حضرت محمد صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم کو اللہ پاک کا آخری نبی ماننا اسلام کا بنیادی عقیدہ ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم کے زمانے میں یا آپ کے بعد کوئی نبی اور رسول نہیں آ سکتا، یہ عقیدہ، عقیدۂ ختمِ نبوت کہلاتا ہے ۔نبیِ پاک صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم کو اللہ پاک کا آخری نبی نہ ماننے والا قرآنِ کریم کا انکار کرنے والا ہے اور قرآنِ کریم کامنکرکافرہے، خود اللہ پاک نے حضور صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم کی ختمِ نبوت کو قرآن ِپاک میں بیان فرمایا:مَا كَانَ مُحَمَّدٌ اَبَاۤ اَحَدٍ مِّنْ رِّجَالِكُمْ وَ لٰكِنْ رَّسُوْلَ اللّٰهِ وَ خَاتَمَ النَّبِیّٖنَؕ-ترجمۂ کنز الایمان:محمد تمہارے مردوں میں کسی کے باپ نہیں ، ہاں اللہ کے رسول ہیں اور سب نبیوں کے پچھلے۔(پ 22، الاحزاب:40)

آتے رہے انبیاء کَمَا قِیْلَ لَھُمْ وَالْخَاتَمَہٗ حَقَّکُمْ کہ خاتم ہوئے تم

یعنی جو ہوا دفتر تنزیل تمام آخر میں ہوئی مہر کہ اَکْمَلْتُ لَکُمْ

تاجدارِ ختمِ نبوت صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم نے خود اپنی مبارک زبانِ حق ترجمان سے اپنا آخری نبی ہونا بیان فرمایا ہے۔ آپ کے چند مبارک فرامین ملاحظہ کیجئے:1۔رسولِ پاک صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم نے ارشاد فرمایا:اَنَا خَاتَمُ النَّبِیِّینَ وَلَا فَخَرَ میں خاتم النبیین ہوں اور یہ بطورِ فخر نہیں کہتا۔ (تاریخ کبیر للبخاری،4/236، حدیث: 5731)2۔فَاِ نِّی آخِرُ الْاَنْبِیَاءِ وِاِنَّ مَسْجِدِی آخِرُ الْمَسَاجِدبے شک میں سب نبیوں میں آخری نبی ہوں اور میری مسجد آخری مسجد ہے( جیسے کسی نبی نے خود تعمیر کیا ہے۔)(مسلم، ص553، حدیث: 3376)3۔اِنَّ الرَّسَالَۃَ وَالنَّبُوَّۃَ قَدْ اِنْقَطَعَتْ فَلَا رَسُوْلَ بَعْدِیْ وَلَا نَبِیَّبے شک رسالت اور نبوت منقطع ہو چکی ہے،پس میرے بعد نہ کوئی رسول ہوگا،نہ کوئی نبی۔(ترمذی، 4/121، حدیث:2279) 4۔اَنَا آخِرُ الْاَنْبِیَاءِ وَ اَنْتُمْ آخِرُ الْاُمَم میں سب سے آخری نبی ہوں اور تم سب سے آخری اُمَّت ہو۔(ابن ماجہ، 4/414، حدیث: 4077)5۔اَنَا مُحَمَّدٌ النَّبِیُّ الْاُمِّیُّ اَنَا مُحَمَّدٌ النَّبِیُّ الْاُمِّیُّ ثَلَاثاًوَ لَا نَبِیَّ بَعْدِیْ میں محمد ہوں، اُمّی نبی ہوں، تین مرتبہ ارشاد فرمایا اور میرے بعد کوئی نبی نہیں۔(مسند احمد، 2/655، حدیث: 7000)6۔سَیَکُوْنُ فی اُمَّتِی ثَلَاثُوْنَ کَذَّابُوْنَ کُلُّھُمْ یَزْعُمُ اَنَّہٗ نَبِیّ وَاَنَا خَاتَمُ النَّبِیِّینَ لَا نَبِیَّ بَعْدِیْ عنقریب میری اُمّت میں تیس جھوٹے دجّال پیدا ہوں گے، ان میں سے ہر ایک دعویٰ کرے گا کہ وہ نبی ہے اور میں آخری نبی ہوں اور میرے بعد کوئی نبی نہیں۔(ابو داؤد، حدیث: 4251)7۔(اے علی!)تم کو مجھ سے وہ نسبت ہے، جو حضرت ہارون علیہ السلام کو حضرت موسیٰ علیہ السلام سے تھی، مگر یہ کہ میرے بعد کوئی نبی نہیں۔(مسلم شریف، حدیث:6217)

نہیں ہے اور نہ ہوگا بعد آقا کے نبی کوئی وہ ہیں شاہِ رُسُل، ختمِ نبوت اس کو کہتے ہیں

لگا کر پُشت پر مہر ِنبوت حق پاک نے انہیں آخر میں بھیجا، خاتمیت اس کو کہتے ہیں


نبی اکرم صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم کو اللہ پاک کا آخری نبی ماننا اِسلام کا بنیادی عقیدہ ہے، آپ صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم کے بعد کسی طرح کا کوئی نیا نبی و رسول نہ آیا ہے اور نہ ہی آ سکتا ہے، یہاں تک کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام بھی قیامت کے نزدیک جب تشریف لائیں گے تو سابق وصفِ نبوت و رسالت سے متصف ہونے کے باوجود ہمارے رسول صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم کے نائب و اُمّتی کی حیثیت سے تشریف لائیں گے اور اپنی شریعت کے بجائے دینِ محمدی کی تبلیغ کریں گے۔(خصائصِ کبریٰ، 2/329)یہ عقیدہ ضروریاتِ دین سے ہے، اس کا منکر اور اس میں ادنیٰ سا بھی شک و شبہ کرنے والا کافر و مرتد اور ملعون ہے۔خود تاجدارِ مدینہ، خاتم النبین صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم نے اپنی مبارک زبان سے اپنے آخری نبی ہونے کا بیان کیا ہے۔ختمِ نبوت کے سات حروف کی نسبت 7 فرامینِ مصطفے صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم:1۔نبیِ رحمت صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم نے فرمایا:اے لوگو!بے شک میرے بعد کوئی نبی نہیں اور تمہارے بعد کوئی اُمّت نہیں۔(معجم کبیر، 8/115، حدیث:7535)2۔بے شک میں اللہ پاک کے حضور لوحِ محفوظ میں خاتم النبیین(لکھا ہوا) تھا، جب حضرت آدم علیہ السلام ابھی اپنی مٹی میں گُندھے ہوئے تھے۔(کنزالعمال، جزء:6،11/188، حدیث :31957)3۔بے شک رسالت اور نبوت ختم ہوگئی،اب میرے بعد نہ کوئی رسول ہے،نہ کوئی نبی۔ (ترمذی،4/121، حدیث:2279)4۔میرے متعدد نام ہیں، میں محمد ہوں، میں احمد ہوں، میں ماحی ہوں کہ اللہ پاک میرے سبب سے کُفر کو مٹاتا ہے، میں حاشر ہوں،میرے قدموں پر لوگوں کا حشر ہوگا، میں عاقب ہوں اور عاقب وہ جس کے بعد کوئی نبی نہیں۔(ترمذی،4/382، حدیث:2849)5۔میری اور مجھ سے پہلے انبیائے کرام علیہم السلام کی مثال ایسی ہے، جیسے کسی شخص نے ایک حسین و جمیل عمارت بنائی۔ مگر اس کے ایک کونے میں ایک اینٹ کی جگہ چھوڑ دی،لوگ اس(عمارت)کے گرد گھومنے لگے اور تعجب سے کہنے لگے کہ اس نے یہ اینٹ کیوں نہ رکھی؟ میں(قصرِ نبوت کی)وہ اینٹ ہوں اور میں خاتم النبیین ہوں۔(مسلم، صفحہ 965، حدیث: 5961)6۔اے علی!تم کو مجھ سے وہ نسبت ہے،جو حضرت ہارون علیہ السلام کو حضرت موسیٰ علیہ السلام سے تھی، مگر یہ کہ میرے بعد کوئی نبی نہیں۔(مسلم، صفحہ 1006، حدیث:6217)7۔میں خاتم النبیین ہوں اور یہ بات بطورَ فخر نہیں کہتا۔(معجم اوسط، 1/63، حدیث: 170-تاریخ کبیر للبخاری، 4/236، حدیث5731)

نہیں ہے اور نہ ہوگا بعد آقا کے نبی کوئی وہ ہیں شاہِ رُسل، ختمِ نبوت اس کو کہتے ہیں(قبالہ بخشش، ص115)


دینِ اسلام کے بنیادی عقائد میں سے ایک یہ ہے کہ اللہ پاک نے نبوت و رسالت کا سلسلہ خاتم النبیین، جنابِ احمد مجتبیٰ، محمد مصطفے صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم پر ختم فرما دیا ہے، آپ صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم کے بعد کوئی رسول نہ آیا ہے، نہ آ سکتا ہے اور نہ آئے گا، اس عقیدے سے انکار کرنے والا یا اس میں ذرّہ برابر بھی شک رکھنے والا دائرہ اسلام سے خارج ہے، حضور اکرم صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم نے پہلے ہی غیب کی خبر دیتے ہوئے ارشاد فرما دیا ہے :عنقریب میری اُمّت میں تیس کذّاب ہوں گے اور ان میں ہر ایک گمان کرے گا کہ وہ نبی ہے، حالانکہ میں خاتم النبیین ہوں اور میرے بعد کوئی نبی نہیں ہے۔(ابو داؤد، 4/132، حدیث:4252)سرکارِ نامدار صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم کا آخری نبی ہونا صریح احادیثِ مبارکہ سے ثابت ہے، آئیے! اس حوالے سے احادیث مبارکہ ملاحظہ کیجئے:1۔بے شک رسالت اور نبوت ختم ہوگئی، اب میرے بعد نہ کوئی رسول ہے، نہ کوئی نبی۔(ترمذی، 4/121، حدیث: 2279)2۔اے لوگو!بے شک میرے بعد کوئی نبی نہیں اور تمہارے بعد کوئی اُمّت نہیں۔(معجم کبیر، ج8، ص115، حدیث:7535)3۔میری اور مجھ سے پہلے انبیائے کرام علیہم السلام کی مثال ایسی ہے، جیسے کسی شخص نے ایک حسین و جمیل گھر بنایا، مگر اس کے ایک کونے میں ایک اینٹ کی جگہ چھوڑ دی، لوگ اس کے گرد گھومنے لگے اور تعجب سے کہنے لگے :اس نے یہ اینٹ کیوں نہ رکھی؟میں(قصرِ نبوت کی)وہ اینٹ ہوں اور میں خاتم النبیین ہوں۔(مسلم، صفحہ 965، حدیث: 5961)4۔بے شک میں سب نبیوں میں آخری نبی ہوں اور میری مسجد آخری مسجد ہے(جسے کسی نبی نے خود تعمیر کیا ہے۔)(مسلم، صفحہ 553، حدیث: 3376)5۔بے شک رسالت اور نبوت منقطع ہوچکی ہے، پس میرے بعد نہ کوئی رسول ہو گا، نہ کوئی نبی۔(ترمذی،4/121، حدیث:2279)6۔بے شک میں سب سے آخری نبی ہوں اور تم سب سے آخری اُمّت ہو۔(ابن ماجہ، 4/416، حدیث:4077)7۔میں خاتم النبیین ہوں اور یہ بطورِ فخر نہیں کہتا۔(معجم اوسط، 1/63، حدیث: 170، تاریخ کبیر للبخاری، 4/236، حدیث:5731)

نہیں ہے اور نہ ہوگا بعد آقا کے نبی کوئی وہ ہیں شاہِ رُسل، ختمِ نبوت اس کو کہتے ہیں

لگا کر پُشت پر مہر ِنبوت حق تعالی نے انہیں آخر میں بھیجا خاتمیت اس کو کہتے ہیں(قبالہ بخشش)


دعوتِ اسلامی کے تحت  گزشتہ دنوں پہاڑ پور کابینہ کی ڈویژن رنگپور کے علاقے جھوک موزم میں محفلِ نعت کاانعقادہوا جس میں زون نگران اسلامی بہن نے’’واقعہ کربلا میں کیا سبق ہے ‘‘اس موضوع پر بیان کیا۔اختتام پر اسلامی بہنوں کو اپنے علاقے میں ہونے والے ہفتہ وار سنتوں بھرےاجتماع میں شرکت کرنے کا ذہن دیا ۔


دعوتِ اسلامی کے تحت گزشتہ دنوں  کراچی ساؤتھ زون 2 بلدیہ ٹاؤن کابینہ کی ڈویژن مہاجر کیمپ میں ماہانہ مدنی مشورہ منعقد ہوا جس میں ڈویژن نگران سمیت تقریباً 17 ڈویژن مشاورت کی ذمہ دار و علاقائی نگران اسلامی بہنوں نے شرکت کی۔

ڈویژن نگران اسلامی بہن نے دینی کاموں کی تقسیم کاری کے متعلق بیان کیا اورانہیں دینی کاموں کو بڑھانےکاذہن دیا نیز ہرماہ میں ہونے والے مدنی مشورے میں دینی کاموں کا جائزہ لینےکاہدف دیا۔مزید ماہانہ کارکردگی مقررہ وقت پر جمع کروانےکی ترغیب دلائی اور 8دینی کام کورس میں تمام ذمہ دار اسلامی بہنوں کو شرکت کروانے کا ہدف دیا ۔اس کےعلاوہ اسلامی بہنوں کے مدرسۃ المدینہ کی ترقی کے متعلق بھی کلام کیا۔


دعوتِ اسلامی کے شعبہ تعلیم للبنات کے تحت پچھلے دنوں کراچی ساؤتھ زون 1 لیاری کابینہ میں دنیاوی شعبہ جات سے تعلق رکھنے والی خواتین کے درمیان ماہانہ شخصیات اجتماع ہوا جس میں 8 اسلامی بہنوں نے شرکت کی۔

کابینہ مشاورت ذمہ داراسلامی بہن نے ان کے درمیان ’’نیکیوں میں حرص کیجیے ‘‘ کے موضوع پر بیان کیا اور انہیں دعوت اسلامی کےشعبہ جات کا تعارف پیش کرتےہوئےدعوت اسلامی کے شعبہ FGRF کی دینی خدمات کو بیان کیا۔مزیدبیان میں نیک اعمال کے رسالے پر عمل کرنے کی بھی ترغیب دلائی ۔آخر میں ان اسلامی بہنوں کےدرمیان نیک اعمال کے رسالے بھی تقسیم کئے گئے۔


اسلامی بہنوں کے شعبہ کفن دفن  للبنات کے تحت گزشتہ دنوں سرگودھا اور بھلوال زون میں ذمہ داراسلامی بہنوں کا مدنی مشورہ ہواجن میں زون تا ڈویژن سطح کی ذمہ دار اسلامی بہنوں نے شرکت کی۔

رکن ریجن ذمہ دار اسلامی بہنوں نے ماہانہ کارکردگی کا فالو اپ کیا اور دینی کام کرنےکے حوالےسےاسلامی بہنوں کی تربیت کی نیز کارکردگی شیڈول پر عمل کرنے اور اسے وقت پر جمع کروانے کا ذہن دیا۔مزیدہر ہر ڈویژن میں کفن دفن کے تربیتی اجتماع کروانے کی ترغیب دلائی جس پر اسلامی بہنوں نے اچھی اچھی نیتوں کا اظہار کیا۔


درود شریف کی فضیلت:حضور نبیِ رحمت، شفیعِ اُمت صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم نے ارشاد فرمایا:" قیامت کے روز اللہ کریم کے عرش کے سوا کوئی سایہ نہ ہوگا، تین شخص اللہ کریم کے عرش کے سائے میں ہوں گے، ایک وہ شخص جو میرے اُمتی کی پریشانی دور کرے، دوسرا میری سنت کو زندہ کرنے والا، تیسرا مجھ پر کثرت سے درود پاک پڑھنے والا۔"

بد شگونی کی تعریف:

دعوت اسلامی کے اشاعتی ادارے "مکتبۃ المدینہ" کی مطبوعہ 128 افراد پر مشتمل کتاب"بدشگونی" صفحہ 10 پر ہے: شگون کا معنی ہے "فال لینا" یعنی کسی چیز، شخص، عمل یا آواز یا وقت کو اپنے حق میں اچھا یا بُرا سمجھنا، اسی وجہ سے برا فال لینے کو بدشگونی کہتے ہیں۔

شگون کی قسمیں:

بنیادی طور پر شگون کی دو قسمیں ہیں:1۔برا شگون لینا، 2۔اچھا شگون لینا

علامہ محمد بن احمد الانصاری القرطبی رحمۃُ اللہِ علیہ تفسیرِ قرطبی میں نقل کرتے ہیں:اچھا شگون یہ ہے کہ جس کام کا ارادہ کیا ہو، اس کے بارے میں کوئی کلام سن کر دلیل پکڑنا، یہ اس وقت ہے جب کلام اچھا ہو، اگر برا ہو تو بدشگونی ہے، شریعت نے اس بات کا حکم دیا ہے، انسان اچھا شگون لے کر خوش ہو اور اپنا کام خوشی خوشی پایۂ تکمیل تک پہنچائے اور جب بُرا کلام سنے، تو اس کی طرف توجّہ نہ کرے اور نہ ہی اس کے سبب اپنے کام سے رُکے۔(الجامع لاحکام القرآن للقرطبی، پارہ 26، الاحقاف تحت الآیۃ4، ج8، جزء16، ص132)

آیت مبارکہ:

اللہ پاک قرآن پاک میں ارشاد فرماتا ہے: فَاِذَا جَآءَتْہمُ الْحَسَنَۃ قَالُوْا لَنَا ہٰذِہٖ ۚ-وَ اِنْ تُصِبْہمْ سَیِّئَۃ یَّطَّیَّرُوْا بِمُوْسٰى وَ مَنْ مَّعَہؕ-اَلَاۤ اِنَّمَا طٰٓىٕرُہمْ عِنْدَ اللّٰہ وَ لٰکنَّ اَکثَرَہمْ لَا یَعْلَمُوْنَ۔

ترجمہ کنزالایمان:"تو جب انہیں بھلائی ملتی کہتے ہیں، یہ ہمارے لئے ہے اور جب برائی پہنچتی تو موسٰی اور اس کے ساتھ والوں سے بد شگونی لیتے، سن لو اس کے نصیبہ کی شامت تو اللہ کے یہاں ہے، لیکن ان میں اکثر کو خبر نہیں۔"

مفسر شہیر حکیم الامت حضرت مفتی احمد یار خان رحمۃاللہ علیہ اس آیت مبارکہ کے تحت لکھتے ہیں:"جب فرعونیوں پر کوئی مصیبت آتی تھی تو حضرت موسیٰ علیہ السلام اور ان کے ساتھی مؤمنین سے بدشگونی لیتے تھے، کہتے تھے کہ جب سے یہ لوگ ہمارے ملک میں ظاہر ہوئے ہیں، تب سے ہم پر مصیبتیں بلائیں آنے لگیں۔"

حدیث مبارکہ:

آپ صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم نے ارشاد فرمایا:ترجمہ "جس نے بد شگونی لی اور جس کے لئے بدشگونی لی گئی، وہ ہم میں سے نہیں۔"(المعجم الکبیر18/162، حدیث355)

حضرت امام محمد آفندی رومی برکلی رحمۃُ اللہِ علیہ لکھتے ہیں: بدشگونی لینا حرام اور نیک فال یااچھا شگون لینا مستحب ہے۔"مفسر شہیر حکیم الامت مفتی احمد یار خان نعیمی رحمۃُ اللہِ علیہ فرماتے ہیں:"اسلام میں نیک فال لینا جائز ہے، بدفالی بدشگونی لینا حرام ہے۔"

عورتوں میں پائی جانے والی 5 بد شگونیاں:

مکتبۃ المدینہ کی کتاب بدشگونی کے صفحہ 16 پر لکھا ہے:

1۔نئی نویلی دلہن کے گھر آنے پر خاندان کا کوئی شخص فوت ہو جائے یا کسی عورت کی صرف بیٹیاں ہی پیدا ہوں، تو اس پر منحوس ہونے کا لیبل لگ جاتا ہے۔

2۔حاملہ عورت کو میت کے قریب نہیں آنے دیتے کہ بچے پر بُرا اثر پڑے گا۔

3۔جوانی میں بیوہ ہو جانے والی عورت کو منحوس جانتے ہیں۔

4۔سورج گرہن کے وقت حاملہ عورت چھُری سے کوئی چیز نہ کاٹے کہ بچہ پیدا ہوگا تو اس کا ہاتھ یا پاؤں کٹا ہوا ہو گا۔

5۔خالی قینچی چلانے سے گھر میں لڑائی ہوتی ہے اور جب بادلوں میں بجلی کڑک رہی ہو اور سب سے بڑا بچہ باہر نکلے تو بجلی اس پر گر جائے گی۔


دعوت  اسلامی کے شعبہ کفن دفن للبنات کے تحت گزشتہ دنوں میانوالی زون اطراف حافظ والا کابینہ کی اطراف خانقاہ ڈویژن کے علاقےبانگڑی میں کفن دفن تربیتی اجتماع کا انعقاد ہوا جس میں کم و بیش 90 اسلامی بہنوں نے تربیت حاصل کی۔

مبلغہ دعوت اسلامی نےاسلامی بہنوں کو کفن کاٹنے اور میت کو غسل دینے کا طریقہ سمجھایا نیز کفن دفن ٹیسٹ دینے کا ذہن دیا۔ مزید مہینہ میں ایک کفن دفن تربیتی اجتماع شروع کروانے کے لئے اسلامی بہنوں سے نیتیں بھی کروائی ۔


بد شگونی کی تعریف:

شگون کا معنیٰ ہے "فال لینا" یعنی کسی چیز، شخص، عمل، آواز یا وقت کو اپنے حق میں اچھا یا بُرا سمجھنا، (اسی وجہ سے برا فال لینے کو بدشگونی کہتے ہیں)۔(باطنی بیماریوں کی معلومات، صفحہ 21)

کسی شخص، جگہ، چیز یا وقت کو منحوس جانے کا اِسلام میں کوئی تصور نہیں، یہ محض وہمی خیالات ہوتے ہیں، کسی شخص یا چیز کو منحوس قرار دینا مسلمانوں کا شیوہ نہیں، غیر مسلموں کا پُرانا طریقہ ہے، لیکن اس کے باوجود ہمارے معاشرے میں بہت سی برائیوں کے ساتھ ساتھ ایک برائی بدشگونی لینا رائج ہے۔

اسی مناسبت سے عورتوں میں پائی جانے والی 5 بد شگونیاں بیان کی جاتی ہیں:

1۔حاملہ عورت کو میّت کے قریب نہیں آنے دیتے کہ بچے پر بُرا اثر پڑے گا۔(بدشگونی، ص17)

2۔جوانی میں بیوہ ہو جانے والی عورت کو منحوس جانتے ہیں۔(بدشگونی، ص17)

3۔سورج گرہن کے وقت حاملہ عورت چُھری سے کوئی چیز نہ کاٹے کہ بچہ پیدا ہوگا، اس کا ہاتھ یا پاؤں کٹا یا چِرا ہوا ہوگا۔(بدشگونی، ص18)

4۔نئی نویلی دلہن کے گھر آنے پر خاندان کا کوئی شخص فوت ہو جائے، اس عورت کو منحوس قرار دے دیا جاتا ہے۔(بدشگونی، ص17)

5۔مہمان کی رُخصتی کے بعد گھر میں جھاڑو دینے کو عورتیں منحوس خیال کرتی ہیں۔(بدشگونی، ص18)

بدشگونی کا حکم:

آقا صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم کا فرمان:"جس نے بد شگونی لی اور جس کے لئے بدشگونی لی گئی، وہ ہم میں سے نہیں۔"

مفسر شہیر حکیم الامت مفتی احمد یار خان نعیمی رحمۃُ اللہِ علیہ فرماتے ہیں:"اسلام میں نیک فال لینا جائز ہے، بد فالی، بد شگونی لینا حرام ہے۔"(باطنی بیماریوں کی معلومات، صفحہ 286)


عورتوں میں پائی جانے والی 5 بدشگونیاں

شگون کامعنی ہیں ” فال لینا “ یعنی کسی چیز ، شخص، عمل، آواز یا وقت کو اپنے حق میں اچھا یا بُرا سمجھنا، اس کی دو قسمیں ہیں:1۔برا شگون لینا، 2۔اچھا شگون لینا۔

اچھا شگون یہ ہے کہ جس کام کا ارادہ کیاہو، اس کے بارے میں کوئی کلام سُن کر دلیل پکڑنا، یہ اس وقت ہے، جب کلام اچھا ہو، اگر برا ہو تو بدشگونی ہے۔(بد شگونی،ص 10)

حضرت امام محمد آفندی رومی بِرکلی رحمۃُ اللہِ علیہالطریقۃ المحمدیہ میں لکھتے ہیں:بدشگونی لینا حرام اور نیک فال یا اچھا شگون لینا مستحب ہے۔(الطریقۃ المحمدیہ، 2/17، 24، بدشگونی صفحہ12)

جہاں ہمارے معاشرے میں کئی لوگ بدشگونی لینے کے مرض میں مبتلا ہیں، وہاں دیکھا جائے تو عام طور پر عورتوں کی اچھی خاصی تعداد پائی جاتی ہے، جو اِس میں مبتلا ہے، ہم یہاں چندایسی بدشگونیوں کا ذکر کئے دیتے ہیں، جو خاص طور پر عورتوں میں پائی جاتی ہیں:

1۔نئی دلہن منحوس یا خوش قسمت:

نئی نویلی دلہن کے گھر آنے پر خاندان کا کوئی فرد فوت ہو جائے ، تو کہا جاتا ہے کہ یہ اس کی نحوست ہے اور کوئی خوشی ملے تو اس دلہن کو اچھا جانا جاتا ہے۔

کیا یہ بات حقیقت ہے؟ نہیں!یاد رکھئے زندگی، موت بندے کے اختیار میں نہیں ہوتی، بلکہ اِس کا تو وقت معین ہے، کسی کے آنے سے کسی کا مر جانا نحوست نہیں ہو سکتا، ہو سکتا ہے وہ دلہن اللہ پاک کے مقرب بندوں میں ہو تو اس کے بارے یہ الفاظ بول کر نہ صرف دل آزاری، بلکہ اللہ پاک کی شدید ناراضگی کا سبب ہے اور مقرب نہ ہو، جب بھی یہ الفاظ دل آزاری کا سبب ہیں۔

2۔بیٹیوں کی پیدائش:

بیٹیوں کی پیدائش پر تو گویا اُس ماں پر نحوست کا لیبل لگا دیا جاتا ہے، توجّہ فرمائیے، بیٹیاں دینا یا بیٹے دینا اللہ پاک کا کام ہے، جو وہ چاہتا ہے، وہی عطا فرماتا ہے، انسان کا کام یہ ہے کہ وہ اپنے ربّ کی عطا پر شکر کرے، یاد رکھئے! ایسے کلمات بعض اوقات کفریہ بھی ہوتے ہیں۔

3۔حاملہ عورت کا میت کے پاس آنا:

کہا جاتا ہے کہ حاملہ عورت میت کے پاس نہ آئے کہ اس سے بچے پر بُرا اثر پڑتا ہے، اللہ اکبر کیوں وہ کہتے ہو، وہ جو شریعتِ مطہرہ نے نہیں کہا، افسوس ہے ایسی سوچ پر۔

4۔جوانی میں بیوہ عورت منحوس ہے:

جو عورت جوانی میں بیوہ ہو جائے، اُسے منحوس سمجھا جاتا ہے، غور کیجئے! کیا کفر سے بڑھ کر کوئی نحوست ہے ؟ہرگز نہیں تو کیا بیوہ ہو جانا نحوست ہے یا کافر ہو جانا نحوست ہے؟ بلاشبہ کفر اور گناہ ہی نحوست ہیں، اِن دل آزار جملوں سے خود کو بچائیے کہ یہ بھی گناہ ہیں۔

5۔رات کے وقت کنگھی کرنا نحوست ہے:

رات کے وقت کنگھی کرنا یا ناخن کاٹنا نحوست جانا جاتا ہے، سُنئے جانِ جاناں صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم کے الفاظ اور غور کیجئے، حضور صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم ایسی عورتوں سے بیزار ہیں، فرمایا:"جس نے بدشگونی لی اور جس کے لئے بدشگونی لی گئی، وہ ہم میں سے نہیں۔"(المعجم الکبیر18/162، حدیث355، بدشگونی:19)

اللہ اکبر!یاد رکھئے جس سے جانِ جاناں صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم بیزاری کا اعلان فرما دیں، اُس کا دعویٔ محبت جھوٹا ہے اور وہ جنتی نہیں ہوسکتا، کیونکہ جنت تو حضور صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم کی اطاعت کرنے والوں کی ہے۔


بدشگونی کیا ہے:

مکتبہ المدینہ کی مطبوعہ 128 صفحات پر مشتمل کتاب بدشگونی صفحہ 10 پر ہے:شگون کا معنیٰ ہے "فال لینا" یعنی کسی چیز، شخص، عمل، آواز یا وقت کو اپنے حق میں اچھا یا بُرا سمجھنا، (اسی وجہ سے بد فالی لینے کو بدشگونی کہتے ہیں)۔

قرآن پاک میں ارشاد ہوتا ہے: فَاِذَا جَآءَتْهُمُ الْحَسَنَةُ قَالُوْا لَنَا هٰذِهٖ ۚوَ اِنْ تُصِبْهُمْ سَیِّئَةٌ یَّطَّیَّرُوْا بِمُوْسٰى وَ مَنْ مَّعَهٗ ؕاَلَاۤ اِنَّمَا طٰٓىٕرُهُمْ عِنْدَ اللّٰهِ وَ لٰكِنَّ اَكْثَرَهُمْ لَا یَعْلَمُوْنَ(۱۳۱)

ترجمہ کنز الایمان:تو جب انہیں بھلائی ملتی کہتے یہ ہمارے لیے ہے اور جب برائی پہنچتی تو موسی اور اس کے ساتھ والوں سے بدشگونی لیتے سن لو ان کے نصیبہ(مُقَدَّر) کی شامت تو اللہ کے یہاں ہے لیکن ان میں اکثر کو خبر نہیں ۔(پ 9، اعراف:131)

بدشگونی کے بارے میں حدیث مبارکہ ہے:

حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم نے ارشاد فرمایا: جس نے بد شگونی لی اور جس کے لئے بدشگونی لی گئی، وہ ہم میں سے نہیں۔(معجم کبیر حدیث عمران بن حصین، ص162، حدیث 355)

عورتوں میں پائی جانے والی چار بد شگونیوں کی مثالیں:

1۔نئی دلہن کے ہاتھوں اگر کوئی چیز ٹوٹ پھوٹ جائے تو اس کو منحوس سمجھا جاتا ہے اور بات بات پر اس کی دل آزاری کی جاتی ہے۔

2۔اگر کسی گھر پر اُلّو کی آواز سن لی جائے تو اعلان کر دیا جاتا ہے کہ گھر کا کوئی فرد مرنے والا ہے یا گھر پر مصیبت آنے والی ہے۔

3۔اگر کوئی شیشے کا برتن یا شیشہ ٹوٹ جائے تو اسے منحوس سمجھا جاتا اور بدشگونی کی جاتی ہے۔

4۔یوں ہی عورتوں میں ماہِ صفر المظفر کے بارے میں بھی بدشگونی لی جاتی ہے اور اسے تیرہ تیزی کا مہینہ کہا جاتا ہے اور اس مہینے میں شادی کرنے، الغرض کوئی اچھا کام کرنے کو منحوس جانا جاتا ہے۔

بد شگونی کا حکم:

حضرت امام محمد آفندی رومی برکلی رحمۃُ اللہِ علیہ لکھتے ہیں: بدشگونی لینا حرام جبکہ اچھا شگون لینا مستحب ہے۔"

بدشگونی سے کیسے بچا جائے:

بدشگونی سے بچنے کے لئے سب سے پہلے اللہ پاک پر توکّل اور بھروسہ رکھا جائے اور اس آیت مبارکہ کو ذہن نشین رکھا جائے:حسبنا اللہ ونعم الوکیل۔