عورتوں میں پائی جانے والی
5 بد شگونیاں از بنت محمد شاہد
(جامعہ بہار بغداد)
شگون کا معنی فال لینا ہے یعنی کسی چیز ، شخص ، عمل ، آواز یاوقت کو اپنے حق
میں اچھا یا برا جاننا اگر اچھا سمجھا تو نیک فال اور اگر برا سمجھا تو بدفالی یا
برا شگون ہے۔
پیارے آقاصلی اللہ
علیہ والہ وسلم نے
فرمایا: جس نے بد شگونی لی اور جس کیلئے بدشگونی لی گئی وہ ہم میں سے نہیں ۔ایک
اور مقام پہ فرمایا: تین چیزیں جس شخص میں ھوں وہ بلند درجات تک نہیں پہنچ سکتا
(1)جو اپنی اٹکل سے غیب کی خبر دے
(2)فال کے تیروں سے اپنی قسمت معلوم کرے
(3)بدشگونی کے سبب اپنے سفر سے رک جائے
آج کل
عورتوں میں بدشگونی بہت عام ہیں جیسے
(1)خالی قینچی چلانے سے گھر میں لڑائی ھوتی ہے
(2)کسی کا کٹا ہوا ناخن پاؤں کے نیچے آجائے تو آپس میں دشمنی
ھوجائے گی
(3)نومولود(بہت چھوٹے بچّے) کے کپڑے دھوکر نچوڑے جائے تو جسم
میں درد بیٹھ جاتا ہے
(4) رات کو شیشہ دیکھنے سے چہرے پہ جھرّیاں پڑجاتی ہیں
(5)بچّے کے اوپر سے پھلانگنے سے بچّے کا قد چھوٹا رہ جاتا ہے
وغیرہ وغیرہ
اسلام میں
بد شگونی کا کوئی تصوّر نہیں
بدشگونی
انسان کیلئے دینی اور دنیاوی دونوں اعتبار سے بہت زیادہ خطرناک ہے
یہ انسان
کو وسوسوں کی دلدل میں اتار دیتی ہے
بدشگونی
سے ایمان بھی ضائع ھو جاتا ہے
بدشگونی
کا شکار ھونے والے کا اللہ پر توکل ختم ہوجاتا
ہے
اللہ پاک کے
بارے میں بدگمانی پیدا ھوتی ہے
شیطانی
وسوسوں کا دروازہ کھلتا ہے
تقدیر پر
ایمان کمزور ھوجاتا ہے
توہم
پرستی ، بزدلی ، ڈر ، خوف اور تنگ دلی پیدا ھوتی ہے
دیکھا آپ
نے کے بد شگونی کے کتنے نقصانات ہیں یہاں تک کہ ایمان کے ضائع ہونے تک کا کہا گیا
ہے اللہ پاک سے دعا ہےکہ ہم کو بدشگونی جیسی آفت سے محفوظ فرمائے ۔ آمین آمین آمین
یارب العلمین
دعوتِ
اسلامی کے شعبہ شارٹ کورسز کے تحت گزشتہ
دنوں حافظ آباد میں سہہ ماہی مدنی مشورہ ہواجس میں زون تا ذیلی سطح کی ذمہ دار اسلامی بہنوں نے شرکت کی ۔
ریجن
ذمہ دار اسلامی بہن نے نیو شارٹ کورس کے حوالے سے اسلامی بہنوں کو اپڈیٹ معلومات فراہم کی نیز جن کورسز میں ٹیسٹ کی حاجت ہے ان کورسز کے نام
لکھوائےاور ذمہ داراور جامعۃ المدینہ کی طالبات کو ٹیسٹ کےلئے اہداف دئیے ۔مزید نیو کورس
بنام ’’ تفسیر سورہ ٔملک ‘‘کی تشہیر کرنے اور تجوید قراٰن کورس کروانے کا ذہن دیا ۔اس کےعلاوہ ماہانہ شیڈول اور ماہانہ شارٹ کورس کےکارکردگی فارم دیئے۔
اس کےساتھ ہی مدنی مشورےمیں کفن دفن کی ریجن ذمہ دار اسلامی بہن نے غسل میت دینےا ور کفن پہنانے کے حوالے سے اسلامی بہنوں کی تربیت کی اور انہیں کفن دفن ٹیسٹ دینے کی ترغیب دلاتےہوئے ان کے نام بھی لکھے ۔مزید آخر میں شعبہ تعلیم کی زون ذمہ دار اسلامی بہن نے بھی شعبے میں کئےجانےوالےوالے دینی کاموں کےحوالےسے اپڈیٹ مدنی پھول
دیئے۔
دعوتِ
اسلامی کے شعبہ کفن دفن للبنات کے تحت گزشتہ
دنوں چشمہ ڈویژن کے علاقے عمرخیل میں کفن دفن تربیتی اجتماع
کاانعقادہوا جس میں ڈویژن نگران اسلامی بہن نے غسلِ میت دینے اور کفن پہنانےکا پریکٹیکل طریقہ
اسلامی بہنوں کو سکھایا۔
کفن دفن اجتماع کے اختتام پر اسلامی بہنوں کو کفن دفن کا
ٹیسٹ دینے اور غسلِ میت میں حصہ لینے کاذہن دیا نیز انہیں ذیلی حلقوں میں ہونے والےہفتہ وار سنتوں بھرے اجتماع میں شرکت کرنے کی ترغیب دلائی جس
پر بھی اسلامی بہنوں نے اچھی نیت کا اظہار کیا۔
دعوتِ اسلامی کے شعبہ کفن دفن
للبنات کے زیراہتمام گزشتہ دنوں حافظ آباد میں مدنی مشورےکاانعقادہوا جس میں زون و کابینہ نگران
اسلامی بہنوں سمیت شعبہ تعلیم کی زون ذمہ دار اسلامی بہنوں نے بھی شرکت کی ۔
ریجن
ذمہ دار اسلامی بہن نے غسل میت و کفن دفن کورس
کروانے کےحوالےسےاسلامی بہنوں کی تربیت کی نیز ٹیسٹ دینےکےلئے نام بھی لئے اور اس کےساتھ ہی شعبےکےدینی کاموں میں بہتری لانےکےحوالے سے مدنی پھول دیئےجس پر اسلامی بہنوں نے اچھی نیتوں
کااظہارکیا۔
عورتوں میں پائی جانے والی
5 بد شگونیاں از بنت محمد زبیر جامعۃ
المدینہ فیضان عالم شاہ بخاری
شگون کا
معنیٰ ہے "فال لینا" یعنی کسی چیز،
شخص، عمل، آواز یا وقت کو اپنے حق
میں اچھا یا بُرا سمجھنا، اس کی بنیادی
طور پر دو قسمیں ہیں۔1۔بُرا شگون لینا، 2۔ اچھا شگون لینا۔
اچھا شگون:
اچھا شگون
یہ ہے کہ جس کام کا ارادہ کیا ہو، اس کے
بارے میں کوئی کلام سُن کر دلیل پکڑنا، یہ اس وقت ہے اگر کلام اچھا ہو، اگر برا ہو تو بدشگونی ہے۔
شریعت نے اس بات کا حکم دیا ہے کہ انسان اچھا
شگون لے کر خوش ہو اور اپنا کام خوشی خوشی پایہ تکمیل تک پہنچائے اور جب بُرا کلام
سنے تو اس کی طرف توجّہ نہ کرے اور نہ ہی
اس کے سبب سے اپنے کام سے رُکے۔"(المدینہ العلمیہ، بدشگونی، صفحہ 10، 11)
بدشگونی
حرام اور نیک فال لینا مستحب ہے:
حضرت امام محمد آفندی رومی برکلی رحمۃُ اللہِ علیہ الطریقۃُ المحمَّدیہ میں لکھتے ہیں:"بدشگونی لینا
حرام اور نیک فال یااچھا شگون لینا مستحب ہے۔"(المدینۃالعلمیہ، بدشگونی، صفحہ 12)
بدشگونی کی
پانچ مثالیں:
1۔بدشگونی
کی مثال یہ ہے کہ ایک شخص سفر کے ارادے سے گھر سے نکلا، لیکن راستے میں کالی بلّی راستہ کاٹ کر گزر گئی،
اب اس شخص نے یہ یقین کرلیا کہ اس کی
نحوست کی وجہ سے مجھے سفر میں ضرور کوئی نقصان اٹھانا پڑے گا اور سفر کرنے سے رُک
گیا تو سمجھ لیجئے کہ وہ شخص بدشگونی میں
مبتلا ہوگیا۔
2۔بدشگونی
کی دوسری مثال یہ ہے کہ کبھی اندھے، لنگڑے
اور معذور لوگوں سے تو کبھی کسی خاص پرندے یا جانور کو دیکھ کر یا اُس کی آواز کو
سُن کر بدشگونی کا شکار ہوجاتے ہیں۔
3۔اسی طرح
اس کی تیسری مثال یہ ہے کہ نئی نویلی دلہن کے گھر آنے پر خاندان کا کوئی شخص فوت
ہو جائے یا کسی عورت کی صرف بیٹیاں ہی پیدا ہوں، تو اس پر منحوس ہونے کا لیبل لگ جاتا ہے اور وہ
بد شگونی میں مبتلا ہوجاتے ہیں۔
4۔اسی طرح
خالی قینچی چلانے سے گھر میں لڑائی یا کسی کا کنگھا ا ستعمال کرنے سے گھر میں
جھگڑا ہوتا ہے، یہ بھی بد شگونی کی مثال
ہے۔
5۔چھوٹا
بچہ کسی کی ٹانگ کے نیچے سے گزر جائے یا بچہ سویا ہوا ہو، اُس کے اوپر سے کوئی پھلانگ کر گزر جائے تو بچے
کا قد چھوٹا رہ جاتا ہے، یہ بھی بدشگونی
ہے۔اسی طرح ہمارے معاشرے میں بدشگونی کی بہت سی مثالیں آپ کو دیکھنے کو ملیں گی۔اللہ
پاک آپ کو اور مجھے بدشگونی اور اس جیسی بیماریوں سے دور رہنے اور بچنے کی توفیق
عطا فرمائے۔آمین بجاہ النبی الامین صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم
دعوتِ
اسلامی کے تحت گزشتہ دنوں ڈیرہ اسماعیل خان کابینہ نگران اسلامی بہن نے پہاڑپور ڈویژن
کے علاقے سیدوالی میں مدنی مشورہ لیا جس میں
علاقہ نگران اسلامی بہن اور ذیلی مشاورت کی تقرری کی نیزجن اسلامی بہنوں کو ذمہ داری
دی ان کی تربیت کی۔ اس کےعلاوہ ذمہ دار اسلامی بہنوں کو اپنے علاقے میں دینی کام بڑھانے
کی بھر پورترغیب دلائی جس پراسلامی
بہنوں نے اچھی اچھی نیتیں پیش کیں۔
شگون کا
معنیٰ ہے ” فال لینا “ یعنی کسی چیز،
شخص، عمل، آواز یا وقت کو اپنے حق
میں اچھا یا بُرا سمجھنا، اس کی بنیادی
طور پر دو قسمیں ہیں۔1۔بُرا شگون لینا، 2۔ اچھا شگون لینا۔
علامہ
محمد بن احمد انصاری قرطبی رحمۃُ اللہِ علیہ
تفسیرِقرطبی میں فرماتے ہیں:اچھا شگون یہ ہے کہ جس کام کا ارادہ کیا ہو، اس کے بارے میں کوئی اچھا کلام سن کر دلیل
پکڑنا، یہ اس وقت ہے اگر کلام اچھا ہو، اگر برا ہو تو بدشگونی ہے، شریعت
نے اس بات کا حکم دیا ہے کہ انسان اچھا شگون لے کر خوش ہو اور اپنا کام خوشی خوشی
پایہ تکمیل تک پہنچائے اور جب بُرا کلام سنے تو اس کی طرف توجّہ نہ کرے اور نہ ہی اپنے کام سے رُکے۔(الجامع لاحکام للقرطبی)
سرکار عالی
وقار صلی اللہ علیہ
واٰلہٖ وسلم نے فرمایا:یعنی
جو شخص بد شگونی کی وجہ سے کسی چیز سے رُک جائے، وہ شرک میں آلودہ ہو گیا۔
ہمارے
معاشرے میں جہالت کی وجہ سے رواج پانے والی خرابیوں میں ایک بدشگونی بھی ہے، جس کو بدفالی کہا جاتا ہے، آج کل بدقسمتی سے بعض پڑھے لکھے لوگ بھی ان بد شگونیوں
میں مبتلا نظر آتے ہیں، مثلاً
1۔صفرالمظفر
کی تیرہ تاریخ تک کوئی خوشی کی تقریب منعقد نہ کی جائے، ورنہ کچھ بُرا ہو سکتا ہے، اسی طرح محرم الحرام میں بھی شادی وغیرہ منعقد
کرنا بُرا سمجھا جاتا ہے۔
2۔اگر کسی
کے گھر کے دروازے پر بلّی کے رونے کی آواز آئے، تو اسے زبردستی دھمکایا جاتا ہے، کیونکہ ان کی ذہنیت کے مطابق جہاں بلی روئے، وہاں کسی انسان کی میّت ہو جاتی ہے۔
3۔اگر کوئی
بچے شرارت سے چارپائی وغیرہ پر بیٹھے ہوں اور اپنے پاؤں نیچے لٹکا کر ان کو ہلانا
شروع کردیں تو کہتے ہیں کہ ایسا نہ کرو، ورنہ تمہاری والدہ کی وفات ہو جائے گی۔
4۔اگر کوئی
خالی قینچی چلائے تو کہتے ہیں کہ ایسا
کرنے سے گھر میں لڑائی ہو جاتی ہے۔
5۔اگر کوئی
طلاق یافتہ یا بیوہ خاتون، نئی نویلی دلہن
کے قریب جائے تو اسے بُرا سمجھا جاتا ہے، حتٰی کہ ایسی خاتون کو دلہن کی کسی رسم میں شریک ہونے کی
اجازت نہیں دی جاتی کہ کہیں ایسا نہ ہو کہ اس کی زندگی کے بُرے اثرات نئی نویلی
دلہن پہ نہ پڑ جائیں، حالانکہ یہ سب ہندو
معاشرے کے اثرات ہیں، جو برصغیر میں رہنے
والے مسلمانوں میں آج بھی موجود ہیں، ضرورت اس بات کی ہے کہ مسلمانوں میں شعُور اُجاگر
کیا جائے، تاکہ اس بد شگونی کا معاشرے سے
خاتمہ ہوسکے۔
عورتوں
میں پائی جانے والی 5 بد شگونیاں
بد شگونی حرام اور نیک فال لینا مستحب یعنی ثواب کا کام ہے۔ حضرت امام محمد آفندی برکلی رحمۃُ اللہِ علیہ کتاب ”
طریقۂ محمدیہ “ میں لکھتے ہیں : بد شگونی
حرام اور نیک فال یا اچھا شگون لینا مستحب ہے۔
اللہ پاک کے آخری نبی صلی اللہ علیہ
واٰلہٖ وسلم اچھی فال کو پسند
فرماتے تھے۔(مسند
احمد)
اچھا شگون لینا اور برا شگون لینا اس
سے کیا مراد ہے، آئیے مثالوں سے سمجھتے ہیں:
اچھے شگون کی مثال یہ ہے کہ ہم کسی کام کو جا رہے ہوں اور کوئی نیک، پرہیز گار
شخص سامنے آ گیا، تو ہم نے خیال کیا کہ ان شاء اللہ میں اپنے کام میں کامیاب ہوجاؤں
گا۔ اور بد شگونی کی مثال یہ ہے کہ کوئی شخص سفر کرنے کے لیے گھر سے نکلا، لیکن
کالی بلی آگے سے گزری، اب اس شخص نے یقین کرلیا کہ اس کی نحوست کی وجہ سے مجھے
ضرور کوئی نقصان اٹھانا پڑے گا۔ تو یوں وہ شخص بد شگونی میں مبتلا ہوگیا۔
بد شگونی کی تعریف: شگون کا معنی ہے فال لینا یعنی کسی چیز، شخص، عمل، آواز یا
وقت کو اچھا یا برا سمجھنا۔ اسی وجہ سے بد فال لینے کو بد شگونی کہتے ہیں۔
بنیادی
طور پر شگون کی دو قسمیں ہیں: (1) برا شگون (2)اچھا شگون
بد شگونی سے متعلق اللہ پاک کے آخری نبی صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم نے ارشاد فرمایا :جس نے بد شگونی لی
اور جس کے لیے بد شگونی لی گئی وہ ہم میں سے نہیں۔ (باطنی بیماریوں کی معلومات صفحہ 285- 286)
بد شگونی ایک عالمی بیماری ہے۔ مختلف ممالک میں رہنے والے لوگوں میں الگ الگ
قسم کی بد شگونیاں پائی جاتی ہیں، جنہیں سن کر انسان حیران رہ جاتا ہے۔ اب عورتوں
میں پائی جانے والی 5 بد شگونیاں ذکر کی جا رہی ہیں جو ہمارے علاقے میں بھی عام
ہیں:
1. گھر سے اگر کوئی سفر پر جائے تو جب تک وہ اپنی منزل پر نہ پہنچ جائے تب تک یا اس دن گھر میں جھاڑو نہیں دی
جاتی اسے منحوس سمجھا جاتا ہے۔
2. رات کے وقت کنگی چوٹی کرنے اور ناخن کاٹنے کو بھی برا سمجھا
جاتا ہے۔
3. ہمارے یہاں ایک بدشگونی یہ بھی پائی جاتی ہے کہ جھاڑوں کو
کھڑا نہ رکھا جائے اس سے گھر میں لڑائی جھگڑے ہوتے ہیں۔
4. چاند گرہن کے وقت حاملہ عورت چھری سے کوئی چیز نہ کاٹے کہ
بچہ جب پیدا ہو گا تو اس کا ہاتھ، پاؤں یا جسم کا کوئی عضو کٹا ہوا یا چرا ہوا ہو
گا۔
5. ہمارے یہاں عورتوں میں ایک بد شگونی یہ بھی پائی جاتی ہے کہ
جس عورت کا بھائی ہو وہ جمعرات کے دن سر نہ دھوئے۔
شریعت نے اس بات کا حکم دیا ہے کہ انسان اچھا شگون لے کر خوش ہو اور اپنا کام
خوشی خوشی مکمل کرے اور جب برا کلام سنے تو اس کی طرف توجہ نہ کرے اور نہ ہی اس کی
وجہ سے اپنے کام کو روکے۔
بدشگونی
انسان کے لیے دینی و دنیوی دونوں طرح سے بہت خطرناک ہے، انسان وہم میں مبتلا ہو
جاتا ہے اور بے سکون رہتا ہے۔ اللہ کریم
ہمیں بدشگونی سے نجات عطا فرمائے اور شریعت پر عمل کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین یا رب العالمین
بدشگونی لینا
عالمی بیماری ہے، مختلف ممالک میں رہنے
والے مختلف لوگ، مختلف چیزوں سے ایسی ایسی
بد شگونیاں لیتے ہیں کہ انسان سن کر حیران
رہ جاتا ہے، مگر بدشگونی کہتے کسے ہیں؟آئیے جانتے ہیں:
شگون کامعنی ہے” فال لینا “ یعنی کسی چیز ، شخص، عمل، آواز یا وقت کو اپنے حق میں اچھا یا بُرا
سمجھنا، اسی وجہ سے بُرا فال لینے کو بدشگونی
کہتے ہیں۔(بدشگونی، ص 10)
حضور سیّد عالم صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم نے بدفالی لینے والوں سے بیزاری کا اظہار ان الفاظ سے فرمایا:
لَیْسَ مِنَّا مَنْ تَطَیَّرَ وَلَا
تُطُیِّرَ لَہٗ۔یعنی جس
نے بدشگونی لی یا جس کے لئے بدشگونی لی گئی، وہ ہم میں سے نہیں(یعنی وہ ہمارے طریقے پر نہیں)۔(بدشگونی،
ص 19)
مفسر شہیر حکیم
الامت مفتی احمد یار خان نعیمی رحمۃُ اللہِ علیہ فرماتے ہیں:اسلام
میں نیک فال لیناجائز ہے اور بد فالی اور
بدشگونی لینا حرام ہے۔(باطنی بیماریوں
کی معلومات، صفحہ 286)
بدشگونی کی مختلف
صورتیں ہیں، مگر یہاں عورتوں میں پائی
جانے والی 5بدشگونیاں ذکر کی جاتی ہیں:
1۔بعض عورتیں رات
کے وقت کنگھی چوٹی کرنے یا ناخن کاٹنے سے بدشگونی لیتی ہیں کہ اس سے نحوست آتی ہے۔
2۔بعض عورتوں کا یہ
خیال ہوتا ہے کہ اگر بچہ سویا ہوا ہو، اس
کے اوپر سے کوئی پھلانگ کر گزر جائے یا چھوٹا بچہ کسی کی ٹانگ کے نیچے سے گزر جائے
تو اس کا قد چھوٹا رہ جاتا ہے۔(بدشگونی، صفحہ17)
3۔جبکہ
بعض عورتوں میں یہ بدشگونی بھی پائی جاتی ہے کہ نومولود(یعنی بہت چھوٹے بچے) کے
کپڑے دھو کرنچوڑنے نہیں چاہئیں کہ اس سے بچے کے جسم میں درد ہوگا۔
4۔سورج
گرہن کے وقت حاملہ عورت کوئی چیز نہ کاٹے کہ بچہ پیدا ہوگا تو اس کا ہاتھ یا پاؤں
کٹا یا چرا ہوا ہوگا، اسی طرح گرہن کے وقت
حاملہ خواتین کو سلائی کڑھائی سے بھی منع کیا جاتا ہے کیونکہ یہ خیال کیا جاتا ہے
کہ اس سے بچے کے جسم پر غلط اثر پڑ سکتا ہے۔
5۔عورتوں
میں ایک بدشگونی یہ بھی پائی جاتی ہے کہ جب بادلوں میں بجلی کڑک رہی ہو اور سب سے بڑا
بچہ(پلوٹا/پہلوٹا) باہر نکلے تو بجلی اس پر گر جائے گی۔
اے عاشقان ِرسول!مذکورہ بالا بدشگو نیوں اور اس طرح کی تمام بدشگونیوں کی
شریعتِ مطہرہ میں کوئی حقیقت نہیں، بلکہ
شریعت میں تو بدشگونی لینے کو حرام قرار دیا
گیا ہے، بدشگونی لینا گناہِ کبیرہ ہے، شریعت میں اس کی بالکل اجازت نہیں، بدشگونی کے ذریعے انسان اپنے آپ کو مشکل میں مبتلا
کرتا ہے، اپنے سکون کو برباد کرتا ہے، بدشگونی انسان کو وسوسوں کے دلدل میں اُتار دیتی
ہے۔امام حسن علی بن محمد الماوردی رحمۃُ اللہِ علیہ لکھتے ہیں:
جان لو! بدشگونی سے زیادہ فکر کو نقصان پہنچانے والی اور تدبیر کو بگاڑنے والی کوئی
شے نہیں۔ (بدشگونی، ص19)
بدشگونی کے حوالے سے مزید معلومات کے
لئے دعوت اسلامی کے اشاعتی ادارے مکتبۃالمدینہ کی مطبوعہ 128 صفحات پر مشتمل کتاب ”
بدشگونی “ کا مطالعہ کیجئے۔
کریں نہ تنگ خیالاتِ بد کبھی، کر دے شعور
و فکر کو پاکیزگی عطا یا ربّ
( وسائل بخشش، ص 93)
عورتوں میں پائی جانے والی
5 بد شگونیاں از بنت عدنان عطاری (جامعہ
فیضان عالم شاہ بخاری)
بد شگونی
ہے کیا؟
شگون کامعنی
ہے” فال لینا “ یعنی کسی چیز ، شخص، عمل، آواز یا وقت کو اپنے حق میں اچھا یا بُرا
سمجھنا، اس کی بنیادی طور پر دو قسمیں ہیں:
1۔برا
شگون لینا۔
2۔اچھا شگون لینا۔
علامہ
محمد بن احمد انصاری قرطبی رحمۃُ اللہِ علیہ تفسیرِ
قرطبی میں نقل کرتے ہیں:کہ اچھا شگون یہ ہے کہ جس کام کا ارادہ کیا ہو، اس کے بارے میں کوئی کلام سن کر دلیل پکڑنا، یہ اس وقت ہے جب کلام اچھا ہو، اگر برا ہو تو بد شگونی ہے۔
شریعت میں
اس بات کا حکم ہے کہ انسان اچھا شگون لے
کر خوش ہو اور اپنا کام خوشی خوشی پائے تکمیل تک پہنچائے اور جب بُرا کلام سُنے تو اس طرف توجّہ نہ کرے اور نہ ہی اس کے سبب اپنے
کام سے رُکے۔ (الجامع
للحکام القرآن للقرطبی پ 26، الاحقاف تحت الآیۃ:4 ج 8، جزء 16، ص132)
عورتوں
میں پائی جانے والی 5 بد شگونیاں:
1۔حاملہ عورت کو
میّت کے قریب نہیں آنے دیتے کہ بچے پر بُرا اثر پڑے گا۔
2۔جوانی میں
بیوہ ہو جانے والی عورت کو منحوس جانتے ہیں، نیز یہ سمجھتے ہیں کہ حاملہ عورت سورج
گرہن کے وقت چُھری سے کوئی چیز کاٹے گی تو اس کا ہاتھ یا پاؤں کٹایا چِرا ہوا ہو گا۔
3۔مغرب کے
وقت راستے میں نہیں بیٹھنا چاہئے کیونکہ بلائیں گزر رہی ہوتی ہیں۔
4۔مہمان کی
رخصتی کے بعد گھر میں جھاڑو دینے کو منحوس خیال کرتے ہیں۔
5۔نئی نویلی
دلہن کے گھر آنے پر کوئی شخص فوت ہو جائے یا کسی عورت کے یہاں اگر بیٹیاں ہی پیدا ہوں تو اس
پر منحوس ہونے کا لیبل لگ جاتا ہے۔( بد شگونی کے ص 15، 16،17 ماخوذا)
اہم نکات:
٭بدشگونی
انسان کے لئے دینی اور دنیوی دونوں اعتبار سے بے حد خطرناک ہے، بدشگونی سے ایمان بھی ضائع ہو سکتا ہے۔
٭دورَ حاضر میں بھی غلط سلط اعتقادات، توھمات اور ناجائز
رسومات زور پکڑتی چلی جارہی ہیں، جن کا
تعلق بدشگونی سے بھی ہوتا ہے، مثلاً ماہِ
صفر کو منحوس جاننا، چھینک کو منحوس جاننا،
ستاروں کے اثرات کا یقین کر لینا، مسلسل بیٹیوں کی پیدائش کو منحوس سمجھنا، گھر میں پپیتا کے درخت لگانے کو منحوس سمجھنا، شوال یا مخصوص تاریخوں میں شادی کو منحوس سمجھنا،
عورت گھر اور گھوڑے کو منحوس سمجھنا وغیرہ۔
٭اسلامی عقائد کی معلومات حاصل کرکے اللہ پاک پر سچا توکل
کرکے، بدشگونی کے تقاضے پر عمل نہ کرکے
اور مختلف وظائف کے ذریعے بدشگونی کا علاج کیا جا سکتا ہے۔اللہ پاک ہمیں بدشگونی جیسی
آفت سے محفوظ فرمائے۔آمین
عورتوں میں پائی جانے والی 5 بد شگونیاں
عورتوں
میں بہت ساری بدشگونیاں پائی جاتی ہیں جن میں سے چند یہ ہیں:
1. اگر کوئی شخص سفر
کے ارادے سے گھر سے نکلا اور راستے میں کالی بلی راستہ کاٹ کر گزر گئی اب اس شخص
نے یہ یقین کر لیا کہ اس کی نحوست کی وجہ سے مجھے سفر میں کوئی نقصان اٹھانا پڑے
گا تو وہ سفر کرنے سے رک جاتا ہے ۔
2. ہمارے معاشرے میں
جہالت کی وجہ سے رواج پانے والی خرابیوں میں سے ایک بد شگونی یہ بھی عورتوں میں
پائی جاتی ہے کہ کبھی ایمبولینس(Ambulance)کی آواز سے تو کبھی
فائر بریگیڈ (fire brigade)کی آواز سے
بدشگونی لیتی ہیں ۔
3. جوتے اتارتے
وقت جوتے پر جوتا آنے سے بد شگونی لیتی
ہیں کہ یہ جوتا کہیں دور لے جائے گا ۔
4. کبھی بلی کے رونے
اور کتے کے رونے کو منحوس جانتی ہیں ۔بدشگونی لیتی ہیں کہ بلی جس گھر کے پاس یا
چھت پر روئے اس گھر میں فوتگی ہو جاتی ہے ۔( استغفرُاللہ)
نئی نویلی دلہن کے آنے پر اگر خاندان
میں کوئی فوت ہو جائے تو دلہن کو منحوس قرار دیتے ہیں کہ اس کے آنے کی وجہ سے
ہمارے گھر فوتگی ہو گئی حالانکہ اس میں بدشگونی کے علاوہ دلہن کی دل
آزاری بھی ہے اور بدشگونی بھی حرام اور کسی مسلمان کا دل دکھانا بھی گناہ ہے۔(ماخوذ از رسالہ بد شگونی ، 15، 16، 17)
عورتوں
میں پائی جانے والی 5 بدشگونیاں
ہمارے
معاشرے میں جہالت کی وجہ سے رواج پانے والی خرابیوں میں ایک بَدشگونی بھی
ہےجس کو بد فالی بھی کہا جاتا ہے ۔
شیخُ الاسلام شہابُ الدّین امام احمد بن حجر مکی ہیتمی شافعی رحمۃُ اللہِ علیہ اپنی کتاب” اَلزَّوَاجِرُ عَن اقْتِرَافِ الْکَبَائِر “ میں بَدشگونی کے بارے میں دو حدیثیں نَقْل
کرنے کے بعد لکھتے ہیں : پہلی اور دوسری حدیثِ پاک کے ظاہِری معنی کی وجہ سے
بَدفالی کو گناہِ کبیرہ شمار کیا جاتا ہے اور مناسب بھی یہی ہے کہ یہ حکم اس شخص
کے بارے میں ہو جو بَدفالی کی تاثیر کا اِعتقاد رکھتا ہو جبکہ ایسے لوگوں
کے اسلام(یعنی
مسلمان ہونے نہ ہونے)میں
کلام ہے۔(الزواجر عن اقتراف الکبار ، باب السفر ، 1 / 326)
اس کی بنیادی طور پردو قسمیں ہیں : (1) بُرا شگون (2) اچھا شگون
فی زمانہ آج کی ماڈرن سوسائٹی کی خواتین میں بھی یہ عمل پایا جاتا ہے جو کہ
نری جہالت ہے یا یوں کہا جائے کہ بَدشگونی
لینا عالَمی بیماری ہے ، مختلف ممالک میں رہنے والے مختلف لوگ مختلف چیزوں
سے ایسی ایسی بَدشگونیا ں لیتے ہیں کہ انسان سُن کر حیران رہ
جاتا ہے صد افسوس اس میں سر فہرست خواتین ہوتی ہیں جو انتہا کی حد تک ان سب پر یقین
رکھتی ہیں ۔
1. قینچی چلانے سے گھر میں لڑائی ہوتی ہے۔
2. دودھ ابل پڑا مصیبت آجائےگی کانچ ٹوٹ جانا ۔
3. جوتا اُتارتے وَقْت جوتے پر جوتا آنے سے بَدشگونی لیتے ہیں
۔
4. کبھی کسی وَقْت یا دن یا مہینے سے بَدفالی لیتے ہیں ۔
5. مُرغادن کے وَقْت اذان دے تو بَدفالی میں مبتلا ہوجاتے۔
6. جوانی میں بیوہ ہوجانے والی عورت کو منحوس جانتے ہیں۔
7. بیوہ کا سایہ نئی بیاہی دلہن کے لئے منحوس جاننا ،یہ بڑی
جہالت بہت سے مواقع پر بیوہ خواتین کی دل آزاری کا سبب بنتی ہے ۔
ابھی یہ ہی نہیں بلکہ کچھ لوگ ایمان کمزور ہونے کی اس حد تک جاتے ہیں کہ قرآن
مجید کا کوئی بھی صفحہ کھول کر سب سے پہلی آیت کے ترجمہ سے اپنے کام کے بارے میں
خودساختہ مفہوم اَخذکرکے فال نکالتے ہیں اس طرح کی فال نکالنا بھی ناجائز
ہے۔ حدیقہ ندیہ میں ہے : قرآنی فال ، فالِ دانیال اور اس طرح کی دیگر فال جو فی
زمانہ نکالی جاتی ہیں نیک فالی میں نہیں آتیں بلکہ ناجائز ہیں (حدیقہ ندیہ شرح طریقہ محمدیہ ، 2 / 26ملخصًا) قرآن پاک سے بَدشگونی لینا مکروہِ تحریمی ہے۔
حدیث شریف میں
بدشگونی کے عقیدے کی تردید فرمائی گئی ہے۔
بَدشگونی لینا حرام اور نیک فال یا اچھا شگون لینا مُسْتَحَب ہے۔(الطریقۃ المحمدیۃ ، 2 / 17 ، 24)
چنانچہ اگر کسی نے بَدشگونی کا دل میں خیال آتے ہی اسے جھٹک دیا تو اس پر کچھ برا
نہیں لیکن اگر اس نے بَدشگونی کے خوف سےاس کا اِعتقاد رکھا اور اِسی اعتقاد
کی بنا پر اس کام سے رُک گیا تو اب گناہ گار ہوگا اور کسی چیز کو منحوس سمجھ کر
سفر یا کاروبار کرنے سے یہ سوچ کر رُک گیا کہ اب مجھے نقصان ہی ہوگاتو اب گنہگار
ہوگا۔
ایسے ہی کچھ لوگ مہینوں کو منحوس جانتے ہیں اس میں بھی خواتین کی من گھڑت کہانیاں
کہ اس مہینے پیدا ہونے والا بچہ منحوس ہو گا شادی نہیں کرنی چاہئے وغیرہ وغیرہ جبکہ
تمام دن اور وقت اللہ پاک کے بنائے ہوئے ہیں اور ان میں بندوں کے اعمال واقع ہوتے
ہیں۔ جس وَقْت میں بندۂ مومن اللہ پاک کی اطاعت وبندگی میں مصروف ہو
وہ وَقْت مبارک ہے اور جس وَقْت میں اللہ پاک کی نافرمانی کے کام کرےوہ وَقْت اس
کے لئے منحوس ہے۔ درحقیقت اصل نُحوست کسی دن یا وقت میں نہیں بلکہ گناہوں
میں ہے۔ سب سے بڑی
نحوست انسان کی اپنی بد اعمالیاں اور فسق و فجور ہے۔
قرآن میں
ارشاد ہے:
مَاۤ اَصَابَكَ مِنْ حَسَنَةٍ فَمِنَ اللّٰهِ٘-وَ مَاۤ اَصَابَكَ مِنْ سَیِّئَةٍ
فَمِنْ نَّفْسِكَؕ (پ 5، النساء: 79)
ترجمہ کنز
الایمان: اے سننے والے تجھے جو بھلائی پہنچے وہ اللہ کی طرف سے ہے اور جو برائی پہنچے وہ تیری اپنی طرف سے ہے۔
کچھ لوگ
چھینک آنے کو بھی برا جانتے ہیں ، علامہ عبدالمصطَفٰے اعظمی رحمۃُ اللہِ علیہ لکھتے
ہیں : اب غور کرو کہ جب چھینک کورسولُ اللہ صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم نے ’’ شاہد عدل(یعنی عادل گواہ) ‘‘ کا لقب دیا تو پھر بھلا چھینک منحوس اور بَدشگونی کا
سامان کیسے بن سکتی ہے؟ اس لئے لوگوں کو اس عقیدہ سے توبہ کرنی چاہئے کہ چھینک
منحوس اور بَدفالی کی چیز ہے۔ (جنتی زیور ،ص 431) خداوندِ کریم مسلمانوں کو اتباعِ سنت اور پابندی شریعت کی
توفیق بخشے آمین۔
Dawateislami