شریعت اسلامیہ نے ہر شخص کو مکلف بنایا ہے کہ وہ صرف جائز و حلال طریقہ سے ہی مال کمائے کیونکہ کل بروز حشر اللہ پاک مال کے متعلق ہم سے پوچھ گچھ فرمائے گا کہ کہاں سے کمایا یعنی ذریعہ کیا تھا اور کہاں خرچ کیا یعنی حقوق العباد اور حقوق اللہ میں کوتاہی تو نہیں کی۔ قراٰنِ کریم کے بعد سنتِ رسول صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم، قانون وضع کرنے کیلئے دوسرا ماخذ ہے جو قراٰنِ مجید کا تسلیم شدہ ماخذ ہے اور رسولُ اللہ صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے سود کی شدید مذمت فرمائی ہے۔ آئے اس موضوع پر کچھ احادیث پڑھنے سے پہلے اس کی تعریف ملاحظہ کرتے ہیں۔

سود کی تعریف: سود اس زیادتی (Excess) کو کہتے ہیں جس کا حقدار عقدِ معاوضہ میں عاقدَین میں سے کسی ایک کو قرار دیا جائے اور اس زیادتی کے مقابلے میں کوئی عوض اس عقد میں شرط نہ کیا گیا ہو۔ (فتح القدیر، 7/3)

( 1) حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسولُ اللہ صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے فرمایا کہ معراج کی رات مجھے ایک ایسی قوم کے پاس سیر کرائی گئی کہ اُن کے پیٹ کوٹھریوں کے مثل تھے جن میں سانپ بھرے تھے جو پیٹوں کے باہر سے نظر آرہے تھے۔ میں نے پوچھا: اے جبرئیل یہ کون لوگ ہیں ؟تو اُنہوں نے کہا: یہ سود کھانے والے ہیں۔ (ابن ماجہ،3/71، حدیث:2273)

(2) حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسولُ اللہ صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے فرمایا: سُود70گناہوں کا مجموعہ ہے، ان میں سب سے ہلکا یہ ہے کہ آدمی اپنی ماں سے زنا کرے۔(ابن ماجہ،3/72، حدیث:2274)

( 3) حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہُ عنہ سے روایت ہے، حضور سیدُ المرسلین صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے سود کھانے والے، کھلانے والے، سود لکھنے والے اور اس کی گواہی دینے والے پر لعنت فرمائی اور فرمایا کہ یہ سب اس گناہ میں برابر ہیں۔(مسلم، ص 663، حدیث: 4093)

( 4) حضرت ابن مسعود رضی اللہُ عنہ سے فرماتے ہیں فرمایا رسولُ اللہ صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے کہ سود اگرچہ بہت ہو مگر انجام کمی کی طرف لوٹتا ہے۔(ابن ماجہ،3/74، حدیث:2279)

( 5) حضرت سیدنا عوف بن مالک رضی اللہُ عنہ سے مروی ہے کہ حضور صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے ارشاد فرمایا: قیامت کے دن سود خور کو اس حال میں اٹھایا جائے گا کہ وہ دیوانہ و مخبوط الحواس ہو گا۔ (المعجم الکبیر ،18/60، حدیث:110) یعنی سود خور قبروں سے اٹھ کر حشر کی طرف ایسے گرتے پڑتے جائیں گے جیسے کسی پر شیطان سوار ہو کر اسے دیوانہ کر دے۔ جس سے وہ یکساں نہ چل سکیں گے۔ اس لئے کہ جب لوگ قبروں سے اٹھائے جائیں گے اور محشر کی طرف چلیں گے تو سب یہاں تک کہ کفار بھی درست چل پڑیں گے مگر سود خور کو چلنا پھرنا مشکل ہو گا اور یہی سود خور کی پہچان ہو گی۔(سود اور اس کا علاج،ص42)

پیارے پیارے اسلامی بھائیوں ! سود کو حرام فرمانے میں بہت حکمتیں ہیں وہ یہ ہیں سود کا رواج تجارتوں کو خراب کرتا ہے سود سے انسان کی طبیعت میں درندوں سے زیادہ بے رحمی پیدا ہو جاتی ہے، سود مؤمن کے ایمان کو نقصان دیتا ہے، سود کی آمدنی بہت زیادہ ہو جاتی ہے، لیکن آخر میں اللہ اس کو مٹا دیتا ہے۔ سود خور غریب پر رحم نہیں کرتا، مؤمن کیلئے سود میں برکت نہیں ہے، یہ کافر کی غذا ہو سکتی ہے مؤمن کی نہیں۔ ان حدیثوں کو پڑھنے کے بعد ہم پر لازم ہے کہ ہم مالِ حرام سے اجتناب کریں تاکہ ان سزا سے بچ سکیں۔