دعوتِ اسلامی کے شعبہ ڈونیشن سیل ڈیپارٹمنٹ کے تحت 9ستمبر2021ءبروزجمعرات گوجرانوالہ میں مدنی مشورہ ہوا جس میں لاہور ریجن ذمہ دار ڈونیشن سیل ڈیپارٹمنٹ محمد شکیل عطاری، رکن زون اورسپروائزرز سمیت دیگر ذمہ داران نے شرکت کی۔

اس موقع پر نگرانِ گوجرانوالہ زون محمد یعقوب عطاری نے اخلاقیات، نیکی اورپرہیزگاری و تقویٰ کے حوالے سے گفتگو کرتے ہوئے 12 دینی کاموں کا فالواپ لیا۔(رپوٹ: غلام جیلانی عطاری ڈونیشن سیل ڈیپارٹمنٹ ،کانٹینٹ:غیاث الدین عطاری)


پچھلے دنوں ذمہ داران دعوتِ اسلامی شعبہ رابطہ برائے حکیم نے کراچی کے قاسمیہ طبیہ کالج میں دینی حلقہ لگایا نیز اسلامی بھائیوں سے ملاقات کی۔ذمہ داران نے انہیں شعبہ رابطہ برائے حکیم کا تعارف پیش کرتے ہوئے دعوتِ اسلامی کی خدمات سے آگاہ کیا ساتھ ہی عالمی مدنی مرکز فیضانِ مدینہ وزٹ کی دعوت دی۔(کانٹینٹ:غیاث الدین عطاری)


دعوتِ اسلامی کے تحت 9ستمبر2021ءبروزجمعرات اورنگی ٹاؤن کراچی میں  سنتوں بھرے اجتماع کا سلسلہ ہوا جس میں کثیر عاشقانِ رسول نے شرکت کی ۔

اس اجتماعِ پاک میں مرکزی مجلسِ شوریٰ کے رکن حاجی ابو ماجد محمد شاہد عطاری مدنی نے سنتوں بھرا بیان کرتے ہوئے اسلامی بھائیوں کی تربیت کی بعدازاں رکنِ شوریٰ شعبہ تحفّظِ اوراق ِمقدّسہ کے بستے (اسٹال) پر آئے اور اس شعبے کے کام کے حوالے سے کلام کرتے ہوئے اس کام کو سراہا۔

رکنِ شوریٰ نے اوراق ِ مقدسہ کا ادب کرنے،اسکو اٹھا کر محفوظ کرنے اور ٹھنڈا کرنے کی اہمیت بتائی مزید شرعی احتیاطوں کے حوالے سے رہنمائی کی نیزآخر میں رکنِ شوریٰ نے اپنی دعاؤں سےبھی نوازا۔(رپوٹ: عبدالرّحمان عطّاری رکن کابینہ اورنگی ٹاؤن،کانٹینٹ:غیاث الدین عطاری)


دعوتِ اسلامی کے تحت بلدیہ ٹاؤن ویسٹ کراچی میں 9ستمبر2021ءبروزجمعرات تقریب اسناد کا سلسلہ ہوا جس میں پچھلے سال قراٰنِ پاک مکمل کرنے والے بچوں کو اسناد پیش کی گئیں اور تحائف بھی دیئے گئے۔اس موقع پر نگرانِ مجلس مدرسۃ المدینہ بوائز شارٹ ٹائم پاکستان قاری عرفان عطاری نے سنتوں بھرا بیان کیا اور اسلامی بھائیوں کی تربیت و رہنمائی کی۔ (رپوٹ: محمد شہروز مدرسۃ المدینہ شارٹ ٹائم ریجن نگران،کانٹینٹ:غیاث الدین عطاری)


15 ایڈیشنز میں ایک لاکھ  سے زیادہ کی تعداد میں چھپنے والی کتاب

کیا آپ قراٰن مجید کے دلچسپ اور حیرت انگیز واقعات پڑھنا چاہتے ہیں؟

تو پھر ابھی حاصل کیجئے قراٰنی واقعات و عجائبات کا بہترین مجموعہ

عَجَائِبُ القران مع غرائب القران

مؤلف:حضرت علامہ مولانا عبد المصطفیٰ اعظمی علیہ رحمۃ اللہ القوی

اِس کتاب کی چندخصوصیات:

٭دیدہ زیب ودلکش سرورق(Title)وڈیزائننگ(Designing) ٭عصرحاضرکے تقاضوں کے پیش نظرجدید کمپوزنگ وفارمیشن ٭عبارت کے معانی ومفاہیم سمجھنے کےلئے ’’علامات ترقیم‘‘ (Punctuation Marks) کا اہتمام ٭پڑھنے والوں کی دلچسپی برقرار رکھنے کےلئے عنوانات (Headings) کا قیام ٭فکرِآخرت پرمشتمل اِصلاحی موادکی شمولیت ٭قراٰنی آیات مع ترجمہ ودیگر تمام منقولہ عبارات کے اصل کتب سے تقابل(Tally) کا اہتمام ٭آیات، احادیث ودیگر عبارات کےحوالوں(References) کا خاص اہتمام ٭ایک ہی نظرمیں رسالے کے عنوانات دیکھنے کیلئے کتاب کے آخر میں فہرست(Index) ٭جن کتب کا حوالہ دیا گیا ہے ان کے مصنفین، مکتبوں اورشہرطباعت کی ’’ماخذومراجع‘‘میں تفصیل ٭مکمل کتاب کی دارالافتاء اَہلِ سنت کے مفتیانِ کرام سے شرعی تفتیش ٭اَغلاط کوکم سے کم کرنے کیلئے مکمل کتاب کی کئی بار پروف ریڈنگ

430 صفحات پر مشتمل یہ کتاب2009ء سے لیکر 15 مختلف ایڈیشنز میں تقریباً1لاکھ 10 ہزارکی تعداد میں پرنٹ ہو چکی ہے۔

اس کتاب کی PDF دعوتِ اسلامی کی ویب سائٹ سے مفت ڈاؤن لوڈ بھی کی جاسکتی ہے۔

Download Now


نبیِ کریم صلی اللہ علیہ و الہ وسلم کے اوپر دین کا کا مل اور تمام ہونا، اس بات کو مستلزم ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم آخری نبی ہیں، کیونکہ آپ کے بعد کسی اور نبی کا آنا اس وقت ممکن ہوتا، جب آپ کے دین اور آپ کی شریعت میں کوئی کمی ہوتی، جس کمی کو بعد میں آنے والا نبی پورا کرتا اور جب آپ کا دین کامل اور تمام ہے اور اس کا نامکمل ہونا ممکن نہیں ہے تو آپ کے بعد کسی اور نبی کا آنا بھی ممکن ہی نہیں، قرآنِ پاک میں ارشادِ باری ہے:اَلْیَوْمَ اَكْمَلْتُ لَكُمْ دِیْنَكُمْ وَ اَتْمَمْتُ عَلَیْكُمْ نِعْمَتِیْ وَ رَضِیْتُ لَكُمُ الْاِسْلَامَ دِیْنًاؕ- ترجمہ کنز الایمان: آج میں نے تمہارے لیے تمہارا دین کامل کردیا اور تم پر اپنی نعمت پوری کردی اور تمہارے لیے اسلام کو دین پسند کیا۔( پ6، المائدہ:3)ایک اور مقام پر اللہ پاک فرماتا ہے:مَا كَانَ مُحَمَّدٌ اَبَاۤ اَحَدٍ مِّنْ رِّجَالِكُمْ وَ لٰكِنْ رَّسُوْلَ اللّٰهِ وَ خَاتَمَ النَّبِیّٖنَؕ-ترجمۂ کنز الایمان:محمد تمہارے مردوں میں کسی کے باپ نہیں، ہاں اللہ کے رسول ہیں اور سب نبیوں کے پچھلے۔(پ 22، الاحزاب:40)احادیثِ مبارکہ کی روشنی میں:1۔ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم نے فرمایا:میری مثال اور مجھ سے پہلے انبیائے کرام علیہم السلام کی مثال اس شخص کی طرح ہے، جس نے بہت حسین و جمیل گھر بنایا، مگر اس کے کونے میں ایک اینٹ کی جگہ چھوڑ دی، لوگ اس گھر کے گرد گھومنے لگے اور تعجب سے کہنے لگے:اس نے یہ اینٹ کیوں نہ رکھی؟ آپ نے فرمایا:میں (قصرِ نبوت کی) وہ اینٹ ہوں اور میں خاتم النبیین ہوں۔( بخاری،حدیث:3535)2۔حضرت سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم نے حضرت علی رضی اللہ عنہ سے فرمایا:تم میرے لئے ایسے ہو جیسے حضرت موسیٰعلیہ السلام کے لئے حضرت ہارون علیہ السلام تھے، مگر میرے بعد کوئی نبی نہیں ہوگا۔(بخاری، حدیث:4416)3۔حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں:رسول اللہ صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم نے فرمایا:بے شک رسالت اور نبوت منقطع ہو چکی ہے، پس میرے بعد کوئی نبی ہوگا، نہ رسول ہوگا۔(ترمذی، حدیث:2282)4۔حضرت قتادہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی کریم صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم نے فرمایا:میں پیدائش میں سب سے پہلا ہوں اور بعثت میں سب سے آخر۔(کنزالعمال، حدیث31916)5۔حضرت ابوذر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم نے فرمایا:اے ابو ذر! پہلے رسول آدم ہیں اور آخری رسول محمد صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم ہیں۔6۔حضرت عباس بن ساریہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں:رسول اللہ صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم نے فرمایا:بے شک میں اللہ پاک کے نزدیک خاتم النبیین تھا اور بے شک (اس وقت) آدم اپنی مٹی میں گندھے ہوئے تھے۔(مسنداحمد، جلد 4، صفحہ 127)7۔حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں:رسول اللہ صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم نے فرمایا:جب حضرت آدم علیہ السلام کو ہند میں اُتارا گیا تو وہ گھبرا گئے، پس جبرائیل علیہ السلام نے نازل ہوکر اذان دی: اللہُ اکبر اللہ ُاکبر، اشہد ان لا الہ الا اللہ دو دفعہ، اشہد ان محمد الرسول اللہ دو دفعہ، حضرت آدم علیہ السلام نے پوچھا :محمد صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم کون ہیں؟ حضرت جبرائیل علیہ السلام نے کہا:وہ آپ کی اولاد میں سے آخر الانبیاء ہیں۔(دمشق الکبیر، جلد 7، صفحہ 319، حدیث:1979)8۔حضرت ابوطفیل رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں:رسول اللہ صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم نے فرمایا:میرے ربّ کے پاس 10 نام ہیں، حضرت ابو طفیل رضی اللہ عنہ نے کہا: مجھے ان میں سے آٹھ یاد ہیں: محمد، احمد، ابو القاسم، الفاتح(نبوت کا افتتاح کرنے والا)، الخاتم(نبوت کو ختم کرنے والا)، العاقب(جس کے بعد کوئی نبی نہ آئے)، الحاشر، الماحی(شرک کو مٹانے والا)۔(دلائل النبوت لا بی نعیم، ج1، 61، حدیث:2)9۔حضرت ابنِ زمل رضی اللہ عنہ نے ایک خواب دیکھا، نبی کریم صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم نے اس خواب کی تعبیر بیان کرتے ہوئے فرمایا:رہی وہ اونٹنی جس کو تم نے خواب میں دیکھا اور یہ دیکھا کہ میں اس اونٹنی کو چلا رہا ہوں، تو اس سے مراد قیامت ہے، نہ میرے بعد کوئی نبی ہوگا اور نہ میری اُمّت کے بعد کوئی اُمّت ہوگی۔(دلائل النبوۃ، جلد 7، صفحہ 38)10۔حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ معراج کی ایک طویل حدیث روایت کرتے ہیں، اس میں مذکور ہے کہ مسجدِ اقصیٰ میں نبیوں نے حضرت جبرائیل علیہ السلام کے متعلق پوچھا تو انہوں نے کہا: ہذا محمد رسول اللہ خاتم النبیین۔یہ محمد رسول اللہ خاتم النبیین ہیں۔11۔حضرت نعمان بن بشیر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں:حضرت زید بن خارجہ انصاری رضی اللہ عنہ جب فوت ہوگئے تو ان پر جو کپڑا تھا، اس کے نیچے سے آواز آرہی تھی، لوگوں نے ان کے سینے اور چہرے سے کپڑا ہٹایا تو ان کے منہ سے آواز آرہی تھی:محمد رسول اللہ النبی الامی خاتم النبیین ہیں، ان کے بعد کوئی نبی نہیں ہے۔(رسائل ابنِ ابی الدنیا، جلد 3، ص388)


علمائے حق کا اس بات پر اِتفاق ہے کہ مسئلۂ ختمِ نبوت کی احادیث متواتر ہیں۔  حدیثِ متواتر اس حدیث کو کہا جاتا ہے جسے آقا و مولی صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم سے روایت کرنے والے آپ کے زمانے مبارک سے لے کر آج تک اس قدر کثیر ہوں کہ کسی خلافِ واقعہ بات پر ان کا باہم اِتفاق کرکے جھوٹ بولنا محال ہو ، اُمّت کا اجماع ہے کہ متواتر حدیث پر ایمان لانا، قرآنِ مجید پر ایمان لانے کی طرف فرض اور اس کا انکار کفر ہے۔ کئی علما نے حدیثِ نبوی لا نبی بعدی کو بھی متواتر قرار دیا ہے۔ علامہ ابنِ کثیر رحمۃ اللہ علیہ رقمطراز ہیں:رسولِ معظم صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم کے آخری نبی ہونے کے متعلق احادیثِ متواتر وارد ہوئی ہیں، جنہیں صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کی ایک جماعت نے بیان کیا۔(تفسیر ابنِ کثیر، کتابچہ ختمِ نبوت، باب دوم، احادیث اور ختم نبوت، ص 50)حضرت جبیر بن مطعم رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، رسولِ اکرم صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم نے اِرشاد فرمایا: میں محمد ہوں، میں احمد ہوں، میں ماحی ہوں کہ اللہ پاک میرے ذریعے کُفر کو مٹائے گا، میں حاشر ہوں، میرے قدموں میں لوگوں کا حشر ہوگا، میں عاقب ہوں اور عاقب وہ ہوتا ہے جس کے بعد کوئی نبی نہ ہو۔( مسلم، کتاب الفضائل، بخاری، کتاب المناقب)حضرت عرباض بن ساریہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے: غیب بتانے والے آقا کریم صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم نے فرمایا:میں اللہ پاک کے پاس آخری نبی لکھا ہوا تھا، جب کہ اس وقت حضرت آدم علیہ السلام کا خمیر تیار نہ ہوا تھا۔( مشکوۃ، باب فضائل سید المرسلین، کتابچہ ختم نبوت صفحہ 60)یہ حدیث بھی نبیِّ کریم صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم کے آخری نبی ہونے پر واضح دلیل ہے۔حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے:حضرت آدم علیہ السلام کے دونوں شانوں کے درمیان قلمِ قدرت سے لکھا ہوا تھا: محمد رسول اللہ خاتم النبیین صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم۔(خصائص کبری،1/14)حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے: آقاو مولی صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم نے فرمایا:مجھے انبیائے کرام علیہم السلام پر چھ چیزوں سےفضیلت دی گئی ہے: 1۔مجھے جامع کلمات عطا کئے گئے ہیں،2۔میرا رعب طاری کر کے میری مدد کی گئی، 3۔میرے لئے مالِ غنیمت کو حلال کر دیا گیا۔ 4۔میرے لئے ساری تمام زمین پاک اور نماز کی جگہ بنا دی گئی، 5۔مجھے تمام مخلوق کی طرف مبعوث کیا گیا،اور 6۔ مجھ پر ختمِ نبوت کردی گئی ہے۔(مسلم، کتاب المساجد باب جعلت لی الارض مسجداً)اس فرمانِ عالیشان میں آقا صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم نے اپنے چھ اوصاف ارشاد فرمائے ہیں اور آخری دو اوصاف میں ختمِ نبوت کا عقیدہ بیان فرمایا ہے۔ حضرت ثوبان رضی اللہ عنہ سے روایت ہے:غیب بتانے والے نبی صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم نے فرمایا:میری اُمّت میں 30 نہایت جھوٹے لوگ (کذّاب) پیدا ہوں گے کہ ان میں سے ہر ایک یہ دعویٰ کرے گا کہ وہ نبی ہے، حالانکہ میں آخری نبی ہوں، میرے بعد کسی قسم کا کوئی نبی نہیں۔(ابو داؤد، کتاب الفتن، جامع ترمذی، کتاب الفتن، مسند احمد)اس حدیثِ پاک میں چند باتیں غور طلب ہیں:1۔اول تو یہ کہ اس اُمّت میں تیس کذّاب ہوں گے اور وہ میری اُمّتی ہونے کے بھی دعوے دار ہوں گے، جیسا کہ قادیانی بھی یہی کہتے ہیں کہ ہم حضور صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم کو نبی مانتے ہیں، لہٰذا ہم بھی ان کے امتی ہیں، یہ بڑا دھوکا ہے۔2۔دوم یہ کہ بالفرض آقا صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم کے بعد کسی سچے نبی کو آنا ہوتا تو آپ فرما دیتے: میرے بعد کچھ سچے نبی آئیں گے اور کچھ جھوٹے بھی جن کی پہچان یہ ہوگی وغیرہ، مگر آقا صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم نے فرمایا:جو بھی نبوت کا دعویٰ کرے گا وہ جھوٹا ہوگا۔3۔سوم یہ کہ جو شخص بھی یہ دعویٰ کرے کہ وہ نبی ہے، یہی بات اس کےکذّاب ہونے کے لئے کافی ہے کیونکہ حضور اکرم صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم آخری نبی ہیں، آپ کے بعد کوئی نبی نہیں، نہ حقیقی، نہ ظلی، نہ تشریعی، نہ غیر تشریعی، نہ مستقل، نہ غیر مستقل۔(کتابچہ ختم نبوت، ص 56)اللہ پاک کا فرمان ہے:مَا كَانَ مُحَمَّدٌ اَبَاۤ اَحَدٍ مِّنْ رِّجَالِكُمْ وَ لٰكِنْ رَّسُوْلَ اللّٰهِ وَ خَاتَمَ النَّبِیّٖنَؕ ترجمۂ کنز الایمان:محمد تمہارے مردوں میں کسی کے باپ نہیں ، ہاں اللہ کے رسول ہیں اور سب نبیوں کے پچھلے۔(پ 22، الاحزاب:40)اس آیتِ مبارکہ میں اللہ پاک نے رسولِ معظم صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم کا مبارک نام لے کر ارشاد فرمایا:آپ سب نبیوں میں آخری نبی ہیں، جو کوئی نبی کریم صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم کے بعد قیامت تک کسی نئے نبی کا پیدا ہونا ممکن مانے، وہ اس آیت کامنکر اور کافرہے۔(کتابچہ ختم نبوت، ص 32)خلاصۂ کلام یہ ہے کہ حضور اقدس صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم کے بعد کسی نبی کا آنا محال ہے، جو اس کا قائل ہووہ ختمِ نبوت کے عقیدے کا منکر اور دائرۂ اسلام سے خارج ہے۔اللہ پاک نے حضور صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم کی ذاتِ اقدس پر نبوت کا سلسلہ ختم کر دیا، پس آپ کے بعد کوئی نبی نہیں۔

فتحِ باب نبوت پہ بے حد دُرود ختمِ دورِ رسالت پہ لاکھوں سلام


عقیدۂ ختمِ نبوت دینِ اِسلام کا بنیادی اور حُساس ترین اور اتنا عظیم عقیدہ ہے کہ قرآنِ پاک کی صریح آیات اور نبیِ کریم صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم کی احادیثِ مبارکہ، تمام صحابہ کرام رضی اللہ عنہم ، تابعینِ عُظام و تبع تابعین رحمۃ اللہ علیہم اور تمام اُمّتِ محمدیہ کے اتفاق سے جسے اِجماعِ اُمّت کہا جاتا ہے،سے یہ عقیدہ ثابت ہے۔عقیدۂ ختمِ نبوت کی تعریف:عقیدۂ ختمِ نبوت دینِ اسلام کے بنیادی عقائد میں سے ہے اور وہ یہ ہے کہ اللہ پاک نے نبوت و رسالت کا سلسلہ خاتم النبیین، محمد مصطفے صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم پر ختم فرما دیا ہے، آپ صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم کے بعد کسی طرح کا کوئی نبی، کوئی رسول نہ آیا ہے،نہ آسکتا ہے اور نہ آئے گا۔حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی آمد:حضرت عیسیٰ علیہ السلام قیامت کے نزدیک جب تشریف لائیں گے تو سابق وصفِ نبوت و رسالت سے مُتصف ہونے کے باوجود ہمارے رسولِ کریم صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم کے نائب و اُمّتی کی حیثیت سے تشریف لائیں گے اور اپنی شریعت کے بجائے دینِ محمدی کی تبلیغ کریں گے۔(خصائصِ کبریٰ)انکار کا حکم:یہ عقیدہ ضروریاتِ دین میں سے ہے، لہذا اس عقیدے سے انکار کرنے والا یا اس میں ذرّہ برابر بھی شک کرنے والا دائرۂ اسلام سے خارج ، مرتد اور ملعون ہے۔ تاجدارِ مدینہ صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم نے خود اپنی مبارک زبان سے اپنے آخری نبی ہونے کو بیان کیا ہے، ملاحظہ ہو: احادیثِ کریمہ:1۔نبی ِپاک صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم نے ارشاد فرمایا:اَنَا آخِرُ الْاَنْبِیَاءِ وَاَنْتُمْ آخِرُ الْاُمَمْ۔ میں سب سے آخری نبی ہوں اور تم سب سے آخری اُمّت ہو۔(ابنِ ماجہ، حدیث:4077)2۔اللہ پاک کے آخری نبی صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم نے فرمایا:بےشک میں اللہ پاک کے حضور لوحِ محفوظ میں خاتم النبیین(لکھا ہوا) تھا، جب حضرت آدم علیہ السلام ابھی اپنی مٹی میں گُندھے ہوئے تھے۔ (کنزالعمال، حدیث: 31957)3۔تاجدارِ مدینہ صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم نے ارشاد فرمایا: میرے متعدد نام ہیں، میں محمد ہوں، میں احمد ہوں، میں ماحی ہوں کہ اللہ پاک میرے سبب سے کفر مٹاتا ہے، حا شر ہوں، میرے قدموں پر لوگوں کا حشر ہو گا، میں عاقب ہوں اور عاقب وہ جس کے بعد کوئی نبی نہیں۔(ترمذی، حدیث: 2849)4۔حضور پُرنور صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم کا فرمانِ عالیشان ہے:بے شک رسالت اور نبوت ختم ہوگئی، اب میرے بعد نہ کوئی رسول ہے، نہ کوئی نبی۔(ترمذی، حدیث:2279)5۔خاتم النبیین صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم نے فرمایا:میرے بعد نبوت میں سے کچھ باقی نہ رہے گا، مگر بشارتیں(یعنی) اچھا خواب کہ بندہ خود دیکھے یا اس کے لئے دوسرے کو دکھایا جائے۔(مسند احمد، حدیث:25031)خلیفۂ اعلیٰ حضرت مولانا محمد جمیل الرحمن رضوی رحمۃ اللہ علیہ اپنے نعتیہ دیوان ”قبالۂ بخشش“ میں لکھتے ہیں:

نہیں ہے اور نہ ہوگا بعد آقا کے نبی کوئی وہ ہیں شاہِ رُسل، ختمِ نبوت اس کو کہتے ہیں

لگا کر پشت پر مہرِ نبوت حق تعالی نے انہیں آخر میں بھیجا، خاتمیت اس کو کہتے ہیں


فقال اللّٰہ تعالیٰ فی القرآن المجید:مَا كَانَ مُحَمَّدٌ اَبَاۤ اَحَدٍ مِّنْ رِّجَالِكُمْ وَ لٰكِنْ رَّسُوْلَ اللّٰهِ وَ خَاتَمَ النَّبِیّٖنَؕ-ترجمۂ کنز الایمان:محمد تمہارے مردوں میں کسی کے باپ نہیں ، ہاں اللہ کے رسول ہیں اور سب نبیوں کے پچھلے۔(پ 22، الاحزاب:40)حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم کی شانِ ختمِ نبوت:وجودِ مصطفے میں جملہ مُحاسن و کمالاتِ نبوت لیتا اس نقطہ ٔ کمال تک پہنچے کہ اب قصرِ نبوت کا اور کوئی گوشہ تشنۂ تکمیل نہ رہا اور نبوت کی رفیع الشان عمارت ہر لحاظ سے مکمل ہوگئی تو سلسلۂ نبوت و رسالت کو ختم کر کے آپ صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم کے سرِ انور پر ختمِ نبوت کا تاج سجا دیا گیا، جیسا کہ اوپر آیت مذکور ہوئی۔حضور رحمتِ عالم صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم نے اپنے خاتم النبیین ہونے کی خصو صیت کا خود اعلان فرمایا،چنانچہ حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے :حضور نبیِ اکرم صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم نے فرمایا:”سلسلۂ نبوت و رسالت منقطع ہو چکا ہے، میرے بعد نہ کوئی رسول ہوگا، نہ کوئی نبی۔“یہ امر واضح ہے کہ حضور نبیِ اکرم صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم کا آخری نبی ہونا جس طرح قرآنی آیات میں صراحت کے ساتھ بیان ہوا ہے، اسی طرح احادیثِ نبوی میں تواتر کے ساتھ بیان ہوا ہے، حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم نے بار بار تاکید کے ساتھ اپنے خاتم النبیین ہونے کا اعلان فرمایا ہے۔چنانچہ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے:رسول اللہ صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم نے فرمایا:مجھے دیگر انبیائے کرام علیہم السلام پر چھ چیزوں کے باعث فضیلت دی گئی ہے:میں جوامع الکلم سے نوازا گیا ہوں، رعب کے ساتھ میری مدد کی گئی ہے، میرے لئے اموالِ غنیمت حلال کئے گئے ہیں،میرے لئے ساری زمین پاک کردی گئی اور سجدہ گاہ بنا دی گئی ،میں تمام مخلوق کی طرف بھیجا گیا ہوں اور میری آمد سے انبیائے کرام علیہم السلام کا سلسلہ ختم کر دیا گیا ہے۔ حضرت علی المکی سے ایک طویل حدیث میں مروی ہے کہ مرضِ وصال میں حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم نے اپنی لختِ جگر سیّدہ فاطمۃ الزہرا رضی اللہ عنہا سے فرمایا:ہم اہل ِبیت کو اللہ پاک نے سات ایسے امتیازات عطا فرمائے ہیں، جو ہم میں سے پہلے کسی کو عطا نہیں فرمائے گئےا ورنہ ہمارے بعد کسی کو عطا کئے جائیں گے۔ میں انبیائے کرام علیہم السلام کا سلسلہ ختم فرمانے والا ہوں،انبیائے کرام علیہم السلام میں سے سب سے زیادہ معزز ہوں اور تمام مخلوقات میں سے اللہ پاک کو سب سے زیادہ محبوب ہوں۔اسمائے مصطفے سے آخری نبی کے معنی پر دلالت:حضرت جبیر بن مطعم رضی اللہ عنہ اپنے والد گرامی سے روایت کرتے ہیں:حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم نے فرمایا :میں محمد ہوں، میں احمد ہوں ، میں ماحی ہوں میرے ذریعے کفر کو مٹا دیا جائے گا، میں حاشر ہوں میرے بعد ہی قیامت آ جائے گی اور حشر برپا ہوگا(نیز کوئی نبی میرے اور قیامت کے درمیان نہ آئے گا) ،میں عاقب ہوں اور عاقب اس شخص کو کہا جاتا ہے، جس کے بعد اور کوئی نبی نہ ہو۔تخلیقِ آدم سے قبل خاتم النبیین کا خطاب:حضرت عرباض بن ساریہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، حضور اکرم صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم نے فرمایا:میں اللہ پاک کا بندہ اس وقت خاتم النبیین لکھا جا چکا تھا جب کہ حضرت آدم علیہ السلام ابھی خمیر سے پہلے اپنی مٹی میں تھے۔یہ احادیثِ مبارکہ اس بات کا ثبوت ہیں کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم کی ختمِ نبوت کا عقیدہ کوئی نیا نہیں، بلکہ یہ اس وقت سے ہے، جب کہ ابھی تاریخِ انسانی کا آغاز بھی نہیں ہوا تھا اور اللہ پاک نے اپنے محبوب صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم کا آخری نبی ہونا لکھ دیا تھا، لہٰذا اگر کوئی اس کے بعد بھی حضور صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم کو آخری نبی نہ مانے اور خاتم کے معنی میں تحریف کے ذریعے نئے نبی کی آمد کو جائز قرار دےتو وہ دائرۂ اسلام سے خارج اور گروہِ کفار میں شامل ہے ۔جھوٹے مدعیانِ نبوت کے بارے میں حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم کی پیشین گوئی:حضرت ثوبان رضی اللہ عنہ سے مروی ہے: رسول اللہ صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم نے فرمایا:میری امت میں تیس جھوٹے پیدا ہوں گے، ہر ایک کادعویٰ ہوگا کہ وہ نبی ہے، سن لو! میں آخری نبی ہوں، میرے بعد کوئی نبی نہیں۔حضرت عمرو بن ابی قرۃ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے : آپ صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم نے ارشاد فرمایا:اللہ پاک نے مجھے تمام جہانوں کے لئے سَراسَر رحمت بنا کر بھیجا ہے، لہٰذا حدیثِ نبوی سے پتہ لگتا ہے کہ جہاں جہاں تک آپ کی رحمت ہے، وہاں وہاں تک آپ سے آپ کی نبوت و رسالت ہے، چونکہ آپ صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم قیامت تک آنے والی مخلوقِ خدا کے لئے رحمت ہیں، اس لئے آپ صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم کی نبوت و رسالت بھی قیامت تک جاری ہے۔مذکورہ بالا تمام احادیث حضور نبیِ اکرم صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم کی ختمِ نبوت پر صراحت کے ساتھ دلالت کر رہی ہیں، آپ صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم جامع کمالاتِ انبیا ہیں، آپ صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم کا افضل الانبیاء و الرسل ہونا اس بات کا بیّن ثبوت ہے کہ نبوت کا ذریں سلسلہ جس کا آغاز حضرت آدم علیہ السلام سے شروع ہوا تھا، بعثتِ محمدی کے ساتھ اپنے منتہائے کمال کو پہنچ کر ختم ہوچکا، اب قیامت تک آپ صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم ہی کی نبوت و رسالت جاری و ساری رہے گی۔ ختمِ نبوت کا کام کرتے کرتے مرنا ہے۔ انشاءاللہ

فتحِ باب نبوت پہ بے حد دُرود ختمِ دورِ رسالت پہ لاکھوں سلام


یہ ایک ناقابلِ انکار صداقت ہے کہ انسانیت کی ہدایت و راہ نمائی کے لیے حضرت آدم علیہ السلام سے جو سلسلۂ رُشد و ہدایت شروع ہوا تھا۔ وہ

نبی آخر زماں صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم پر آکر مکمل ہوا۔اَلْیَوْمَ اَکْمَلْتُ لَکُمْ دِیۡنَکُمْ وَاَتْمَمْتُ عَلَیۡکُمْ نِعْمَتِیۡ وَرَضِیۡتُ لَکُمُ الۡاِسْلٰمَ دِیۡنًا ؕ (پ6،البقرۃ:3)ترجمۂ کنزالایمان:آج میں نے تمہارے لئے تمہارا دین کامل کردیااور تم پر اپنی نعمت پوری کردی اور تمہارے لئے اسلام کو دین پسند کیا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم پر دین کا کامل مکمل ہونا اس بات کو ملتزم ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم آخری نبی ہیں کیونکہ آپ صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم کے بعد کسی اور نبی کا آنا اسی وقت ممکن ہوتا جب آپ صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم کے دین اور شریعت میں کوئی کمی ہوتی جس کمی کو بعد میں آنے والا نبی پورا کرتا۔ آپ صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم کی عطا کردہ شریعت رُشدُ و ہدایت کا ابدی سر چشمہ ہے۔ جب آپ صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم کا دین کامل اور تمام ہے اور اس کا نا مکمل ہونا ممکن نہی ہے تو آپصلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم کے بعد کسی نبی کا آنا بھی ممکن نہی ہے یعنی آپصلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلمکےبعد کوئی نبی مبعوث نہی ہوگا۔رُشد و ہدایت کا یہ سلسلہ اور ایمان سے وابستگی درحقیقت عقیدۂ ختمِ نبوت پر ایمان سے وابستہ ہے۔اس پر ایمان وبندگی کا لازمی اور ناگزیر تقاضہ ہے جس کے بغیر دین اور ایمان کا تصور بھی محال ہے۔آپصلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم نبوت اور رسالت کی آخری اینٹ اور آخری کڑی بن کر جلوہ آرا ہوئے کہ آپ کے بعد نبوت و رسالت کا دروازہ ہمیشہ کے لیے بند ہو گیا۔ اس بات پر پوری امت کا اجماع ہے کہ ہمارے نبی صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم آخری نبی ہیں اوریہ عقیدہ چمکتے سورج کی طرح روشن ہے۔یہی وجہ ہے کہ عہدِ رسالت صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم سے لے کر پوری امت کا اس پر اتفاق ہے کہ آپ خاتم الانبیاء ہیں۔حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: آقا صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم نے فرمایا:میری اور مجھ سے پہلے نبیوں کی مثل اس شخص کی طرح ہےجس نے گھر بنا کر مکمل کیا اور اس میں ایک اینٹ کی جگہ چھوڑ دی ،پس میں آیا اور میں نے اس اینٹ کو رکھ کر اس گھر کومکمل کر دیا۔(مسند احمد، 3 / 9) حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے: آپ صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم نے فرمایا:بے شک رسالت اور نبوت منقطع ہوچکی، پس میرے بعد کوئی نبی ہوگا نہ رسول۔(مستدرک، 4 /391)ختمِ نبوت کا معنیٰ مہر ہے اور خاتم النبین کا مطلب یہ ہے کہ پہلے انبیائے کرام علیہم الصلوۃ والسلام کی آمد کا سلسلہ جاری تھا،آپ صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم کی تشریف آوری سے یہ سلسلہ بند ہوگیا۔اب اس پر مُہر لگا دی گئی تا کہ کوئی کذاب دعویِ نبوت نہ کر سکے۔ حضرت ابو ذر رضی اللہ عنہ بیا ن کرتے ہیں :نبی محترم صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم نے مجھ سے فرما یا: اے ابوذر! پہلے رسول آدم علیہ السلام ہیں اور آخری رسول محمد (صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم) ہیں۔(کنز العمال،حدیث: 32269) حضرت علی رضی اللہ عنہ آپ کے شمائل بیان کرتے ہوئے فرماتے ہیں:آپصلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم کے دونوں کندھوں کے درمیان مُہر ِنبوت تھی اور آپ خاتم النبیّن تھے۔( ترمذی،حدیث: ٣٦٣٧) عقیدۂ ختمِ نبوت پر ایمان رکھنا ضروریاتِ دین سے ہے اگر کوئی بندہ تمام ضروریاتِ دین کو مانتا ہو مگر آپ صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم کو خاتمُ الانبیا نہ مانتا ہوتو وہ مسلمان نہ ہوگا بلکہ کافر ہی رہے گا۔ بروایتِ حضرت قتادہ رضی اللہ عنہ : نبی مکرم صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم نے فرمایا:میں پیدائش میں سب سے پہلے ہوں اور بعثت میں سب سے آخر۔(کنز العمال ، حدیث:31916)خاتم النبی سے مراد مطلق آخری نبی ہیں ،اس معنیٰ میں تاویل اور تخصیص کی گنجائش نہی۔ معلوم ہوا!ختمیت ازل سے آپصلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم کو دی گئی ہے۔


اللہ پاک ارشاد فرماتا ہے: مَا كَانَ مُحَمَّدٌ اَبَاۤ اَحَدٍ مِّنْ رِّجَالِكُمْ وَ لٰكِنْ رَّسُوْلَ اللّٰهِ وَ خَاتَمَ النَّبِیّٖنَؕ وَکَانَ اللّٰہُ بِکُلِّ شَیۡءٍ عَلِیۡمًا(۴۰)ع (پ22، الاحزاب: 40)ترجمۂ کنزالایمان:”محمد تمہارے مردوں میں سے کسی کے باپ نہیں ہیں، لیکن وہ اللہ کے رسول ہیں اور سب انبیاء کے آخر میں ہیں۔“ختم ِنبوت کا مطلب یہ ہے کہ اللہ پاک نے حضور جانِ جاناں صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم پر نبوت کو ختم فرما دیا، حضور علیہ السلام آخری نبی ہیں، آپ صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم کے بعد جو نبوت کا دعویٰ کرے وہ سب سے بڑا جھوٹا ہے، کافر و لعنتی و جہنمی ہے، یہ حضور جانِ جاناں صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم کے خصائص میں سے ہے کہ آپ علیہ السلام آخری نبی ہیں،یہاں چند احادیث ِمبارکہ کا ذکر کیا جائے گا، جو حضور جانِ جاناں صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم کی ختمِ نبوت کا اعلان کر رہی ہیں۔1۔میں عاقب ہوں: امام بخاری و مسلم رحمۃ اللہ علیہما حضرت جبیر بن مطعم رضی اللہ عنہ سے راوی،رسول اللہ صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم نے فرمایا:بے شک میرے متعدد(کئی)نام ہیں، میں محمد ہوں، میں احمد ہوں، میں ماحی ہوں، کہ اللہ پاک میرے سبب سے کفر مٹاتا ہے، میں حاشر ہوں، میرے قدموں پر لوگوں کا حشر ہو گا، میں عاقب ہوں اور عاقب وہ جس کے بعد کوئی نبی نہیں۔(مسلم کتاب الفضائل باب فی اسمائہ2/261، فتاویٰ رضویہ، جلد 15، صفحہ647)2۔ہم سب سے پچھلے ہیں:صحیحین میں ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم فرماتے ہیں:ہم زمانے میں قیامت میں سب سے پچھلے اور قیامت میں سب سے آگے ہیں۔(بخاری، کتاب الجمعہ، باب فرض الجمعہ1/120، مسلم، کتاب الجمعہ، باب فضیلۃ یوم الجمعہ1/282، فتاوی رضویہ، جلد 15، صفحہ 660)3۔لا نبی بعدی:بخاری شریف میں مروی، رسول اللہ صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم فرماتے ہیں:انبیا بنی اسرائیل کی سیاست فرماتے، جب ایک نبی تشریف لے جاتا، دوسرا اس کے بعد آتا، میرے بعد کوئی نبی نہیں۔( بخاری، کتاب الانبیاء باب ما ذکر عن بنی اسرائیل1/491، فتاوی رضویہ، جلد 15، صفحہ 669) 4۔رسالت و نبوت ختم ہوگئی:حضرت انس رضی اللہ عنہ سے راوی، رسول اللہ صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم فرماتے ہیں:بے شک رسالت و نبوت ختم ہوگئی، اب میرے بعد نہ کوئی رسول، نہ نبی۔( ترمذی، ابواب الرویا ذھبت النبوۃ2/51، فتاوی رضویہ، جلد 15، صفحہ 669، 670)5۔خاتم النبیین: بطریق ا بی الزبیر حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما سے راوی، فرمایا:حضرت آدم علیہ السلام کے دونوں شانوں کے وسط (درمیان) میں قلمِ قدرت سے لکھا ہوا ہے، محمد رسول اللہ خاتم النبیین۔(مختصرتاریخِ دمشق لابن عساکر، باب ذکر ماخصّ بہ وشرف بہ، الخ2/137، فتاوی رضویہ، جلد 15، صفحہ 634)حضور صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم خاتم النبیین ہیں، یعنی اللہ پاک نے سلسلۂ نبوت حضور صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم پر ختم کر دیا کہ حضور صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم کے زمانہ میں یا بعد کوئی نیا نبی نہیں ہو سکتا(وانا خاتم النبیین لا نبی بعدی)جو حضور صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم کے زمانہ میں یا حضور صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم کے بعد کسی کو نبوت ملنا مانے یا جائز جانے، کافر ہے۔(بہار شریعت، جلد 1 ،صفحہ 63، عقیدہ 36)


فرمانِ مصطفے صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم:جو بندہ مجھ پر ایک مرتبہ درودِ پاک پڑھتا ہے، اللہ پاک اس پر دس مرتبہ رحمت نازل فرماتا ہے، اب بندے کی مرضی ہے وہ کم پڑھے یا زیادہ۔عقیدۂ ختم نبوت کیا ہے:عقیدہ ٔختم نبوت کا مطلب یہ ہے کہ نبیوں کی تعداد حضور صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم کے تشریف لانے سے مکمل ہوچکی ہے،حضور صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم کے بعد نبوت اور رسالت ختم ہو چکی ہے، اب قیامت تک کسی بھی انسان کو نبوت یا رسالت نہیں ملے گی یعنی تاقیامت نبیوں کی تعداد میں کسی ایک نبی کا بھی اضافہ نہیں ہوگا۔اللہ پاک کا بے انتہا شکر ہے جس کی توفیق سے آقا صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم کی ختمِ نبوت کے عقیدے کے تحفظ میں ادنیٰ سی کوشش کی توفیق ملی۔اسلام میں عقیدے کو اوّلیت حاصل ہے، پہلے خدا اور اس کے بعد بھیجے ہوئے رسولوں اور کتابوں پر درست عقیدہ رکھنا ضروری ہوتا ہے، پھر اس کے بعد ہی اعمال کی ابتدا ہوتی ہے، درست عقیدے کے بغیر عبادت کرنا ایسا ہی ہے، جیسے بغیر بنیاد کی عمارت کھڑی کر دی جائے۔جس طرح مسلمان کے لئے ذاتِ الٰہی کا جاننا فرض ہے، عین اسی طرح ختمِ نبوت پر ایمان لانا بھی فرض ہے، جو اس کا انکار کرے وہ کافر و مرتد ہے، بلاشبہ نبوت بہت بلند، بڑا عظیم اور بڑا درجہ ہے، اس لئے اس میں ذرا سی بھی گمراہی قابلِ قبول نہیں۔قرآن عظیم میں ختمِ نبوت پر دلیل:قرآنِ عظیم میں بیشتر ایسی آیات موجود ہیں جن میں ختمِ نبوت کا عقیدہ واضح طور پر سمجھ آتا ہے، لیکن طوالت کے خوف سے یہاں پر صرف ایک آیت پیش کی جاتی ہے، اللہ پاک کا ارشادِ مبارک ہے:ترجمۂ کنزالعرفان:محمد تمہارے مردوں میں کسی کے باپ نہیں ہیں، لیکن اللہ کے رسول ہیں اور سب نبیوں کے آخر میں تشریف لانے والے ہیں اور اللہ سب کچھ جاننے والا ہے۔(پ22،الاحزاب:40)

ان کے مولیٰ کے ان پر کروڑوں درود ان کے اصحاب و عترت پہ لاکھوں سلام

بار ہائے صحف غنچائے قدس اہلِ بیتِ نبوت پہ لاکھوں سلام

اہلِ اسلام کی مادرانِ شفیق بانوانِ طہارت پہ لاکھوں سلام

ختمِ نبوت کے متعلق چار فرامینِ مصطفے صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم:

1۔حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم نے ارشاد فرمایا:میری مثال اور مجھ سے پہلے انبیائے کرام علیہم السلام کی مثال اس شخص کی طرح ہے جس نے بہت حسین و جمیل ایک گھر بنایا، مگر اس کے ایک کونے میں ایک ا ینٹ کی جگہ چھوڑ دی، لوگ اس کے گرد گھومنے لگے اور تعجب سے یہ کہنے لگے:اس نے یہ اینٹ کیوں نہ رکھی؟ پھر آپ صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم نے ارشاد فرمایا:میں (قصرِنبوت کی) وہ اینٹ ہوں اور میں خاتم النبیین ہوں۔(مسلم، کتاب الفضائل، باب ذکر کو نہ صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم خاتم النبیین، صفحہ 1255، حدیث 22(2286) 2۔حضرت ثو بان رضی اللہ عنہ سے روایت ہے:رسولِ کریم صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم نے ارشاد فرمایا:بے شک اللہ پاک نے میرے لئے تمام روئے زمین کو لپیٹ دیا اور میں نے اس کے مشرقوں اور مغربوں کو دیکھ لیا(اس حدیث کے آخر میں ارشاد فرمایا:)عنقریب میری اُمّت میں تیس کذّاب ہوں گے، ان میں سے ہر ایک گمان کرے گا کہ وہ نبی ہے، حالانکہ میں خاتم النبیین ہوں اور میرے بعد کوئی نبی نہیں ہے۔(ابو داؤد،کتاب الفتن ولملامم، باب ذکر الفتن ودولائلہا، 4/132، حدیث 4252)3۔حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، حضور صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم نے ارشاد فرمایا:مجھے6 وجوہ سے انبیائے کرام علیہم السلام پر فضیلت دی گئی ہے: 1۔مجھے جامع کلمات عطا کئے گئے ہیں،2۔رعب سے میری مدد کی گئی ہے، 3۔میرے لئے غنیمتوں کو حلال کر دیا گیا ہے۔ 4۔تمام روئے زمین کو میرے لئے طہارت اور نماز کی جگہ بنا دیا گیا ہے، 5۔مجھے تمام مخلوق کی طرف (نبی بنا کر) بھیجا گیا ہے، 6۔اور مجھ پر نبیوں(کے سلسلے کو ختم کیا گیا ہے)۔(مسلم، کتاب المساجد وموا ضع الصلاۃ، صفحہ 266، حدیث5(523) 5۔حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، حضور اقدس صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم نے ارشاد فرمایا:میں تمام رسولوں کا قائد ہوں اور یہ بات بطورِ فخر نہیں کہتا اور میں تمام پیغمبروں کا خاتم ہوں اور یہ بات بطورِ فخر نہیں کہتا اور میں سب سے پہلی شفاعت کرنے والا اور سب سے پہلے شفاعت قبول کیا گیا ہوں اور یہ بات فخر کے طور پر ارشاد نہیں فرماتا۔(معجم اوسط، باب الالف، من اسمہ:احمد1/63، حدیث: 170)ایک بہن نے بڑا اچھا جملہ کہا :ہر نبی کا عمل خوبصورت ہوتا ہے، یہ خوبصورتی ترقی کرتی رہی، حتّٰی کہ آخر میں اللہ پاک کے پیارے حبیب صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم دنیا میں جلوہ افروز ہوئے تو ہر عمل کی خوبصورتی اپنی انتہا کو پہنچ گئی، جب ہر عمل کی خوبصورتی اپنی انتہا کو پہنچ گئی تو اس پر ختمِ نبوت کی مہر لگا دی گئی کہ اس جیسا پیارا عمل نہ پہلے آیا اور نہ قیامت کی صبح تک آئے گا۔

پاک اللہ ذاتِ مصطفی کا حسنِ لاثانی کہ یکجا جمع ہیں جس میں تمام اوصافِ امکانی

دعائے یونسی، خلقِ خلیلی، صبرِ ایّوبی جلالِ موسوی، زیدِ مسیحی، حسنِ کنعانی

پیاری پیاری اسلامی بہنوں!اسلام کے خلاف سازشوں میں باطل فرقوں نے اُمّت کو نقصان پہنچانے کی ہر دور میں جو کوشش کی وہ کسی سے چھپی ہوئی بات نہیں اور اللہ پاک نے ایسے اسلام دشمن کی سرکُوبی کے لئے علمائے حق کا انتخاب فرمایا، جس کی ابتدا صحابہ کرام رضی اللہ عنہم سے ہوئی اور خاص طور سے منکرِ ختمِ نبوت کا سر توڑ اور مُنہ توڑ جواب دیا۔حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے اور ان کے بعد ہر دور میں جھوٹے دعویدار نبوت کے ہوتے رہے اور خاص طور سے بارہویں اور تیرہویں صدی ہجری میں کئی دجّالوں نے جھوٹے دعوے کی طرف پیش قدمی کی، ،انہوں نے شانِ رسول میں انتہائی گستاخانہ عبارتیں لکھیں جنہیں دیکھ کر مؤمن کے رونگٹے کھڑے ہوجائیں، جو کہ سراسر کفر ہے۔

اس پر اعلیٰ حضرت رحمۃ اللہ علیہ نے انہیں ایسے منہ توڑ جوابات دیئے جن کے جوابات وہ آج تک نہ دے سکے نہ قیامت تک دے سکیں گے۔ان شاءاللہ ۔ مضمون کے اختتام کی طرف جاتے ہوئے مرزائی قادیانیوں کو یہ کہنا چاہوں گی کہ تم کیوں کر اپنی آخرت برباد کر رہے ہو، جب کہ حقیقت بالکل واضح ہے، ایسی پیاری اُمّت کو چھوڑ کر تم جہنم کا ایندھن بن رہے ہو! ارے ظالمو!اس اُمّت میں ہونے کی دعا تو انبیائے کرام علیہم السلام بھی کرتے تھے، اب بھی وقت ہے، توبہ کا دروازہ کھلا ہے، اس پیارے حبیب صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم کی ختمِ نبوت پر ایمان لے آؤ، جو آخری نبی ہیں، جن کی کتاب آخری کتاب ہے، جن کی اُمّت آخری امت ہے، جن کا دین آخری ہے، دولت کے نشے میں مست ہونے والوں مرزائیو! تیسرے پارے کی آخری آیت پڑھ لو کہ ساری دنیا کے برابر سونے بھی لے آؤ تو جہنم سے چھٹکارا حاصل نہیں کر سکتے اور اگر میرے آقا صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم کی ختمِ نبوت پر سچے دل سے توبہ کرکے ایمان لے آؤ تو تم تو کیا، تمہارا سایہ بھی جہنم میں نہ جائے گا۔ان شاءاللہ ۔پھر سوچ لو! غور کرلو! مرنے کے بعد تو تم بھی مان لوگے، مگر اُس وقت کا مان لینا کام نہیں آئے گا، آج لے اُن کی پناہ، آج مدد مانگ ان سے پھر نہ مانیں گے قیامت میں اگر مان گیا۔خدا کرے دل میں اُتر جائے میری بات!