فتاوی رضویہ کی 10خصوصیات

Thu, 24 Sep , 2020
1 year ago

فتاوی  رضویہ کی نمایاں خصوصیات:

اعلی حضرت عظیم المرتبت الشاہ امام احمد رضا خان فاضلِ بریلوی کا شاہکار کارنامہ "فتاوی رضویہ" کی اہمیت و افادیت مُسلم الثبوت ہے۔یعنی روزِ روشن کی طرح بالکل عیاں ہے۔فتاوی رضویہ کی تمام جلدوں کا بالاستعیاب مطالعہ کیا جائے یعنی اُس پر تنقیدی تبصرہ کیا جائے تو ہمیں ان گنت فنی محاسن(خصوصیات) کا علم ہوتا ہے۔

اُن میں سے چند نمایاں خصوصیات یہ ہیں:

فقہ احناف کی فتاوی کی جلدوں میں سب سے زیادہ جلدیں فتاوی رضویہ کی ہیں۔یعنی اس میں 200 سے زائد رسائل،مختلف علوم،سائنس،جغفرافیہ،طبیعیات وغیرہ کے حوالے سے درجنوں سوالات مذکور ہیں۔

صحتِ زبان یعنی اُسلوب ،طرز تحریر میں اعلی حضرت کا کوئی ثانی نہیں کیوں الحمد اللہ موصوف کا شمار اُردو ادب کے کم یاب ترین بلند پایہ انشا پردازوں میں ہوتا ہے۔یہی وجہ ہے کہ اعلی حضرت نے اپنے علم کے جوہر فتاوی رضویہ میں دکھائے یعنی عام فہم انداز میں نہایت عمدگی سے مدعے کو سمجھایا گیا جسے پڑھ کر قارئین کے دل و دماغ پر رضا کا اُسلوب چھایا رہا۔یہ کہا جائے کہ برِ صغیر پاک و ہند سمیت پوری دُنیا میں فتاوی رضویہ کا طوطی بولتا ہے تو مُبالغہ ہر گز نہ ہوگا۔ہر خاص و عام یعنی عام قاری (طالب علم) ہو یا بلند پایہ عالم دین ہو وہ اپنی علم کی پیاس بجھانے فتاوی رضویہ کے پاس ضُرور آتا ہے۔

فتاوی رضویہ کی نمایاں ترین خصوصیات میں ایک خصوصیت یہ بھی ہے کہ اِس میں حوالہ جات کا خاص خیال رکھا گیا ہے۔یعنی اولین ماخذ ،ثانوی ماخذ وغیرہ پر بہت زیادہ قابلِ تعریف محنت کی گئی ہے۔علاوہ ازیں نادر و نایاب حوالہ جات کی کثرت فتاوی رضویہ میں پڑھنے کو ملتی ہے۔جسے پڑھ کر قارئین دنگ رہ جاتے ہیں کہ ایک مسئلے کے حل کے لیے اعلی حضرت نے کس قدر متانت و سنجیدگی کا مظاہرہ کرتے ہوئے تحقیق کی ہے۔

سوادِ اعظم (اہل سُنت والجماعت حنفی بریلوی) کے علما و مفتیانِ کرام کو جب بھی کوئی شرعی مسئلہ درپیش ہوتا ہے وہ فتاوی رضویہ سے خاطر خواہ استفادہ کرتے ہیں۔

اس کے علاوہ فتاوی رضویہ کے محاسن کا اندازہ آپ اس بات سے لگائیں کہ کس قدر پیچیدہ سے پیچیدہ مسائل حتی کہ دورِ جدید کے نت نئے مسائل کا بھی بالواسطہ یا بلا واسطہ کوئی نہ کوئی تعلق ضرور ہے۔جس سے یہ بات واضح ہوتی ہے کہ اعلی حضرت فاضل بریلوی کس قدر دُور اَندیش فِکر کے مالک تھے۔

سب سے منفرد خصوصیت یہ ہے کہ کئی سال گزرنے کے باوجود گویا رضا کے علم کے جوہر تا حال اپنی آب و تاب کے ساتھ زندہ وجاوید ہیں۔ان گنت لوگ روزانہ کی بُنیاد پر خرید رہے ہیں۔استفادہ کرکے اصلاحِ معاشرہ میں اپنا کَلیدی کردار ادا کر رہے ہیں۔یعنی تاحال علمِ دین کے شیدائی فتاوی رضویہ سے فیوض و برکات حاصل کرکے اپنی اور ساری دُنیا کے لوگوں کی اصلاح کی ہر ممکن کوشش کر رہے ہیں۔

نوٹ: یہ مضامین نئے لکھاریوں کے ہیں۔حوالہ جات کی تفتیش و تصحیح کی ذمہ داری مؤلفین کی ہےادارہ اس کا ذمہ دار نہیں