اللہ تعالیٰ نے انسانوں کی ہدایت کے لیے بے شمار انبیاءِ کرام علیہم السلام مبعوث فرمائے۔ انہی عظیم پیغمبروں میں حضرت یونس علیہ السلام کا مبارک نام بھی شامل ہے۔ آپ کی زندگی صبر، توبہ، دعا اور اللہ تعالیٰ پر کامل بھروسے کا روشن نمونہ ہے۔ آج بھی جب انسان مشکلات اور آزمائشوں میں گھِر جاتا ہے تو حضرت یونس علیہ السلام کا واقعہ اسے امید اور حوصلہ دیتا ہے۔

حضرت یونس علیہ السلام کو اللہ تعالیٰ نے نینوٰی کی قوم کی طرف بھیجا۔ آپ نے اپنی قوم کو اللہ کی عبادت اور برے اعمال چھوڑنے کی دعوت دی، مگر قوم نے نافرمانی اور سرکشی اختیار کی۔ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے :

(1)وَ ذَا النُّوْنِ اِذْ ذَّهَبَ مُغَاضِبًا فَظَنَّ اَنْ لَّنْ نَّقْدِرَ عَلَیْهِ فَنَادٰى فِی الظُّلُمٰتِ اَنْ لَّاۤ اِلٰهَ اِلَّاۤ اَنْتَ سُبْحٰنَكَ اِنِّیْ كُنْتُ مِنَ الظّٰلِمِیْنَۚۖ(۸۷)

ترجمۂ کنزالایمان: اور ذوالنون کو جب چلا غصہ میں بھرا تو گمان کیا کہ ہم اس پر تنگی نہ کریں گے تو اندھیریوں میں پکارا کوئی معبود نہیں سوا تیرے پاکی ہے تجھ کو بیشک مجھ سے بے جا ہوا۔ ( سورۃ الانبیاء،آیت 87)

(2) فَاسْتَجَبْنَا لَهٗۙ-وَ نَجَّیْنٰهُ مِنَ الْغَمِّؕ-وَ كَذٰلِكَ نُـْۨجِی الْمُؤْمِنِیْنَ(۸۸)

ترجمۂ کنزالایمان: تو ہم نے اس کی پکار سن لی اورا سے غم سے نجات بخشی اور ایسی ہی نجات دیں گے مسلمانوں کو۔ ( سورۃ الانبیاء ،آیت 88)

(3) فَالْتَقَمَهُ الْحُوْتُ وَ هُوَ مُلِیْمٌ(۱۴۲) فَلَوْ لَاۤ اَنَّهٗ كَانَ مِنَ الْمُسَبِّحِیْنَۙ(۱۴۳)

ترجمۂ کنزالایمان: پھر اسے مچھلی نے نگل لیا اور وہ اپنے آپ کو ملامت کرتا تھا۔ تو اگر وہ تسبیح کرنے والا نہ ہوتا۔ (سورۃ الصافات ،آیت 142-143)

(4) لَلَبِثَ فِیْ بَطْنِهٖۤ اِلٰى یَوْمِ یُبْعَثُوْنَۚ(۱۴۴) فَنَبَذْنٰهُ بِالْعَرَآءِ وَ هُوَ سَقِیْمٌۚ(۱۴۵)

ترجمۂ کنزالایمان: ضرور اس کے پیٹ میں رہتا جس دن تک لوگ اٹھائے جائیں گے۔ پھر ہم نے اسے میدان پر ڈال دیا اور وہ بیمار تھا۔ ( سورۃ الصافات،آیت 144-145)