عورتوں میں پائی جانے والی
5 بد شگونیاں از بنت شفیق احمد
(جامعۃ المدینہ للبنات تاجپورہ لاہور)
عورتوں
میں پائی جانے والی 5 بد شگونیاں
بد شگونی لینا عالمی بیماری ہے، مختلف ممالک میں رہنے والے مختلف لوگ مختلف
چیزوں سے ایسی ایسی بد شگونیاں لیتے ہیں کہ انسان سن کر حیران رہ جاتا ہے۔
حدیث مبارکہ میں ہے کہ” لَیسَ مِنَّا مَن تَطَیَّرَ وَلَا
تُطُیِّرَ لَہ “ یعنی جس نے بد شگونی لی اور جس کیلیے بد شگونی لی گئی وہ
ہم میں سے نہیں ۔
شگون:شگون کا معنی ہے ” فال لینا “ یعنی کسی چیز، شخص، عمل، آواز، وقت کو اپنے حق
میں اچھا یا برا سمجھنا۔
شگون کی اقسام :اس کی بنیادی طور پر دو قسمیں ہی: (1)برا شگون لینا۔(2)اچھا شگون لینا۔
علامہ قرطبی رحمۃُ اللہِ علیہ اپنی تفسیر قرطبی
میں نقل کرتے ہیں اچھا شگون یہ ہے کہ جس
کام کا ارادہ کیا ہو اس کے بارے میں کوئی کلام سن کر دلیل پکڑنا، یہ اس وقت ہے جب
کلام اچھا ہو، اگر برا ہو تو بدشگونی ہے۔( بدشگونی، ص 10)
حکم :امام محمد آفندی رومی برکلی رحمۃُ اللہِ علیہ الطریقۃُ المحمدیۃ
میں لکھتے ہیں : بد شگونی لینا حرام اور نیک فال یا اچھا شگون لینا مستحب
ہے۔مفتی احمد یار خان رحمۃُ
اللہِ علیہلکھتے ہیں :
اسلام میں نیک فال لینا جائز ہے اور بدفالی لینا حرام ہے۔( بد شگونی ،ص 12)
عورتوں
میں پائی جانے والی 5 بد شگونیاں
1. ماہِ صفر کو منحوس جاننا:نحوست کے وہمی تصورات کے شکار لوگ
ماہِ صفر کو مصیبتوں کے اترنے کا مہینہ سمجھتے ہیں خصوصاً اسکی ابتدائی 13 تاریخیں
جن کو ” تیرہ تیزی “ کہا جاتا ہے کو بہت
منحوس تصور کیا جاتا ہے۔حدیثِ پاک میں ہے: لَا
صَفَرَیعنی صفر کچھ
نہیں۔( بدشگونی، ص55)
2. شوال میں شادی نہ کرنا:شریعت نے کسی موسم یا مہینے میں نکاح
کرنے سے منع نہیں کیا لیکن کچھ نادان لوگ مخصوص دنوں اور مہینوں میں شادی کرنےکو
منحوس سمجھتے ہیں، ان کو یہ وہم ہوتا ہے کہ ان دنوں جو شادیاں ہوتی ہیں ان سے میاں
بیوی کے تعلقات اچھے نہیں ہوتے اور ان میں وہ الفت اور محبت نہیں ہوتی جو ہونی
چاہئے ،کچھ علاقوں میں شوال کو بھی انہی مہینوں میں شمار کیا جاتا ہے ۔
اس بات کے رد پر دلیل یہ ہے کہ حضرت عائشہ رضی اللہُ عنہا نے فرمایا: پیارے نبی کریم صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم نے مجھ سے نکاح بھی شوال میں کیا اور زفاف بھی، تو آپ صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم کی کون سی بیوی مجھ سے زیادہ محبوب تھی۔مراۃُ المناجیح میں
ہے:مقصد یہ ہے کہ میرا نکاح بھی شوال میں ہوا اور رخصتی بھی اور میں تمام ازواج
میں رسولُ اللہ صلی اللہ
علیہ واٰلہٖ وسلم کو زیادہ
محبوب تھی، اگر یہ نکاح اور رخصتی مبارک نہ ہوتی تو میں اتنی محبوب کیوں ہوتی۔
علمائے کرام فرماتے ہیں:کہ شوال میں شادی مستحب ہے۔( بد شگونی، ص 61،62)
3. لڑکیوں کی پیدائش:بیٹاہو یا بیٹی، انسان کو اللہ تعالیٰ کا
شکر ادا کرنا چاہیے بیٹا اللہ کی نعمت اور بیٹی اللہ کی رحمت ہے مگر بعض نادان لوگ
تلے اوپر بیٹیاں ہونے کی صورت میں ان کی امی کو طرح طرح کے طعنے، طلاق کی دھمکی دیتے
ہیں بلکہ بسا اوقات اس دھمکی کوعملی تعبیر بھی دے دی جاتی ہے اور اس پر یہ بھی ظلم
کہ بیٹیوں کو ہی منحوس قرار دے دیا جاتا ہے۔ امام احمد رضا خان رحمۃُ اللہِ علیہ سے سوال ہوا:کیا
فرماتے ہیں علمائے کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ زید کےتیسری لڑکی ہوئی، اس سے
نہایت پریشان ہے، اکثر لوگ کہتے ہیں کہ تیسری لڑکی اچھی نہیں ہوتی تیسرا لڑکا اچھا
اور نصیب والا ہوتا ہے زید نے ایک صاحب سے دریافت کیا انہوں نے فرمایا کہ یہ سب
باتیں عورتوں کی بنائی ہوئی ہیں اگر تم کو وہم ہو تو صدقات کردو، اور 1 گائےیا 7
بکریاں قربانی کردواور توشہ شہنشاہ بغداد کردو اللہ بتصدق سرکار غوثیت ہر بلا سے
محفوظ رکھے گا۔
اعلیٰ حضرت نے
جواب دیا:یہ محض باطل اور زنانےاوہام اورخیالات شیطانیہ ہیں ان کی پیروی حرام ہے۔تصدق
اور توشہ سرکار ابد قرار بہت اچھی بات ہے مگراس نیت سے کہ اس کی نحوست دفع ہو جائے
جا ئز نہیں کہ اس میں اس کی نحوست مان لینا ہوا اور یہ شیطان کا ڈالا ہوا وہم تسلیم کر لینا
ہوا۔( بد شگونی،ص72)
حدیثِ پاک میں ہے
:بیٹیوں کو برا مت کہو، میں بھی بیٹیوں والا ہوں، بےشک بیٹیاں تو محبت کرنے والی،
غمگسار اور بہت زیادہ مہربان ہوتی ہیں۔ (بد شگونی، ص74)
4. کالی بلی اور بلی کا رونا:لوگوں کا رات کے وقت بلی کے رونے
یا کتے کے رونے کواور کالی بلی کے راستے کو کاٹ جانے کو منحوس سمجھنا۔(بدشگونی، ص 16)
5. گرہن سے جڑےتوہمات:گرہن کے وقت حاملہ عورت کو کمرے کے اندر
رہنےاور سبزی وغیرہ نہ کاٹنے کی ہدایت کرنا کہ بچہ کسی پیدائشی نقص کے بغیر پیدا
ہو۔یونہی گرہن کے وقت حاملہ عورت کو سلا ئی سے منع کرنا کہ اس سے بچے کے جسم پر
غلط اثر پڑتا ہے۔
مغربی ملک میں رہنے والی دنیاوی تعلیم یافتہ خاتون سورج
گرہن سے چند زور پہلے سخت پریشان تھی کیونکہ ان کے ہاں پہلے بچہ کی ولادت ہونے
والی تھی اور اس سے محض چند روز قبل بچے پر سورج گرہن کے ممکنہ اثرات کا خوف اس
تشویش میں مبتلا کئے ہوئے تھا کہ اس نے اپنے ڈاکٹر کو محض یہ پوچھنے کے لیے فون کیا
کہ آیا بچے کو سورج گرہن کے مضر اثرات سے محفوظ رکھنا اس کی ولادت سے پہلے ممکن
ہے؟ ڈاکٹر نے اسے دلاسا دیتے ہوئے سمجھایا کہ اسے پریشان ہونے کی ضرورت نہیں اور
گرہن کے اثرات کی حقیقت توہمات سے زیادہ نہیں ہے۔(بد شگونی ص، 79)
عورتوں میں پائی جانے والی
5 بد شگونیاں از بنت محمد زمان (بریڈ
فورڈ یوکے)
عورتوں
میں پائی جانے والی 5 بدشگونیاں
اسلام نے اپنی آمد کے ساتھ ہی عقائد کی اصلاح کے ساتھ ساتھ انسانوں کو صرف
اللہ پاک کے خیر و شر اور نفع و نقصان کے مالک ہونے کی بھی آگاہی دی۔ دور جہالت
میں لوگ شرک و کفر کے ساتھ توہمات میں بھی پھنسے ہوئے تھے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم نے ایسے وقت میں انسانوں کو اسلام کی پیاری تعلیمات سے
نوازا، عقیدہ توحید کی عظمت دل و دماغ میں راسخ کی اور تمام بدعقیدگیوں سے ہٹا کر
صرف اللہ پاک کی مبارک ذات کے ساتھ
جوڑا۔ اسلام سے پہلے لوگ طرح طرح کی خرافات میں مبتلا تھے جن میں بدشگونی لینا اور
فال نکالنا بھی شامل تھا۔ اسلام نے ان تمام بدعقیدگیوں کا خاتمہ کیا اور
اپنی خوبصورت تعلیمات سے نوازا جن میں کسی بھی قسم کی بدشگونی اور وہم کی گنجائش
نہیں ہے۔
شگون کے لغوی معنی فال لینا ہے یعنی کسی بھی جاندار اور بے جان چیز کو اپنے حق
میں اچھا یا بُرا سمجھنا۔ اس کی دو اقسام ہیں ایک بد شگون لینا اور دوسری اچھا
شگون لینا۔ علامہ محمد بن احمد انصاری قُرطبی رحمۃُ اللہِ علیہ تفسیر قُرطبی میں فرماتے ہیں کہ اچھا شگون یہ ہے کہ جس کام
کا ارادہ ہو اُس کے بارے میں کوئی بات سُن کر دلیل پکڑنا جبکہ بات اچھی ہو۔ شریعت
نے اس بات کا حکم دیا ہے کہ انسان اچھا شگون لے کر خوش ہو اور اپنا کام مکمل کرے
اور اگر کوئی بُری بات سُنے تو اس طرف توجہ نہ دے۔
بدشگونی لینا شرعاً منع ہے جبکہ اچھا شگون لینا مستحب ہے۔ بدشگونی اور نیک فال
میں یہی بنیادی فرق ہے۔ نیک فال لینا ہمارے نبی کریم صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم کی سنت ہے اور اس سے دل کو سکون اور خوشی حاصل ہوتی ہے۔
مراۃُ المناجیح میں ہے کہ نیک فال لینے میں اللہ پاک سے امید ہے اور بدشگونی لینا
منع ہے کیونکہ اس میں اللہ پاک سے نااُمیدی ہے۔ اُمید اچھی ہے اور نااُمیدی بری،
ہمیشہ اپنے رَب سے اُمید رکھو۔ (مراۃُ المناجیح،
6/255)
زمانۂ جاہلیت کی بدعقیدگیاں آج بھی ہمارے معاشرے میں موجود ہیں جس کی وجہ
قرآن و سنت کی صحیح تعلیمات سے دوری اور ناواقفیت ہے۔ خصوصاً عورتوں میں آج بھی
عجیب قسم کی توہُّم پرستیاں پائی جاتی ہیں جس کی وجہ سے وہ بے دینی کا شکار ہیں۔
بعض عورتیں بہت سی اچھی چیزوں کو بھی برا سمجھتی ہیں۔ عورتوں میں پائی جانے والی
چند بد شگونیاں حسبِ ذیل ہیں:
1. اکثر عورتیں بدھ کے دن کو برا سمجھتی ہیں۔
2. بعض عورتیں کہتی ہیں کہ جس دن گھر میں کوا بولے اُس دن
مہمان لازمی آتے ہیں۔
3. بعض عورتیں مانتی ہیں کہ کسی کو سیدھا جھاڑو مارا تو اُس کا
جسم سوکھ جائے گا۔
4. صبح سویرے جھگڑا ہوا یا کوئی زخم پہنچا تو شام تک ایسے ہی
نقصان پہنچتا رہے گا۔
5. سیدھی آنکھ پھڑکنا کسی مصیبت کے آنے کی دلیل سمجھی جاتی ہے۔
یہ اور اس طرح کی دیگر بد عقیدگیوں کا
خاتمہ بہت ضروری ہے ورنہ ایمان کی جڑیں کھوکھلی ہو جائیں گی۔
مضمون:عورتوں میں پائی جانے والی 5 بدشگونیاں
کسی
شخص،جگہ،چیز یا وقت کو منحوس جاننے کا اسلام میں کوئی تصور نہیں ہے۔یہ محض وہمی
خیالات ہوتے ہیں۔چنانچہ حدیث پاک ہے۔
رسول اکرم،نور
مجسم صلی اللہ علیہ
والہ وسلم نے ارشاد فرمایا:
اچھا یا برا شگون لینے کے لیے پرندہ اڑانا،بدشگونی لینا اور طرق(یعنی کنکر پھینک کر یا ریت میں لکیر کھینچ کر فال نکالنا) شیطانی کاموں میں سے ہے۔ (ابوداود،کتاب الطب،باب فی الخط وزجرالطیرع 4\22 حدیث،3907)
مفسر شہیر
حکیم امت حضرت مفتی احمد یار خان رحمۃاللہ علیہ لکھتے ہیں:اسلام
میں نیک فال لینا جائز ہے، بدفالی،بدشگونی لینا حرام ہے۔ (تفسیر نعیمی،9\119)
شگون کا معنی ہے فال لینا یعنی کسی چیز،شخص،عمل
،آواز یا وقت کو اپنے حق میں اچھا یا برا سمجھنا۔اگر اچھا سمجھا تو اچھا شگون یا
نیک فال ہے اور اگر برا سمجھا تو بدشگونی ہے۔
نیک فال لینا مستحب ہے جبکہ بدفالی یا بدشگونی
لینا شیطانی کام ہے۔
زندگی کے
بہت سے معاملات میں عورتیں بہت سے کاموں میں بدشگونی کا شکار ہوتی ہیں جن میں سے 5
بدشگونیاں درج ذیل ہیں جو عورتوں میں بکثرت پائی جاتی ہیں۔
1:- دلہن
کا چھت پر جانا:-
شادی کے قریب وقت میں دلہن کو چھت پر بلکل
نہیں جانے دیا جاتا یہ سمجھا جاتا ہے کہ چھت پر جانے سے دلہن کو آفات اور بلاؤں کا
سامنا کرنا پڑے گا۔
2:- خالی
قینچی چلانا:-
اکثر عورتیں یہ سمجھتی کہ اگر کسی نے
خالی قینچی چلائی تو گھر میں جھگڑا ہو گا یا جس نے خالی قینچی چلائی وہ ضرور کسی
سے لڑائی کریں گی۔
3:- سورج
گرہن کو منحوس سمجھنا:-
سورج گرہن کے وقت حاملہ عورت چھری سے کوئی چیز نہ کاٹے کہ بچہ پیدا ہو گا تو
اس کا ہاتھ یا پاؤں کٹا یا چرا ہوا ہو گا۔
4:-خالی
جھولا نہ جھلاؤ:-
اس میں یہ تصور کیا جاتا ہے کہ نومولود بچے
کو نقصان ہو گا یا بچے کی پیدائش نہیں ہو گی۔
5:- چمچہ
یا ہنڈیا چاٹنا:-
یہ بھی تصور پایا جاتا ہے کہ اگر لڑکی چمچہ
یا ہنڈیا چاٹ لے تو اس کی شادی پر ضرور بارش ہو گی یا اولے پڑیں گے۔
ایسی ھی اور بھی بہت سی بدشگونیاں ہمارے
معاشرے میں پائی جاتی ہیں جیسے:- بچوں کو جھاڑو سے نہ مارو کہ پتلا ھو جائے گا،
مہمان کی رخصتی کے بعد گھر میں جھاڑو دینے کو منحوس سمجھنا،آنکھ پھڑکنا کہ کوئی
مصیبت آئے گی،دودھ گر گیا تو کوئی پریشانی آئے گی،کسی اور کا کنگھا استعمال کرنے
سے دونوں میں جھگڑا ہوتا ہے، رات کو آئینہ دیکھنے سے چہرے پر جھریاں پڑتی ہیں،
مغرب کی اذان کے وقت تمام لائیٹیں روشن کر دینی چاہئیں ورنہ بلائیں اترتی ہیں
وغیرہ وغیرہ۔
یہ سب صرف وہمی خیالات ہوتے ہیں شریعت میں ان
چیزوں کی کوئی حقیقت نہیں۔کسی چیز کو منحوس قرار دینا مسلمانوں کا شیوہ نہیں یہ تو
غیر مسلموں کا طریقہ ہے۔ اچھا شگون لینے سے اللہ پاک کے رحم و کرم سے اچھائی اور
بھلائی کی امید ہوتی ہے جبکہ بدشگونی سے ناامیدی پیدا ہوتی ہے۔
دعوتِ
اسلامی کے شعبہ اصلاح
اعمال للبنات کے تحت گزشتہ دنوں شکارپور، سکھر کابینہ کے ڈویژن ریجنٹ اورسعودآباد
میں اصلاح اعمال اجتماعات کا انعقاد ہوا جس میں کابینہ تاعلاقائی سطح کی
ذمہ داراسلامی بہنوں نے شرکت کی۔
مبلغات
دعوتِ اسلامی نےاصلاح اعمال اجتماعات میں شریک اسلامی بہنوں کے درمیان سنتوں بھرا بیان کیا اور انہیں دعوت اسلامی کی دینی خدمات کےحوالےسےبتاتےہوئے
دینی کاموں میں شرکت کرنے کاذہن دیانیزرسالہ نیک اعمال کےذریعےاپنےاعمال کاجائزہ کرنے کی ترغیب دلائی جس پر اسلامی بہنوں نےرسالہ نیک اعمال کےذریعےاپنےاعمال کا جائزہ کرنےکی نیتوں
کااظہارکیا۔
عورتوں میں پائی جانے والی
5 بد شگونیاں از بنت شمیم
احمد عطاری(جامعۃ المدینہ فیض عطار)
معزز
قارئین! دینِ اسلام اپنے ماننے والوں کو ایسی زندگی گذارنے کا درس دیتا ہے جس میں
حقوق اللہ اور حقوق العباد دونوں کی پاسداری ہو. نیز ایک مسلمان کی ذاتی اور
معاشرتی زندگی کو بہتر بنانے کے حوالے سے بھی رہنمائی کرتا ہے. اسلام کی روشن
تعلیمات اور چمکتے اصولوں کا ایک بہترین پہلو یہ بھی ہے کہ اسلام میں کسی شخص،چیز،
جگہ یا وقت کو منحوس جاننے کا کوئی تصور نہیں یہ محض وہمی خیالات ہوتے ہیں۔
میرے آقا اعلی حضرت رحمۃُ
اللہِ علیہ نے ایک سوال کے
جواب میں ارشاد فرمایا:شرعِ مطہّر میں اس(بدشگونی) کی کچھ اصل نہیں،لوگوں کا وہم سامنے آتا ہے. شریعت میں حکم ہے: جب کوئی شگونِ
بد گمان میں آئے تو اس پر عمل نہ کرو۔ (بدشگونی،ص 8)
شگون کے
معنی ہے فال لینا یعنی کسی چیز، شخص، وقت وغیرہ کو اپنے حق میں اچھا یا برا
سمجھنا. اچھا سمجھا جائے تو اسے اچھا شگون لینا کہتے ہیں اور اگر برا سمجھا جائے تو اسے بدشگونی لینا کہتے ہیں.حدیثِ مبارکہ میں ہے: جس نے بدشگونی لی اور جس
کیلیے بدشگونی لی گئی وہ ہم میں سے نہیں۔ (المعجم الکبیر، 162/18، حدیث:355)دینِ اسلام میں بدشگونی لینا حرام ہے جبکہ نیک فال لینا
جائز و مستحب ہے۔
بدشگونی
لینے جیسی فضولیات میں اگر چہ مرد بھی پیچھے نہیں رہتے لیکن عموماً اس طرح کے
معاملات میں عورتیں آگے آگے ہوتی ہیں. عورتوں میں پائی جانے والی چند بدشگونیوں پر
نظر ڈالتے ہیں اور یہ بھی ذہن میں رکھیں کہ ان کی کوئی اصل نہیں:
1. اگر
شادی شدہ عورت الٹی چادر اوڑھ لے تو اس کی ساس مر جائے گی۔
2. سر کے
نیچے لگائے جانے والے تکیہ پر اگر کوئی پاؤں رکھ دے تو وہ تکیہ لگانے
والے کے سر میں درد ہوجائے گا۔
3. ایک
گلاس میں پانی تھا اور اس پر غلطی سے کسی کا پاؤں لگ گیا تو اس پانی کو ” ٹھوکر
لگا پانی “ کا نام دیا جائے گا اور اب اس پانی پینے والے کا گلا خراب ہوجائے گا۔
4. اگر
کسی گھر میں بلی روئے تو اس گھر میں کسی کی وفات ہوجائے گی۔
5. مریض
کی چارپائی پر کوئی شخص کُہنی (elbow) ٹکا کر نہ بیٹھے ورنہ مریض کی طبیعت مزید بگڑ جائے گی۔
اللہ پاک ہمیں اسلام کی تعلیمات پر عمل کرتے ہوئے ان فضولیات سے بچنے اور دوسروں کو بچانے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین یا ربَّ العالمین
عورتوں میں پائی جانے والی 5 بد شگونیاں از بنت طاہر محمود(جامعۃ المدینہ للبنات خوشبوئے
عطار، واہ کینٹ)
بد شگونی
کی تعریف:
شگون کا معنیٰ ہے ” فال لینا “ یعنی کسی چیز، شخص، عمل، آواز یا وقت کو اپنے حق میں اچھا یا بُرا
سمجھنا، اسی وجہ سے برا فال لینے کو
بدشگونی کہتے ہیں۔
شگون کی
قسمیں:
بنیادی
طور پر شگون کی دو قسمیں ہیں۔1۔برا شگون لینا، 2۔ اچھا شگون لینا۔
علامہ محمد
بن احمد الانصاری رحمۃُ
اللہِ علیہ نقل کرتے ہیں:اچھا
شگون یہ ہے کہ جس کام کا ارادہ کیا ہو، اس
کے بارے میں کوئی کلام اچھا ہو، اگر برا
ہو تو بدشگونی ہے، شریعت نے اس بات کا حکم
دیا ہے کہ انسان اچھا شگون لے کر خوش ہو اور اپنا کام خوشی خوشی پائے تکمیل تک
پہنچائے اور جب برا کام سنے تو اس کی طرف
توجہ نہ دے۔
اللہ پاک
قرآن پاک میں ارشاد فرماتا ہے: فَاِذَا جَآءَتْهُمُ الْحَسَنَةُ قَالُوْا
لَنَا هٰذِهٖ ۚوَ اِنْ تُصِبْهُمْ سَیِّئَةٌ یَّطَّیَّرُوْا بِمُوْسٰى وَ مَنْ مَّعَهٗ
ؕاَلَاۤ اِنَّمَا طٰٓىٕرُهُمْ عِنْدَ اللّٰهِ وَ لٰكِنَّ اَكْثَرَهُمْ لَا یَعْلَمُوْنَ(۱۳۱)
ترجمہ کنز
الایمان:تو جب انہیں بھلائی ملتی کہتے یہ ہمارے لیے ہے اور جب برائی پہنچتی تو موسی اور اس کے ساتھ والوں سے بدشگونی
لیتے سن لو ان کے نصیبہ(مُقَدَّر)
کی شامت تو اللہ کے
یہاں ہے لیکن ان میں اکثر کو خبر نہیں ۔(پ 9، اعراف:131)
مفتی احمد یار خان رحمۃُ اللہِ علیہ لکھتے ہیں:"جب
فرعونیوں پر کوئی مصیبت(قحط سالی
وغیرہ) آتی تھی تو حضرت
موسٰی علیہ السلام اور ان کے ساتھی مؤمنین سے بدشگونی لیتے تھے، کہتے تھے کہ جب سے یہ لوگ ہمارے ملک میں ظاہر
ہوئے ہیں، تب سے ہم پر مصیبتیں بلائیں آنے
لگیں۔"
حضور اکرم
صلی اللہ علیہ
واٰلہٖ وسلم نے ارشاد
فرمایا:جس نے بدشگونی لی اور جس کے لئے
بدشگونی لی گئی، وہ ہم میں سے نہیں۔
بد شگونی
کا حکم:
حضرت امام محمد آفندی رومی برکلی رحمۃُ اللہِ علیہ لکھتے ہیں:
بدشگونی لینا حرام اور نیک فال یااچھا شگون لینا مستحب ہے۔
میٹھی میٹھی
اسلامی بہنو! نہ چاہتے ہوئے بھی بعض اوقات انسان کے دل میں برے شگون کا خیال آ ہی
جاتا ہے، اس لئے کسی شخص کے دل میں بدشگونی
کا خیال آتے ہی اسے گناہگار قرار نہیں دیا جائے گا، کیونکہ محض دل میں برا خیال آ جانے کی بنا پر
سزا کا حقدار ٹھہرا نے کا مطلب کسی انسان پر اس کی طاقت سے زائد بوجھ ڈالنا ہے اور
یہ بات شرعی تقاضے کے خلاف ہے۔
بد شگونی
کے 5 اسباب و علاج :
1۔بدشگونی
کا پہلا سبب اسلامی عقائد سے لاعلمی ہے، اس کا علاج یہ ہے کہ انسان تقدیر پر ان
معنوں میں اعتقاد رکھے کہ ہر بھلائی اور برائی اللہ نے اپنے علمِ ازلی کے موافق
مقدر فرما دی ہے، جیسا ہونے والا تھا، جو
جیسا کرنے والا تھا، اپنے علم سے جانا اور
وہی لکھ دیا۔
2۔بد شگونی
کا سبب عورتوں میں توکل کی کمی ہے، اس کا
علاج یہ ہے کہ جب بھی کوئی بدشگونی دل میں آئے تو ربّ پر توکل کریں، اِنْ شَاء َاللہ
بدشگونی کا خیال دل سے جاتا رہے گا۔
3۔بدشگونی
کا تیسرا سبب بد فالی کی وجہ سے کام سے رُک جانا ہے، اس کا علاج یہ ہے کہ جب کسی کام میں بدفالی نکلے
تو اسے کرگزریں اور اپنے دل میں اس خیال
کو جگہ نہ دیجئے۔
4۔بد شگونی
کا چوتھا سبب اس کی ہلاکت خیزیوں اور نقصانات سے بے خبری ہے کہ بندہ جب کسی چیز کے
نقصان سے ہی باخبر نہیں ہے تو اس سے بچے گا کیسے؟ اس کا علاج یہ ہے کہ انسان
بدشگونی کی ہلاکتوں کو پڑھے، ان پر غور
کرے اور ان سے بچنے کی کوشش کرے۔
عورتوں میں
بدشگونی سے چند نقصانات:
بدشگونی دینی
و دنیاوی دونوں اعتبار سے خطرناک ہے، یہ
عورت کو وسوسوں کی دلدل میں اتار دیتی ہے، چنانچہ وہ ہر چھوٹی بڑی چیز سے ڈرنے لگتی ہے، وہ اپنی پرچھائی سے بھی خوف کھاتی ہے، اس وہم میں مبتلا ہوتی ہے کہ دنیا کی ساری بدبختی
و بدنصیبی اسی کے گرد جمع ہو چکی ہے اور دوسرے لوگ پُرسکون زندگی گزار رہے ہیں، ایسی عورتیں اپنے پیاروں کو بھی وہمی نگاہوں سے
دیکھتی ہیں، جس سے دل میں کُدورت(یعنی دشمنی) پیدا ہوتی ہے۔
٭بد شگونی
کی شکار عورتوں کا اللہ پاک پر اعتماد اور
توکل کمزور ہوجاتا ہے۔
٭اللہ پاک
کے بارے میں بدگمانی پیدا ہوتی ہے۔
٭تقدیر پر
ایمان کمزور ہو جاتا ہے۔
٭بدشگونی
کی شکار عورتوں کے لئے شیطانی وسوسوں کا دروازہ کھلتا ہے۔
٭بد شگونی
کی وجہ سے اگر رشتے توڑ دیئے جائیں تو آپس کی ناچاقیاں جنم لیتی ہیں۔
٭جو عورتیں
اپنے اوپر بدفالی کا دروازہ کھول لیتی ہیں، انہیں ہر چیز منحوس نظر آنے لگتی ہے۔
٭کسی کے
گھر پر کوئی اُلّو کی آواز سن لی تو اعلان کر دیتی ہے کہ اس گھر کا کوئی فرد مرنے
والا ہے۔
٭نئی دلہن
کے ہاتھ سے اگر کوئی چیزگر کر ٹوٹ جائے تو اسے منحوس قرار دیتی ہیں، اور بات بات پر اس کی دل آزاری کرتی ہیں۔
5۔بدشگونی
کا پانچواں سبب روز مرہ کے معمولات میں وظائف شامل نہ ہونا ہے، اس کا علاج اعلی حضرت، امام اہلسنت، پروانۂ شمع رسالت، مولانا شاہ امام احمد رضا خان کچھ یوں ارشاد
فرماتے ہیں:"بدشگونی کے خطرے، وسوسے
جب کبھی پیدا ہوں، ان کے واسطے قرآن کریم و حدیث شریف سے چند مختصر
نافع(فائدہ دینے والی)
دعائیں لکھتا ہوں،
انہیں ایک ایک بار آپ اور آپ کے گھر والے
پڑہیں، اگر دل پختہ ہوجائے اور وہ وہم
جاتا رہے تو بہتر، ورنہ جب وہ وسوسے پیدا
ہوں، تو ایک بار پڑھ لیں اور یقین کیجئے کہ اللہ اور رسول کے وعدے سچے اور شیطان ملعون کا ڈرانا جھوٹا، اللہ کی مدد سے وہ وہم ختم ہو جائے گا اور اصلاً
کبھی کسی طرح نقصان نہ پہنچے گا اور وہ دعایہ ہے:لَّنْ یُّصِیْبَنَاۤ
اِلَّا مَا كَتَبَ اللّٰهُ لَنَا ۚهُوَ مَوْلٰىنَا ۚوَ عَلَى اللّٰهِ فَلْیَتَوَكَّلِ
الْمُؤْمِنُوْنَ(۵۱)
ترجمہ کنز
الایمان: ہمیں نہ پہنچے گا
مگر جو اللہ نے ہمارے لیے لکھ دیا وہ ہمارا مولیٰ ہے اور مسلمانوں کو اللہ ہی پر بھروسہ
چاہیے۔(پ 10،
التوبہ:51)
حیدرآباد کابینہ
کے ڈویژن پریٹ آبادمیں ایک خاتون شخصیت کے گھر ایصال ثواب اجتماع
دعوتِ
اسلامی کے شعبہ رابطہ برائے شخصیات للبنات
کے تحت گزشتہ دنوں حیدرآباد کابینہ کے ڈویژن پریٹ آبادمیں ایک
خاتون شخصیت کے گھر ایصال ثواب اجتماع منعقد کیا گیا جس میں علاقے کی شخصیات اور دیگر اسلامی بہنوں نے
شرکت کی۔
ڈویژن مشاورت ذمہ دار اسلامی بہن نے صبر کے فضائل،
مقصد حیات اور وقت کی اہمیت و دعوت اسلامی کی دینی خدمات پر بیان کیا اور ایصال
ثواب اجتماع میں شریک اسلامی بہنوں کو ہفتہ وار سنتوں بھرے اجتماع
میں شرکت کرنےاور مدنی چینل دیکھنے کا ذہن
دیا۔آخر میں شخصیات کو رسائل بھی تحفے میں پیش کئے گئے ۔
دعوتِ
اسلامی کے فنانس ڈیپارٹمنٹ للبنات کے تحت گزشتہ دنوں حیدرآباد ریجن تھر زون ذمہ دار اسلامی بہن نے عمر کوٹ کابینہ میں مدنی مشورہ کیاجس
میں اِی- رسید استعمال کرنے کےحوالےسےاسلامی
بہنوں کی تربیت کی نیز انہیں شعبےکےتحت ہونےوالے ٹیسٹ دینے کاذہن دیا
اور شعبہ ذمہ داراسلامی بہنوں کی تربیت کی جس پر اسلامی بہنوں نے ٹیسٹ دینے کی نیتیں
پیش کیں ۔
دعوتِ
اسلامی کے شعبہ علاقائی دورہ للبنات کی جانب سے سکھر زون کی جیکب آباد کابینہ میں مدنی
مشورے کا انعقاد ہوا جس میں ریجن ذمہ دار اسلامی بہن نے علاقائی دورہ برائے نیکی کی
دعوت ،محفل نعت اوردینی حلقے کے نکات پر کلام
کیا اور ان شعبہ جات میں بہتری لانے کے لئے
ہدف دیئے جس میں ،کابینہ ، ڈویژن و علاقائی ذمہ داراسلامی بہنوں نے اچھی اچھی نیتوں کا اظہار
کیا ۔
مزید ذمہ داران کو مدنی قافلوں میں محارم کو سفر کروانے
کی ترغیب دلائی جس پر ذمہ داراسلامی بہنوں نے دینی کام ومدنی قافلوں کی کارکردگی کو
مزید احسن انداز میں کرنے کے لئےنیتیں پیش کیں۔
عورتوں میں پائی جانے والی
5 بد شگونیاں از بنت اصغر علی(جامعۃ
المدینہ شالیمار پارک)
عورتوں
میں پائی جانے والی 5 بد شگونیاں
رسول اللہ صلی اللہ
علیہ واٰلہٖ وسلم کا فرمانِ
عالیشان ہے:مجھ پردُرودپاک پڑھناپُل صراط پر نور ہے، جو روزِ جمعہ مجھ پر 80 بار درود پاک پڑھے، اُس کے اسّی سال کے گناہ معاف ہو جائیں گے۔ اسلام میں بدشگونی لینا جائز نہیں، بد فالی اور بدشگونی لینا حرام ہے، اسلام میں نیک شگون لینا جائز ہے، حضرت امام محمد آفندی رومی برکلی علیہ رحمۃُ اللہِ علیہ لکھتے ہیں: بدشگونی لینا حرام اور نیک فال یا اچھا شگون لینا
مستحب ہے۔
اچھا شگون یہ ہے جس کام کا ارادہ کیاہو، اس کے بارے میں کوئی کلام سُن کر دلیل پکڑنا، یہ اس وقت ہے، جب کلام اچھا ہو، اگر برا ہو تو بدشگونی ہے، شریعت نے اس بات کا حکم دیا ہے کہ انسان اچھا
شگون لے کر خوش ہواور اپنا کام خوشی خوشی پایہ تکمیل تک پہنچائے اور جب بُرا کلام
سنے تو اس کی طرف توجّہ نہ دے اور نہ ہی اس کے سبب سے کام سے رُکے۔
بدشگونی:
شگون کامعنی ہے"فال لینا"، یعنی کسی چیز ، شخص، عمل، آواز یا وقت کو اپنے حق میں اچھا یا بُرا
سمجھنا، (اسی وجہ سے بُرا
فال لینے کو بدشگونی کہتے ہیں۔)
مفہومِ حدیث:
حضور نبی
اکرم صلی اللہ علیہ
واٰلہٖ وسلم نے ارشاد
فرمایا:جس نے بدشگونی لی اور جس کے لئے بدشگونی لی گئی، وہ ہم میں سے نہیں۔
عورتوں میں
پائی جانے والی بدشگونیاں:
عام طور
پر عورتوں میں زیادہ بدشگونی لینے کا رجحان پایا جاتا ہے، مثلاً
1۔سامنے
سے کالی بلی گزر جائے تو کہتی ہیں کہ اب کام نہیں ہوگا یا نقصان اٹھانا پڑے گا۔
2۔اگر گھر
کی چھت یا دیوار پر کوّا بیٹھ کر بولے تو کہا جاتا ہے، آج گھر میں مہمان آئیں گے۔
3۔اگر نئی
نویلی دلہن سے کچھ ٹوٹ جائے تو اسے منحوس کہا جاتا ہے۔
4۔صبح سویرے
کام کرنے سے پہلے کوئی حادثہ پیش آئے تو
کہا جاتا ہے، آج کا دن بہت بُرا گزرے گا۔
5۔کسی
ملازم سے کوئی کام خراب ہو جائے تو اس کو منحوس قرار دے دیا جاتا ہے۔
6۔کسی کے
گھر یا گاؤں میں اُلّو بول پڑے تو کہتے ہیں، یہ گاؤں یا گھر ویران ہونے والے ہیں۔
عام طور پر پہلی دو بدشگونیاں زیادہ لی جاتی ہیں، بدشگونی لینا اسلام میں جائز ہی نہیں ہے، لہذا ہمیں اس سے بچنا چاہئے، اگر کسی کے دل میں کوئی بدشگونی آئے بھی، تو فوراً اس خیال کو دور کر دینا چاہئے، اوراد و وظائف کا معمول بنائیں، اللہ پر توکّل رکھیں،
اس بات پر یقین رکھیں کہ جو اللہ نے تقدیر میں لکھا ہے وہی ہوگا، بدشگونی کا اثر نہیں ہوگا، اسلامی عقائد پر اپنا اعتقاد رکھیں۔اللہ پاک ہمیں
بدشگونی سے بچنے کی توفیق عطا فرمائے اور اللہ پاک پر ہمارا توکّل مضبوط ہو۔آمین
بجاہ النبی الامین صلی اللہ
علیہ واٰلہٖ وسلم
مشہور مفکرِ اسلام، دانشور، ادیب، شاعراور درجنوں
کتابوں کے مصنف حضرت علامہ مولانا الحاج بدرالقادری
مصباحی صاحب کا ہالینڈ کے شہر DEEN HAAG میں انتقال ہوگیا۔ موصوف پچھلے
کئی روز سے علالت کے باعث ہالینڈ کے مقامی اسپتال میں زیرِ علاج تھے۔ کچھ روز قبل بھی حضرت کے انتقال کی جھوٹی خبر پھیلائی
گئی تھی لہٰذا اس بار مدرسہ رضویہ بدرالعلوم گھوسی مئو ہند نے اپنے مدرسے کے آفیشل لیٹر پیڈ کے ذریعے ان کے وصال کی خبر
کی تصدیق کی ہے۔
نمازِ جنازہ اور تدفین کے متعلق علامہ بدرالقادری صاحب کے بھتیجے مولانا محمد ارشد قادری صاحب (جامعہ
رضویہ بدرالعلوم مئو ہند)نے دعوتِ اسلامی
کے شب وروز کو بتایا کہ ابھی بدرالقادری صاحب کے جسدِ خاکی کو ہالینڈ سے ہند لانے کے لئے کاغذی اور قانونی کاروائیاں جاری ہیں، اس لئے
نمازِ جنازہ کاحتمی اعلان شام تک کیا جائے گا البتہ یہ کنفرم ہے کہ نمازِ جنازہ جامعہ
رضویہ بدرالعلوم قصبہ خاص گھوسی مئو ہند کے کمپاؤنڈ میں ادا کیا جائے گا جبکہ تدفین بھی
وہیں مدرسے کے احاطے میں عمل میں لائی جائے گی۔
علامہ بدرالقادری مصباحی صاحب دعوتِ اسلامی اور
بانیِ دعوتِ اسلامی سے بہت عقیدت رکھتے تھے، امیرِ اہلِ سنت کی منقبت ”مسلک کا تو
امام ہے الیاس قادری“ انہی کی لکھی ہوئی
ہے۔آپ کی ولادت 25 اکتوبر 1950ء کو سرزمینِ گھوسی ہند میں ہوئی۔دارالعلوم
اشرفیہ مصباح العلوم سے 10 شعبان المعظم 1389ھ مطابق 23 اکتوبر 1969ء کو فراغت
حاصل کی ۔فراغت کے بعد مختلف مدارس میں خدمات انجام دیں۔الجامعۃ الاشرفیہ میں شعبہ
نشرو اشاعت کے قیام کے بعد اس کے انچارج کی حیثیت سے تشریف لائے۔فروری 1976ء میں
جامعہ اشرفیہ کے دینی و علمی ترجمان ماہ نامہ اشرفیہ کی ادارت سنبھالی ۔بعد ازاں
ہالینڈ تشریف لے گئے ۔وہاں علمی و تبلیغی خدمات میں مصروف عمل رہے ۔موصوف ایک محقق
عالم دین ،مبلغ ،مصنف ،مولف ،ناقد،شاعر اور خطیب تھے۔
حضرت موصوف کا وصال اہلِ سنت کے لئے عظیم سانحہ ہے، دعوتِ
اسلامی کی مرکزی مجلس شوریٰ کے رکن مولانا
حاجی ابوماجد محمد شاہد عطاری مدنی اور
شعبہ دعوتِ اسلامی کے شب وروز کی ٹیم حضرت
کے تمام سوگواران سے تعزیت کا اظہار کرتی
ہے اور دعا گو ہے کہ اللہ پاک
ان کی نصف صدی پر محیط پُر خلوص دینی ،ملی،ادبی
اورتبلیغی خدمات کو قبول فرمائے، انہیں
جنّت میں بلند درجات عطا فرمائے۔اٰمِیْن بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْن صلَّی اللہ تعالٰی علیہ
واٰلہٖ وسلَّم (رپورٹ:محمدعمر فیاض مدنی، دعوتِ اسلامی کے شب
وروز)
حیدرآباد ریجن تھر زون کی کنری کابینہ کی ذمہ داراسلامی بہنوں کامدنی مشورہ
دعوت
اسلامی کے فنانس ڈیپارٹمنٹ کے تحت پچھلے
دنوں تھر زون کی کنری کابینہ کی ذمہ داراسلامی بہنوں کامدنی مشورہ ہوا جس میں حیدرآباد ریجن کی ذمہ دار اسلامی بہن نے تربیت کی۔ کتاب چندہ کرنے کی شرعی اور تنظیمی احتیاطیں کامطالعہ
کرنےکاذہن دیا نیز ای- رسید استعمال کرنے کا
طریقہ سمجھایا اور اسے استعمال کا ذہن دیا ۔مزید اسلامی بہنوں کی طرف سے
کئےجانےوالےسوالات کےجوابات دیئے۔
Dawateislami