ہم پر نبیِ کریم ﷺ کے بہت سے حقوق اور احسانات ہیں، جس کے
احسانات ہوں اس کے حقوق بھی بہت زیادہ ہوتے ہیں، جس کا ادا کرنا امتِ مسلمہ پر فرض
و واجب ہے۔
اسی طرح کسی شاعر نے کیا خوب کہا:
کی محمد
سے وفا تو نے تو ہم تیرے ہیں یہ
جہاں چیز ہے کیا لوح و قلم تیرے ہیں
حق کی تعریف:
حق کا لغوی معنی سچائی، انصاف، واجب حق کا
مطالبہ وغیرہ ہے۔ اور اصطلاح میں اس چیز کی طرف اشارہ کرنا جسے قانون اور باضابطہ
طور پر ہم اپنا کہہ سکتے یا اس کی بابت اپنی ملکیت کا دعویٰ کرسکتے ہیں۔
سیرتِ مصطفےٰ میں نبیِ کریم ﷺ کے بہت سے حقوق درج ہیں، جن
میں سے درج ذیل یہ ہیں:
ایمان الرسول: حضورِ اقدس ﷺ کی نبوت و رسالت پر
ایمان لانا اور جو کچھ آپ اللہ پاک کی طرف سے لائے ہیں، صدقِ دل سے اس کو سچا
ماننا ہر ہر امتی پر فرضِ عین ہے۔ قرآن پاک میں اللہ پاک نے ارشاد فرمایا: ترجمہ کنزالایمان: اور جو اللہ اور اس کے رسول
پر ایمان نہ لایا تو یقیناً ہم نے کافروں کے لئے بھڑکتی آگ تیار کر رکھی ہے۔ اس
آیت نے نہایت وضاحت اور صفائی کے ساتھ یہ فیصلہ کردیا کہ جو لوگ رسول ﷺ کی رسالت
پر ایمان نہیں لائیں گے تو وہ اگرچہ خدا کی توحید کا عمر بھر ڈنکا بجاتے رہیں، مگر
وہ کافر اور جہنمی رہیں گے۔
اطاعتِ رسول: رسول اللہ
ﷺ کا یہ بھی حق ہے کہ آپ کا ہر حکم مان کر اس کے مطابق عمل کیا جائے۔ جس بات کا
حکم ہوا اسے بجالائے، جس چیز کا فیصلہ فرمائیں اسے قبول کرے اور جس چیز سے روکیں
اس سے رک جائے۔ اللہ پاک نے سورۂ نساء میں ارشاد فرمایا: اَطِیْعُوا اللّٰهَ وَ اَطِیْعُوا
الرَّسُوْلَ (پ5،النساء:59)ترجمہ کنز
الایمان:حکم مانو اللہ کا اور حکم مانو رسول کا۔ اس سے ثابت ہوا کہ اطاعتِ رسول کے
بغیر اسلام کا تصور ہی نہیں کیا جاسکتا۔
رسول اللہ ﷺ کی نصرت و حمایت: اللہ
پاک نے روزِ میثاق تمام انبیاء و مرسلین
علیہمُ السّلام سے اپنے حبیب ﷺ کی نصرت و
مدد کا عہد لیا تھا۔ اور اب ہمیں بھی آپ کی نصرت و حمایت کا حکم دیا ہے۔ صحابۂ
کرام رضی اللہُ
عنہم نے آپ کی تائید و نصرت میں
جان، مال، وطن، رشتے دار سب کچھ قربان کردیا۔ دورانِ جنگ ڈھال بن کر پروانوں کی
طرح آپ پر نثار ہوتے رہے۔ فی زمانہ بھی آپ کی عزت وناموس کی حفاظت، آپ کی تعلیمات
و دین کی بقاء و ترویج کی کوشش اسی نصرت و حمایت میں داخل اور مسلمانوں پر لازم
ہے۔
درود شریف: ہر مسلمان
پر واجب ہے کہ رسول اللہ ﷺ پر درود پڑھے۔ حضور ﷺ کا ارشاد ہے:جو مجھ پر ایک مرتبہ
درود شریف بھیجتا ہے، اس پر دس رحمتیں نازل ہوتی ہیں۔
سورۂ احزاب میں اللہ پاک نے ارشاد فرمایا: ترجمہ کنز
الایمان: بےشک اللہ اور اس کے فرشتے نبی پر درود بھیجتے ہیں اور اے مومنو! تم بھی
ان پر درود بھیجتے رہو اور ان پر سلام بھیجتے رہو جیسا کہ سلام بھیجنے کا حق ہے۔
مدحِ رسول: ہر امتی پر حق ہے کہ نبیِ کریم ﷺ کی
مدح و ثناء کرتا رہے۔ اللہ پاک نے قرآن کریم کو اپنے حبیب کی مدح و ثناء کے قسم
قسم کے گلہائے رنگارنگ کا ایک گلدستہ بناکے نازل فرمایا۔ اسی طرح حضرت حسان بن
ثابت، حضرت عبد اللہ بن رواحہ، کعب بن زہیر وغیرہ رضی
اللہُ عنہم نے دربارِ نبوت کے
شاعر ہونے کی حیثیت سے ایسی ایسی نعتِ پاک کی مثالیں پیش کیں کہ بڑے بڑے شعرا ء ان
کو سن کر سر دھنتے ہیں۔ جیسے:
وَ اَحْسَنُ
مِنْکَ لَمْ تَرَ قَطُّ عَیْنِی وَ
اَجْمَلُ مِنْکَ لَمْ تَلِدِ النِّسَاءُ
خُلِقْتَ
مُبَرَّاً مِّنْ کُلِّ عَیْبٍ کَاَنَّکَ
قَدْ خُلِقْتَ کَمَا تَشَاءُ
اللہ پاک سے دعا ہے کہ ہمیں حقوق اللہ کے ساتھ ساتھ حقوق
الرسول ادا کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین
رسول
اللہ کے 5 حقوق از بنت خالد، فیضان فاطمۃ الزہرا
مدینہ کلاں لالہ موسیٰ
فرمان مصطفیٰ:مجھ پر درود پاک
کی کثرت کرو بے شک یہ تمہارے لیے طہارت ہے۔
جس طرح دنیا میں ہر شخص مثلا والدین، استاد اور پیر وغیرہ کے حقوق ہوتے ہیں اسی طرح امتِ مصطفیٰ ﷺ
پر بھی نبی کے کچھ حقوق ہوتے ہیں جن کو ادا کرنا ہر امتی پر فرض و واجب ہے محبوب
باری ﷺ پوری پوری راتیں جاگ کر عبادت میں مصروف رہتے اور اپنے امتیوں کے لیے مغفرت
کی خاطر دربارِ باری تعالیٰ میں بے قراری کے ساتھ گریہ و زاری کرتے تھے، یہاں تک کہ جب آپ کا وصال ہوا تب بھی
آپ کے لبوں پر امتی امتی کی صدائیں تھیں امت کو بھی آقا ﷺ کے حقوق ادا کرنے چاہئیں جن میں سے چند درج ذیل ہیں:
حق کی تعریف: حق کا لغوی معنیٰ صحیح، درست، واجب،
سچ، انصاف یا جائز مطالبہ کے ہیں ایک طرف حق سچائی کی طرف اشارہ کرتا ہے اور دوسری
جانب اس چیز کی طرف جسے قانونا اور با ضابطہ طور پر ہم اپنا کہہ سکتے ہیں یا اس پر
اپنی ملکیت کا دعویٰ کرسکتے ہیں۔
1۔اتباعِ سنتِ رسول: سرور
کائنات ﷺ کی سیرت مبارکہ اور سنت قدیمہ کی پیروی ہر مسلمان پر واجب و لازم ہے۔ ارشاد باری تعالیٰ ہے: قُلْ اِنْ كُنْتُمْ تُحِبُّوْنَ اللّٰهَ
فَاتَّبِعُوْنِیْ یُحْبِبْكُمُ اللّٰهُ وَ یَغْفِرْ لَكُمْ ذُنُوْبَكُمْؕ-وَ
اللّٰهُ غَفُوْرٌ رَّحِیْمٌ(۳۱)
(پ 3،اٰل عمران: 31)ترجمہ کنز الایمان: اے محبوب تم فرما دو کہ لوگو اگر تم اللہ
کو دوست رکھتے ہو تو میرے فرمانبردار ہو جاؤ اللہ تمہیں دوست رکھے گا اور تمہارے
گناہ بخش دے گا اور اللہ بخشنے والا مہربان ہے۔
صحابہ کرام رضی اللہ عنہم اور صحابیات طیبات آپ کی ہر سنت
کی پیروی کو ضروری اور لازم جانتی تھیں ہمیں بھی رسول کی ہر سنت کریمہ کی پیروی کرنی چاہیے اور آپ کی سنتوں سے
انحراف یا ترک گوارا نہیں کرنا چاہیے۔
2۔اطاعتِ رسول: اطاعتِ
رسول کے بغیر اسلام کا تصور نہیں کیا
جاسکتا اور اطاعت رسول کرنے والوں کے لیے بلند درجات ہیں۔ اطاعتِ رسول
بھی ہر امتی پر رسول کریمﷺ کا حق ہے آپ کی اطاعت کرنا ہر امتی پر فرض عین ہے اس
لیے ہم پر لازم ہے کہ آپ کی اطاعت کریں آپ
کے حکم کی خلاف ورزی نہیں کرنی چاہیے۔
آیت مبارکہ: اَطِیْعُوا اللّٰهَ وَ اَطِیْعُوا الرَّسُوْلَ (پ5،النساء:59)ترجمہ کنز الایمان:حکم مانو اللہ کا اور حکم
مانو رسول کا۔
3۔درودشریف: جب
بھی حضورﷺ کا ذکر آئے تو کمال خشوع و خضوع کے ساتھ سنے اور نام پاک سنتے ہی درود
شریف پڑھے۔ خدا کی شانِ محبوبیت کا کیا کہنا کہ حقیر بندہ بھی خدا کے پیغمبر کی
بارگاہ میں درود کا ہدیہ بھیجے تو اس کے بدلے میں خدا اس بندے پر رحمتیں نازل
فرماتا ہے اللہ ہمیں زیادہ سے زیادہ درود پاک پڑھنے کی
توفیق عطا فرمائے۔
4۔محبت رسول:دوسرے
حقوق کی طرح یہ بھی رسولِ خدا کا حق ہے کہ وہ سارے جہان سے بڑھ کر آپ
سے محبت کرے اور ساری دنیا کی محبوب چیزوں کو آپ کی محبت پر قربان کردے۔ رسول اللہ
ﷺ کی محبت صرف کامل و اکمل ایمان کی علامت ہی نہیں بلکہ ہر امتی پر حق ہے کہ وہ سارے جہان سے بڑھ کر آپ سے محبت رکھے۔
محمد کی
محبت دین حق کی شرط اول ہے اسی میں ہو اگر خامی تو سب کچھ
نامکمل ہے
5۔ مدحِ رسول:صاحبِ قرآن کے ہر امتی پر یہ بھی
حق ہے کہ وہ آپ کی مدح و ثنا کا ہمیشہ اعلان اور چرچا کرتا ر ہے اور ان کے فضائل و کمالات کو علی الاعلان بیان
کرے اللہ پاک نے قرآن پاک کو اپنے محبوب ﷺ کی مدح و ثنا کے مختلف رنگا رنگ پھولوں
کا ایک حسین گلدستہ بناکر نازل فرمایا۔ (صحابیات و صالحات کے اعلیٰ اوصاف)
رسول
اللہ کے 5 حقوق از ام معاذ، فیضان فاطمۃ الزہرا
مدینہ کلاں لالہ موسیٰ
حبیبِ خدا مکی مدنی
مصطفیٰ ﷺ نے اپنی امت کی ہدایت و اصلاح اور فلاح کیلئے بے شمار تکالیف
برداشت فرمائیں۔ نیز آپ کے اپنی امت کی نجات و مغفرت کی فکر اور اس امت پہ آپ کی
شفقت و رحمت کی اس کیفیت پر قرآن بھی گواہ ہے۔ چنانچہ ارشاد ہوتا ہے: لَقَدْ جَآءَكُمْ
رَسُوْلٌ مِّنْ اَنْفُسِكُمْ عَزِیْزٌ عَلَیْهِ مَا عَنِتُّمْ حَرِیْصٌ عَلَیْكُمْ
بِالْمُؤْمِنِیْنَ رَءُوْفٌ رَّحِیْمٌ(۱۲۸) (پ 11، التوبۃ:128) ترجمہ کنز الایمان: بے شک تمہارے پاس
تشریف لائے تم میں سے وہ رسول جن پر تمہار ا مشقت میں پڑنا گراں ہے تمہاری بھلائی کے نہایت چاہنے والے مسلمانوں پر کمال
مہربان مہربان۔
آپ ﷺ نے اپنی امت کیلئے جو مشقتیں اٹھائیں ان کا تقاضہ ہے
کہ امت پر آپ کے کچھ حقوق ہیں جن کو ادا کرنا ہرامتی پر فرض ہے واجب ہے، چنانچہ حضرت علامہ قاضی عیاض
مالکی رحمۃ اللہ علیہ نے درج ذیل حقوق اپنی کتاب شریف میں بیان فرمائے ہیں۔
1۔ ایمان بالرسول: آپ ﷺ پر ایمان لانا اور جو کچھ آپ الله پاک کی طرف سے لائے
ہیں صدق دل سے اس کو سچا ماننا ہر امتی پر فرض عین ہے اور اس میں شک نہیں کہ بغیر رسول اللہ پر ایمان
لائے ہر گز کوئی مسلمان نہیں ہوسکتا۔ آپ ﷺ
نے حلاوتِ ایمانی کو تین باتوں میں فرمایا جن میں ایک یہ ہے کہ بندے کی نظر میں اللہ
پاک اور اس کے رسول کی ذات کائنات کی ہر چیز سے زیادہ محبوب و پسندیدہ ہو جائے۔
خاک ہو کے
عشق میں آرام سے سونا ملا جان
کی اکسیر ہے الفت رسول الله کی
2۔اتباعِ سنتِ رسول: سرور
کائنات فخر موجودات ﷺ کی سیرت مبارکہ اور سنت مقدسہ کی پیروی ہر مسلمان پر واجب ہے
اور لازم ہے، جیسا کہ فرمان باری ہے: قُلْ اِنْ كُنْتُمْ تُحِبُّوْنَ اللّٰهَ فَاتَّبِعُوْنِیْ یُحْبِبْكُمُ
اللّٰهُ وَ یَغْفِرْ لَكُمْ ذُنُوْبَكُمْؕ-وَ اللّٰهُ غَفُوْرٌ رَّحِیْمٌ(۳۱)
(پ 3،اٰل عمران: 31)ترجمہ کنز الایمان: اے محبوب تم فرما دو کہ لوگو اگر تم اللہ
کو دوست رکھتے ہو تو میرے فرمانبردار ہو جاؤ اللہ تمہیں دوست رکھے گا اور تمہارے
گناہ بخش دے گا اور اللہ بخشنے والا مہربان ہے۔
3۔ اطاعتِ رسول: ہر امتی پر یہ بھی رسول خدا ﷺ کا
حق ہے کہ آپ جس بات کا حکم دیں بال کے کروڑویں حصے کے برابر بھی اس کی خلاف ورزی
کا تصور نہ کرے۔ ارشادِ خداوندی ہے: اَطِیْعُوا اللّٰهَ وَ اَطِیْعُوا الرَّسُوْلَ (پ5،النساء:59)ترجمہ کنز الایمان:حکم مانو اللہ کا اور حکم
مانو رسول کا۔
4۔ محبت رسول: الله پاک
کے پیارے حبیب ﷺ کی محبت صرف کامل و اکمل ایمان کی علامت ہی نہیں بلکہ ہر امتی پر
رسول کا یہ حق ہے کہ وہ سارے جہاں سے بڑھ کر آپ سے محبت رکھے اور ساری دنیا کو آپ کی محبت پر قربان کر دے۔
محمد کی
محبت دینِ حق کی شرط اول ہے اسی
میں ہو اگر خامی تو سب کچھ نا مکمل ہے
محمد کی
محبت ہے سند آزاد ہونے کی خدا
کے دامنِ توحید میں آباد ہونے کی
5۔مدحِ رسول: صاحب قرآن ﷺ کا ہر امتی پر یہ حق بھی ہے کہ وہ آپ کی مدح و
ثناء کا ہمیشہ اعلان و چرچا کرتا رہے اوران کے فضائل و کمالات کو علی الاعلان بیان
کرے، آپ ﷺ کے فضائل و محاسن کا ذکر حمیل رب الانام اور تمام انبیائے کرام کا مقدس
طریقہ ہے۔اعلیٰ حضرت لکھتے ہیں:
اے رضا
خود صاحب قرآں ہے مداح حضور تجھ
سے کب ممکن ہے پھر مدحت رسول اللہ کی
رسول
اللہ کے 5 حقوق از بنت محمد ریاض،فیضان فاطمۃ الزہرا مدینہ کلاں لالہ موسیٰ
جس طرح دنیا میں ہر شخص
مثلا والدین،استاد اور پیر و مرشد وغیرہ کے کچھ حقوق ہوتے ہیں اسی طرح امت
مصطفیٰ پر بھی نبی کریم ﷺ کے کچھ حقوق ہیں جنہیں ادا کرنا ہم پر فرض و واجب ہے کہ
وہ مدینے والے آقا ﷺ تو اپنی امت سے اس قدر محبت فرماتے ہیں کہ جب دنیا میں تشریف
لائے تو بھی آپ کو اپنی امت نہ بھولی اور آپ کے لبوں پر امتی امتی کی صدا تھی
اور جب اس دنیا سے ظاہری وصال شریف فرمایا تو بھی آپ کے لبوں امتی امتی کی صدا
تھی تو پھر ہم کیوں نہ ان نبی ﷺ کے حقوق ادا کریں کہ جو دن رات اپنی امت کے لیے
اتنا روئے ہیں۔ اعلیٰ حضرت فرماتے ہیں:
اللہ کیا
جہنم اب بھی نہ سرد ہوگا رو
رو کے مصطفیٰ نے دریا بہا دیئے ہیں
نبی کریم ﷺ کے اس امت پر بہت حقوق ہیں
جن میں سے کچھ یہاں ذکر کیے جائیں گے:
1۔ ایمان بالرسول: رسول اللہ
ﷺ پر اس طرح ایمان لانا کہ جو کچھ آپ پر نازل ہوا اس پر اور آپ ﷺ پر ایمان لانا ہر
مسلمان پر فرض عین ہے۔ یاد رہے کہ اگر حضور کو اپنی جان ومال سے زیادہ محبوب نہ
مانا اور ایمان کا اقرار کرے تو وہ مسلمان نہیں ہو سکتا کہ حدیث مبارکہ میں ہے کہ
تم میں سے کوئی اس وقت تک کامل مومن نہیں ہوسکتا جب تک کہ میں اس کے نزدیک اس کے باپ، اس کی اولاد اور تمام لوگوں
سے بڑھ کر محبوب نہ ہو جاؤں۔(صحابیات و صالحات کے اعلیٰ اوصاف، ص 75)
خاک ہو کر
عشق میں آرام سے سونا ملے جان
کی اکسیر ہے الفت رسول اللہ کی
2۔ اطاعت رسول: ہر امتی
پر فرض عین ہے کہ وہ ہر حال میں نبی ﷺ کے
حکم کی اطاعت کرے اور آ پ کی کسی بھی بات میں بال کے کروڑویں حصے کے برابر بھی
خلاف ورزی کا تصور بھی نہ کرے کہ سورۂ نساء آیت نمبر 59 میں ہے: اَطِیْعُوا اللّٰهَ وَ اَطِیْعُوا الرَّسُوْلَ ترجمہ کنز الایمان:حکم مانو اللہ کا اور حکم مانو رسول کا۔ (صحابیات
و صالحات کے اعلیٰ اوصاف، ص 76)
3۔ اتباع سنت رسول: سرور
کائنات، فخر موجودات ﷺ کی سیرت مبارکہ اور سنت مقدسہ کی پیروی ہر مسلمان پر واجب و
لازم ہے جیسا کہ ارشاد باری ہے: قُلْ اِنْ كُنْتُمْ
تُحِبُّوْنَ اللّٰهَ فَاتَّبِعُوْنِیْ یُحْبِبْكُمُ اللّٰهُ وَ یَغْفِرْ لَكُمْ
ذُنُوْبَكُمْؕ-وَ اللّٰهُ غَفُوْرٌ رَّحِیْمٌ(۳۱) (پ 3،اٰل
عمران: 31)ترجمہ کنز الایمان: اے محبوب تم فرما دو کہ لوگو اگر تم اللہ کو دوست
رکھتے ہو تو میرے فرمانبردار ہو جاؤ اللہ تمہیں دوست رکھے گا اور تمہارے گناہ بخش
دے گا اور اللہ بخشنے والا مہربان ہے۔ اسی لیے آسمانِ امت کے چمکتے ہوئے ستارے،
ہدایت کے چاند اللہ پاک اور اس کے رسول ﷺ کے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم اور صحابیات
طیبات رضی اللہ عنہن آپ کی ہر سنت کریمہ کی پیروی کو لازم و ضروری جانتے اور بال
برابر بھی کسی معاملہ میں اپنے پیارے رسول ﷺ کی سنتوں سے انحراف یا ترک گوار نہیں کرتے تھے۔
4۔ مدحِ رسول: صاحبِ قرآن
محبوب رحمٰن ﷺ کا ہر امتی پر یہ بھی حق ہے کہ وہ آپ کی مدح و ثناء کا ہمیشہ اعلان
اور چرچا کرتا رہے اور ان کے فضائل و کمالات کو علی الاعلان بیان کرے آپ کے فضائل و محاسن کا ذکر جمیل رب العالمین
اور تمام انبیاء و مرسلین کا مقدس طریقہ ہے۔ اللہ پاک نے قرآن کریم کو اپنے حبیب ﷺ
کی مدح و ثنا کے مختلف رنگا رنگ پھولوں کا ایک حسین گلدستہ بناکر نازل فرمایا ہے
اور پورے قرآن کریم میں آپ کی نعت وصفات و آیات بینات اس طرح جگمگا رہی ہیں جیسے
آسمان پر ستارے جگمگاتے ہیں اور گزشتہ آسمانی کتابیں بھی اعلان کر رہی ہیں کہ ہر نبی
ورسول، اللہ کے حبیب کا مداح و ثناء خواں اور ان کے فضائل و محاسن کا خطیب بن کر فضائل مصطفیٰ کے فضل و کمال اور ان کے جاہ
و جلال كا ڈنکا بجا رہا۔
5۔ درود شریف: اللہ پاک نے ہمیں اپنے حبیب ﷺ پر درود پاک پڑھنے کا حکم دیتے ہوئے ارشاد فرمایا:
اِنَّ اللّٰهَ وَ
مَلٰٓىٕكَتَهٗ یُصَلُّوْنَ عَلَى النَّبِیِّؕ-یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا
صَلُّوْا عَلَیْهِ وَ سَلِّمُوْا تَسْلِیْمًا(۵۶) (پ 22،
الاحزاب: 56) ترجمہ کنز الایمان: بےشک اللہ اور اس کے فرشتے درود بھیجتے ہیں اس
غیب بتانے والے (نبی) پر اے ایمان والو ان پر درود اور خوب سلام بھیجو۔
بہار شریعت جلد اول صفحہ 75 پر ہے: جب حضور ﷺ کا ذکر آئے تو
بکمالِ خشوع وخضوع و انکسارِ ادب سنے اور نام پاک سنتے ہی درود شریف پڑھنا واجب
ہے۔ اعلیٰ حضرت، امام اہلسنت، مولانا شاہ امام احمدرضاخان رحمۃ الله علیہ فتاویٰ
رضویہ میں اس مسئلہ کی تفصیل بیان کرتے ہوئے ارشاد فرماتے ہیں کہ
حضور پاک کا نام مبارک مختلف جلسوں میں جتنی بار لے یا سنے ہر بار درود شریف پڑھنا
واجب ہے۔ اللہ پاک ہم سب کو زیادہ سے زیادہ درود شریف پڑھنے کی توفیق عطا فرمائے۔
رسول
اللہ کے 5 حقوق از بنت محمد الطاف، فیضان فاطمۃ الزہرا مدینہ کلاں لالہ موسیٰ
رسول
الله ﷺ نے اپنی امت کی ہدایت و اصلاح اور فلاح کے لیے بے شمار تکالیف برداشت
فرمائیں نیز آپ کی اپنی امت کی نجات و مغفرت کی فکر اور اس پر آپ کی شفقت و رحمت
کی اس کیفیت پر قرآن بھی شاہد ہے، چنانچہ پارہ 11 سورۃ التوبہ کی آیت نمبر 128
میں ارشاد ہوتا ہے۔ لَقَدْ
جَآءَكُمْ رَسُوْلٌ مِّنْ اَنْفُسِكُمْ عَزِیْزٌ عَلَیْهِ مَا عَنِتُّمْ حَرِیْصٌ
عَلَیْكُمْ بِالْمُؤْمِنِیْنَ رَءُوْفٌ رَّحِیْمٌ(۱۲۸) ترجمہ
کنز الایمان: بے شک تمہارے پاس تشریف لائے تم میں سے وہ رسول جن پر تمہار ا مشقت
میں پڑنا گراں ہے تمہاری بھلائی کے نہایت
چاہنے والے مسلمانوں پر کمال مہربان مہربان۔آپ ﷺ نے اپنی امت کے لیے جو مشقتیں
اٹھائیں ان کا تقاضا ہے کہ امت پر آپ کے کچھ حقوق ہیں جن کو اداکرنا ہر امتی پر
فرض و واجب ہے۔
حق کی تعریف: حق کے لغوی معنی
صحیح، درست، واجب، سچ، انصاف یا جائر مطالبہ کے ہیں، ایک طرف حق سچائی کی طرف اشارہ کرتا ہے، دوسری جانب اس چیز کی طرف جسے
قانونا اور باضابطہ طور پر ہم اپنا کہہ سکتے ہیں، حقوق کو آسان لفظوں میں
یوں سمجھیں وہ اصول جو ایک فرد کو دیگر افراد کی جانب سے اجازت یا واجب الادا ہیں۔
امت پر حقوقِ مصطفیٰ: حضور
ﷺ کے اپنے امتیوں پر جو حقوق ہیں ان میں
سے 5 حقوق درج ذیل ہیں؛
1۔ اتباع سنت رسول: سرور کائنات ﷺ کی سیرت مبارکہ
اور سنت مقدسہ کی پیروی ہر مسلمان پر واجب و لازم ہے جیسا کہ ارشاد باری ہے: قُلْ اِنْ كُنْتُمْ تُحِبُّوْنَ اللّٰهَ
فَاتَّبِعُوْنِیْ یُحْبِبْكُمُ اللّٰهُ وَ یَغْفِرْ لَكُمْ ذُنُوْبَكُمْؕ-وَ
اللّٰهُ غَفُوْرٌ رَّحِیْمٌ(۳۱)
(پ 3،اٰل عمران: 31)ترجمہ کنز الایمان: اے محبوب تم فرما دو کہ لوگو اگر تم اللہ
کو دوست رکھتے ہو تو میرے فرمانبردار ہو جاؤ اللہ تمہیں دوست رکھے گا اور تمہارے
گناہ بخش دے گا اور اللہ بخشنے والا مہربان ہے۔
2۔ اطاعتِ رسول: یہ بھی
ہر امتی پر رسول خدا ﷺ کا حق ہے کہ ہر امتی ہر حال میں آپ کے ہر حکم کی اطاعت کرے
اور آپ جس بات کا حکم دیں بال کے کروڑویں حصے کے برابر بھی اس کی خلاف ورزی کا
تصور نہ کرے، کیونکہ آپ کی اطاعت کرنا ہر امتی پر فرض عین ہے، چنانچہ ارشادِ
خداوندی ہے: اَطِیْعُوا اللّٰهَ وَ
اَطِیْعُوا الرَّسُوْلَ (پ5،النساء:59)ترجمہ کنز
الایمان:حکم مانو اللہ کا اور حکم مانو رسول کا۔ اطاعتِ رسول کے بغیر اسلام کا
تصور ہی نہیں کیا جا سکتا اور اطاعت رسول کرنے والوں ہی کے لیے بلند درجات ہیں۔
3۔ تعظیمِ رسول: امت پر ایک بہت بڑا حق یہ بھی ہے کہ ہر امتی پر فرض عین ہے
کہ آپ اور آپ سے نسبت و تعلق رکھنے والی تمام چیزوں کی تعظیم و توقیر اور ادب و احترام بجالائے، جیسا کہ اللہ پاک کا
فرمان عالیشان ہے: اِنَّاۤ اَرْسَلْنٰكَ شَاهِدًا
وَّ مُبَشِّرًا وَّ نَذِیْرًاۙ(۸) لِّتُؤْمِنُوْا بِاللّٰهِ وَ رَسُوْلِهٖ وَ
تُعَزِّرُوْهُ وَ تُوَقِّرُوْهُؕ- (پ 26، الفتح: 8- 9) ترجمہ کنز
الایمان: بےشک ہم نے تمہیں بھیجا حاضر و ناظر اور خوشی اور ڈر سناتا تاکہ اے لوگو
تم اللہ اور اس کے رسول پر ایمان لاؤ اور رسول کی تعظیم و توقیرکرو۔
4۔ درود شریف: اللہ پاک نے ہمیں اپنے محبوب ﷺ پر
درود پاک پڑھنے کا حکم دیتے ہوئے ارشاد فرمایا: اِنَّ اللّٰهَ وَ مَلٰٓىٕكَتَهٗ یُصَلُّوْنَ عَلَى
النَّبِیِّؕ-یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا صَلُّوْا عَلَیْهِ وَ سَلِّمُوْا
تَسْلِیْمًا(۵۶)
(پ 22، الاحزاب: 56) ترجمہ کنز الایمان: بےشک اللہ اور اس کے فرشتے درود بھیجتے
ہیں اس غیب بتانے والے (نبی) پر اے ایمان والو ان پر درود اور خوب سلام بھیجو۔ بہارِ شریعت جلد اول صفحہ75 پرہے: جب (ایک
ہی مجلس میں بار بار) حضور ﷺ کا ذکر آئے تو بکمال ِخشوع و خضوع و انکسارِ اد ب سنے
اور نامِ پاک سنتے ہی درودِ رپاک پڑھے کیونکہ یہ پڑھنا (پہلی بار) واجب (اور باقی
ہر بار مستحب)ہے۔ جو بندہ پیارے آقا ﷺ پر
درود پاک کا ہدیہ بھیجتا ہے تو اللہ پاک اس کے بدلے میں اس بندے پر رحمتیں نازل
فرماتا ہے۔
5۔ قبر انور کی زیارت: حضرت
علامہ مولانا مفتی محمد امجد علی اعظمی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں: زیارتِ اقدس قریب بواجب ہے۔ (بہار
شریعت،1/22) جبکہ شیخ الحدیث حضرت علامہ عبد المصطفیٰ اعظمی رحمۃ اللہ علیہ سیرتِ
مصطفےٰ میں فرماتے ہیں کہ حضور اقدس ﷺ کے روضہ مقدسہ کی زیارت سنت
مؤکدہ قریب بواجب ہے، چنانچہ رب تعالیٰ پارہ 5 سورۃ النساء آیت نمبر 64 میں ارشاد
فرماتا ہے: وَ لَوْ اَنَّهُمْ اِذْ
ظَّلَمُوْۤا اَنْفُسَهُمْ جَآءُوْكَ فَاسْتَغْفَرُوا اللّٰهَ وَ اسْتَغْفَرَ
لَهُمُ الرَّسُوْلُ لَوَجَدُوا اللّٰهَ تَوَّابًا رَّحِیْمًا(۶۴)
ترجمہ کنز الایمان: اور اگر جب وہ اپنی جانوں پر ظلم کریں تو اے محبوب تمہارے حضور
حاضر ہوں اور پھر اللہ سے معافی چاہیں ا ور رسول ان کی شِفاعت فرمائے تو ضرور اللہ
کو بہت توبہ قبول کرنے والا مہربان پائیں۔
رسول
اللہ کے 5 حقوق از بنت عبد المالک،فیضان فاطمۃ الزہرا مدینہ کلاں لالہ موسیٰ
حبیب خدا مکی مدنی
مصطفیٰ ﷺ نے اپنی امت کی ہدایت و اصلاح کیلئے بے شمار تکالیف برداشت
فرمائیں محبوب باری ﷺ پوری پوری راتیں جاگ کر عبادت میں مصروف رہتے اور امت کی
مغفرت کیلئے دربارِ باری میں انتہائی بے
قراری کے ساتھ گریہ وزاری فرماتے رہتے یہاں تک کہ کھڑے کھڑے آپ کے پائے مبارک پر
ورم آجاتا تھا، چنانچہ آپ ﷺ نے اپنی امت کے لیے جو مشقتیں اٹھائیں ان کا تقاضا ہے
کہ امت پر آپ کے کچھ حقوق ہیں جن کا ادا کرنا ہر امتی پر فرض و واجب ہے۔
رسول ﷺ کے امت پر حقوق:
1۔ایمان بالرسول:
رسول ﷺ پر ایمان لانا اور جو کچھ آپ اللہ پاک کی طرف سے لائے ہیں صدق دل سے اس کو
ماننا ہر امتی پر فرض عین ہے۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ بغیر رسول پر ایمان لائے
کوئی مسلمان نہیں ہو سکتا۔ حضور ﷺ نے فرمایا: تم میں سے کوئی اس وقت تک کامل مومن
نہیں ہو سکتا جب تک کہ میں اس کے نزد یک اس کے باپ، اس کی اولاد اور تمام لوگوں سے
بڑھ کر محبوب نہ ہو جاؤں۔ (صحابیات و صالحات کے اعلیٰ اوصاف)
2۔ اتباع سنت رسول: سرور
کائنات ﷺ کی سیرت مبارکہ اور سنت مقدسہ کی پیروی ہر مسلمان پر واجب و لازم ہے،
فرمان باری ہے: قُلْ اِنْ كُنْتُمْ تُحِبُّوْنَ
اللّٰهَ فَاتَّبِعُوْنِیْ یُحْبِبْكُمُ اللّٰهُ وَ یَغْفِرْ لَكُمْ
ذُنُوْبَكُمْؕ-وَ اللّٰهُ غَفُوْرٌ رَّحِیْمٌ(۳۱) (پ 3،اٰل
عمران: 31)ترجمہ کنز الایمان: اے محبوب تم فرما دو کہ لوگو اگر تم اللہ کو دوست
رکھتے ہو تو میرے فرمانبردار ہو جاؤ اللہ تمہیں دوست رکھے گا اور تمہارے گناہ بخش
دے گا اور اللہ بخشنے والا مہربان ہے۔
3۔ اطاعت رسول: یہ بھی
ہر امتی پر رسولِ خدا ﷺ کا حق ہے کہ ہر
امتی ہر حال میں آپ ﷺ کے ہر حکم کی اطاعت کرے اور آپ جس بات کا حکم
دیں بال کے کروڑویں حصے کے برابر بھی اس کی خلاف ورزی کا تصور بھی نہ کرے، کیونکہ
آپ کی اطاعت اور آپ کے احکام کے آگے سر تسلیم خم کر دینا ہر امتی پر فرض عین ہے۔
ارشادِ خداوندی ہے: ترجمہ کنزالایمان: حکم مانو اللہ کا اور حکم مانو رسول کا۔
4۔ تعظیم رسول: امت پر نہایت ہی اہم اور بہت بڑا حق یہ بھی ہے کہ ہر امتی پر فرض عین ہے کہ آپ اور
آپ سے نسبت و تعلق رکھنے والی تمام چیزوں کی تعظیم و توقیر اور ادب و احترام
بجالائے اور ہرگز ہرگز ان کی شان میں کوئی
بے ادبی نہ کرے۔ فرمان عالیشان ہے: اِنَّاۤ اَرْسَلْنٰكَ شَاهِدًا وَّ مُبَشِّرًا وَّ نَذِیْرًاۙ(۸) لِّتُؤْمِنُوْا بِاللّٰهِ وَ رَسُوْلِهٖ وَ
تُعَزِّرُوْهُ وَ تُوَقِّرُوْهُؕ- (پ 26، الفتح: 8- 9) ترجمہ کنز
الایمان: بےشک ہم نے تمہیں بھیجا حاضر و ناظر اور خوشی اور ڈر سناتا تاکہ اے لوگو
تم اللہ اور اس کے رسول پر ایمان لاؤ اور رسول کی تعظیم و توقیرکرو۔
5۔ درود شریف: اللہ پاک
نے ہمیں اپنے نبی کریم ﷺ پر درود پاک پڑھنے کا حکم دیتے ہوئے ارشاد فرمایا: اِنَّ اللّٰهَ وَ مَلٰٓىٕكَتَهٗ یُصَلُّوْنَ
عَلَى النَّبِیِّؕ-یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا صَلُّوْا عَلَیْهِ وَ
سَلِّمُوْا تَسْلِیْمًا(۵۶)
(پ 22، الاحزاب: 56) ترجمہ کنز الایمان: بےشک اللہ اور اس کے فرشتے درود بھیجتے
ہیں اس غیب بتانے والے (نبی) پر اے ایمان والو ان پر درود اور خوب سلام بھیجو۔بہارِ
شریعت جلد اول صفحہ75 پرہے: جب (ایک ہی مجلس میں بار بار) حضور ﷺ کا ذکر آئے تو
بکمال ِخشوع و خضوع و انکسار با اد ب سنے
اور نامِ پاک سنتے ہی درودِ رپاک پڑھے کیونکہ یہ پڑھنا (پہلی بار) واجب (اور باقی
ہر بار مستحب)ہے۔
رسول
اللہ کے 5 حقوق از بنت محمد نعیم،فیضان فاطمۃ الزہرا مدینہ کلاں لالہ موسیٰ
جس طرح دنیا میں ہر شخص
مثلا والدین،استاد اور پیر و مرشد وغیرہ کے کچھ حقوق ہوتے ہیں اسی طرح امت
مصطفیٰ پر بھی نبی کریم ﷺ کے کچھ حقوق ہیں جنہیں ادا کرنا ہم پر فرض و واجب ہے کہ
وہ مدینے والے آقا ﷺ تو اپنی امت سے اس قدر محبت فرماتے ہیں کہ جب دنیا میں تشریف
لائے تو بھی آپ کو اپنی امت نہ بھولی اور آپ کے لبوں پر امتی امتی کی صدا تھی
اور جب اس دنیا سے ظاہری وصال شریف فرمایا تو بھی آپ کے لبوں امتی امتی کی صدا
تھی تو پھر ہم کیوں نہ ان نبی ﷺ کے حقوق ادا کریں کہ جو دن رات اپنی امت کے لیے
اتنا روئے ہیں۔ اعلیٰ حضرت فرماتے ہیں:
اللہ کیا
جہنم اب بھی نہ سرد ہوگا رو
رو کے مصطفیٰ نے دریا بہا دیئے ہیں
نبی کریم ﷺ کے اس امت پر بہت حقوق ہیں
جن میں سے کچھ یہاں ذکر کیے جائیں گے لیکن اس سے پہلے سن لیتے ہیں کہ حق کہتے کسے
ہیں؟
حق کی تعریف: حق کے لغوی معنی صحیح، درست، واجب، سچ، انصاف یا
جائر مطالبہ کے ہیں، ایک طرف حق سچائی کی طرف اشارہ کرتا ہے اور دوسری جانب اس چیز
کی طرف جسے قانونا اور باضابطہ طور پر ہم اپنا کہہ سکتے ہیں، حقوق کو آسان لفظوں
میں یوں سمجھیں وہ اصول جو ایک فرد کو دیگر افراد کی جانب سے اجازت یا واجب الادا
ہیں۔
حق کی تعریف پڑھ لینے کے بعد سنتے ہیں کہ ہم پر حضور ﷺ کے
کیا حقوق ہیں۔
1۔ ایمان بالرسول: رسول
اللہ ﷺ پر اس طرح ایمان لانا کہ جو کچھ آپ پر نازل ہوا اس پر اور آپ ﷺ پر ایمان
لانا ہر مسلمان پر فرض عین ہے۔ یاد رہے کہ اگر حضور کو اپنی جان ومال سے زیادہ
محبوب نہ مانا اور ایمان کا اقرار کرے تو وہ مسلمان نہیں ہو سکتا کہ حدیث مبارکہ
میں ہے کہ تم میں سے کوئی اس وقت تک کامل مومن نہیں ہوسکتا جب تک کہ میں اس
کے نزدیک اس کے باپ، اس کی اولاد اور تمام
لوگوں سے بڑھ کر محبوب نہ ہو جاؤں۔(صحابیات و صالحات کے اعلیٰ اوصاف، ص 75)
خاک ہو کر
عشق میں آرام سے سونا ملے جان
کی اکسیر ہے الفت رسول اللہ کی
2۔ اطاعت رسول: ہر امتی
پر فرض عین ہے کہ وہ ہر حال میں نبی ﷺ کے
حکم کی اطاعت کرے اور آ پ کی کسی بھی بات میں بال کے کروڑویں حصے کے برابر بھی
خلاف ورزی کا تصور بھی نہ کرے کہ سورۂ نساء آیت نمبر 59 میں ہے: اَطِیْعُوا اللّٰهَ وَ اَطِیْعُوا الرَّسُوْلَ ترجمہ کنز الایمان:حکم مانو اللہ کا اور حکم مانو رسول کا۔
3۔ محبت رسول: اللہ پاک
کےپیارے حبیبﷺکی محبت صرف کامل و اکمل ایمان کی علامت ہی نہیں ہے بلکہ ہر امتی پر
رسول اللہ ﷺکایہ حق بھی ہے کہ وہ سارے جہان سے بڑھ کر آپ ﷺ سے محبت رکھے اور ساری
دنیا کوآپ کی محبت پر قربان کر دے۔
محمد کی
محبت ہے سند آزاد ہونے کی خدا
کے دامن توحید میں آباد ہونے کی
4۔ درود شریف: بہارِ
شریعت جلد اول صفحہ75 پرہے: جب (ایک ہی مجلس میں بار بار) حضور ﷺ کا ذکر آئے تو
بکمال ِخشوع و خضوع و انکسار با اد ب سنے
اور نامِ پاک سنتے ہی درودِ رپاک پڑھے کیونکہ یہ پڑھنا (پہلی بار) واجب (اور باقی
ہر بار مستحب)ہے۔ اور اس حق کا ذکر کرتے ہوئے رب تعالیٰ سورۂ احزاب آیت نمبر 56
میں ارشاد فرماتا ہے: اِنَّ اللّٰهَ وَ
مَلٰٓىٕكَتَهٗ یُصَلُّوْنَ عَلَى النَّبِیِّؕ-یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا
صَلُّوْا عَلَیْهِ وَ سَلِّمُوْا تَسْلِیْمًا(۵۶) ترجمہ
کنز الایمان: بےشک اللہ اور اس کے فرشتے درود بھیجتے ہیں اس غیب بتانے والے (نبی)
پر اے ایمان والو ان پر درود اور خوب سلام بھیجو۔
5۔ مدحِ رسول: محبوب
رحمٰن ﷺ کا ہر امتی پر یہ بھی حق ہے کہ وہ
آپﷺ کی مدح و ثنا کا ہمیشہ اعلان اور چرچا کرتا رہے اور ان کے فضائل و کمالات
کوعلی اعلان بیان کرتا رہے اور آپ ﷺ کی مدح و ثنا کرنااللہ تعالیٰ، انبیاء کرام
علیہم السلام اور صحابہ کرام علیہم الرضوان کامقدس طریقہ رہا ہے۔اللہ کریم ہمیں یہ
حقوق ادا کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔
رسول
اللہ کے 5 حقوق از بنت محمد شفیق،فیضان فاطمۃ الزہرا مدینہ کلاں لالہ موسیٰ
والدین استاد بہن بھائی وغیرہ کے ہم پر حقوق ہوتے ہیں، اسی
طرح سرکار دو عالم ﷺ کے بھی امت پر حقوق ہیں کہ آپ نے تو اپنی امت کی ہدایت و
اصلاح اور فلاح کے لیے بے شمار تکالیف برداشت فرمائیں، اپنی اُمت کی نجات و مغفرت
کی فکر اور اس پر آپ کی شفقت و رحمت کی اس کیفیت پر قرآن بھی شاہد ہے: لَقَدْ جَآءَكُمْ
رَسُوْلٌ مِّنْ اَنْفُسِكُمْ عَزِیْزٌ عَلَیْهِ مَا عَنِتُّمْ حَرِیْصٌ عَلَیْكُمْ
بِالْمُؤْمِنِیْنَ رَءُوْفٌ رَّحِیْمٌ(۱۲۸) (پ 11، التوبۃ:128) ترجمہ کنز الایمان: بے شک تمہارے پاس
تشریف لائے تم میں سے وہ رسول جن پر تمہار ا مشقت میں پڑنا گراں ہے تمہاری بھلائی کے نہایت چاہنے والے مسلمانوں پر کمال
مہربان مہربان۔آپ ﷺ نے اپنی امت کے لیے جو
مشقتیں اٹھائیں ان کا تقاضا ہے کہ امت پر آپ کے بھی حقوق ہیں جن کو ادا کرنا ہر
اُمتی پر فرض اور واجب ہے، حقوقِ مصطفی بیان کرنے سے پہلے حق کی تعریف بیان کرنے
کی کوشش کرتی ہوں۔
حق کی تعریف: حق کے
لغوی معنی صحیح، درست، واجب، سچ، انصاف یا جائز مطالبہ کے ہیں، ایک طرف حق سچائی
کی طرف اشارہ کرتا ہے اور دوسری جانب اس چیز کی طرف جسے قانوناً اور با ضابطہ طور
پر ہم اپنا کہہ سکتے ہیں یا اس پر اپنی ملکیت کا دعویٰ کر سکتے ہیں، ویسے تو آپ ﷺ
کے امت پر بہت زیادہ حقوق ہے، لیکن یہاں صرف پانچ ذکر کیے جا رہے ہیں:
1۔ ایمان بالرسول: رسول پر
ایمان لانا جو کچھ آپ اللہ کی طرف سے لائے ہیں صدقِ دل سے اس کو سچا ماننا ہر امتی
پر فرض عین ہے اور اس میں کوئی شک نہیں کہ بغیر رسول پر ایمان لائے کوئی مسلماں
نہیں ہو سکتا۔
خاک ہو کر
عشق میں آرام سے سونا ملے جان
کی اکسیر ہے الفت رسول الله کی
2۔ اتباعِ سنتِ رسول: سرور
کائنات فخر موجودات ﷺ کی سیرت مبارکہ اور سنت مقدسہ کی پیروی ہر مسلمان پر واجب و
لازم ہے جیسا کہ فرمانِ باری ہے: قُلْ اِنْ كُنْتُمْ تُحِبُّوْنَ اللّٰهَ فَاتَّبِعُوْنِیْ یُحْبِبْكُمُ
اللّٰهُ وَ یَغْفِرْ لَكُمْ ذُنُوْبَكُمْؕ-وَ اللّٰهُ غَفُوْرٌ رَّحِیْمٌ(۳۱)
(پ 3،اٰل عمران: 31)ترجمہ کنز الایمان: اے محبوب تم فرما دو کہ لوگو اگر تم اللہ
کو دوست رکھتے ہو تو میرے فرمانبردار ہو جاؤ اللہ تمہیں دوست رکھے گا اور تمہارے
گناہ بخش دے گا اور اللہ بخشنے والا مہربان ہے۔
3۔ اطاعتِ رسول: یہ بھی ہر
امتی پر رسول الله ﷺ کا حق ہے کہ ہر امتی ہر حال میں آپ کے ہر حکم کی اطاعت کرے
اور آپ جس بات کا حکم دیں بال کے کروڑویں حصے کے برابر بھی اس کی خلاف ورزی کا
تصور نہ کرے، کیونکہ آپ کی اطاعت اور احکام کے آگے سر تسلیم خم کرنا ہر امتی پر
فرض عین ہے۔
4۔ محبتِ رسول: اسی طرح
ہر امتی پر رسول اللہ ﷺ کا حق ہے کہ وہ سارے جہاں سے بڑھ کر آپ سے محبت کرے ساری
دنیا کی محبوب چیزوں کو آپ کی محبت پر قربان کر دے، اللہ پاک کے آخری نبی ﷺ کی
محبت ایمان کی علامت ہی نہیں بلکہ ہر امتی پر آپ کا یہ حق بھی ہے کہ وہ سارے جہان
سے بڑھ کر آپ سے محبت رکھے اور ساری دنیا کو آپ کی محبت پر قربان کر دے۔
5۔ تعظیمِ رسول: امت پر
ایک نہایت اہم اور بہت بڑا حق یہ بھی ہے کہ ہر امتی پر فرض عین ہے کہ آپ اور آپ سے
نسبت و تعلق رکھنے والے تمام چیزوں کی تعظیم و توقیر و ادب و احترام بجالائے اور
ہرگز ہرگز کبھی ان کی شان میں کوئی بے ادبی نہ کرے۔ اللہ کریم ہمیں حقوق ادا کرنے
کی توفیق عطا فرمائے۔
آج لوگ کہتے ہیں ہمارے پاکستانی ہونے کی وجہ سے ہمارے ملک
میں حقوق ہیں، عورتوں کے حقوق کی بات ہوتی ہے، مزدوروں کے حقوق کی بات ہوتی ہے، ہر
بندہ اپنے حقوق (Rights) پر گفتگو کرتا ہے۔ کیا ہمیں یہ معلوم ہے کہ
نبی پاک ﷺ کا امتی ہونے کی حیثیت سے کچھ حقوق ایسے ہیں جو
مسلمان پر فرض و واجب ہیں۔ ان حقوق کو جاننے سے پہلے یہ جانتے ہیں کہ حق کہتے کسے
ہیں۔
حق کی تعریف: حقوق
جمع ہے حق کی اور حق کا لغوی معنی واجب کرنا ہے یعنی وہ کام جو کسی کے ذمے واجب ہو
اسے حق کہتے ہیں۔
حضرت علامہ قاضی عیاض مالکی رحمۃ اللہ علیہ نے آپ کے مقدس
حقوق کو اپنی کتاب الشفا بتعریف حقوق المصطفیٰ میں بہت وضاحت سے تحریر فرمایا،
یہاں اختصار کے ساتھ اس کا خلاصہ تحریر کرتے ہوئے 5 حقوق کا ذکر کرتے ہیں۔
1۔ ایمان بالرسول: یعنی نبی
کریم ﷺ کی نبوت ورسالت پر ایمان لانا اور جو کچھ آپ رب کی طرف سے لائے صدقِ دل سے
اس کو سچا ماننا ہر امتی پر فرض عین ہے۔ رب کریم کا ارشاد ہے:فَاٰمِنُوْا بِاللّٰهِ وَ رَسُوْلِهِ
النَّبِیِّ الْاُمِّیِّ (پ 9، الاعراف: 158) ترجمہ: تو ایمان لاؤ اللہ اور اس کے
رسول پر جو نبی ہیں، (کسی سے ) یہ پڑھے ہوئے نہیں۔
2۔ تعظیمِ رسول: امت پر
نبی کریم ﷺ کے حقوق میں ایک بہت اہم حق یہ بھی ہے کہ آپ سے تعلق رکھنے والی تمام
چیزوں کا ادب و احترام کیا جائے۔ رب کریم کا ارشاد ہے: اِنَّاۤ اَرْسَلْنٰكَ شَاهِدًا وَّ مُبَشِّرًا وَّ
نَذِیْرًاۙ(۸) لِّتُؤْمِنُوْا بِاللّٰهِ وَ رَسُوْلِهٖ وَ
تُعَزِّرُوْهُ وَ تُوَقِّرُوْهُؕ- (پ 26، الفتح: 8- 9) ترجمہ کنز
الایمان: بےشک ہم نے تمہیں بھیجا حاضر و ناظر اور خوشی اور ڈر سناتا تاکہ اے لوگو
تم اللہ اور اس کے رسول پر ایمان لاؤ اور رسول کی تعظیم و توقیرکرو۔
3۔ درود شریف: ہر مسلمان پر واجب ہے کہ رسول
اللہ ﷺ پر درود شریف پڑھتا رہے۔ رب کریم کا ارشاد ہے: اِنَّ اللّٰهَ وَ مَلٰٓىٕكَتَهٗ یُصَلُّوْنَ عَلَى
النَّبِیِّؕ-یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا صَلُّوْا عَلَیْهِ وَ سَلِّمُوْا
تَسْلِیْمًا(۵۶)
(پ 22، الاحزاب: 56) ترجمہ کنز الایمان: بےشک اللہ اور اس کے فرشتے درود بھیجتے
ہیں اس غیب بتانے والے (نبی) پر اے ایمان والو ان پر درود اور خوب سلام بھیجو۔ اس
آیت سے معلوم ہوا کہ کسی خاص وقت کے ساتھ معین نہیں ہے کہ اس وقت درود پڑھا جائے
یا نہ پڑھا جائے، کیونکہ اللہ پاک نے نبی کریم ﷺ پر علی الاطلاق یعنی بنا کسی وقت
کو خاص کیے درود بھیجنے کا حکم ارشاد فرمایا۔ احادیث میں درود پڑھنے کی ترغیب اور
فضائل موجود ہیں، لیکن درود نہ پڑھنے والوں کے لئے بھی وعیدات ہیں۔ اللہ کریم ہمیں
کثرت سے درود پاک پڑھنے والا بنائے۔
4۔ محبتِ رسول:ا سی طرح
ہر امتی پر نبی کریم ﷺ کا حق ہے کہ وہ سارے جہان سے بڑھ کر آپ سے محبت
رکھے اور ساری دنیا کی محبوب چیزوں کو آپ
کی محبت کے قدموں پر قربان کردے۔رب کریم کا ارشاد ہے: قُلْ اِنْ كُنْتُمْ
تُحِبُّوْنَ اللّٰهَ فَاتَّبِعُوْنِیْ یُحْبِبْكُمُ اللّٰهُ وَ یَغْفِرْ لَكُمْ
ذُنُوْبَكُمْؕ-وَ اللّٰهُ غَفُوْرٌ رَّحِیْمٌ(۳۱) (پ 3،اٰل
عمران: 31)ترجمہ کنز الایمان: اے محبوب تم فرما دو کہ لوگو اگر تم اللہ کو دوست
رکھتے ہو تو میرے فرمانبردار ہو جاؤ اللہ تمہیں دوست رکھے گا اور تمہارے گناہ بخش
دے گا اور اللہ بخشنے والا مہربان ہے۔
5۔ اطاعتِ رسول: ہر امتی
پر رسولِ کریم ﷺ کا حق ہے کہ ہر امتی ہر حال میں آپ کے ہر حکم
کی اطاعت کرے اور آپ جس بات کا حکم دیں اس پر دل و جان سے عمل کرے۔رب کریم کا
ارشادہے: اَطِیْعُوا اللّٰهَ وَ
اَطِیْعُوا الرَّسُوْلَ (پ5،النساء:59)ترجمہ کنز
الایمان:حکم مانو اللہ کا اور حکم مانو رسول کا۔اللہ پاک ہمیں حقوقِ مصطفیٰ ادا
کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔آمین
رسول
اللہ کے 5 حقوق از بنتِ حبیب الرحمٰن، فیضان غزالی نیول کالونی کراچی
اس پوری دنیا پر اگر کسی کا سب سے بڑا احسان ہے تو وہ رب کا
ہے کہ اس نے اپنا محبوب اس دنیا میں بھیجا اور حضور ﷺ کی تشریف آوری سے قبل اس
جہان فانی پر جہالت کا سیاہ ترین اندھیرا چھایا ہوا تھا، آپ ﷺ دونوں جہانوں کے
لیے رحمت بن کر تشریف لائے اور جہالت و کفر میں ڈوبی انسانیت کو حق کا راستہ
بتایا۔ حضور ﷺ کے ذریعے ہی ہمیں ایمان ملا، قرآن ملا، ہر نعمت ہی حضور کی وجہ سے
نصیب ہوئی، لہٰذا ہر ایمان والے کو چاہیے کہ وہ حضور کی سیرت کے ساتھ ساتھ محسن
انسانیت ﷺ کے حقوق کو معلوم کرے اور ان کی تبلیغ کرنا بھی ضروری ہے، حقوق کیا ہیں
اور حق کسے کہتے ہیں؟ چنانچہ
حق کی تعریف: ایک ایسی
ذمہ داری جو رب تعالیٰ کی طرف سے ایک ذات پر دوسری ذات کے مقابلے میں لازم کی گئی
ہو۔
ہم پر حضور ﷺ کے اتنے حقوق ہیں کہ جن کا احاطہ ممکن نہیں،
البتہ ان میں سے چند درج ہیں؛
1۔ درود پاک: جس پر
کسی شخص کا احسان ہوتا ہے تو وہ اپنے محسن کو کبھی نہیں بھولتا، اس کا ذکر اکثر و
بیشتر اپنی زبان پر رکھتا ہے اور ہمارے سب سے بڑے محسن ہی پیارے آقا ﷺ ہیں تو
حضور کا حق یہ ہے کہ ہم اپنے محسن اعظم ﷺ کا ذکر کثرت سے کریں، درود پاک وہ عمل ہے
کہ جس کا حکم خود رب تعالیٰ نے قرآن مجید میں فرمایا ہے، چنانچہ ارشاد ہوتا ہے: اِنَّ اللّٰهَ وَ مَلٰٓىٕكَتَهٗ یُصَلُّوْنَ
عَلَى النَّبِیِّؕ-یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا صَلُّوْا عَلَیْهِ وَ
سَلِّمُوْا تَسْلِیْمًا(۵۶)
(پ 22، الاحزاب: 56) ترجمہ کنز الایمان: بےشک اللہ اور اس کے فرشتے درود بھیجتے
ہیں اس غیب بتانے والے (نبی) پر اے ایمان والو ان پر درود اور خوب سلام بھیجو۔ مذکورہ
آیت مبارکہ میں رب کریم ایمان والوں کو حکم ارشاد فرما رہا ہے کہ اے ایمان والو!
تم بھی درود بھیجو اور سلام بھیجو۔ ہمیں بھی چاہیے کہ ہم زیادہ سے زیادہ اپنے آقا
ﷺ پر درود و سلام بھیجیں۔
2۔ حضور کی احادیث کا ادب:
حضور کا ایک حق یہ بھی ہے کہ ہم حضور ﷺ کے فرمان کا بھی ادب کریں، دوران درس جب
حدیث مبارکہ پڑھی جا رہی ہو تو حدیث کی آواز پر اپنی آواز بلند کرنا ایسا ہے
جیسے حضور کی حیات مبارکہ میں آپ کی آواز پر آواز بلند کرنا اور یہ درست نہیں،
جب حدیث مبارکہ پڑھنی ہو تو حتی الامکان نیا لباس اور خوشبو کا استعمال کیا جائے
اور حدیث مبارکہ پڑھنے والا کسی اونچی جگہ بیٹھے۔
3۔ حضور کے اہل بیت کا اکرام و احترام:
ایک حق یہ بھی ہے کہ ہم حضور ﷺ کے اہل بیت کا احترام کریں ان سے بھی محبت کی جائے،
کیونکہ محبوب کی ہر چیز جو محبوب سے منسلک
ہو وہ محب کو پیاری ہوتی ہے لہٰذا اہل بیت کی تعظیم لازم ہے۔
4۔ اطاعت: ایک حق
یہ بھی ہے کہ حضور کے افعال اور حضور کے دیئے گئے امر و نہی (حکم اور منع) سے باز
رہیں اور حتی المقدور سنتوں پر بھی عمل کریں یہ بھی اطاعت کا ذریعہ ہے۔
5۔ حضور سے عشق اور ایمان بالرسول:
ایمان بالرسول ضروری ہے کہ حضور جو حکم رب کی طرف سے لائے ان پر ایمان فرض ہے اور
ان سب کی تصدیق ضروری ہے، حضور ﷺ سے عشق کرنا ہی اصل ایمان کی نشانی ہے اور حضور
سے عشق و محبت واجب ہے، چنانچہ اعلیٰ حضرت فرماتے ہیں:
سارے
اچھوں میں اچھا سمجھیے جسے ہے
اس اچھے سے اچھا ہمارا نبی
تیرے تو
وصف عیب تناہی سے ہیں بری اے
جان جاں میں جان تجلیّٰ کہوں تجھے
لہٰذا ہم سب کو چاہیے کہ جو ہم پر حقوق لازم کیے گئے ہیں ہم
ان حقوق کر بجا لائیں اور خوب چرچا کرتے رہیں۔ رب کریم ہم سے حقوق میں کوتاہی کو
معاف فرمائے اور حقوق بجا لانے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین
رحمۃ للعالمین حضور پرنور سید الانبیاء حضرت محمد مصطفیٰﷺ
جنہوں نے حیوان ناطق کو انسان بنایا، جہالت کے اندھیروں سے دنیا کو نکال کر اسلام
کی شمع کو روشن کیا، جنہوں نے بچیوں کو زندہ درگور کرنے والوں کو ان سے محبت کرنا
سکھایا، جنہوں نے عورتوں کو معاشرے میں ”ایک چیز“ سے بڑھا کر گھر کی ملکہ کے شرف
سے نوازا، بڑوں کا ادب، چھوٹوں سے شفقت و محبت، بزرگوں، رشتہ داروں، پڑوسیوں اور
آپس میں مسلمان بھائیوں کے ساتھ حسن سلوک کرنا سکھایا، جنہوں نے مخلوق سے خالق کا
تعارف کروایا، افسوس! آج ہم انہیں کے حقوق کو بھول بیٹھے ہیں، اپنے آپ کو زبانی
عاشقِ رسول کہتے ہوئے ایک بار ہمیں اپنے آپ پر غور کرنا چاہیے کہ کیا ہم ان کے
حقوق ادا کرنے میں کامیاب ہیں؟ آقا کریم ﷺ کے اپنی امت پر بہت سے حقوق ہیں جن میں
سے پانچ درج ذیل ہیں؛
1۔ آپ سے محبت کرنا: رسول
اللہ ﷺ سے محبت کرنا بھی ایمان کا جز ہے وہ بھی ایسی محبت جو انسان کے اپنے اہل و
عیال بلکہ اپنے نفس پر بھی غالب ہو، آپ اسی محبت کے حق دار ہیں۔ حضور اکرم ﷺ نے
ارشاد فرمایا: تم میں سے کوئی شخص اس وقت تک کامل مؤمن نہیں ہو سکتا جب تک اس کے
نزدیک اس کی اولاد سے زیادہ اس کے ماں باپ سے زیادہ اور تمام انسانوں سے زیادہ میں
محبوب نہ ہو جاؤں۔(بخاری)
نبی کی ذات مؤمنوں کے لیے اپنی جانوں سے مقدم ہے، خود اپنے
نفس کی تمام خواہشات پر بھی آپ کے حکم کی تعمیل مقدم ہے، البتہ محبتِ رسول میں حد
سے بڑھنا بھی نا مناسب ہے یعنی شریعتِ اسلام میں رسول کی عظمت و محبت فرض ہے اس کے
بغیر ایمان ہی نہیں ہوتا مگر رسول کو کسی صفت یا علم یا قدرت وغیرہ میں اللہ پاک
کے برابر کر دینا گمراہی اور شرک ہے۔
2۔ آپ کی اطاعت کرنا: رسول کی
حیثیت اسلام میں محض پیامبر کی نہیں بلکہ اس کی اطاعت مستقلا واجب ہے۔ ارشاد باری
تعالیٰ ہے: اَطِیْعُوا اللّٰهَ وَ
اَطِیْعُوا الرَّسُوْلَ (پ5،النساء:59)ترجمہ کنز
الایمان:حکم مانو اللہ کا اور حکم مانو رسول کا۔ یہ حکم خود اللہ کریم کا ہے، اس
لیے اگر کوئی رسول کی اطاعت نہیں کرتا وہ اصلا اللہ کی اطاعت نہیں کرتا اور گویا
رسول کی اطاعت اللہ کی اطاعت ہے، معلوم ہوا کہ صرف اللہ پر اور اس کے رسول پر
ایمان لانا کافی نہیں بلکہ اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت بھی واجب ہے۔
3۔ آپ کا ادب و احترام کرنا:
ارشاد باری تعالیٰ ہے: یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ
اٰمَنُوْا لَا تَرْفَعُوْۤا اَصْوَاتَكُمْ فَوْقَ صَوْتِ النَّبِیِّ وَ لَا
تَجْهَرُوْا لَهٗ بِالْقَوْلِ كَجَهْرِ بَعْضِكُمْ لِبَعْضٍ اَنْ تَحْبَطَ
اَعْمَالُكُمْ وَ اَنْتُمْ لَا تَشْعُرُوْنَ(۲) (پ
26، الحجرات: 2) ترجمہ کنز الایمان: اے ایمان والو! اپنی آوازیں اونچی نہ کرو اس
غیب بتانے والے (نبی) کی آواز سے اور ان کے حضور بات چلا کر نہ کرو جیسے آپس میں
ایک دوسرے کے سامنے چلاتے ہو کہ کہیں تمہارے عمل اکارت نہ ہو جائیں اور تمہیں خبر
نہ ہو۔رسول اکرم ﷺ کا جو ادب و احترام اس آیت میں بیان ہوا یہ آپ کی ظاہری حیات
مبارکہ کے ساتھ ہی خاص نہیں بلکہ آپ کی وفات ظاہری سے لے کر تا قیامت بھی یہی ادب
و احترام باقی ہے اور اس کے کرنے کا حکم ہے، رسول اکرم ﷺ کی عزت و حرمت زندگی اور
وفات دونوں میں برابر ہے، بارگاہ رسالت میں ایسی آواز بلند کرنا منع ہے جو آپ کی
تعظیم و توقیر کے بر خلاف ہے اور بے ادبی کے زمرے میں داخل ہے اور اگر اس سے بے
ادبی اور توہین کی نیت ہو یہ کفر ہے۔
4۔ آپ کے دین کی مدد کرنا:
رسول اکرم ﷺ کی عزت و ناموس کا دفاع کرنا تمام اہلِ ایمان پر ہر دم واجب ہے، امت
کو جو رسول اللہ ﷺ کے دفاع کا حکم دیا گیا ہے یہ خود امت کے حق میں درجات کی بلندی
کا سبب ہے ورنہ باری تعالیٰ کو کسی کی حاجت نہیں اور اس نے اپنے حبیب کی حفاظت کی
ذمہ داری خود لے رکھی ہے، رسول اللہ ﷺ کی بھرپور مدد و نصرت کرنا بھی ہر ایمان
والے پر رسول کا حق ہے اب آپ کے اس دنیا سے پردہ فرمانے کے بعد مؤمنین پر لازم ہے
کہ وہ مندرجہ ذیل صورتوں میں رسول ﷺ کی مدد و نصرت کریں؛ طعن پرستوں کے طعن اور
گستاخوں کی گستاخی سے دفاع کرنا، سنتوں کو اپنانا، روز مرہ کی زندگی میں سنتوں کو
عام کرنا، لوگوں میں نیکی کی دعوت کو عام کرنا، حضور کی سنت گھر گھر پہنچانا۔
5۔ آپ کے اہل بیت اور صحابہ سے محبت کرنا:
نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا: میرے صحابہ کو برا نہ کہو، اگر تم میں سے کوئی شخص
احد پہاڑ کے برابر سونا خرچ کر دے تو میرے صحابہ کے خرچ کیے ہوئے ایک مد بلکہ اس
کے نصف کے قریب بھی نہیں پہنچ سکتا۔ ایک اور حدیث میں فرمایا: میرے صحابہ کے بارے
میں اللہ سے ڈرتے رہو میرے بعد انہیں نشانہ مت بنا لینا، کیونکہ جو شخص ان سے محبت
کرے گا وہ میری محبت کی وجہ سے ان سے محبت کرے گا اور جو ان سے بغض رکھے وہ در
حقیقت مجھ سے بغض رکھنے کی وجہ سے ان سے بغض رکھے گا۔ رسول ﷺ کا ایک حق اہلِ ایمان
پر یہ ہے کہ آپ کے دوستوں سے دوستی اور دشمنوں سے دشمنی رکھی جائے، ظاہر ہے کہ جس
سے محبت ہوتی ہے اس کی گلی کوچوں اور در و دیوار سے بھی محبت ہوتی ہے، اس لیے یہ
ضروری ہے کہ آپ سے محبت کرنے والوں سے محبت کا اور دشمنی رکھنے والوں سے دشمنی کا
معاملہ کیا جائے۔ اللہ پاک ہمیں اپنے نبی ﷺ کے حقوق ادا کرنے والا اور آپ کی ذاتِ
والا صفات سے اپنا تعلق استوار بلکہ مضبوط کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین
ہمارے آقا ﷺ اپنی اس گنہگار امت پر اتنے مہربان و شفیق ہیں
جیسے ایک شفیق باپ اپنی اولاد پر مہربان ہوتا ہے، آپ اتنے کریم ہیں کہ جس کی کوئی
انتہا نہیں پھر آپ نے اپنی امت کے لیے جو مشقتیں اٹھائیں ان کا تقاضا ہے کہ امت
پر حضور ﷺ کے کچھ حقوق ہوں جن کو ادا کرنا ہر امتی پر فرض و واجب ہے۔
تعریف: حق کا
مطلب ہوتا ہے ایک ایسی ذمہ داری جو اللہ کی طرف سے ایک ذات پر کسی دوسری ذات کے
مقابلے میں لازم کی گئی ہو۔
1۔ ایمان بالرسول: ارشاد باری تعالیٰ ہے: وَ مَنْ لَّمْ
یُؤْمِنْۢ بِاللّٰهِ وَ رَسُوْلِهٖ فَاِنَّاۤ اَعْتَدْنَا لِلْكٰفِرِیْنَ
سَعِیْرًا(۱۳) (پ26،الفتح:13)ترجمہ: جو اللہ اور اس کے رسول پر ایمان نہ
لائے تو یقیناً ہم نے کافروں کے لئے بھڑکتی ہوئی آگ تیار کر رکھی ہے۔
وضاحت: آپ کی
نبوت و رسالت پر ایمان لانا اور جو کچھ آپ رب کی طرف سے لائے ہیں صدق دل سے اس کو
سچا ماننا ہر امتی پر فرض عین ہے اور ہر مؤمن کا اس پر ایمان ہے کہ بغیر رسول پر
ایمان لائے ہرگز کوئی مسلمان نہیں ہو سکتا اور جو آپ کی رسالت پر ایمان نہ لائے
وہ کافر و جہنمی ہے۔(سیرت مصطفیٰ، ص 826)
2۔ اتباعِ سنتِ رسول: قرآن
کریم میں ہے: قُلْ اِنْ كُنْتُمْ
تُحِبُّوْنَ اللّٰهَ فَاتَّبِعُوْنِیْ یُحْبِبْكُمُ اللّٰهُ وَ یَغْفِرْ لَكُمْ
ذُنُوْبَكُمْؕ-وَ اللّٰهُ غَفُوْرٌ رَّحِیْمٌ(۳۱) (پ 3،اٰل
عمران: 31)ترجمہ کنز الایمان: اے محبوب تم فرما دو کہ لوگو اگر تم اللہ کو دوست
رکھتے ہو تو میرے فرمانبردار ہو جاؤ اللہ تمہیں دوست رکھے گا اور تمہارے گناہ بخش
دے گا اور اللہ بخشنے والا مہربان ہے۔
وضاحت: آپ کی
سنت مقدسہ کی اتباع و پیروی ہر مسلمان پر واجب و لازم ہے، اس لیے صحابہ کرام آپ
کی ہر سنت کریمہ کی اتباع و پیروی کو اپنے اوپر لازم الایمان اور واجب العمل
سمجھتے تھے اور اس سے انحراف یا ترک گوارا نہیں کر سکتے تھے۔(سیرت مصطفیٰ، ص 827)
3۔ اطاعتِ رسول: ارشاد
خداوندی ہے: مَنْ یُّطِعِ الرَّسُوْلَ
فَقَدْ اَطَاعَ اللّٰهَۚ-(پ5،النساء: 80)
ترجمہ کنزالایمان: جس نے رسول کا حکم مانا بے شک اُس نے اللہ کا حکم مانا۔
وضاحت: آپ کی
اطاعت ہر امتی پر آپ کا حق ہے ہر امتی کو چاہیے ہر حال میں آپ کے ہر حکم کی
اطاعت کرے اور آپ جس بات کا حکم دیں بال کے کروڑویں حصے کے برابر بھی اس کی خلاف
ورزی کا تصور بھی نہ کرے کیونکہ آپ کی اطاعت اور آپ کے احکام کے آگے سر تسلیم
خم کر دینا ہر امتی پر فرض عین ہے۔ (سیرت مصطفیٰ، ص 829)
4۔ محبتِ رسول: قُلْ اِنْ كَانَ اٰبَآؤُكُمْ وَ اَبْنَآؤُكُمْ وَ
اِخْوَانُكُمْ وَ اَزْوَاجُكُمْ وَ عَشِیْرَتُكُمْ وَ اَمْوَالُ
اﰳقْتَرَفْتُمُوْهَا وَ تِجَارَةٌ تَخْشَوْنَ كَسَادَهَا وَ مَسٰكِنُ
تَرْضَوْنَهَاۤ اَحَبَّ اِلَیْكُمْ مِّنَ اللّٰهِ وَ رَسُوْلِهٖ وَ جِهَادٍ فِیْ
سَبِیْلِهٖ فَتَرَبَّصُوْا حَتّٰى یَاْتِیَ اللّٰهُ بِاَمْرِهٖؕ-وَ اللّٰهُ لَا
یَهْدِی الْقَوْمَ الْفٰسِقِیْنَ۠(۲۴) (پ10،
التوبۃ:24)ترجمہ:(اے رسول )آپ فرمادیجیے اگر تمہارے باپ اور تمہارے بیٹے اور
تمہارے بھائی اور تمہاری عورتیں اور تمہارا کنبہ اور تمہاری کمائی کے مال اور وہ
سودا جس کے نقصان کا تمہیں ڈر ہے اور تمہارے پسند یدہ مکان یہ چیزیں اللہ اور اس
کے رسول اور اس کی راہ میں لڑنے سے زیادہ پیاری ہوں تو راستہ دیکھو یہاں تک کہ
اللہ اپنا حکم لائے اور الله فاسقوں کو راہ نہیں دیتا۔
وضاحت: ہر امتی
پر رسول کریم ﷺ کا حق ہے کہ وہ سارے جہاں سے بڑھ کر آپ سے محبت رکھے اور ساری
دنیا کی محبوب چیزوں کو آپ کی محبت کے قدموں پر قربان کر دے۔
اس آیت سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ ہر مسلمان پر اللہ اور اس کے
رسول ﷺ کی محبت فرض عین ہے، کیونکہ اس آیت کا مطلب یہ ہے کہ اے مسلمانو! جب تم
ایمان لائے ہو اور اللہ و رسول کی محبت کا دعویٰ کرتے ہو تو اب اس کے بعد اگر تم
لوگ کسی غیر کی محبت کو اللہ و رسول کی محبت پر ترجیح دوگے تو خوب سمجھ لو کہ
تمہارا ایمان اور اللہ و رسول کی محبت کا دعویٰ بالکل غلط ہو جائے گا اور تم عذاب
الٰہی اور قہر خداوندی سے نہ بچ سکو گے۔(سیرت مصطفیٰ، ص 831)
5۔ تعظیمِ رسول: اِنَّاۤ اَرْسَلْنٰكَ شَاهِدًا
وَّ مُبَشِّرًا وَّ نَذِیْرًاۙ(۸) لِّتُؤْمِنُوْا بِاللّٰهِ وَ رَسُوْلِهٖ وَ
تُعَزِّرُوْهُ وَ تُوَقِّرُوْهُؕ- (پ 26، الفتح: 8- 9) ترجمہ کنز
الایمان: بےشک ہم نے تمہیں بھیجا حاضر و ناظر اور خوشی اور ڈر سناتا تاکہ اے لوگو
تم اللہ اور اس کے رسول پر ایمان لاؤ اور رسول کی تعظیم و توقیرکرو۔
وضاحت: امت پر
حضور کے حقوق میں ایک نہایت اہم اور بہت ہی بڑا حق یہ بھی ہے کہ ہر امتی پر فرض
عین ہے کہ حضور ﷺ اور آپ سے نسبت و تعلق رکھنے والی تمام چیزوں کی تعظیم و توقیر
کرے اور ان کا ادب و احترام کرے اور ہرگز ہرگز کبھی ان کی شان میں کوئی بے ادبی نہ
کرے۔(سیرت مصطفی، ص 837)
Dawateislami