سید
زوہیب علی شاہ (درجہ خامسہ جامعۃ المدینہ
فیضانِ بغداد، کراچی،پاکستان)
اللہ
سبحانہ و تعالیٰ نے انسانوں کی ہدایت و رَہنمائی کے لئے مختلف زمانوں میں مختلف
قوموں کی طرف کم و بیش ایک لاکھ چوبیس ہزار پیغمبر بھیجے۔ وہ اپنی قوم کے لوگوں کو
اللہ پاک کا پیغام پہنچاتے تاکہ لوگ ان پر عمل پیرا ہوکر دارین کی سعادتوں سے
مالامال ہوں ۔اِنہی انبیائے کرام علیہم السلام میں سے ایک نبی حضرت یونس علیہ
السلام ہیں جن کو اللہ تبارک وتعالیٰ نے موصَل کے علاقے نینوٰی کی طرف نبی بنا کر
بھیجا۔ آپ علیہ السلام کا نام یونس بن متّی ہے۔ ذوالنون اور صاحب الحوت آپ علیہ
السلام کے القابات ہیں۔
آئیے قرآنی
آیات کی روشنی میں حضرت یونس علیہ السلام اور انکی قوم کے واقعات پر نظر ڈالیں :
(1) حضرت یونس علیہ السلام کا نبی ہونا: وَ اِنَّ
یُوْنُسَ لَمِنَ الْمُرْسَلِیْنَؕ(۱۳۹)
ترجمۂ
کنزُالعِرفان: اور بیشک یونس ضرور رسولوں میں سے ہے۔ (الصفت آیت 139)
(2) حضرت یونس علیہ السلام کی قوم کی
توبہ :فَلَوْ لَا كَانَتْ قَرْیَةٌ اٰمَنَتْ فَنَفَعَهَاۤ اِیْمَانُهَاۤ اِلَّا
قَوْمَ یُوْنُسَؕ-لَمَّاۤ اٰمَنُوْا كَشَفْنَا عَنْهُمْ عَذَابَ الْخِزْیِ فِی
الْحَیٰوةِ الدُّنْیَا وَ مَتَّعْنٰهُمْ اِلٰى حِیْنٍ(۹۸)
ترجمۂ
کنزُالعِرفان: تو کیوں ایسا نہ ہوا کہ کوئی قوم ایمان لے آتی تاکہ اس کا ایمان
اسے نفع دیتا لیکن یونس کی قوم جب ایمان لائی توہم نے ان سے دنیا کی زندگی میں
رسوائی کا عذاب ہٹادیا اور ایک وقت تک انہیں فائدہ اٹھانے دیا۔ (یونس 98)
(3) حضرت یونس علیہ السلام کو مچھلی
کا نگلنا :فَسَاهَمَ فَكَانَ مِنَ الْمُدْحَضِیْنَۚ(۱۴۱) فَالْتَقَمَهُ الْحُوْتُ وَ هُوَ مُلِیْمٌ(۱۴۲) ترجمۂ کنزُالعِرفان: تو کشتی والے نے قرعہ ڈالا تویونس دھکیلے جانے
والوں میں سے ہوگئے۔ پھر انہیں مچھلی نے نگل لیا اور وہ اپنے آپ کو ملامت
کررہے تھے۔ (الصفت 141 تا 142)
(4) حضرت یونس علیہ السلام کی مچھلی کے پیٹ میں
دعا :
وَ ذَا النُّوْنِ اِذْ ذَّهَبَ مُغَاضِبًا فَظَنَّ اَنْ لَّنْ نَّقْدِرَ
عَلَیْهِ فَنَادٰى فِی الظُّلُمٰتِ اَنْ لَّاۤ اِلٰهَ اِلَّاۤ اَنْتَ
سُبْحٰنَكَ اِنِّیْ كُنْتُ مِنَ
الظّٰلِمِیْنَۚۖ(۸۷)ترجمۂ کنزُالعِرفان: اور ذوالنون
کو (یاد کرو) جب وہ غضبناک ہوکر چل پڑے تواس نے گمان کیا کہ ہم اس پر تنگی نہ
کریں گے تو اس نے اندھیروں میں پکاراکہ تیرے سوا کوئی معبود نہیں تو ہرعیب سے پاک ہے ، بیشک مجھ سے بے جا ہوا ۔ (الانبیاء 87)
(5) حضرت یونس علیہ السلام کی مچھلی
کے پیٹ سے نجات: فَاسْتَجَبْنَا لَهٗۙ-وَ نَجَّیْنٰهُ مِنَ الْغَمِّؕ-وَ كَذٰلِكَ نُـْۨجِی
الْمُؤْمِنِیْنَ(۸۸)ترجمۂ کنزُالعِرفان: تو ہم نے اس
کی پکار سن لی اور اسے غم سے نجات بخشی اور ہم ایمان والوں کو ایسے ہی نجات دیتے ہیں ۔ (الانبیاء 88)
حضرت یونس علیہ السلام کی دعا کی فضیلت: حضرت یونس علیہ السلام کی
مچھلی کے پیٹ میں کی جانے والی دعا کی فضیلت کے بارے میں نبی کریم صلی اللہ علیہ
وآلہ وسلّم نے فرمایا: حضرت یونس نے مچھلی کے پیٹ میں جب دعا مانگی تو یہ کلمات
کہے" لَاۤ اِلٰهَ اِلَّاۤ اَنْتَ سُبْحٰنَكَ اِنِّیْ كُنْتُ مِنَ الظّٰلِمِیْنَ" جو مسلمان ان کلمات کے ساتھ
کسی مقصد کے لئے دعا مانگے تو اللّٰہ تعالیٰ اسے قبول فرماتا ہے۔( ترمذی 3516)
ایک اور
مقام پر نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلّم نے فرمایا: "جو مسلمان اپنی بیماری
کی حالت میں چالیس مرتبہ " لَاۤ اِلٰهَ اِلَّاۤ
اَنْتَ سُبْحٰنَكَ اِنِّیْ كُنْتُ مِنَ
الظّٰلِمِیْنَ" کے ساتھ دعا مانگے، پھر وہ اسی مرض میں فوت ہو جائے تو اسے شہید کا
اجر دیا جائے اور اگر تندرست ہوگیا تو اسکے تمام گناہ بخشے جاچکے ہوں گے" ۔(
مستدرک 1908)
انبیاء
کرام علیہم السلام کی زندگیاں ہمارے لئے مشعلِ راہ ہیں۔ جس طرح حضرت یونس علیہ
السلام نے کفار کی ہٹ دھرمی اور حق کو تسلیم نہ کرنے کے باوجود انھیں صبر و
استقامت کے ساتھ تقریباً 40 سال اللہ پاک کا پیغام پہنچایا اسی طرح ہمیں بھی نیک
کاموں میں جلد بازی نہیں کرنی چاہئے بلکہ صبر و استقامت کے ساتھ چاہے کتنی ہی رکاوٹوں
کا کیوں نہ سامنا کرنا پڑے ہمیں اپنے حوصلے پست نہیں کرنے چاہییں بلکہ ہر حال میں
اللہ پاک کا شکر ادا کرتے ہوئے اپنی منزل کی طرف گامزن رہنا چاہیے ، اسی طرح اگر
کوئی آزمائش آجائے تو شکوے اور بےصبری کا مظاہرہ کرنے کے بجائے حضرت یونس علیہ
السلام کی سیرت سے استفادہ کرتے ہوئے ہمیں اللہ تبارک وتعالیٰ کی طرف رجوع کرنا
چاہیے اور اسی سے مدد طلب کرنی چائیے۔دعا ہے اللہ پاک ہم سب کو قرآنی احکام پر عمل
کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔آمین بجاہ خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم
Dawateislami