فتاوی رضویہ کی 10خصوصیات

Wed, 23 Sep , 2020
6 years ago

مضمون فتاویٰ رضویہ کی دس خصوصیات:

اعلیٰ حضرت امام اہل سنت مجدد دین وملت مفتی احمد رضا خان رحمۃ اللہ علیہ دین برحق کے ایسے امام ہیں جن کے کمالات عرب و عجم میں اہل دین کے قلوب پر اپنا سکہ جما چکے ہیں آپ کا فتاویٰ تحقیق و دلائل میں علمائے سابقین کے فتاویٰ سے کہیں زیادہ بہتر ہے۔

آپ رحمۃ اللہ علیہ نے لاکھوں فتویٰ لکھے لیکن کچھ کو نقل کیا گیا، جس کا نام ’’ العطایہ النبویہ فی الفتاو رضویہ“ رکھا گیا

اس فتاویٰ میں کل 206 رسائل ہیں۔(فتویٰ رضویہ ج 30۔ ص ۱۰، رضا فاؤنڈیشن مرکز الاولیا لاہور)

ارگر اس فتاویٰ کی خصوصیات بیان کی جائیں تو شاید ایک ضخیم کتاب بھی کم ہو تو محض آپ کے فتاویٰ کی دس خصوصیات کو بیان کا جاتا ہے۔

۱۔ فتاویٰ رضویہ کا عربی خطبہ ہے جو بلاشبہ فصاحت و بلاحت کا ایک انوکھا شہکار ہے، خوبصورت ہے، خوبصورت استعارات اور خوشنما تشبیہات پر مشتمل ہے، یعنی کت ب فقہ کے ناموں اور آئمہ کرام کے اسمائے گرامی کو اس طرح ترتیب دیا ہے کہ کہیں اللہ پاک کی حمد کے غنچے چٹک اٹھے اور کہیں نعت کے پھول کھل اٹھے اور کہیں منقبت کے گجرے بن گئے، اور کہیں دورد و سلام کی ڈالیاں تیار کی گئیں۔(جہانِ امام احمد رضا جلد۱، صفحہ ۲۶ ، مکتبہ بشیر برادرز)

۲۔ ہر فتوے میں دلائل کا سمندر نظر آتا ہے، قرآن و حدیث، فقہ منطق اور کلام وغیرہ میں آپ رحمۃ اللہ علیہ کی وسعت نظری کا اندازہ اس کے مطالعے سے ہی لگایا جاسکتا ہے۔(ملفوظات ِ اعلیٰ حضرت ، صفحہ ۳۴، مکتبہ المدینہ)

۳۔ اعلیٰ حضرت کے اس فتویٰ نے اہل علم کی دست گیری کی اور ضلالت وبے راہ روی کا شکار ہونے والے افراد کی ہدایت و رہبری کی۔

۴۔اہل علم پر یہ بات خوب واضح ہے کہ آج فتاویٰ رضویہ ہر دارالافتا کی زینت بنا ہوا ہے مفتیانِ کرام فتاویٰ رضویہ کی روشنی میں مسئلے کا حل تلاش کرتے ہیں، اور صاحبِ علم و دانش تحقیقات رضاپر واہ واہ کرتے ہیں۔(جہانِ امام احمد رضا، جلد ۱، صفحہ ۲۲۲، مکتبہ شیربرادرز)

۵۔ آپ رحمۃ اللہ علیہ سے جس زبان میں سوال ہوا آپ نے اسی زبان میں جواب ارشاد فرمایا، جیسے اگر سوال ار دو میں ہوتا تو جواب بھی اردو میں ارشاد ہوتا، اگر سوال عربی میں ہوتا تو جواب بھی عربی ہی میں ہوتا، اور بعض افریقہ کے اہل عشق نے انگریزی میں سوال کیا تو جواب بھی انگریزی میں دیا گیا۔

۷۔ فتاویٰ رضویہ صرف فقہی مسائل و احکام کا مجموعہ ہی نہیں بلکہ قرآن کی تفسیر، اصول تفسیر، اصول حدیث، شروح حدیث، فقہ بشمول متن، شروح ، حواشی، اصول فقہ ، اورکئی علوم و فنون کا ایک عظیم انسائیکلو پیڈیا ہے۔

(جہانِ امام احمد رضا، جلد ۱، صفحہ ۱۹، مکتبہ شبیر برادرز)

۷۔فتاویٰ رضویہ تحقیق و براہین سے مزین اور توضیح و تفصیل میں بے نظیر و بے مثال ہیں۔

۸۔ اعلیٰ حضرت کا یہ خاصہ بھی رہا ہے کہ ایک سوال کے استفتا پر پورا ایک مستقل رسالہ تحریر فرمادیا۔

۹۔ فتاویٰ رضویہ میں مسئلہ کی تحقیق میں زیر بحث رہے اور اگر مسئلہ میں اٰئمہ کا اختلاف ہوتا اس کو بھی ذکر کرتے اور مسئلہ میں ترجیح کی صورت کو بھی بیان کرتے۔(جہانِ امام احمد رضا، جلد ۱، صفحہ ۵۶، مکتبہ شیرنرادرز)

۱۰۔ مؤلف فتاویٰ نے فتاویٰ رضویہ کو ایسے کمالات اور ایسی خوبیوں سے سجایا ہے کہ دیکھ کر بے ساختہ کہہ اٹھیں۔

ملکِ سخن کی شاہی تم کو رضا مسلم

جس سمت آگئے ہوسکے بٹھا دیئے ہیں

نوٹ: یہ مضامین نئے لکھاریوں کے ہیں۔حوالہ جات کی تفتیش و تصحیح کی ذمہ داری مؤلفین کی ہےادارہ اس کا ذمہ دار نہیں


اعلیٰ حضرت رَحْمَۃُ اللّٰہ ِتَعَالٰی عَلَیْہ کےفِقْہی مقام کو سمجھنے کے لئے مسائلِ فِقْہ سے سجے ہوئے بے مثال فتاویٰ جات پرمُشتمل مجموعہ بنام”فتاویٰ رضویہ“ کی خصُوصیات میں سے چند خصُوصِیات کے بارے میں سنتے ہیں ۔چُنانچہ

٭فتاویٰ رضویہ میں علمِ حدیث و علمِ فقہ کی کُتُب کا بَھر پُورعِلم موجود ہے۔

٭ فتاویٰ رضویہ میں نادرونایاب حوالوں کابھی جگہ بہ جگہ ذِکرکیا گیاہے۔

٭ فتاویٰ رضویہ میں قرآن وحدیث کی روشنی میں نِتْ نئےمسائل حل کیے گئے ہیں۔

٭فنِّ رِیاضی اورعلمِ تَوقِیْت کے ساتھ ساتھ علمِ میراث کے متعلق بھی نادرو نایاب تحقیق موجودہے۔

٭دِیگر مذاہبِ (فقہیہ) (فِقْ ہِیْ یَہ)کےقوانین اورجُزئیات (جُزْ۔ئی۔یات) کاعلم بھی شامل ہے ۔

٭ہر مسئلے میں قرآن وسُنَّت کی پیروی کا اِہتمام کیا گیاہے۔

٭بِدْعات ومُنکِرات کا ایمان افروز رَدّکیاگیاہے۔

٭اس کے علاوہ سب سے بڑی خُصُوصیت یہ ہے کہ بڑے بڑے مُفتیانِ کرام کو فقہی مسائل کےمُعاملے میں وقتاًفوقتاًفتاویٰ رضویہ کی ضرورت پڑتی ہے،بہت سے مفتیانِ کرام فتویٰ دینے کے معاملے میں خاص طور پر فتاویٰ رَضویہ سےمددلیتے ہیں اور اِنْ شَآءَاللہ عَزَّوَجَلّ آئندہ بھی مدد لیتے رہیں گے ۔

اعلیٰ حضرت رَحْمَۃُ اللّٰہ ِتَعَالٰی عَلَیْہِ ان عُلمائے کرام میں سے ہیں جنہوں نے دینِ حَق کو پھیلانے کے لئے انتہائی ذوق و شوق کیساتھ عُلُوم و فُنون حاصل کئے اور اس کے بعدان عُلوم وفُنون کے فیضان کو پوری دیانتداری کے ساتھ بے شُمار طلبائے علمِ دین کے سینوں میں منتقل فرمایا۔یقیناً یہ آپ رَحْمَۃُ اللّٰہ ِتَعَالٰی عَلَیْہ کی کھُلی کرامت تھی،اس لئے کہ آپ رَحْمَۃُ اللّٰہ ِتَعَالٰی عَلَیْہ کے شب و روز کے معمولات پر نظر ڈالی جائے تو ہمیں معلوم ہوگا کہ آپ رَحْمَۃُاللّٰہ ِتَعَالٰی عَلَیْہ کا اکثر وقت تصنیف و تالیف میں ہی گُزرجایا کرتا تھا۔

جیسا کہ ملِکُ العُلَماحضرتِ علّامہ مفتی محمدظفرُ الدِّین بہاری رَحْمَۃُ اللّٰہ ِتَعَالٰی عَلَیْہ فرماتے ہیں:اَکْثر اَوْقات آپرَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ تصنیف وتالیف میں مَشْغول رہتے۔

(حیاتِ اعلیٰ حضرت)

عُموماً علمائے کرام فارغُ التحصیل ہونے کے بعد تصنیف و تالیف کے میدان میں قدم رکھتے ہیں اور اعلیٰ حضرت رَحْمَۃُ اللّٰہ ِتَعَالٰی عَلَیْہ نے زمانَۂ طالب علمی سے ہی کتابیں تصنیف کرنے کا سلسلہ شروع فرمادیا تھا۔(حیات اعلیٰ حضرت)

جس کی ایک روشن مثال یہ ہے کہ آپ رَحْمَۃُ اللّٰہ ِتَعَالٰی عَلَیْہ نے محض8 برس کی عمر میں درسِ نظامی یعنی عالم کورس کے نصاب میں شامل علمِ نحو کی مشہور و معروف کتاب بنام’’ھَدایَۃ ُالنَحْوْ‘‘نہ صرف پڑھ لی بلکہ اسی ننھی سی عُمر میں ہی اس کتاب کی عربی زبان میں شرح بھی لکھ ڈالی۔

نوٹ: یہ مضامین نئے لکھاریوں کے ہیں۔حوالہ جات کی تفتیش و تصحیح کی ذمہ داری مؤلفین کی ہےادارہ اس کا ذمہ دار نہیں


فتاوی رضویہ کی 10خصوصیات

Wed, 23 Sep , 2020
6 years ago

فتاوی رضویہ اعلی حضرت امام اہلسنت امام احمد رضا خاں علیہ الرحمۃکی ذہانت و تفقہ فی الدین( دین میں سمجھ )کا ایک عظیم الشان اور فقیدالمثال(جس کی مثال نہ ہو )شاہکار ہے کئی دہائیاں گزرنے کے باوجود ایسا جامع فتاوی کا مجموعہ مرتب نہ ہو سکا33جلدوں پر مشتمل یہ فتوی جات جسے ہم بلا مبالغہ اردو زبان میں دنیاکا ضخِیم ترین(نہایت بڑا)فتاوی کہہ سکتے ہیں اس بے مثال علمی شاہکار کا نام امام اہلسنت علیہ الرحمۃ نے "العطایا النّبوِیّہ فی الفتاوی الرضویہ" رکھا ہے۔( اعلیٰ حضرت کی علمی خدمات صفحہ 8 تا9)

جو کہ تقریبا22000 صفحات 6847سوالات و جوابات اور 206 تحقیقی رسائل پر مشتمل ہے اعلیٰ حضرت علیہ الرحمۃ کے علمی و تحقیقی بے مثال فتاوی جات پر مشتمل مجموعہ فتاوی رضویہ کی کئی خصوصیات میں سے10 زینتِ تحریر ہیں ۔

1: فتاوی رضویہ شریف کی خصوصیت کا اندازہ اس بات سے بھی لگایا جاسکتا ہے کہ اس میں اِسْتِفْتاء شدہ(پوچھےگئے)مسائل نہ صرف عوام الناس کے ہیں بلکہ بڑے بڑے مُفتِیانِ کرام و مُصنِّفینِ عُظّام کے تحریر ہیں۔

2:فتاوی رضویہ میں ہر مسئلہ دلائل کی روشنی میں ذکر ہے اور اگر جواب تفصیل طلب ہو تو مکمل رسالہ تحریرہے ۔

3:فتاوی رضویہ میں محض جمع و نقلِ اقوال نہیں بلکہ جا بجا اعلیٰ حضرت علیہ الرحمۃ نے اپنا تبصرہ بھی ذکر فرمایا ہے ۔

4:دینی مسائل کے ساتھ عصرِ حاضر(موجودہ دور) کے پیچیدہ مسائل جامع انداز میں ذکر ہیں۔

5:دیگر مباحث کے ساتھ قدیم یونانی فلسفہ کے متعلق سوالات کا ٹھوس علمی جواب تحریر ہے۔

6:فتاوی رضویہ کی خصوصیت یہ بھی ہے کہ اس میں نہ صرف علومِ ظاہریہ بلکہ علومِ باطنیہ کا بھی ذکر ہے سائل کے حال کے مطابق اعلی حضرت علیہ الرحمۃ نے انفرادی کوشش بھی ذکر فرمائی ہے ۔

7:فتاوی رضویہ میں فقہ احناف کی ماخذ احادیث کا ذخیرہ موجود تھے

8:تفصیل طلب موضوعات پر پہلے اجمالی اور پھر تفصیلی کلام ذکر کے سوال کے تمام گوشوں کو واضح کیا گیا ہے ۔

9:علمِ کلام علمِ حدیث اصولِ حدیث و فقہ کے علاوہ طب نجوم تاریخ فلسفہ علومِ جدیدہ و قدیمہ کے متعلق فتاویٰ جات 'فتاوی رضویہ کا ہی خاصہ ہے ۔

10:ایک بڑی خاصیت یہ ہے کہ فتاوی رضویہ تقریبا تمام اصول فتاویٰ پر مشتمل ہے نیز ایک نمایاں خصوصیت یہ بھی ہے کہ اس میں موجود ہر رسالہ کا نام تاریخی ہے اس میں ہزاروں مسائل ایسے ہیں جن کا کسی دوسری کتاب میں یا تو سرے سےوجود نہیں یا پھر اس مضبوط انداز سے کہیں اور بیان نہیں ہوئے۔

کیا بیاں کیجئے اور کیا چھوڑئیے یہ تو اس عظیم و بے نظیر شاہکار کے بحرِ بے کراں (وسیع سمندر) میں سے چند قیمتی موتی بطور نمونہ ذکر کیے گئے ہیں حقیقت تو یہ ہے کہ تحقیقی اعتبار سے فتاوی رضویہ کی نظیر ملنا ناممکن نہیں تو بے حد مشکل ضرور ہے ،ایک مسئلے پر دلائل کا انبار لگا دینا بلاشبہ فخر اہلسنت امام اہلسنت عاشق رسول صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم حضرت امام احمد رضا خاں علیہ الرحمۃ کا ہی حصہ ہے ۔( فتاویٰ رضویہ کا تعارفی و تجزیاتی مطالعہ من ٠تہذیب الافکار جلد 4 شمارہ 2 ص 89 تا 93)

ہر ورق تیرا شریعت کی دلیلِ روشن

ایک قانونِ مکمل ہے فتاوی تیرا

نوٹ: یہ مضامین نئے لکھاریوں کے ہیں۔حوالہ جات کی تفتیش و تصحیح کی ذمہ داری مؤلفین کی ہےادارہ اس کا ذمہ دار نہیں


فتاویٰ رضویہ کی10خصوصیات

Wed, 23 Sep , 2020
6 years ago

تعارف:

العطایہ النبویہ فی الفتاوی الرضویہ چودھویں صدی کے مجدد امام اہلسنت امام احمد رضا خان رحمۃ اللہ علیہ کے فتاویٰ کا مجموعہ ہے جنہیں علما ئے حق مجتہد فی المسائل کہتے ہیں ۔فتاویٰ رضویہ (جدید)۳۰ جلدوں، ۲۱۶۵۶ صفحات، ۶۸۴۷ سوال و جواب ۲۰۶ رسائل اور سینکڑوں مسائل پر مشتمل ہے۔

خصوصیات:

۱۔ فتاویٰ رضویہ فصاحت و بلاغت کا بے مثال نمونہ ہے اس کے خطبے میں حمد بھی ہے نعت بھی، مدح ،صحابہ و اہل بیت بھی، ذات اور آل واصحاب پر درود بھی، نیز 90 چیزوں کے نام 80 کتابوں کے نام، اور 3 فقہی اصطلاحیں مذکور ہیں اور چند عقائد کی وضاحت ہے جس کتا ب کے خطبے کا یہ عالم ہے اس کے فتاویٰ کا عالم کیا ہوگا۔

۲۔ فتاویٰ رضویہ میں دلائل کا سمندر موجزن ہے، اعلیٰ حضرت رحمۃ اللہ علیہ نے حنفی فقہ کو دلائل سے آراستہ کیا ہے، اعلیٰ حضرت رحمۃ اللہ علیہ سوال کے جواب کے بعد اس پر قرآنی آیات پھر احادیث نبوی صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم پھر علما کے اقوال بطور دلائل بیان فرماتے ہیں، حضرت مفتی امجد علی اعظمی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں: اگر کسی صاحب کو دلائل کا شوق ہو تو فتاویٰ رضویہ کا مطالعہ کرے کہ اس میں ہر مسئلہ کی ایسی تحقیق کی گئی ہے جس کی نظیر آج دنیا میں موجود نہیں اور ایسے مسائل ملیں گے جن سے علما کے کان بھی آشنا نہیں۔ (بہار شریعت حصہ ۱،۲ /۲۸۰)

علم کا چشمہ ہوا ہے موجزن تحریر میں

جب قلم تو نے اٹھایا اے امام احمد رضا

۳۔ جیسا سوال کرنے والے کا مزاج ، اسی کے حساب سے جواب ہے، اگر سوال مختصر جواب کا تقاضا کرے تو جواب مختصر ہے، لیکن اکثر فتاویٰ تفصیلی جواب پر مشتمل ہیں اگر سوال کے جواب کی کئی صورتیں بنتی ہوں تو جواب میں ان تمام سورتوں کو بیان کیا گیا ہے۔

۴۔ اس میں ایک سے زائد زبانوں میں فتاویٰ جات موجود ہیں جس زبان میں سوال ہے اسی زبان میں جواب ہے پھر چاہے وہ زبان اردو ہو یا ہندی، عربی ہویا فارسی، اگر سوال نثر میں ہے تو جواب بھی نثر میں ہے، اگر سوال نظم میں ہے توجواب بھی نظم میں ہے۔

۵۔ فتاویٰ رضویہ میں صرف سوال کا جواب ہی نہیں دیا گیا، بلکہ ساتھ میں نیکی کی دعوت بھی دی گئی ہے۔

۶۔ فتاویٰ رضویہ میں علم کلام ، علم حدیث و اصول و حدیث، فقہ و اصول فقہ کے علاوہ طب، نجوم، تاریخ، ہیئت ، فلسفہ اور اس جیسے کئی علوم جدیدہ و قدیمہ کے متعلق فتاویٰ جات موجود ہیں(ماہنامہ فیضان ِ مدینہ صفر المظفر ۱۴۳۹ھ ، صفحہ نمبر۲۴)

۷۔ فتاویٰ رضویہ میں موجود ہر رسالہ کا نام تاریخی ہے جس سے علم ابجد کے ذریعے ا س رسالہ کا کا سن تحریر نکالا جاسکتا ہے۔( ماہنامہ فیضان ِ مدینہ صفر المظفر ۱۴۳۹ھ ، صفحہ نمبر۲۴)

۹۔ فتاویٰ رضویہ میں موجود کئی فتاویٰ جات علما و مفتیان کرام کے پوچھے ہوئے سوالوں پرمشتمل ہیں، نیز بیشتر مفتیان کرام فتویٰ دینے کے لیے فتاویٰ رضویہ سے مدد لیتے ہیں۔

۱۰۔ فتاویٰ رضویہ دیکھ کر علما کی عقل حیران رہ جاتی ہے حتی کہ مخالفین بھی سرجھکاتے نظر آتے ہیں،

حرم شریف کی لائبریری کے محافظ سید اسمعیل رحمۃ اللہ علیہ نے جب چند عربی فتاویٰ کا مطالعہ فرمایا تو اعلیٰ حضرت رحمۃ اللہ علیہ سے فرمایا: میں سچ کہتا ہوں اگر آپ کے یہ فتاویٰ امام اعظم ابوحنیفہ رحمۃ اللہ علیہ دیکھتے توان کی آنکھیں ٹھنڈی ہوتیں اور آپ کو اپنے اصحاب میں شامل فرمالیتے۔

کس طرح اتنے علم کے دریا بہا دیئے۔

علمائے حق کی عقل تو حیران ہے آج بھی

نوٹ: یہ مضامین نئے لکھاریوں کے ہیں۔حوالہ جات کی تفتیش و تصحیح کی ذمہ داری مؤلفین کی ہےادارہ اس کا ذمہ دار نہیں

فتاویٰ رضویہ کی10خصوصیات

Wed, 23 Sep , 2020
6 years ago

فتاویٰ رضویہ کی چند خصوصیات :

فتاویٰ رضویہ شریف شہنشاہِ بریلوی امام اہلسنت کا لکھا ہوا ار دو زبان کا مجموعہ فتاویٰ ہے، جس میں ۲۰۰ سے زائد مسائل ، ہزار ہا فتویٰ اور تقریبا ۲۰ ہزار سے زائد مسائل ہیں۔

خاصہ رضویہ بقلم رضا :

سرکارِ اعلیٰ حضرت بذا تِ خود فتاویٰ رضویہ پہلی جلد کے متعلق فرماتے ہیں: بظاہر اس پہلی جلد میں 114 فتوے اور 28 رسالے ہیں مگر بحمدللہ تعالیٰ ہزار ہا مسائل پر مشتمل ہے جن میں صد ہا وہ کہ اس کتاب کے سوا کہیں نہ ملیں گے۔

(فتاویٰ رضویہ ج۱، ص ۲۱، مکتبہ رضا فاؤنڈیشن لاہور)

خاصہ رضویہ بقلم عطار :

حضرت علامہ مولانا ابوالبلال محمد الیاس عطار قادری رضوی ضیائی فتاویٰ رضویہ کی خصوصیات بیان کرتے ہوئے فرماتے ہیں: امام احمد رضا بے مثال ذہانت و فطانت ، کمال درجہ فقاہت اور قدیم و جدید علوم میں کامل دسترس و مہارت رکھتے تھے ، آپ كی تقریبا ایک ہزار کتب ہیں آپ کے 55 سے زائد علوم و فنون آپ کی تبحر علمی پر دال پر ہیں، آپ کی جن کاوشوں کو بین القوامی شہرت حاصل ہوئی ان میں سے کنزالایمان، حدائق بخش اور فتاوی رضویہ شامل ہیں۔ آخر الذکر (فتاویٰ رضویہ شامل ہیں، آخر الذکر(فتاویٰ رضویہ ) تو علوم و فنون کا ایسا بحر بیکراں ہے جو پیکراں ہے جو بے شمار و مستند مسائل و تحقیقات کو اپنے اندر سموئے ہوئے ہے جسے پڑھ کر قدر دان انسانی Appieciative Persm بے ساختہ پکار اٹھتا ہے ۔ ہے کہ امام احمد رضا امام اعظم کی مجتہدانہ بصیرت کا پرتو ہیں آپ کی کتب رہتی دنیا تک کے مسلمانوں کے لیے مشعل رہا ہے۔(والدین ، زوجین اور ساتذہ کے حقوق اصل ، ۱۲، ۱۳ مکتبہ المدینہ )

رسائل کے نام سے ہی ان کا سالِ تصنیف بھی معلوم :

امام احمد رضا علیہ الرحمہ فتاویٰ رضویہ شریف میں اکثر رسائل کا ایسا نام تجویز فرماتے ہیں کہ جس سے نہ صرف واضح طور پر موضوع کی نشاندہی ہوتی ہے بلکہ حرفِ ابجد کے حساب سے ان کا سال تصنیف بھی معلوم کیا جاسکتا ہے۔

(فتاویٰ رضویہ ، جلد ۱، ص ۲۱، مکتبہ المدینہ )

اصول فتاوی ٰ نویسی سیکھنے کے لیے فتاویٰ رضویہ پڑھیے:

مفتی قاسم صاحب دامت برکاتہم العالیفرماتے ہیں :کہ اگر کسی کو فتاویٰ لکھنے کے بنیادی اصول سیکھنا ہوں تو فتویٰ لکھنے کے لیے جو بنیادی اہلیت و صلاحیت چاہیے اسے حاصل کرنے کے لیے اگر وہ فتاویٰ رضویہ کا بغور مطالعہ کرتا ہے تو اسے فتاویٰ نویسی کے تمام کے تمام اصول بڑی اچھی مشق کے ساتھ مل جائیں گے۔

خطبہ میں ہی مسئلہ کا اجمالی ذکر :

امام احمد رضا خان رحمۃ اللہ علیہ اپنی اکثر و پیشتر تصنیفات کے خظبوں میں اللہ پاک کی حمد و ثنا اور درود شریف کے ساتھ ساتھ وہ مسئلہ بھی بیان فرماتے ہیں جسے بعد ازاں تفصیلی دلائل کے ساتھ بیان کرنا ہوتا ہے ۔

(فتاویٰ رضویہ جلد ۱، ص ۲۳، مکتبہ رضا فاونڈیشن لاہور)

فتاویٰ رضویہ کسی مفتی کی تصنیف ہے یا ماہر طبیب کی :

امام احمد رضا وہ بالغ نظر مفتی ہیں جو احکامِ شریعہ معلوم کرنے کےلیے تمام احکام ماخذ کی طرف رجوع کرتے ہیں ایک ماہر طبیب جب فتاویٰ رضویہ کا مطالعہ کرتا ہے تو دیکھ کر اسے حیرت ہوتی ہے پھر وہ یہ سوچنے پر مجبور ہوجاتا ہے کہ وہ کسی مفتی کی تصنیف پڑھ رہا ہے یا ماہر طبیب کی۔ (فتاویٰ رضویہ جلد ۱، ص ۲۲، مکتبہ رضا فاونڈیشن لاہور)

مفتیان کرام نے بھی استفتا طلب کیے :

عام طور پر مفتیانِ کرام کی طرف عوام الناس رجوع کرتے ہیں اور احکام ِ شریعہ دریافت کرتے ہیں فتاویٰ رضویہ کے مطالعہ سے یہ حقیقت منکشف ہوتی ہے کہ امام احمد رضا بریلوی کی طرف رجوع کرنے والوں میں بڑی تعداد ان حضرات کی ہے جو بجائے خود مفتی تھے، مصنف تھے، جج تھے، یا وکیل تھے۔

(فتاویٰ رضویہ جلد ۱، ص ۲۲، مکتبہ رضا فاونڈیشن لاہور)

نوٹ: یہ مضامین نئے لکھاریوں کے ہیں۔حوالہ جات کی تفتیش و تصحیح کی ذمہ داری مؤلفین کی ہےادارہ اس کا ذمہ دار نہیں


فتاوی رضویہ کی 10خصوصیات

Wed, 23 Sep , 2020
6 years ago

فتاویٰ رضویہ کی 10 خصوصیات:

فتاویٰ رضویہ علوم و فنون کے جواہر پاروں سے مُزیَّن ہے۔ اس کی ایک چھوٹی سی نظیر فتاویٰ رضویہ کا خطبہ ہے جس میں ائمۂ مجتہدین و کُتُب ِ فِقہ کے تقریباً 90 اسمائے گرامی کو صَنْعَتِ بَراعتِ اِستہلال استعمال کرتے ہوئے اس انداز سے ایک لَڑی میں پرو دیا ہے کہ اللہ عَزّوَجَلّ کی حمد و ثنا بھی ہوگئی اور ان اسمائے مقدسہ سے تبرک بھی حاصل ہوگیا۔ اس خطبے سے مصنف کی فَقاہت، قادرُ الکلامی اوروُسعتِ علمی کا بخوبی اندازہ ہو جاتا ہے۔ اس میں موجودفتاویٰ جات قرآن و حدیث، نُصوصِ فقہیہ واقوالِ سَلف و خَلف سے بھرپورنظر آتے ہیں۔

اعلی حضرت امام احمد رضا خان بریلوی علیہ الرحمۃ کے فقہی مقام کو سمجھنے کے لیے مسائل فقہ سے سجے ہوئے بے مثال فتاویٰ جات پر مشتمل مجموعہ بنام " فتاویٰ رضویہ " کی خصوصیات ملاخطہ فرمائیے ۔

1 .علم ِ کلام ، علمِ حدیث و اصولِ حدیث، فِقہ کے علاوہ طِبّ، نُجوم، تاریخ، ہیئت، فلسفہ اور اس جیسے کئی علومِ جدیدہ قدیمہ کے متعلق فتاویٰ جات و مسائل بھی فتاویٰ رضویہ کا حصہ ہیں۔

2 . سوال کے ہر پہلو پر تَنْقِیح بھی فتاویٰ رضویہ کا خاصّہ ہے جیسا کہ ایک سوال ،طلاق واقع ہونے یا نہ ہونے کے متعلِق پوچھا گیا تو جواب میں اعلیٰ حضرت علیہ رحمۃ ربِّ العزّت نے فرمایا: جس طرح سوال کیا گیا ہے اور جو معاملہ کی نوعیت ہے اس لحاظ سے تو اس سوال کے 58 جواب ہوسکتے ہیں کیوں کہ اس کی 58 شکلیں بنتی ہیں نہ جانے سوال کرنے والے کو کون سی شکل درپیش ہو۔ لہٰذا تمام ممکنہ صورتوں کا جواب بھی مَرحمت فرمایا اور کہیں سائل 58 شکلوں کے اس جواب کو دیکھ کر پریشان نہ ہو جائے اور اسے فیصلہ کرنا دشوار نہ ہو جائے ان سب صورتوں کا حکم چار اصل کلّی سے نکال کر اس جواب کو آسان بھی فرما دیا۔( فتاویٰ رضویہ،ج 12،ص436،ملخصاً)

3 . دلائل و اِستشہادات کی کثرت کی جو بہار فتاویٰ رضویہ میں ہے کسی اور فتاویٰ میں اس کا عُشرِعَشِیر بھی نہیں ملتا جس کی ایک جھلک ”لَمْعَۃُ الضُّحٰی فیِ اِعْفَآءِ اللُّحٰی“ جیسا تحقیقی فتویٰ ہے جو ایک مُٹھی داڑھی کے وجوب پر تحریر کیا گیا ہے۔ اس میں زوائد کے علاوہ اصلِ مقصد میں 18 آیتوں 72حدیثوں،60 ارشاداتِ علماء وغیرہ کل ڈیڑھ سو نُصُوص کے ذریعے باطل کااِبطال اور حق کا اِحقاق کیا گیا۔ (فتاویٰ رضویہ،ج22،ص607)

4 . نبی کریم صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم کے نام پاک پر انگوٹھے چومنے کے مسئلے پر ”مُنِیْرُ الْعَیْن فِیْ حُکْمِ تَقْبِیْلِ اْلاِبْہَامَیْن“ کے نام سے تقریبا 200 صفحات پر مشتمل یہ فتوی بھی فتاویٰ رضویہ کا حصہ ہے جو30 افادات اور 12 فائدوں پر مشتمل ہے اور ہر فائدے میں ایک اُصولِ حدیث ذکر کرنے کے بعد اس کے اِثبات میں دلائل کا انبار لگا دیا ،حدیثِ ضعیف کے قبول و رَد پر علمِ اصولِ حدیث کے قواعد کی روشنی میں ایساجامع اور مُفَصّل کلام کیا کہ دیکھنے والے اَنگُشت بدنداں رہ جاتے ہیں۔ (فتاویٰ رضویہ ،5ج،ص429)

5 . نبیِّ کریم صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم کے افضلُ الْمُرسَلِین ہونے پر ایک عالمِ دین نے سوال کیا کہ نبی کریم صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم کی افضلیت پر صراحۃً کوئی آیتِ قرآنی نہیں ملتی تو آپ رحمۃ اللہ تعالٰی علیہ نے 10 آیاتِ کریمہ اور 100 احادیثِ عظیمہ سے حق کو اُجاگر فرمایا۔(فتاویٰ رضویہ،ج 30،ص129)

6 . سجدۂ تعظیمی کی حُرمت پرجب مصنفِ فتویٰ نے قلم کو جُنبش دی تو 40 احادیث اور ڈیڑھ سو نُصُوص سے اپنے دعوے کو ثابت کیا۔(فتاویٰ رضویہ،ج22،ص251)

7 . فتاویٰ رضویہ میں فن ریاضی اور علم توقیت کے ساتھ ساتھ علم میراث کے متعلق بھی نادر و نایاب تخلیق موجود ہے۔

8 . فتاویٰ رضویہ میں دیگر مذاہبِ فقہیہ(فِق ۔ ہِیْ ۔ یہ) کے قوانین اور جُزئیات (جُز ۔ ئی ۔ یات ) کا علم بھی شامل ہے۔

9 . فتاویٰ رضویہ کی ایک نمایاں خصوصیت کہ اسمیں موجود ہر رسالے کا نام تاریخی ہے جس سے اس رسالہ کا سن تحریر نکالا جاسکتا ہے ۔

10. اس کے علاوہ سب سے بڑی خُصُوصیت یہ ہے کہ بڑے بڑے مُفتیانِ کرام کو فقہی مسائل کےمُعاملے میں وقتاًفوقتاًفتاویٰ رضویہ کی ضرورت پڑتی ہے،بہت سے مفتیانِ کرام فتویٰ دینے کے معاملے میں خاص طور پر فتاویٰ رَضویہ سےمددلیتے ہیں اور اِنْ شَآءَاللہ عَزَّوَجَل َّآئندہ بھی لیتےرہیں گے۔ (آئینۂ رضویات،ج2 ،ص228،ادارۂ تحقیقاتِ امام احمدرضا کراچی)

حشر تک جاری رہے گا فیض مُرشِد آپ کا

فیض کا دریا بہایا اے امام احمد رضا

(وسائلِ بخشش مرمم،ص525)

نوٹ: یہ مضامین نئے لکھاریوں کے ہیں۔حوالہ جات کی تفتیش و تصحیح کی ذمہ داری مؤلفین کی ہےادارہ اس کا ذمہ دار نہیں


فتاوی رضویہ کی 10 خصوصیات

Wed, 23 Sep , 2020
6 years ago

فتاویٰ رضویہ اعلیٰ حضرت امام اہلسنت رحمۃ اللہ علیہ کا ایک علمی شاہکار ہے جس کا نام امام اہلسنت علیہ الرحمۃ نے ’’العطایا النبویہ فی الفتاویٰ الرضویہ“ رکھا ہے، (فتاویٰ رضویہ ار شادیہ ص ۳)، فتاویٰ رضویہ علوم فنون کے جواہر پاروں سے مزین ہے اس کی ایک چھوٹی سی نظیر خطبہ فتاوی رضویہ ہے اس خطبے میں آئمہ مجتہد ین و کتب فقہ کے ۹۰ اسمائے گرامی کو صنعت استہلال استعمال کرتے ہوئے اس انداز سے ایک لڑی میں پُرو دیا ہے کہ اللہ تعالیٰ کی حمد و ثنا بھی ہوگئی اور ان اسما مقدسہ سے برکت بھی حاصل ہوگی۔

۲۔ سجدۂ تعظیمی کی حر مت پر جب مصنف فتویٰ نے قلم کو جنبش دی تو 40 احادیث اور ڈیڑھ سو نصوص سے اپنے دعویٰ کو ثابت کیا۔(فتاویٰ رضویہ ۲۲/۲۵۱)

۳۔ دلائل و استشہادات کی کثرت کی جو بہار فتاویٰ رضویہ میں ہے کسی اور فتاویٰ میں اس کا عشر ِعشیر بھی نہیں ملتا جس کی ایک جھلک (لمعة الضحی فی اعفاء اللحی ) جیساتحقیقی فتویٰ ہے جو ایک مٹھی داڑھی کے وجوب پر تحریر کیا گیا ہے، اس میں 18 آیتوں 72 حدیثوں، 60 ارشاداتِ علما و غیرہ کل ڈیڑھ سو نصوص کے ذر یعے باطل کا ابطال اور حق کا احقاق کیا گیا ۔(فتاویٰ رضویہ ۲۲/ ۶۰۷)

۴۔ نبی کریم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کے افضل المرسلین ہونے پرایک عالم دین نے سوال کیا نبی کریم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کی افضلیت پر صراحتہ کوئی آیت نہیں ملتی آپ نے ۱۰ آیت کریمہ ۱۰۰ احادیث سے حق کو اُجاگر کیا۔(فتاویٰ رضویہ ۳۰/۱۲۹)

۵۔ نبی کریم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کے نام پاک پرانگوٹھے چومنےکے مسئلے پر (منیر العین فی حکم تقبیل الابہامین ) کے نام سے تقریبا ۲۰۰ صفحات پر مشتمل فتویٰ میں فتاویٰ رضویہ کا حصہ ہے جو ۳۰ افادات پرمشمل ہے۔

ہر فتوے میں اصول حدیث ذکر کرنے کے بعد اس کے دلائل کا انبار لگادیا۔(فتاویٰ رضویہ ۵/۴۲۹)

۶۔ سوال ہے کہ ہر پہلو پر تنقح بھی فتاویٰ کا خاصہ ہے جیسا کہ ایک سوال طلاق واقع ہونے یا نہ ہونے کے متعلق پوچھا گیا تو جواب میں اعلیٰ حضرت نے فرمایا کہ جس طر ح سوال کی نوعیت ہے اس لحاظ سے تو اس سوال کے 58 جواب ہوسکتے ہیں کونکہ اس کی 58 شکلیں بنتی ہیں، تمام ممکنہ صورتوں کا جواب بھی مرحمت فرمایا۔(فتاویٰ رضویہ ۱۲، ۴۳۶) ملخصاً

۷۔ امریکی مجسم پروفیسر البرٹ نے 1919دسمبر 17 كو ایک ہولناک پیشن گوئی کی جس میں سورج میں سوراخ ہونے زمین میں تباہی کے انکشافات کیے تھے اعلیٰ حضرت نے آیاتِ قرانیہ اور ۱۷ دلائل عقلیہ سے اس کی پیش گوئی کو پارہ پارہ رکرنے کے بعد آخر میں فرمایا منجم پر اور مواخذات بھی ہیں ۔ (فتاویٰ رضویہ ۲۷/۲۴۱۔۲۴۲) پھر سب نے دیکھا اس منجم کی پیشن گوئی جھوٹی اور امام اہلسنت کا کلام سچا ہوا۔

۸۔ فتاویٰ رضویہ کا ۱۵ صفحات پر مشتمل مختصر رسالہ بنام (التحیریات التدبیر) بھی ۲۱ آیت قرآن ۴۰ احادیث نبویہ کثیر نصوص و جزئیات سے معمور ہے، اتنا تحر یرکرنے کے بعد صاحبِ فتاویٰ کی شان دیکھئے آپ فرماتےہیں :فقیر دعویٰ کرتا ہے کہ ان شآ اللہ اگر محنت کی جائے تو ۱۰۰۰سے زائد آیات و احادیث اس پر جمع ہوسکتی ہے۔

۹۔علم کلام، و علم حدیث و اصول حدیث فقہ کا علاوہ طب نجوم و تاریخ ہیئت فلسفہ اور اس جیسی کئی علوم جدیدہ قدیمہ کے متعلق فتاویٰ جات و مسائل بھی فتاویٰ رضویہ کا حصہ ہیں۔

۱۰۔ فتاویٰ رضویہ کی ایک نمایاں خصوصیات یہ بھی ہے کہ اس میں موجود ہر رسالے کا نام تاریخی ہے جس سے اس رسالہ کا سن تحریر نکالا جاسکتا ہے۔

کیا بیان کریں اور کیا چھوڑیں یہ تو اس عظیم بے نظیر شاہکار کے بحربے کر اں میں سے چند قیمتی موتی بطور نمونہ ذکر کیے گئے ہیں ورنہ اس کی گہرائیوں میں سے گوہر نایاب نکالنے کے لیے محققین اب تک اس سمندر میں غوطہ زن ہیں اور یہ سلسلہ جاری و ساری رہے گا۔ان شا اللہ عزوجل

ملکِ سخن کی شاہی تم کو رضا مسلم

جس سمت آگئے ہو سکے بٹھادیئے ہیں

زندگیاں ختم ہوئیں اور قلم ٹوٹ گئے

تیرے اوصاف کا ایک باب بھی پورا نہ ہوسکا

نوٹ: یہ مضامین نئے لکھاریوں کے ہیں۔حوالہ جات کی تفتیش و تصحیح کی ذمہ داری مؤلفین کی ہےادارہ اس کا ذمہ دار نہیں

تربیت، انسانی اخلاق کو سنوارنے والی چیز ہے جس کی وجہ سے انسان دوسروں کی نظروں میں معزز بن جاتا ہے۔

تربیت کا درست وقت:

ویسے تو تربیت کا تعلق کسی خاص وقت سےنہیں ہوتا، لیکن خاص طور پر بچے کی تربیت بہت اہم ہوتی ہے کیونکہ بچے کا ذہن کورے کاغذ کی طرح ہوتا ہے اس پر جو بھی لکھا جائے وہ پتھر پرلکیر کا کام دیتا ہے، یعنی ابتداء ًہی جو بات اس کے دل ودماغ میں ڈال دی جائے وہ مضبوط ومستحکم ہوجاتی ہے۔لہٰذا والدین کوچاہیے کہ وہ بچپن ہی سے اولاد کی تربیت پر بھر پور توجہ دیں ،اسے بچہ سمجھ کر یا بول کر (Ignore) یعنی نظرانداز نہ کریں۔

بچوں کی تربیت کا انداز کیسا ہو؟

ہمارے پیارے آقاصلی اللہ علیہ وسلم ہر کام میں ہمارے لیے مشعل راہ ہے اس لیے بچوں کی تربیت کے معاملے میں حضورِ پاک صلی اللہ علیہ وسلم کا اندازِ تربیت پیش نظر ہونا چاہیے۔

بچوں کو اپنے ساتھ بٹھا کرکھلائیےاور مثبت انداز سے سمجھائیے:

رسول پاک صلی اللہ علیہ وسلم بچوں کو اپنے ساتھ بٹھا کر کھانہ کھلاتے جس سے بچوں کی دلجوئی کے ساتھ ساتھ تربیت کا سامان بھی ہوتاتھا ۔چنانچہ ایک مرتبہ حضرت عمر بن ابی سلمہ رضی اللہ عنہ رسول پاک صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ بیٹھ کر کھانا کھا رہے تھے کہ آپ رضی اللہ عنہ کا ہاتھ پلیٹ میں کبھی اِدھر پڑتا،کبھی اُدھر۔رسول پاک صلی اللہ علیہ وسلم نے اس انداز سے سمجھایا کہ انہیں محسوس ہی نہیں ہوا کہ غلطی پر ٹوکا جارہا ہے یا آداب سکھائے جارہے ہیں،چنانچہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:"يَا غُلاَمُ، سَمِّ اللَّهَ، وَكُلْ بِيَمِينِكَ، وَكُلْ مِمَّا يَلِيك" اے بچے!جب کھانا کھاؤ تو اللہ کا نام لو،اپنے دائیں ہاتھ سے کھاؤ اور اپنے سامنے سے کھاؤ۔

(صحیح بخاری:کتاب الاطعمۃ:باب التسمیۃ علی الطعام والاکل بالیمین:حدیث 5376)

تربیت کرنے والوں کے لیے اس فرمان میں سیکھنے کے لیے بہت کچھ ہے کہ ابتداءً ٹوکنے کے بجائے کچھ آداب بیان کرنے کی وجہ سے انداز بھی مثبت رہا اور مقصود بھی حاصل ہوگیا یہی وجہ ہے کہ حضرت عمر بن ابی سلمہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ اس کے بعد میرے کھانے کا انداز ویسا ہی رہا جیسا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے بیان فرمایاتھا۔

بوقت ضرورت ڈانٹ ڈپٹ بھی کی جائے:

رسول پاک صلی اللہ علیہ وسلم کی شفقت کو دیکھا جائے تو حضرت انس رضی اللہ عنہ نے دس سال رسول پاک صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں گزارے لیکن کبھی بھی انہیں ڈانٹا نہیں گیاجس کی گواہی حضرت انس رضی اللہ عنہ خود دیتے ہیں۔(مسلم :کتاب الفضائل: بَابُ كَانَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَحْسَنَ النَّاسِ خُلُقًا:حدیث 2309)

اور اگر کہیں تربیت کے معاملے میں پیار ومحبت سے سمجھانا مؤثر نہ ہورہا ہو اور معاملہ فرائض کا ہو تو وہاں بطورِ تنبیہ ڈانٹ ڈپٹ کا حکم بھی ارشاد فرمایا ہے،چنانچہ فرمایا:"مُرُوا أَوْلَادَكُمْ بِالصَّلَاةِ وَهُمْ أَبْنَاءُ سَبْعِ سِنِينَ، وَاضْرِبُوهُمْ عَلَيْهَا، وَهُمْ أَبْنَاءُ عَشْر"یعنی اپنی اولاد کو نماز کا حکم دو جب کہ وہ سات سال کے ہوجائیں اور جب دس سال کے ہوجائیں تو نماز نہ پڑھنے کی وجہ سے انہیں مارو۔

(سنن ابی داؤد:کتاب الصلاۃ:حدیث495)

اللہ پاک ہمارے بچوں کی اچھی تربیت کے معاملے میں ہمارے معاون ومددگارپیدا فرمائے،اور انہیں معاشرے کا بہترین فرد بنائے۔آمین بجاہ النبی الامین صلی اللہ علیہ وسلم


نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی کے جس گوشے پر بھی نظر ڈالیے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کامل ومکمل نظرآئیں گے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی مربیانہ زندگی پر نظر کریں تو دنیا کے تمام ہی معلّمین آپ کے خوشہ چین نظر آئیں، آپ علیہ الصلاة والسلام کی ازدواجی زندگی کا جائزہ لیں تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم اپنی بیویوں کے لیے بہترین شوہر ہیں، آپ کی مجاہدانہ وسپاہیانہ زندگی پر نظر کریں تو دنیا کے بہادر آپ سے کوسوں دور ہوں گے، اسی طرح بچوں کے ساتھ آپ کے حسنِ سلوک کا جائزہ لیں تو آپ بہترین مربی بھی ہیں، نیز آپ سے زیادہ کوئی بچوں پر رحم کرنے والابھی نہ ہوگا، آپ نے بچوں کے ساتھ نرمی، محبت، عاطفت، ملاطفت کا درس نہ صرف اپنی تعلیمات ہی کے ذریعہ دیا بلکہ اپنے عمل سے بھی اس کا ثبوت پیش فرمایا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے:

جو چھوٹوں پر رحم نہ کرے اور بڑوں کی تعظیم نہ کرے وہ ہم میں سے نہیں اسی طرح آپ نے فرمایا: جو نرمی سے محروم ہے وہ تمام ہی خیر سے محروم ہے (صحیح مسلم)

بچوں کے ساتھ حسنِ سلوک کے عطر بنیر سیرت کے چند نمونے ذیل میں مذکور ہیں:

اولاد واحفاد کے ساتھ سلوک :

آپ صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کے فرزند حضرت ابراہیم کا جب انتقال ہوا تو آپ بڑے غمزدہ تھے، آپ کی آنکھوں سے آنسو رواں تھے، حضرت عبد الرحمن بن عوف نے تعجب خیز لہجہ میں استفسار کیا: آپ بھی رورہے ہیں؟ آپ صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے جواب دیا، اے ابن عوف یہ رحمت ہے، بلا شبہ آنسو بہہ رہے ہیں، دل غم زدہ ہے؛ لیکن اس حالتِ غم میں بھی ہم وہی بات کہیں گے جس سے اللہ تعالیٰ راضی ہو۔

پھر آپ صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے فرمایا: اے ابراہیم ہم تمہاری جدائی سے غم زدہ ہیں اس صورتِ حال کو دیکھ کر حضرت انس نے فرمایا: اہل وعیال پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے زیادہ مشفق میں نے کسی کو نہیں دیکھا بچپن کا زمانہ بے شعوری وبے خیالی کا زمانہ ہوتا ہے، اس زمانہ میں بچے بڑوں کے رحم وکرم کے محتاج ہوتے ہیں، بچے انھیں کو اپنا محسن سمجھتے ہیں جو انھیں اپنے قریب رکھتے ہیں، تربیت کا جو حسین موقع قربت وانسیت سے ممکن ہے ڈانٹ ڈپٹ ، زجرو توبیخ سے اس کی توقع بھی نہیں کی جاسکتی ہے، اسی لیے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا حسنِ عمل یہی رہا کہ بچوں کو بالکل اپنے سے قریب رکھا حتی کہ بچوں کے کھیل کا بھی لحاظ کیا، اگر کسی موقع پر وہ نماز میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر سوار ہوگئے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کی ضرورت کی تکمیل کا بھر پور خیال رکھا ۔چنانچہ اپنے نواسوں سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے بھر پور محبت کا مظاہرہ فرمایا۔ حضرت عبد اللہ بن شداد اپنے والدسے نقل فرماتے ہیں: ایک دفعہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نماز میں حضرت حسن یا حسین کو ساتھ لائے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز پڑھائی، درمیان نماز آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سجدہ طویل فرمایا: حضرت شداد فرماتے ہیں کہ میں نے سر اٹھایا تو کیا دیکھتا ہوں کہ بچہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی پشت پر سوار ہے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم سجدہ میں ہیں، لہٰذا میں دوبارہ سجدے میں چلا گیا، جب نماز مکمل ہوگئی تو صحابہ کرام نے سوال کیا کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم آپ نے دورانِ نماز سجدہ طویل فرمایا! ہمیں یہ گمان ہونے لگا تھا کہ کوئی معاملہ پیش آیا ہے یا یہ کہ آپ پر وحی اتررہی ہے، آپ نے فرمایا:ان میں سے کوئی بات نہ تھی؛ بلکہ میرا بیٹا میری پشت پر سوار تھا، میں نے مناسب نہ سمجھا کہ بچہ کی ضرورت کی تکمیل سے پہلے سجدہ ختم کروں۔

اقرع بن حابس رضی اللہ عنہ نے دیکھا کہ آپ صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم حضرت حسن رضی اللہ عنہ کو چوم رہے ہیں، یہ دیکھ کر کہنے لگے کہ حضور میرے دس بچے ہیں، میں نے کبھی کسی کو نہیں چوما آپ صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے فرمایا: جو شخص رحم نہیں کرتا اس پر رحم نہیں کیا جاتا ۔

ایک د فعہ آپ صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم حضرت حسن کو چوم رہے تھے ایک دیہاتی نے حیرت کا اظہار! کیا تو فرمایا کہ اگر اللہ نے تیرے دل سے رحمت کو نکال دیا تو میں کیا کرسکتا ہوں۔

غور کیجئے ! آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے نہ صرف یہ کہ اپنی اولاد سے خود محبت فرمائی بلکہ امت کو بھی اس کی تعلیم دی، اور رحیمانہ سلوک کے ترک پر ترہیب ارشاد فرمائی کہ وہ شخص عند اللہ بھی قابلِ رحم نہیں، لہٰذا بچوں کے ساتھ مشفقانہ برتاوٴ ہمارا وطیرہ ہونا چاہیے۔

حضرت ابو ہریرة فرماتے ہیں: ایک دفعہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم حضرت فاطمہ کے گھر کے صحن میں بیٹھ کر حضرت حسن کے بارے میں دریافت کیا، تھوڑی ہی دیر میں وہ آگئے، آپ نے انھیں گلے سے لگایا، بوسہ دیااور فرمایا: اے اللہ! میں حسن سے محبت رکھتا ہوں تو بھی حسن سے محبت رکھنے والوں سے محبت رکھ جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی صاحبزادی حضرت زینب کا انتقال ہوا تو ان کی صاحبزادی امامہ سے آپ صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم بہت زیادہ محبت کا اظہار فرماتے، ان پر بہت زیادہ شفقت فرماتے بعض دفعہ اپنے ساتھ مسجد بھی لے آتے، وہ آپ پر حالت ِ نماز میں سوار بھی ہوجاتیں، جب آپ سجدہ میں جاتے تو انھیں نیچے اتار دیتے، جب قیام فرماتے تو کاندھے پر سوار فرمالیتے۔

بعض دفعہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے نواسوں کے پاس آتے، انھیں گود میں بٹھاتے، انھیں چومتے ان کے لیے دعا فرماتے، آپ نے اپنے نواسوں کے ذریعہ اپنی آل واولاد کے ساتھ رہنے کا طریقہ سکھلایا۔

دیگر بچوں کے ساتھ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا طرزِ عمل:

ہم بچوں سے محبت کرتے ہیں صرف اپنے ہی بچوں سے، دوسروں کے بچوں سے محبت یکسر نا پید ہے، آپ نے اس تفریق کا خاتمہ فرمایا، جہاں آپ نے اپنے بچوں کے تئیں تعلق کا اظہار فرمایا، وہیں دیگر صحابہٴ کرام کی اولاد پر بھی نگاہِ شفقت ڈالی۔

ابو موسی اشعری فرماتے ہیں کہ میرے گھر ایک لڑکا تولد ہوا، میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے در پر حاضر ہوا، آپ صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے اس کا نام ابراہیم رکھا، کھجورسے اس کی تحنیک (گھُٹّی) فرمائی، اور اس بچے کے لیے برکت کی دعافرمائی، یہ ابو موسی اشعری کے بڑے صاحبزادے تھے۔

حضرات صحابہٴ کرام کی عادتِ طیبہ یہ تھی کہ کسی کے گھر بھی ولادت ہوتی تو اس کو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس لے آتے آپ بچے کو لیتے، اسے چومتے اس کے لیے برکت کی دعا کرتے، اسی طرح جب بعض دفعہ دورانِ نماز بچے کے رونے کی آواز آتی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نماز میں تخفیف فرمادیتے۔ایک دفعہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ام خالد کو بلایا بذاتِ خود اس لڑکی کو خصوصی قمیص پہنائی، اور فرمایا: اس وقت تک پہنو کہ یہ پُرانی ہوجائے ۔ایک دفعہ آپ نے ایک بچے کو گود میں اٹھالیا، بچے نے کپڑے پر پیشاب کردیا، آپ نے اس پر پانی بہا کر صاف کرلیا۔(یعنی پاک کرنے ے طریقہ پر پاک کیا )

حضرت انس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میرا ایک چھوٹا بھائی تھا، اس کانام ابو عمیر تھا، (اس کے پاس ایک چڑیا تھی) آپ صلی اللہ علیہ وسلم آئے ابو عمیر سے فرمانے لگے: ”یَا أبَا عُمَیْر! مَا فَعَلَ الْنُغَیر؟“ یعنی اے ابو عمیر تمہاری چڑیا کیا ہوئی؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم مشغولیت ومصروفیت کے باوجود صحابہٴ کرام کی اولاد کے ساتھ نرمی، محبت، انسیت اور الفت کا معاملہ فرماتے، انھیں خوش کرنے کی ترکیبیں اپناتے، ان کے پرندوں کے تئیں استفسار کرتے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے سوال کردہ اس محبت بھرے جملے سے فقہاء عظام نے کئی مسائل نکالے ہیں۔

نوٹ: یہ مضامین نئے لکھاریوں کے ہیں۔حوالہ جات کی تفتیش و تصحیح کی ذمہ داری مؤلفین کی ہےادارہ اس کا ذمہ دار نہیں


اللہ سبحان و تعالی نے ہماری اتنی کوتاہیوں کے باوجودہمیں بےشمار نعمتوں سے نوازا ، اگر ہم جائزہ لیں تو لگے گا کہ ان سب نعمتوں میں سے سب سے بڑی نعمت ہماری اولاد ہے ہمارے بچے ہمارے جسم کا ایک حصہ، ہمارے جگر کے ٹکرے ،گھر کے آنگن میں کھیلتے ہوئے اپنی ننھی مُنّی باتوں اور شرارتوں سے من کو بھاتے ہوئے عزیز از جان بن جاتے ہیں۔ مگر ہم میں سے اکثر ماں باپ یا تو بہت زیادہ لاڈ پیار سے ان کو بگاڑ دیتے ہیں یا ان پہ اتنی سختی کرتے ہیں کہ بچے ذہنی مریض بن جاتے ہیں ،پھر یا تو غلط کاموں میں پڑ جاتے ہیں یا پھر چپکے سے موت کو گلے لگا لیتے ہیں بچوں کی تعلیم و تربیت کے حوالے سے ہمیں اگر کہیں سے رہنمائی لینی ہے تو اس کے لئے ہمارے پیارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی حیات مبارکہ ہمارے لئے مشعل راہ ہے۔

پیارے نبی صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم بچوں پر خصوصی شفقت فرماتے تھے جب سفر سے واپس آتے تھے تو بچے انکے استقبال کے لئے دوڑے جاتے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے لپٹ جاتے آپ صلی اللہ علیہ وسلم ان سے پیار کرتے اور اپنے ساتھ سوار کر لیتے۔آپ صلی اللہ علیہ وسلم بچوں پر خصوصی توجہ فرماتے انکی چھوٹی چھوٹی خوشیوں کا خیال رکھتے انکے کھیل کا بھی لحاظ کرتے نماز کی ادائیگی کے دوران ننھے منُےّ حسن و حسین سجدے کی حالت میں آپکی پیٹھ مبارک پہ سوار ہو جاتے تو اپ بجائے غصہ کرنے کے اپنے سجدے کو طویل فرما لیتے۔

اقرع بن حابس نے دیکھا آپ صلی اللہ علیہ وسلم بچے کو چوم رہے ہیں یہ دیکھ کر کہنے لگا حضور میرے دس بچے ہیں مگر میں نے کبھی ان سے پیار نہیں کیا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جو رحم نہیں کرتا اس پر رحم نہیں کیا جاتا۔(بخاری:5997)

محبوب خدا نہ صرف مسلمان بچوں بلکہ غیر مسلم بچوں کے ساتھ بھی نرمی والا معاملہ فرماتے تھے بے حد مصروفیت کے باوجود صحابہ کرام کی اولاد کے ساتھ بھی محبت و نرمی فرماتے اور ان کے شوق و مشاغل کے بارے میں بات چیت فرماتے آپ صلی علیہ وسلم نے خصوصی طور پر معاشرے کے کمزور طبقے پر رحم کی تلقین فرمائی اور اپنے عمل سے اسکی مثالیں پیش کیں اپنی امت کو نصیحت فرمائی ،بچوں کے حقوق اور تعلیم و تربیت میں کوتاہی سے پرہیز کرو ہمارے نبی پیارے نبی کی پوری زندگی ہمارے لئے مثال ہے ان کے فرمان پہ عمل پیرا ہوتے ہوئے ہم ایک نسل کی پروش کریں تو یہی بچے نہ صرف ہماری آنکھوں کی ٹھنڈک بنیں گے بلکہ محب وطن بنیں گے اور اخرت میں ہماری نجات کا ذریعہ بھی اِنْ شَآءَ اللہ عَزَّ وَجَلَّ۔

نوٹ: یہ مضامین نئے لکھاریوں کے ہیں۔حوالہ جات کی تفتیش و تصحیح کی ذمہ داری مؤلفین کی ہےادارہ اس کا ذمہ دار نہیں


اولاد اللہ تعالیٰ کی نعمتوں میں سے ایک عظیم نعمت ہے جس کی پیدائش پر خوشی اور مسرت کا اظہار کرنا اور اس کے فضل و شکر بجالانا، تقاضائے بندگی میں ہے، لیکن ان كی تربیت کرنا ہماری ایک اہم ذمہ داری ہے ، حضور نبی کریم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کے اُسوہ حسنہ کی روشنی میں والدین كو بچوں کے ساتھ اچھا رویہ اختیار کرنا چاہیے۔آئیے آپ علیہ السلام کی بچوں کی تربیت کے بارے میں سنتے ہیں۔

حدیث پاک:

حضرت ابورافع فرماتے ہیں کہ انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کو دیکھا کہ جب سیدہ فاطمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کے ہاں حضرت حسن بن علی رضی اللہ تعالیٰ عنہما پیدا ہوئے تو آپ علیہ السلام نے ان کے کان میں اذان کہی۔(حوالہ ، ہیثمی مجمع الزوائد ،۴۔59)

حدیث مبارکہ :

ام المومنین سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں: رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کے پاس نومولود بچے لائے جاتے تو آپ علیہ السلام ان کے لیے برکت کی دعا فرماتے اور انہیں گھٹی دیتے۔تحنیک کرنا سنت رسول صلی اللہ تعالٰ علیہ وسلم ہے۔(مسلم ، الصحیح، کتاب الادب ۳،۱۹۹)

بچے پیدا ہونے کے بعد اس کا اچھا اسلامی نام رکھے کہ آپ علیہ السلام نے اپنے بیٹے ابراہیم کا نام رکھا تھااور فرمایا کہ میں نے اپنے باپ ابراہیم کے نام پر ابراہیم رکھا۔

حدیث مبارکہ:

سیدہ عائشہ بیان کرتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے حضرت حسن اور حضرت حسین کا عقیقہ ان کی پیدائش کے ساتویں دن کیا ، اسی دن ان کے نام رکھے اور ان دونوں کے سروں سے تکلیف دہ چیز کو ہٹانے کا حکم فرمایا۔(ابن حبان ۱۲، ۲۷)

حدیث مبارکہ سے یہ بھی ثابت ہے کہ حضور اکرم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے بچوں کو سب سے پہلے کلمہ طیبہ سکھانے کی تلقین فرمائی۔

حدیث مبارکہ:

اللہ عزوجل کے محبوب دانائے غیوب صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کا فرمان ہے کوئی شخص اپنی اولاد کو ادب سکھائے اور وہ اس کے لیے ایک صاع صدقہ کرنے سے افضل ہے۔(حوالہ ترمذی ج ۳، ص۲۸۲)

آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم بچوں سے پیار کرتے تھے انہیں چومتے تھے ایک روز آپ علیہ السلام حضرت حسن بن علی کو چوم رہے تھے اقرع بن جانبین تیمی آپ علیہ السلام کے پاس بیٹھے تھے دیکھ کر کہنے لگے کہ میرے دس لڑکے ہیں میں نے ان میں سے کسی کو نہیں چوما آپ علیہ السلام نے فرمایا: جو رحم نہیں کرتا اس پر رحم نہیں کیا جاتا۔

( صحیح بخاری کتاب الادب )

آدمی کا اپنے بچوں پرخرچ کرنے کی تلقین حدیث مبارکہ میں جا بجا آئی ہے اور اس کی فضیلت بھی ہے،آپ علیہ السلام نے فرمایا: آدمی کا اپنے اہل و عیال پر خرچ کرنا صدقہ ہے۔(ترمذی ، شریف کتاب البروالصلۃ)

آپ علیہ السلام نے فرمایا: اولاد کی خوشبو جنت کی خوشبو ہے۔(حوالہ احیائے علوم جلد ۲)

آپ علیہ السلام نے فرمایا اپنی اولاد کو عطا کرنے میں برابرکرو(حوالہ احیائے العلوم جلد۲)

آپ علیہ السلام بچوں کی تربیت کا خاص اہتمام فرماتے ان سے محبت سے پیش آتے، انہیں گود میں بٹھاتے اچھے اخلاق کی تعلیم دیتے الغرض آپ علیہ السلام تو اپنی بچی فاطمۃ الزہرہ رضی اللہ عنہا سے بے حد محبت فرماتے ان کے لیے کھڑے ہوجاتے، کسی پر غصہ نہیں ہوئے، اللہ عزوجل سے دعا ہےکہ اللہ عزوجل ہمیں اپنے بچوں کی بہتر تربیت اور انہیں دینی تعلیم دینے کی توفیق عطا فرمائےآمین بجاہ النبی الامین صلی اللہ علیہ وسلم

نوٹ: یہ مضامین نئے لکھاریوں کے ہیں۔حوالہ جات کی تفتیش و تصحیح کی ذمہ داری مؤلفین کی ہےادارہ اس کا ذمہ دار نہیں

آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم بچوں پرنہایت شفقت فرماتے تھے، بچے آپ کی خدمت میں بغرض دعا و تحنیک لائے جاتے تھے ۔ ایک روز اُم قیس بنت محصن اپنے شیر خوار بچے کو خدمتِ اقدس میں لائیں، آپ صلی اللہ تعالیٰ علہ وسلم نے اس بچے کو اپنی گود میں بٹھالیا اُس نے آپ صلی اللہ علیہ و سلم کے کپڑوں پر پیشاب کردیا، آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے اس پر پانی بہادیا (یعنی پاک کرنے کے طریقہ پر اسے پاک کر لیا )اور کچھ نہ فرمایا۔

آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم بچوں کو چومتے اور پیار کرتے تھے ایک روز آپ حضرت حسن بن علی رضی اللہ عنہما کو چوم رہے تھے اقرع بن حابس تمیمی آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کے پاس بیٹھے تھے دیکھ کر کہنے لگے، میرے دس لڑکے ہیں میں نے ان میں سے کسی کو نہیں چوما، آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے فرمایا، جو رحم نہیں کرتا اس پر رحم نہیں کیا جاتا۔

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کا بیان ہے کہ فصل کا کوئی پھل پکتا تو لوگ اسے رسول صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کی خدمت میں لایا کرتے تھے آپ اس پر یہ دعا پڑھا کرتے تھے۔ خدایا ہمیں اپنے مدینے میں اور اپنے پھل میں اور اپنے مد اور اپنے صاع میں برکت دے۔اس دعا کے بعد جو بچے حاضر خدمت ہوتے ان میں سے سب سے چھوٹے کو وہ پھل عنایت فرماتے۔( سیرت رسول عربی)

نوٹ: یہ مضامین نئے لکھاریوں کے ہیں۔حوالہ جات کی تفتیش و تصحیح کی ذمہ داری مؤلفین کی ہےادارہ اس کا ذمہ دار نہیں