فتاویٰ رضویہ کی چند خصوصیات :

فتاویٰ رضویہ شریف شہنشاہِ بریلوی امام اہلسنت کا لکھا ہوا ار دو زبان کا مجموعہ فتاویٰ ہے، جس میں ۲۰۰ سے زائد مسائل ، ہزار ہا فتویٰ اور تقریبا ۲۰ ہزار سے زائد مسائل ہیں۔

خاصہ رضویہ بقلم رضا :

سرکارِ اعلیٰ حضرت بذا تِ خود فتاویٰ رضویہ پہلی جلد کے متعلق فرماتے ہیں: بظاہر اس پہلی جلد میں 114 فتوے اور 28 رسالے ہیں مگر بحمدللہ تعالیٰ ہزار ہا مسائل پر مشتمل ہے جن میں صد ہا وہ کہ اس کتاب کے سوا کہیں نہ ملیں گے۔

(فتاویٰ رضویہ ج۱، ص ۲۱، مکتبہ رضا فاؤنڈیشن لاہور)

خاصہ رضویہ بقلم عطار :

حضرت علامہ مولانا ابوالبلال محمد الیاس عطار قادری رضوی ضیائی فتاویٰ رضویہ کی خصوصیات بیان کرتے ہوئے فرماتے ہیں: امام احمد رضا بے مثال ذہانت و فطانت ، کمال درجہ فقاہت اور قدیم و جدید علوم میں کامل دسترس و مہارت رکھتے تھے ، آپ كی تقریبا ایک ہزار کتب ہیں آپ کے 55 سے زائد علوم و فنون آپ کی تبحر علمی پر دال پر ہیں، آپ کی جن کاوشوں کو بین القوامی شہرت حاصل ہوئی ان میں سے کنزالایمان، حدائق بخش اور فتاوی رضویہ شامل ہیں۔ آخر الذکر (فتاویٰ رضویہ شامل ہیں، آخر الذکر(فتاویٰ رضویہ ) تو علوم و فنون کا ایسا بحر بیکراں ہے جو پیکراں ہے جو بے شمار و مستند مسائل و تحقیقات کو اپنے اندر سموئے ہوئے ہے جسے پڑھ کر قدر دان انسانی Appieciative Persm بے ساختہ پکار اٹھتا ہے ۔ ہے کہ امام احمد رضا امام اعظم کی مجتہدانہ بصیرت کا پرتو ہیں آپ کی کتب رہتی دنیا تک کے مسلمانوں کے لیے مشعل رہا ہے۔(والدین ، زوجین اور ساتذہ کے حقوق اصل ، ۱۲، ۱۳ مکتبہ المدینہ )

رسائل کے نام سے ہی ان کا سالِ تصنیف بھی معلوم :

امام احمد رضا علیہ الرحمہ فتاویٰ رضویہ شریف میں اکثر رسائل کا ایسا نام تجویز فرماتے ہیں کہ جس سے نہ صرف واضح طور پر موضوع کی نشاندہی ہوتی ہے بلکہ حرفِ ابجد کے حساب سے ان کا سال تصنیف بھی معلوم کیا جاسکتا ہے۔

(فتاویٰ رضویہ ، جلد ۱، ص ۲۱، مکتبہ المدینہ )

اصول فتاوی ٰ نویسی سیکھنے کے لیے فتاویٰ رضویہ پڑھیے:

مفتی قاسم صاحب دامت برکاتہم العالیفرماتے ہیں :کہ اگر کسی کو فتاویٰ لکھنے کے بنیادی اصول سیکھنا ہوں تو فتویٰ لکھنے کے لیے جو بنیادی اہلیت و صلاحیت چاہیے اسے حاصل کرنے کے لیے اگر وہ فتاویٰ رضویہ کا بغور مطالعہ کرتا ہے تو اسے فتاویٰ نویسی کے تمام کے تمام اصول بڑی اچھی مشق کے ساتھ مل جائیں گے۔

خطبہ میں ہی مسئلہ کا اجمالی ذکر :

امام احمد رضا خان رحمۃ اللہ علیہ اپنی اکثر و پیشتر تصنیفات کے خظبوں میں اللہ پاک کی حمد و ثنا اور درود شریف کے ساتھ ساتھ وہ مسئلہ بھی بیان فرماتے ہیں جسے بعد ازاں تفصیلی دلائل کے ساتھ بیان کرنا ہوتا ہے ۔

(فتاویٰ رضویہ جلد ۱، ص ۲۳، مکتبہ رضا فاونڈیشن لاہور)

فتاویٰ رضویہ کسی مفتی کی تصنیف ہے یا ماہر طبیب کی :

امام احمد رضا وہ بالغ نظر مفتی ہیں جو احکامِ شریعہ معلوم کرنے کےلیے تمام احکام ماخذ کی طرف رجوع کرتے ہیں ایک ماہر طبیب جب فتاویٰ رضویہ کا مطالعہ کرتا ہے تو دیکھ کر اسے حیرت ہوتی ہے پھر وہ یہ سوچنے پر مجبور ہوجاتا ہے کہ وہ کسی مفتی کی تصنیف پڑھ رہا ہے یا ماہر طبیب کی۔ (فتاویٰ رضویہ جلد ۱، ص ۲۲، مکتبہ رضا فاونڈیشن لاہور)

مفتیان کرام نے بھی استفتا طلب کیے :

عام طور پر مفتیانِ کرام کی طرف عوام الناس رجوع کرتے ہیں اور احکام ِ شریعہ دریافت کرتے ہیں فتاویٰ رضویہ کے مطالعہ سے یہ حقیقت منکشف ہوتی ہے کہ امام احمد رضا بریلوی کی طرف رجوع کرنے والوں میں بڑی تعداد ان حضرات کی ہے جو بجائے خود مفتی تھے، مصنف تھے، جج تھے، یا وکیل تھے۔

(فتاویٰ رضویہ جلد ۱، ص ۲۲، مکتبہ رضا فاونڈیشن لاہور)

نوٹ: یہ مضامین نئے لکھاریوں کے ہیں۔حوالہ جات کی تفتیش و تصحیح کی ذمہ داری مؤلفین کی ہےادارہ اس کا ذمہ دار نہیں