اے عاشقانِ رسول !اگر تاریخ کا مطالعہ کیا جائے تو اس بات کا اندازہ ہوگا کہ حضور ﷺ نے ہمارے لیے کتنی کتنی تکالیف اور مصائب برداشت کیے۔ جب آپ ﷺ نے طائف والوں کو دعوتِ حق دی تو انہوں نے آپ کی دعوت کو جھٹلایا، آپ کے پیچھے اوباش لڑکے لگا دیئے یہاں تک کہ آپ پرپتھروں کی برسات بھی کی گئی جس سے آپ کے قدمانِ مبارک لہو لہان ہو گئے لیکن آپ نے ان سب مصیبتوں کو برداشت کیا۔ اب ہم پر بھی رسول اللہﷺ کے کچھ حقوق بنتے ہیں ان حقوق کو علامہ قاضی عیاض رحمۃ اللہ علیہ نے شفا شریف میں بڑی تفصیل سے بیان کیا ہے ان میں سے چند درج ذیل ہیں۔

1-ایمان بالرسول: مسلمان ہونے کے لیے خدا کی توحید اور رسول ﷺکی رسالت دونوں پر ایمان لانا ضروری ہے۔ہر مسلمان کا حضورﷺ کی رسالت پر ایمان لانا ضروری ہے، اس کے بغیر وہ ہرگز مومن نہیں ہو سکتا کیونکہ اللہ پاک نے اس بات کی خود قرآن ِ پاک میں وضاحت فرما دی۔اللہ پاک ارشاد فرماتا ہے: وَ مَنْ لَّمْ یُؤْمِنْۢ بِاللّٰهِ وَ رَسُوْلِهٖ فَاِنَّاۤ اَعْتَدْنَا لِلْكٰفِرِیْنَ سَعِیْرًا(۱۳) (پ26،الفتح:13)ترجمہ: جو اللہ اور اس کے رسول پر ایمان نہ لائے تو یقیناً ہم نے کافروں کے لئے بھڑکتی ہوئی آگ تیار کر رکھی ہے۔

وہ کہ اس در کا ہوا خلقِ خدا اس کی ہوئی وہ کہ اس در سے پھرا اللہ اس سے پھر گیا

2-اتباعِ سنتِ رسول:حضورﷺ کے حقوق میں سے ایک حق یہ بھی ہے کہ ان کی سنت سے محبت کی جائے۔ نبی کریم ﷺ سےمحبت کرنا در اصل اللہ سے ہی محبت کرنا ہے کیونکہ اللہ ارشاد فرماتا ہے: قُلْ اِنْ كُنْتُمْ تُحِبُّوْنَ اللّٰهَ فَاتَّبِعُوْنِیْ یُحْبِبْكُمُ اللّٰهُ وَ یَغْفِرْ لَكُمْ ذُنُوْبَكُمْؕ-وَ اللّٰهُ غَفُوْرٌ رَّحِیْمٌ(۳۱) (پ 3،اٰل عمران: 31)ترجمہ کنز الایمان: اے محبوب تم فرما دو کہ لوگو اگر تم اللہ کو دوست رکھتے ہو تو میرے فرمانبردار ہو جاؤ اللہ تمہیں دوست رکھے گا اور تمہارے گناہ بخش دے گا اور اللہ بخشنے والا مہربان ہے۔

نبی کریمﷺ نے ارشاد فرمایا:مَنْ اَحَبَّ سُنَّتِى فَقَدْ اَحَبَّنِی وَمَنْ اَحَبَّنِی كَانَ مَعِىَ فِی الْجَنَّةِجس نے میری سنت سے محبت کی اس نے مجھ سے محبت کی اور جس نے مجھ سے محبت کی وہ جنت میں میرے ساتھ ہو گا۔(مشکاة المصابیح،حدیث:175)

شہا!ایسا جذبہ پاؤں کہ میں خوب سیکھ جاؤں تری سنتیں سکھانا مدنی مدینے والے

اطاعتِ رسول:ہرامتی پر یہ بھی لازم ہے کہ وہ حضور ﷺکے فرامین کی پیروی کرے، کیونکہ حضورﷺ کی اطاعت کا حکم ہمیں خوداللہ پاک نے دیا ہے۔قر آنِ پاک میں ہے: اَطِیْعُوا اللّٰهَ وَ اَطِیْعُوا الرَّسُوْلَ (پ5،النساء:59)ترجمہ کنز الایمان:حکم مانو اللہ کا اور حکم مانو رسول کا۔ مَنْ یُّطِعِ الرَّسُوْلَ فَقَدْ اَطَاعَ اللّٰهَۚ-(پ5،النساء: 80) ترجمہ کنزالایمان: جس نے رسول کا حکم مانا بے شک اُس نے اللہ کا حکم مانا۔

کتاب ِالٰہی یہ فرما رہی ہے ہے اطاعت خدا کی اطاعت نبی کی

4-درود شریف پڑھنا: ہر مسلمان پر ضروری ہے کہ وہ حضور ﷺکی ذات پر درود شریف بھی پڑھے کیونکہ اس کا حکم خود اللہ پاک نے قرآن میں دیا ہے۔ فرمایا: اِنَّ اللّٰهَ وَ مَلٰٓىٕكَتَهٗ یُصَلُّوْنَ عَلَى النَّبِیِّؕ-یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا صَلُّوْا عَلَیْهِ وَ سَلِّمُوْا تَسْلِیْمًا(۵۶) (پ 22، الاحزاب: 56) ترجمہ کنز الایمان: بےشک اللہ اور اس کے فرشتے درود بھیجتے ہیں اس غیب بتانے والے (نبی) پر اے ایمان والو ان پر درود اور خوب سلام بھیجو۔

نبی کریمﷺ نے ارشاد فرمایا:مَنْ صَلّٰی عَلَیَّ وَاحِدًا صَلَّى اللّٰهُ عَلَیهِ عَشْرًا جو مجھ پر ایک مرتبہ درود شریف پڑھتا ہے اللہ پاک اس پر دس رحمتیں نازل فرماتا ہے۔ (مسلم، حدیث:408)

اگر کوئی اپنا بھلا چاہتا ہے اسے چاہے جس کو خدا چاہتا ہے

درودان پہ بھیجو سلام ان پہ بھیجو یہی مومنوں سے خدا چاہتا ہے

5 -قبر ِانور کی زیارت: صحابہ کرام کے مقدس دور سے لے کر آج تک دنیا کے تمام مسلمان قبرِ انور کی زیارت کرتے اور قبرِ انور کی زیارت کرنا باعثِ برکت و شفاعت سمجھتے آئے ہیں کیونکہ حضور ﷺنےخود ار شاد فرمایا:مَنْ زَارَ قَبْرِی وَجَبَتْ لَہُ شَفَاعَتِی یعنی جس نے میری قبر کی زیارت کی اس کے لیے میری شفاعت واجب ہوگئی۔(دارقطنی،حدیث:2669)

بروزِ حشر شفاعت کریں گے چن چن کر کہ ہر غلام کا چہرہ حضور جانتے ہیں

اللہ پاک سے دعا ہے کہ ہمیں حضورﷺ سے سچی پکی محبت عطا فرمائے۔ آپ کے فرامین کے مطابق زندگی گزار نے، آپ کی ذات پر کثرت سے درور شریف پڑھنے، آپ کے فضائل و محاسن بیان کرتے رہنے کی توفیق و سعادت عطا فرمائے اور بروزِ قیامت آپ کی شفاعت عطا فرمائے۔ آمین


اللہ پاک نے ہمیں بلا کسی استحقاق کے محض اپنی عنایت سے جس عظیم الشان، جلیل المرتبت، رفیع المرتبت نبی ﷺ کی امت میں پیدا فرمایا، اس کا شکر اور تقاضا ہے کہ اس نبی کے جو حقوق ایک امتی ہونے کی حیثیت سے ہم پر عائد ہوتے ہیں ہم انہیں جانیں اور انہیں ادا کرنے کا مکمل اہتمام کریں۔حقوقِ مصطفٰے کی اہمیت کا اندازہ اس بات سے ہوتا ہے کہ انہیں جانے اور ادا کئے بغیر ہمارے ایمان و اعمال میں کمال نہیں پیدا ہو سکتا۔ امت پر نبیﷺ کے حقوق کے پہلو سے اگر قرآنِ پاک کو دیکھا جائے تو اللہ پاک نے قرآنِ پاک میں اپنے محبوب ﷺ کے کئی حقوق بیان فرمائے  ہیں۔اس کے ساتھ ساتھ علما و محدثین نے بھی اپنی کتب میں”حقوقِ مصطفٰے “ کو بڑی تفصیل کے ساتھ بیان کیا ہے۔یہاں اختصار کے ساتھ 5 حقوق ملاحظہ ہوں:

حق کسے کہتے ہیں؟ حق کے لغوی معنی صحیح،موزوں، واجب، سچ، انصاف، جائز مطالبہ یا استحقاق کے ہیں۔اسی طرح حق ایک ذو معنی لفظ ہے۔ایک طرف یہ سچائی کی طرف اشارہ کرتا ہے اور دوسری جانب اس چیز کی طرف جسےقانوناً اور باضابطہ طور پر ہم اپنا کہہ سکتی ہیں۔

1-ایمان بالرسول: رسولِ خدا ﷺپر ایمان لانا اور جو کچھ آپ اللہ کی طرف سے لائے ہیں اس کو صدقِ دل سےسچا ماننا ہر مسلمان پر ہی نہیں بلکہ ہر انسان کے لیے لازم ہے کیونکہ آپ تمام انسانوں کے لیے رسول ہیں اور اس میں کوئی شک نہیں کہ بغیر رسول پر ایمان لائے ہر گز کوئی مسلمان نہیں ہو سکتا کیونکہ محض توحید و رسالت کی گواہی کافی نہیں بلکہ کامل ایمان کے لیے ایمان بالرسول ہی ضروری ہے۔

2- اطاعتِ رسول:یہ بھی ہر امتی پر آپ ﷺ کا حق ہے کہ ہر امتی ہر حال میں آپ کے حکم کی اطاعت کرے۔ آپ جس بات کا حکم دیں اس کی خلاف ورزی کا تصور بھی نہ کرے اور آپ کے حکم کے آگے سر ِتسلیم خم کر دے۔ اگر حضور ﷺ کا اپنے امتی پر اس حق کو قرآن کی روشنی میں دیکھا جائے تو ارشاد باری ہے: مَنْ یُّطِعِ الرَّسُوْلَ فَقَدْ اَطَاعَ اللّٰهَۚ-(پ5،النساء: 80) ترجمہ کنزالایمان: جس نے رسول کا حکم مانا بے شک اُس نے اللہ کا حکم مانا۔

وضاحت:اس آیت میں رسول اللہ ﷺ کی اطاعت کو درحقیقت اللہ کی اطاعت فرمایا گیا تو جس نے ان کی اطاعت سے اعراض کیا اس کا وبال اسی پر ہے۔

3-محبتِ رسول:اللہ پاک کے پیارے حبیب ﷺکی محبت صرف کامل و اکمل ایمان کی علامت ہی نہیں بلکہ ہر امتی پر رسول الله کا یہ حق بھی ہے کہ وہ سارے جہاں سے بڑھ کر آپ سے محبت کرے اور ساری دنیا کی محبوب چیزوں کو آپ کی محبت پر قربان کردے۔

4- درود شریف: حضور ﷺ کے اپنی امت پر اس حق کے تو کیا ہی کہنے ! کہ ایک حقیر و ذلیل بندہ خدا کے پیغمبر کی بارگاہ میں درود شریف کا ہدیہ بھیجتا ہے تو اللہ پاک اس کے بدلے میں اس بندے پر رحمتیں نازل فرماتا ہے نیز اس حق کا اندازہ اس سے بھی لگایا جا سکتا ہے کہ بہارِ شریعت جلد اول صفحہ75 پرہے: جب (ایک ہی مجلس میں بار بار) حضور ﷺ کا ذکر آئے تو بکمال ِخشوع و خضوع و انکسار با اد ب سنے اور نامِ پاک سنتے ہی درودِ رپاک پڑھے کیونکہ یہ پڑھنا (پہلی بار) واجب (اور باقی ہر بار مستحب)ہے۔

5- تعظیمِ رسول:حضور ﷺ کی تعظیم و توقیر انتہائی اہمیت کی حامل ہے کیونکہ اللہ پاک نے اس کا حکم قرآن میں بھی ارشاد فرمایا ہے: اِنَّاۤ اَرْسَلْنٰكَ شَاهِدًا وَّ مُبَشِّرًا وَّ نَذِیْرًاۙ(۸) لِّتُؤْمِنُوْا بِاللّٰهِ وَ رَسُوْلِهٖ وَ تُعَزِّرُوْهُ وَ تُوَقِّرُوْهُؕ- (پ 26، الفتح: 8- 9) ترجمہ کنز الایمان: بےشک ہم نے تمہیں بھیجا حاضر و ناظر اور خوشی اور ڈر سناتا تاکہ اے لوگو تم اللہ اور اس کے رسول پر ایمان لاؤ اور رسول کی تعظیم و توقیرکرو۔

وضاحت:اس آیت میں اللہ نے رسول ﷺ کو مبعوث فرمانے کے مقاصد میں سے ایک مقصد بیان فرمایا ہے، وہ یہ ہے کہ لوگ آپ کی تعظیم و توقیر کریں۔ (تفسیرصراط الجنان) لہٰذا آپ کے ہر امتی پر آپ سے نسبت رکھنے والی ہر چیز کی تعظیم بجا لانا ضروری ہے۔الله پاک ہمیں نبی پاک ﷺ کے تمام حقوق بجالانے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین


قرآن، ایمان، خدا کا عرفان اور بے شمار نعمتیں ہمیں آپ ﷺ کے صدقے ہی نصیب ہوئیں۔ ہمارا تو وجود بھی حضور سید دو عالم ﷺ کے صدقے ہے، رحیم و کریم رسول اپنی ولادتِ مبارکہ  سےوصالِ مبارک تک اور اس کے بعد کے زمانوں میں اپنی امت پر مسلسل رحمت و شفقت کے دریا بہاتے رہے اور بہار ہے ہیں۔ یقیناً پیارے آقا ﷺ کے احسانات اس قدرکثیر ہیں کہ انہیں شمار کرنا ہی ممکن نہیں۔ انہی بیش بہا احسانات کے کچھ تقاضے ہیں جنہیں امت پر” حقوقِ مصطفٰے“کے نام سے ذکر کیا جاتا ہے۔

حق کی تعریف: حق عربی زبان کا لفظ ہے لیکن اس کا استعمال دیگر زبانوں میں بھی ہوتا ہے۔ حق کے لغوی معنی درست، سچ، جائز مطالبہ یا استحقاق کے ہیں۔ ایک طرف یہ سچائی کی طرف اشارہ کرتا ہے اور دوسری جانب اس چیز کی طرف جیسے قانوناً اور باضابطہ طور پر ہم اپنا کہہ سکتی ہیں یا اس کی بابت اپنی ملکیت کا دعویٰ کر سکتی ہیں۔چنانچہ پانچ حقوقِ مصطفٰے ملاحظہ ہوں۔

1۔ رسول اللہﷺ پر ایمان: پہلا حق یہ ہے کہ آپ ﷺ کی نبوت و رسالت پر ایمان رکھا جائے اور جو کچھ آپ اللہ پاک کی طرف سے لائے ہیں اسے صدقِ دل سے تسلیم کیا جائے۔ آپ ﷺ پر ایمان لانا فرض ہے، جو یہ ایمان نہ رکھے وہ مسلمان نہیں۔ ارشاد باری ہے: وَ مَنْ لَّمْ یُؤْمِنْۢ بِاللّٰهِ وَ رَسُوْلِهٖ فَاِنَّاۤ اَعْتَدْنَا لِلْكٰفِرِیْنَ سَعِیْرًا(۱۳) (پ26،الفتح:13)ترجمہ: جو اللہ اور اس کے رسول پر ایمان نہ لائے تو یقیناً ہم نے کافروں کے لئے بھڑکتی ہوئی آگ تیار کر رکھی ہے۔

2۔ رسول اللہﷺ کی پیروی:نبی کریم ﷺ کی سیرتِ مبارکہ اور سنتوں کی پیروی کرنا ہر مسلمان کے دین و ایمان کا تقاضا اور حکم خداوندی ہے۔ ارشاد باری ہے: قُلْ اِنْ كُنْتُمْ تُحِبُّوْنَ اللّٰهَ فَاتَّبِعُوْنِیْ یُحْبِبْكُمُ اللّٰهُ وَ یَغْفِرْ لَكُمْ ذُنُوْبَكُمْؕ-وَ اللّٰهُ غَفُوْرٌ رَّحِیْمٌ(۳۱) (پ 3،اٰل عمران: 31)ترجمہ کنز الایمان: اے محبوب تم فرما دو کہ لوگو اگر تم اللہ کو دوست رکھتے ہو تو میرے فرمانبردار ہو جاؤ اللہ تمہیں دوست رکھے گا اور تمہارے گناہ بخش دے گا اور اللہ بخشنے والا مہربان ہے۔حضور پر نورﷺنے ارشاد فرمایا: تم میں کوئی اس وقت تک مومن نہیں ہو سکتا جب تک کہ اس کی خواہش میرے لائے ہوئے (دین) کے تابع نہ ہو جائے۔(شرح السنۃ للبغوی،1/98)

3۔ رسول اللہ ﷺکی تعظیم:ایک انتہائی اہم حق یہ ہے کہ دل و جان،روح و بدن اور ظاہر و باطن ہر اعتبار سے نبی مکرم، رسولِ محتشم ﷺ کی تعظیم و توقیر کی جائے بلکہ آپ سے نسبت و تعلق رکھنے والی ہر چیز کا ادب و احترام کیا جائے۔ارشاد باری ہے: اِنَّاۤ اَرْسَلْنٰكَ شَاهِدًا وَّ مُبَشِّرًا وَّ نَذِیْرًاۙ(۸) لِّتُؤْمِنُوْا بِاللّٰهِ وَ رَسُوْلِهٖ وَ تُعَزِّرُوْهُ وَ تُوَقِّرُوْهُؕ- (پ 26، الفتح: 8- 9) ترجمہ کنز الایمان: بےشک ہم نے تمہیں بھیجا حاضر و ناظر اور خوشی اور ڈر سناتا تاکہ اے لوگو تم اللہ اور اس کے رسول پر ایمان لاؤ اور رسول کی تعظیم و توقیرکرو۔

4۔ رسول اللہﷺسے سچی محبت:ہر امتی پر حق ہے کہ وہ دنیا کی ہر چیز سے بڑھ کر اپنے آقا و مولیٰ،سید المرسلین،رحمۃ للعالمین ﷺ سے سچی محبت کرے کہ آپ ﷺ کی محبت روحِ ایمان، جان ِایمان اور اصل ِایمان ہے۔نبی کریم ﷺ نے ارشاد فر مایا: تم میں کسی شخص کا ایمان اُس وقت تک مکمل نہیں ہو سکتا، جب تک میں اُسے اُس کے باپ، اُس کی اولاد اور تمام لوگوں سے زیادہ محبوب نہ ہو جاؤں۔(بخاری، 1/12،حدیث:10)

5۔ رسول اللہ ﷺپر درود پاک پڑھنا:حضور پرنور ﷺ کا یہ بھی حق ہے کہ ان پر درود پاک پڑھا جائے اور اس کی کثرت کی جائے۔ درود پاک کے بارے میں رب العالمین کا فرمان ہے: اِنَّ اللّٰهَ وَ مَلٰٓىٕكَتَهٗ یُصَلُّوْنَ عَلَى النَّبِیِّؕ-یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا صَلُّوْا عَلَیْهِ وَ سَلِّمُوْا تَسْلِیْمًا(۵۶) (پ 22، الاحزاب: 56) ترجمہ کنز الایمان: بےشک اللہ اور اس کے فرشتے درود بھیجتے ہیں اس غیب بتانے والے (نبی) پر اے ایمان والو ان پر درود اور خوب سلام بھیجو۔


ہمارے پیارے نبی ﷺ الله پاک کے آخری نبی ہیں۔حضور اقدس ﷺنے اپنی امت کی ہدایت و اصلاح اور ان کی صلاح و فلاح کے لیے بہت تکلیفیں برداشت کی ہیں۔ آپ کو اپنی امت سے جو بے پناہ محبت اور اس کی نجات و مغفرت کی فکر اور ایک ایک امتی پر آپ کی شفقت اور حمت کی جو کیفیت ہے اس پر قرآن میں خداوند قدوس کا فرمان گواہ ہے: لَقَدْ جَآءَكُمْ رَسُوْلٌ مِّنْ اَنْفُسِكُمْ عَزِیْزٌ عَلَیْهِ مَا عَنِتُّمْ حَرِیْصٌ عَلَیْكُمْ بِالْمُؤْمِنِیْنَ رَءُوْفٌ رَّحِیْمٌ(۱۲۸) (پ 11، التوبۃ:128) ترجمہ کنز الایمان: بے شک تمہارے پاس تشریف لائے تم میں سے وہ رسول جن پر تمہار ا مشقت میں پڑنا گراں ہے تمہاری بھلائی کے نہایت چاہنے والے مسلمانوں پر کمال مہربان مہربان۔

پانچ حقوق:

ایمان بالر سول: حضور اقدس ﷺکی نبوت و رسالت پر ایمان لانا اور جو کچھ آپ اللہ پاک کی طرف سے لائے ہیں صدقِ دل سے اس کو سچا ماننا ہر ہر امتی پر فرض عین ہے اور ہر مومن کا اس پر ایمان ہے کہ بغیر رسول پر ایمان لائے ہوئے ہر گز ہر گز کوئی مسلمان نہیں ہو سکتا۔ قرآن میں خداوند عالم کا فرمان ہے: وَ مَنْ لَّمْ یُؤْمِنْۢ بِاللّٰهِ وَ رَسُوْلِهٖ فَاِنَّاۤ اَعْتَدْنَا لِلْكٰفِرِیْنَ سَعِیْرًا(۱۳) (پ26،الفتح:13)ترجمہ: جو اللہ اور اس کے رسول پر ایمان نہ لائے تو یقیناً ہم نے کافروں کے لئے بھڑکتی ہوئی آگ تیار کر رکھی ہے۔ اس آیت نے نہایت وضاحت اور صفائی کے ساتھ یہ فیصلہ کر دیا کہ جو لوگ رسول ﷺکی رسالت پر ایمان نہیں لائیں گے وہ اگرچہ خدا کی توحید کا عمر بھر ڈنکا بجاتے رہیں۔مگر وہ کافر اور جہنمی ہی رہیں گے، اس لیے اسلام کا بنیادی کلمہ طیبہ لا الہ الا اللہ محمد رسول اللہ ہے یعنی مسلمان ہونے کے لیے خدا کی توحید اور رسول ﷺکی رسالت دونوں پر ایمان لانا ضروری ہے۔

اتباعِ سنتِ رسول:حضور اقدس ﷺ کی سیرت مبارکہ اور آپ کی سنت مقدسہ کی اتباع اور پیروی ہر مسلمان پر واجب و لازم ہے۔ رب العزت کا فرمان ہے کہ قُلْ اِنْ كُنْتُمْ تُحِبُّوْنَ اللّٰهَ فَاتَّبِعُوْنِیْ یُحْبِبْكُمُ اللّٰهُ وَ یَغْفِرْ لَكُمْ ذُنُوْبَكُمْؕ-وَ اللّٰهُ غَفُوْرٌ رَّحِیْمٌ(۳۱) (پ 3،اٰل عمران: 31)ترجمہ کنز الایمان: اے محبوب تم فرما دو کہ لوگو اگر تم اللہ کو دوست رکھتے ہو تو میرے فرمانبردار ہو جاؤ اللہ تمہیں دوست رکھے گا اور تمہارے گناہ بخش دے گا اور اللہ بخشنے والا مہربان ہے۔

اس لئے آسمانِ امت کے چمکتے ہوئے ستارے، ہدایت کے چاند تارے، اللہ ورسولﷺ کے پیارے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم آپ کی ہرسنت کریمہ کی اتباع وپیروی کو اپنی زندگی کے ہردم قدم پر اپنے لیے لازم الایمان اور واجب العمل سمجھتے تھے اور بال بر ابر بھی کبھی کسی معاملہ میں اپنے پیارے رسولﷺ کی مقدس سنتوں سے انحراف یا ترک گوارا نہیں کر سکتے تھے۔

اطاعتِ رسول: یہ بھی ہر امتی پر رسولِ خد اﷺکاحق ہے کہ ہر امتی ہر حال میں آپ کے ہر حکم کی اطاعت کرے اور آپ جس بات کا حکم دے دیں بال کے کروڑویں حصہ کے برابر بھی اس کی خلاف ورزی کا تصور بھی نہ کرے۔ قرآنِ مجید میں ارشاد خداوندی ہے: اَطِیْعُوا اللّٰهَ وَ اَطِیْعُوا الرَّسُوْلَ (پ5،النساء:59) ترجمہ کنز الایمان:حکم مانو اللہ کا اور حکم مانو رسول کا۔ مَنْ یُّطِعِ الرَّسُوْلَ فَقَدْ اَطَاعَ اللّٰهَۚ-(پ5،النساء: 80) ترجمہ کنزالایمان: جس نے رسول کا حکم مانا بے شک اُس نے اللہ کا حکم مانا۔

قرآن ِمجید کی یہ مقدس آیات اعلان کر رہی ہیں کہ اطاعتِ رسول کے بغیر اسلام کا تصور ہی نہیں کیا جا سکتا اور اطاعتِ رسول کرنے والوں کے لیے ایسےایسے بلند درجات ہیں کہ وہ حضرات انبیا و صدیقین اور شہداو صالحین کے ساتھ رہیں گے۔

محبتِ رسول:ہر امتی پر رسول اللہ ﷺکا حق ہے کہ وہ سارے جہان سے بڑھ کر آپ سے محبت رکھے اور ساری دنیا کی محبوب چیزوں کو آپ کی محبت کے قدموں پہ قربان کر دے۔ خداوند قدوس کا فرمان ہے: قُلْ اِنْ كَانَ اٰبَآؤُكُمْ وَ اَبْنَآؤُكُمْ وَ اِخْوَانُكُمْ وَ اَزْوَاجُكُمْ وَ عَشِیْرَتُكُمْ وَ اَمْوَالُ اﰳقْتَرَفْتُمُوْهَا وَ تِجَارَةٌ تَخْشَوْنَ كَسَادَهَا وَ مَسٰكِنُ تَرْضَوْنَهَاۤ اَحَبَّ اِلَیْكُمْ مِّنَ اللّٰهِ وَ رَسُوْلِهٖ وَ جِهَادٍ فِیْ سَبِیْلِهٖ فَتَرَبَّصُوْا حَتّٰى یَاْتِیَ اللّٰهُ بِاَمْرِهٖؕ-وَ اللّٰهُ لَا یَهْدِی الْقَوْمَ الْفٰسِقِیْنَ۠(۲۴) (پ10، التوبۃ:24)ترجمہ:(اے رسول )آپ فرمادیجیے اگر تمہارے باپ اور تمہارے بیٹے اور تمہارے بھائی اور تمہاری عورتیں اور تمہارا کنبہ اور تمہاری کمائی کے مال اور وہ سودا جس کے نقصان کا تمہیں ڈر ہے اور تمہارے پسند یدہ مکان یہ چیزیں اللہ اور اس کے رسول اور اس کی راہ میں لڑنے سے زیادہ پیاری ہوں تو راستہ دیکھو یہاں تک کہ اللہ اپنا حکم لائے اور الله فاسقوں کو راہ نہیں دیتا۔

اس آیت سے ثابت ہوتا ہے کہ ہر مسلمان پر الله پاک اور اس کے رسول ﷺ کی محبت فرض عین ہے۔نیز آیت کے آخری ٹکڑے سے یہ بھی ثابت ہوتا ہےکہ جس کے دل میں اللہ ورسول کی محبت نہیں یقیناً اس کے ایمان میں خلل ہے۔

میں سو جاؤں یا مصطفٰےکہتے کہتے کھلے آنکھ صَلِّ عَلٰی کہتے کہتے

تعظیمِ رسول:حضورﷺ کے حقوق میں ایک نہایت اہم اوربہت ہی بڑا حق یہ بھی ہے کہ ہرا متی پر فرض عین ہے کہ حضور اکرم ﷺاور آپ سے نسبت و تعلق رکھنے والی تمام چیزوں کی تعظیم و توقیر اور ان کا ادب اور احترام کرے اور ہرگز ہر گز کبھی ان کی شان میں کوئی بے ادبی نہ کرے۔ احکم الحاکمین کا فرمانِ عالی شان ہے: اِنَّاۤ اَرْسَلْنٰكَ شَاهِدًا وَّ مُبَشِّرًا وَّ نَذِیْرًاۙ(۸) لِّتُؤْمِنُوْا بِاللّٰهِ وَ رَسُوْلِهٖ وَ تُعَزِّرُوْهُ وَ تُوَقِّرُوْهُؕ- (پ 26، الفتح: 8- 9) ترجمہ کنز الایمان: بےشک ہم نے تمہیں بھیجا حاضر و ناظر اور خوشی اور ڈر سناتا تاکہ اے لوگو تم اللہ اور اس کے رسول پر ایمان لاؤ اور رسول کی تعظیم و توقیرکرو۔

ہم غریبوں کے آقا پہ بے حد درود ہم فقیروں کی ثروت پہ لاکھوں سلام


پھر کے گلی گلی تباہ ٹھو کریں     سب کی کھائے کیوں دل کو جو عقل دے خدا تیری گلی سے جائے کیوں

محسنِ انسانیت،رحمۃ للعالمین حضرت محمد ﷺ جنہوں نے حیوانِ ناطق کو انسان بنایا، جنہوں نے بچیوں کو زندہ درگور کرنے والوں کو ان سے محبت کرنا سکھایا،جنہوں نے عورتوں کو معاشرے میں ایک چیز سے بڑھ کر گھر کی ملکہ کے شرف سے نوازا، جنہوں نے بڑوں کا ادب و احترام کرنا سکھایا اور جنہوں نے مخلوق سے خالق کا تعارف کروایا۔ تو امت پر بھی رسول ﷺ کے کچھ حقوق لازم ہیں۔

1۔ آپ پر ایمان لانا:آپ ﷺ پر ایمان لانا ارکانِ ایمان میں سے ہے۔ اگر کوئی شخص اللہ پر ایمان رکھتا ہے لیکن آپ کی رسالت کا انکار کرے توا سے مومن قرار نہیں دیا جا سکتا۔ ارشاد باری ہے: یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْۤا اٰمِنُوْا بِاللّٰهِ وَ رَسُوْلِهٖ( پ 5، النساء: 136)اے ایمان والو!ایمان لاؤ تم اللہ پر اور اس کے رسول پر۔

2۔ آپ کی اطاعت کرنا: رسول ﷺ کی اطاعت واجب ہے یعنی آپ کا ہر حکم مانا جائے۔

حدیثِ مبارکہ:رسول ﷺ نے فرمایا:جس نے میری اطاعت کی اس نے اللہ پاک کی اطاعت کی۔ جس نے میری نافرمانی کی اس نے اللہ پاک کی نافرمانی کی۔ (مسلم) الله پاک نے ارشاد فرمایا: اَطِیْعُوا اللّٰهَ وَ اَطِیْعُوا الرَّسُوْلَ (پ5،النساء:59)ترجمہ کنز الایمان:حکم مانو اللہ کا اور حکم مانو رسول کا۔

3۔ آپ کا ادب واحترام کرنا: رسول ﷺکانہایت ادب و احترام لازم و ضروری ہے،کیونکہ یہ ایمان کا حصہ ہے۔اللہ پاک فرماتا ہے: اِنَّاۤ اَرْسَلْنٰكَ شَاهِدًا وَّ مُبَشِّرًا وَّ نَذِیْرًاۙ(۸) لِّتُؤْمِنُوْا بِاللّٰهِ وَ رَسُوْلِهٖ وَ تُعَزِّرُوْهُ وَ تُوَقِّرُوْهُؕ- (پ 26، الفتح: 8- 9) ترجمہ کنز الایمان: بےشک ہم نے تمہیں بھیجا حاضر و ناظر اور خوشی اور ڈر سناتا تاکہ اے لوگو تم اللہ اور اس کے رسول پر ایمان لاؤ اور رسول کی تعظیم و توقیرکرو۔

4۔ آپ سے محبت:آپ ﷺ سے محبت کرنا ایمان کا حصہ ہے اور محبت بھی ایسی جو ہر چیز سے بڑھ کر ہو۔ ارشاد باری ہے: اَلنَّبِیُّ اَوْلٰى بِالْمُؤْمِنِیْنَ مِنْ اَنْفُسِهِمْ( پ 21، الاحزاب: 6) ترجمہ: نبی کی ذات مومنوں کے لیے اپنی جانوں سے بھی مقدم ہے۔

حدیث مبارکہ:تم میں سے کوئی اس وقت تک کامل مومن نہیں ہو سکتا جب تک اس کے نز دیک اس کی اولاد اور اس کے ماں باپ اور تمام انسانوں سے زیادہ میں محبوب نہ ہو جاؤں۔(بخاری)

5۔ آپ کا دفاع کرنا:تمام اہل ایمان پر لازم ہے کہ رسول ﷺ کی عزت و ناموس کا دفاع کرے۔اللہ پاک نے حضور کی حفاظت کی ذمہ داری خود لی ہے۔ارشاد ربانی ہے: فَسَیَكْفِیْكَهُمُ اللّٰهُۚ-وَ هُوَ السَّمِیْعُ الْعَلِیْمُؕ(۱۳۷) (پ 1، البقرۃ: 137) ترجمہ: پس اللہ کافی ہے آپ کی طرف سے اور وہی سننے والا اور جاننے والا ہے۔

جان ہے عشق ِمصطفےروز فزوں کرے خدا جس کو ہو درد کا مزہ ناز ِدوا اٹھائے کیوں


حضور نبی کریم ﷺ کو اپنی امت سے جو بے پناہ محبت اور اس کی نجات و مغفرت کی فکر اور ایک ایک امتی پر آپ کی شفقت و محبت کی جو کیفیت ہے اس پر قرآن میں خداوند قدوس کا فرمان گو اہ ہے: لَقَدْ جَآءَكُمْ رَسُوْلٌ مِّنْ اَنْفُسِكُمْ عَزِیْزٌ عَلَیْهِ مَا عَنِتُّمْ حَرِیْصٌ عَلَیْكُمْ بِالْمُؤْمِنِیْنَ رَءُوْفٌ رَّحِیْمٌ(۱۲۸) (پ 11، التوبۃ:128) ترجمہ کنز الایمان: بے شک تمہارے پاس تشریف لائے تم میں سے وہ رسول جن پر تمہار ا مشقت میں پڑنا گراں ہے تمہاری بھلائی کے نہایت چاہنے والے مسلمانوں پر کمال مہربان مہربان۔

ہمارے پیارے نبی ﷺ پوری پوری راتیں جاگ کر عبادت میں مصروف رہتے اور امت کی مغفرت کے لیے دربار باری میں انتہائی بے قراری کے ساتھ گریہ و زاری فرماتے رہتے یہاں تک کہ کھڑے کھڑے اکثر آپ کے پائے مبارک میں ورم آجاتا، لہٰذا حضور نبی کر یم ﷺ نے جو مشقتیں اٹھائیں ان کا تقاضا ہے کہ امت پر حضور ﷺ کے کچھ حقوق ہیں جن کو ادا کرنا ہر امتی پر فرض و واجب ہے۔

حق کی تعریف:حق کا معنی اصل میں مطابقت اور ہم آہنگی ہے۔اسی لیے جو چیز واقعیت سے مطابقت رکھتی ہے اُسے حق کہتےہیں۔

حضور ﷺ کے حقوق: حضرت علامہ قاضی عیاض رحمۃ اللہ علیہ نے آپ ﷺ کے مقدس حقوق کو اپنی کتاب شفاء شریف میں بہت ہی مفصل طور پر بیان فرمایا ہے۔ یہاں چند کا ذکر کیاگیا ہے:

1-ایمان بالرسول: حضور اقدس ﷺ کی نبوت و رسالت پر ایمان لانا اور جو کچھ آپ اللہ پاک کی طرف سے لائے ہیں، صدقِ دل سے اس کو ماننا ہر امتی پر فرض عین ہے اور ہر مومن کا اس پر ایمان ہےکہ بغیر رسول پر ایمان لائے ہرگز ہرگز کوئی مسلمان نہیں ہو سکتا۔ فرمان خداوندی ہے: وَ مَنْ لَّمْ یُؤْمِنْۢ بِاللّٰهِ وَ رَسُوْلِهٖ فَاِنَّاۤ اَعْتَدْنَا لِلْكٰفِرِیْنَ سَعِیْرًا(۱۳) (پ26،الفتح:13)ترجمہ: جو اللہ اور اس کے رسول پر ایمان نہ لائے تو یقیناً ہم نے کافروں کے لئے بھڑکتی ہوئی آگ تیار کر رکھی ہے۔ اس آیت سے معلوم ہوا !جو لوگ اللہ پاک پر ایمان لائیں اور عمر بھر اس کا ڈنکا بجاتےر ہیں لیکن حضور ﷺ کی رسالت کا انکار کریں تودہ کا فر ہی رہیں گے۔ (الشفاء،2/3-2 ملخصاً)

ایمان ہے قالِ مصطفائی قرآن ہے حالِ مصطفائی

2-اتباعِ سنتِ رسول: حضور ﷺ کی سیرت مبارکہ اور آپ کی سنتِ مقدسہ کی اتباع اور پیروی ہر مسلمان پر لازم و واجب ہے۔ فرمان خداوندی: قُلْ اِنْ كُنْتُمْ تُحِبُّوْنَ اللّٰهَ فَاتَّبِعُوْنِیْ یُحْبِبْكُمُ اللّٰهُ وَ یَغْفِرْ لَكُمْ ذُنُوْبَكُمْؕ-وَ اللّٰهُ غَفُوْرٌ رَّحِیْمٌ(۳۱) (پ 3،اٰل عمران: 31)ترجمہ کنز الایمان: اے محبوب تم فرما دو کہ لوگو اگر تم اللہ کو دوست رکھتے ہو تو میرے فرمانبردار ہو جاؤ اللہ تمہیں دوست رکھے گا اور تمہارے گناہ بخش دے گا اور اللہ بخشنے والا مہربان ہے۔ اس لیے آسمان امت کے چمکتے ستارے، ہدایت کے چاند تارے، اللہ ورسول کے پیارے صحا بہ کرام رضی اللہ عنہم آپ کی ہر سنت کو اپناتے تھے۔

صدیقِ اکبر رضی اللہ عنہم کی آخری تمنا:امیر المومنین حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ نے اپنی وفات سے چند گھنٹے پہلے ام المومنین حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے دریافت فرمایا کہ رسول اللہ ﷺ کے کفن مبارک میں کتنے کپڑے تھے اور آپ کی وفات کس دن ہوئی ؟اس سوال کی وجہ یہ تھی کہ آپ کی یہ انتہائی تمناتھی کہ زندگی کے تمام لمحات میں اور تمام معاملات میں حضور ﷺ کی مبارک سنتوں کی مکمل طور پر اتباع کی ہے۔ مرنے کے بعد کفن اور وفات کے دن میں بھی مجھے آپﷺکی اتباعِ سنت نصیب ہو جائے۔( بخاری، 1/186 )

دہن میں زباں تمہارے لیے بدن میں ہے جاں تمہارے لیے

ہم آئے یہاں تمہارے لیے اٹھیں بھی وہاں تمہارے لیے

3۔ درود شریف پڑھنا:ہر مسلمان پر واجب ہے کہ وہ حضور نبیِ کریم ﷺ پر درود شریف پڑھتا رہے۔ خالقِ کا ئنات کا حکم ہے: اِنَّ اللّٰهَ وَ مَلٰٓىٕكَتَهٗ یُصَلُّوْنَ عَلَى النَّبِیِّؕ-یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا صَلُّوْا عَلَیْهِ وَ سَلِّمُوْا تَسْلِیْمًا(۵۶) (پ 22، الاحزاب: 56) ترجمہ کنز الایمان: بےشک اللہ اور اس کے فرشتے درود بھیجتے ہیں اس غیب بتانے والے (نبی) پر اے ایمان والو ان پر درود اور خوب سلام بھیجو۔ فرمانِ مصطفٰے ﷺ:جو مجھ پر ایک بار درود شریف بھیجتا ہے اللہ پاک اس پر دس مرتبہ درود شریف (رحمت) بھیجتا ہے۔(مسلم، ص 216)

اور کوئی غیب کیا تم سے نہاں ہو بھلا جب نہ خدا ہی چھپا تم پہ کروروں درود

4۔ مدحِ رسول:ہم پر یہ بھی حق ہے کہ حضور باعثِ تخلیقِ کائناتﷺ کی مدح و ثنا،تعریف و توصیف، نعت و منقبت،ذکرِ سیرت و سنن و احوال و خصائص و شمائل ِمصطفٰے اور بیانِ حسن و جمال کو دل و جان سے زیادہ پسند کریں۔تمام انبیا و مرسلین علیہم السلام نے حضور کی عظمت و شان بیان فرمائی۔اللہ پاک نے حضور کی مدح بیان فرمائی ہے۔ امامِ عشق و محبت اعلیٰ حضرت فرماتے ہیں:

ہے کلامِ الٰہی میں شمس وضحیٰ ترے چہرۂ نور فزا کی قسم قسمِ شب ِتار میں راز یہ تھا کہ حبیب کی زُلفِ دوتا کی قسم

یہی بولے سدرہ والے چمنِ جہاں کے تھالے سبھی میں نے چھان ڈالے ترے پائے کا نہ پایا

تجھےیک نے یک بنایا

اے رضا خود صاحبِ قرآں ہے مدّاحِ حضور تجھ سے کب ممکن ہے پھر مدحت رسول اللہ کی

4۔ محبتِ رسول: ہرامتی پر حق ہے کہ وہ دنیا کی ہر چیز سے بڑھ کر اپنے آقا و مولیٰ،سید المرسلین، رحمۃ للعالمین ﷺ سے سچی محبت کرے کہ حضور ﷺکی محبت روحِ ایمان، جانِ ایمان اور اصل ِایمان ہے۔

جان ہے عشقِ مصطفٰے روز فزوں کرے خدا جس کو ہو درد کا مزہ نازِ دواا ُ ٹھائے کیوں

عشقِ على المرتضیٰ: حضرت علی رضی اللہ عنہ سے کسی نے سوال کیا کہ آپ کو رسول ﷺ سے کتنی محبت ہے؟ تو آپ نے فرمایا:خدا کی قسم!حضور ﷺ ہمارے حال، ہماری اولاد،ہمارے باپ،ہماری ماں اور سخت پیاس کے وقت پانی سے بڑھ کر ہمارے نزدیک محبوب ہیں۔(شفاء، 3/ 18)

کروں تیرے نام پہ جاں فدا نہ بس ایک جاں دو جہاں فدا دو جہاں سے بھی نہیں جی بھرا کروں کیا کر وڑوں جہاں نہیں

اللہ پاک ہمیں اپنے حبیب ﷺ کا حقیقی عشق عطا فرمائے اور ہمارا جینا اور مرنا اللہ و رسول کے لیے ہو اور اپنے حبیب کی غلامی میں ایمان پر خاتمہ نصیب فرمائے۔

بخدا خدا کا یہی ہے در نہیں اور کوئی مفر مقر جو وہاں سے ہو یہیں آ کے ہو جو یہاں نہیں وہ وہاں نہیں


حضور ﷺ کے اپنی امت پر بے شمار احسانات کے ساتھ ساتھ حقوق بھی ہیں۔ اگر چہ آقا ﷺ کے حقوق پورے کرنا انسان کے بس کی بات  نہیں مگر اپنی طرف سے ہمیں کو تا ہی نہیں کرنی چاہیے۔ اگر بندہ آقا ﷺ پر اپنی سانسو ں کی تعداد کے برابر درودِ پاک پڑھے تو بھی آپ کا حق ادا نہ کر سکے گا۔

حق: کسی کو وہ چیز دینا جو اس چیز کا مستحق ہو حق کہلاتا ہے۔حضورﷺ کے جو اپنی امت پر حقوق ہیں وہ پیشِ خدمت ہیں:

ایمان بالرسول: آپ ﷺ کی نبوت و رسالت پر ایمان لانا فرض ہے۔ آپ جو کچھ اللہ پاک کی طرف سے لائے ہیں اس کی تصدیق فرض ہے۔ ایمان بالرسول کے بغیر کوئی شخص مسلمان نہیں کہلا سکتا۔ قرآنِ مجید میں ارشادِ باری ہے: وَ مَنْ لَّمْ یُؤْمِنْۢ بِاللّٰهِ وَ رَسُوْلِهٖ فَاِنَّاۤ اَعْتَدْنَا لِلْكٰفِرِیْنَ سَعِیْرًا(۱۳) (پ26،الفتح:13)ترجمہ: جو اللہ اور اس کے رسول پر ایمان نہ لائے تو یقیناً ہم نے کافروں کے لئے بھڑکتی ہوئی آگ تیار کر رکھی ہے۔اس آیت میں بتا دیا گیا ہے کہ جو ایمان با للہ اور ایمان بالرسول کا جامع نہ ہو وہ کافر ہے۔

اطاعتِ رسول:حضور ﷺ کی اطاعت واجب ہے۔ آپ کے احکامات کی تعمیل اور جن سے آپ نے منع فرمایا ہے،ان سے اجتناب لازم ہے۔ قرآنِ پاک میں ارشادِ باری ہے:اور جو کچھ رسول تمہیں عطا فر مائیں وہ لو اور جس سے منع فرمائیں باز رہو اور اللہ سے ڈرو بیشک اللہ کا عذاب سخت ہے۔ اسے چاہیے کہ بے چون و چراں آقاﷺ کی اطاعت کرے۔

اتباعِ رسول: حضور ﷺ کی اقتداء و اِتِّباع واجب ہے۔ قرآنِ مجید آپ کی اتباع کی تائید یوں فرماتا ہے: قُلْ اِنْ كُنْتُمْ تُحِبُّوْنَ اللّٰهَ فَاتَّبِعُوْنِیْ یُحْبِبْكُمُ اللّٰهُ وَ یَغْفِرْ لَكُمْ ذُنُوْبَكُمْؕ-وَ اللّٰهُ غَفُوْرٌ رَّحِیْمٌ(۳۱) (پ 3،اٰل عمران: 31) ترجمہ کنز الایمان: اے محبوب تم فرما دو کہ لوگو اگر تم اللہ کو دوست رکھتے ہو تو میرے فرمانبردار ہو جاؤ اللہ تمہیں دوست رکھے گا اور تمہارے گناہ بخش دے گا اور اللہ بخشنے والا مہربان ہے۔ اس آیت سےظاہر کہ آپ کسی کام کی طرف بلائیں تو آپ کی اتباع لازم ہے کیونکہ آپ جس کام کی طرف بلاتے ہیں وہ ہمارے حق میں بہتر ہوتا ہے اور اس میں ہماری نجات ہے۔ اس لیے واجب ہے کہ آپ کی اتباع کی جائے۔

عشقِ رسول: رسول الله ﷺکے حقوق میں سے ایک حق آپ سے محبت کرنا ہے۔آپ سے محبت واجب قرار دی گئی ہے نیز آپ کی محبت کے بغیر ایمان کی تکمیل ممکن نہیں۔ قرآنِ مجید آپ کی محبت کا یوں اقرار کرتا ہے: قُلْ اِنْ كَانَ اٰبَآؤُكُمْ وَ اَبْنَآؤُكُمْ وَ اِخْوَانُكُمْ وَ اَزْوَاجُكُمْ وَ عَشِیْرَتُكُمْ وَ اَمْوَالُ اﰳقْتَرَفْتُمُوْهَا وَ تِجَارَةٌ تَخْشَوْنَ كَسَادَهَا وَ مَسٰكِنُ تَرْضَوْنَهَاۤ اَحَبَّ اِلَیْكُمْ مِّنَ اللّٰهِ وَ رَسُوْلِهٖ وَ جِهَادٍ فِیْ سَبِیْلِهٖ فَتَرَبَّصُوْا حَتّٰى یَاْتِیَ اللّٰهُ بِاَمْرِهٖؕ-وَ اللّٰهُ لَا یَهْدِی الْقَوْمَ الْفٰسِقِیْنَ۠(۲۴) (پ10، التوبۃ:24) ترجمہ: (اے رسول )آپ فرما دیجیے اگر تمہارے باپ اور تمہارے بیٹے اور تمہارے بھائی اور تمہاری عورتیں اور تمہارا کنبہ اور تمہاری کمائی کے مال اور وہ سودا جس کے نقصان کا تمہیں ڈر ہے اور تمہارے پسند یدہ مکان یہ چیزیں اللہ اور اس کے رسول اور اس کی راہ میں لڑنے سے زیادہ پیاری ہوں تو راستہ دیکھو یہاں تک کہ اللہ اپنا حکم لائے اور الله فاسقوں کو راہ نہیں دیتا۔ اس آیت سے ثابت ہوا کہ اللہ و رسول ﷺکی محبت واجب ہے اور ان کی محبت پر غیر کی محبت کو تر جیح نہیں دینی چاہیے۔ آیت کے اخیر حصے سے ظاہر ہے کہ جس کو اللہ و رسولﷺ سے محبت نہیں وہ فاسق ہے۔

تعظیم ِرسول: تعظیم بھی آقا ﷺ کے حقوق میں سے ہے۔قرآنِ پاک میں آپ کی تعظیم کایوں ذکر ہے: یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لَا تُقَدِّمُوْا بَیْنَ یَدَیِ اللّٰهِ وَ رَسُوْلِهٖ وَ اتَّقُوا اللّٰهَؕ-اِنَّ اللّٰهَ سَمِیْعٌ عَلِیْمٌ(۱) (پ 26، الحجرات:1) اے ایمان والو اللہ اور اس کے رسول سے آگے نہ بڑھو اور اللہ سے ڈرو بے شک الله سننے والا جاننے والا ہے۔ اس آیت سے ثابت ہوا کہ آقا ﷺ کی تعظیم و توقیر واجب ہے۔ حضورﷺکی تعظیم کوئی صحابہ کرام علیہم الرضوان سے سیکھے۔ صحابہ کرام آپ کی مجلس میں اس طرح بیٹھتے گویا کہ ان کے سروں پر پرندے بیٹھے ہیں۔ یہ حضرت عثمان ِغنی رضی اللہ عنہ کے ادب کی حد تھی کہ انہوں نے آپ کے بغیر عمرہ کرنا مناسب نہ سمجھا اور کہا کہ میں آقا ﷺ کے بغیر عمرہ نہ کروں گا۔ نیز جس ہاتھ سے رسول ﷺ سے بیعت کی وہ ہاتھ بھی اپنی شرمگاہ پر نہ رکھا۔ صحابہ کرام علیہم الرضوان اس قدر با ادب تھے کہ اگر انہیں غسل کی حاجت ہوتی تو وہ بغیر غسل کیے آپ کی خدمت میں حاضر نہ ہوتے۔صحابہ کرام علیہم الرضوان کے صدقے اللہ پاک ہمیں آقا ﷺ کی تعظیم کرنے اور آپ کے حقوق پورے کرنے کی توفیق عطافرمائے۔آمین 


امت کے غم خوار آقا ﷺنے انسانیت کی ہدایت و اصلاح اور فلاح کیلئے بے شمار تکالیف برداشت فرمائیں۔ آپ ﷺ امت کی مغفرت کیلئے دربار الٰہی میں انتہائی بے قراری کے ساتھ گر یہ وزاری فرماتے رہتے۔ حضور ﷺ نے اپنی امت کیلئے جو مشقتیں اٹھائیں ان کا تقاضا یہ ہے کہ امت پر آپ کے کچھ حقوق ہیں جن کو ادا کرنا ہر امتی پر فرض و واجب ہے۔حضرت علامہ قاضی عیاض رحمۃ اللہ علیہ  نےآپ کے مقدس حقوق اپنی کتاب شفاء شریف میں بہت تفصیل سے بیان فرمائے ہیں۔ ان میں سے5حقوق کو انتہائی مختصر طور پر پیش کرتی ہوں:

1-ایمان بالرسول: نبی کریم ﷺ کا سب سے بڑا حق امت پر یہ ہے کہ امت حضورﷺ کی نبوت و رسالت پر ایمان لائے اور جو کچھ آپ اپنے رب کے پاس سے لائے ہیں اس پر ایمان لائے۔ ہر مومن کا اس پر ایمان ہے کہ بغیر رسول ﷺ پر ایمان لائے کوئی ہرگز ہرگز مسلمان نہیں ہو سکتا۔ قرآن ِپاک میں اللہ پاک کا فرمان ہے: وَ مَنْ لَّمْ یُؤْمِنْۢ بِاللّٰهِ وَ رَسُوْلِهٖ فَاِنَّاۤ اَعْتَدْنَا لِلْكٰفِرِیْنَ سَعِیْرًا(۱۳) (پ26، الفتح:13)ترجمہ: جو اللہ اور اس کے رسول پر ایمان نہ لائے تو یقیناً ہم نے کافروں کے لئے بھڑکتی ہوئی آگ تیار کر رکھی ہے۔اس آیت میں نہایت وضاحت کے ساتھ بیان فرما دیا کہ جو لوگ رسول کی رسالت پر ایمان نہیں لائیں گے وہ اگر چہ خداکی توحید کا عمر بھر ڈنکا بجاتے رہیں مگر وہ کافر ہیں۔ ( سیرتِ مصطفیٰ ماخوذا)

یہ بھی جان لیں کہ ایمان کی اصل حضور ﷺ کو جان و دل سے ماننا ہے جیسا کہ مفتی احمد یار خان نعیمی رحمۃ اللہ علیہ اپنی کتاب”علم القرآن “میں فرماتے ہیں کہ اصطلاحِ قرآن میں ایمان کی اصل جس پر تمام عقیدوں کا دار و مدار ہے وہ یہ ہے کہ بندہ حضور کو دل سے اپنا حاکمِ مطلق مانے، اپنے کو ان کا غلام تسلیم کرے کہ مومن کی جان، اولاد، مال سب حضور کی ملک ہیں۔(علم القرآن، ص 23)

ثابت ہوا کہ جملہ فرائض فروع ہیں اصل الاصول بندگی اس تاجور کی ہے

2-اتباعِ سنتِ رسول:دوسرا حق اتباعِ سنتِ رسول ہے۔آپ کی سیرتِ مبارکہ اور سنتِ مقدمہ کی اتباع اور پیروی ہر مسلمان پر لازم و واجب ہے۔ اس کا شاہد قرآنِ پاک ہے۔ چنانچہ ارشادِ باری ہے: قُلْ اِنْ كُنْتُمْ تُحِبُّوْنَ اللّٰهَ فَاتَّبِعُوْنِیْ یُحْبِبْكُمُ اللّٰهُ وَ یَغْفِرْ لَكُمْ ذُنُوْبَكُمْؕ-وَ اللّٰهُ غَفُوْرٌ رَّحِیْمٌ(۳۱) (پ 3،اٰل عمران: 31)ترجمہ کنز الایمان: اے محبوب تم فرما دو کہ لوگو اگر تم اللہ کو دوست رکھتے ہو تو میرے فرمانبردار ہو جاؤ اللہ تمہیں دوست رکھے گا اور تمہارے گناہ بخش دے گا اور اللہ بخشنے والا مہربان ہے۔

صحابہ کرام آپ کی ہر سنتِ کریمہ کی اتباع فرماتے اور بال برابر بھی اپنے پیارے آقا ﷺ کی سنتوں سے انحراف نہ فرماتے چنانچہ ایک دفعہ حضرت عبدُ الله بن عمر رضی اللہ عنہما ایک جگہ اپنی اونٹنی کو چکر لگوا رہے تھے؛ لوگوں نے ان سے اس کا سبب پوچھا تو فرمایا: میں (ا س کی حکمت) نہیں جانتا مگر حضور ﷺ کو میں نے اس جگہ ایسا کرتے دیکھا تھا۔ اس لیے میں بھی ایسا کر رہا ہوں۔(شفاء)

کاش !ہمارا بھی اٹھنا، بیٹھنا، کھانا، پینا، سونا جاگنا الغرض ہر کام سنتِ مصطفٰے کے مطابق ہو جائے۔ آمین

3- محبتِ رسول: تیسرا حق محبتِ رسول ہے۔ہرامتی پر رسول اللہ ﷺ کا حق ہے کہ وہ سارے جہاں سے بڑھ کر آپ سے محبت رکھے اور ساری دنیا کی محبوب چیزوں کو آپ کے قدموں تلے قربان کردے نیز ہر مسلمان پر اللہ اور اس کے رسول ﷺ کی محبت فرضِ عین ہے۔(از سیرتِ مصطفیٰ،ص549)چنانچہ حضور ﷺنے فرمایا:تم میں سے کوئی اس وقت تک مومن نہیں ہو سکتا جب تک میں اس کے نزدیک اس کے باپ،اس کی اولاد اور تمام لوگوں سے بڑھ کر محبوب نہ ہو جاؤں۔(بخاری،1/7)

صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کو حضور ﷺ سے بے پناہ محبت تھی چنانچہ ایک دفعہ حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کا پاؤں مبارک سُن ہو گیا ؛لوگوں نے بطور علاج انہیں بتایا کہ تمام دنیا میں آپ کو سب سے زیادہ جس سے محبت ہے اسے پکاریے تویہ مرض جاتا رہے گا۔ یہ سن کر آپ نے ”یا محمد ﷺ،یا محمد ﷺ کا نعرہ بلند کیا اور آپ کا پاؤں اچھا ہو گیا۔

محمد کی محبت دینِ حق کی شرطِ اول ہے اسی میں ہو اگر خامی تو سب کچھ نا مکمل ہے

4-تعظیمِ رسول: اُمت پر ایک نہایت ہی اہم اور بڑا حق یہ ہے کہ ہر امتی پر فرضِ عین ہے کہ آپ اور آپ سے نسبت رکھنے والی ہر چیز کی تعظیم و توقیر کرے۔ دنیا کے شہنشاہوں کا اصول ہے کہ وہ اپنی تعظیم کے اصول اور اپنے دربار کے آداب خود بناتے ہیں۔لیکن کائنات میں ایک شہنشاہ ایسا ہے جس کے دربار کا عالم ہی نرالہ ہے۔ ا س کی تعظیم اور اس کی بارگاہ میں ادب واحترام کے اصول نہ تو خود اُس نے بنائے، نہ مخلوق میں کسی اور نے بلکہ تمام بادشاہوں کے بادشاہ رب کریم نے نازل فرمائے ہیں۔ وہ عظیم شہنشاہ، مالک و مختار ﷺ ہیں۔چنانچہ ارشادِ باری ہے: لَا تَجْعَلُوْا دُعَآءَ الرَّسُوْلِ بَیْنَكُمْ كَدُعَآءِ بَعْضِكُمْ بَعْضًاؕ-(پ 18، النور: 63) ترجمہ کنز الایمان:(اے لوگو )رسول کے پکارنے کو آپس میں ایسا نہ بنالو جیسے تم میں سے کوئی دوسرے کو پکارتا ہے۔

صحابہ کرام رضی اللہ عنہم جب آپ ﷺ سے کلام کرتے تو سلام کے بعد یوں کہتے” میرے ماں باپ آپ پر فدا ہوں “یا کہتے ” میری جان آپ پر نثار ہے۔“ صحابہ کرام حضور ﷺ کی بارگاہ میں یوں بیٹھتے گویا کہ اُن کے سروں پر پرندے بیٹھے ہوئے ہوں۔ الفرض صحابہ کرام آپ کی شاہکار تعظیم اور بے مثال ادب و احترام فرماتے۔ اللہ پاک اُن کے صدقے ہمیں بھی حضور ﷺ کا ادب و احترام کرتے رہنے کی توفیق عطا فرمائے۔ (صراط الجنان،9/347مفہوماً)

5-درود شریف:امت پر حضور ﷺ کے حقوق میں سے ایک حق آپ ﷺپر درودِ پاک پڑھنا بھی ہے۔چنانچہ رب کریم خود قرآنِ پاک میں اپنے حبیب ﷺپر درود پاک پڑھنے کا حکم فرماتا ہے۔ ارشاد باری ہے: اِنَّ اللّٰهَ وَ مَلٰٓىٕكَتَهٗ یُصَلُّوْنَ عَلَى النَّبِیِّؕ-یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا صَلُّوْا عَلَیْهِ وَ سَلِّمُوْا تَسْلِیْمًا(۵۶) (پ 22، الاحزاب: 56) ترجمہ کنز الایمان: بےشک اللہ اور اس کے فرشتے درود بھیجتے ہیں اس غیب بتانے والے (نبی) پر اے ایمان والو ان پر درود اور خوب سلام بھیجو۔ حضور ﷺنے فرمایا: جو مجھ پر ایک مرتبہ درودِ پاک پڑھتا ہے اللہ پاک اُس پر دس رحمتیں نازل فرماتا ہے۔

پیارے آقاﷺ کی شانِ محبوبیت کا کیا کہنا! ایک حقیر و ذلیل بندہ خدا کے پاک پیغمبر ﷺ کی بارگاہ میں درودِ پاک کا ہدیہ بھیجتا ہے تو اللہ پاک اس پر رحمتیں نازل فرماتا ہے۔اللہ ہمیں بھی کثرت کے ساتھ درودِ پاک پڑھنے کی توفیق عطا فرمائے۔آمین

کعبہ کے بدرُ الدُّجی ٰتم پہ کروروں درود طیبہ کے شمس ُالضحیٰ تم پر کروروں درود


الحمد للہ ہم مسلمان ہیں اور بہت ہی خوش قسمت ہیں کہ ہم پیارے آقا  محمد مصطفٰے ﷺ کے امتی ہیں۔ پیارے آقا محمد ﷺ اللہ کے آخری نبی اور رسول ہیں۔ حضرت محمد ﷺ کی ہم آخری امت ہیں۔ امتی ہونے پر جتنا شکر ادا کریں کم ہے۔ پیدا ہوتے ہی امت کی بخشش کی دعائیں کیں تو ہم امتیوں پر بھی تو بہت سارے حق ہیں۔اگر یہ کہا جائےکہ ہماری زندگی، ہماری سانسیں، ہمارے ہر ہر لمحے انہی کی عنایت ہیں تو بالکل بھی غلط نہیں ہوگا۔ ہم پیارے آقاﷺ کی پیاری پیاری سنتوں پر عمل کر کے کچھ تو حق ادا کر سکتی ہیں۔ راہِ حق دکھانے والے پیارے آقاﷺ ہی ہیں۔ قبر و حشر کا ڈر سنانے والے اور اللہ پاک کی معرفت کروانے والے بھی پیارے آقاﷺ ہی ہیں۔ اللہ پاک رحمن و رحیم ہے، یہ بھی بتانے والے اور اللہ پاک قہار و جبار ہے، یہ بھی بتانے والے پیارے آقا ﷺہی ہیں۔ ہمیں ڈر و خوشخبری سنانے والے ہمارے آقا، مدنی مصطفٰے ﷺ ہی ہیں۔ارشادِباری ہے: اِنَّاۤ اَرْسَلْنٰكَ شَاهِدًا وَّ مُبَشِّرًا وَّ نَذِیْرًاۙ(۸) لِّتُؤْمِنُوْا بِاللّٰهِ وَ رَسُوْلِهٖ وَ تُعَزِّرُوْهُ وَ تُوَقِّرُوْهُؕ- (پ 26، الفتح: 8- 9) ترجمہ کنز الایمان: بےشک ہم نے تمہیں بھیجا حاضر و ناظر اور خوشی اور ڈر سناتا تاکہ اے لوگو تم اللہ اور اس کے رسول پر ایمان لاؤ اور رسول کی تعظیم و توقیرکرو۔

تفسیر:یہ آیتِ مبارکہ رسولِ کریم ﷺ کی عظمت و شان،مقام و منصب، امّت پر لازم حقوق اور اللہ پاک کی تسبیح و عبادت کے بیان پر مشتمل ہے۔اس کا خلاصہ یہ ہے کہ اے نبی!ہم نے تمہیں امت کے اعمال پر گواہ، اہلِ ایمان و اطاعت کو خوشخبری دینے اور کافر و نافرمان کو اللہ پاک کی گرفت اور عذاب کا ڈر سنانے والابنا کر بھیجا ہےتاکہ اے لوگو!تم اللہ پاک اور ا س کے رسول پر ایمان لاؤاور رسول کی نصرت و حمایت اور تعظیم و توقیر کرو اور صبح و شام اللہ پاک کی پاکی بیان کرو۔(تفسیر خازن،4/103)

امّت پر نبیِ کریم ﷺ کے حقوق کے پہلو سے اِس آیتِ کریمہ کو دیکھا جائے تو اس میں اللہ پاک نے آپ کے تین حقوق بیان فرمائے ہیں:ایمان،نصرت و حمایت اورتعظیم و توقیر۔یہاں ان تینوں حقوق کو کچھ تفصیل سے بیان کرکے مزید چند حقوق بیان کئے جائیں گے تاکہ علم میں اضافہ اور عمل کی توفیق ہو:

1۔ ایمان:محمدِ مصطفٰے ﷺ کی نبوت و رسالت پر ایمان رکھنا فرض ہے اوریونہی ہر اس چیز کو تسلیم کرنابھی لازم و ضروری ہے جو آپ اللہ پاک کی طرف سے لائے ہیں۔یہ حق صرف مسلمانوں پر نہیں بلکہ تمام انسانوں پر لازم ہے،کیونکہ آپ تمام انسانوں کے لیے رسول ہیں اور آپ کی رحمت تمام جہانوں کےلیے اور آپ کے احسانات تمام انسانوں بلکہ تمام مخلوقات پر ہیں۔ جویہ ایمان نہ رکھے وہ مسلمان نہیں، اگرچہ وہ دیگرتمام انبیا علیہم السلام پرایمان رکھتا ہو۔

2۔ رسول اللہ کی نصرت و حمایت:اللہ پاک نے روزِ میثاق تمام انبیا و مرسلین علیہم السلام سے اپنے حبیب ﷺ کی نصرت و مدد کا عہد لیا تھا اوراب ہمیں بھی آپ کی نصرت و حمایت کا حکم دیا ہے۔صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نےآپ کی تائید و نصرت میں جان، مال، وطن، رشتے دارسب کچھ قربان کردیا۔ دورانِ جنگ ڈھال بن کرپروانوں کی طرح آپ پر نثار ہوتے رہے۔فی زمانہ بھی آپ کی عزّت و ناموس کی حفاظت، آپ کی تعلیمات و دین کی بقا و ترویج کی کوشش اسی نصرت و حمایت میں داخل اور مسلمانوں پر لازم ہے۔

3۔ رسول اللہ کی تعظیم و توقیر: ایک انتہائی اہم حق یہ بھی ہے کہ دل و جان، روح و بدن اور ظاہر و باطن ہر اعتبار سے نبیِ کریم ﷺ کی تعظیم و توقیرکی جائے،بلکہ آپ سے نسبت و تعلّق رکھنے والی ہر چیزکا ادب و احترام کیا جائے جیسے نبیِ کریم ﷺ کے ملبوسات، نعلین شریفین، مدینہ طیبہ، مسجد ِ نبوی، گنبد ِ خضریٰ، اہل ِ بیت،صحابہ کرام اور ہر وہ جگہ جہاں پیارے آقا ﷺ کے پیارے پیارے قدم مبارک لگے، ان سب کی تعظیم کی جائے۔ادب و تعظیم میں یہ بھی داخل ہے کہ اپنی زبان و بدن اور اقوال و افعال میں امورِ تعظیم کو ملحوظ رکھے جیسے نام ِ مبارک سنے تو درود پڑھے، سنہری جالیوں کے سامنے ہو تو آنکھیں جھکالے اور دل کو خیال ِ غیر سے پاک رکھے، گنبد ِ خضری پر نگاہ اٹھے تو فوراً ہاتھ باندھ کر درود و سلام کا نذرانہ پیش کرے۔اسی ادب و تعظیم کا ایک نہایت اہم تقاضا یہ ہے کہ نبیِ کریم ﷺ کے گستاخوں اور بے ادبوں کو اپنے جانی دشمن سے بڑھ کر ناپسند کرے، ایسوں کی صحبت سے بچے، ان کی کتابوں کو ہاتھ نہ لگائے، ان کا کلام و تقریر نہ سنے، بلکہ ان کے سائے سے بھی دور بھاگے۔اگر کسی کو بارگاہِ نبوی میں ادنیٰ سی گستاخی کا مرتکب دیکھے تو اگرچہ وہ باپ یا استادیا پیر یا عالم ہویا دنیوی وجاہت والاکوئی شخص، اُسے اپنے دل و دماغ سے ایسے نکال باہر پھینکے جیسے مکھن سے بال اور دودھ سے مکھی کو باہر پھینکا جاتا ہے۔

مذکورہ بالا حقوق کے ساتھ ساتھ علما و محدثین نے اپنی کتب میں دیگر ’’حقوقِ مصطفٰے‘‘ کو بھی بڑی تفصیل کے ساتھ بیان کیا ہے، یہاں اختصار کے ساتھ مزید4حقوق ملاحظہ ہوں:

(1)رسول اللہ کی اِتِّباع:نبیِ کریم ﷺ کی سیرتِ مبارکہ اور سنتوں کی پیروی کرناہر مسلمان کے دین و ایمان کا تقاضا اور حکم ِ خداوندی ہے۔آسمانِ ہدایت کے روشن ستارے یعنی صحابہ کرام رضی اللہ عنہم اور سلف صالحین اپنی زندگی کے ہر قدم پر حضور پُر نور ﷺ کے طریقےپرچلنے کومقدم رکھتے اوراِتِّباع ِ نبوی سے ہرگز انحراف نہ کرتے۔ اِس اِتِّباع میں فرض و واجب امور بھی داخل ہیں اور مؤکد و مستحب چیزیں بھی۔ بزرگانِ دین دونوں چیزوں میں ہی کامل اِتِّباع کیا کرتے تھے، اسی لیے کتب ِ احادیث و سیرت میں صرف فرائض و واجبات کا بیان ہی نہیں بلکہ سنن و مستحبات اور آداب ومعاملات و معاشرت کا بھی پورا پورا بیان ملتا ہے۔

(2)رسول اللہ کی اطاعت: رسول اللہ ﷺ کا یہ بھی حق ہے کہ آپ کا ہرحکم مان کر اس کے مطابق عمل کیا جائے، جس بات کاحکم ہو اسے بجائے لائیں،جس چیز کا فیصلہ فرمائیں اسے قبول کریں اور جس چیز سے روکیں اُس سے رُکا جائے۔

(3)رسول اللہ سے سچی محبت:امّتی پرحق ہے کہ وہ دنیا کی ہر چیز سے بڑھ کراپنے آقا و مولیٰ ﷺ سے سچی محبت کرےکہ آپ ﷺ کی محبت روح ِ ایمان، جانِ ایمان اور اصل ِ ایمان ہے۔

(4)رسول اللہ کا ذکرِ مبارک و نعت:ہم پر یہ بھی حق ہے کہ سرور ِ موجوداتﷺ کی مدح و ثنا، تعریف و توصیف،نعت و منقبت، نشر ِ فضائل و کمالات، ذکرِ سیرت وسنن و احوال وخصائل و شمائل ِ مصطفٰے اوربیانِ حسن و جمال کو دل و جان سے پسند بھی کریں اوراِن اذکار ِ مبارکہ سے اپنی مجلسوں کو آراستہ کرتے ہوئے اپنی زندگی کا معمول بھی بنالیں۔ قرآنِ پاک رسولِ کریم ﷺ کےفضائل و محاسن اور شان و مرتبہ کے ذکرِ مبارک سے معمور ہے۔تمام انبیا و مرسلین علیہم السلام حضور سیدالمرسلین ﷺ کی عظمت و فضیلت بیان فرماتے رہے۔ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کےلیے ذکر و نعت ِ مصطفٰے وظیفۂ زندگی اور حرز ِ جان تھا۔دورِ صحابہ سے آج تک یہ سلسلہ جاری و ساری ہے اور آپ ﷺ کے خوش نصیب مداحوں نے نظم ونثر کی صورت میں اتنی نعتیں لکھ دی ہیں کہ اگر انہیں ایک جگہ کتابی صورت میں جمع کیا جائے تو بلا مبالغہ یہ ہزاروں جلدوں پر مشتمل دنیا کی سب سے ضخیم کتاب ہو گی۔ اللہ پاک ہمیں نبیِ پاک ﷺ کے تمام حقوق بجالاتے رہنے کی توفیق عطافرمائے۔


مصطفٰے جانِ رحمت پہ لاکھوں سلام                    شمعِ بزمِ ہدایت پہ لاکھوں سلام

حضور اقدس ﷺ نے اپنی امت کی ہدایت و اصلاح و فلاح کے لیے بہت سی تکلیفیں برداشت فرمائیں اور اس راہ میں آپ کو بہت سی مشکلات درپیش ہوئیں، مگر آپ کی اپنی امت سے بے پناہ محبت اور اس کی نجات و مغفرت کی فکر اور ایک ایک امتی پر آپ کی شفقت و رحمت تو دیکھئے کہ ساری ساری رات جاگ کر عبادت میں مصروف رہتے اور اپنی امت کی بخشش و مغفرت کے لیے دربار باری میں گریہ و زاری فرماتے رہتے یہاں تک کہ کھڑے کھڑے اکثر آپ کے پائے مبارک پر ورم آجاتا تھا۔

اشک شب بھر انتظارِ عفوِ اُمّت میں بہیں میں فِدا چاند اور یُوں اختر شماری واہ واہ

حق کے لغوی معنی صحیح،مناسب،درست،ٹھیک،موزوں،بجا،واجب،سچ،انصاف،جائز مطالبہ یا استحقاق کے ہیں۔اس طرح حق ایک ذومعنی لفظ ہے۔ ایک طرف یہ سچائی کی طرف اشارہ کرتا ہے اور دوسری جانب اس چیز کی طرف جسے قانوناً اور باضابطہ طور پر ہم اپنا کہہ سکتی ہیں یا اس کی بابت اپنی ملکیت کا دعویٰ کر سکتی ہیں۔ایک امتی ہونے کی حیثیت سے ہم پر حضور اقدس ﷺ کے کچھ حقوق ہیں اور حضور ﷺ کے ہم پر جو بھی احسانات ہیں ان کے پیش ِنظر ان حقوق کا ادا کرنا ہر امتی پر فرض و واجب ہے۔حضرت علامہ قاضی عیاض رحمۃ اللہ علیہ نے آپ کے مقدس حقوق کو اپنی کتاب شفا شریف میں تفصیل سے بیان فرمایا ہے، ان میں سے چند حقوق درج ذیل ہیں:

1۔ ایمان بالرسول: حضور اقدس ﷺ کی نبوت و رسالت پر ایمان لانا اور جو کچھ آپ اللہ پاک کی جانب سے لائے ہیں، صدقِ دل سے اس کو سچا ماننا ہر ہر امتی پر فرضِ عین ہے، قرآن پاک میں خداوند ِعالم کا فرمان ہے: وَ مَنْ لَّمْ یُؤْمِنْۢ بِاللّٰهِ وَ رَسُوْلِهٖ فَاِنَّاۤ اَعْتَدْنَا لِلْكٰفِرِیْنَ سَعِیْرًا(۱۳) (پ26،الفتح:13)ترجمہ: جو اللہ اور اس کے رسول پر ایمان نہ لائے تو یقیناً ہم نے کافروں کے لئے بھڑکتی ہوئی آگ تیار کر رکھی ہے۔اس آیت نے نہایت وضاحت اور صفائی کے ساتھ یہ فیصلہ کر دیا کہ جو لوگ رسول ﷺ کی رسالت پر ایمان نہیں لائیں گے وہ اگرچہ خدا کی توحید کا عمر بھر ڈنکا بجاتے رہیں مگر وہ کافر اور جہنمی ہی رہیں گے۔

2۔ اطاعتِ رسول: یہ بھی ہر امتی پر رسولِ خدا ﷺ کا حق ہے کہ ہر امتی ہر حال میں آپ کے ہر حکم کی اطاعت کرے اور آپ جس بات کا حکم دے دیں بال کے کروڑویں حصہ کے برابر بھی اس کی خلاف ورزی کا تصور بھی نہ کرے، کیونکہ آپ کی اطاعت اور آپ کے احکام کے آگے سر ِتسلیم خم کر دینا ہر امتی پر فرضِ عین ہے۔ قرآنِ مجید میں ارشادِ خداوندی ہے: وَ مَنْ یُّطِعِ اللّٰهَ وَ الرَّسُوْلَ فَاُولٰٓىٕكَ مَعَ الَّذِیْنَ اَنْعَمَ اللّٰهُ عَلَیْهِمْ مِّنَ النَّبِیّٖنَ وَ الصِّدِّیْقِیْنَ وَ الشُّهَدَآءِ وَ الصّٰلِحِیْنَۚ-وَ حَسُنَ اُولٰٓىٕكَ رَفِیْقًاؕ(۶۹) (پ 5، النساء: 69 ) ترجمہ کنزالایمان:اور جو اللہ اور اس کے رسول کا حکم مانے تو اُسے ان کا ساتھ ملے گا جن پر اللہ نے فضل کیا یعنی انبیا اور صدیق اور شہید اور نیک لوگ اور یہ کیا ہی اچھے ساتھی ہیں۔قرآنِ مجید کی یہ مقدس آیت اعلان کر رہی ہے کہ اطاعتِ رسول کرنے والوں ہی کے لیے ایسے ایسے بلند درجات ہیں کہ وہ حضرات انبیا و صدیقین اور شہدا و صالحین کے ساتھ رہیں گے۔

3۔ محبتِ رسول: اسی طرح ہر امتی پر رسول اللہ ﷺ کا حق ہے کہ وہ سارے جہان سے بڑھ کر آپ سے محبت رکھے اور ساری دنیا کی محبوب چیزوں کو آپ کی محبت کے قدموں پر قربان کردے۔ خداوند قدوس کا فرمان ہے: قُلْ اِنْ كَانَ اٰبَآؤُكُمْ وَ اَبْنَآؤُكُمْ وَ اِخْوَانُكُمْ وَ اَزْوَاجُكُمْ وَ عَشِیْرَتُكُمْ وَ اَمْوَالُ اﰳقْتَرَفْتُمُوْهَا وَ تِجَارَةٌ تَخْشَوْنَ كَسَادَهَا وَ مَسٰكِنُ تَرْضَوْنَهَاۤ اَحَبَّ اِلَیْكُمْ مِّنَ اللّٰهِ وَ رَسُوْلِهٖ وَ جِهَادٍ فِیْ سَبِیْلِهٖ فَتَرَبَّصُوْا حَتّٰى یَاْتِیَ اللّٰهُ بِاَمْرِهٖؕ-وَ اللّٰهُ لَا یَهْدِی الْقَوْمَ الْفٰسِقِیْنَ۠(۲۴) (پ10، التوبۃ:24)ترجمہ:(اے رسول )آپ فرمادیجیے اگر تمہارے باپ اور تمہارے بیٹے اور تمہارے بھائی اور تمہاری عورتیں اور تمہارا کنبہ اور تمہاری کمائی کے مال اور وہ سودا جس کے نقصان کا تمہیں ڈر ہے اور تمہارے پسند یدہ مکان یہ چیزیں اللہ اور اس کے رسول اور اس کی راہ میں لڑنے سے زیادہ پیاری ہوں تو راستہ دیکھو یہاں تک کہ اللہ اپنا حکم لائے اور الله فاسقوں کو راہ نہیں دیتا۔

اعلیٰ حضرت، امامِ اہلِ سنّت شاہ امام احمد رضا خان رحمۃُ اللہِ علیہ فرماتے ہیں: اس آیت سے معلوم ہوا کہ جسے دنیا جہان میں کوئی معزز، کوئی عزیز، کوئی مال، کوئی چیز اللہ و رسول سے زیادہ محبوب ہو،وہ بارگاہِ الٰہی سے مردود ہے، اسے اللہ پاک اپنی طرف راہ نہ دے گا، اسے عذابِ الٰہی کے انتظار میں رہنا چاہیے۔ وَالْعِیَاذُ بِاللّٰہِ ہمارے پیارے نبی ﷺفرماتے ہیں:تم میں کوئی مسلمان نہ ہوگا جب تک میں اسے اس کے ماں باپ،اولاد اور سب آدمیوں سے زیادہ پیارانہ ہوں۔(بخاری،1/ 17، حدیث: 15) اس نے تو بات صاف فرمادی کہ جو حضورِ اقدس ﷺ سے زیادہ کسی کو عزیز رکھے ہرگز مسلمان نہیں۔ (فتاویٰ رضویہ، 30/310-309)

4۔ تعظیمِ رسول: امت پر حضور ﷺ کے حقوق میں ایک نہایت ہی اہم اور بہت ہی بڑا حق یہ بھی کہ ہر امتی پر فرضِ عین ہے کہ حضور اکرم ﷺ اور آپ سے نسبت و تعلق رکھنے والی تمام چیزوں کی تعظیم و توقیر اور ان کا ادب و احترام کرے اور ہرگز ہرگز کبھی ان کی شان میں کوئی بے ادبی نہ کرے۔اللہ پاک کا فرمانِ والا شان ہے: اِنَّاۤ اَرْسَلْنٰكَ شَاهِدًا وَّ مُبَشِّرًا وَّ نَذِیْرًاۙ(۸) لِّتُؤْمِنُوْا بِاللّٰهِ وَ رَسُوْلِهٖ وَ تُعَزِّرُوْهُ وَ تُوَقِّرُوْهُؕ- (پ 26، الفتح: 8- 9) ترجمہ کنز الایمان: بےشک ہم نے تمہیں بھیجا حاضر و ناظر اور خوشی اور ڈر سناتا تاکہ اے لوگو تم اللہ اور اس کے رسول پر ایمان لاؤ اور رسول کی تعظیم و توقیرکرو۔اللہ پاک کی بارگاہ میں اس کے حبیب ﷺ کا ادب و تعظیم انتہائی مطلوب ہے اور ان کا ادب و تعظیم نہ کرنا اللہ پاک کی بارگاہ میں  انتہائی سخت ناپسندیدہ ہے حتّٰی کہ اس پر سخت وعیدیں بھی ارشاد فرمائی ہیں۔اسی سے معلوم ہوا کہ سیّد المرسلین ﷺ کا ادب وتعظیم کرنا شرک ہر گز نہیں  ہے۔ جو لوگ اسے شرک کہتے ہیں  ان کا یہ کہنا مردود ہے۔اعلیٰ حضرت، امام احمد رضا خان رحمۃ اللہ علیہ کیا خوب فرماتے ہیں:

شرک ٹھہرے جس میں  تعظیمِ حبیب اس بُرے مذہب پہ لعنت کیجئے

5۔ درود شریف: ہر مسلمان کو چاہیے کہ رسول اللہ ﷺ پر درود شریف پڑھتا رہے۔ چنانچہ خالقِ کائنات کا حکم ہے: اِنَّ اللّٰهَ وَ مَلٰٓىٕكَتَهٗ یُصَلُّوْنَ عَلَى النَّبِیِّؕ-یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا صَلُّوْا عَلَیْهِ وَ سَلِّمُوْا تَسْلِیْمًا(۵۶) (پ 22، الاحزاب: 56) ترجمہ کنز الایمان: بےشک اللہ اور اس کے فرشتے درود بھیجتے ہیں اس غیب بتانے والے (نبی) پر اے ایمان والو ان پر درود اور خوب سلام بھیجو۔

ابن ِعربی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں:نبیِ کریم ﷺ پر دُرود بھیجنے کا فائدہ درود بھیجنے والے کی طرف لوٹتا ہے، کیونکہ ا س کا درود پڑھنا اس بات کی دلیل ہے کہ درود شریف پڑھنے والے کا عقیدہ صاف ہے۔اس کی نیت خالص ہے۔اس کے دل میں نبیِ کریم ﷺ کی محبت ہے۔اسے اللہ پاک کی طرف سے نیکی پر مددحاصل ہے نیز اس کے اور اس کے آقا و مولیٰ،دو عالَم کے دولہا ﷺ کے درمیان ایک مبارک اور مُقَدّس نسبت موجود ہے۔(القول البدیع،ص83ملخصاً)

ذات ہوئی انتخاب وصف ہوئے لاجواب نام ہوا مصطفٰے تم پہ کروروں درود

اللہ پاک سے دعا ہے کہ ہمیں حقوقِ مصطفٰے سمجھنے اور ان پر صحیح معنی میں عمل کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین بجاهِ خاتم النبیین ﷺ


حق کی لغوی معنی صحیح،مناسب، درست، ٹھیک،موزوں، بجا، واجب، سچ، انصاف، جائز مطالبہ یا استحقاق کے ہیں۔

1-ایمان بالرسول:حضورﷺ کی نبوت و رسالت اور جو کچھ آپ ﷺ اللہ کی طرف سے لائےہیں، ان تمام پر ایمان لانا اور دل سے انہیں سچا ماننا ہر امتی پر فرضِ عین ہے۔رسول پر ایمان لائے بغیر کوئی شخص ہرگز مسلمان نہیں ہو سکتا۔ اللہ فرماتا ہے: وَ مَنْ لَّمْ یُؤْمِنْۢ بِاللّٰهِ وَ رَسُوْلِهٖ فَاِنَّاۤ اَعْتَدْنَا لِلْكٰفِرِیْنَ سَعِیْرًا(۱۳) (پ26،الفتح:13)ترجمہ: جو اللہ اور اس کے رسول پر ایمان نہ لائے تو یقیناً ہم نے کافروں کے لئے بھڑکتی ہوئی آگ تیار کر رکھی ہے۔اس آیت میں اس بات کی مکمل طور پر وضاحت ہے کہ جو لوگ رسول کی رسالت پر ایمان نہیں لائیں گے وہ اگرچہ پوری زندگی خدا کی توحید کا اقرار کرتے رہیں مگر وہ کافر اور جہنمی ہی رہیں گے۔ اس لیے کہ ایمان با لرسالت کے بغیر ایمان بالتوحید معتبر ہی نہیں۔

2-اِتِّباع سنت:آقا ﷺ کی پیروی اور آپ کی سنتوں کو اپنانا ہر امتی کی ذمہ داری اور فریضہ ہے۔ اللہ پاک فرماتا ہے: قُلْ اِنْ كُنْتُمْ تُحِبُّوْنَ اللّٰهَ فَاتَّبِعُوْنِیْ یُحْبِبْكُمُ اللّٰهُ وَ یَغْفِرْ لَكُمْ ذُنُوْبَكُمْؕ-وَ اللّٰهُ غَفُوْرٌ رَّحِیْمٌ(۳۱) (پ 3،اٰل عمران: 31)ترجمہ کنز الایمان: اے محبوب تم فرما دو کہ لوگو اگر تم اللہ کو دوست رکھتے ہو تو میرے فرمانبردار ہو جاؤ اللہ تمہیں دوست رکھے گا اور تمہارے گناہ بخش دے گا اور اللہ بخشنے والا مہربان ہے۔

3-اطاعتِ رسول: آقاﷺ کا حکم ماننا آپ کی اطاعت ہے۔ اطاعت ِرسول بھی ہر امتی پر لازم و ضروری ہے۔اللہ فرماتا ہے: اَطِیْعُوا اللّٰهَ وَ اَطِیْعُوا الرَّسُوْلَ (پ5،النساء:59)ترجمہ کنز الایمان:حکم مانو اللہ کا اور حکم مانو رسول کا۔ دوسرے مقام پر ارشاد ہوا: مَنْ یُّطِعِ الرَّسُوْلَ فَقَدْ اَطَاعَ اللّٰهَۚ-(پ5،النساء: 80) ترجمہ کنزالایمان: جس نے رسول کا حکم مانا بے شک اُس نے اللہ کا حکم مانا۔

4-محبتِ رسول:امتی کا یہ بھی فریضہ ہے کہ نبی پاکﷺ کی محبت اس کے دل میں سارے جہاں سے بڑھ کر ہو۔ اس حوالے سے قرآن ِکریم فرماتا ہے:ترجمہ: قُلْ اِنْ كَانَ اٰبَآؤُكُمْ وَ اَبْنَآؤُكُمْ وَ اِخْوَانُكُمْ وَ اَزْوَاجُكُمْ وَ عَشِیْرَتُكُمْ وَ اَمْوَالُ اﰳقْتَرَفْتُمُوْهَا وَ تِجَارَةٌ تَخْشَوْنَ كَسَادَهَا وَ مَسٰكِنُ تَرْضَوْنَهَاۤ اَحَبَّ اِلَیْكُمْ مِّنَ اللّٰهِ وَ رَسُوْلِهٖ وَ جِهَادٍ فِیْ سَبِیْلِهٖ فَتَرَبَّصُوْا حَتّٰى یَاْتِیَ اللّٰهُ بِاَمْرِهٖؕ-وَ اللّٰهُ لَا یَهْدِی الْقَوْمَ الْفٰسِقِیْنَ۠(۲۴) (پ10، التوبۃ:24)ترجمہ:(اے رسول )آپ فرمادیجیے اگر تمہارے باپ اور تمہارے بیٹے اور تمہارے بھائی اور تمہاری عورتیں اور تمہارا کنبہ اور تمہاری کمائی کے مال اور وہ سودا جس کے نقصان کا تمہیں ڈر ہے اور تمہارے پسند یدہ مکان یہ چیزیں اللہ اور اس کے رسول اور اس کی راہ میں لڑنے سے زیادہ پیاری ہوں تو راستہ دیکھو یہاں تک کہ اللہ اپنا حکم لائے اور الله فاسقوں کو راہ نہیں دیتا۔

مدحِ رسول: سرکارِ دو عالم ﷺ کی مدح و ثنا، آپ کے محاسن کا ذکر کرنا اور آپ کے فضائل و کمالات کا علی الاعلان بیان کرنا بھی ہر امتی پر فرض ہے۔ اللہ فرماتا ہے: وَ رَفَعْنَا لَكَ ذِكْرَكَؕ(۴) ( الم نشرح: 4 )ترجمہ کنز الایمان: اور ہم نے تمہارے لیے تمہارا ذکر بلند کردیا۔ 


دینِ اسلام میں حقوق العباد کی ادائیگی کی بے حد تاکید فرمائی گئی ہے۔ہر شخص پر اس کے والدین،استاد، حاکم، پیر اور بزرگوں کے کچھ حقوق ہوتے ہیں، جن کو ادا کرنا اس کے لیے ضروری بھی ہوتا ہے اور دنیا و آخرت میں کامیابی کا سبب بھی۔ اسی طرح ہر امت پر اپنے نبی کے بھی کچھ حقوق ہوتے ہیں۔حضور خاتم النبیین، رحمۃ للعالمین ﷺ کے حقوق اپنی امت پر سب سے زیادہ ہیں، کیونکہ آپ کے احسانات بھی امت پر بےحد و بےشمار ہیں۔درحقیقت امت کی انفرادی اور اجتماعی کامیابی و کامرانی آپ ﷺ کے حقوق کی ادائیگی پر ہی موقوف ہے۔ (مقالات قادری،ص 124 تا 126 ملتقطاً)  رسول اللہ کے 5 حقوق درج ذیل ہیں:

1-ایمان بالرسول: آپ ﷺ کی نبوت و رسالت پر ایمان لانا اور جو کچھ آپ اللہ پاک کی طرف سے لائے ہیں اس کی تصدیق کرنا فرض ہے۔ ایمان بالرسول کے بغیر کوئی شخص مسلمان نہیں ہوسکتا۔ (سیرتِ رسولِ عربی، ص 633) قرآنِ کریم میں ارشادِ باری ہے: وَ مَنْ لَّمْ یُؤْمِنْۢ بِاللّٰهِ وَ رَسُوْلِهٖ فَاِنَّاۤ اَعْتَدْنَا لِلْكٰفِرِیْنَ سَعِیْرًا(۱۳) (پ26،الفتح:13)ترجمہ: جو اللہ اور اس کے رسول پر ایمان نہ لائے تو یقیناً ہم نے کافروں کے لئے بھڑکتی ہوئی آگ تیار کر رکھی ہے۔

2-اطاعتِ رسول اور سنت پر عمل: حضور ﷺ کی اطاعت، آپ کے احکامات کی تعمیل، جن کاموں سے آپ نے منع فرمایا ان سے اجتناب کرنا اور آپ کی سیرت و سنت کی پیروی کرنا واجب ہے۔ (سیرتِ رسول عربی، ص 633) قرآنِ کریم میں بہت سے مقامات پر رسول اللہ ﷺ کی اطاعت کرنے کا حکم ارشاد فرمایا گیا ہے۔جیساکہ ارشادِ ربانی ہے: اَطِیْعُوا اللّٰهَ وَ اَطِیْعُوا الرَّسُوْلَ (پ5،النساء:59)ترجمہ کنز الایمان:حکم مانو اللہ کا اور حکم مانو رسول کا۔ نیز اِتِّباع سنت کے متعلق ارشاد فرمایا: لَقَدْ كَانَ لَكُمْ فِیْ رَسُوْلِ اللّٰهِ اُسْوَةٌ حَسَنَةٌ (پ 21، الاحزاب: 21) ترجمہ: بیشک تمہارے لیےاللہ کے رسول میں بہترین نمونہ موجود ہے۔

تفسیر صراط الجنان میں ہے:عبادات، معاملات، اخلاقیات، سختیوں اور مشقتوں پر صبر کرنے میں اور نعمتوں پر اللہ پاک کا شکر ادا کرنے میں، الغرض زندگی کے ہر شعبہ میں اور ہر پہلو کے اعتبار سے تاجدارِ رسالت ﷺ کی مبارک زندگی اور سیرت میں ایک کامل نمونہ موجود ہے۔ لہٰذا ہر ایک کو اور بطورِ خاص مسلمانوں کو چاہئے کہ وہ اَقوال،اَفعال،اَخلاق اور اپنے دیگر احوال میں سیّد المرسلین ﷺ کی مبارک سیرت پر عمل پیرا ہوں اور اپنی زندگی کے تمام معمولات میں سیّد العلَمین ﷺ کی پیروی کریں۔ (تفسیر صراط الجنان)

3-محبتِ رسول:آپ ﷺ کی محبت واجب ہے۔حدیثِ پاک میں ہے:تم میں سے کوئی مومن(کامل)نہیں ہوسکتا، جب تک میں اُسے اس کے باپ، اس کی اولاد اور سب لوگوں سے زیادہ پیارا نہ ہوجاؤں۔ (بخاری،1/17، حدیث:15) رسول اللہ ﷺ کی محبت میں وہ سچا ہے جس پر اس کی علامتیں ظاہر ہوں۔وہ علامتیں یہ ہیں: آپ کے احکامات کو اپنی خواہشات پر ترجیح دے۔ آپ کا بکثرت ذکر کرے۔ آپ کی زیارت کا شوق رکھے۔آپ سے محبت کی وجہ سے اہلِ بیت اور تمام صحابہ کرام علیہم الرضوان سے محبت رکھے۔ آپ کی پسند کو پسند کرے اور ناپسند کو ناپسند۔ آپ کی امت کے ساتھ خیرخواہی کرے۔(شفاملتقطاً)

4-تعظیمِ رسول اور آثار شریفہ کی تعظیم:آپ ﷺ کے ذکر کے وقت، آپ کی حدیث و سنت، آپ کے اسمِ گرامی اور سیرتِ مبارکہ، آپ کے صحابہ و اہلِ بیت کا ذکر سنتے وقت تعظیم و توقیر واجب ہے۔ (سیرتِ رسول عربی، ص 334) قرآنِ کریم میں ارشادِ باری ہے: اِنَّاۤ اَرْسَلْنٰكَ شَاهِدًا وَّ مُبَشِّرًا وَّ نَذِیْرًاۙ(۸) لِّتُؤْمِنُوْا بِاللّٰهِ وَ رَسُوْلِهٖ وَ تُعَزِّرُوْهُ وَ تُوَقِّرُوْهُؕ- (پ 26، الفتح: 8- 9) ترجمہ کنز الایمان: بےشک ہم نے تمہیں بھیجا حاضر و ناظر اور خوشی اور ڈر سناتا تاکہ اے لوگو تم اللہ اور اس کے رسول پر ایمان لاؤ اور رسول کی تعظیم و توقیرکرو۔

اس آیتِ مبارکہ سے معلوم ہوتا ہے کہ اللہ پاک کی بارگاہ میں حضور پُرنور ﷺ کی تعظیم اور توقیر انتہائی مطلوب اور بے انتہا اہمیت کی حامل ہے۔ کیونکہ یہاں اللہ پاک نے اپنی تسبیح پر اپنے حبیب ﷺ کی تعظیم و توقیر کو مُقَدَّم فرمایا ہے۔ (تفسیر صراط الجنان) آپ ﷺ کے ادب و احترام میں سے یہ بھی ہے کہ آپ ﷺ کی محافلِ مقدسہ، مقاماتِ مکہ مکرمہ و مدینہ منورہ اور دیگر جگہیں نیز وہ تمام تبرکات جو آپ ﷺ سے منسوب ہوں، ان کی تعظیم و توقیر کی جائے۔ (شفا، ص 346 ملتقطا)

5-روضۂ مبارکہ کی زیارت: آپ ﷺ کے روضہ شریف کی زیارت بِالاِجماع سنت اور فضیلتِ عظیمہ ہے۔ (سیرتِ رسول عربی، ص 696)حدیثِ مبارکہ میں ہے:جس نے میری وفات کے بعد میری زیارت کی، اس نے گویا میری زندگی میں میری زیارت کی۔ (دار قطنی،3،حدیث: 2694)اللہ پاک ہمیں اپنے رسول ﷺ کے حقوق ادا کرنے والا بنائے،حقیقی عشقِ رسول عطا فرمائے اور آپ ﷺ کے وسیلۂ جلیلہ سے دنیا و آخرت میں بھلائیاں نصیب فرمائے۔ آمین بجاہ خاتم النبیین ﷺ