‘ جو
مسلمان ان کلمات کے ساتھ کسی مقصد کے لئے دعا مانگے تو اللہ تعالیٰ اسے قبول
فرماتا ہے۔( ترمذی، کتاب الدعوات، ۸۱-باب، ۵ / ۳۰۲، الحدیث: ۳۵۱۶)
الله پاک ہم کو انبیاء علیہم السلام کی سیرت پڑھنے کی توفیق عطا فرمائے۔آمین
یا رب العالمین۔
الله پاک ہم کو انبیاء علیہم السلام کی سیرت پڑھنے کی توفیق عطا فرمائے۔آمین
یا رب العالمین۔
سید
زوہیب علی شاہ (درجہ خامسہ جامعۃ المدینہ
فیضانِ بغداد، کراچی،پاکستان)
اللہ
سبحانہ و تعالیٰ نے انسانوں کی ہدایت و رَہنمائی کے لئے مختلف زمانوں میں مختلف
قوموں کی طرف کم و بیش ایک لاکھ چوبیس ہزار پیغمبر بھیجے۔ وہ اپنی قوم کے لوگوں کو
اللہ پاک کا پیغام پہنچاتے تاکہ لوگ ان پر عمل پیرا ہوکر دارین کی سعادتوں سے
مالامال ہوں ۔اِنہی انبیائے کرام علیہم السلام میں سے ایک نبی حضرت یونس علیہ
السلام ہیں جن کو اللہ تبارک وتعالیٰ نے موصَل کے علاقے نینوٰی کی طرف نبی بنا کر
بھیجا۔ آپ علیہ السلام کا نام یونس بن متّی ہے۔ ذوالنون اور صاحب الحوت آپ علیہ
السلام کے القابات ہیں۔
آئیے قرآنی
آیات کی روشنی میں حضرت یونس علیہ السلام اور انکی قوم کے واقعات پر نظر ڈالیں :
(1) حضرت یونس علیہ السلام کا نبی ہونا: وَ اِنَّ
یُوْنُسَ لَمِنَ الْمُرْسَلِیْنَؕ(۱۳۹)
ترجمۂ
کنزُالعِرفان: اور بیشک یونس ضرور رسولوں میں سے ہے۔ (الصفت آیت 139)
(2) حضرت یونس علیہ السلام کی قوم کی
توبہ :فَلَوْ لَا كَانَتْ قَرْیَةٌ اٰمَنَتْ فَنَفَعَهَاۤ اِیْمَانُهَاۤ اِلَّا
قَوْمَ یُوْنُسَؕ-لَمَّاۤ اٰمَنُوْا كَشَفْنَا عَنْهُمْ عَذَابَ الْخِزْیِ فِی
الْحَیٰوةِ الدُّنْیَا وَ مَتَّعْنٰهُمْ اِلٰى حِیْنٍ(۹۸)
ترجمۂ
کنزُالعِرفان: تو کیوں ایسا نہ ہوا کہ کوئی قوم ایمان لے آتی تاکہ اس کا ایمان
اسے نفع دیتا لیکن یونس کی قوم جب ایمان لائی توہم نے ان سے دنیا کی زندگی میں
رسوائی کا عذاب ہٹادیا اور ایک وقت تک انہیں فائدہ اٹھانے دیا۔ (یونس 98)
(3) حضرت یونس علیہ السلام کو مچھلی
کا نگلنا :فَسَاهَمَ فَكَانَ مِنَ الْمُدْحَضِیْنَۚ(۱۴۱) فَالْتَقَمَهُ الْحُوْتُ وَ هُوَ مُلِیْمٌ(۱۴۲) ترجمۂ کنزُالعِرفان: تو کشتی والے نے قرعہ ڈالا تویونس دھکیلے جانے
والوں میں سے ہوگئے۔ پھر انہیں مچھلی نے نگل لیا اور وہ اپنے آپ کو ملامت
کررہے تھے۔ (الصفت 141 تا 142)
(4) حضرت یونس علیہ السلام کی مچھلی کے پیٹ میں
دعا :
وَ ذَا النُّوْنِ اِذْ ذَّهَبَ مُغَاضِبًا فَظَنَّ اَنْ لَّنْ نَّقْدِرَ
عَلَیْهِ فَنَادٰى فِی الظُّلُمٰتِ اَنْ لَّاۤ اِلٰهَ اِلَّاۤ اَنْتَ
سُبْحٰنَكَ اِنِّیْ كُنْتُ مِنَ
الظّٰلِمِیْنَۚۖ(۸۷)ترجمۂ کنزُالعِرفان: اور ذوالنون
کو (یاد کرو) جب وہ غضبناک ہوکر چل پڑے تواس نے گمان کیا کہ ہم اس پر تنگی نہ
کریں گے تو اس نے اندھیروں میں پکاراکہ تیرے سوا کوئی معبود نہیں تو ہرعیب سے پاک ہے ، بیشک مجھ سے بے جا ہوا ۔ (الانبیاء 87)
(5) حضرت یونس علیہ السلام کی مچھلی
کے پیٹ سے نجات: فَاسْتَجَبْنَا لَهٗۙ-وَ نَجَّیْنٰهُ مِنَ الْغَمِّؕ-وَ كَذٰلِكَ نُـْۨجِی
الْمُؤْمِنِیْنَ(۸۸)ترجمۂ کنزُالعِرفان: تو ہم نے اس
کی پکار سن لی اور اسے غم سے نجات بخشی اور ہم ایمان والوں کو ایسے ہی نجات دیتے ہیں ۔ (الانبیاء 88)
حضرت یونس علیہ السلام کی دعا کی فضیلت: حضرت یونس علیہ السلام کی
مچھلی کے پیٹ میں کی جانے والی دعا کی فضیلت کے بارے میں نبی کریم صلی اللہ علیہ
وآلہ وسلّم نے فرمایا: حضرت یونس نے مچھلی کے پیٹ میں جب دعا مانگی تو یہ کلمات
کہے" لَاۤ اِلٰهَ اِلَّاۤ اَنْتَ سُبْحٰنَكَ اِنِّیْ كُنْتُ مِنَ الظّٰلِمِیْنَ" جو مسلمان ان کلمات کے ساتھ
کسی مقصد کے لئے دعا مانگے تو اللّٰہ تعالیٰ اسے قبول فرماتا ہے۔( ترمذی 3516)
ایک اور
مقام پر نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلّم نے فرمایا: "جو مسلمان اپنی بیماری
کی حالت میں چالیس مرتبہ " لَاۤ اِلٰهَ اِلَّاۤ
اَنْتَ سُبْحٰنَكَ اِنِّیْ كُنْتُ مِنَ
الظّٰلِمِیْنَ" کے ساتھ دعا مانگے، پھر وہ اسی مرض میں فوت ہو جائے تو اسے شہید کا
اجر دیا جائے اور اگر تندرست ہوگیا تو اسکے تمام گناہ بخشے جاچکے ہوں گے" ۔(
مستدرک 1908)
انبیاء
کرام علیہم السلام کی زندگیاں ہمارے لئے مشعلِ راہ ہیں۔ جس طرح حضرت یونس علیہ
السلام نے کفار کی ہٹ دھرمی اور حق کو تسلیم نہ کرنے کے باوجود انھیں صبر و
استقامت کے ساتھ تقریباً 40 سال اللہ پاک کا پیغام پہنچایا اسی طرح ہمیں بھی نیک
کاموں میں جلد بازی نہیں کرنی چاہئے بلکہ صبر و استقامت کے ساتھ چاہے کتنی ہی رکاوٹوں
کا کیوں نہ سامنا کرنا پڑے ہمیں اپنے حوصلے پست نہیں کرنے چاہییں بلکہ ہر حال میں
اللہ پاک کا شکر ادا کرتے ہوئے اپنی منزل کی طرف گامزن رہنا چاہیے ، اسی طرح اگر
کوئی آزمائش آجائے تو شکوے اور بےصبری کا مظاہرہ کرنے کے بجائے حضرت یونس علیہ
السلام کی سیرت سے استفادہ کرتے ہوئے ہمیں اللہ تبارک وتعالیٰ کی طرف رجوع کرنا
چاہیے اور اسی سے مدد طلب کرنی چائیے۔دعا ہے اللہ پاک ہم سب کو قرآنی احکام پر عمل
کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔آمین بجاہ خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم
اللہ تعالیٰ
نے انسانوں کی ہدایت کے لیے بے شمار انبیاءِ کرام علیہم السلام مبعوث فرمائے۔ انہی
عظیم پیغمبروں میں حضرت یونس علیہ السلام کا مبارک نام بھی شامل ہے۔ آپ کی زندگی
صبر، توبہ، دعا اور اللہ تعالیٰ پر کامل بھروسے کا روشن نمونہ ہے۔ آج بھی جب انسان
مشکلات اور آزمائشوں میں گھِر جاتا ہے تو حضرت یونس علیہ السلام کا واقعہ اسے امید
اور حوصلہ دیتا ہے۔
حضرت یونس
علیہ السلام کو اللہ تعالیٰ نے نینوٰی کی قوم کی طرف بھیجا۔ آپ نے اپنی قوم کو
اللہ کی عبادت اور برے اعمال چھوڑنے کی دعوت دی، مگر قوم نے نافرمانی اور سرکشی
اختیار کی۔ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے :
(1)وَ ذَا النُّوْنِ اِذْ ذَّهَبَ مُغَاضِبًا فَظَنَّ اَنْ لَّنْ نَّقْدِرَ
عَلَیْهِ فَنَادٰى فِی الظُّلُمٰتِ اَنْ لَّاۤ اِلٰهَ اِلَّاۤ اَنْتَ
سُبْحٰنَكَ اِنِّیْ كُنْتُ مِنَ
الظّٰلِمِیْنَۚۖ(۸۷)
ترجمۂ کنزالایمان:
اور ذوالنون کو جب چلا غصہ میں بھرا تو
گمان کیا کہ ہم اس پر تنگی نہ کریں گے تو
اندھیریوں میں پکارا کوئی معبود نہیں سوا تیرے پاکی ہے تجھ کو بیشک مجھ سے بے جا
ہوا۔ ( سورۃ الانبیاء،آیت 87)
(2) فَاسْتَجَبْنَا لَهٗۙ-وَ نَجَّیْنٰهُ مِنَ الْغَمِّؕ-وَ كَذٰلِكَ
نُـْۨجِی الْمُؤْمِنِیْنَ(۸۸)
ترجمۂ
کنزالایمان: تو ہم نے اس کی پکار سن لی اورا سے غم سے نجات بخشی اور ایسی ہی نجات
دیں گے مسلمانوں کو۔ (
سورۃ الانبیاء ،آیت 88)
(3) فَالْتَقَمَهُ الْحُوْتُ وَ هُوَ مُلِیْمٌ(۱۴۲) فَلَوْ لَاۤ اَنَّهٗ كَانَ مِنَ الْمُسَبِّحِیْنَۙ(۱۴۳)
ترجمۂ
کنزالایمان: پھر اسے مچھلی نے نگل لیا اور
وہ اپنے آپ کو ملامت کرتا تھا۔ تو اگر وہ تسبیح کرنے والا نہ ہوتا۔ (سورۃ الصافات ،آیت 142-143)
(4) لَلَبِثَ فِیْ بَطْنِهٖۤ اِلٰى یَوْمِ یُبْعَثُوْنَۚ(۱۴۴) فَنَبَذْنٰهُ
بِالْعَرَآءِ وَ هُوَ سَقِیْمٌۚ(۱۴۵)
ترجمۂ
کنزالایمان: ضرور اس کے پیٹ میں رہتا جس
دن تک لوگ اٹھائے جائیں گے۔ پھر ہم نے اسے
میدان پر ڈال دیا اور وہ بیمار تھا۔ ( سورۃ
الصافات،آیت 144-145)
محمد
حسنین رضا (درجہ خامسہ جامعۃ المدینہ فیضان
عثمان غنی، کراچی،پاکستان)
حضرت یونس
علیہ السّلام اللہ تعالیٰ کے جلیل القدر انبیاءِ کرام میں سے ہیں قرآنِ مجید میں
آپ کا تذکرہ مختلف مقامات
پر آیا ہے
آپ کو اللہ تعالیٰ نے نینویٰ کی قوم کی طرف ہدایت و تبلیغ کے لیے مبعوث فرمایا آپ
نے اپنی قوم کو توحید اور اللہ تعالیٰ کی عبادت کی دعوت دی مگر ابتدا میں قوم نے
انکار کیا پھر آپ پر آزمائش آئی مچھلی نے آپ کو نگل لیا، اور آپ نے اللہ تعالیٰ کی
بارگاہ میں رجوع و توبہ کی قرآنِ کریم نے اس واقعہ کو نہایت مؤثر انداز میں بیان
فرمایا ہے۔
حضرت یونس علیہ السّلام کا تعارف:حضرت یونس
علیہ السّلام کا نام قرآنِ کریم میں متعدد مرتبہ آیا ہے اللہ تعالیٰ نے آپ کو یونس
،ذوالنون اور صاحب الحوت کے القابات سے یاد فرمایا۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:
وَ اِنَّ یُوْنُسَ
لَمِنَ الْمُرْسَلِیْنَؕ(۱۳۹)
ترجمۂ
کنزالایمان: اور بے شک یونس پیغمبروں سے ہے۔(پ23، الصّٰفّٰت: 139)
وَ ذَا النُّوْنِ اِذْ ذَّهَبَ مُغَاضِبًا
ترجمۂ
کنزالایمان: اور ذوالنون کو جب چلا غصہ میں بھرا ۔(پ17، الانبیاء: 87)
فَاصْبِرْ لِحُكْمِ رَبِّكَ وَ لَا تَكُنْ كَصَاحِبِ الْحُوْتِۘ
ترجمۂ
کنزالایمان: تو تم اپنے رب کے حکم کا انتظار کر واور اس مچھلی والے کی طرح نہ ہونا
۔(پ29، القلم: 48)
قوم کو دعوت دینا:حضرت یونس
علیہ السّلام کو نینویٰ کی بستی کی طرف بھیجا گیا آپ نے اپنی قوم کو اللہ تعالیٰ کی
اطاعت اور بت پرستی چھوڑنے کی دعوت دی لیکن قوم نے آپ کی بات نہ مانی جب قوم مسلسل
نافرمانی پر قائم رہی تو آپ ناراض ہو کر بستی سے نکل گئے۔قرآنِ پاک میں ارشاد ہوتا
ہے:اِذْ اَبَقَ اِلَى الْفُلْكِ الْمَشْحُوْنِۙ(۱۴۰)
ترجمۂ
کنزالایمان: جب کہ بھری کشتی کی طرف نکل گیا۔(پ23، الصّٰفّٰت: 140)
آزمائش اور مچھلی کا نگل لینا:حضرت یونس
علیہ السّلام کشتی میں سوار ہوئے کشتی طوفان میں پھنس گئی قرعہ اندازی ہوئی اور
حضرت یونس علیہ السّلام کا نام نکلا پھر آپ دریا میں چلے گئے اور ایک بڑی مچھلی نے
اللہ تعالیٰ کے حکم سے آپ کو نگل لیا:فَالْتَقَمَهُ
الْحُوْتُ وَ هُوَ مُلِیْمٌ(۱۴۲)
ترجمۂ
کنزالایمان: پھر اسے مچھلی نے نگل لیا اور
وہ اپنے آپ کو ملامت کرتا تھا۔(پ23، الصّٰفّٰت: 142)
حضرت یونس علیہ السّلام کی دعا:مچھلی کے
پیٹ کی تاریکیوں میں حضرت یونس علیہ السّلام نے اللہ تعالیٰ سے نہایت عاجزی کے
ساتھ دعا کی:لَّاۤ اِلٰهَ اِلَّاۤ اَنْتَ سُبْحٰنَكَ اِنِّیْ كُنْتُ مِنَ الظّٰلِمِیْنَۚۖ
ترجمۂ
کنزالایمان: کوئی معبود نہیں سوا تیرے
پاکی ہے تجھ کو بیشک مجھ سے بے جا ہوا۔(پ17، الانبیاء: 87)
یہ دعا
نہایت عظیم اور قبولیت والی دعا ہے اللہ تعالیٰ نے فوراً آپ کی دعا قبول فرمائی:
فَاسْتَجَبْنَا لَهٗۙ-وَ نَجَّیْنٰهُ مِنَ الْغَمِّؕ-وَ كَذٰلِكَ نُـْۨجِی
الْمُؤْمِنِیْنَ(۸۸)
ترجمۂ
کنزالایمان: تو ہم نے اس کی پکار سن لی اورا سے غم سے نجات بخشی اور ایسی ہی نجات
دیں گے مسلمانوں کو۔(پ17، الانبیاء: 88)
دعا کی حدیث میں فضیلت:حضرت سعد
بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا ذوالنون حضرت یونس
علیہ السّلام کی دعا جو انہوں نے مچھلی کے پیٹ میں مانگی جو مسلمان بھی اس دعا کے
ساتھ دعا کرے گا اللہ تعالیٰ اس کی دعا قبول فرمائے گا۔( سنن ترمذی، حدیث: 3505)
ایک اور
حدیث میں فرمایا: جس نے یہ کہا کہ میں یونس بن متی علیہ السلام سے بہتر
ہوں تو اس نے جھوٹ کہا۔( صحیح بخاری حدیث: 3413)
قوم کا ایمان لانا:حضرت یونس
علیہ السّلام کے جانے کے بعد جب قوم نے عذاب کے آثار دیکھے تو سب ایمان لے آئے
اللہ تعالیٰ نے ان سے عذاب ٹال دیا:
فَلَوْ لَا كَانَتْ قَرْیَةٌ اٰمَنَتْ فَنَفَعَهَاۤ اِیْمَانُهَاۤ اِلَّا
قَوْمَ یُوْنُسَؕ-لَمَّاۤ اٰمَنُوْا كَشَفْنَا عَنْهُمْ عَذَابَ الْخِزْیِ فِی
الْحَیٰوةِ الدُّنْیَا وَ مَتَّعْنٰهُمْ اِلٰى حِیْنٍ(۹۸)
ترجمۂ
کنزالایمان: تو ہوئی ہوتی نہ کوئی بستی کہ ایمان لاتی تو اس کا ایمان کام آتا ہاں
یونس کی قوم جب ایمان لائے ہم نے ان سے رسوائی کا عذاب دنیا کی زندگی میں ہٹادیا
اور ایک وقت تک انہیں برتنے دیا۔(پ11، یونس: 98)
واقعۂ یونس علیہ السّلام سے حاصل
ہونے والے اسباق:
اللہ تعالیٰ
کے حکم میں جلد بازی نہیں کرنی چاہیے۔
مشکلات میں
اللہ تعالیٰ ہی کی طرف رجوع کرنا چاہیے۔
توبہ اور
استغفار نجات کا ذریعہ ہیں۔
انبیاءِ
کرام علیہم السّلام اللہ تعالیٰ کے مقرب بندے ہیں۔
دعا مؤمن
کا سب سے بڑا ہتھیار ہے۔
قومِ یونس
کی طرح سچی توبہ عذاب کو ٹال سکتی ہے۔
دعوتِ
اسلامی کے ادارے مکتبۃ المدینہ کی کتب میں حضرت یونس علیہ السّلام کے واقعات کو
نہایت ایمان افروز انداز میں بیان کیا گیا ہے خصوصاً۔ عجائب القرآن مع غرائب
القرآن،سیرت الانبیاء، صراط الجنان فی تفسیر القرآن ان کتب میں حضرت یونس علیہ
السّلام کی دعا صبر توبہ اور اللہ تعالیٰ کی رحمت کے موضوعات کی بہترین وضاحت ملتی
ہے۔
اللہ تعالیٰ
نے قرآنِ مجید میں اپنے انبیاءِ کرام عَلَیْہِمُ السَّلَام کے مبارک واقعات بیان
فرمائے تاکہ لوگ نصیحت حاصل کریں اور اپنے ایمان کو مضبوط کریں۔ انہی مقدس ہستیوں
میں حضرت یونس عَلَیْہِ السَّلَام بھی ہیں جن کا واقعہ صبر، توبہ، دعا اور اللہ
تعالیٰ کی رحمت کا عظیم درس دیتا ہے۔حضرت یونس عَلَیْہِ السَّلَام اللہ تعالیٰ کے
برگزیدہ نبی ہے۔ آپ کو نینویٰ کی قوم کی طرف ہدایت و تبلیغ کے لیے بھیجا گیا۔ آپ
نے اپنی قوم کو اللہ تعالیٰ کی وحدانیت کی دعوت دی، بت پرستی سے منع فرمایا اور نیکی
کی تلقین کی، مگر قوم اپنی سرکشی اور نافرمانی پر قائم رہی۔ آپ عَلَیْہِ
السَّلَام نے بہت سمجھایا مگر وہ لوگ ایمان نہ لائے۔قرآنِ پاک میں اللہ تعالیٰ
ارشاد فرماتا ہے:
وَ اِنَّ یُوْنُسَ لَمِنَ الْمُرْسَلِیْنَؕ(۱۳۹)
ترجمۂ
کنزالایمان: اور بے شک یونس پیغمبروں سے ہے۔ (پ23، الصافات: 139)
جب قوم
مسلسل نافرمانی کرتی رہی تو حضرت یونس عَلَیْہِ السَّلَام ناراض ہوکر بستی سے
روانہ ہوگئے اور ایک کشتی میں سوار ہوگئے۔ سمندر میں پہنچنے کے بعد کشتی طوفان میں
گھِر گئی۔ کشتی والوں نے فیصلہ کیا کہ بوجھ کم کرنے کے لیے ایک شخص کو سمندر میں
ڈالنا ہوگا۔ قرعہ اندازی ہوئی تو حضرت یونس عَلَیْہِ السَّلَام کا نام آیا۔
چنانچہ آپ سمندر میں تشریف لے گئے اور اللہ تعالیٰ کے حکم سے ایک بڑی مچھلی نے
آپ کو نگل لیا۔مچھلی کے پیٹ میں بھی حضرت یونس عَلَیْہِ السَّلَام نے اللہ تعالیٰ
کو یاد کیا۔ اندھیروں کے اندر آپ نے نہایت عاجزی کے ساتھ دعا مانگی:
لَّاۤ اِلٰهَ اِلَّاۤ اَنْتَ سُبْحٰنَكَ اِنِّیْ كُنْتُ مِنَ الظّٰلِمِیْنَۚۖ(۸۷)
ترجمۂ
کنزالایمان: کوئی معبود نہیں سوا تیرے
پاکی ہے تجھ کو بیشک مجھ سے بے جا ہوا۔ (پ17، الانبیاء: 87)
یہ دعا قرآنِ
پاک کی نہایت عظیم دعاؤں میں سے ہے۔ اس دعا میں اللہ تعالیٰ کی پاکی بیان کی گئی،
اس کی وحدانیت کا اقرار کیا گیا اور اپنی عاجزی و خطا کا اعتراف کیا گیا۔ اللہ
تعالیٰ کو اپنے بندے کی یہ عاجزی پسند آئی اور اس نے حضرت یونس عَلَیْہِ
السَّلَام کی دعا قبول فرمالی۔اللہ تعالیٰ نے مچھلی کو حکم دیا تو اس نے حضرت یونس
عَلَیْہِ السَّلَام کو کنارے پر اُگل دیا۔ اللہ تعالیٰ نے آپ پر اپنی رحمت فرمائی،
صحت عطا کی اور دوبارہ قوم کی طرف بھیجا۔ اس مرتبہ آپ کی قوم نے آپ کی بات مان لی
اور ایمان لے آئی۔قرآنِ پاک میں ارشاد ہوتا ہے:
فَلَوْ لَا كَانَتْ قَرْیَةٌ اٰمَنَتْ فَنَفَعَهَاۤ اِیْمَانُهَاۤ اِلَّا
قَوْمَ یُوْنُسَؕ-لَمَّاۤ اٰمَنُوْا كَشَفْنَا عَنْهُمْ عَذَابَ الْخِزْیِ فِی
الْحَیٰوةِ الدُّنْیَا وَ مَتَّعْنٰهُمْ اِلٰى حِیْنٍ(۹۸)
ترجمۂ
کنزالایمان: تو ہوئی ہوتی نہ کوئی بستی کہ ایمان لاتی تو اس کا ایمان کام آتا ہاں یونس
کی قوم جب ایمان لائے ہم نے ان سے رسوائی کا عذاب دنیا کی زندگی میں ہٹادیا اور
ایک وقت تک انہیں برتنے دیا۔ (پ11، یونس:
98)
حضرت یونس
عَلَیْہِ السَّلَام کا واقعہ ہمیں یہ درس دیتا ہے کہ انسان کو کبھی اللہ تعالیٰ کی
رحمت سے مایوس نہیں ہونا چاہیے۔ مصیبت کتنی ہی بڑی کیوں نہ ہو، اگر بندہ اخلاص کے
ساتھ اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں دعا کرے تو اللہ تعالیٰ مشکلات کو آسان فرما دیتا
ہے۔ اسی طرح قرآنِ پاک ہمیں بار بار توبہ، صبر اور اللہ تعالیٰ پر بھروسہ کرنے کی
تعلیم دیتا ہے۔
آج ضرورت
اس بات کی ہے کہ ہم قرآنِ پاک کو صرف پڑھیں ہی نہیں بلکہ اس کے پیغامات کو سمجھیں
اور اپنی زندگی میں نافذ کریں۔ انبیاءِ کرام عَلَیْہِمُ السَّلَام کے واقعات ہمارے
لیے مشعلِ راہ ہیں۔ اگر ہم ان مبارک واقعات سے نصیحت حاصل کریں تو ہماری دنیا اور
آخرت دونوں سنور سکتی ہیں۔
اللہ تعالیٰ
ہمیں قرآنِ پاک سے محبت کرنے، اس پر عمل کرنے اور انبیاءِ کرام عَلَیْہِمُ
السَّلَام کی تعلیمات پر چلنے کی توفیق عطا فرمائے۔اٰمین بجاہِ خاتمِ النبیین صلَّی
اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلَّم۔
محمد
جہانزیب(درجہ رابعہ جامعۃ المدينہ فيضان عثمان غنى ،کراچی،پاکستان)
اللہ تعالیٰ
نے قرآنِ مجید میں بہت سے انبیاءِ کرام علیہم السلام کے واقعات بیان فرمائے ہیں
تاکہ لوگ ان سے نصیحت حاصل کریں۔ حضرت یونس علیہ السلام بھی ان جلیل القدر انبیاء
میں سے ہیں جن کا ذکر قرآنِ پاک میں کئی مقامات پر آیا ہے۔ آپ علیہ السلام کو قومِ
نینویٰ کی طرف ہدایت کے لیے بھیجا گیا۔ آپ نے اپنی قوم کو اللہ تعالیٰ کی عبادت
اور برائیوں سے بچنے کی دعوت دی مگر اکثر لوگ نافرمانی کرتے رہے۔
اللہ تعالیٰ
ارشاد فرماتا ہے:وَ اِنَّ یُوْنُسَ لَمِنَ الْمُرْسَلِیْنَؕ(۱۳۹) اِذْ اَبَقَ اِلَى الْفُلْكِ الْمَشْحُوْنِۙ(۱۴۰)
ترجمۂ
کنزالایمان: اور بے شک یونس پیغمبروں سے ہے۔جب کہ بھری کشتی کی طرف نکل گیا۔ (پارہ 23، سورۃ الصافات، آیت 139-140)
ان آیاتِ
مبارکہ سے معلوم ہوتا ہے کہ حضرت یونس علیہ السلام اللہ تعالیٰ کے برگزیدہ رسول
تھے۔ جب آپ اپنی قوم کی نافرمانی سے پریشان ہوئے تو بستی چھوڑ کر روانہ ہوگئے اور
ایک کشتی میں سوار ہوئے۔ پھر اللہ تعالیٰ کی مشیت سے ایک مچھلی نے آپ کو نگل لیا،
مگر اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی کی حفاظت فرمائی۔ مزید ارشاد فرمایا:
فَنَادٰى فِی الظُّلُمٰتِ اَنْ لَّاۤ اِلٰهَ اِلَّاۤ اَنْتَ
سُبْحٰنَكَ اِنِّیْ كُنْتُ مِنَ
الظّٰلِمِیْنَۚۖ(۸۷)
ترجمۂ
کنزالایمان: تو اندھیریوں میں پکارا کوئی معبود نہیں سوا تیرے پاکی ہے تجھ کو بیشک مجھ سے بے جا
ہوا۔ (پارہ 17، سورۃ الانبیاء، آیت 87)
یہ دعا
حضرت یونس علیہ السلام نے مچھلی کے پیٹ میں پڑھی۔ اس دعا میں اللہ تعالیٰ کی پاکی
اور اپنی عاجزی کا اقرار موجود ہے۔ اسی دعا کی برکت سے اللہ تعالیٰ نے آپ کو نجات
عطا فرمائی۔قرآنِ پاک میں اس واقعہ کو یوں بیان کیا گیا ہے:فَاسْتَجَبْنَا
لَهٗۙ-وَ نَجَّیْنٰهُ مِنَ الْغَمِّؕ-وَ كَذٰلِكَ نُـْۨجِی الْمُؤْمِنِیْنَ(۸۸)
ترجمۂ
کنزالایمان: تو ہم نے اس کی پکار سن لی اورا سے غم سے نجات بخشی اور ایسی ہی نجات
دیں گے مسلمانوں کو۔ (پارہ
17، سورۃ الانبیاء، آیت 88)
اس آیت سے
معلوم ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کی سچی دعا قبول فرماتا ہے۔ حضرت یونس علیہ
السلام کا واقعہ صبر، توبہ اور اللہ تعالیٰ پر بھروسہ کرنے کا درس دیتا ہے۔
حضرت سعد
بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:ذوالنون یعنی حضرت
یونس علیہ السلام کی دعا جو انہوں نے مچھلی کے پیٹ میں کی تھی، کوئی مسلمان کسی بھی
مشکل میں یہ دعا پڑھے تو اللہ تعالیٰ اس کی دعا قبول فرماتا ہے۔(جامع ترمذی، کتاب
الدعوات، باب دعاء ذی النون، حدیث: 3505)
حضرت یونس
علیہ السلام کے واقعہ سے ہمیں یہ سبق ملتا ہے کہ انسان کو ہر حال میں اللہ تعالیٰ
سے امید رکھنی چاہیے۔ اگر بندہ اخلاص کے ساتھ دعا کرے تو اللہ تعالیٰ مشکل سے نجات
عطا فرماتا ہے۔ قرآنِ پاک میں انبیاءِ کرام علیہم السلام کے واقعات ہمارے لیے ہدایت
اور نصیحت کا ذریعہ ہیں۔ ہمیں بھی چاہیے کہ ہم اللہ تعالیٰ کی عبادت کریں، اس پر
بھروسہ رکھیں اور ہر حال میں صبر و شکر سے کام لیں۔
محمد
رضوان عطاری (درجہ رابعہ جامعۃ المدینہ فیضانِ عثمان غنی، کراچی،پاکستان)
حضرت یونس
علیہ السلام اللہ پاک کے بر گزیدہ نبی ہیں آپ علیہ السلام کو قوم نینوی کی طرف
مبعوث کیا گیا قرآن مجید میں آپ کا ذکر ذوالنون کے الفاظ کے ساتھ بھی آیا ہے۔قرآن
پاک میں آپ کی قوم کا ذکر اس انداز میں بیان کیا گیا۔
فَلَوْ لَا كَانَتْ قَرْیَةٌ اٰمَنَتْ فَنَفَعَهَاۤ اِیْمَانُهَاۤ اِلَّا
قَوْمَ یُوْنُسَؕ-لَمَّاۤ اٰمَنُوْا كَشَفْنَا عَنْهُمْ عَذَابَ الْخِزْیِ فِی
الْحَیٰوةِ الدُّنْیَا وَ مَتَّعْنٰهُمْ اِلٰى حِیْنٍ(۹۸)
ترجمۂ
کنزُالعِرفان: تو کیوں ایسا نہ ہوا کہ کوئی قوم ایمان لے آتی تاکہ اس کا ایمان
اسے نفع دیتا لیکن یونس کی قوم جب ایمان لائی توہم نے ان سے دنیا کی زندگی میں
رسوائی کا عذاب ہٹادیا اور ایک وقت تک انہیں فائدہ اٹھانے دیا۔ (پارہ 11، سورۃ یونس،
آیت نمبر 98)
تفسیر
صراط الجنان :فَلَوْ لَا:تو کیوں ایسا نہ ہوا۔یعنی
ایسا کیوں نہ ہوا کہ ان بستیوں میں سے جنہیں ہم نے ہلاک کیا کوئی قوم عذاب کا
مشاہدہ کرنے سے پہلے کفر چھوڑ کر اِخلاص کے ساتھ توبہ کر کے ایمان لے آتی اور جس
طرح فرعون نے اپنا ایمان لانا مُؤخَّر کیا وہ قوم نہ کرتی تاکہ اس کا ایمان اسے
نفع دیتا کیونکہ اختیار کے وقت میں ایمان لانے کی وجہ سے اللہ عَزَّوَجَلَّ ان کا
ایمان قبول کر لیتا۔ (مدارک، یونس، تحت الآیۃ: ۹۸، ص۴۸۶)
اِلَّا قَوْمَ یُوْنُسَ:لیکن یونس کی قوم۔ حضرت یونس عَلَیْہِ
الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کی قوم کا واقعہ یہ ہے کہ یہ لوگ موصل کے علاقے نینوٰی میں
رہتے تھے اور کفر و شرک میں مبتلا تھے اللہ تعالیٰ نے حضرت یونس عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ
وَالسَّلَام کو ان کی طرف بھیجا، آپ نے انہیں بت پرستی چھوڑنے اور ایمان لانے کا
حکم دیا، ان لوگوں نے انکار کیا اور حضرت یونس عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کی
تکذیب کی، آپ نے انہیں اللہ تعالیٰ کے حکم سے عذاب نازل ہونے کی خبر دی، ان لوگوں
نے آپس میں کہا کہ حضرت یونس عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام نے کبھی کوئی بات
غلط نہیں کہی ہے، دیکھو اگر وہ رات کو یہاں رہے جب تو کوئی اندیشہ نہیں اور اگر
انہوں نے رات یہاں نہ گزاری تو سمجھ لینا چاہیے کہ عذاب آئے گا۔ جب رات ہوئی
توحضرت یونس عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام وہاں سے تشریف لے گئے اور صبح کے وقت
عذاب کے آثار نمودار ہوگئے ، آسمان پر سیاہ رنگ کا ہیبت ناک بادل آیا ، بہت سارا
دھواں جمع ہوا اور تمام شہر پر چھا گیا۔ یہ دیکھ کر انہیں یقین ہوگیا کہ عذاب آنے
والا ہے ، انہوں نے حضرت یونس عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کو تلاش کیاتو آپ
کو نہ پایا، اب انہیں اور زیادہ اندیشہ ہوا تو وہ لوگ اپنی عورتوں ، بچوں اور
جانوروں کے ساتھ جنگل کی طرف نکل گئے، موٹے کپڑے پہن کر توبہ و اسلام کا اظہار کیا،
شوہر سے بیوی اور ماں سے بچے جدا ہوگئے اور سب نے بارگاہِ الٰہی میں گریہ و زاری
شروع کر دی اور عرض کرنے لگے کہ جودین حضرت یونس عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام
لائے ہیں ہم اس پر ایمان لاتے ہیں۔ چنانچہ انہوں نے سچی توبہ کی اور جو جَرائم ان
سے ہوئے تھے انہیں دور کیا، پرائے مال واپس کئے حتّٰی کہ اگر دوسرے کا ایک پتھرکسی
کی بنیاد میں لگ گیا تھا تو بنیاد اکھاڑ کر وہ پتھر نکال دیا اور واپس کردیا ۔
اللہ تعالیٰ سے اخلاص کے ساتھ مغفرت کی دعائیں کیں توپروردگارِ عالَم نے ان پر رحم
کیا، دعا قبول فرمائی اور عذاب اٹھا دیا گیا۔( خازن، یونس، تحت الآیۃ: ۹۸، ۲
/ ۳۳۵-۳۳۶)
فرعون کی توبہ اور حضرت یونس عَلَیْہِ
الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کی قوم کی توبہ میں فرق: اس مقام پر ایک سوال یہ
پیدا ہوتا ہے کہ قرآنِ پاک میں اللہ تعالیٰ نے فرعون کے بارے میں ذکر فرمایا کہ
اس نے آخری وقت توبہ کی لیکن اس کی توبہ قبول نہ ہوئی جبکہ حضرت یونس عَلَیْہِ
الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کی قوم کے بارے میں ذکر فرمایا کہ انہوں نے توبہ کی تو
اللہ تعالیٰ نے ان کی توبہ قبول فرما لی، دونوں کی توبہ میں کیا فرق ہے؟ امام فخر
الدین رازی رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ اس کے جواب میں فرماتے ہیں کہ فرعون
کی توبہ اور حضرت یونس عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کی قوم کی توبہ میں واضح
فرق ہے وہ یہ کہ فرعون نے عذاب کا مشاہدہ کرنے کے بعد توبہ کی تھی جبکہ حضرت یونس
عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کی قوم پر جب وہ نشانیاں ظاہر ہوئیں جو عذاب کے
قریب ہونے پر دلالت کرتی ہیں تو انہوں نے عذاب کا مشاہدہ کرنے سے پہلے اسی وقت ہی
توبہ کر لی تھی ۔ (تفسیرکبیر، یونس، تحت الآیۃ: ۹۸، ۶ / ۳۰۳) اس کا مطلب یہ نکلا کہ نزولِ عذاب
کے بعد توبہ قبول نہیں البتہ نزولِ عذاب سے پہلے صرف علاماتِ عذاب کے ظہور کے بعد
توبہ قبول ہوسکتی ہے۔
قومِ نینویٰ
کا واقعہ ہمیں یہ درس دیتا ہے کہ جب انسان اور قوم دونوں اپنی غلطی مان کر اللہ کی
طرف رجوع کریں تو اللہ ہر چیز پر قادر ہے یہ واقعہ مایوس لوگوں کے لیے سب سے بڑی
امید ہے۔
فَلَوْ لَا كَانَتْ قَرْیَةٌ اٰمَنَتْ فَنَفَعَهَاۤ اِیْمَانُهَاۤ اِلَّا
قَوْمَ یُوْنُسَؕ-لَمَّاۤ اٰمَنُوْا كَشَفْنَا عَنْهُمْ عَذَابَ الْخِزْیِ فِی
الْحَیٰوةِ الدُّنْیَا وَ مَتَّعْنٰهُمْ اِلٰى حِیْنٍ(۹۸)
ترجمۂ
کنزالایمان: تو ہوئی ہوتی نہ کوئی بستی کہ ایمان لاتی تو اس کا ایمان کام آتا ہاں
یونس کی قوم جب ایمان لائے ہم نے ان سے رسوائی کا عذاب دنیا کی زندگی میں ہٹادیا
اور ایک وقت تک انہیں برتنے دیا۔(یونس:98)
فَلَوْ لَا:تو کیوں ایسا نہ ہوا۔ یعنی ایسا کیوں نہ ہوا کہ ان بستیوں میں سے جنہیں ہم
نے ہلاک کیا کوئی قوم عذاب کا مشاہدہ کرنے سے پہلے کفر چھوڑ کر اِخلاص کے ساتھ
توبہ کر کے ایمان لے آتی اور جس طرح فرعون نے اپنا ایمان لانا مُؤخَّر کیا وہ
قوم نہ کرتی تاکہ اس کا ایمان اسے نفع دیتا کیونکہ اختیار کے وقت میں ایمان لانے کی
وجہ سے اللہ عَزَّوَجَلَّ ان کا ایمان قبول کر لیتا۔ (مدارک، یونس، تحت الآیۃ: ۹۸، ص۴۸۶)
اِلَّا قَوْمَ یُوْنُسَ:لیکن یونس کی قوم۔حضرت یونس عَلَیْہِ
الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کی قوم کا واقعہ یہ ہے کہ یہ لوگ موصل کے علاقے نینوٰی میں
رہتے تھے اور کفر و شرک میں مبتلا تھے اللہ تعالیٰ نے حضرت یونس عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ
وَالسَّلَام کو ان کی طرف بھیجا، آپ نے انہیں بت پرستی چھوڑنے اور ایمان لانے کا
حکم دیا، ان لوگوں نے انکار کیا اور حضرت یونس عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کی
تکذیب کی، آپ نے انہیں اللہ تعالیٰ کے حکم سے عذاب نازل ہونے کی خبر دی، ان لوگوں
نے آپس میں کہا کہ حضرت یونس عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام نے کبھی کوئی بات
غلط نہیں کہی ہے، دیکھو اگر وہ رات کو یہاں رہے جب تو کوئی اندیشہ نہیں اور اگر
انہوں نے رات یہاں نہ گزاری تو سمجھ لینا چاہیے کہ عذاب آئے گا۔ جب رات ہوئی
توحضرت یونس عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام وہاں سے تشریف لے گئے اور صبح کے وقت
عذاب کے آثار نمودار ہوگئے ، آسمان پر سیاہ رنگ کا ہیبت ناک بادل آیا ، بہت سارا
دھواں جمع ہوا اور تمام شہر پر چھا گیا۔ یہ دیکھ کر انہیں یقین ہوگیا کہ عذاب آنے
والا ہے ، انہوں نے حضرت یونس عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کو تلاش کیاتو آپ
کو نہ پایا، اب انہیں اور زیادہ اندیشہ ہوا تو وہ لوگ اپنی عورتوں ، بچوں اور
جانوروں کے ساتھ جنگل کی طرف نکل گئے، موٹے کپڑے پہن کر توبہ و اسلام کا اظہار کیا،
شوہر سے بیوی اور ماں سے بچے جدا ہوگئے اور سب نے بارگاہِ الٰہی میں گریہ و زاری شروع
کر دی اور عرض کرنے لگے کہ جودین حضرت یونس عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام لائے
ہیں ہم اس پر ایمان لاتے ہیں۔ چنانچہ انہوں نے سچی توبہ کی اور جو جَرائم ان سے
ہوئے تھے انہیں دور کیا، پرائے مال واپس کئے حتّٰی کہ اگر دوسرے کا ایک پتھرکسی کی
بنیاد میں لگ گیا تھا تو بنیاد اکھاڑ کر وہ پتھر نکال دیا اور واپس کردیا ۔ اللہ
تعالیٰ سے اخلاص کے ساتھ مغفرت کی دعائیں کیں توپروردگارِ عالَم نے ان پر رحم کیا،
دعا قبول فرمائی اور عذاب اٹھا دیا گیا۔( خازن، یونس، تحت الآیۃ: ۹۸، ۲
/ ۳۳۵-۳۳۶)
فرعون کی توبہ اور حضرت یونس عَلَیْہِ
الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کی قوم کی توبہ میں فرق: اس مقام پر ایک سوال یہ
پیدا ہوتا ہے کہ قرآنِ پاک میں اللہ تعالیٰ نے فرعون کے بارے میں ذکر فرمایا کہ
اس نے آخری وقت توبہ کی لیکن اس کی توبہ قبول نہ ہوئی جبکہ حضرت یونس عَلَیْہِ
الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کی قوم کے بارے میں ذکر فرمایا کہ انہوں نے توبہ کی تو
اللہ تعالیٰ نے ان کی توبہ قبول فرما لی، دونوں کی توبہ میں کیا فرق ہے؟ امام فخر
الدین رازی رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ اس کے جواب میں فرماتے ہیں کہ فرعون
کی توبہ اور حضرت یونس عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کی قوم کی توبہ میں واضح
فرق ہے وہ یہ کہ فرعون نے عذاب کا مشاہدہ کرنے کے بعد توبہ کی تھی جبکہ حضرت یونس
عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کی قوم پر جب وہ نشانیاں ظاہر ہوئیں جو عذاب کے
قریب ہونے پر دلالت کرتی ہیں تو انہوں نے عذاب کا مشاہدہ کرنے سے پہلے اسی وقت ہی
توبہ کر لی تھی ۔ (تفسیرکبیر، یونس، تحت الآیۃ: ۹۸، ۶ / ۳۰۳) اس کا مطلب یہ نکلا کہ نزولِ عذاب
کے بعد توبہ قبول نہیں البتہ نزولِ عذاب سے پہلے صرف علاماتِ عذاب کے ظہور کے بعد
توبہ قبول ہوسکتی ہے۔
وَ اِنَّ یُوْنُسَ لَمِنَ الْمُرْسَلِیْنَؕ(۱۳۹) اِذْ اَبَقَ اِلَى الْفُلْكِ الْمَشْحُوْنِۙ(۱۴۰)
ترجمۂ
کنزالایمان: اور بے شک یونس پیغمبروں سے ہے۔جب کہ بھری کشتی کی طرف نکل گیا۔
(صافات:139 ، 140)
وَ اِنَّ یُوْنُسَ: اور بیشک یونس۔یہاں سے حضرت یونس
عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کا واقعہ بیان کیا جا رہا ہے۔آپ عَلَیْہِ
الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کا نام یونس بن متیٰ ہے۔ آپ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ
وَالسَّلَام حضرت ہود عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کی اولاد میں سے ہیں ۔ آپ
عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کا لقب ذُو النُّون اور صَاحِبُ الْحُوْتْ ہے،
آپ بستی نِیْنَوٰی کے نبی تھے جو مُوصَل کے علاقہ میں دجلہ کے کنارے پر واقع تھی۔آپ
عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام نے چالیس سال ان لوگوں کو بت پرستی چھوڑنے اور
اللہ تعالیٰ کی وحدانیّت کا اقرار کرنے کی دعوت دی لیکن انہوں نے آپ عَلَیْہِ
الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کو جھٹلایا اور اپنے شرک سے باز نہ آئے، تب آپ عَلَیْہِ
الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام نے اللہ تعالیٰ کے حکم سے انہیں تین دن کے بعد عذاب آجانے
کی خبردی ۔ (روح البیان، الصافات، تحت الآیۃ: ۱۳۹، ۷ / ۴۸۶)
اِذْ اَبَقَ: جب وہ نکل گیا۔ حضرت یونس عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام نے اپنی قوم
کو عذاب آ نے کی جو خبر دی تھی جب اس میں تاخیر ہوئی تو آپ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ
وَالسَّلَام اپنی قوم کے کفر و نافرمانی پر اِصرار کرنے کی وجہ سے غضبناک ہو کر
اللہ تعالیٰ کی اجازت کے بغیر ہی ہجرت کے ارادے سے چل دئیے اور آپ عَلَیْہِ
الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام نے یہ خیال کیا کہ اللہ تعالیٰ مجھ پر کوئی تنگی نہیں کرے
گااورنہ ہی اس فعل پرمجھ سے کوئی بازپُرس ہوگی۔ حضرت یونس عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ
وَالسَّلَام کے ہجرت کرنے اور غضبناک ہونے کی ایک وجہ یہ تھی کہ وہ لوگ اس شخص کو
قتل کر دیتے تھے جس کا جھوٹاہونا ثابت ہو جائے، آپ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ
وَالسَّلَام یقینی طور پر سچے تھے کہ آپ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام نے وحیِ
الٰہی سے ہی انہیں بتایاکہ اگر تم نے میری بات نہ مانی تو تم پر اللہ عَزَّوَجَلَّ
کا عذاب آئے گا لیکن چونکہ فی الحال عذاب آیا نہیں تھا تو قوم کی نظر میں آپ کا
کہنا واقع کے خلاف تھا اسی لئے وہ آپ کے قتل کے درپے تھے اور آپ عَلَیْہِ
الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام اسی اندیشے سے وہاں سے چل دئیے حالانکہ آپ عَلَیْہِ
السَّلَام نے عذاب کا تو فرمایا تھا لیکن انہیں کوئی مُتَعَیَّن وقت نہیں بتایا
تھا کہ جس پر آپ عَلَیْہِ السَّلَام کو مَعَاذَ اللہ آپ کی قوم جھوٹا کہہ سکتی۔
حضرت عبداللہ بن عباس اور حضرت وہب رَضِیَ اللہ
تَعَالٰی عَنْہُمَا کا قول ہے کہ حضرت یونس عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام نے
اپنی قوم سے عذاب کا وعدہ کیا تھا،جب اس میں تاخیر ہوئی تو (قتل سے بچنے کے لئے)
آپ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام اُن سے چھپ کر نکل گئے ، آپ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ
وَالسَّلَام نے دریائی سفر کا قصد کیا اور بھری کشتی پر سوار ہوگئے، جب کشتی دریا
کے درمیان پہنچی تو ٹھہر گئی اور اس کے ٹھہرنے کا کوئی ظاہری سبب موجود نہ
تھا۔ملاحوں نے کہا: اس کشتی میں اپنے مولا سے بھاگا ہوا کوئی غلام ہے ،قرعہ اندازی
کرنے سے ظاہر ہوجائے گا کہ وہ کون ہے۔ چنانچہ قرعہ اندازی کی گئی توا س میں آپ
عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام ہی کانام نکلا،اس پر آپ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ
وَالسَّلَام نے فرمایا کہ میں ہی وہ غلام ہوں ۔ اس کے بعد آپ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ
وَالسَّلَام پانی میں ڈال دیئے گئے کیونکہ ان لوگوں کادستور یہی تھا کہ جب تک
بھاگا ہوا غلام دریا میں غرق نہ کردیاجائے اس وقت تک کشتی چلتی نہ تھی۔( خازن،
والصافات، تحت الآیۃ: ۱۴۰، ۴
/ ۲۶، مدارک، الصافات، تحت الآیۃ: ۱۴۰، ص۱۰۰۹، ملتقطاً)
علامہ
احمد صاوی رَحْمَۃُاللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ فرماتے ہیں :’’ حضرت یونس عَلَیْہِ
الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام اپنے اجتہاد کی وجہ سے کشتی میں سوار ہوئے تھے کیونکہ جب
عذاب میں تاخیر ہوئی تو حضرت یونس عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کو یہ گمان ہوا
کہ اگر وہ اپنی قوم میں ٹھہرے رہے تو وہ انہیں شہید کر دیں گے کیونکہ ان لوگوں کا
دستوریہ تھا کہ جس کا جھوٹاہونا ثابت ہو جائے تو وہ اسے قتل کر دیتے تھے لہٰذا
حضرت یونس عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کا کشتی میں سوار ہونا اللہ تعالیٰ کی
نافرمانی نہیں اور نہ ہی کوئی کبیرہ یا صغیرہ گنا ہ تھا اور مچھلی کے پیٹ میں قید
کر کے ان کا جو مُؤاخذہ ہوا وہ اَولیٰ کام کی مخالفت کی بنا پر ہوا کیونکہ ان کے
لئے اَولیٰ یہی تھا کہ آپ اللہ تعالیٰ کے حکم کا انتظار کرتے۔( صاوی، الصافات،
تحت الآیۃ: ۱۴۰، ۵
/ ۱۷۵۲، ملخصاً)
اللہ
تعالٰی نے انسانوں میں سے کئی نیک ہستیوں کی عبادات و مجاہدات کو شرف قبولیت عطا
فرمائی جن میں انبیاء کرام علیہم السلام کا ذکر سر فہرست نظر آتا ہے انبیاء کرام
کو اللہ تعالٰی نے انسانوں کی رہنمائی کے لئے مبعوث فرمایا جن میں حضرت یونس علیہ
السلام کو بھی اللہ تعالٰی نے ایک خاص رتبہ عطا فرمایا ۔
وَ اِنَّ یُوْنُسَ لَمِنَ الْمُرْسَلِیْنَؕ(۱۳۹) اِذْ اَبَقَ اِلَى الْفُلْكِ الْمَشْحُوْنِۙ(۱۴۰)
ترجمۂ
کنزُالعِرفان: اور بیشک یونس ضرور رسولوں میں سے ہے۔ جب وہ بھری کشتی کی طرف
نکل گیا۔ (صافات:139،140)
قوم کا حال: فَلَوْ لَا
كَانَتْ قَرْیَةٌ اٰمَنَتْ فَنَفَعَهَاۤ اِیْمَانُهَاۤ اِلَّا قَوْمَ
یُوْنُسَؕ-لَمَّاۤ اٰمَنُوْا كَشَفْنَا عَنْهُمْ عَذَابَ الْخِزْیِ فِی الْحَیٰوةِ
الدُّنْیَا وَ مَتَّعْنٰهُمْ اِلٰى حِیْنٍ(۹۸)
ترجمۂ
کنزُالعِرفان: تو کیوں ایسا نہ ہوا کہ کوئی قوم ایمان لے آتی تاکہ اس کا ایمان
اسے نفع دیتا لیکن یونس کی قوم جب ایمان لائی توہم نے ان سے دنیا کی زندگی میں
رسوائی کا عذاب ہٹادیا اور ایک وقت تک انہیں فائدہ اٹھانے دیا۔(یونس:98)
تفسیر صراط الجنان:فَلَوْ لَا:تو کیوں ایسا نہ ہوا۔ یعنی ایسا کیوں نہ ہوا کہ ان بستیوں میں سے جنہیں ہم
نے ہلاک کیا کوئی قوم عذاب کا مشاہدہ کرنے سے پہلے کفر چھوڑ کر اِخلاص کے ساتھ
توبہ کر کے ایمان لے آتی اور جس طرح فرعون نے اپنا ایمان لانا مُؤخَّر کیا وہ
قوم نہ کرتی تاکہ اس کا ایمان اسے نفع دیتا کیونکہ اختیار کے وقت میں ایمان لانے کی
وجہ سے اللہ عَزَّوَجَلَّ ان کا ایمان قبول کر لیتا۔ (مدارک، یونس، تحت الآیۃ: ۹۸، ص۴۸۶)
اِلَّا قَوْمَ یُوْنُسَ:لیکن یونس کی قوم۔ حضرت یونس عَلَیْہِ
الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کی قوم کا واقعہ یہ ہے کہ یہ لوگ موصل کے علاقے نینوٰی میں
رہتے تھے اور کفر و شرک میں مبتلا تھے اللہ تعالیٰ نے حضرت یونس عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ
وَالسَّلَام کو ان کی طرف بھیجا، آپ نے انہیں بت پرستی چھوڑنے اور ایمان لانے کا
حکم دیا، ان لوگوں نے انکار کیا اور حضرت یونس عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کی
تکذیب کی، آپ نے انہیں اللہ تعالیٰ کے حکم سے عذاب نازل ہونے کی خبر دی، ان لوگوں
نے آپس میں کہا کہ حضرت یونس عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام نے کبھی کوئی بات
غلط نہیں کہی ہے، دیکھو اگر وہ رات کو یہاں رہے جب تو کوئی اندیشہ نہیں اور اگر
انہوں نے رات یہاں نہ گزاری تو سمجھ لینا چاہیے کہ عذاب آئے گا۔ جب رات ہوئی
توحضرت یونس عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام وہاں سے تشریف لے گئے اور صبح کے وقت
عذاب کے آثار نمودار ہوگئے ، آسمان پر سیاہ رنگ کا ہیبت ناک بادل آیا ، بہت سارا
دھواں جمع ہوا اور تمام شہر پر چھا گیا۔ یہ دیکھ کر انہیں یقین ہوگیا کہ عذاب آنے
والا ہے ، انہوں نے حضرت یونس عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کو تلاش کیاتو آپ
کو نہ پایا، اب انہیں اور زیادہ اندیشہ ہوا تو وہ لوگ اپنی عورتوں ، بچوں اور
جانوروں کے ساتھ جنگل کی طرف نکل گئے، موٹے کپڑے پہن کر توبہ و اسلام کا اظہار کیا،
شوہر سے بیوی اور ماں سے بچے جدا ہوگئے اور سب نے بارگاہِ الٰہی میں گریہ و زاری
شروع کر دی اور عرض کرنے لگے کہ جودین حضرت یونس عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام
لائے ہیں ہم اس پر ایمان لاتے ہیں۔ چنانچہ انہوں نے سچی توبہ کی اور جو جَرائم ان
سے ہوئے تھے انہیں دور کیا، پرائے مال واپس کئے حتّٰی کہ اگر دوسرے کا ایک پتھرکسی
کی بنیاد میں لگ گیا تھا تو بنیاد اکھاڑ کر وہ پتھر نکال دیا اور واپس کردیا ۔
اللہ تعالیٰ سے اخلاص کے ساتھ مغفرت کی دعائیں کیں توپروردگارِ عالَم نے ان پر رحم
کیا، دعا قبول فرمائی اور عذاب اٹھا دیا گیا۔( خازن، یونس، تحت الآیۃ: ۹۸، ۲
/ ۳۳۵-۳۳۶)
فرعون کی توبہ اور حضرت یونس عَلَیْہِ
الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کی قوم کی توبہ میں فرق: اس مقام پر ایک سوال یہ
پیدا ہوتا ہے کہ قرآنِ پاک میں اللہ تعالیٰ نے فرعون کے بارے میں ذکر فرمایا کہ
اس نے آخری وقت توبہ کی لیکن اس کی توبہ قبول نہ ہوئی جبکہ حضرت یونس عَلَیْہِ
الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کی قوم کے بارے میں ذکر فرمایا کہ انہوں نے توبہ کی تو
اللہ تعالیٰ نے ان کی توبہ قبول فرما لی، دونوں کی توبہ میں کیا فرق ہے؟ امام فخر
الدین رازی رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ اس کے جواب میں فرماتے ہیں کہ فرعون
کی توبہ اور حضرت یونس عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کی قوم کی توبہ میں واضح
فرق ہے وہ یہ کہ فرعون نے عذاب کا مشاہدہ کرنے کے بعد توبہ کی تھی جبکہ حضرت یونس
عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کی قوم پر جب وہ نشانیاں ظاہر ہوئیں جو عذاب کے
قریب ہونے پر دلالت کرتی ہیں تو انہوں نے عذاب کا مشاہدہ کرنے سے پہلے اسی وقت ہی
توبہ کر لی تھی ۔ (تفسیرکبیر، یونس، تحت الآیۃ: ۹۸، ۶ / ۳۰۳) اس کا مطلب یہ نکلا کہ نزولِ عذاب
کے بعد توبہ قبول نہیں البتہ نزولِ عذاب سے پہلے صرف علاماتِ عذاب کے ظہور کے بعد
توبہ قبول ہوسکتی ہے۔
اللہ پاک
سے دعا ہے کہ ہمیں حضرت یونس علیہ السلام کی قوم سے نصیحت حاصل کرتے ہوئے اللہ پاک
کی بارگاہ میں سچی توبہ اور گریہ و زاری کرنے کی توفیق نصیب فرمائے آمین ۔
اللہ تعالیٰ
نے قرآن مجید میں ارشاد فرمایا :
فَلَوْ لَا كَانَتْ قَرْیَةٌ اٰمَنَتْ فَنَفَعَهَاۤ اِیْمَانُهَاۤ اِلَّا
قَوْمَ یُوْنُسَؕ-لَمَّاۤ اٰمَنُوْا كَشَفْنَا عَنْهُمْ عَذَابَ الْخِزْیِ فِی
الْحَیٰوةِ الدُّنْیَا وَ مَتَّعْنٰهُمْ اِلٰى حِیْنٍ(۹۸)
ترجمۂ کنزالایمان:
تو ہوئی ہوتی نہ کوئی بستی کہ ایمان لاتی تو اس کا ایمان کام آتا ہاں یونس کی قوم
جب ایمان لائے ہم نے ان سے رسوائی کا عذاب دنیا کی زندگی میں ہٹادیا اور ایک وقت
تک انہیں برتنے دیا۔(سورۃیونس:98)
حضرتِ یونس علیہ السلام کا تعارف:آپ عَلَیْہِ
الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کا نام یونس بن متیٰ ہے۔ آپ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ
وَالسَّلَام حضرت ہود عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کی اولاد میں سے ہیں ۔ آپ
عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کا لقب ذُو النُّون اور صَاحِبُ الْحُوْتْ ہے،
آپ بستی نِیْنَوٰی کے نبی تھے جو مُوصَل کے علاقہ میں دجلہ کے کنارے پر واقع تھی۔
(روح البیان، الصافات، تحت الآیۃ: ۱۳۹، ۷ / ۴۸۶)
قوم کاواقعہ : حضرت یونس عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کی قوم کا واقعہ یہ ہے کہ یہ
لوگ موصل کے علاقے نینوٰی میں رہتے تھے اور کفر و شرک میں مبتلا تھے اللہ تعالیٰ نے
حضرت یونس عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کو ان کی طرف بھیجا، آپ نے انہیں بت
پرستی چھوڑنے اور ایمان لانے کا حکم دیا، ان لوگوں نے انکار کیا اور حضرت یونس
عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کی تکذیب کی، آپ نے انہیں اللہ تعالیٰ کے حکم سے
عذاب نازل ہونے کی خبر دی، ان لوگوں نے آپس میں کہا کہ حضرت یونس عَلَیْہِ
الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام نے کبھی کوئی بات غلط نہیں کہی ہے، دیکھو اگر وہ رات کو یہاں
رہے جب تو کوئی اندیشہ نہیں اور اگر انہوں نے رات یہاں نہ گزاری تو سمجھ لینا چاہیے
کہ عذاب آئے گا۔ جب رات ہوئی توحضرت یونس عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام وہاں سے
تشریف لے گئے اور صبح کے وقت عذاب کے آثار نمودار ہوگئے ، آسمان پر سیاہ رنگ کا ہیبت
ناک بادل آیا ، بہت سارا دھواں جمع ہوا اور تمام شہر پر چھا گیا۔ یہ دیکھ کر انہیں
یقین ہوگیا کہ عذاب آنے والا ہے ، انہوں نے حضرت یونس عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ
وَالسَّلَام کو تلاش کیاتو آپ کو نہ پایا، اب انہیں اور زیادہ اندیشہ ہوا تو وہ
لوگ اپنی عورتوں ، بچوں اور جانوروں کے ساتھ جنگل کی طرف نکل گئے، موٹے کپڑے پہن
کر توبہ و اسلام کا اظہار کیا، شوہر سے بیوی اور ماں سے بچے جدا ہوگئے اور سب نے
بارگاہِ الٰہی میں گریہ و زاری شروع کر دی اور عرض کرنے لگے کہ جودین حضرت یونس
عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام لائے ہیں ہم اس پر ایمان لاتے ہیں۔ چنانچہ انہوں
نے سچی توبہ کی اور جو جَرائم ان سے ہوئے تھے انہیں دور کیا، پرائے مال واپس کئے
حتّٰی کہ اگر دوسرے کا ایک پتھرکسی کی بنیاد میں لگ گیا تھا تو بنیاد اکھاڑ کر وہ
پتھر نکال دیا اور واپس کردیا ۔ اللہ تعالیٰ سے اخلاص کے ساتھ مغفرت کی دعائیں کیں
توپروردگارِ عالَم نے ان پر رحم کیا، دعا قبول فرمائی اور عذاب اٹھا دیا گیا۔(
خازن، یونس، تحت الآیۃ: ۹۸، ۲ / ۳۳۵-۳۳۶)
فرعون کی توبہ اور حضرت یونس عَلَیْہِ
الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کی قوم کی توبہ میں فرق:اس مقام پر ایک سوال یہ
پیدا ہوتا ہے کہ قرآنِ پاک میں اللہ تعالیٰ نے فرعون کے بارے میں ذکر فرمایا کہ
اس نے آخری وقت توبہ کی لیکن اس کی توبہ قبول نہ ہوئی جبکہ حضرت یونس عَلَیْہِ
الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کی قوم کے بارے میں ذکر فرمایا کہ انہوں نے توبہ کی تو اللہ
تعالیٰ نے ان کی توبہ قبول فرما لی، دونوں کی توبہ میں کیا فرق ہے؟ امام فخر الدین
رازی رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ اس کے جواب میں فرماتے ہیں کہ فرعون کی
توبہ اور حضرت یونس عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کی قوم کی توبہ میں واضح فرق
ہے وہ یہ کہ فرعون نے عذاب کا مشاہدہ کرنے کے بعد توبہ کی تھی جبکہ حضرت یونس عَلَیْہِ
الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کی قوم پر جب وہ نشانیاں ظاہر ہوئیں جو عذاب کے قریب ہونے
پر دلالت کرتی ہیں تو انہوں نے عذاب کا مشاہدہ کرنے سے پہلے اسی وقت ہی توبہ کر لی
تھی ۔ (تفسیرکبیر، یونس، تحت الآیۃ: ۹۸، ۶ / ۳۰۳) اس کا مطلب یہ نکلا کہ نزولِ عذاب
کے بعد توبہ قبول نہیں البتہ نزولِ عذاب سے پہلے صرف علاماتِ عذاب کے ظہور کے بعد
توبہ قبول ہوسکتی ہے۔
Dawateislami