اللہ پاک اور بندوں کے تعلق کو مضبوط بنانے کے لیے انبیائے
کرام علیہم السلام تشریف لائے۔ اللہ پاک نے انبیائے کرام علیہم السلام کو ایک خاص قوم اور ایک خاص شریعت کے ساتھ مبعوث فرمایا۔ ان تمام کی تعلیمات
جزوی تھیں لہٰذا اللہ پاک کے اس نظامِ شریعت
اور سلسلۂ نبوت جو ارتقائی مراحل پر گامزن تھی کو ایک جامع اور کامل نبی کی ضرورت
تھی، ایسے نبی کی جس کی شریعت جزوی نہ ہو بلکہ مکمل ہو جس میں زندگی کے ہر پہلو کے
راہ نما اصول موجود ہوں اور جو کسی خاص قوم یا کسی خاص خطے کے ساتھ مخصوص نہ ہو
بلکہ عالمین کے لیے ہدایت ہو۔
چنا نچہ اللہ پاک
نے سلسلۂ نبوت و رسالت کی تکمیل کے لیے حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ والہ وسلم کو مبعوث فرمایا۔ختم النبوة فی ضوء القراٰن والسنۃ:نبی
اکرم صلی اللہ علیہ
والہ وسلم پر نبوت کا
سلسلہ ختم ہوا ۔چنانچہ ارشاد باری ہے :مَا كَانَ مُحَمَّدٌ اَبَاۤ
اَحَدٍ مِّنْ رِّجَالِكُمْ وَ لٰكِنْ رَّسُوْلَ اللّٰهِ وَ خَاتَمَ النَّبِیّٖنَؕ-ترجمۂ
کنز الایمان:محمد
تمہارے مردوں میں کسی کے باپ نہیں ، ہاں اللہ کے رسول ہیں اور سب نبیوں کے پچھلے۔(پ 22، الاحزاب:40)خاتم النبیین کے معنی یہ ہیں کہ سلسلۂ نبوت آپ پر ختم ہوگیا
اور آپ کے بعد کوئی نبی مبعوث نہیں ہوسکتا۔خاتم النبیین ہونا نبی اکرم صلی اللہ علیہ والہ وسلم کا اعزاز و اختصاص ہے اور تمام مسلمانوں کے ایمان کی اساس
ہے۔چنانچہ بخاری شریف میں کتاب المناقب
باب خاتم النبیین صلی اللہ
علیہ والہ وسلم میں درج
ہے : وانا خاتم النبیین۔ (2)میں آخری نبی ہوں۔ترمذی کتاب الفتن ، باب ما جاء لا تقوم الساعۃ .. الخ ، میں یہ حدیث شریف مذکور ہے: وانا خاتم النبیین لا
نبی بعدی (3)میں آخری رسول ہوں اور میرے بعد کوئی نبی نہیں۔قُلْ
یٰۤاَیُّهَا النَّاسُ اِنِّیْ رَسُوْلُ اللّٰهِ اِلَیْكُمْ جَمِیْعَاﰳ (4)ترجمۂ کنز الایمان:تم فرماؤ اے لوگو میں تم سب کی طرف اللہ
کا رسول ہوں۔وَ
مَاۤ اَرْسَلْنٰكَ اِلَّا كَآفَّةً لِّلنَّاسِ(5)ترجمۂ کنز الایمان:”اور اے محبوب ہم نے تم کو نہ بھیجا مگر
ایسی رسالت سے جو تمام آدمیوں کو گھیرنے والی ہے ۔“ یعنی پیغامِ ہدایت تمام
انسانوں کے لیے ہے اور جس کے بعد کسی ہادی و راہ نما کی ضرورت باقی نہیں رہتی۔پہلی
آیت میں انسانوں کو مخاطب کیا گیا ہے اس لیے
یٰۤاَیُّهَا
النَّاسُ فرمایا گیا ورنہ
آپ صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم کی ہدایت تمام عالمین کے جن و انس کے
لیے ہے ،اس لیے آپ صلی اللہ
علیہ والہ وسلم رسول
الثقلین ہیں۔(6)اسی حوالے سے حدیث شریف میں ارشاد ہوا ہے : وارسلت الی الخلق کافة میں تمام مخلوقات کی طرف بھیجا گیا ہوں۔ (7) صاحب ِمرقاة رحمۃ اللہ علیہ اس حدیث کے تحت
لکھتے ہیں:آپ صلی اللہ
علیہ والہ وسلم کی بعثت
تمام اجزائے عالم اور جمیع اقسامِ موجودات کے لیے ہے خواہ وہ جمادات و نباتات ہوں یا
حیوانات۔ (8) وَ
مَاۤ اَرْسَلْنٰكَ اِلَّا رَحْمَةً لِّلْعٰلَمِیْنَ(۱۰۷) (9)ترجمۂ کنز الایمان:”اور ہم نے تمہیں نہ بھیجا مگر رحمت
سارے جہان کے لیے ۔“اس آیت ِمبارکہ سے آپ صلی اللہ علیہ والہ وسلم کی افاقیت و عالمگیریت ثابت ہوتی ہے کہ آپ تمام عالمین کے لیے
رحمت ہیں ۔ آپ کے سایۂ رحمت میں ہر ایک کو پناہ ملتی ہے۔اَلْیَوْمَ
اَكْمَلْتُ لَكُمْ دِیْنَكُمْ وَ اَتْمَمْتُ عَلَیْكُمْ نِعْمَتِیْ (10)ترجمۂ کنز الایمان:”آج میں نے تمہارے لیے تمہارا دین کامل
کردیا اور تم پر اپنی نعمت پوری کردی“جب دین کی کاملیت کا اعلان
واضح طور پر اس آیت ِکریمہ میں کر دیا گیا تو اب کسی نئے نبی اور کسی نئی شریعت کی
ضرورت باقی نہیں رہی۔لہٰذا اب کوئی بھی فرقہ یا شخص آپ کے بعد کسی کی نبوت کو جائز
سمجھتا ہو یا وہ نبوت کا دعوی کرے تو وہ آیاتِ قرانی کا منکر قرار پائے گا اور
قرآنِ کریم کا منکر صریح کافر ہے ۔1۔[پ22،الاحزاب:40]2-(2/485،حدیث:3535)3-(4/93،حدیث:2226)4-[پ9،الاعراف:158]5-[پ22،سبا:28]6-(تکمیل الایمان، ص 127 تا 128)7-(مسلم ، کتاب المساجد .. الخ ، ص 266،حديث :533)8-(مرقاة، کتاب الفضائل ،
باب فضائل سید المرسلین ، الفصل الاول ، 10 / 14،تحت الحدیث : 5748)۔ 9-[پ17، الانبياء:107]
10-[پ6، المائدة:3]
عقیدۂ ختمِ نبوت دینِ اسلام کا ایک بنیادی عقیدہ ہے اور ایک
اہم ترین عقیدہ ہے، ختمِ نبوت کے بارے میں عقیدہ گویا ایمان کا بھی ایک پہلو ہے، آئیے! ملاحظہ فرمائیے کہ عقیدۂ ختم نبوت سے کیا
مراد ہے:عقیدۂ ختم نبوت: نبی کریم، رؤف الرحیم صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم کو اللہ پاک کا
آخری رسول و نبی ماننا اور اس بات پر ایمان لانا کہ حضور صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم کے بعد کوئی نیا نبی یا رسول نہیں آ سکتا، اسے عقیدۂ ختم نبوت کہتے ہیں۔یہاں ایک بات ذہن
نشین رکھئے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا قُربِ
قیامت میں جو آنا ہوگا، وہ حضور صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم کے نائب کے طور پر ہوگا اور وہ اپنے دین(شریعت) کے بجائے دینِ محمدی کی تبلیغ فرمائیں گے۔
فتحِ بابِ نبوت پہ بےحد دُرود ختمِ دورِ رسالت پہ لاکھوں سلام
عقیدۂ ختمِ نبوت کی اہمیت:جو حضور صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم کے بعد کسی کو نبوت کا مستحق سمجھے یا اسے جائز کہے، تو وہ کافر ہے۔ (بہارِشریعت)ختمِ نبوت کے متعلق چند احادیثِ مبارکہ:٭حضور صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم نے غیب کی خبر دیتے ہوئے فرمایا تھا: عنقریب میری اُمّت میں
تیس کذّاب (جھوٹے) ہوں گے، ان میں سے ہر ایک گمان کرے گا کہ وہ نبی ہے، حالانکہ نبوت ختم ہو چکی، میں خاتم النبیین ہوں اور میرے بعد کوئی نبی نہیں
ہے۔(ابو داؤد،
4/132، حدیث 4252)٭ارشاد فرمایا:بے شک رسالت اور نبوت مجھ پر ختم ہوگئی، اب میرے بعد کوئی رسول ہے،نہ کوئی نبی۔(ترمذی، 4/121،حدیث:2279)٭اِرشاد فرمایا:بے شک میرے بعد کوئی نبی نہیں اور تمہارے
بعد کوئی اُمّت نہیں۔ (صدرالافاضل
اور عقیدۂ ختم نبوت)مندرجہ
بالا احادیثِ مبارکہ سے عقیدۂ ختمِ نبوت کی اہمیت واضح ہے۔
نہیں ہے اور نہ ہوگا بعد آقا کے نبی کوئی وہ ہیں شاہِ رُسل، ختمِ نبوت اس کو کہتے ہیں
لگا کر پُشت پر مہر ِنبوت حق تعالی نے انہیں آخر میں بھیجا خاتمیت اس کو کہتے ہیں(قبالہ
بخشش)
مَا كَانَ
مُحَمَّدٌ اَبَاۤ اَحَدٍ مِّنْ رِّجَالِكُمْ وَ لٰكِنْ رَّسُوْلَ اللّٰهِ وَ
خَاتَمَ النَّبِیّٖنَؕ-ترجمۂ
کنز الایمان:محمد تمہارے مردوں میں کسی کے
باپ نہیں ، ہاں اللہ کے رسول ہیں اور سب نبیوں کے پچھلے۔(پ 22، الاحزاب:40)ختمِ نبوت کا مفہوم:ختم کے لغوی معنیٰ ہے:مہر لگانا، بند کرنا، کسی کام کو پورا کر کے فارغ ہونا وغیرہ۔ختمِ نبوت کا مفہوم یہ ہے
کہ اللہ پاک کی طرف سے اپنے خاص بندوں کو
منصبِ نبوت و رسالت پر سرفراز کرنے کا جو سلسلہ حضرت آدم علیہ السلام سے لے کر حضرت عیسٰی علیہ السلام تک جاری و ساری تھا، وہ حضرت محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم کی ذاتِ اقدس پر آ کر ختم ہو گیا۔
پہلے ایک نبی کے بعد دوسرا نبی آتا تھا، مگر اب آپ کے بعد کسی اور نبی کی بعثت نہیں ہوگی، آپ اللہ پاک کے سب سے آخری نبی اور رسول ہیں،
آپ خاتم الانبیاء ہیں اور آپ پر نازل ہونے والی کتاب قرآنِ کریم خاتم الکتب ہے۔یہ
اسلام اور اس امت کا متفقہ اور مسلمہ عقیدہ ہے کہ جو شخص حضرت محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلمکو آخری نبی نہ مانے یا آپ کے بعد سلسلۂ نبوت کے جاری رہنے کا عقیدہ رکھتا ہو یا آپ کے بعد کسی اور شخص کونیا نبی یا رسول مانتا ہووہ کافر اور دائرۂ اسلام سے خارج ہے۔ عقیدۂ ختمِ نبوت کتاب و سنت
اور اجماعِ امت تینوں سے ثابت ہے۔ ختمِ نبوت کا عقیدہ اسلام کے بنیادی عقائد
میں سے ہے، جس کا مطلب یہ ہے کہ حضرت محمد
رسول اللہ صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم خاتم النبیین ہیں۔ اس بارے میں چند احادیث مندرجہ
ذیل ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم نے فرمایا:اِنِّی عَبْدُاللہِ وَخَاتَمُ النَّبِیِّینَ وَاِنَّ آدَمَ
لَمُنْجِدِل فِیْ طِیْنَتِہٖ ترجمہ :میں اللہ پاک کا بندہ اور نبیوں (کے سلسلۂ نبوت) کو ختم کرنے والا ہوں اور یہ فیصلہ اس وقت سے صادر
شدہ ہے، جب آدم علیہ السلام اپنی مٹی میں تھے۔(مسند امام احمد)رسول اللہ صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے فرمایا: اِنَّ
الرَّسَالَۃَ وَالنَّبُوَّۃَ قَدْ اِنْقَطَعَتْ فَلَا رَسُوْلَ بَعْدِیْ وَلَا
نَبِیَّ ترجمہ:سلسلۂ رسالت و نبوت منقطع
ہو چکا ، میرے بعد کوئی رسول ہے نہ نبی۔(مسند احمد، ترمذی)رسول اللہ صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم نے ارشاد فرمایا:مَثَلِیْ وَمَثَلُ الْاَنْبِیَاءِ کَرَجُلٍ بَنٰی
فَاکْمَلَھَا وَاَحْسَنَھَا اِلَّا مَوْضِعُ لَبِنَۃٍ فَجَعَلَ النَّاسُ یَدْ خُلُوْنَھَاوَیَتَعَجَّلُوْنَ
وَیَقُوْلُوْنَ لَوْ لَا مَوْضِعَ الَّلبِنَۃِ ترجمہ:میری اور دوسرے انبیائے کرام علیہم
السلام کی مثال ایسی ہے جیسے کسی آدمی
نے مکان بنایا،اسے بالکل مکمل کر دیا اور
بڑا خوبصورت بنایا، مگر ایک اینٹ کی جگہ خالی چھوڑ دی، لوگ اس میں داخل ہوتے اور
تعجب سے کہتے: کاش!اس جگہ بھی ایک اینٹ لگا دی جاتی۔(بخاری،
ص352)خاتم النبیین کا حقیقی مفہوم یہی
ہےجو محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم نے اس حدیث میں بیان فرمایا کہ آپ قصرِنبوت کی آخری
اینٹ ہیں، یہ ختمِ نبوت کی بہترین مثال ہے، جو آپ نے سمجھانے کے لئے خود بیان فرما دی اور ذہن نشین کروا دیا کہ آپ
حضرات انبیائے کرام علیہم
السلام کی لڑی میں سب سے آخری نبی
ہیں۔رسول اللہ صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم نے فرمایا: اِنَّ اللَّهَ لَمْ يَبْعَثْ نَبِيًّا اِلَّا حَذَّرَ
أُمَّتَهُ الدَّجَّالَ وَأَنَا آخِرُ الْاَنْبِيَاءِوَاَنْتُمْ آخِرُ الْاُمَمِ وَهُوَ
خَارِجٌ فِيكُمْ لَا مَحَالَةَ ترجمہ:بے شک اللہ پاک نے کوئی نبی ایسا نہیں بھیجا جس نے اپنی اُمّت کو
دجال سے نہ ڈرایا ہو۔ بے شک میں آخری نبی ہوں اور تم آخری اُمّت ہو،وہ یقیناً تم
میں ہی آئے گا۔ (ابن
ماجہ)ر سول اللہ صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم نے فرمایا: وَاِنَّهُ سَيَكُونُ فِي
أُمَّتِي كَذَّابُونَ ثَلَاثُونَ كُلُّهُمْ يَزْعُمُ أَنَّهُ نَبِيٌّ وَاَنَا
خَاتَمُ النَّبِيِّينَ لَا نَبِيَّ بَعْدِي ترجمہ:میری امت میں تیس کذاب ہوں گےجن
میں سے ہر ایک یہ دعویٰ کرے گا کہ وہ نبی ہے، حالانکہ میں خاتم النبیین ہوں، میرے بعد کوئی نبی۔(ابوداؤد، کتاب الفتن)جب حضور صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم کی نبوت جملہ اقوامِ عالم کے لئے
اور قیامت تک کے لئے ہے، جب آپ پر نازل
شدہ کتاب بغیر کسی معمولی تحریف کے جُوں تُوں ہمارے پاس موجود ہے، جب شریعتِ اسلامیہ روزِ اوّل کی طرح آج بھی انسانی
زندگی کے تمام شعبوں میں ہماری راہ نمائی کر رہی ہے، جب قرآنِ کریم کی یہ آیت آج بھی اعلان کر رہی
ہے(ترجمۂ کنزالایمان: آج میں نے تمہارے لئے تمہارا دین مکمل کردیا اور میں نے تم
پر اپنی نعمت پوری کردی اور تمہارے لئے اسلام بطورِ دین پسند کیا۔)(پ6، المائدہ:3 ) تو پھر کسی اور نبی کی بعثت کا کیا فائدہ؟ نبی کی آمد کوئی معمولی واقعہ نہیں ہوتا کہ نبی آیا، جس نے چاہا مان لیا اور جس نے چاہا انکار کر دیا، کوئی کتنا ہی نیک، پاکباز، پارسا اور عالمِ باعمل ہو، اگر وہ کسی سچے نبی کی نبوت کو تسلیم نہ کرے تو
اس کا نام مسلمانوں کی فہرست سے خارج کر دیا جائے گا اور کفار و منکرین کے زمرے
میں اس کا نام درج کر دیا جائے گا۔
عقیدۂ ختمِ نبوت کا مطلب یہ ہے کہ نبیوں کی تعداد حضور صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم کے آنے سے پوری ہوچکی ہے۔ حضور صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم کے بعد نبوت اور رسالت ختم ہوچکی ہے۔ اب تاقیامت کوئی نیا
نبی یا رسول نہیں آئے گا۔ ویسے تو عقیدۂ ختم نبوت تقریبا 210 سے زائد احادیثِ
مبارکہ سے ثابت ہے۔لیکن اس مضمون میں عقیدۂ ختم نبوت پر 10 احادیثِ مبارکہ پیش کرنے
کی سعادت حاصل کروں گی۔ حدیث نمبر1:عَنْ
أَبِی ہُرَیرَۃَ ؓ،أَنَّ رَسُولَ اللہ صلی
اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم قَالَ:مَثَلِی وَمَثَلُ
الْأَنْبِیاءِ مِنْ قَبْلِی کمَثَلِ رَجُلٍ بَنىٰ بُنْیانًا فَأَحْسَنَہ وَأَجْمَلَہ،
إِلَّا مَوْضِعَ لَبِنَۃ مِنْ زَاوِیۃ مِنْ زَوَایاہ، فَجَعَلَ النَّاسُ یطُوفُونَ
بِہ وَیعْجَبُونَ لَہ وَیقُولُونَ:ہلَّا وُضِعَتْ ہذِہ اللَّبِنَۃ قَالَ فَأَنَا
اللَّبِنَۃ، وَأَنَا خَاتَمُ النَّبِیینَ حضرت ابوہریرۃ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے :رسول اللہصلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم نے فرمایا: میری اور مجھ سے پہلے انبیا ئےکرام علیہم الصلوۃ و السلام کی مثال ایسی ہے کہ
ایک شخص نے بہت ہی حسین و جمیل محل بنایا مگر اس کے کونے میں ایک اینٹ کی جگہ چھوڑ
دی۔لوگ اس کے گرد گھومنے اور تعجب کرنے لگےاور یہ
کہنے لگے: یہ ایک اینٹ بھی کیوں نہ لگادی گئی؟آپصلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم نے فرمایا:میں وہی اینٹ ہوں اور نبیوں(کے سلسلے)کو ختم کرنے والا ہوں۔(مسلم، باب ذکر
کونہ صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم خاتم النبیین،حدیث : 5961) حدیث نمبر 2:عَنْ
أَبِی ہُرَیرَۃَ ؓ،أَنَّ رَسُولَ اللہ صلی
اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم قَالَ:فُضِّلْتُ عَلَى
الْأَنْبِیاءِ بِسِتٍّ:أُعْطِیتُ جَوَامِعَ الْکلِمِ، وَنُصِرْتُ بِالرُّعْبِ،
وَأُحِلَّتْ لِی الْغَنَائِمُ، وَجُعِلَتْ لِی الْأَرْضُ طَہورًا وَمَسْجِدًا،
وَأُرْسِلْتُ إِلَى الْخَلْقِ کافَّۃ، وَخُتِمَ بِی النَّبِیونَ حضرت ابوہریرۃ رضی اللہ
عنہ سے روایت ہے: رسول اللہصلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم نے فرمایا:مجھے 6 چیزوں میں انبیا
ئےکرام علیہم الصلوۃ و السلام پر فضیلت دی گئی۔
1)مجھے جامع کلمات عطا کئے گئے۔ 2)رعب کے ساتھ میری مدد کی گئی۔ 3)مال غنیمت میرے
لئےحلال کردیا گیا۔ 4)روئے زمین کو میرے لئے مسجد اور پاک کرنے والی چیز
بنادیاگیا۔ 5)مجھے تمام مخلوق کی طرف مبعوث کیا گیا۔ 6)مجھ پر تمام نبیوں کا سلسلہ
ختم کر دیا گیا۔(مسلم،کتاب
المساجد و مواضع الصلوۃ ،حدیث: 1167) حدیث نمبر 3:عَنْ سَعْدِ بْنِ أَبِی
وَقَّاصٍ ؓ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللہصلی اللہ
علیہ واٰلہٖ وسلم لِعَلِی: أَنْتَ مِنِّی
بِمَنْزِلَۃِ ہارُونَ مِنْ مُوسٰى، إِلَّا أَنَّہ لَا نَبِی بَعْدِی حضرت سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ سے روایت ہے: رسول اللہصلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم نے حضرت علی رضی اللہ عنہ سے فرمایا:تم مجھ سے وہی نسبت رکھتے
ہو جو ہارون علیہ السلام کو موسیٰ علیہ السلام سے تھی مگر میرے
بعد کوئی نبی نہیں۔(مسلم،
باب من فضائل علی بن ابی طالب،حدیث: 6217) حدیث نمبر 4:عَنْ
أَبِی ہُرَیرَۃَعَنِ النَّبِیصلی اللہ
علیہ واٰلہٖ وسلم،قَالَ:کانَتْ بَنُو إِسْرَائِیلَ تَسُوسُہمُ الْأَنْبِیاءُ کلَّمَا
ہلَک نَبِی خَلَفَہ نَبِی، وَإِنَّہ لَا نَبِی بَعْدِی وَسَیکونُ خُلَفَاءُ
فَیکثُرُونَحضرت
ابوہریرۃ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے:رسول اللہصلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم نے فرمایا: بنی اسرائیل کی قیادت خود ان کے انبیا ئےکرام علیہم الصلوۃ و السلام کرتے تھے۔ جب کسی
نبی کی وفات ہوجاتی تھا تو دوسرا نبی اس کی جگہ آجاتا تھا۔لیکن میرے بعد کوئی نبی
نہیں۔ البتہ خلفاء ہوں گے اور بہت ہونگے۔(بخاری، باب ذکر عن بنی اسرائیل،حدیث: 3455) حدیث نمبر 5:عَنْ
ثَوْبَانَ ؓ،قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّہصلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم:وَإِنَّہ سَیکونُ فِی أُمَّتِی ثَلَاثُونَ کذَّابُونَ
کلُّہمْ یزْعُمُ أَنَّہ نَبِی، وَأَنَا خَاتَمُ النَّبِیینَ لَا نَبِی
بَعْدِیحضرت ثوبان رضی اللہ عنہ سے روایت ہے :رسول اللہصلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم نے فرمایا: میری امت میں 30 جھوٹے پیدا ہوں گے ،ان میں سے
ہر ایک کہے گا :میں نبی ہوں۔حالانکہ میں خاتم النبیین ہوں۔میرے بعد کوئی نبی نہیں۔(ترمذی، باب ما جاء لا تقوم الساعۃ حتی یخرج کذابون، حدیث: 2219) حدیث نمبر 6:عَنْ
أَنَس بْن مَالِک ؓ، قَالَ:قَالَ رَسُولُ اللَّہصلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم:إِنَّ الرِّسَالَۃ وَالنُّبُوَّۃ قَدِ انْقَطَعَتْ،
فَلَا رَسُولَ بَعْدِی وَلَا نَبِی حضرت ثوبان رضی اللہ عنہ سے روایت ہے :رسول اللہصلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم نے فرمایا:ر سالت
و نبوت ختم ہوچکی ہے پس میرے بعد نہ کوئی رسول ہے نہ نبی۔(ترمذی،باب ذہبت النبوۃ وبقیت المبشرات،حدیث: 2272) حدیث نمبر 7:عَنْ
أَبِی ہرَیرَۃ،قَالَ رَسُولُ اللَّہصلی اللہ
علیہ واٰلہٖ وسلم صَلَّى اللَّہ عَلَیہ
وَسَلَّمَ:نَحْنُ الْآخِرُونَ السَّابِقُونَ یوْمَ الْقِیامَۃ أُوتُوا
الْکتَابَ مِنْ قَبْلِنَا وَأُوتِینَاہ مِنْ بَعْدِہمْحضرت ابوہریرۃ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے :رسول اللہصلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم نے فرمایا: ہم سب کے بعد آئے اور قیامت کے دن سب سے آگے
ہونگے۔صرف اتنا ہوا کہ ان کو کتاب ہم سے پہلے دی گئی۔(بخاری،باب ھل علی من لا یشھد الجمعۃ غسل من النساء
والصبیان،حدیث: 896) حدیث نمبر
8:عَنْ عُقْبَۃ بْنِ عَامِرٍ، قَال:
قَالَ رَسُولُ اللَّہصلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم: لَوْ کانَ بَعْدِی نَبِی لَکانَ عُمَرَ بْنَ
الْخَطَّابِ حضرت
عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے :رسول اللہصلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم نے فرمایا: اگر میرے بعد کوئی نبی ہوتا تو عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ ہوتے۔(ترمذی، مناقب ابی حفص عمر ؓ بن الخطاب ، حدیث: 3686) حدیث نمبر 9:عن جبیر
بن مطعم قال سمعت النبی صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم یقول ان لی اسماء،وانا محمد،وانا احمد،وانا الماحی الذی
یمحواللہ بی الکفر، وانا الحاشر الذی یحشرالناس علی قدمی، وانا العاقب الذی لیس
بعدہ نبی حضرت جبیر بن
مطعم رضی اللہ عنہ سے روایت ہے: رسول اللہصلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم نے فرمایا:میرے چند نام ہیں۔میں محمد ہوں۔میں احمد ہوں۔میں
ماحی یعنی مٹانے والا ہوں کہ میرے ذریعے اللہ پاک کفر کو مٹائے گا۔ میں حاشر یعنی جمع کرنے
والا ہوں کہ لوگ میرے قدموں پر اٹھائے
جائیں گے۔ میں عاقب ہوں
یعنی سب کے بعد آنے والا ہوں کہ میرے بعد کوئی نبی نہیں۔ (مشکوٰۃ،باب اسماء النبی صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم وصفاتہ،حدیث:
5776) حدیث نمبر 10: عَنْ
سَہلٍ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّہصلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم: بُعِثْتُ أَنَا وَالسَّاعَۃ ہکذَاحضرت سھل رضی اللہ عنہ سے روایت ہے:رسول اللہصلی اللہ علیہ واٰلہٖ
وسلم نے اپنی انگشت شہادت اور درمیانی انگلی کی طرف اشارہ کر کے
فرمایا: مجھے اور قیامت کو ان دو انگلیوں کی طرح بھیجا گیا ہے۔ (یعنی جس طرح شہادت کی
انگلی اور درمیانی انگلی کے درمیان کوئی اور انگلی نہیں اسی طرح میرے اور قیامت کے درمیان کوئی اور ایسا انسان
نہیں آئے گا جس کو نبوت دی جائے گی)(بخاری،باب قول
النبی صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم بعثت انا والساعۃ کھاتین،حدیث:6503)ان دس احادیثِ مبارکہ سے بھی یہ بات اظہر من الشمس ہوگئی کہ
نبیوں کی تعداد حضورصلی اللہ
علیہ واٰلہٖ وسلم کے تشریف
لانے سے پوری ہوگئی ہے اور حضورصلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم کے بعد نبیوں کی تعداد میں کسی ایک نبی کا اضافہ بھی نہیں ہوگا۔
خاتم المرسلین، رحمۃ اللعالمین، شفیع المذنبین، انیس الغریبین،
سراج السالکین، محبوبِ رب العالمین، جنابِ صادق و امین صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم کا فرمانِ مغفرت نشان ہے:جب جمعرات کا دن آتا ہے تو اللہ
تعالی فرشتوں کو بھیجتا ہے، جن کے پاس
چاندی کے کاغذ اور سونے کے قلم ہوتے ہیں، وہ لکھتے ہیں کون یومِ جمعرات اور شبِ جمعہ مجھ
پر کثرت سے درود پاک پڑھتا ہے۔(کنز العمال، جلد 1، صفحہ 280)
عقیدۂ ختمِ نبوت دینِ اسلام کا بنیادی عقیدہ ہے۔ یہ ایک حساس ترین عقیدہ ہے۔ ختمِ نبوت کا انکار قرآن کا انکار ہے۔ ختمِ نبوت کا انکار صحابہ کرام علیہم الرضوان کے اجماع کا انکار ہے۔ ختمِ نبوت کو
نہ ماننا رسولِ کریم صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم کے مبارک زمانے سے لے کر آج تک کے ہر مسلمان کے عقیدے کو
جھوٹا کہنے کے مترادف ہے۔ اللہ پاک قرآنِ پاک میں ارشاد فرماتا ہے: مَا
كَانَ مُحَمَّدٌ اَبَاۤ اَحَدٍ مِّنْ رِّجَالِكُمْ وَ لٰكِنْ رَّسُوْلَ اللّٰهِ وَ
خَاتَمَ النَّبِیّٖنَؕ وَکَانَ
اللّٰہُ بِکُلِّ شَیۡءٍ عَلِیۡمًا(۴۰)ع (پ22، الاحزاب: 40)ترجمۂ
کنزالایمان: محمد تمہارے مردوں میں سے کسی کے باپ نہیں ہیں، لیکن وہ اللہ کے رسول
ہیں اور سب انبیاء کے آخر میں ہیں اور اللہ ہر چیز کا خوب علم رکھنے والاہے۔ (پارہ 22، الاحزاب:40)خاتم النبیین کا معنی تفاسیر کی روشنی میں:ختمِ نبوت کے
منکر اس آیتِ مبارکہ کے الفاظ خاتم النبیین کے معنی میں طرح طرح کی بے بنیاد جھوٹی
اور دھوکا پر مبنی تاویلاتِ فاسدہ کرتے ہیں جو قرآن، احادیث، اجماعِ صحابہ اور مفسرین، محدثین، محققین، متکلمین اور ساری اُمّتِ محمدیہ کے خلاف ہیں، تفاسیر اور اقوالِ مفسرین کی روشنی میں خاتم
النبیین کا معنیٰ آخری نبی ہی ہے۔صاحب زادُ المیسر ابو الفرج عبد الرحمٰن بن علی
جوزی(وفات 597ھ) لکھتے ہیں: خاتم النبیین کے معنی آخرالنبیین ہیں۔ حضرت عبداللہ
ابنِ عباس رضی اللہ عنہما نے فرمایا:اس سے مراد یہ ہے کہ اگر اللہ کریم محمد مصطفے صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم کے ذریعے سلسلۂ نبوت ختم نہ فرماتا تو آپ صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم کا بیٹا حیات رہتا، جو ان کے بعد نبی ہوتا۔(زاد المیسر، تحت
الآیۃ: 40 ،6/393)احادیثِ
مبارکہ:1۔آپ صلی اللہ
علیہ واٰلہٖ وسلم نے فرمایا:فَاِ
نِّی آخِرُ الْاَنْبِیَاءِ وِاِنَّ مَسْجِدِی آخِرُ الْمَسَاجِدبے شک میں سب نبیوں
میں آخری نبی ہوں اور میری مسجد آخری مسجد ہے(جیسے کسی نبی نے خود تعمیر کیا ہے۔)(مسلم، ص 553، حدیث 3376)2۔ اِنَّ الرَّسَالَۃَ وَالنَّبُوَّۃَ قَدْ اِنْقَطَعَتْ فَلَا
رَسُوْلَ بَعْدِیْ وَلَا نَبِیَّ آپ صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم نے فرمایا:بے شک رسالت اور نبوت منقطع ہو چکی ہے، پس میرے بعد نہ کوئی رسول ہوگا، نہ کوئی نبی۔(تر مذی، 4/1216، حدیث:2279)3۔اَنَا آخِرُ الْاَنْبِیَاءِ وَ اَنْتُمْ آخِرُ الْاُمَمْ میں
سب سے آخری نبی ہوں اور تم سب سے آخری امت ہو۔(ابن ماجہ، 6/616، حدیث:4077)4۔اَنَا خَاتَمُ النَّبِیّینَ وَلَا فَخْرَ یعنی میں خاتم
النبیین ہوں اور یہ بطورِ فخر نہیں کہتا۔(معجم اوسط، 1/63، حدیث 170-تاریخ کبیر للبخاری،4/236،حدیث:
5731) قرآن وسنت کے قطعی نصوص سے یہ ثابت ہوگیا ہے کہ نبوت و رسالت
کا سلسلہ حضرت محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم پر ختم کردیا گیا، آپ صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم سلسلۂ نبوت کی آخری کڑی ہیں، آپ کے بعد کسی شخص کو منصبِ
نبوت پر فائز نہیں کیا جائے گا۔
دورِ حاضر
میں جہاں دینِ اسلام کو بہت سے فتنوں نےگھیر رکھا ہے اس پُر فتن دور میں بھی اپنے
ایمان کی حفاظت ہر مسلمان کے لئے ضروری ہے جس کے لئے عقیدے کی پختگی بہت اہم ہے ۔عقیدۂ
ختم ِنبوت ایمان کی بنیادی ضرورت میں سے ہے اور اس بات پہ ایمان لانا شرط بھی ہے
کہ ہمارے آقا، نُورِ مُجَسم صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم کے بعد کوئی نیا نبی نہیں آئےگا ۔
اگر کوئی کسی نئے نبی کے لیے نبوت ملنا ممکن جانے کہ کسی کو نبوت مل سکتی ہے تو وہ
دائرۂ اسلام سے خارج ہو کر کافر ہو جائےگا ،اسے کافرو مر تد کہا جائے گا اور اس کو مرتدو کافر نہ ماننے والا بھی
کافرو مرتد ہو جائے گا۔اول:اسلام ناگزیرطور پر ایک مذہبی کمیونٹی ہے جس کی
حدود متعین ہیں:(1)توحیدِ الٰہی پر ایمان،(2)جملہ رسولوں پر ایمان اور(3) محمد صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم کی ختمِ نبوت پر ایمان۔ایمان کا آخر حصہ یعنی عقیدہ ٔختمِ
نبوت در اصل وہ عنصر ہے جو مسلمانوں اور غیر مسلموں کے درمیان حدِّ فاصل کا تعین
کرتا ہے اور یہ فیصلہ کرنے کی استعداد بخشتا ہے کہ کوئی شخص اسلام کا حصہ
ہےیا نہیں۔ اسلام کے بنیادی عقائد میں سے ایک یہ بھی ہے اللہ پاک نے نبوت کا سلسلہ
ہمارے خَاتَمُ النّبِیّین،نُورِ مجسم، بی بی آمنہ رضی اللہ عنہا کے نُورِ
پُر نُور حضرت محمدصلی اللہ
علیہ واٰلہٖ وسلم پر ختم
فرما دیا۔ اس عقیدے سے انکار کرنا یا ذرہ بھر شک کرنا بھی ایمان کو غارت کر سکتا
ہے۔یہ اتنا عظیم عقیدہ ہے جو قرآنِ پاک کی بہت سی آیاتِ مبارکَہ ،احادیث مبارکَہ
اور پوری امت کے اجماع سے ثابت ہے۔قرآنِ پاک کی لا تعدادایسی آیاتِ مبارکَہ ہیں جن
میں ختمِ نبوت پہ مہر ثابت ہے،ان میں سے مرکزی آیتِ کریمہ جو قرآنِ پاک میں ہے:مَا
كَانَ مُحَمَّدٌ اَبَاۤ اَحَدٍ مِّنْ رِّجَالِكُمْ وَ لٰكِنْ رَّسُوْلَ اللّٰهِ وَ
خَاتَمَ النَّبِیّٖنَؕ وَکَانَ
اللّٰہُ بِکُلِّ شَیۡءٍ عَلِیۡمًا(۴۰)ع ترجمۂ کنزالعرفان: محمد تمہارے مردوں میں کسی کے باپ نہیں ہیں لیکن اللہ کے رسول ہیں اور سب نبیوں کے آخر میں تشریف لانے والے ہیں اور
اللہ سب کچھ جاننے والاہے۔
خدا خود نعت لکھتا ہے تری قرآن کی صورت عجب ہے شانِ محبوبی، وجاہت ختم ہے تجھ پر
مر زائی فرقہ سادہ مسلمانوں
میں گمراہی پھیلا نے کے لئےخاتم النبیین
کا یہ معنی کرتا ہے کہ آپصلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم کا مرتبہ تمام انبیائے کرام علیہ السلام میں اتنا عظیم ہے کہ تمام انبیا ئے کرام علیہ السلام کے مراتب وہاں ختم
ہو جاتے ہیں،گویا آپصلی اللہ
علیہ واٰلہٖ وسلم مرتبے
میں آخری نبی ہیں اس کے یہ معنی نہیں کہ آپ زمانے کے اعتبار سے آخری نبی ہیں جیسے
کہا جاتا ہے:فلاں محدث خَاتَمُ المُحدّ ثِین ہے یعنی تمام مُحدّثین کا علم اس پہ
ختم ہو جاتا ہے ،اس کا یہ معنی نہیں کہ اس کے بعد کوئی محدث دنیا میں نہیں آئے گا! یہی معنی خَاتَمُ
النَّبِیّین کا ہے۔ خلاصہ یہ ہے کہ مرزائی لوگ کہتے ہیں:ہم بھی آپ صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلمکو خا تم النبیین مانتے ہیں لیکن مرتبے کے اعتبار سے نہ کہ
زمانے کے اعتبار سے۔مگر مرزائیوں نے یہ معنی کر کے قرآنِ کریم میں تحریف کی جبکہ
خود سرکار دو عالم، نُورِ مُجَسم صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلمنے بہت سی احادیث میں لفظ خَاتَمُ النبیین کی تفسیر فرما دی جس کا معنی آخری
نبی ہے، آپ اللہ پاک کے آخری رسول ہیں، آپ صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلمبعد نہ کوئی آیا نہ آسکے گا،نیز نبوت کا با ب آپصلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلمپہ ختم ہے۔
نبوت ختم ہے تجھ پر، رسالت ختم ہے تجھ پر تِرا دیں ارفع و اعلی، شریعت ختم ہے تجھ پر
میری دانست میں قادیانیوں کے سامنے صرف دو راستے کھلے ہیں:
(1)یا صاف طریقے سے بہائیوں کی تقلید کریں یا (2)اسلام میں نظریۂ خاتمیت (ختم نبوت)کے بارے میں اپنی تعبیرات کو ترک کر دیں اور اس نظرئیے کو اس کے جملہ مضمرات
سمیت قبول کر لیں۔ان کی عیارانہ تعبیریات محض ان کی اسلام کے زمرے میں رہنے
کی خواہش کا نتیجہ ہے تاکہ وہ بدیہی طور پر اس کے فوائد سے بہرہ مند ہوتے رہیں ۔
اس بات کا اعلان خود آپ صلی اللہ
علیہ واٰلہٖ وسلمنے اپنی
حیات ظاہری میں فرما دیا تھا جیسا کہ تِر مِذی شریف کی حدیث میں ہے ۔(1)اَ نا خَا تَمُ النبیین لَا نَبِیَّ بَعدِی یعنی
میں آخری نبی ہوں ،میرے بعد کوئی نبی نہیں۔ (تِرمِذی،4/93،حدیث:2226) آپصلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم نے غیب کی خبر دیتے ہوئےپہلے ہی ارشاد فرمایاتھا:عنقریب
میری اُمت میں 30کذّاب یعنی نبوت کی جھوٹھے دعو یدار ہو گئے اور ان میں سے ہر ایک گمان کرے گا
کہ وہ نبی ہے حالانکہ میں خَا تَمُ النبیین ہوں ،میرے بعد کوئی نبی نہیں ہے۔ (ابو داؤد،4/132حدیث:4254)(2)فرمانِ مصطفےٰصلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم:اے لوگوں!بےشک میرے بعد کوئی نبی نہیں، تمہارے بعد کوئی امت نہیں۔(معجم کبیر،8/115،حدیث:7535)(3) مجھے تمام مخلوق کی طرف مبعوث کیا گیا اور مجھ پر نبیوں کا
سلسلہ ختم کردیا گیا۔ (مشکوٰۃ،ص512)
تو آکر بعد میں بھی سب پہ بازی لے گیا پیارے یہ ہمت ختم ہے تجھ پر، یہ سبقت ختم ہے پیارے
(4)اِنَّ
الرِّسَالَۃ وَالنُّبُوَّۃ قَد انْقَطعَتْ فَلَا رَسُوْلَ بَعْدِی وَلَا نَبِی۔ (ترمذی، کتاب الروی، باب: ذہبت النبوۃ ا، 4/ 163 ، رقم:
2272)ترجمہ: اب نبوت
اور رسالت کا انقطاع عمل میں آ چکا ہے ،لہٰذا میرے بعد نہ کوئی رسول آئے گا اور نہ
کوئی نبی۔آخر میں ایک حدیثِ پاک بھی ملاحظہ ہو،چنانچہ نبیِّ کریم صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم نے ارشاد فرمایا:میری اور تمام انبیائے کرام علیہم الصلوۃ و السلام کی مثال اس شخص کی
طرح ہے جس نے ایک عمدہ اور خوبصورت عمارت بنائی اور لوگ اس کے آس پاس چکّر لگا کر
کہنے لگے:ہم نے اس سے بہترین عمارت نہیں دیکھی مگر یہ ایک اینٹ(کی جگہ خالی ہے جو کھٹک رہی ہے)تو میں(اس عمارت کی)وہ(آخری)اینٹ ہوں۔ (مسلم،ص965،حدیث:5959)
شریعت کے محل کا آخری پتھر ہے تو پیارے ادھورے کو کیا پورا یہ سنت ختم ہے تجھ پر
ختمِ نبوت صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم ایسا عقیدہ ہے جس کے بارے میں امت میں کوئی تضاد نہیں، کوئی تفریق نہیں، کسی
شک و شبہے کی گنجائش نہیں۔ امتِ مسلمہ جسے دنیا میں ہزاروں افتراق انتشار کے مسائل
میں الجھایا گیا ہے عقیدہ ٔختم نبوت کے بارے میں اب بھی پوری یکسوئی اور عظم کے
ساتھ کھڑی ہے،اس پر کوئی سمجھوتہ ہی نہیں ،کوئی تفریق ہی نہیں بلکہ اس کے رگ و پے
میں سرایت کیے ہوئے اس عقیدے کوہلکا سا بھی چھیڑو تو دل تڑپ اٹھے گا کیونکہ یہ پوری
امتِ مسلمہ کا اجتماعی عقیدہ ہے ۔امت ِمحمدیہ کے لئے اللہ پاک کی طرف سے عظیم رحمت
اور نعمت ہے‘ اس کی پاسداری اور شکر پوری امتِ محمدیہ پر واجب ہے۔
رسولِ ما رسالت ختم کرد رونق از
ما محفلِ ایام را او رسل را ختم و ما اقوام را
یعنی ’’خدا نے ہم پر شریعت ختم کردی ہے جیسے ہمارے رسول صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلمپر رسالت ختم کردی ہے۔محفل ِایام (دنیا) کی رونق ہمارے وجہ سے ہے،حضور پاک صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلمآخری رسول ہیں اور ہم آخری امت۔‘‘
حضور اَقدس صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم کا آخری نبی ہونا قطعی ہے اور یہ قطعیت قرآن و حدیث اور اجماعِ اُمّت سے ثابت
ہے اور احادیث تو اتر کی حد تک پہنچی ہوئی ہے اور اُمّت کا اجماعِ قطعی بھی ہے، عقیدۂ ختمِ نبوت ضروریاتِ دین میں سے ہے۔ختمِ
نبوت کا قرآن سے ثبوت:قرآنِ کریم میں ارشاد باری ہے:ترجمۂ کنزالایمان:محمد تمہارے
مردوں میں سے کسی کے باپ نہیں ہیں، لیکن
وہ اللہ کے رسول ہیں اور سب انبیاء کے آخر میں ہیں اور اللہ ہر چیز کا خوب علم
رکھنے والاہے۔(پارہ 22،
الاحزاب:40)یہ آیتِ
مبارکہ بالکل واضح طور پر مصطفے کریم صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم کے خاتم النبیین ہونے کو واضح کرتی ہے۔ عقیدہ ختمِ نبوت احادیث کی روشنی میں:اب
مزید اس عقیدے کو احادیثِ مبارکہ کی روشنی میں سُننے سمجھنے کی کوشش کرتی ہیں، چنانچہ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم نے ارشاد فرمایا:میری مثال اور مجھ سے پہلے انبیا علیہم السلام کی مثال اس شخص کی طرح ہے، جس نے بہت حسین و جمیل ایک گھر بنایا، مگر اس کے ایک کونے میں ایک اینٹ کی جگہ چھوڑ دی،
لوگ اس کے گرد گھومنے لگے اور تعجب سے
کہنے لگے : اس نے یہ اینٹ کیوں نہ رکھی؟پھر آپ صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم نے یہ ارشاد فرمایا:میں (قصرِ نبوت کی) وہ اینٹ ہوں اور میں خاتم النبیین ہوں۔(مسلم، کتاب الفضائل،
ص1255، حدیث2286)حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے: سرکار صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم نے ارشاد فرمایا:بے شک رسالت و نبوت ختم ہوگئی، اب میرے بعد کوئی رسول ہے، نہ کوئی نبی۔(ترمذی، کتاب الرؤیا،
4/121، حدیث2279)حضرت علیُّ
المرتضی کرم اللہ وجہہ
الکریم نبی کریم صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم کے شمائل بیان کرتے ہوئے فرماتے ہیں:حضور صلی اللہ
علیہ واٰلہٖ وسلم کے دو
کندھوں کے درمیان مُہرِ نبوت تھی اور آپ صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم خاتم النبیین ہیں۔(ترمذی، کتاب
المناقب5/364، حدیث3658)ختمِ نبوت
اور امام اہلِ سنت، اعلی حضرت رحمۃ اللہ علیہ:اعلیٰ حضرت رحمۃ
اللہ علیہ فتاویٰ رضویہ میں فرماتے ہیں:محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم کو خاتم النبیین ماننا، ان کے زمانے میں خواہ ان کے بعد کسی نبی جدید کی
بعثت کو یقیناً قطعاً محال و باطل جاننا فرضِ اَجل و جزوِ ایقان ہے، وَلٰکِنَّ رَّسُولُ
اللہِ وَ خَاتَمَ النَّبِیینَ نصِ قطعی قرآن ہے، اس کا منکر، نہ منکر بلکہ شک کرنے والا، نہ شک کہ ادنیٰ ضعیف احتمال سے توہم خلاف رکھنے والا قطعاً اجماعاً
کافر ملعون مخلد فی النیران ہے، نہ ایسا
کہ وہی کافر ہو، بلکہ جو اس کے اس عقیدہ ملعونہ پر مطلع ہو کر اسے کافر نہ جانے،
وہ بھی کافر ہونے میں شک و تردّد کو راہ دے، وہ بھی کافر ہے، ای کافر جلی الکفران(یعنی واضح کافر اور اس کا کُفر روشن ہے)۔امیر اہلسنت دامت برکاتہم العالیہ اپنے کلام میں کیا خوب فرماتے ہیں:
بعد آپ کے ہرگز نہ آئے گا نبی نیا واللہ ایمان ہے میرا، اے آخری نبی
ختم نبوت احادیث کی روشنی
میں از بنت بابر
حسین انصاری فیض
عطار حیدر آباد
رسولِ اکرم صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم کی رسالت و نبوت کو تسلیم کرنا ایمان کے لئے اساس کی حیثیت رکھتا ہے، ایمان تب مکمل ہوتا ہے، جب رسول اکرم صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم کو محض نبی یا رسول ہی نہ مانا جائے، بلکہ آپ کو خاتم النبیین بھی تسلیم کیا جائے۔قرآنِ
مجید اسلامی تعلیمات کا پہلا اور مضبوط ترین ماخذ ہےاور جو امر قرآنِ مجید میں بیان
ہوا، وہ مسلمانوں کے لئے حرفِ آخر شمار ہوتا ہے، ختمِ نبوت کے حوالے سے قرآنِ مجید
میں واضح راہ نمائی موجود ہے، چنانچہ اللہ پاک نے ارشاد فرمایا: ترجمہ
کنزالایمان:محمد تمہارے مردوں میں سے کسی کے باپ نہیں ہیں، لیکن وہ اللہ کے رسول ہیں اور سب انبیاء کے آخر
میں ہیں اور اللہ ہر چیز کا خوب علم رکھنے والاہے۔(پارہ 22، الاحزاب:40)اس آیتِ مبارکہ کو عقیدۂ ختمِ نبوت کے حوالے سے انتہائی
اعلیٰ مقام اور بنیادی حیثیت حاصل ہے، کیونکہ
اس آیت کا حصّہ خاتم النبیین اس عقیدے کی براہِ راست خبر دیتا ہے، عقیدۂ ختمِ نبوت نہ صرف مسلمانوں کے ایمان
بالرسالت کی تکمیل کرتا ہے، بلکہ یہی عقیدہ
دنیا میں مدعیانِ نبوت کی تکذیب بھی کرتا
ہے، چنانچہ اس عقیدے کی رُو سے نبوتِ محمدی اَبدی اور دائمی ہے۔(کتاب عقیدہ ختم نبوت، صفحہ 25)
حدیثِ مبارکہ میں آقا صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم نے اپنی ختمِ نبوت کا اعلان اس طرح فرمایا کہ میں لوحِ
محفوظ پر اللہ پاک کے پاس بھی خاتم النبیین
ہوں، اُم الکتاب کے اندر میں خاتم النبیین ہوں اور میری ختمِ نبوت اَزل سے طے شدہ
ہیں اور اللہ پاک کے نزدیک میری نبوت ثابت ہے۔(کنز العمال،/3212)حضرت ابنِ عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں: ہمارے نبی صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم نے فرمایا :سارے رسولوں سے پہلے حضرت آدم علیہ السلام ہیں اور تمام رسولوں سے آخری رسول حضرت محمد صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم ہیں۔(جامع الاحادیث،3/315) سیّد عالم صلی اللہ
علیہ واٰلہٖ وسلم کا فرمان
ہے:جو بالخصوص معراج کی رات آپ صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم نے مسجد اقصی میں انبیاعلیہم السلام کے سامنے
تقریر کی تھی، اس میں آپ صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم نے یہ فرمایا تھا کہ تمام تعریفیں اس رب کریم کی ہیں، جس
نے مجھے فاتح بھی بنایا اور خاتم بھی بنایا ہے، یعنی جنت کے دروازہ کو کھولنے والا نبوت کے
دروازے کو بند کرنے والا بنایا ہے۔(ابن کثیر، 4013(جزوِ خاص)ختمِ نبوت کے حوالے سے سب سے اَہم اور
سب سے ضروری ذمّہ داری یہ ہے کہ ہر مسلمان پر انفرادی طور پر اور پوری اُمّتِ
مسلمہ اجتماعی طور پر اپنا یہ عقیدہ مضبوط
رکھے کہ رسول اللہ صلی اللہ
علیہ واٰلہٖ وسلم خاتم النبیین
ہیں۔(کتاب عقیدۂ ختم
نبوت اور ہماری ذمہ داریاں، ص31)عقیدۂ ختمِ نبوت نہ صرف قرآنِ مجید امر احادیثِ نبوت سے
روزِ روشن کی طرح عیاں ہوتا ہے، بلکہ عہدِ
رسالت سے لے کر آج تک اس امر پر اُمّتِ مسلمہ کا اِجماع ہے کہ ہر مسلمان پر لازم ہے
کہ وہ ختمِ نبوت پر پُختہ عقیدہ اور کامل یقین رکھے اور جس طرح وہ دیگر عقائد کا
اظہار کرتا ہے، ویسے ہی وہ ختمِ نبوت کا
بھی اظہار کرے۔اللہ کریم ہمیں اپنے عقائد کی حفاظت کرنے اور بُرے عقیدے سے بچنے کی توفیق عطا فرمائے۔آمین
عقیدۂ ختم نبوت:اِسلام کے بنیادی عقائد میں سے ہے کہ اللہ پاک
نے حضور اکرم صلی اللہ
علیہ واٰلہٖ وسلم کو تمام
انبیاو مرسلین علیہم
السلام کے آخر میں
مبعوث فرمایا اور نبی پاک صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم پر رسالت و نبوت کا سلسلہ ختم فرمادیا، حضور صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم کے بعد نہ کوئی نبی آیا ہے اور نہ آسکتا ہے۔نبی آخرالزماں صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم نے خود اپنی زبانِ مبارک سے متعدد بار اپنے آخری نبی ہونے
کو بیان فرمایا ہے، چنانچہ اس ضمن میں چند
فرامینِ مصطفے صلی اللہ
علیہ واٰلہٖ وسلم ملاحظہ
ہوں:1۔بے شک رسالت اور نبوت منقطع ہو چکی ہے، پس میرے بعد نہ کوئی رسول ہوگا، نہ کوئی نبی۔(تر مذی، 4/121، حدیث2279)حضرت عیسیٰ علیہ السلام بھی
قُربِ قیامت میں رسولِ کریم صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم کے نائب و اُمّتی کی حیثیت سے تشریف لائیں گے اور اپنی شریعت
کے بجائے دینِ محمدی کی تبلیغ کریں گے۔(خصائص کبری2/329)2۔میں سب سے آخری نبی ہوں اور تم سب سے آخری امت ہو۔(ابن ماجہ، 4/414، حدیث 4077)3۔بے شک میں اللہ پاک کے حضور لوحِ محفوظ میں خاتم النبیین(لکھا ہوا) تھا، جب حضرت آدم علیہ السلام ابھی اپنی مٹی میں گندھے ہوئے تھے۔(کنز العمال جزء6:11/188،
حدیث31957)4۔غزوۂ تبوک کے
لئے روانہ ہوتے ہوئے، نبی پاک صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم نے حضرت علی رضی اللہ
عنہ کو اپنا نائب
مقرر کرتے ہوئے ارشاد فرمایا:اے علی!تم کو
مجھ سے وہ نسبت ہے، جو حضرت ہارون علیہ السلام کو حضرت
موسیٰ علیہ السلام سے تھی، مگر یہ کہ میرے بعد کوئی نبی نہیں۔(مسلم، ص1006، حدیث6217)5۔بے شک میں سب نبیوں میں آخری نبی ہوں اور میری مسجد آخری مسجد ہے۔(مسلم، ص553، حدیث3376)6۔میری اور مجھ سے پہلے انبیا علیہم السلام کی مثال ایسی ہے، جیسے کسی شخص نے ایک حسین و جمیل عمارت بنائی۔ مگر اس کے ایک کونے میں ایک اینٹ کی جگہ چھوڑ دی،
لوگ اس عمارت کے گرد گھومنے لگے اور تعجب
سے کہنے لگے: اس نے یہ اینٹ کیوں نہ رکھی؟میں(قصرِ نبوت کی)وہ اینٹ ہوں اور میں خاتم النبیین ہوں۔(مسلم، صفحہ 965، حدیث 5961) حضور اکرم صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم نے غیب کی خبر دیتے ہوئے فرمایا تھا:7۔عنقریب میری اُمّت میں 30 کذّاب(یعنی بہت بڑے جھوٹے) ہوں گے، ان میں سے ہر ایک گمان کرے گا کہ وہ نبی ہے، حالانکہ میں خاتم النبین ہوں اور میرے بعد کوئی
نبی نہیں ہے۔(ابو
داؤد4/132، حدیث 4252) عقیدۂ
ختم نبوت کا منکر یا اس میں شک و تردّد کرنے والا کافر ہے۔ (فتاوی رضویہ، جلد
15، صفحہ 578)اسی لئے صحابہ کرام علیہم الرضوان نے مسیلمہ کذاب اور اسود جیسے منکرینِ ختمِ نبوت کے خلاف جہاد کیا اور انہیں
کیفرِ کردار تک پہنچایا۔ سیّدی اعلیٰ حضرت رحمۃ اللہ علیہ کیا خوب فرماتے ہیں:
نہ رکھی گل کے جوش حسن نے گلشن میں جا باقی چٹکتا پھر کہاں غنچہ، کوئی باغِ رسالت کا
اللہ پاک ہمیں
ناموسِ رسالت کی حفاظت کرتے رہنے کی توفیق عطا فرمائے۔آمین بجاہ النبی الامین صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم
ختمِ نبوت ضروریاتِ دین سے ہے، ضروریاتِ دین سے مراد اِسلام کے وہ قطعی، اجماعی
اور بنیادی اُمُور ہیں کہ ان میں سے کسی کا کوئی مسلمان انکار درکنار، اس میں
کوئی شک بھی کرے تو شرعاً کافر شمار
ہوگا اور کوئی کافر مسلمان چاہے تو اس کے مانے بغیر اِسلام میں داخل نہ سمجھا جائے،
رسول اللہ صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم کو اللہ پاک کا نبی ماننا بھی ضروریاتِ دین سے ہے اور آپ
کو خاتم النبیین(باعتبارِ
زمانہ آخری نبی صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم)ماننا بھی
ضروریاتِ دین سے ہے، جس طرح مسلمان ہونے
اور مسلمان رہنے کے لئے آپ صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم کے نبی ہونے پر ایمان رکھنا ضروری ہے اور دین کے بنیادی اُمُور سے ہے، اِسی طرح آپ کو بااعتبارِ زمانہ سب نبیوں سے آخری
نبی ماننا بھی ضروری اور اسلام کے بنیادی امور سے ہے، آپ کی تشریف آوری سے نبیوں
کے سلسلے پر مہر لگ گئی ہے، اب کسی کو
نبوت نہیں دی جائے گی، بس جس کو ملنی تھی
مل چکی، اس لئے آپ کی نبوت کا دور سب نبیوں
کے بعد رکھا، وہ قیامت تک چلتا رہے گا، حضرت مسیح علیہ السلام بھی بحیثیت آپ کے ایک اُمّتی کے آئیں گے، خود ان کی نبوت و رسالت کا عمل اس وقت جاری نہ
ہوگا، اگر حضور صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم بڑے واضح اور شگاف الفاظ میں آخری نبی ہونے کا اعلان نہ
فرماتے تو ممکن تھا کہ کوئی جھوٹا قرآنِ کریم کے خود ساختہ معانی بیان کرکے لوگوں
کو گمراہ کرتا رہتا، لیکن جب نبی کریم صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم کا منصب معلمِ کتاب و حکمت ہے تو یہ کیسے ممکن تھا کہ آپ خاتم
النبین کی واضح اور دو ٹوک وضاحت نہ فرمائیں، اس لئے حضور صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم نے متعدد مواقع پر اس چیز کا اعلان فرمایا کہ میں آخری نبی
ہوں اور میرے بعد کوئی نبی نہیں آئے گا، چند احادیثِ مبارکہ ملاحظہ ہوں: بخاری کتاب
الانبیاء باب ما ذکر عن بنی اسرائیل،حدیث نمبر 662 پر ہے:ارشاد فرمایا:بنی اسرائیل
کا سیاسی نظام ان کے انبیاء علیہم السلام چلاتے
تھے، جب ایک نبی کا وصال ہو جاتا تو دوسرا
نبی ان کا جانشین ہو جاتا اور یقیناً میرے بعد کوئی نبی نہیں آئے گا، البتہ خلفاء ہوں گے، یہ حدیثِ مبارکہ کتنی وضاحت
سے حضور صلی اللہ علیہ
واٰلہٖ وسلم کے آخری
نبی ہونے کو بیان کر رہی ہے، اور لا نبی
بعدی کے اعلان کے بعد کسی کو کسی بھی قسم کا نبی ماننا کفر ہے۔ایک اور حدیث: مسلم،
کتاب الفضائل، باب ذکر کونہ صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم خاتم النبیین،حدیث نمبر5844 ہے، ارشاد فرمایا: حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے: رسول اللہ صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم نے فرمایا : میری اور مجھ سے پہلے انبیا علیہم السلام کی مثال اس شخص کی طرح ہے، جس نے ایک
مکان بنایا اور کیا ہی حسین و جمیل مکان بنایا، مگر اس کے کونوں میں سے ایک کونے میں ایک اینٹ کی
جگہ خا لی تھی، لوگ اس کے گرد گھوم کر خوش
ہو رہے تھے اور کہہ رہے تھے: یہ ایک اینٹ کیوں نہیں رکھی گئی؟آپ نے فرمایا:میں (قصرِ نبوت کی آخری)وہ اینٹ ہوں اور میں
آخری نبی ہوں ۔امام مسلم ایک دوسری روایت کے آخر میں یہ الفاظ بھی روایت کرتے ہیں:میں
اینٹ کی جگہ ہوں اور انبیا علیہم السلام (کی آمد) کا سلسلہ ختم کر دیا۔نفس مصدر، حدیث نمبر5846:اسی طرح حضرت عائشہ رضی اللہ عنہافرماتی ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم نے فرمایا:میں آخری نبی ہوں اور میری مسجد انبیا علیہم السلام کی آخری مسجد ہے۔(کنزالعمال، با حوالہ ختم نبوت، ص256)
احادیث کے وسیع ذخیرہ
میں سے صرف چند احادیث مبارکہ پیش کی گئی ہیں، کیا ان احادیثِ مبارکہ کو پڑھنے کے بعد یہ حقیقت
روزِ روشن سے بڑھ کر عیاں نہیں ہو جاتی کہ
حضور صلی اللہ علیہ
واٰلہٖ وسلم کے بعد
کوئی نبی نہیں آئے گا، حضور صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم کے اتنے واضح ارشادات کے بعد بھی آپ کے بعد کسی کو نبی
ماننا سوائے گمراہی اور کُفر کے اور کچھ نہیں ہے۔
عقیدۂ ختم نبوت کی تعریف:اللہ پاک نے بنی نوع انسان کی ہدایت
و راہ نمائی کے لئے اپنے انبیائے کرام علیہم السلام کو مبعوث فرمایا، یہ سلسلہ حضرت آدم علیہ السلام سے شروع ہوا تو ہمارے آقا ،محمد مصطفے صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم پر ختم ہوا، نبی
کریم صلی اللہ علیہ
واٰلہٖ وسلم اللہ پاک
کے آخری نبی ہیں، نبی کریم صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم کے بعد کوئی نیا نبی پیدا نہیں ہوگا، جو شخص حضور اکرم صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم کے بعد کسی نئے شخص کو نبی مانے یا نبی پیدا ہونے کا عقیدہ
رکھے، وہ پوری اُمّتِ مسلمہ کے اجماع کے
مطابق کافر و مرتد ہے۔(تحفظِ
ختمِ نبوت، ص2)ختمِ نبوت قرآنِ کریم سے:عقیدۂ ختم نبوت قرآن و احادیث سے
ثابت ہے، چنانچہ قرآنِ پاک پارہ22 سورۂ
احزاب، آیت نمبر 40 میں اللہ کریم
ارشادفرماتاہے، ترجمہ کنزالایمان:” محمد
تمہارے مردوں میں سے کسی کے باپ نہیں ہیں، لیکن وہ اللہ کے رسول ہیں اور سب انبیاء کے آخر
میں ہیں اور اللہ ہر چیز کا خوب علم رکھنے والا ہے۔“تاریخِ انبیاشاہد ہے کہ جب کوئی
نیا دین آیا، اسے کوئی نیا نبی لے کر آیا،
اب تکمیلِ دین کی وجہ سے کوئی نیا دین نہیں
آتا تو نیا نبی نہیں آئے گا، اس لئے تکمیلِ
نبوت کے ساتھ تکمیلِ دین بھی ہوگئی، لہٰذا
نبوت و رسالت آقا صلی اللہ
علیہ واٰلہٖ وسلم پر ختم، دین حضور صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم پر مکمل، شریعت حضور صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم پر مکمل، سلسلہ وحی
حضور صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم پر ختم، آسمانی کتاب حضور صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم پر ختم اور آپ صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم خاتم النبیین ہیں۔
لکھتا ہوں خونِ دل سے یہ الفاظِ احمریں بعد اَز رسولِ ہاشمی کوئی نبی نہیں
ختمِ نبوت کے متعلق احادیثِ مبارکہ:
1۔نبی کریم صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم نے فرمایا:بے شک رسالت و نبوت ختم ہوگئی تو میرے بعد نہ کوئی رسول ہوگا نہ نبی۔(جامع صغیر، ج اول،ص67)
2۔حضرت ثوبان رضی اللہ عنہ سے روایت
ہے:سرورِ کونین صلی اللہ
علیہ واٰلہٖ وسلم نے فرمایا:یہ
کہ میری اُمّت میں سے 30 جھوٹے پیدا ہوں گے، جن میں سے ہر ایک نبی ہونے کا دعویٰ کرے گا،حالانکہ
میں آخری نبی ہوں، میرے بعد کوئی نبی نہیں۔(ابوداؤد، کتاب الفتن والملاحم، حدیث4252)3۔سرورِکائنات صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم نے فرمایا:میرے بہت سے نام ہیں، میں
محمد ہوں، میں احمد ہوں، ماحی ہو یعنی مجھ سے خداپاک کفر کو مٹاتا ہے، میں حاشرہوں، یعنی قیامت کے دن لوگ میرے قدموں میں جمع کئے جائیں گے، میں عاقب ہوں اور عاقب وہ جس کے بعد کوئی نبی نہ ہو۔(بخاری و مسلم شریف)4۔بنی اسرائیل کا سیاسی نظام ان کے انبیا علیہم السلام چلاتے تھے، جب ایک نبی کا وصال ہو جاتا تو دوسرا نبی ان کا
جانشین ہو جاتا اور یقیناً میرے بعد کوئی نبی نہیں آئے گا، البتہ خلفاء ہوں گے اور بہت ہوں گے۔(بخاری شریف)5۔حضرت عبداللہ بن عمرو بن عاص رضی اللہ عنہما سے مروی
ہے:ایک دن رسول اللہ صلی اللہ
علیہ واٰلہٖ وسلم کسی اَلوداع
ہونے والے شخص کی طرح ہمارے پاس تشریف لائے، آپ نے تین مرتبہ فرمایا:میں نبی اُمّی ہوں اور میرے
بعد کوئی نبی نہیں ہوگا۔(مسند احمد،
جلد 2، صفحہ 212) لہٰذا اس عقیدےپر قرآن و حدیث کی نصوصِ قطعیہ شاہد ہیں، جن سے ثابت ہوگیا کہ اب حضور صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم کے بعد کوئی نبی یا رسول نہیں آئے گا اور عقل و نقل کے
ناقابلِ تردید دلائل اس کی پُشت پر موجود ہیں۔
نگاہِ عشق و مستی میں، وہی اوّل، وہی آخر وہی
قرآن وہی فرقان، وہی یٰسین وہی طہٰ
وہ دانائے سبل، ختم
الرسل، مولائے کُل جس نے غبارِ
راہ کو بخشا، فروغِ وادی سینا
مہر ِچراغِ نبوت پہ روشن دُرود
گلِ باغِ رسالت پہ لاکھوں سلام
ختمِ نبوت یعنی حضور صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم کا خاتم النبیین ہونا، نبوت کا باب حضور سیّد المرسلین پر بند ہوا، آپ صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم کے بعد کوئی نبی نہیں آئے گا، حضور صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم کا خاتم النبیین ہونا، یعنی بعثت میں آخر جمیع انبیاء
ومرسل بلا تاویل، بلا تخصیص ہو نا ضرورتِ
دین سے ہے، جو اس کا منکر ہو یا اس میں
ادنیٰ شک و شبہ کو بھی راہ دے، کافر، مرتد و
ملعون ہے۔ مَا
كَانَ مُحَمَّدٌ اَبَاۤ اَحَدٍ مِّنْ رِّجَالِكُمْ وَ لٰكِنْ رَّسُوْلَ اللّٰهِ وَ
خَاتَمَ النَّبِیّٖنَؕ وَکَانَ
اللّٰہُ بِکُلِّ شَیۡءٍ عَلِیۡمًا(۴۰)ع (پ22، الاحزاب: 40)ترجمۂ
کنزالایمان:محمد تمہارے مردوں میں سے کسی کے باپ نہیں ہیں، لیکن وہ اللہ کے رسول ہیں اور سب انبیاء کے آخر
میں ہیں اور اللہ ہر چیز کا خوب علم رکھنے والا ہے۔احادیث:حدیث شریف (متواتر)میں ہے: لا نبی بعدی میرے بعد کوئی نبی نہیں۔(بخاری،ص461، حدیث:3455)ایک اور موقع پر ارشاد فرمایا:میرے بعد کوئی نبی اگر ہوتا
تو وہ عمر رضی اللہ عنہ ہوتے، لیکن نبوت کا باب(دروازہ) بند ہو چکا ہے۔صحیح بخاری و صحیح
مسلم اور سننِ نسائی میں حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے : رسول اللہ صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم نے یہی مثال بیان کرکے ارشاد فرمایا: وانا خاتم النبین میں وہ اینٹ ہوں اور میں
خاتم النبیین ہوں۔(مسلم، کتاب الفضائل، صفحہ 966، حدیث: 5961)نبی اکرم کا آخری نبی ہونا قطعی ہے:حضور اقدس صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم کا آخری نبی ہونا قطعی ہے اور یہ قرآن حدیث و اجماعِ اُمّت
سے ثابت ہے، قرآنِ پاک کی صر یح آیت بھی موجود ہے، حضور صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم کا آخری نبی ہونا حدیث سے ثابت ہے:حدیث:انی اشھد عدد تراب
الدنیا ان مسلمہ کذاب میں گواہی دیتا ہوں، دنیا کے اندر مٹی کے زرّوں کے برابر گواہی
دیتا ہوں کہ میرے بعد کوئی نبی نہیں آئے گا۔امام احمد رضا خان رحمۃ اللہ علیہ نے فرمایا:جتنے
آسمان اور زمین کے اندر فرشتے ہیں، ان کی
تعداد کے برابر گواہی دیتا ہوں کہ آپ کے بعد کوئی نبی نہیں آئے گاکہ نبی کریم صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم کے بعد کوئی نبی ہونے والا نہیں، جو حضور پُر نور صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم کی نبوت کے بعد کسی کو نبوت ملنا ممکن جانے، وہ ختمِ نبوت کا منکر، کافر اور اسلام سے خارج ہے۔حدیث:حضرت جبیر بن
مطعم رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، رسول
اللہ صلی اللہ علیہ
واٰلہٖ وسلم نے ارشاد فرمایا:بے شک میرے متعدد نام ہیں، میں محمد ہوں، میں احمد ہوں، میں ماحی ہوں کہ اللہ پاک میرے سبب سے کفر مٹاتا
ہے، حا شر ہوں، میرے قدموں پر لوگوں کا
حشر ہو گا، میں عاقب ہوں اور عاقب وہ جس
کے بعد کوئی نبی نہیں۔حدیث: مسلم شریف و مسند امام احمد و ابو داؤد و ترمذی وابن ِماجہ
وغیرہا میں حضرت ثوبان رضی اللہ
عنہ سے مروی ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم فرماتے ہیں:بےشک میری اُمّت میں یا میری اُمّت کے زمانے میں
30 کذّاب ہوں گے کہ ہر ایک اپنے آپ کو نبی کہے گا اور میں خاتم النبین ہوں کہ میرے
بعد کوئی نبی نہیں۔حدیث: امام احمد مسند اور طبرانی اور ضیائے مقدسی، صحیح مختارہ میں حذیفہ رضی اللہ عنہ سے راوی، رسول اللہ صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم فرماتے ہیں:میری امتِ دعوت میں 27 دجال کذاب ہوں گے اور ان
میں چار عورتیں ہوں گی، حالانکہ بے شک میں
خاتم النبیین ہوں، میرے بعد کوئی نبی نہیں
ہے۔
فتحِ باب نبوت پہ
بے حد دُرود ختمِ دورِ رسالت پہ
لاکھوں سلام
Dawateislami