حضرت محمد مصطفےٰ ﷺ اللہ پاک کے محبوب رسول ہیں، جن کو اللہ پاک نے کائنات و دو عالم کا مالک و مختار اور رحمۃ للعالمین بنا کر بھیجا۔ چنانچہ قرآن کریم اس کی وضاحت خود فرماتا ہے:

وَ مَاۤ اَرْسَلْنٰكَ اِلَّا رَحْمَةً لِّلْعٰلَمِیْنَ(۱۰۷) (پ 17، الانبیاء: 107) ترجمہ: اے محبوب! ہم نے آپ کو تمام جہانوں کے لئے رحمت بنا کے بھیجا۔

رسولِ اکرم ﷺ کے احسانات قرآن مجید کی روشنی میں: ہمارا ایمان اور قرآن کا فرمان ہے کہ رسولِ اکرم ﷺ وہ عظیم تر رسول ہیں، جنہوں نے اپنی ولادتِ مبارکہ سے لے کر وصالِ مبارک تک اپنے امتیوں پر انگنت احسانات و معجزات کئے۔ اور سب سے بڑا معجزہ و احسان تو یہی ہے کہ ہماری سانسیں آپ ﷺ کے مبارک وجود سے برقرار ہے۔ چنانچہ ارشادِ باری ہے:

لَقَدْ  مَنَّ  اللّٰهُ  عَلَى  الْمُؤْمِنِیْنَ  اِذْ  بَعَثَ  فِیْهِمْ  رَسُوْلًا  مِّنْ  اَنْفُسِهِمْ  یَتْلُوْا  عَلَیْهِمْ  اٰیٰتِهٖ  وَ  یُزَكِّیْهِمْ  وَ  یُعَلِّمُهُمُ  الْكِتٰبَ  وَ  الْحِكْمَةَۚ-وَ  اِنْ  كَانُوْا  مِنْ  قَبْلُ  لَفِیْ  ضَلٰلٍ  مُّبِیْنٍ(۱۶۴) (پ 4، اٰلِ عمران: 164)ترجمہ کنز الایمان: بے شک اللہ کا بڑا احسان ہوا مسلمانوں پر کہ ان میں انہیں میں سے ایک رسول بھیجا جو ان پراس کی آیتیں پڑھتا ہے اور انھیں پاک کرتا اور انھیں کتاب و حکمت سکھاتا ہے اور وہ ضرور اس سے پہلے کھلی گمراہی میں تھے۔

حقِ رسول اکرم ﷺ: حقوق حق کی جمع ہے اور حق سے مراد ذمے داری و فرائض ہے۔ اصطلاح میں اس سے مراد ایسے حقوق ہیں جو اللہ پاک کی طرف سے بندوں پر عائد ہوں۔ اور بات کی جائے حقِ مصطفےٰ ﷺ کی تو اللہ پاک نے تمام امتِ مسلمہ پر فرض قرار دیا ہے کہ وہ پیارے حبیب، حضرت محمد مصطفےٰ ﷺ کے حقوق کو بجالائیں۔

حقوقِ مصطفےٰ: ویسے تو حقوقِ مصطفےٰ ﷺ بےشمار ہیں، لیکن ہم مختصر یہاں 5 حقوق کو بیان کرتے ہیں:

1۔ رسولِ اکرم ﷺ پر ایمان: تمام مسلمانوں پر پہلا حق و ذمے داری یہ ہے کہ وہ رسولِ محترم ﷺ پر سچے دل و دماغ سے ایمان لائیں اور وہ ان کو اللہ پاک کا آخری نبی، آخری پیغمبر تسلیم کریں، کہ ان کے بعد کوئی نبی نہیں آئے گا۔ اب نبوت کا سلسلہ ختم ہوچکا اور یہ مذہبِ اسلام کی بنیاد ہے۔

قرآن کی روشنی میں ایمانِ رسول ﷺ: چنانچہ پارہ 26، سورۂ فتح، آیت نمبر 13 میں ہے:

وَ مَنْ لَّمْ یُؤْمِنْۢ بِاللّٰهِ وَ رَسُوْلِهٖ فَاِنَّاۤ اَعْتَدْنَا لِلْكٰفِرِیْنَ سَعِیْرًا(۱۳) ترجمہ: جو اللہ اور اس کے رسول پر ایمان نہ لائے تو یقیناً ہم نے کافروں کے لئے بھڑکتی ہوئی آگ تیار کر رکھی ہے۔

2۔ رسولِ اکرم ﷺ کی پیروی: ایمانِ رسول کے بعد تمام مسلمانوں پر دوسرا حق یہ ہے کہ وہ اللہ کے رسول کی پیروی کریں اور سنتوں کے عامل بنیں۔

قرآن میں ہے: قُلْ اِنْ كُنْتُمْ تُحِبُّوْنَ اللّٰهَ فَاتَّبِعُوْنِیْ یُحْبِبْكُمُ اللّٰهُ وَ یَغْفِرْ لَكُمْ ذُنُوْبَكُمْؕ-وَ اللّٰهُ غَفُوْرٌ رَّحِیْمٌ(۳۱) (پ 3،اٰل عمران: 31)ترجمہ کنز الایمان: اے محبوب تم فرما دو کہ لوگو اگر تم اللہ کو دوست رکھتے ہو تو میرے فرمانبردار ہو جاؤ اللہ تمہیں دوست رکھے گا اور تمہارے گناہ بخش دے گا اور اللہ بخشنے والا مہربان ہے۔

3۔ رسول اللہ ﷺ کی اطاعت: ہم مسلمانوں پر تیسرا حق یہ ہے کہ ہم رسولِ اکرم، نورِ مجسم ﷺ کی اطاعت کریں، جو وہ شریعت، احکامِ خدا وندی، اللہ کے حضور لائیں، ان کو سچے دل سے مانیں اور اطاعت کریں۔قرآن مجید رسولِ اکرم ﷺ کی اطاعت کے متعلق فرماتا ہے: اَطِیْعُوا اللّٰهَ وَ اَطِیْعُوا الرَّسُوْلَ (پ5،النساء:59)ترجمہ کنز الایمان:حکم مانو اللہ کا اور حکم مانو رسول کا۔

ایک اور جگہ ارشاد فرمایا: مَنْ یُّطِعِ الرَّسُوْلَ فَقَدْ اَطَاعَ اللّٰهَۚ-(پ5،النساء: 80) ترجمہ کنزالایمان: جس نے رسول کا حکم مانا بے شک اُس نے اللہ کا حکم مانا۔

4۔ رسول اللہ ﷺ سے سچی محبت: رسولِ اکرم ﷺ کا حق ہے کہ ہم سب مسلمان ان سے سچی محبت کریں اور یہ ایمان کا تقاضا ہے کہ بغیر محبتِ رسول ایمان کی بنیاد مضبوط نہیں۔ چنانچہ حدیثِ شریف ہے: تم میں سے کسی شخص کا ایمان اس وقت تک مکمل نہیں ہوسکتا، جب تک میں اسے اُس کے باپ، اُس کی اولاد اور تمام لوگوں سے زیادہ محبوب نہ ہوجاؤں۔ (بخاری، 1/12، حدیث: 15)

5۔ رسول اللہ ﷺ پر درود پڑھنا: ہر مسلمان پر یہ حق عائد ہے کہ وہ حضورِ انور ﷺ پر درودِ گرامی بھیجے، جس سے ہم بارگاہِ الٰہی و حضور ﷺ کے نیک امتیوں میں شامل ہوجائیں اور قریب سے قریب تر مقام پائیں۔ قرآن مجید کی روشنی میں بھی اس کا ذکر یوں ہوا ہے: اِنَّ اللّٰهَ وَ مَلٰٓىٕكَتَهٗ یُصَلُّوْنَ عَلَى النَّبِیِّؕ-یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا صَلُّوْا عَلَیْهِ وَ سَلِّمُوْا تَسْلِیْمًا(۵۶) (پ 22، الاحزاب: 56) ترجمہ کنز الایمان: بےشک اللہ اور اس کے فرشتے درود بھیجتے ہیں اس غیب بتانے والے (نبی) پر اے ایمان والو ان پر درود اور خوب سلام بھیجو۔اس آیتِ مبارک سے صاف ظاہر ہوتا ہے کہ ہر مسلمان کو اللہ پاک کی طرف سے حکم ہوا ہے کہ وہ رسولِ محبوب ﷺ پر درود و سلام بھیجا کرے، تاکہ محبت و بخشش کا باعث بنے۔

درس: حضرت محمد مصطفےٰ ﷺ نے اپنی امت کو سیدھا راستہ دکھانے کے لئے بڑی سے بڑی قربانیاں دیں۔ بطورِ مسلمان ہم پر یہ حقوق اللہ پاک کی طرف سے عائد ہوتے ہیں کہ ہم ان کو سچے دل، خلوص و محبت سےاپنائیں اور رسول اللہ و قربِ الٰہی کا قریب سے قریب تر مقام و درجہ حاصل کریں۔

ایمان کا ستون ہے نورِ محمد ﷺ ہر مسلمان کی شان و مان ہے نورِ محمد ﷺ


دنیا کا دستور ہے کہ جس کے جتنے احسان زیادہ ہوتے ہیں، اُس کے حقوق بھی اس قدر بڑھ جاتے ہیں۔ جانِ کائنات ﷺ تو اس کائنات کے وجود میں آنے کا سبب ہیں، آپ ﷺ رحمۃ للعلمین ہیں، مومنوں کے حق میں روف و رحیم ہیں۔ آپ ہی کی وجہ سے اس امت کو خیرِ امت کا لقب ملا، ولادت کے وقت بھی امت کو یاد فرمارہے تھے، شبِ معراج بھی امت کو یاد رکھا، حتی کہ ظاہری وصال شریف کے وقت بھی لبِ اقدس پر امتی امتی جاری تھا۔ اس عظیم محسن کے بےشمار حقوق میں سے صرف 5 کا یہاں ذکر کیا جاتا ہے۔

ایمان بالرسول:آخری نبی ﷺ پر ایمان لانا اور آپ کے لائے ہوئے احکامات کو حق جاننا فرضِ عین ہے۔ اعلیٰ حضرت رحمۃُ اللہِ علیہ فرماتے ہیں: محمد رسول اللہ ﷺ کو ہر بات میں سچا جانے، حضور ﷺ کی حقانیت کو صدقِ دل سے ماننا ایمان ہے۔ (فتاویٰ رضویہ، 29/254)

مفتی احمد یار خان نعیمی رحمۃُ اللہِ علیہ علم القرآن کی اصطلاح میں ایمان کی تعریف کرتے ہوئے فرماتے ہیں: حضور ﷺ کو اپنا حاکمِ مطلق جانے۔ (علم القرآن، ص39)

محبتِ رسول: ہر امتی پر یہ حق ہے کہ نبیِ کریم ﷺ کو سارے جہان سے بڑھ کر محبوب جانے۔ خود فرماتے ہیں: تم میں سے کوئی اس وقت تک کامل مومن نہیں ہوسکتا، جب تک کہ میں اس کے نزدیک اس کے باب، اس کی اولاد اور تمام لوگوں سے بڑھ کر محبوب نہ ہوجاؤں۔ (بخاری، ص 74، حدیث: 15)

اطاعتِ رسول: اللہ پاک قرآن کریم میں فرماتا ہے: مَنْ یُّطِعِ الرَّسُوْلَ فَقَدْ اَطَاعَ اللّٰهَۚ-(پ5،النساء: 80) ترجمہ کنزالایمان: جس نے رسول کا حکم مانا بے شک اُس نے اللہ کا حکم مانا۔ بلکہ خود قرآن کریم میں اللہ پاک نے نبیِ کریم ﷺ کی اطاعت نہ کرنے والوں کے لئے وعید ارشاد فرمائی: وَ مَنْ یَّعْصِ اللّٰهَ وَ رَسُوْلَهٗ فَقَدْ ضَلَّ ضَلٰلًا مُّبِیْنًاؕ(۳۶) (پ 22، الاحزاب، 36) ترجمہ کنز الایمان: اور جو حکم نہ مانے اللہ اور اس کے رسول کا، وہ بےشک صریح گمراہی بہکا۔

تعظیمِ رسول: ایک امتی پر اس کے پیارے نبی ﷺ کا حق یہ ہے کہ وہ نہ صرف ان کی تعظیم کرے، بلکہ ان سے نسبت رکھنے والی ہر شے کی تعظیم کرے۔ اللہ پاک فرماتا ہے: اِنَّاۤ اَرْسَلْنٰكَ شَاهِدًا وَّ مُبَشِّرًا وَّ نَذِیْرًاۙ(۸) لِّتُؤْمِنُوْا بِاللّٰهِ وَ رَسُوْلِهٖ وَ تُعَزِّرُوْهُ وَ تُوَقِّرُوْهُؕ- (پ 26، الفتح: 8- 9) ترجمہ کنز الایمان: بےشک ہم نے تمہیں بھیجا حاضر و ناظر اور خوشی اور ڈر سناتا تاکہ اے لوگو تم اللہ اور اس کے رسول پر ایمان لاؤ اور رسول کی تعظیم و توقیرکرو۔ تعظیمِ رسول ہی کا جذبہ تھا، جس کی وجہ سے صدیقِ اکبر رضی اللہُ عنہ نے غارِ ثور میں اپنی جان کی بھی پروا نہ کی۔ اسی مقدس جذبے نے ہی مولا علی رضی اللہُ عنہ کو صلوۃِ وسطیٰ (عصر) بھی ترک کرنے پر ابھارا۔ اعلیٰ حضرت رحمۃُ اللہِ علیہ فرماتے ہیں:

ثابت ہوا کہ جملہ فرائض فروع ہیں اصل الاصول بندگی اس تاجور کی ہے

جان کی حفاظت اہم ترین فرض: نمازِ عصر کی اہمیت سے بھی انکار نہیں، مگر جب معاملہ میرے حضور ﷺ کا ہو تو سب قربان۔

مدحِ رسول: آپ ﷺ کے فضائل و محاسن کا ذکرِ جمیل ربّ العلمین اور تمام انبیاء و مرسلین علیہمُ السّلام کا مقدس طریقہ ہے۔ ایک امتی پر یہ حق ہے کہ وہ اپنے محبوب کی مدح و ثناء کرے، ان کے فضائل و کمالات کا ذکر کرے۔ وہ تو ربّ تعالیٰ کی سب سے بڑی نعمت ہیں اور نعمت کا چرچا کرنے کا حکم خود رب ارشاد فرمارہا ہے: وَ اَمَّا بِنِعْمَةِ رَبِّكَ فَحَدِّثْ۠(۱۱) (پ30، الضحی: 11)ترجمہ کنز الایمان: اور اپنے رب کی نعمت کا خوب چرچا کرو۔

اجمالاً چار حقوق ذکر کئے گئے ہیں ورنہ

شکر ایک کرم کا بھی ہوسکتا نہیں ادا دل تم پہ فدا جانِ حسن تم پہ فدا ہو

آقا کریم ﷺ کے حقوق بالتفصیل جاننے کے لئے مدنی چینل کا سلسلہ درسِ شفاء شریف ملاحظہ فرمائیے۔ 


ارشادِ باری تعالیٰ ہے: اِنَّاۤ اَرْسَلْنٰكَ شَاهِدًا وَّ مُبَشِّرًا وَّ نَذِیْرًاۙ(۸) لِّتُؤْمِنُوْا بِاللّٰهِ وَ رَسُوْلِهٖ وَ تُعَزِّرُوْهُ وَ تُوَقِّرُوْهُؕ- (پ 26، الفتح: 8- 9) ترجمہ کنز الایمان: بےشک ہم نے تمہیں بھیجا حاضر و ناظر اور خوشی اور ڈر سناتا تاکہ اے لوگو تم اللہ اور اس کے رسول پر ایمان لاؤ اور رسول کی تعظیم و توقیرکرو۔

تفسیر: یہ آیتِ مبارکہ رسولِ کریم ﷺ کی عظمت و شان، مقام و منصب، امت پر لازم حقوق اور اللہ پاک کی تسبیح و عبادت کے بیان پر مشتمل ہے۔ اس کا خلاصہ یہ ہے کہ اے نبی ! ہم نے تمہیں امت کے اعمال پر گواہ، اہلِ ایمان و اطاعت کو خوشخبری دینے اور کافر و نافرمان کو اللہ پاک کی گرفت اور عذاب کا ڈرسنانے والا بنا کر بھیجا ہے، تاکہ اے لوگو! تم اللہ پاک اور اس کے رسول پر ایمان لاؤ اور رسول کی نصرت و حمایت اور تعظیم و توقیر کرو اور صبح و شام اللہ پاک کی پاکی بیان کرو۔

امت پر نبیِ کریم ﷺ کے حقوق کے پہلو سے اس آیتِ کریمہ کو دیکھا جائے تو اس میں اللہ پاک نے آپ ﷺ کے تین حقوق بیان فرمائے ہیں:

(1) ایمان، (2) نصرت و حمایت، (3) تعظیم و توقیر۔

1۔ ایمان: محمدِ مصطفےٰ ﷺ کی نبوت و رسالت پر ایمان رکھنا فرض ہےاور یونہی ہر اس چیز کو تسلیم کرنا بھی لازم و ضروری ہے، جوآپ ﷺ اللہ پاک کی طرف سے لائے ہیں۔ یہ حق صرف مسلمانوں پر نہیں، بلکہ تمام انسانوں پر لازم ہیں، کیونکہ آپ تمام انسانوں کے لئے رسول ہیں اور آپ کی رحمت تمام جہانوں کے لئے اور آپ کے احسانات تمام انسانوں بلکہ تمام مخلوقات پر ہیں۔ جو یہ ایمان نہ رکھے وہ مسلمان نہیں، اگرچہ وہ دیگر تمام انبیاء کرام علیہمُ السّلام پر ایمان رکھتا ہو۔

2۔ رسول اللہ ﷺ کی نصرت و حمایت: اللہ پاک نے روزِ میثاق تمام انبیاء و مرسلین علیہمُ السّلام سے اپنے حبیب ﷺ کی نصرت و مدد کا عہد لیا تھا۔ اور اب ہمیں بھی آپ ﷺ کی نصرت و حمایت کا حکم دیا ہے۔ صحابۂ کرام رضی اللہُ عنہم نے آپ ﷺ کی تائید و نصرت میں جان، مال، وطن، رشتے دار سب کچھ قربان کردیا۔ دورانِ جنگ ڈھال بن کر پروانوں کی طرح آپ ﷺ پر نثار تے رہے۔ فی زمانہ بھی آپ ﷺ کی عزت وناموس کی حفاظت، آپ ﷺ کی تعلیمات و دین کی بقاء و ترویج کی کوشش اسی نصرت و حمایت میں داخل اور مسلمانوں پر لازم ہے۔

3۔ رسول اللہ ﷺ کی تعظیم و توقیر: ایک انتہائی اہم حق یہ بھی ہے کہ دل و جان، روح و بدن اور ظاہر و باطن ہر اعتبار سے نبیِ کریم ﷺ کی اعلیٰ درجے کی تعظیم و توقیر کی جائے، بلکہ آپ ﷺ سے نسبت و تعلق رکھنے والی ہر چیز کا ادب و احترام کرنا چاہئے۔

مذکورہ بالا حقوق کے ساتھ ساتھ علماء و محدثین نے اپنی کتب میں مزید حقوقِ مصطفےٰ ﷺ کو بھی بڑی تفصیل کے ساتھ بیان کیا ہے۔

4۔ رسول اللہ ﷺ کی اتباع: نبیِ کریم ﷺ کی سیرتِ مبارکہ اور سنتوں کی پیروی کرنا ہر مسلمان کے دین و ایمان کا تقاضا اور حکمِ خداوندی ہے۔ آسمانِ ہدایت کے روشن ستارے یعنی صحابۂ کرام رضی اللہُ عنہم اور سلف صالحین اپنی زندگی کے ہر قدم پر حضورِ پاک ﷺ کے طریقے پر چلنے کو مقدم رکھتے اور اتباعِ نبوی سے ہرگز انحراف نہیں کرتے۔

5۔ رسولِ پاک ﷺ سے سچی محبت: امتی پر حق ہے کہ وہ دنیا کی ہر چیز سے بڑھ کر اپنے آقا و مولا، سید المرسلین ﷺ سے سچی محبت کرے کہ آپ ﷺ کی محبت روحِ ایمان، جانِ ایمان اور اصلِ ایمان ہے۔

اللہ پاک ہمیں نبیِ پاک ﷺ کے تمام حقوق بجالاتے رہنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین۔ 


تاریخ کا مطالعہ کریں تو اس بات کا اندازہ ہوگا کہ رسول اللہ ﷺ نے ہم گنہگاروں کے لئے کتنی مشقتیں برداشت کیں ہیں۔ آج ہمیں ایمان کی دولت میسر آئی، خدا کی معرفت حاصل ہوئی، راہِ حق کا پتا چلا، قرآن ملا، ہماری ہرہر سانس پر سرکارِ دو عالم ﷺ کا احسان ہے۔ آپ کے احسانات ہیں تو امت پر بھی کچھ حقوق ہیں۔

حق کی تعریف: حق کے لغوی معنیٰ صحیح، مناسب، سچ، انصاف، جائز مطالبہ یا استحقاق کے ہیں۔ اس طرح حق ایک ذو معنیٰ لفظ ہے۔ ایک طرف سچائی کی طرف اشارہ کرتا ہے اور دوسری جانب اس چیز کی طرف جسے قانوناً اور باضابطہ طور پر اپنا کہہ سکتے ہیں۔

حضور ﷺ کے اپنی امت پر حقوق: ارشادِباری تعالیٰ ہے: اِنَّاۤ اَرْسَلْنٰكَ شَاهِدًا وَّ مُبَشِّرًا وَّ نَذِیْرًاۙ(۸) لِّتُؤْمِنُوْا بِاللّٰهِ وَ رَسُوْلِهٖ وَ تُعَزِّرُوْهُ وَ تُوَقِّرُوْهُؕ- (پ 26، الفتح: 8- 9) ترجمہ کنز الایمان: بےشک ہم نے تمہیں بھیجا حاضر و ناظر اور خوشی اور ڈر سناتا تاکہ اے لوگو تم اللہ اور اس کے رسول پر ایمان لاؤ اور رسول کی تعظیم و توقیرکرو۔

یہ آیتِ مبارکہ رسولِ کریم ﷺ کی عظمت و شان، مقام و منصب، امت پر لازم حقوق اور اللہ پاک کی تسبیح کے بیان پر مشتمل ہے۔

امت پر نبیِ کریم ﷺ کے حقوق کے پہلو سے اس آیتِ کریمہ کو دیکھا جائے تو اس میں اللہ پاک نے آپ ﷺ کے حقوق بیان فرمائے ہیں۔

1۔ ایمان: محمدِ مصطفےٰ ﷺ کی نبوت و رسالت پر ایمان رکھنا فرض ہے اور یونہی اس چیز کو تسلیم کرنا بھی ضروری ہے جو آپ اللہ پاک کی طرف سے لائے ہیں۔ یہ حق صرف مسلمانوں پر نہیں، بلکہ تمام انسانوں پر لازم ہے، کیونکہ آپ تمام انسانوں کے لئے رسول ہیں اور آپ کی رحمت تمام جہانوں کے لئے اور آپ کے احسانات تمام انسانوں بلکہ تمام مخلوقات پر ہیں۔ جو یہ ایمان نہ رکھے وہ مسلمان نہیں، اگرچہ وہ دیگر انبیاء کرام پر ایمان رکھتا ہو۔

2۔ رسول اللہ ﷺ کی نصرت و حمایت: اللہ پاک نے روزِ میثاق تمام انبیاء و مرسلین علیہمُ السّلام سے اپنے حبیب ﷺ کی نصرت و مدد کا عہد لیا تھا۔ اور اب ہمیں بھی آپ کی نصرت و حمایت کا حکم دیا ہے۔ صحابۂ کرام رضی اللہُ عنہم نے آپ کی تائید و نصرت میں جان، مال، وطن، رشتے دار سب کچھ قربان کردیا۔ دورانِ جنگ ڈھال بن کر پروانوں کی طرح آپ پر نثار ہوتے رہے۔ فی زمانہ بھی آپ کی عزت وناموس کی حفاظت، آپ کی تعلیمات و دین کی بقاء و ترویج کی کوشش اسی نصرت و حمایت میں داخل اور مسلمانوں پر لازم ہے۔

3۔ رسول اللہ ﷺ کی تعظیم و توقیر: ایک انتہائی اہم حق یہ بھی ہے کہ دل و جان، روح و بدن اور ظاہر و باطن ہر اعتبار سے نبیِ کریم ﷺ کی اعلیٰ درجے کی تعظیم و توقیر کی جائے، بلکہ آپ سے نسبت و تعلق رکھنے والی ہر چیز کا ادب و احترام کیا جائے۔ نبیِ کریم ﷺ کے نعلین شریف، مدینہ طیبہ، مسجدِ نبوی، گنبدِ خضریٰ، اہلِ بیت، صحابۂ کرام اور ہر وہ جگہ جہاں پیارے آقا ﷺ کے قدم لگے، ان سب کی تعظیم کی جائے۔ ادب و تعظیم میں یہ بھی داخل ہے کہ اپنی زبان و بدن اور اقوال و افعال میں امورِ تعظیم کو ملحوظ رکھے۔ جیسے نام مبارک سنے تو درود و سلام کا نذرانہ پیش کرے۔ اسی ادب و تعظیم کا اہم تقاضا یہ ہے کہ نبیِ کریم ﷺ کے گستاخوں اور بےادبوں کو اپنے جانی دشمنوں سے بڑھ کر ناپسند کرے، ایسوں کی صحبت سے بچے، ان کی کتابوں کو ہاتھ نہ لگائے، ان کا کلام و تقریر نہ سنے، بلکہ سائے سے بھی دور بھاگے۔ اور اگر کسی کو بارگاہِ نبوی ﷺ میں ادنی سی گستاخی کا مرتکب دیکھے تو اگرچہ وہ باپ یا استاد یا پیر ایا عالم ہو یا دنیوی وجاہت و الا کوئی شخص، اسے اپنے دل و دماغ سے ایسے نکال باہر پھینکے جیسے مکھن سے بال اور دودھ سے مکھی کو باہر پھینکتا ہے۔

4۔ رسول اللہ ﷺ کی اتباع: نبیِ کریم ﷺ کی سیرتِ مبارکہ اور سنتوں کی پیروی کرنا ہر مسلمان کے دین و ایمان کا تقاضا اور حکمِ خداوندی ہے۔ آسمانِ ہدایت کے روشن ستارے یعنی صحابۂ کرام رضی اللہُ عنہم اور سلف صالحین اپنی زندگی کے ہر قدم پر حضورِ پاک ﷺ کے طریقے پر چلنے کو مقدم رکھتے اور اتباعِ نبوی سے ہرگز انحراف نہیں کرتے۔اس اتباع میں فرض و واجب امور بھی ہیں اور موکد و مستحب چیزیں بھی۔ بزرگانِ دین دونوں چیزوں میں ہی کامل اتباع کیا کرتے تھے۔ اسی لئے کتبِ احادیث و سیرت میں صرف فرائض و واجبات کا بیان ہی نہیں، بلکہ سنن و مستحبات اور آداب و معاملات و معاشرت کا بھی پورا پورا بیان ملتا ہے۔

5۔ رسولِ پاک ﷺ سے سچی محبت: امتی پر حق ہے کہ وہ دنیا کی ہر چیز سے بڑھ کر اپنے آقا و مولا، سید المرسلین ﷺ سے سچی محبت کرے کہ آپ ﷺ کی محبت روحِ ایمان، جانِ ایمان اور اصلِ ایمان ہے۔ہم پر یہ بھی حق ہے کہ سرورِ موجودات ﷺ کی مدح و ثناء، تعریف و توصیف، فضائل و کمالات، ذکرِ سیرت و سنن و احوال و خصائص و شمائلِ مصطفےٰﷺ اور بیانِ حسن و جمال کو دل و جان سے پسند کرے اور اذکارِ مبارکہ سے اپنی مجلسوں کو آراستہ کرتے ہوئے اپنی زندگی کا معمول بھی بنالیں۔

اللہ پاک ہمیں نبیِ کریم ﷺ کے تمام حقوق بجالاتے رہنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین


حضور ﷺ کے حقوق میں سے ایک حق یہ بھی ہے کہ حضور کی ہر بات پر لبیک کہے۔ لہٰذا حضور جب بھی بلائیں فوراً ان کی بارگاہ میں حاضر ہوجاؤ۔ چنانچہ اللہ پاک ارشاد فرماتا ہے: یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوا اسْتَجِیْبُوْا لِلّٰهِ وَ لِلرَّسُوْلِ اِذَا دَعَاكُمْ لِمَا یُحْیِیْكُمْۚ- (پ9، الانفال: 24) ترجمہ کنز الایمان: اے ایمان والو اللہ و رسول کے بلانے پر حاضر ہو جب رسول تمہیں اس چیز کے لیے بلائیں جو تمہیں زندگی بخشے گی۔ اس آیتِ مبارکہ سے ہمیں معلوم ہوا کہ حضور ﷺ کے بہت سے حقوق ہیں، ہر مسلمان کے لئے حضور کے تمام حقوق سب سے پہلے ہیں لہٰذا حضور کے حقوق ہر مسلمان پر فرضِ عین ہیں۔

حق کی تعریف: حق کے لغوی معنی صحیح، مناسب، سچ، انصاف، جائز مطالبہ یا استحقاق کے ہیں۔

ہر نبی کے اپنے امتیوں پر حقوق ہوتے ہیں، اسی طرح ہمارے پیارے نبی ﷺ کے بھی اپنی امت پر بہت سے حقوق ہیں۔ چنانچہ قرآن کریم میں ارشادِ باری تعالیٰ ہے: قُلْ اِنْ كُنْتُمْ تُحِبُّوْنَ اللّٰهَ فَاتَّبِعُوْنِیْ یُحْبِبْكُمُ اللّٰهُ وَ یَغْفِرْ لَكُمْ ذُنُوْبَكُمْؕ-وَ اللّٰهُ غَفُوْرٌ رَّحِیْمٌ(۳۱) (پ 3،اٰل عمران: 31)ترجمہ کنز الایمان: اے محبوب تم فرما دو کہ لوگو اگر تم اللہ کو دوست رکھتے ہو تو میرے فرمانبردار ہو جاؤ اللہ تمہیں دوست رکھے گا اور تمہارے گناہ بخش دے گا اور اللہ بخشنے والا مہربان ہے۔اس آیتِ مبارکہ سے معلوم ہوا کہ اللہ پاک کی محبت کا دعویٰ تب ہی سچا ہوسکتا ہے کہ جب اس کے حبیب ﷺ کی اتباع اور اطاعت اختیار کی جائے۔

(1) حضور ﷺ کا ایک حق یہ ہے کہ ان کی پیروی و اطاعت کی جائے، لہٰذا ارشادِ باری تعالیٰ ہے: قُلْ یٰۤاَیُّهَا النَّاسُ اِنِّیْ رَسُوْلُ اللّٰهِ اِلَیْكُمْ جَمِیْعَاﰳ الَّذِیْ لَهٗ مُلْكُ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِۚ-لَاۤ اِلٰهَ اِلَّا هُوَ یُحْیٖ وَ یُمِیْتُ۪-فَاٰمِنُوْا بِاللّٰهِ وَ رَسُوْلِهِ النَّبِیِّ الْاُمِّیِّ الَّذِیْ یُؤْمِنُ بِاللّٰهِ وَ كَلِمٰتِهٖ وَ اتَّبِعُوْهُ لَعَلَّكُمْ تَهْتَدُوْنَ(۱۵۸) (پ 9، الاعراف: 158) ترجمہ: تم فرماؤ! اے لوگو! میں تم سب کی طرف اللہ کا رسول ہوں، جس کے لئے آسمانوں اور زمین کی بادشاہت ہے، اس کے سوا کوئی معبود نہیں، وہی زندہ کرتا ہے اور مارتا ہے تو ایمان لاؤ اللہ اور اس کے رسول پر جو نبی ہیں، (کسی سے ) یہ پڑھے ہوئے نہیں، اللہ اور اس کی تمام باتوں پر ایمان لاتے ہیں اور ان کی غلامی کرو، تاکہ تم ہدایت پالو۔

(2) ایک حق یہ بھی ہے کہ آپ ﷺ کی تعظیم و توقیر کی جائے۔ اِنَّاۤ اَرْسَلْنٰكَ شَاهِدًا وَّ مُبَشِّرًا وَّ نَذِیْرًاۙ(۸) لِّتُؤْمِنُوْا بِاللّٰهِ وَ رَسُوْلِهٖ وَ تُعَزِّرُوْهُ وَ تُوَقِّرُوْهُؕ- (پ 26، الفتح: 8- 9) ترجمہ کنز الایمان: بےشک ہم نے تمہیں بھیجا حاضر و ناظر اور خوشی اور ڈر سناتا تاکہ اے لوگو تم اللہ اور اس کے رسول پر ایمان لاؤ اور رسول کی تعظیم و توقیرکرو۔ اس آیتِ مبارکہ سے معلوم ہوا کہ حضور ﷺ پر ایمان لانا اور ان کی تعظیم و توقیر کرنا ہر مسلمان پر فرض ہے۔

(3) ایک حق یہ بھی ہے کہ حضور ﷺ کی تعظیم و توقیر کے ساتھ ساتھ صحابۂ کرام رضی اللہُ عنہم اور حضور ﷺ کے تمام اہلِ بیت کی تعظیم و توقیر بھی ضروری ہے۔ حضور فرماتے ہیں: کوئی شخص اس وقت تک مومن نہیں ہوسکتا، جب تک میں اس کی جان و مال یہاں تک کہ ہر چیز سے زیادہ محبوب نہ ہوجاؤں۔

(4) ایک حق یہ بھی ہے کہ حضور ﷺ کو آخری نبی مانا جائے۔ اس پر بہت سی احادیثِ مبارکہ اور آیتِ مبارکہ ملتی ہیں۔

ختمِ نبوت اور قرآنی آیات:

اَلْیَوْمَ اَكْمَلْتُ لَكُمْ دِیْنَكُمْ وَ اَتْمَمْتُ عَلَیْكُمْ (پ6، المائدہ:3) ترجمہ کنز الایمان:آج میں نے تمہارے لئے دین کامل کردیا اور تم پر اپنی نعمت پوری کردی۔

مَا كَانَ مُحَمَّدٌ اَبَاۤ اَحَدٍ مِّنْ رِّجَالِكُمْ وَ لٰكِنْ رَّسُوْلَ اللّٰهِ وَ خَاتَمَ النَّبِیّٖنَؕ- (پ22، الاحزاب:40)ترجمہ کنز الایمان:محمد تمہارے مردوں میں سے کسی کے باپ نہیں ہیں، ہاں اللہ کے رسول ہیں اور سب نبیوں کے پچھلے۔

ختمِ نبوت اور احادیثِ مبارکہ: حضور ﷺ نے فرمایا: بےشک رسالت اور نبوت ختم ہوگئی۔ اب میرے بعد نہ کوئی رسول ہے نہ کوئی نبی۔

حضور ﷺ نے فرمایا: بےشک میرے متعدد نام ہیں، میں محمد ہوں، میں احمد ہوں، میں ماحی ہوں، کہ اللہ پاک میرے سبب سے کفر مٹاتا ہے، میں حاشر ہوں، میرے قدموں پر لوگوں کا حشر ہوگا، میں عاقب ہوں اور عاقب وہ جس کے بعد کوئی نبی نہیں۔

حضور ﷺ نے فرمایا: مجھے 6 وجوہ سے انبیاء کرام علیہمُ السّلام پر فضیلت دی گئی ہے: (1) مجھے جامع کلمات عطا کئے گئے ہیں۔ (2) رعب سے میری مدد کی گئی ہے۔ (3) میرے لئے مالِ غنیمت کو حلال کردیا گیا ہے، جبکہ مجھ سے پہلے نبیوں پر حلال نہ تھا۔ (4) تمام روئے زمین کو میرے لئے طہارت اور نما زکی جگہ بنادیا گیا ہے۔ (5) مجھے تمام مخلوق کی طرف (نبی بنا کر) بھیجا گیا ہے۔ (6) اور مجھ پر نبیوں (کے سلسلے) کو ختم کردیا گیا ہے۔

(5) امتی پر حق ہے کہ وہ اپنے نبی سے محبت کرے۔ رسول اللہ ﷺ سے محبت کا تقاضا ہے کہ ہم ساداتِ کرام کی تعظیم کریں، جو ساداتِ کرام کی توہین و گستاخی کرے، ان سے دشمنی رکھیں، آپ سے نسبت رکھنے والی ہر چیز (خواہ لباس ہو، جگہ ہو یا آپ کی آل و اولاد ہو، ان سب)کا ادب و احترام اور دل کی گہرائیوں سے ان کی تعظیم و توقیر کرنا عشق و محبت کا تقاضا ہے۔ حضور ﷺ کی محبت کا تقاضا ہے کہ آپ ﷺ کے اہلِ بیت سے بھی محبت کی جائے۔ حضور ﷺ نے ارشاد فرمایا: اللہ کی خاطر مجھ سے محبت کرو اور میری خاطر میرے اہلِ بیت سے محبت کرو، میری شفاعت میری امت کے اس شخص کے لئے ہے جو میرے گھرانے سے محبت رکھنے والا ہے۔

اللہ پاک ہمیں حضور ﷺ کے تمام حقوق بجالانے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین بجاہ النبی الامین ﷺ


حبیبِ خدا، مکی مدنی مصطفےٰ ﷺ پوری پوری راتیں جاگ کر عبادت میں مصروف رہتے اور امت کی مغفرت کے لئے دربارِ باری میں انتہائی بے قراری کے ساتھ گریہ و زاری فرماتے رہتے۔ یہاں تک کہ کھڑے کھڑے اکثر آپ ﷺ کے پاؤں مبارک پر ورم آجاتا تھا۔ چنانچہ آپ نے اپنی امت کے لئے جو مشقتیں اٹھائیں ان کا تقاضا ہے کہ امت پر آپ کے کچھ حقوق ہیں جن کو ادا کرنا ہر امتی پر فرض و واجب ہے۔ چنانچہ حضرت علامہ قاضی عیاض مالکی رحمۃُ اللہِ علیہ اپنی کتاب شفاء شریف میں چند حقوقِ مصطفےٰ بیان فرمائے ہیں، جن میں سے پانچ حقوق یہاں بیان کئے جائیں گے۔

1۔ ایمان بالرسالت: محمدِ مصطفےٰ ﷺ کی نبوت اور رسالت پر ایمان لانا اور جو کچھ آپ اللہ پاک کی طرف سے لائے ہیں، صدقِ دل سے اس کو سچا ماننا ہر امتی پر فرضِ عین ہے۔ ایک روایت میں ہے کہ آپ نے تین باتوں کو حلاوتِ ایمانی کے حصول کی علامت قرار دیا ہے، جن میں سے ایک یہ ہےکہ بندے کی نظر میں اللہ پاک اور اس کے رسول کی ذات کائنات کی ہر چیز سے زیادہ محبوب و پسندیدہ ہوجائے۔ (بخاری، ص74، حدیث: 16 مفہوما)

یہ اک جان کیا ہے اگر ہوں کروڑوں تیرے نام پر سب کو وارا کروں میں

(سامانِ بخشش، ص102)

2۔ اطاعتِ رسول: یہ بھی ہر امتی پر حق ہے کہ ہرحال میں آپ ﷺ کا ہر حکم مان کر اس پر عمل کرے اور خلاف ورزی کا تصور نہ کرے، کیونکہ آپ ﷺ کی اطاعت ہر امتی پر فرضِ عین ہے۔ چنانچہ ارشادِ خداوندی ہے: اَطِیْعُوا اللّٰهَ وَ اَطِیْعُوا الرَّسُوْلَ (پ5،النساء:59)ترجمہ کنز الایمان:حکم مانو اللہ کا اور حکم مانو رسول کا۔ایک اور مقام پر ہے: مَنْ یُّطِعِ الرَّسُوْلَ فَقَدْ اَطَاعَ اللّٰهَۚ-(پ5،النساء: 80) ترجمہ کنزالایمان: جس نے رسول کا حکم مانا بے شک اُس نے اللہ کا حکم مانا۔ لہٰذا ہم پر لازم ہے کہ ہر قسم کے قول و فعل میں آپ ﷺ کی اطاعت کی جائے۔

3۔ محبتِ رسول: اسی طرح ہر امتی پر یہ بھی فرض ہے کہ ہر چیز سے بڑھ کر آپ ﷺ سے محبت رکھے۔ حدیثِ پاک میں ہے: تم میں سے کوئی بھی اس وقت تک کامل مومن نہیں ہوسکتا، جب تک میں اس کے نزدیک اس کی جان سے زیادہ محبوب نہ ہوجاؤں۔ (اسد الغابہ، 7/223)

محمد کی محبت دینِ حق کی شرطِ اول ہے اسی میں ہو اگر خامی تو سب کچھ نامکمل ہے

4۔ درود شریف: امتی پر واجب ہے کہ جب سرکارِ دوعالم ﷺ کا نام مبارک پڑھے یا سنے تو آپ پر درود بھیجے۔ اللہ پاک کا ارشاد ہے: اِنَّ اللّٰهَ وَ مَلٰٓىٕكَتَهٗ یُصَلُّوْنَ عَلَى النَّبِیِّؕ-یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا صَلُّوْا عَلَیْهِ وَ سَلِّمُوْا تَسْلِیْمًا(۵۶) (پ 22، الاحزاب: 56) ترجمہ کنز الایمان: بےشک اللہ اور اس کے فرشتے درود بھیجتے ہیں اس غیب بتانے والے (نبی) پر اے ایمان والو ان پر درود اور خوب سلام بھیجو۔ بہارِ شریعت جلد اول صفحہ75 پرہے: جب (ایک ہی مجلس میں بار بار) حضور ﷺ کا ذکر آئے تو بکمال ِخشوع و خضوع و انکسار با اد ب سنے اور نامِ پاک سنتے ہی درودِ رپاک پڑھے کیونکہ یہ پڑھنا (پہلی بار) واجب (اور باقی ہر بار مستحب)ہے۔

5۔ قبرِ انور کی زیارت: بہارِ شریعت میں ہے کہ زیارتِ اقدس قریب بواجب ہے۔ فرمانِ مصطفےٰ ﷺ ہے: مَنْ زَارَ قَبْرِیْ وَجَبَتْ لَہُ شَفَاعَتِیْ یعنی جس نے میری قبر کی زیارت کی اس کے لئے میری شفاعت واجب ہوگئی۔

اس لئے مسلمانوں کو چاہئے کہ جب حرمین طیبین میں حاضری ہو تو روضۂ رسول ﷺ پر ضرور حاضری دیں اور اپنے قلب و جگر کو ٹھنڈا کریں۔

اللہ پاک ہمیں نبیِ پاک ﷺ کے تمام حقوق بجالاتے رہنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین


محسنِ انسانیت ﷺ نے ہی حیوانِ ناطق کو انسان بنایا۔ آپ نے ہی بچیوں کو زندہ درگور کرنے والوں کو ان سے محبت کرنا، عورتوں کو معاشرے میں عزت دینا، مظلوموں کی مدد کرنا، انصاف کے تقاضے پورے کرنا، چھوٹوں پر شفقت کرنا، ضعیفوں، کمزوروں، بیواؤں اور یتیموں کے ساتھ حسنِ سلوک کرنا سکھایا۔ آپ نے ہی لوگوں کو حقوق اللہ اور حقوق العباد کی تعلیم دی اور اپنے کلام و افعال سے اس کی اہمیت کو واضح کیا۔ ہمارے پیارے آقا، ہمارے محسن ﷺبھی اپنے امتیوں پر حقوق رکھتے ہیں، جن کا ادا کرنا نہایت ضروری، بلکہ ضروریاتِ دین میں سے ہے۔ پانچ حقوق کو مندرجہ ذیل میں مختصر بیان کرنے کی کوشش کی گئی ہے۔

حق کی تعریف: حق کے لغوی معنیٰ سچ، لائق، فرض ہونے کے ہیں۔ اصطلاح میں حق کے کئی معانی بیان کئے جاتے ہیں، جن میں ایک فرض (ذمہ داری) بھی ہے۔ زیادہ تر کسی کے احسانات کی وجہ سے اس کی طرف نسبت کو بھی حق کہتے ہیں۔

1۔ آپ پر ایمان لانا: قرآن پاک میں ارشادِ باری تعالیٰ ہے: یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْۤا اٰمِنُوْا بِاللّٰهِ وَ رَسُوْلِهٖ (پ 5، النساء: 136) اے ایمان والو!ایمان لاؤ تم اللہ پر اور اس کے رسول پر۔ رسولوں پر ایمان لانا ایمان کے بنیادی عقائد میں سے ہے۔ مسلمان ہونے کے لئے صدقِ دل سے تمام رسولوں پر ایمان لانا ضروری ہے۔ اب اگر کوئی رسولوں پر تو ایمان لائے، مگر آپ ﷺ کی رسالت کا انکار کرے تو وہ مسلمان نہ ہوا۔

2۔ آپ کی اطاعت کرنا: قرآن پاک میں سورۂ نساء کی آیت نمبر 59 میں ارشادِ باری تعالیٰ ہے: اَطِیْعُوا اللّٰهَ وَ اَطِیْعُوا الرَّسُوْلَ ترجمہ کنز الایمان:حکم مانو اللہ کا اور حکم مانو رسول کا۔اس آیت میں اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت کو مستقل طور پر واجب قرار دیا گیا ہے۔ مطلب یہ کہ آپ کا ہر حکم مانا جائے، خواہ اس کی اصل قرآن سے معلوم ہوسکے یا نہ۔ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا: جس نے میری اطاعت اس نے اللہ کی اطاعت کی اور جس نے میری نافرمانی کی اس نے اللہ کی نافرمانی کی۔ معلوم ہوا کہ اللہ اور اس کے رسول پر ایمان لانا ہی کافی نہیں، بلکہ اطاعت بھی واجب ہے۔

3۔ آپ کو آخری نبی ماننا:قرآن کریم میں سورۂ مائدہ کی آیت نمبر 3 میں ارشادِ باری تعالیٰ ہے: اَلْیَوْمَ اَكْمَلْتُ لَكُمْ دِیْنَكُمْ وَ اَتْمَمْتُ عَلَیْكُمْ (پ6، المائدہ:3) ترجمہ کنز الایمان:آج میں نے تمہارے لئے دین کامل کردیا اور تم پر اپنی نعمت پوری کردی۔ اس آیت کے تحت مفسرین فرماتے ہیں: دین کا مکمل کرنا یہ ہے کہ یہ پچھلی شریعتوں کی طرح منسوخ نہ ہوگا، بلکہ قیامت تک باقی رہے گا۔ اس سے معلوم ہوا کہ نبیِ کریمﷺ کے بعد کوئی نبی نہیں بن سکتا، کیونکہ دین مکمل ہوچکا ہے۔ سورج نکل آنے کے بعد چراغ کی ضرورت نہیں۔ نبیِ کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا: میں خاتم النبیین ہوں، میرے بعد کوئی نبی نہیں ہوگا۔ (ترمذی، 4/93، حدیث: 2226)

آپ ﷺ اپنے امتیوں پر یہ حق رکھتے ہیں کہ آپ کے امتی آپ کو سچے دل سے آخری نبی تسلیم کریں۔

4۔ آپ سے محبت کرنا:

محمد کی محبت دینِ حق کی شرطِ اول ہے اسی میں ہو اگر خامی تو ایمان نامکمل ہے

پیارے آقا ﷺ سے محبت کرنا ایمان کا حصہ ہے اور ایسی محبت کرنا ضروری ہے، جو انسان کے اپنے اہل و عیال، مال و دولت، بلکہ اپنے نفس پر غالب ہو۔ قرآن پاک میں ایمان والوں کی صفات بتاتے ہوئے ارشادِ باری تعالیٰ ہے: اَلنَّبِیُّ اَوْلٰى بِالْمُؤْمِنِیْنَ مِنْ اَنْفُسِهِمْ( پ 21، الاحزاب: 6) ترجمہ: نبی کی ذات مومنوں کے لیے اپنی جانوں سے بھی مقدم ہے۔

رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا: تم میں سے کوئی اس وقت تک کامل مومن نہیں ہوسکتا، جب تک کہ میں اس کے نزدیک اس کی اولاد سے زیادہ، اس کے ماں باپ سے زیادہ اور تمام انسانوں سے زیادہ محبوب نہ ہوجاؤں۔ (بخاری)

5۔ آپ کے اہلِ بیت سے محبت کرنا: قرآن پاک میں ارشادِ باری تعالیٰ ہے: اَلنَّبِیُّ اَوْلٰى بِالْمُؤْمِنِیْنَ مِنْ اَنْفُسِهِمْ وَ اَزْوَاجُهٗۤ اُمَّهٰتُهُمْؕ- (پ21، الاحزاب: 6)ترجمہ: مومنین کے لئے نبی کی ذات، ان کے اپنے نفس پر مقدم ہے اور نبی کی بیویاں ان کی مائیں ہیں۔

رسول اللہ ﷺ کی ازواجِ مطہرات رضی اللہُ عَنہُنَّ بھی اہلِ بیت میں شامل ہیں۔ آپ ﷺ کی آل و اہلِ بیت سے محبت کرنا حقوق النبی ﷺ میں سے ہے۔ نیز مسلم شریف میں روایت ہے:

نبیِ کریم ﷺ ایک دن تشریف فرمائے ہوئے۔ آپ پر سیاہ بالوں کی بنی ہوئی منقش چادر تھی۔ اتنے میں حضرت حسن بن علی رضی اللہُ عنہ تشریف لائے، آپ ﷺ نے ان کو چادر میں لے لیا، پھر حضرت حسین رضی اللہُ عنہ آئے، ان کو بھی چادر میں لے لیا، پھر فاطمہ رضی اللہُ عنہا تشریف لے آئیں تو آپ ﷺ نے انہیں بھی چادر مبارک میں داخل فرمالیا۔ پھر حضرت علی ﷺ آئے تو آپ ﷺ نے انہیں بھی چادر میں لے لیا۔ پھر آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا: اے اہلِ بیت! اللہ پاک چاہتا ہے کہ تم سے ہر بری چیز کو دور فرماکر تمہیں خوب پاک صاف کردے۔ (مسلم)

اہلِ سنت کا ہے بیڑا پار اصحابِ رسول نجم ہیں اور ناؤ ہے عترت رسول اللہ کی

اللہ پاک ہماری حقوق النبی ﷺ کی ادائیگی میں ہونے والی کوتاہیوں کو معاف فرمائے اور درست ادائیگی کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین ثم آمین۔ 


حبیبِ خدا، مکی مدنی مصطفےٰ ﷺ نے اپنی امت کی ہدایت و اصلاح اور فلاح کے لئے بےشمار تکالیف برداشت فرمائیں۔ نیز آپ کے اپنی امت کی نجات و مغفرت کی فکر اور اس پر مشقت و رحمت کی اس کیفیت پر قرآن بھی شاہد ہے۔ چنانچہ ارشاد ہوتا ہے: لَقَدْ جَآءَكُمْ رَسُوْلٌ مِّنْ اَنْفُسِكُمْ عَزِیْزٌ عَلَیْهِ مَا عَنِتُّمْ حَرِیْصٌ عَلَیْكُمْ بِالْمُؤْمِنِیْنَ رَءُوْفٌ رَّحِیْمٌ(۱۲۸) (پ 11، التوبۃ:128) ترجمہ کنز الایمان: بے شک تمہارے پاس تشریف لائے تم میں سے وہ رسول جن پر تمہار ا مشقت میں پڑنا گراں ہے تمہاری بھلائی کے نہایت چاہنے والے مسلمانوں پر کمال مہربان مہربان۔

چنانچہ آپ ﷺ نے اپنی امت کے لئے جو مشقتیں اٹھائیں، ان کاتقاضا ہے کہ امت پر آپ ﷺ کے کچھ حقوق ہیں، جن کو ادا کرنا ہر امتی پر فرض و واجب ہے۔ حضرت علامہ قاضی عیاض مالکی رحمۃُ اللہِ علیہ نے درج ذیل آٹھ حقوق اپنی کتاب شفاء شریف میں تفصیل سے بیان فرمائے ہیں، جن میں سے پانچ یہ ہیں:

(1)ایمان بالرسول، (2) اتباعِ سنتِ رسول، (3) اطاعتِ رسول، (4) محبتِ رسول، (5) درود شریف۔

1۔ ایمان بالرسول: رسولِ خدا ﷺ پر ایمان لانا اور جو کچھ آپ ﷺ اللہ پاک کی طرف سے لائے ہیں، صدقِ دل سے اس کو سچا مانناہر امتی پر فرضِ عین ہے اور اس میں کوئی شک نہیں کہ بغیر رسول پر ایمان لائے ہرگز کوئی مسلمان نہیں ہوسکتا۔لہذا یاد رکھئے کہ محض توحید و رسالت کی گواہی کافی نہیں، بلکہ کسی کا بھی ایمان اس وقت تک کامل نہیں ہوسکتا، جب تک اللہ پاک کے پیارے حبیب ﷺ کو اپنی جان و مال، بلکہ سب سے زیادہ محبوب نہ بنالیا جائے۔

خاک ہو کر عشق میں آرام سے سونا ملا جان کی اکسیر ہے الفت رسول اللہ کی

ایک روایت میں ہے کہ آپ ﷺ نے تین باتوں کو حلاوتِ ایمانی کے حصول کی علامت قرار دیا ہے، جن میں سے ایک یہ ہےکہ بندے کی نظر میں اللہ پاک اور اس کے رسول ﷺ کی ذات کائنات کی ہر چیز سے زیادہ محبوب و پسندیدہ ہوجائے۔ (بخاری، ص74، حدیث: 16 مفہوما)

یہ اک جان کیا ہے اگر ہوں کروڑوں تیرے نام پر سب کو وارا کروں میں

2۔ اتباعِ رسول ﷺ: سرورِ کائنات، فخرِ موجودات ﷺ کی سیرتِ مبارکہ، سنتِ مقدسہ کی پیروی ہر مسلمان پر واجب و لازم ہے۔ جیسا کہ فرمانِ باری ہے: قُلْ اِنْ كُنْتُمْ تُحِبُّوْنَ اللّٰهَ فَاتَّبِعُوْنِیْ یُحْبِبْكُمُ اللّٰهُ وَ یَغْفِرْ لَكُمْ ذُنُوْبَكُمْؕ-وَ اللّٰهُ غَفُوْرٌ رَّحِیْمٌ(۳۱) (پ 3،اٰل عمران: 31)ترجمہ کنز الایمان: اے محبوب تم فرما دو کہ لوگو اگر تم اللہ کو دوست رکھتے ہو تو میرے فرمانبردار ہو جاؤ اللہ تمہیں دوست رکھے گا اور تمہارے گناہ بخش دے گا اور اللہ بخشنے والا مہربان ہے۔

اسی لئے آسمانِ امت کے چمکتے ہوئے ستارے، ہدایت کے چاند تارے، اللہ پاک اور اس کے رسول کے پیارے صحابۂ کرام رضی اللہُ عنہم و صحابیاتِ طیبات رضی اللہُ عَنہُنَّ آپ کی ہر سنتِ کریمہ کی پیروی کو لازم و ضروری جانتے اور بال برابر بھی کسی معاملے میں اپنے پیارے رسول ﷺ کی سنتوں سے انحراف گوارا نہیں کرتے تھے۔

3۔ اطاعتِ رسول: ارشادِخداوندی ہے: اَطِیْعُوا اللّٰهَ وَ اَطِیْعُوا الرَّسُوْلَ (پ5،النساء:59)ترجمہ کنز الایمان:حکم مانو اللہ کا اور حکم مانو رسول کا۔ ہر امتی پر رسولِ خدا ﷺ کا حق یہ ہے کہ ہر امتی ہر حال میں آپ کے ہر حکم کی اطاعت کرے اور آپ جس بات کا حکم دیں بال کے کروڑویں حصے کے برابر بھی اس کی خلاف ورزی کا تصور نہ کرے۔ کیونکہ آپ ﷺ کی اطاعت اور آپ کے احکام کے آگے سرِ تسلیم خم کردینا ہر امتی پر فرضِ عین ہے۔

ایک اور مقام پر ہے: مَنْ یُّطِعِ الرَّسُوْلَ فَقَدْ اَطَاعَ اللّٰهَۚ-(پ5،النساء: 80) ترجمہ کنزالایمان: جس نے رسول کا حکم مانا بے شک اُس نے اللہ کا حکم مانا۔ اطاعتِ رسول کے بغیر اسلام کا تصور ہی نہیں کیا جاسکتا اور اطاعتِ رسول کرنے والوں ہی کے لئے بلند درجات ہیں۔ ہم پر لازم ہے کہ ہر قسم کے قول و فعل میں آپ ﷺ کی سیرتِ طیبہ سے رہنمائی لی جائے اور آپ کی بیان کردہ شرعی حدود سے تجاوز نہ کیا جائے۔

4۔ محبتِ رسول: ہر امتی پر رسولِ خدا ﷺ کا حق ہے کہ وہ سارے جہان سے بڑھ کر آپ ﷺ سے محبت رکھے۔ جیسا کہ مروی ہے کہ حضرت امیرِ معاویہ رضی اللہُ عنہ کی خالہ جان حضرت فاطمہ بنتِ عتبہ رضی اللہُ عنہا ایک بار سرکارِ مدینہ، قرارِ قلب و سینہ ﷺ کی خدمتِ اقدس میں حاضر ہوئیں تو عرض کی: یا رسول اللہ! ایک وقت میں چاہتی تھی کہ آپ کے علاوہ دنیا بھر میں کسی کا مکان نہ گرے، مگر اے اللہ کے رسول! اب میری خواہش ہے کہ دنیا میں کسی کا مکان رہے یا نہ رہے، مگر آپ کا مکان ضرور سلامت رہے۔ ارشاد فرمایا: تم میں سے کوئی بھی اس وقت تک کامل مومن نہیں ہوسکتا، جب تک میں اس کے نزدیک اس کی جان سے زیادہ محبوب نہ ہوجاؤں۔ (اسد الغابہ، 7/223)

اللہ پاک کے پیارے حبیب ﷺ کی محبت صرف کامل و اکمل ایمان کی علامت ہی نہیں، بلکہ ہر امتی پر رسول اللہ ﷺ کا یہ حق بھی ہے کہ وہ سارے جہان سے بڑھ کر آپ ﷺ سے محبت رکھے اور ساری دنیا کو آپ ﷺ کی محبت پر قربان کردے۔

محمد کی محبت دینِ حق کی شرطِ اول ہے اسی میں ہو اگر خامی تو سب کچھ نامکمل ہے

محمد کی محبت ہے سند آزاد ہونے کی خدا کے دامنِ توحید میں آباد ہونے کی

(صحابہ کرام کا عشقِ رسول، ص 22)

5۔ درود شریف:اللہ پاک نے ہمیں اپنے حبیب ﷺ پر درود پڑھنے کا حکم دیتے ہوئے ارشاد فرمایا: اِنَّ اللّٰهَ وَ مَلٰٓىٕكَتَهٗ یُصَلُّوْنَ عَلَى النَّبِیِّؕ-یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا صَلُّوْا عَلَیْهِ وَ سَلِّمُوْا تَسْلِیْمًا(۵۶) (پ22، الاحزاب:56)ترجمہ کنزا لایمان: ترجمہ: بےشک اللہ اور اس کے فرشتے درود بھیجتے ہیں اس غیب بتانے والے (نبی) پر، اے ایمان والو! ان پر درود اور خوب سلام بھیجو۔

بہارِ شریعت جلد اول صفحہ75 پرہے: جب (ایک ہی مجلس میں بار بار) حضور ﷺ کا ذکر آئے تو بکمال ِخشوع و خضوع و انکسار با اد ب سنے اور نامِ پاک سنتے ہی درودِ رپاک پڑھے کیونکہ یہ پڑھنا (پہلی بار) واجب (اور باقی ہر بار مستحب)ہے۔

اعلیٰ حضرت، اِمامِ اہلسنّت،مُجَدّدِ دِىن و ملّت مولانا شاہ اِمام احمد رَضا خان رحمۃُ اللہِ علیہ فتاویٰ رضویہ میں اس مسئلہ کی تفصیل بیان کرتے ہوئے اِرشَاد فرماتے ہیں:نامِ پاکِ حُضُور پُرنُور سَیِّدِ عَالَم ﷺ مختلف جلسوں میں جتنی بار لے یا سُنے ہر بار دُرُود شریف پڑھنا واجِب ہے، اگر نہ پڑھے گا گنہگار ہو گا اور سَخْت سَخْت وَعِیدوں میں گِرِفتار، ہاں ا س میں اِخْتِلاف ہے کہ اگر ایک ہی جَلْسَہ میں چند بار نامِ پاک لیا یا سنا تو ہر بار واجِب ہے یا ایک بار کافی اور ہر بار مُسْتَحَب ہے، بَہُت عُلَما قَولِ اَوّل کی طرف گئے، ان کے نزدیک ایک جَلْسَہ میں ہزار بار کلمہ شریف پڑھے تو ہر بار دُرُود شریف بھی پڑھتا جائے اگر ایک بار بھی چھوڑا گنہگار ہوا۔

حبیبِ خدا، مکی مدنی مصطفےٰﷺ کی شانِ محبوبیت کا کیا کہنا۔ ایک حقیر و ذلیل بندہ خدا کے پیغمبرِ جمیل کی بارگاہِ عظمت میں درود شریف کا ہدیہ بھیجتا ہے تو خداوندِ جلیل اس کے بدلے اس بندے پر رحمتیں نازل فرماتا ہے۔ اللہ پاک ہم سب کو زیادہ سے زیادہ درود شریف پڑھنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین۔ 


اللہ پاک کی ا ربوں، کھربوں رحمتیں نازل ہوں اُس ذات پر جن کے سبب سے انسانیت کو وجود ملا، جن کے صدقے انبیاء کرام علیہمُ السّلام  کو نبوت ملی، جن کے طفیل ہدایت ملی، جن کی بدولت نجات ملے گی اور جن کی وجہ سے ربّ کی رضا نصیب ہوگی۔ انسانیت کو اب تک جو کچھ بھلائی، نعمتیں ملیں اور جو کچھ آئندہ ملیں گی، وہ سب آپ ﷺ کے دم قدم سے ہے۔ اور نبیِ کریم ﷺ کی تعظیم ایمان کی شرطِ اول ہے۔ جب تک نبیِ کریم ﷺ کی تعظیم دل سے نہ کی جائے تب تک ایمان کامل نہیں ہوسکتا۔ اس لئے نبیِ کریم ﷺ کے بہت سارے حقوق ہیں۔ جن میں سے چند یہ ہیں:

حق کی تعریف: حق کے لغوی معنیٰ صحیح، مناسب، درست، ٹھیک، واجب، سچ، عدل و انصاف، جائز مطالبہ یا استحقاق کے ہیں۔ اسی طرح ایک طرف یہ سچائی کی طرف اشارہ کرتا ہے اور دوسری جانب اس چیز کی طرف جسے قانوناً اور باضابطہ طور پر ہم اپنا کہہ سکتے ہیں، یا اس کی بابت اپنی ملکیت کا دعویٰ کرسکتے ہیں۔

1۔ نبیِ کریم پر ایمان لانا: امت پر نبیِ کریم ﷺ کا پہلا حق یہ ہے کہ آپ پر ایمان لائے۔ اللہ پاک نے قرآن مجید سورۂ فتح آیت نمبر 8 اور 9 میں ارشاد فرمایا: اِنَّاۤ اَرْسَلْنٰكَ شَاهِدًا وَّ مُبَشِّرًا وَّ نَذِیْرًاۙ(۸) لِّتُؤْمِنُوْا بِاللّٰهِ وَ رَسُوْلِهٖ وَ تُعَزِّرُوْهُ وَ تُوَقِّرُوْهُؕ- ترجمہ کنز الایمان: بےشک ہم نے تمہیں بھیجا حاضر و ناظر اور خوشی اور ڈر سناتا تاکہ اے لوگو تم اللہ اور اس کے رسول پر ایمان لاؤ اور رسول کی تعظیم و توقیرکرو۔

2۔ نبیِ کریم سے سب سے زیادہ محبت کرنا: نبیِ کریم ﷺ کی محبت میں آپ کی جس قدر تعظیم و تکریم کی جاسکتی ہے، کی جائے کہ یہ ایمان کا جزء ہے اور جس کا دل آپ ﷺ کی محبت، ادب اور تعظیم سے خالی ہے، وہ ایمان سے محروم ہے۔ یہی قرآن و حدیث کا فیصلہ ہے۔ چنانچہ پارہ 10 سورۂ توبہ آیت نمبر 24 میں ارشاد فرماتا ہے: قُلْ اِنْ كَانَ اٰبَآؤُكُمْ وَ اَبْنَآؤُكُمْ وَ اِخْوَانُكُمْ وَ اَزْوَاجُكُمْ وَ عَشِیْرَتُكُمْ وَ اَمْوَالُ اﰳقْتَرَفْتُمُوْهَا وَ تِجَارَةٌ تَخْشَوْنَ كَسَادَهَا وَ مَسٰكِنُ تَرْضَوْنَهَاۤ اَحَبَّ اِلَیْكُمْ مِّنَ اللّٰهِ وَ رَسُوْلِهٖ وَ جِهَادٍ فِیْ سَبِیْلِهٖ فَتَرَبَّصُوْا حَتّٰى یَاْتِیَ اللّٰهُ بِاَمْرِهٖؕ-وَ اللّٰهُ لَا یَهْدِی الْقَوْمَ الْفٰسِقِیْنَ۠(۲۴) ترجمہ:(اے رسول )آپ فرمادیجیے اگر تمہارے باپ اور تمہارے بیٹے اور تمہارے بھائی اور تمہاری عورتیں اور تمہارا کنبہ اور تمہاری کمائی کے مال اور وہ سودا جس کے نقصان کا تمہیں ڈر ہے اور تمہارے پسند یدہ مکان یہ چیزیں اللہ اور اس کے رسول اور اس کی راہ میں لڑنے سے زیادہ پیاری ہوں تو راستہ دیکھو یہاں تک کہ اللہ اپنا حکم لائے اور الله فاسقوں کو راہ نہیں دیتا۔

حدیث ِ مبارکہ: بخاری شریف کی مشہور حدیثِ مبارکہ ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا: کوئی شخص اس وقت تک مومن نہیں ہوسکتا، جب تک کہ میں اُس کے نزدیک اُس کے ماں باپ، بیٹے اور تمام لوگوں سے زیادہ محبوب نہ ہوجاؤں۔ (بخاری، 1/17، حدیث: 15)

حضرت شیخ عبد الحق محدث دہلوی رحمۃُ اللہِ علیہ فرماتے ہیں: مومنِ کامل کے لئے ایمان کی نشانی یہ ہے کہ مومن کے نزدیک رسولِ خدا ﷺ تمام چیزوں اور تمام لوگوں سے زیادہ محبوب و معظم ہوں۔ اس حدیث میں حضورﷺ کے زیادہ محبوب ہونے کا مطلب یہ ہے کہ حقوق کی ادائیگی میں حضور کو اونچا مانے، اس طرح کہ آپ کے لائے ہوئے دین کو تسلیم کرے، حضور کی سنتوں کی پیروی کرے، تعظیم و ادب بجالائے اور ہر شخص اور ہر چیز یعنی اپنی ذات، اپنی اولاد، اپنے ماں باپ، اپنے عزیز و اقارب اور اپنے مال و اسباب پر حضور ﷺ کی رضا و خوشی کو مقدم رکھے۔ جس کے معنیٰ یہ ہیں کہ اپنی ہر چیز یہاں تک کہ اپنی جان کے چلے جانے پر بھی راضی رہے۔ لیکن حضور ﷺ کےحق کو دبتا ہوا گورا نہ کرے۔ (اشعۃ اللمعات، 1/50)

3۔نبیِ کریم کو سیدُ البشر مانے: امت پر نبیِ کریم ﷺ کو محض بشر ہونے کا نہیں، بلکہ سیدُ البشر ہونے کا اور سب سےا فضل ہونے کا عقیدہ رکھے۔ حضرت ابو ہریرہ رضی اللہُ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: میں قیامت کے دن تمام اولادِ آدم کا سردار ہوں گا۔ میں وہ پہلا انسان ہوں گا جس کی قبر کھلے گی۔ سب سے پہلے سفارش کرنے والا میں ہی ہوں گا اور میں ہی وہ پہلا انسان ہوں گا جس کی سفارش کو قبول کیا جائے گا۔

4۔ نبیِ کریم ﷺ کو افضل الانبیاء ماننا: امت پر نبیِ کریم ﷺ کا حق یہ ہے کہ آپ کے افضل الانبیاء ہونے کا عقیدہ رکھے۔ امام ِ اہلِ سنت اعلیٰ حضرت رحمۃُ اللہِ علیہ فرماتے ہیں: بےشک ہمارے نبی ﷺ کا تمام جہانوں سے افضل ہونا اجماعی قطعی ہے، بلکہ قریب تھا کہ یہ عقیدہ ضروریاتِ دین سے ہوتا۔ آپ کے بعد سب سے اونچا مقام بقیہ انبیاء اور رسولوں کا ہے۔ صلوات اللہ و سلام علیہم اجمعین(دس اسلامی عقیدے، ص 74-75)

تیرے تو وصف عیبِ تناہی سے ہیں بری حیراں ہوں میرے شاہ میں کیا کیا کہوں تجھے

لیکن رضا نے ختمِ سخن اس پہ کردیا خالق کا بندہ خلق کا آقا کہوں تجھے

حضرت ابو ہریرہ رضی اللہُ عنہ سے رایت ہے کہ رسول اللہ ﷺنے فرمایا:اللہ پاک نے چھ چیزیں عطا کرکے مجھے باقی انبیاء کرام علیہمُ السّلام پر فضیلت دی ہے: (1) اللہ پاک نے مجھے جوامع الکلم دئے، (2) رعب عطا فرماکے میری مدد کی، (3) مالِ غنیمت کو میرے لئے حلال کیا ہے، (4) پوری زمین کو میرے لئے (طہور) پاک کرنے کا ذریعہ بنادیا، (5) پوری زمین کو میرے لئے سجدہ گاہ بنادیا ہے، (6) مجھے پوری مخلوق کا نبی بنادیا یعنی مجھے اللہ نے آخری نبی بنادیا ہے۔ (مسلم، حدیث: 52)

5۔ نبیِ کریم ﷺ کو خاتم الانبیاء ماننا: ایک حق یہ ہے کہ نبیِ کریم ﷺ کو خاتم الانبیاء مانے، نبیِ کریم ﷺ کو آخری نبی مانے اور یہ عقیدہ رکھے کہ آپ ﷺ کے بعد کوئی نبی نہیں آئے گا۔ سورۂ احزاب آیت نمبر 40 میں ہے: مَا كَانَ مُحَمَّدٌ اَبَاۤ اَحَدٍ مِّنْ رِّجَالِكُمْ وَ لٰكِنْ رَّسُوْلَ اللّٰهِ وَ خَاتَمَ النَّبِیّٖنَؕ- (پ22، الاحزاب:40)ترجمہ کنز الایمان:محمد تمہارے مردوں میں سے کسی کے باپ نہیں ہیں، ہاں اللہ کے رسول ہیں اور سب نبیوں کے پچھلے۔

حدیثِ مبارکہ: حضرت ابو ہریرہ رضی اللہُ عنہ سے روایت ہے کہ نبیِ کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا: رسالت و نبوت ختم ہوچکی ہے، پس میرے بعد نہ کوئی رسول ہے اور نہ نبی۔ (ترمذی، 2/5)

نگاہِ عشق و مستی میں وہی اول وہی آخر وہی قرآن وہی فرقان وہی یٰسین وہی طٰہ


حضور ﷺ کے حقوق میں سے ایک حق یہ بھی ہے کہ آپ کی ہر بات پر لبیک کہے۔ لہٰذا حضورِ اکرم ﷺ جب بھی بلائیں فوراً ان کی بارگاہ میں حاضر ہوجاؤ۔ چنانچہ اللہ پاک ارشاد فرماتا ہے: یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوا اسْتَجِیْبُوْا لِلّٰهِ وَ لِلرَّسُوْلِ اِذَا دَعَاكُمْ لِمَا یُحْیِیْكُمْۚ-(پ9، الانفال: 24)ترجمہ کنز الایمان: اے ایمان والو! اللہ اور اس کے رسول کی بارگاہ میں حاضر ہوجاؤ، جب وہ تمہیں اس چیز کی طرف بلائیں جو تمہیں زندگی دیتی ہے۔ اس آیتِ مبارکہ سے ہمیں معلوم ہوا کہ حضور کے بہت سے حقوق ہیں، ہر مسلمان کے لئے حضور کے تمام حقوق سب سے پہلے ہیں لہٰذا حضور کے حقوق ہر مسلمان پر فرضِ عین ہیں۔

حق کی تعریف: حق کے لغوی معنی صحیح، مناسب، سچ، انصاف، جائز مطالبہ یا استحقاق کے ہیں۔

حقوقِ مصطفیٰ:ہر نبی کے اپنے امتیوں پر حقوق ہوتے ہیں، اسی طرح ہمارے پیارے نبی ﷺ کے بھی اپنی امت پر بہت سے حقوق ہیں۔ چنانچہ قرآن کریم میں ارشادِ باری تعالیٰ ہے: قُلْ اِنْ كُنْتُمْ تُحِبُّوْنَ اللّٰهَ فَاتَّبِعُوْنِیْ یُحْبِبْكُمُ اللّٰهُ(پ3، اٰلِ عمرن: 31)ترجمہ کنز الایمان: اے حبیب! فرمادو کہ اے لوگو! اگر تم اللہ سے محبت کرتے ہو تو میرے فرمانبردار بن جاؤ۔ اس آیتِ مبارکہ سے معلوم ہوا کہ اللہ پاک کی محبت کا دعویٰ تب ہی سچا ہوسکتا ہے کہ جب اس کے حبیب ﷺ کی اتباع اور اطاعت اختیار کی جائے۔

1۔ حضور ﷺ کا ایک حق یہ ہے کہ ان کی پیروی و اطاعت کی جائے، لہٰذا ارشادِ باری تعالیٰ ہے: قُلْ یٰۤاَیُّهَا النَّاسُ اِنِّیْ رَسُوْلُ اللّٰهِ اِلَیْكُمْ جَمِیْعَاﰳ الَّذِیْ لَهٗ مُلْكُ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِۚ-لَاۤ اِلٰهَ اِلَّا هُوَ یُحْیٖ وَ یُمِیْتُ۪-فَاٰمِنُوْا بِاللّٰهِ وَ رَسُوْلِهِ النَّبِیِّ الْاُمِّیِّ الَّذِیْ یُؤْمِنُ بِاللّٰهِ وَ كَلِمٰتِهٖ وَ اتَّبِعُوْهُ لَعَلَّكُمْ تَهْتَدُوْنَ(۱۵۸) (پ 9، الاعراف: 158) ترجمہ: تم فرماؤ! اے لوگو! میں تم سب کی طرف اللہ کا رسول ہوں، جس کے لئے آسمانوں اور زمین کی بادشاہت ہے، اس کے سوا کوئی معبود نہیں، وہی زندہ کرتا ہے اور مارتا ہے تو ایمان لاؤ اللہ اور اس کے رسول پر جو نبی ہیں، (کسی سے ) یہ پڑھے ہوئے نہیں، اللہ اور اس کی تمام باتوں پر ایمان لاتے ہیں اور ان کی غلامی کرو، تاکہ تم ہدایت پالو۔

2۔ ایک حق یہ بھی ہے کہ آپ ﷺ کی تعظیم و توقیر کی جائے۔ اِنَّاۤ اَرْسَلْنٰكَ شَاهِدًا وَّ مُبَشِّرًا وَّ نَذِیْرًاۙ(۸) لِّتُؤْمِنُوْا بِاللّٰهِ وَ رَسُوْلِهٖ وَ تُعَزِّرُوْهُ وَ تُوَقِّرُوْهُؕ- (پ 26، الفتح: 8- 9) ترجمہ کنز الایمان: بےشک ہم نے تمہیں بھیجا حاضر و ناظر اور خوشی اور ڈر سناتا تاکہ اے لوگو تم اللہ اور اس کے رسول پر ایمان لاؤ اور رسول کی تعظیم و توقیرکرو۔ اس آیتِ مبارکہ سے معلوم ہوا کہ حضور ﷺ پر ایمان لانا اور ان کی تعظیم و توقیر کرنا ہر مسلمان پر فرض ہے۔

3۔ ایک حق یہ بھی ہے کہ حضور ﷺ کو آخری نبی مانا جائے۔ اس پر بہت سی احادیثِ مبارکہ اور آیتِ مبارکہ ملتی ہیں۔

ختمِ نبوت اور قرآنی آیات:

اَلْیَوْمَ اَكْمَلْتُ لَكُمْ دِیْنَكُمْ وَ اَتْمَمْتُ عَلَیْكُمْ نِعْمَتِیْ (پ6، المائدہ: 3)ترجمہ کنز الایمان:آج میں نے تمہارے لئے دین مکمل کردیا اور اپنی نعمت تم پر پوری کردی۔

مَا كَانَ مُحَمَّدٌ اَبَاۤ اَحَدٍ مِّنْ رِّجَالِكُمْ وَ لٰكِنْ رَّسُوْلَ اللّٰهِ وَ خَاتَمَ النَّبِیّٖنَؕ- (پ22، الاحزاب: 40) ترجمہ کنز الایمان:محمد تمہارے مردوں میں سے کسی کے باپ نہیں ہیں، لیکن اللہ کے رسول ہیں اور سب نبیوں کے آخر میں تشریف لانے والے ہیں۔

ختمِ نبوت اور احادیثِ مبارکہ:

(1) اور بےشک میرے بعد کوئی نبی نہیں۔

(2) حضور ﷺ نے حضرت علی رضی اللہُ عنہ سے فرمایا: کیا تم اس بات سے راضی نہیں ہو کہ تم میرے لئے ایسے ہو جیسے حضرت موسیٰ علیہ السّلام کے لئے حضرت ہارون علیہ السّلام، البتہ میرے بعد کوئی نبی نہیں۔

(3) بےشک میرے متعدد نام ہیں، میں محمد ہوں، میں احمد ہوں، میں ماحی ہوں، کہ اللہ پاک میرے سبب سے کفر مٹاتا ہے، میں حاشر ہوں، میرے قدموں پر لوگوں کا حشر ہوگا، میں عاقب ہوں اور عاقب وہ جس کے بعد کوئی نبی نہیں۔

(4) مجھے 6 وجوہ سے انبیاء کرام علیہمُ السّلام پر فضیلت دی گئی ہے: (1) مجھے جامع کلمات عطا کئے گئے ہیں، (2) رعب سے میری مدد کی گئی ہے، (3) میرے لئے مالِ غنیمت کو حلال کردیا گیا ہے، جبکہ مجھ سے پہلے نبیوں پر حلال نہ تھا، (4) تمام روئے زمین کو میرے لئے طہارت اور نما زکی جگہ بنادیا گیا ہے، (5) مجھے تمام مخلوق کی طرف (نبی بنا کر) بھیجا گیا ہے، (6) اور مجھ پر نبیوں (کے سلسلے) کو ختم کردیا گیا ہے۔

4۔ حضور ﷺ سے محبت: امتی پر حق ہے کہ وہ اپنے نبی سے محبت کرے۔ رسول اللہ ﷺ سے محبت کا تقاضا ہے کہ ہم ساداتِ کرام کی تعظیم کریں، جو ساداتِ کرام کی توہین و گستاخی کرے، ان سے دشمنی رکھے، آپ سے نسبت رکھنے والی ہر چیز کا ادب و احترام اور دل کی گہرائیوں سے ان کی تعظیم و توقیر کرنا عشق و محبت کا تقاضا ہے۔ حضور کی محبت کا تقاضا ہے کہ آپ کے اہلِ بیت سے بھی محبت کی جائے۔ حضور نے ارشاد فرمایا: اللہ کی خاطر مجھ سے محبت کرو اور میری خاطر میرے اہلِ بیت سے محبت کرو۔

اللہ پاک ہمیں حضور ﷺ کے تمام حقوق بجالانے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین بجاہ النبی الامین 


اللہ پاک قرآن مجید، فرقانِ حمید میں ارشاد فرماتا ہے: اِنَّاۤ اَرْسَلْنٰكَ شَاهِدًا وَّ مُبَشِّرًا وَّ نَذِیْرًاۙ(۸) لِّتُؤْمِنُوْا بِاللّٰهِ وَ رَسُوْلِهٖ وَ تُعَزِّرُوْهُ وَ تُوَقِّرُوْهُؕ- (پ 26، الفتح: 8- 9) ترجمہ کنز الایمان: بےشک ہم نے تمہیں بھیجا حاضر و ناظر اور خوشی اور ڈر سناتا تاکہ اے لوگو تم اللہ اور اس کے رسول پر ایمان لاؤ اور رسول کی تعظیم و توقیرکرو۔

سیدی اعلیٰ حضرت رحمۃُ اللہِ علیہ اس آیت کی تفسیر میں فرماتے ہیں: بےشک ہم نے تمہیں بھیجا گواہ اور خوشی اور ڈر سناتا کہ جو تمہاری تعظیم کرے اسے فضلِ عظیم کی بشارت دو اور جو مَعاذَ اللہ بے تعظیمی سے پیش آئے اسے عذابِ الیم کا ڈر سناؤ۔

اس آیتِ کریمہ میں حضور ﷺ کی عظمت و شان، مقام و منصب، رفعتِ مقام، اللہ پاک کی تسبیح و عبادت اور امت پر نبیِ کریم ﷺ کے حقوق کو بیان فرمایا ہے۔ اس آیت کو اگر امت پر نبیِ کریم ﷺ کے حقوق کے پہلو سے دیکھا جائے تو اس آیت میں اللہ پاک نے تین حقوقِ مصطفےٰ ﷺ بیان فرمائے ہیں:

(1) ایمان، (2)نصرت و حمایت، (3) تعظیم و توقیر۔

پہلا حق: محمدِ مصطفےٰ ﷺ کی نبوت و رسالت پر ایمان رکھنا فرض ہےاور یونہی ہر اس چیز کو تسلیم کرنا بھی لازم و ضروری ہے، جوآپ ﷺ اللہ پاک کی طرف سے لائے ہیں۔ یہ حق صرف مسلمانوں پر نہیں، بلکہ تمام انسانوں پر لازم ہیں، کیونکہ آپ تمام انسانوں کے لئے رسول ہیں اور آپ کی رحمت تمام جہانوں کے لئے اور آپ کے احسانات تمام انسانوں بلکہ تمام مخلوقات پر ہیں۔ جو یہ ایمان نہ رکھے وہ مسلمان نہیں، اگرچہ وہ دیگر تمام انبیاءئے کرام علیہمُ السّلام پر ایمان رکھتا ہو۔

دوسرا حق: اللہ پاک نے روزِ میثاق تمام انبیاء و مرسلین علیہمُ السّلام سے اپنے حبیب ﷺ کی نصرت و مدد کا عہد لیا تھا۔ اور اب ہمیں بھی آپ ﷺ کی نصرت و حمایت کا حکم دیا ہے۔ صحابۂ کرام رضی اللہُ عنہم نے آپ ﷺ کی تائید و نصرت میں جان، مال، وطن، رشتے دار سب کچھ قربان کردیا۔ دورانِ جنگ ڈھال بن کر پروانوں کی طرح آپ ﷺ پر نثار ہوتے رہے۔ فی زمانہ بھی آپ ﷺ کی عزت وناموس کی حفاظت، آپ ﷺ کی تعلیمات و دین کی بقاء و ترویج کی کوشش اسی نصرت و حمایت میں داخل اور مسلمانوں پر لازم ہے۔

تیسرا حق: ایک انتہائی اہم حق یہ بھی ہے کہ دل و جان، روح و بدن اور ظاہر و باطن ہر اعتبار سے نبیِ کریم ﷺ کی اعلیٰ درجے کی تعظیم و توقیر کی جائے، بلکہ آپ ﷺ سے نسبت و تعلق رکھنے والی ہر چیز کا ادب و احترام کرنا چاہئے۔بلکہ آپ ﷺ سے تعلق رکھنے والی ہر چیز کا ادب ضروری ہے۔ تعظیم کا پہلو یہ بھی ہے کہ اپنی زبان و بدن اور اقوال و افعال میں بھی امورِ تعظیم کو ملحوظ رکھے۔ جیسے نام مبارک سنے تو درود پڑھے، سنہری جالیوں کے سامنے ہو تو ادباً نگاہوں کو جھکائے دل کو خیالِ غیر سے پاک رکھے، اگر کسی کو ذرا سی بے ادبی کرتا پائے اگرچہ وہ باپ، استاد، پیر، کوئی مذہبی و دنیوی وجاہت والی شخصیت ہی کیوں نہ ہو، اس کے سائے سے بھی دور بھاگے، کیونکہ ایسے کی صحبت سارقِ ایمان ہے۔

چوتھا حق: نبیِ کریم ﷺ کی سیرتِ مبارکہ اور سنتوں کی پیروی کرنا ہر مسلمان کے دین و ایمان کا تقاضا اور حکمِ خداوندی ہے۔ صحابۂ کرام رضی اللہُ عنہم اور سلف صالحین اپنی زندگی کے ہر قدم پر حضورِ پاک ﷺ کے طریقے پر چلنے کو مقدم رکھتے۔ اب اتباعِ رسول میں کچھ امور فرض، واجب اور کچھ سنت و مستحب ہیں، ہمارے بزرگانِ دین دونوں چیزوں میں ہی کامل اتباع کیا کرتے تھے۔

پانچواں حق: امتی پر حق ہے کہ وہ دنیا کی ہر چیز سے بڑھ کر اپنے آقا و مولا، سید المرسلین، رحمۃ للعلمین ﷺ سے سچی اور ٹوٹ کر محبت کرے اور آپ کی محبت روحِ ایمان، جانِ ایمان اور اصلِ ایمان ہے۔

محمد کی محبت دینِ حق کی شرطِ اول ہے اسی میں ہو اگر خامی تو سب کچھ نامکمل ہے


سید الانبیاء، احمدِ مجتبیٰ، حبیبِ خدا، محمدِ مصطفےٰ ﷺ وہ عظیم ہستی ہیں جن کی سیرت اور اوصاف کا بیان چند صفحات میں ممکن نہیں، بلکہ اس کے لئے ہزاروں صفحات بھی ناکافی ہیں۔ کسی شاعر نے کیا خوب کہا ہے:

زندگیاں ختم ہوئیں اور قلم ٹوٹ گئے تیرے اوصاف کا اک باب بھی پورا نہ ہوا

آپ ﷺ کے والدِ ماجد کا نام عبد اللہ اور والدہ ماجدہ کا نام آمنہ ہے۔ حضور ﷺ کے والدین کا نسب نامہ کلاب بن مرہ پر مل جاتا ہے اور آگے چل کر دونوں سلسلے ایک ہوجاتے ہیں۔ عدنان تک کا نسب نامہ صحیح سندوں کے ساتھ ثابت ہے۔ اس کے بعد ناموں میں بہت اختلاف ہے۔

حضور ﷺ جب بھی اپنا نسب نامہ بیان فرماتے تھے تو عدنان تک ہی ذکر فرماتے تھے۔

آپ ﷺ کی تاریخِ ولادت سے متعلق مختلف اقوال ہیں، ان میں سے مشہور قول یہی ہے کہ اصحابِ فیل کے واقعے سے 5 5 دن بعد 12 ربیع الاول مطابق 20 اپریل 571 ء کو آپ ﷺ پاکیزہ بدن، ناف بریدہ، ختنہ کئے اور خوشبو میں بسے ہوئے پیدا ہوئے۔

سب سے پہلے حضور ﷺ نے ابو لہب کی لونڈی ثویبہ کا دوھ نوش فرمایا۔ پھر اپنی والدہ ماجدہ حضرت آمنہ رضی اللہُ عنہا کے دودھ سے سیراب ہوتے رہے۔ پھر حضرت حلیمہ سعدیہ رضی اللہُ عنہا آپ کو اپنے ساتھ لے گئیں اور اپنے قبیلے میں رکھ کر آپ کو دودھ پلاتی رہیں اور انہیں کے پاس آپ ﷺ کے دودھ پینے کازمانہ گزرا۔

رسول اللہ ﷺ کے حقوق:

(1) جب حضور ﷺ کی مقدس زندگی کا چالیسواں سال شروع ہوا تو آپ ﷺ کا مزاج مبارک خلوت پسند ہوگیا اور آپ ﷺ تنہائی میں جاکر خدا کی عبادت میں زیادہ سے زیادہ وقت گزارنے لگے، تفکر و تدبر بڑھ گیا نیز آپ ﷺ کو اچھے اچھے خواب نظر آنے لگے اور آپ کا ہر خواب اتنا سچا ہوتا کہ خواب میں جو کچھ دیکھتے اس کی تعبیر صبحِ صادق کی طرح روشت ہوکر ظاہر ہوجایا کرتی تھی۔ (سیرت انبیاء، ص 846)

(2) آپ ﷺ کے چچا حضرت حمزہ اور حضرت عمر رضی اللہ عنھما کے قبولِ اسلام سے دینِ اسلام کو بہت تقویت ملی، لیکن پھر بھی کفار کی مخالفت ختم نہ ہوتی بلکہ دن بدن بڑھتی ہی گئی۔ اعلانِ نبوت کے ساتویں سال کفار نے آپ کےخاندان کا مکمل بائیکاٹ کردیا، جسے شعبِ ابی طالب کہا جاتا ہے، مسلسل تین سال تک حضور ﷺ اور خاندانِ بنو ہاشم ہوش ربا مصائب کوجھیلتے رہے، یہاں تک کہ خود قریش کے کچھ رحم دل لوگوں کو بنو ہاشم کی ان مصیبتوں پر رحم آگیا اور ان لوگوں نے اس ظالمانہ معاہدہ کو توڑنے کی تحریک اٹھائی جس کی مخالفت ابو جہل نے کی۔ آخر میں حضور ﷺ کی دی ہوئی غیبی خبر پر اس معاملے کا فیصلہ ہوا اور بنو ہاشم کو اس محصوری سے نجات ملی۔ (سیرتِ انبیاء، ص 848)

(3) حج کے موقع پر آپ ﷺ مختلف علاقوں سے آتے ہوئے قبائل کو دعوت دیتے اور ہر سال کچھ لوگ اسلام قبول کرلیتے۔ اعلانِ نبوت کے گیارہویں سال خزرج قبیلے کے 6 افراد نے اسلام قبول کیا۔ بارہویں سال 12 اشخاص نے قبولِ اسلام کی سعادت حاصل کی اور حضور ﷺ سے بیعت ہوئے۔ تاریخِ اسلام میں اس بیعت کا نام بیعتِ عقبۂ اولیٰ ہے۔ تیرہویں سال مدینے سے آئے ہوئے 72 افراد نے اسلام قبول کیا اور بیعت کی۔ اسے بیعتِ عقبۂ ثانیہ کہتے ہیں۔ اسلام قبول کرنے والوں نے واپس جاکر اپنے یہاں دعوتِ اسلام دینا شروع کردی اور رفتہ رفتہ شمعِ اسلام کی روشنی مدینے سے قباء تک گھر گھر پھیل گئی۔ (سیرتِ انبیاء، ص849-850)

(4) حضورِ اقدس ﷺ کے بچپن کا زمانہ ختم ہوا اور جوانی کا زمانہ آیا تو بچپن کی طرح آپ کی جوانی بھی عام لوگوں سے نرالی تھی۔ آپ ﷺ کا شباب مجسم حیا اور چال چلن، عصمت و وقار کا کامل نمونہ تھا۔ اعلانِ نبوت سے پہلے بھی آپ ﷺ کی ذاتِ مبارکہ بہترین اخلاق و عادات کا مجموعہ تھی۔ سچائی، دیانتداری، وفاداری، عہد کی پابندی، بزرگوں کی عظمت، چھوٹوں پر شفقت، رشتے داروں سے محبت، رحم و سخاوت، قوم کی خدمت، دوستوں سے ہمدردی، غریبوں اور مفلسوں کی خبر گیری، دشمنوں کے ساتھ نیک برتاؤ، مخلوقِ خدا کی خیر خواہی، عرض تمام نیک خصلتوں اور اچھی اچھی باتوں میں آپ ﷺ اتنی بلند منزل پر پہنچے ہوتے تھے کہ دنیا کے بڑے سے بڑے انسانوں کے لئے وہاں تک رسائی ممکن نہیں ہے۔ کم بولنا، فضول باتوں سے بچنا، خندہ پیشانی اور خوش روئی کے ساتھ دشمنوں سے ملنا ہر معاملے میں سادگی اور صفائی حضور ﷺ کا خاص شیوہ تھا۔ (سیرتِ انبیاء، ص845)

(5)آپ ﷺ کا جھولا فرشتوں کے ہلانے اور جھولے میں چاند کی طرف انگلی اٹھا کر جس طرف اشارہ فرماتے چاند اسی طرف جھک جاتا تھا۔

چاند جھک جاتا جدھر اٹھتی تھی انگلی مہد میں کیا ہی چلتا تھا اشاروں پر کھلونا نور کا

بچوں کی عادت کے مطابق کبھی بھی آپ ﷺ نے کپڑوں میں بول و براز نہیں فرمایا بلکہ ہمیشہ ایک معین وقت پر رفعِ حاجت فرماتے۔ جب آپ ﷺ اپنے پاؤں پر چلنے کے قابل ہوئے تو باہر نکل کر بچوں کو کھیلتے ہوئے دیکھتے مگر خود کھیل کود میں شرکت نہ کرتے۔ لڑکے آپ کو کھیلنے کے لئے بلاتے تو آپ فرماتے: مجھے کھیلنے کے لئے پیدا نہیں کیا گیا۔ (سیرتِ انبیاء، ص 843-844)