دعوت اسلامی کی مجلس کارکردگی کے زیر اہتمام میانوالی زون میں تربیتی سیشن کا سلسلہ ہوا جس میں میانوالی کابینہ، نمل کابینہ، حافظ والا کابینہ کے اسلامی بھائیوں  نے شرکت کی۔

نگران زون محمد زاہد عطاری اور کارکردگی مجلس کے ریجن ذمہ دار محمد علی عطاری نے شرکا کی تربیت کی۔ ذمہ داران نے دعوت اسلامی کی ڈیجیٹل سروسز اور کارکردگی سافٹ ویئر کے بارے میں معلومات فراہم کی۔


اسلامی بہنوں کی مجلس شارٹ کورسز کے زیراہتمام آن لائن کورس’’تفسیر سورہ رحمن ‘‘ کا انعقاد کیا گیا جس میں فیصل آباد ریجن میں بذریعہ آن لائن 86 درجات میں 636 اسلامی بہنوں نے شرکت کی ۔

کورس میں شریک اسلامی بہنوں میں سے 567 اسلامی بہنوں نے مزید شارٹ کورسز کرنے کی نیت کی جبکہ 515 اسلامی بہنوں نے تفسیر صراط الجنان پڑھنے کی نیت بھی کی۔

دعوت اسلامی کی مجلس رابطہ بالعلماء کے ذمہ داران نے 20 ستمبر 2020ء بروز اتوارمانکی شریف میں مزارات پر حاضری دی اور فاتحہ خوانی کا سلسلہ ہوا۔ ذمہ داران نے صاحبزادہ جانشین پیرآف مانکی شریف مفتی جنید القادری صاحب سے ملاقات  کی اور دعوت اسلامی کے چند شعبہ جات کا تعارف پیش کرتے ہوئے مدنی کاموں پر تفصیلی گفتگو کی۔


دعوت اسلامی کے تعلیمی شعبہ جامعۃ المدینہ کے  زیر اہتمام رکن شوریٰ حاجی محمد اسد عطاری مدنی نے فیضِ باغ دوموریہ پل نیو کے قریب مدنی بستے کا افتتاح کیا۔ اس موقع پر مقامی سطح کے ذمہ داران اور دیگر اسلامی بھائی بھی موجود تھے۔

اسی طرح رکن شوریٰ حاجی محمد اسد عطاری مدنی نے شاہ عالم مارکیٹ لاہور شمالی زون اور جامعۃ المدینہ گلزار حبیب جنوبی زون میں بھی مدنی بستے کا افتتاح کیا۔ افتتاح کے موقع پر علاقے کے ذمہ داران اور جامعۃ المدینہ کے اسلامی بھائی موجود تھے۔


دعوت اسلامی کی مجلس وکلاء کے زیر اہتمام بورے والا ضلع وہاڑی میں پریزیڈنٹ بار بورے والا سمیت دیگر وکلاء کے چیمبرز میں مدنی حلقے کا سلسلہ ہوا۔ نگران مجلس عبد الواحد عطاری نے مدنی حلقے میں موجود وکلاء کو نیکی کی دعوت پیش کی اور مجلس وکلاء کے مدنی کاموں میں تعاون کرنے کی ترغیب دلائی ۔ (رپورٹ: محبوب شہزاد عطاری، مجلس وکلاء ملتان ریجن)


 21 ستمبر 2020ء کو دعوت اسلامی کی مجلس وکلاء کے نگران عبد الواحد عطاری نے بورے والا بار ایسوسی ایشن میں جنرل سیکرٹری سمیت 10 ایڈوکیٹ چیمبر میں نیکی کی دعوت دی۔ نگران مجلس نے وکلاء کو ہفتہ وار اجتماع اور مدنی مذاکرے میں شرکت کرنے کی ترغیب دلائی۔ (رپورٹ: محبوب شہزاد عطاری، مجلس وکلاء ملتان ریجن)


باادب با نصیب 

Thu, 24 Sep , 2020
6 years ago

آج تک جس نے جو کچھ بھی پایا وہ صرف ادب ہی کی وجہ سےپایا اور جو کچھ بھی کھویا وہ بے ادبی کی وجہ سے ہی کھویا، شاید اسی وجہ سے یہ بات بھی مشہور ہے کہ ”باادب با نصیب  بے ادب بے نصیب“

شیطان نے بھی بے ادبی کی تھی یعنی حضرت آدم علیہ السلام کی بے ادبی کی جب کہ یہ معلم الملکوت تھا یعنی فرشتوں کا سردار ، یہ اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں اس قدر مقرب تھا مگر حکم الہی کی نافرمانی کی تو اس کی برسوں کی عبادت ختم ہوگئی اورہمیشہ ہمیشہ کے لیے جہنمی ہوگیا ہمیں بھی شیطان کے اس برے انجام سے ڈر جانا چاہیے اور جن جن کی اللہ پاک نے ادب کر نے کا حکم دیا ادب کرنا چاہیے، اور ادب کرنے سے تو ایمان جیسی دولت بھی مل جاتی ہے جیسا کہ حضرت موسیٰ علیہ السلام کا ادب کرنے سے جادو گروں کو ایمان کی دولت نصیب ہوئی، ہمیں انبیا کرام کے ساتھ ساتھ علمائے کرام کی بھی عزت کرنی چاہیے۔

علما ہی تو دین اسلام لوگوں تک پہنچاتے ہیں، بدقسمتی سے آج کل ان کی عزت لوگوں کے دلوں سے ختم کی جارہی ہے یاد رکھیے علما ہی انبیا کے وارث ہیں، ادب کرنے کی وجہ سے ہی ولایت کا درجہ بھی مل جاتا ہے۔

حضرت بشر حافی جو کہ ولایت سے پہلے ایک شرابی تھے ، بس انہوں نے اللہ پاک کے نام کی یعنی بسم اللہ الرحمن الرحیم کی تعظیم کی جس کی وجہ سے اللہ پاک نے ولایت کا ایسا درجہ عطا فرمایا کہ جانور بھی آپ کی تعظیم کی خاطر راستے میں گوبر نہ کرتے کیونکہ آپ رحمۃ اللہ علیہ ننگے پاؤں ہوا کرتے تھے بزرگان دین کی زندگی کا مطالعہ کریں تو ان کی زندگیاں ادب سے بھری ہوتی ہیں، اعلیٰ حضرت سادات کرام کا بے حد ادب فرماتے جب بھی سادات کرام کو کچھ پیش کرنا ہوتا ڈبل حصہ عطا فرماتے، ہمیں بھی ان کی زندگی سے سیکھنا چاہیے ۔

اسلام میں مسجد کے آداب بھی سکھانا ہے ملفوظات اعلیٰ حضرت میں مسجد کے اداب بیان کیے چند ایک پیشِ خدمت ہے۔

مسجد میں دوڑنا یا زور سے پاؤں رکھنا جس سے دھمک پیدا ہو، منع ہے ۔

مسجد میں چھینک آئے تو کوشش کریں آؤاز نہ نکلے حدیث پاک ہیں ہے ۔

مفہوم حدیث: اللہ عزوجل کے پیارے حبیب صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم مسجد میں زور سے چھینک کو ناپسند فرماتے۔

نوٹ: یہ مضامین نئے لکھاریوں کے ہیں۔حوالہ جات کی تفتیش و تصحیح کی ذمہ داری مؤلفین کی ہےادارہ اس کا ذمہ دار نہیں


اعلیٰ حضرت رحمۃ اللہ علیہ نے تصنیفی میدان میں کم و بیش ایک ہزار (1000) کتب تصنیف فرمائیں۔آپ رحمۃ اللہ علیہ کی جس کتاب کو سب سے زیادہ اہمیت حاصل ہےوہ آپ رحمۃ اللہ علیہ کے فتاویٰ جات پر مشتمل بنام ”اَلْعَطَایَا النَّبَوِیَّہ فِی الفَتَاوَی الرَّضَوِیَّہ“ ہے۔ اس علمی خزانے کی صرف دس خصوصیات پیش کی جاتی ہیں: (1)ضخامت:جدید تخریج کے بعد تیس (30) جلدوں پر مشتمل فتاویٰ رضویہ تقریباً بائیس ہزار (22000) صفحات، چھ ہزار آٹھ سو سینتالیس (6847) سوالات و جوابات اور دو سو چھ (206) تحقیقی رسائل کا مجموعہ ہے جبکہ ہزاروں مسائل ضمناً زیرِ بحث آئے ہیں۔ (2)خطبہ بے مثال: فتاویٰ رضویہ کے ابتدائی خطبہ میں اعلیٰ حضرت رحمۃ اللہ علیہ نے نوّے (90) اسمائے ائمہ و کتبِ فقہ کو بطورِ براعتِ اِستہلال (علمِ بدیع کی ایک صنعت کا نام) استعمال کرتے ہوئے اس انداز سے ایک لَڑی میں پرو دیا کہ اللہ پاک کی حمد و ثنا بھی ہوگئی اور ان اسمائے مقدّسہ سے تبرّک بھی حاصل ہوگیا۔ (3) اُسلوبِ تحقیق: فتاویٰ رضویہ میں اعلیٰ حضرت رحمۃ اللہ علیہ کسی مسئلہ کی تحقیق میں پہلے لغوی معنی، اصطلاحی تعریف، تقسیم، پھر بحث سے متعلق قسم کا تعین، پھر زیرِ بحث قسم کا حُکمِ شرعی بیان کرتے ہوئے قراٰن، حدیث اور اجماع ہو تو نقل کرنے کے بعد اختلاف کی صورت میں مذاہبِ ائمہ ورنہ حنفی مسلک کو بیان کرتے ہوئے ائمہ، مشائخ اور اصحابِ فتویٰ کے اقوال نقل کرتے ہیں۔ (4)مرجع عوام و علما:فتاویٰ رضویہ کے سائلین میں عوامُ النّاس کے ساتھ ساتھ اپنے وقت کے بڑے بڑے علما و فضلا، محدثین و فقہا شامل تھے، جو پیچیدہ مسائل کے حل کے لئے اعلیٰ حضرت رحمۃ اللہ علیہ کی طرف رجوع فرماتے۔ (5)عقائدِ اہلِ سنّت کا دِفاع: فتاویٰ رضویہ میں فقہی تحقیقات کے علاوہ عقائدِ اہلِ سنّت کے دِفاع میں بھی کئی رسائل شامل ہیں، جن کے ذریعے اعلیٰ حضرت رحمۃ اللہ علیہ نے اہلِ سنّت کے عقائد کی دُرست تصویر پیش کی۔ (6)مُعتمَد عَلَیہ فتاویٰ: فتاویٰ رضویہ فقہ حنفی کا مستنَد فتاویٰ ہے۔ علما و مفتیانِ کرام فتویٰ دینے میں دیگر کتابوں کے ساتھ ساتھ اس علمی ذخیرے کی طرف بھی رجوع فرماتے ہیں۔ (7)متعدّد علوم کا جامع:فتاویٰ رضویہ صرف فقہی مسائل پر ہی مشتمل نہیں بلکہ دیگر بیسیوں علوم و فنون کا بھی عظیم مجموعہ ہے، جن میں حدیث، تفسیر، علمُ الکلام، سائنس، توقیت، ریاضی، منطِق، فلسفہ وغیرہ قابلِ ذکر ہیں۔ (8)دلائل کے انبار: دلائل و اِستشہادات کی جو کثرت فتاویٰ رضویہ میں ہے اس کی صرف ایک جھلک ”لَمْعَۃُ الضُّحٰی فیِ اِعْفَآءِ اللُّحٰی“ جیسا تحقیقی فتویٰ ہے۔ اس رسالہ میں 18 آیات، 72 احادیث اور 60 ارشاداتِ علما وغیرہ کل ڈیڑھ سو نُصُوص کے ذریعے اعلیٰ حضرت رحمۃ اللہ علیہ نے ایک مشت داڑھی کا واجب ہونا ثابت فرمایا۔ (9)جواب بمطابق سوال: سائل کا سوال جس زبان میں ہو فتاویٰ رضویہ میں اسی زبان میں اس کا جواب دیا گیا ہے۔ (10)تاریخی نام: فتاویٰ رضویہ کی ایک خصوصیت یہ بھی ہے کہ اس کے رسائل کے نام تاریخی ہوتے ہیں جن کے ذریعے ان رسائل کا سنِّ تحریر نکالا جاسکتا ہے۔

ہمیں چاہئے کہ ہم بھی کتبِ اعلیٰ حضرت رحمۃ اللہ علیہ کا حتّی الامکان مطالعہ کریں، اللہ پاک توفیق دے۔

اٰمِیْن بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْن صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم

اگلوں نے تو لکھا ہے بہت علمِ دین پر جو کچھ ہے اس صدی میں وہ تنہا رضا کا ہے

نوٹ: یہ مضامین نئے لکھاریوں کے ہیں۔حوالہ جات کی تفتیش و تصحیح کی ذمہ داری مؤلفین کی ہےادارہ اس کا ذمہ دار نہیں


فتاوی رضویہ کی 10 خصوصیات

Thu, 24 Sep , 2020
6 years ago

تیرھویں صدی ہجری کی علمی روحانی شخصیت جن کے بارے میں علمائے کرام فرماتے ہیں کہ ان کو سو سے زائد علوم پر مکمل دسترس حاصل تھی جن کو زمانہ اعلیٰ حضرت  امام احمد رضا خان کے نام سے جانتا ہے، ان کا فقہی انسائیکلو پیڈیا بنام العطایہ النبویہ فی فتاویٰ رضویہ کو نہایت اہمیت حاصل ہے۔

یہی وجہ ہے اساتذہ کرام اور بالخصوص طلبائے دین اور علمائے کرام کو اس کے مطالعہ کی ترغیب دیتے رہتے ہیں اور کئی طلبا تو اس کا مکمل مطالعہ بھی فرماچکے ہیں اور دارالافتا اہلسنت سے جاری ہونے والے فتاویٰ جات میں اس کے جزئیات اپنی برکتیں بکھیر رہےہیں آئیے ہم اب اس کی دس خصوصیات کا تذکرہ کرتے ہیں۔

۱۔ فتاویٰ ر ضویہ قدیم اردو زبان میں لکھا گیا ہے جس کے ذریعے ہمیں اصل اردو زبان کے بارے میں پتا چلتا ہے۔

۲۔ اعلیٰ حضرت رحمۃ اللہ علیہ نے معاشرے کے رسم و رواج اور عرض کو نگاہ میں رکھا اور مفرد اھم سعی کی ہے کہ ایک مسلمان آسانی سے حقوق اللہ اور حقوق العباد سر انجام دینے کی سعادت حاص کرے۔(ماخوذ از مقالہ پروفیسر ڈاکٹر رشید احمد جالندھری ، جلد۷، فتویٰ رضویہ مخرجہ)

۳۔ اعلیٰ حضرت نے بنیادی نکتہ پر بیان کیا ہے کہ فرائض کی ادائیگی اور محرمات سے اجتناب کو رضا مخلوق پر مقدم رکھنے اور فتنہ فساد سے بچنے اور اضافی علوم کی مدارات اور مراعات کے لیے غیر اولیٰ امور کو ترک کردیاجائے۔(ایضا)

۴۔ فتاویٰ رضویہ کی ایک انفرادیت یہ ہے کہ اس میں اعلیٰ حضرت نے اپنے فتاویٰ کے مختلف ابواب فقیہ میں سے بعض موضوعات منتخب فرمائے ہیں، اور ان میں سے ہر موضوع پر ایک الگ اور مقبول رسالہ تصنیف کیا ہے، یہ رسائل جہاں بلند درجہ تحقیق و تدقیق کے آئینہ دار ہیں وہاں تمام متداول فقہی مصادر و ماخذ کا نچوڑ بھی پیش کرتے ہیں۔(ماخواز مقالہ پروفیسر ڈاکٹڑ ظہور احمد اظہر، قبل جلد نمبر۶، فتویٰ رضویہ مخرجہ)

۵۔ اعلیٰ حضرت رحمہ اللہ علیہ نے بدعات کے رد پر جو رسائل تصنیف فرمائے ان کا بھی کوئی جواب اب تک دینے سے قاصر ہے۔

۶۔ فتاویٰ رضویہ میں جہاں فقہی مسائل ہیں محقق کا انحصار ہے وہیں عقائد و اعمال میں حد درجہ سے کم نہیں ہے،۔

زمین ساکن ہونے پر تحریر کیا جانے والا رسالہ اس قدر بے مثال و بے نیاز ہے کہ اس کا رد بھی نہ ابھی تک آیا ہے اور نہ آسکے گا، ان شآ اللہ

۸۔اعلیٰ حضرت رحمہ اللہ علیہ سے جس علم کے بارے میں سوال ہوا اسی علم کے بارے میں جواب عطا فرمادیا۔

۹۔اعلیٰ حضرت سے اردو میں سوال ہوا تو اس کا جواب اردو میں ، فار سی میں سوال ہوا تو جواب فارسی میں اور اگر سوال عر بی میں ہوا تو اس کا جواب بھی پیارے آقا صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم، کی زبان (یعنی عربی) میں عطا فرمادیا۔(اگرچہ رضا فاؤنڈیشن والوں نے عربی اورفار سی سوالات و جوابات کا اردو ترجمہ کردیا ہے)

۱۰۔ جہاں جہاں اعلیٰ حضرت رحمۃ اللہ علیہ اپنی تحقیقات پیش کیں اور اگر کوئی اسلاف کی تحقیق کے برعکس آئی تو اعلیٰ حضرت نے نہایت ادب سے کام لیا اور باکمال تحقیق کے ةعد اپنے لیے ہمیشہ عاجزی ہی کے الفاظ استعمال فرمائے۔

نوٹ: یہ مضامین نئے لکھاریوں کے ہیں۔حوالہ جات کی تفتیش و تصحیح کی ذمہ داری مؤلفین کی ہےادارہ اس کا ذمہ دار نہیں


فتاوی رضویہ کی 10خصوصیات

Thu, 24 Sep , 2020
6 years ago

فتاوی رضویہ کی 10 خصوصیات :

اہلسنت کے امام ،مجدد مائہ سابقہ ،امام احمد رضاخان رحمۃ اللہ علیہ کی خدماتِ دین کی فہرست تو بڑی طویل ہے جنہیں چند صفحات پر رقم طراز کرنا بہت مشکل ہے۔آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ نے علوم وفنون کے جوموتی بکھیرے ہیں انہی میں سے ایک عظیم علمی خزانہ "فتاویٰ رضویہ" بھی ہے جو 30جلدوں پر مشتمل ہے اور غالباًاُردو زبان میں دنیا کا ضخیم ترین مجموعہ فتاویٰ ہے جوکہ تقریباً بائیس ہزار (22000)صفحات، چھ ہزار آٹھ سو سینتالیس (6847) سوالات کے جوابات اور دو سو چھ(206)رسائل پر مشتمل ہے۔جبکہ ہزارہا مسائل ضمناً زیرِ بحث آئے ہیں۔

فتاویٰ رضویہ کی چند خصوصیات:

سیدی اعلیٰ حضرت کے فقہی مقام کو سمجھنے کےلیے مسائل فقہ سے سجے ہوئے بے مثال فتاویٰ جات پر مشتمل مجموعہ "فتاویٰ رضویہ" کی خصوصیات میں سے 10 خصوصیات پیش خدمت ہیں:

(1)فتاویٰ رضویہ میں علمِ حدیث وفقہ کی کتب کا بھرپور علم موجود ہے۔(2)فتاویٰ رضویہ میں نادرو نایاب حوالوں کا بھی جگہ بہ جگہ ذکر کیا گیا ہے۔ (3)فتاویٰ رضویہ میں قرآن وحدیث کی روشنی میں نت نئے مسائل حل کیے گئے ہیں۔(4) فنِّ ریاضی اور علم توقیت کے ساتھ ساتھ علمِ میراث کے متعلق بھی نادر ونایاب تحقیق موجود ہے۔(5) دیگر مذاہب فقہیہ کے قوانین اور جزئیات کا علم بھی شامل ہے۔ (6)ہر مسئلے میں قرآن وسنت کی پیروی کا اہتمام کیا گیا ہے۔(7) بدعات ومنکرات کا ایمان افروز رد کیا گیا ہے۔(8) اس کے علاوہ سب سے بڑی خصوصیت یہ ہے کہ بڑے بڑے مفتیان کرام کو فقہی مسائل کے معاملے میں وقتا فوقتا فتاویٰ رضویہ کی ضرورت پڑتی ہے، بہت سے مفتیانِ کرام فتویٰ دینے کے معاملے میں خاص طور پر فتاویٰ رضویہ سے مدد لیتے ہیں اور ان شاء اللہ تعالیٰ آئندہ بھی لیتے رہیں گے۔(آئینہ رضویات، حصہ 2:ص228، ادارہ تحقیقات امام احمد رضا ،کراچی)(9)فتاویٰ رضویہ کے رسائل عقلی اور منقولی دلائل سے ایسے مزین ہیں کہ ان کو پڑھنے والا تنگی محسوس نہیں کرتا بلکہ مطمئن ہوجاتا ہے۔

فتاویٰ رضویہ کاخطبہ:

(10)فتاویٰ رضویہ کی خصوصیات میں سے ایک خصوصیت بلکہ خصوصیات کا مجموعہ اس کا حیرت انگیز خطبہ بھی ہے جو خطبے کے تمام تر لوازمات یعنی حمد،نعت، فضائل ومناقب وغیرہ پر مشتمل ہونےکے ساتھ ساتھ بہت ساری کتب اور آئمہ کرام کے ناموں کا مجموعہ بھی ہے۔اس میں فصاحت و بلاغت کے اعتبار سے دلکش اشارات،روشن تلویحات،خوشنماتشبیہات موجود ہونے کے ساتھ ساتھ نوے چیزوں اور اَسّی کتابوں کے نام،سات اعلام اور تین فقہی اصطلاحات موجود ہیں جو اہل علم کو وَرْطۂ حیرت میں ڈال دیتی ہیں اسی لیے تو کسی نے کہا تھا

وادی رضا کی کوہِ ہمالہ رضا کا ہے جس سمت دیکھئے وہ علاقہ رضا کا ہے

اگلوں نے بھی لکھا ہے بہت علم دین پر جوکچھ ہے اس صدی میں وہ تنہا رضا کا ہے

علم دوست افراد اپنی علمی پیاس بجھانے کے لیے جب اس کا مطالعہ کرینگے تو اپنی آنکھوں سے اپنے قلوب و اذہان کواس کے نایاب موتیوں سے مزین ہوتا ہوا دیکھ رہے ہونگے۔اللہ پاک ہمیں بھی ان خصوصیات سے مستفید ہونے کی توفیق نصیب فرمائے۔

آمین بجاہ النبی الامین صلی اللہ علیہ وسلم

نوٹ: یہ مضامین نئے لکھاریوں کے ہیں۔حوالہ جات کی تفتیش و تصحیح کی ذمہ داری مؤلفین کی ہےادارہ اس کا ذمہ دار نہیں


فتاوی رضویہ کی 10خصوصیات

Thu, 24 Sep , 2020
6 years ago

فتاوی  رضویہ کی نمایاں خصوصیات:

اعلی حضرت عظیم المرتبت الشاہ امام احمد رضا خان فاضلِ بریلوی کا شاہکار کارنامہ "فتاوی رضویہ" کی اہمیت و افادیت مُسلم الثبوت ہے۔یعنی روزِ روشن کی طرح بالکل عیاں ہے۔فتاوی رضویہ کی تمام جلدوں کا بالاستعیاب مطالعہ کیا جائے یعنی اُس پر تنقیدی تبصرہ کیا جائے تو ہمیں ان گنت فنی محاسن(خصوصیات) کا علم ہوتا ہے۔

اُن میں سے چند نمایاں خصوصیات یہ ہیں:

فقہ احناف کی فتاوی کی جلدوں میں سب سے زیادہ جلدیں فتاوی رضویہ کی ہیں۔یعنی اس میں 200 سے زائد رسائل،مختلف علوم،سائنس،جغفرافیہ،طبیعیات وغیرہ کے حوالے سے درجنوں سوالات مذکور ہیں۔

صحتِ زبان یعنی اُسلوب ،طرز تحریر میں اعلی حضرت کا کوئی ثانی نہیں کیوں الحمد اللہ موصوف کا شمار اُردو ادب کے کم یاب ترین بلند پایہ انشا پردازوں میں ہوتا ہے۔یہی وجہ ہے کہ اعلی حضرت نے اپنے علم کے جوہر فتاوی رضویہ میں دکھائے یعنی عام فہم انداز میں نہایت عمدگی سے مدعے کو سمجھایا گیا جسے پڑھ کر قارئین کے دل و دماغ پر رضا کا اُسلوب چھایا رہا۔یہ کہا جائے کہ برِ صغیر پاک و ہند سمیت پوری دُنیا میں فتاوی رضویہ کا طوطی بولتا ہے تو مُبالغہ ہر گز نہ ہوگا۔ہر خاص و عام یعنی عام قاری (طالب علم) ہو یا بلند پایہ عالم دین ہو وہ اپنی علم کی پیاس بجھانے فتاوی رضویہ کے پاس ضُرور آتا ہے۔

فتاوی رضویہ کی نمایاں ترین خصوصیات میں ایک خصوصیت یہ بھی ہے کہ اِس میں حوالہ جات کا خاص خیال رکھا گیا ہے۔یعنی اولین ماخذ ،ثانوی ماخذ وغیرہ پر بہت زیادہ قابلِ تعریف محنت کی گئی ہے۔علاوہ ازیں نادر و نایاب حوالہ جات کی کثرت فتاوی رضویہ میں پڑھنے کو ملتی ہے۔جسے پڑھ کر قارئین دنگ رہ جاتے ہیں کہ ایک مسئلے کے حل کے لیے اعلی حضرت نے کس قدر متانت و سنجیدگی کا مظاہرہ کرتے ہوئے تحقیق کی ہے۔

سوادِ اعظم (اہل سُنت والجماعت حنفی بریلوی) کے علما و مفتیانِ کرام کو جب بھی کوئی شرعی مسئلہ درپیش ہوتا ہے وہ فتاوی رضویہ سے خاطر خواہ استفادہ کرتے ہیں۔

اس کے علاوہ فتاوی رضویہ کے محاسن کا اندازہ آپ اس بات سے لگائیں کہ کس قدر پیچیدہ سے پیچیدہ مسائل حتی کہ دورِ جدید کے نت نئے مسائل کا بھی بالواسطہ یا بلا واسطہ کوئی نہ کوئی تعلق ضرور ہے۔جس سے یہ بات واضح ہوتی ہے کہ اعلی حضرت فاضل بریلوی کس قدر دُور اَندیش فِکر کے مالک تھے۔

سب سے منفرد خصوصیت یہ ہے کہ کئی سال گزرنے کے باوجود گویا رضا کے علم کے جوہر تا حال اپنی آب و تاب کے ساتھ زندہ وجاوید ہیں۔ان گنت لوگ روزانہ کی بُنیاد پر خرید رہے ہیں۔استفادہ کرکے اصلاحِ معاشرہ میں اپنا کَلیدی کردار ادا کر رہے ہیں۔یعنی تاحال علمِ دین کے شیدائی فتاوی رضویہ سے فیوض و برکات حاصل کرکے اپنی اور ساری دُنیا کے لوگوں کی اصلاح کی ہر ممکن کوشش کر رہے ہیں۔

نوٹ: یہ مضامین نئے لکھاریوں کے ہیں۔حوالہ جات کی تفتیش و تصحیح کی ذمہ داری مؤلفین کی ہےادارہ اس کا ذمہ دار نہیں


فتاوی رضویہ کی 10خصوصیات

Wed, 23 Sep , 2020
6 years ago

مضمون فتاویٰ رضویہ کی 10 خصوصیات:

”فتاویٰ رضویہ“اعلیٰ حضرت، امامِ اہلِ سنّت امام احمد رضا خان علیہ رحمۃ الرحمٰن کی ذہانت و فَطانت ، تَبَحُّرِ عِلمی اور تَفَقُّہ فی الدین کا ایک عظیمُ الشان اور فقیدُ المثال شاہکا ر ہے۔ کئی دہائیاں گزرنے کے باوجود اب تک فقہِ حنفی کے فتاویٰ جات کاایسا جامع ، مَبْسوط، مُدَلَّل اور مُبْرَہَن کوئی دوسرا مجموعہ مُرَّتب نہ ہوسکا۔ اسے ہم بلا مبالغہ اردو زبان میں دنیا کا ضَخیم ترین فتاویٰ کہہ سکتے ہیں۔

فتاویٰ رضویہ کا تعارف:

اس بے مثال علمی شاہکار کا نام امام ِاہلِ سنت علیہ رحمۃ ربِّ العزّت نے ”اَلْعَطَایَا النَّبَوِیَّہ فِی الْفَتَاوی الرضَوِیَّہ“ رکھا ہے، جو جدید تحقیق و تخریج کے ساتھ شائع ہونے کے بعد33 جلدوں میں تقریباً 22 ہزار صفحات، 6847 سوالات و جوابات اور 206 تحقیقی رسائل پر مشتمل ہے۔ جبکہ ہزاروں مسائل ضِمناً زیرِ بحث آئے ہیں۔

فتاوٰی رَضَوِیہ کی خصُوصِیات:

میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو!آئیے!اب ہم مسائلِ فِقْہ سے سجے ہوئے بے مثال فتاویٰ جات پرمُشتمل مجموعہ بنام”فتاویٰ رضویہ“ کی خصُوصیات میں سے چند خصُوصِیات کے بارے میں سنتے ہیں چُنانچہ

(01) علم ِ کلام ، علمِ حدیث و اصولِ حدیث و فقہ کے علاوہ طب ، نُجوم، تاریخ، ہیئت، فلسفہ اور اس جیسے کئی علومِ جدیدہ قدیمہ کے متعلق فتاویٰ جات و مسائل بھی فتاویٰ رضویہ کا حصہ ہیں۔

(02) نبیِّ کریم صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلّم کے افضلُ الْمُرسَلِین ہونے پر ایک عالمِ دین نے سوال کیا کہ نبی کریم صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم کی افضلیت پر صراحۃً کوئی آیتِ قرآنی نہیں ملتی تو آپ رحمۃ اللہ تعالٰی علیہنے 10 آیاتِ کریمہ اور 100 احادیثِ عظیمہ سے حق کو اُجاگر فرمایا۔(فتاویٰ رضویہ،ج 30،ص129)

(03) فتاویٰ رضویہ کا 15 صفحات پر مشتمل مختصر ترین رسالہ بنام ”اَلتَّحْبِیْر بِبَابِ التَّدْبِیْر“ بھی 21آیات قرآنی، 40احادیث نبوی اورکثیر نصوص و جزئیات سے معمور ہے۔اتنا تحریر کرنے کے بعد صاحبِ فتویٰ اعلیٰ حضرت علیہ رحمۃ ربِّ العزّت کی شان دیکھئے آپ فرماتے ہیں: فقیر غَفِرَلَہُ اللہُ تعالٰی دعویٰ کرتا ہے کہ اِنْ شَآءَ اللہ عَزَّ وَجَلَّ اگر محنت کی جائے تو ، دس ہزار سے زائد آیات و احادیث اس پر جمع ہو سکتی ہیں۔

(04) فتاویٰ رضویہ میں قرآن وحدیث کی روشنی میں نِتْ نئےمسائل حل کیے گئے ہیں۔

(05) دِیگر مذاہبِ فقہیہ کےقوانین اورجُزئیات کاعلم بھی شامل ہے ۔

(06) ہر مسئلے میں قرآن وسُنَّت کی پیروی کا اِہتمام کیا گیاہے۔

(07) بِدْعات ومُنکِرات کاایمان افروز رَدّکیاگیاہے۔

(08) سجدۂ تعظیمی کی حُرمت پرجب مصنفِ فتویٰ نے قلم کو جُنبش دی تو 40 احادیث اور ڈیڑھ سو نُصُوص سے اپنے دعوے کو ثابت کیا۔(فتاویٰ رضویہ،ج22،ص251)

(09) فتاویٰ رضویہ کی ایک نمایاں خصوصیت یہ بھی ہے کہ اس میں موجود ہر رسالہ کا نام تاریخی ہے جس سے اس رسالہ کا سنِ تحریر نکالا جا سکتا ہے ۔

(10) اس کے علاوہ سب سے بڑی خُصُوصیت یہ ہے کہ بڑے بڑے مُفتیانِ کرام کو فقہی مسائل کےمُعاملے میں وقتاًفوقتاًفتاویٰ رضویہ کی ضرورت پڑتی ہے،بہت سے مفتیانِ کرام فتویٰ دینے کے معاملے میں خاص طور پر فتاویٰ رَضویہ سےمددلیتے ہیں اور اِنْ شَآءَاللہ عَزَّوَجَلَّ آئندہ بھی لیتےرہیں گے۔

نوٹ: یہ مضامین نئے لکھاریوں کے ہیں۔حوالہ جات کی تفتیش و تصحیح کی ذمہ داری مؤلفین کی ہےادارہ اس کا ذمہ دار نہیں