محمد
حسنین رضا (درجہ خامسہ جامعۃ المدینہ فیضان
عثمان غنی، کراچی،پاکستان)
حضرت یونس
علیہ السّلام اللہ تعالیٰ کے جلیل القدر انبیاءِ کرام میں سے ہیں قرآنِ مجید میں
آپ کا تذکرہ مختلف مقامات
پر آیا ہے
آپ کو اللہ تعالیٰ نے نینویٰ کی قوم کی طرف ہدایت و تبلیغ کے لیے مبعوث فرمایا آپ
نے اپنی قوم کو توحید اور اللہ تعالیٰ کی عبادت کی دعوت دی مگر ابتدا میں قوم نے
انکار کیا پھر آپ پر آزمائش آئی مچھلی نے آپ کو نگل لیا، اور آپ نے اللہ تعالیٰ کی
بارگاہ میں رجوع و توبہ کی قرآنِ کریم نے اس واقعہ کو نہایت مؤثر انداز میں بیان
فرمایا ہے۔
حضرت یونس علیہ السّلام کا تعارف:حضرت یونس
علیہ السّلام کا نام قرآنِ کریم میں متعدد مرتبہ آیا ہے اللہ تعالیٰ نے آپ کو یونس
،ذوالنون اور صاحب الحوت کے القابات سے یاد فرمایا۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:
وَ اِنَّ یُوْنُسَ
لَمِنَ الْمُرْسَلِیْنَؕ(۱۳۹)
ترجمۂ
کنزالایمان: اور بے شک یونس پیغمبروں سے ہے۔(پ23، الصّٰفّٰت: 139)
وَ ذَا النُّوْنِ اِذْ ذَّهَبَ مُغَاضِبًا
ترجمۂ
کنزالایمان: اور ذوالنون کو جب چلا غصہ میں بھرا ۔(پ17، الانبیاء: 87)
فَاصْبِرْ لِحُكْمِ رَبِّكَ وَ لَا تَكُنْ كَصَاحِبِ الْحُوْتِۘ
ترجمۂ
کنزالایمان: تو تم اپنے رب کے حکم کا انتظار کر واور اس مچھلی والے کی طرح نہ ہونا
۔(پ29، القلم: 48)
قوم کو دعوت دینا:حضرت یونس
علیہ السّلام کو نینویٰ کی بستی کی طرف بھیجا گیا آپ نے اپنی قوم کو اللہ تعالیٰ کی
اطاعت اور بت پرستی چھوڑنے کی دعوت دی لیکن قوم نے آپ کی بات نہ مانی جب قوم مسلسل
نافرمانی پر قائم رہی تو آپ ناراض ہو کر بستی سے نکل گئے۔قرآنِ پاک میں ارشاد ہوتا
ہے:اِذْ اَبَقَ اِلَى الْفُلْكِ الْمَشْحُوْنِۙ(۱۴۰)
ترجمۂ
کنزالایمان: جب کہ بھری کشتی کی طرف نکل گیا۔(پ23، الصّٰفّٰت: 140)
آزمائش اور مچھلی کا نگل لینا:حضرت یونس
علیہ السّلام کشتی میں سوار ہوئے کشتی طوفان میں پھنس گئی قرعہ اندازی ہوئی اور
حضرت یونس علیہ السّلام کا نام نکلا پھر آپ دریا میں چلے گئے اور ایک بڑی مچھلی نے
اللہ تعالیٰ کے حکم سے آپ کو نگل لیا:فَالْتَقَمَهُ
الْحُوْتُ وَ هُوَ مُلِیْمٌ(۱۴۲)
ترجمۂ
کنزالایمان: پھر اسے مچھلی نے نگل لیا اور
وہ اپنے آپ کو ملامت کرتا تھا۔(پ23، الصّٰفّٰت: 142)
حضرت یونس علیہ السّلام کی دعا:مچھلی کے
پیٹ کی تاریکیوں میں حضرت یونس علیہ السّلام نے اللہ تعالیٰ سے نہایت عاجزی کے
ساتھ دعا کی:لَّاۤ اِلٰهَ اِلَّاۤ اَنْتَ سُبْحٰنَكَ اِنِّیْ كُنْتُ مِنَ الظّٰلِمِیْنَۚۖ
ترجمۂ
کنزالایمان: کوئی معبود نہیں سوا تیرے
پاکی ہے تجھ کو بیشک مجھ سے بے جا ہوا۔(پ17، الانبیاء: 87)
یہ دعا
نہایت عظیم اور قبولیت والی دعا ہے اللہ تعالیٰ نے فوراً آپ کی دعا قبول فرمائی:
فَاسْتَجَبْنَا لَهٗۙ-وَ نَجَّیْنٰهُ مِنَ الْغَمِّؕ-وَ كَذٰلِكَ نُـْۨجِی
الْمُؤْمِنِیْنَ(۸۸)
ترجمۂ
کنزالایمان: تو ہم نے اس کی پکار سن لی اورا سے غم سے نجات بخشی اور ایسی ہی نجات
دیں گے مسلمانوں کو۔(پ17، الانبیاء: 88)
دعا کی حدیث میں فضیلت:حضرت سعد
بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا ذوالنون حضرت یونس
علیہ السّلام کی دعا جو انہوں نے مچھلی کے پیٹ میں مانگی جو مسلمان بھی اس دعا کے
ساتھ دعا کرے گا اللہ تعالیٰ اس کی دعا قبول فرمائے گا۔( سنن ترمذی، حدیث: 3505)
ایک اور
حدیث میں فرمایا: جس نے یہ کہا کہ میں یونس بن متی علیہ السلام سے بہتر
ہوں تو اس نے جھوٹ کہا۔( صحیح بخاری حدیث: 3413)
قوم کا ایمان لانا:حضرت یونس
علیہ السّلام کے جانے کے بعد جب قوم نے عذاب کے آثار دیکھے تو سب ایمان لے آئے
اللہ تعالیٰ نے ان سے عذاب ٹال دیا:
فَلَوْ لَا كَانَتْ قَرْیَةٌ اٰمَنَتْ فَنَفَعَهَاۤ اِیْمَانُهَاۤ اِلَّا
قَوْمَ یُوْنُسَؕ-لَمَّاۤ اٰمَنُوْا كَشَفْنَا عَنْهُمْ عَذَابَ الْخِزْیِ فِی
الْحَیٰوةِ الدُّنْیَا وَ مَتَّعْنٰهُمْ اِلٰى حِیْنٍ(۹۸)
ترجمۂ
کنزالایمان: تو ہوئی ہوتی نہ کوئی بستی کہ ایمان لاتی تو اس کا ایمان کام آتا ہاں
یونس کی قوم جب ایمان لائے ہم نے ان سے رسوائی کا عذاب دنیا کی زندگی میں ہٹادیا
اور ایک وقت تک انہیں برتنے دیا۔(پ11، یونس: 98)
واقعۂ یونس علیہ السّلام سے حاصل
ہونے والے اسباق:
اللہ تعالیٰ
کے حکم میں جلد بازی نہیں کرنی چاہیے۔
مشکلات میں
اللہ تعالیٰ ہی کی طرف رجوع کرنا چاہیے۔
توبہ اور
استغفار نجات کا ذریعہ ہیں۔
انبیاءِ
کرام علیہم السّلام اللہ تعالیٰ کے مقرب بندے ہیں۔
دعا مؤمن
کا سب سے بڑا ہتھیار ہے۔
قومِ یونس
کی طرح سچی توبہ عذاب کو ٹال سکتی ہے۔
دعوتِ
اسلامی کے ادارے مکتبۃ المدینہ کی کتب میں حضرت یونس علیہ السّلام کے واقعات کو
نہایت ایمان افروز انداز میں بیان کیا گیا ہے خصوصاً۔ عجائب القرآن مع غرائب
القرآن،سیرت الانبیاء، صراط الجنان فی تفسیر القرآن ان کتب میں حضرت یونس علیہ
السّلام کی دعا صبر توبہ اور اللہ تعالیٰ کی رحمت کے موضوعات کی بہترین وضاحت ملتی
ہے۔
Dawateislami