درود پاک کی فضیلت:

فرمانِ مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم جس نے مجھ پر ایک بار درود پاک پڑھا اللہ عزوجل اس پر دس رحمتیں بھیجتا ہے۔

محمد کی محبت دین حق کی شرط اول ہے

اسی میں ہو اگر خامی تو سب کچھ نامکمل ہے

محمد محبت ہے سند آزاد ہونے کی

خدا کے دامن توحید میں آباد ہونے کی

تعظیم رسول اکرم اور صحابہ کرام:

جس بڑے سے محبت ہوتی ہے اس کی عظمت دل و دماغ پر چھا جاتی ہے پھر یہ چاہنے والا اپنے محبوب کی تعظیم اور اس کی عظمت کا کلمہ پڑھنے لگتا ہے، اسلام نے تو ہر بڑے کی تعظیم کا درس دیا ہے۔

جو ہمارے چھوٹے پر شِقت نہ کرنے اور ہمارے بڑے کی تعظیم نہ کرے تو وہ ہم میں سے نہیں ہے۔

اور نبی آخر الزمان حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم تو سارے بڑوں میں سب سے بڑے ہیں اور اتنے بڑے ہیں کہ آج تک اتنا بڑا پیدا نہیں ہوا ، اور نہ ہی پیدا ہوگا، اس لیے آپ کی تعظیم ہی سب سے بڑھ کر ہونی چاہیے۔

ایک مقام پرقرآن مجید نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی تعظم کرنے والوں کی کامر انی کا اس طرح اعلان کررہا ہے ۔

جو اس پر ایمان لائیں اور اس کی تعظیم کریں اور اسے مدد دیں اور اس نور کی پیروی کریں جو اس کے ساتھ اُترا وہی بامراد ہوئے۔(اعراف ۱۵۷)

یہ ارشادات ِ ربانی صحابہ کرام کے پیش نظر تھے اس لیے انہوں نے اپنےآقا صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کی ایسی تعظیم و توقیر کی کہ دنیا کے کسی شہنشاہ کی بھی اس طرح تعظیم نہ کیاجاسکی۔

صحابہ ٔکرام کی تعظیم و توقیر کا حال دیکھ کر صلح حدیبیہ کے موقع پر قریش کے نمائندہ عروہ بن مسعود نے جو ابھی ایمان نہ لائے تھے یہ تاثر پیش کیا تھا گویا یہ اپنے نہیں غیر کا تاثر ہے، آپ نے کہا: اے لوگو خدا کی قسم میں بادشاہوں کے دربار میں بھی پہنچتا ہوں، قیصر و کسریٰ اور نجاشی کی دربار میں بھی حاضر ہو چکا ہوں، خدا کی قسم کسی بادشاہ کی اتنی تعظیم میں نے نہیں دیکھی، جنتی تعظیم نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی ان کے اصحاب کرتے ہیں خدا کی قسم جب کبھی بھی کھنکار پھنکا ہے تو وہ اصحاب میں سے کسی نہ کسی کے ہاتھ میں گرا ہے، جسے انہوں نے اپنے منہ اور جسم پر مل لیا ہے جب وہ اپنے اصحا ب کو حكم دیتے تو وہ اس کی تعمیل کے لیے دوڑتے ہیں، اور جب وہ وضو کرتے ہیں تو ان کے وضو کے پانی کے لیے باہم جھگڑنے کی نوبت پہنچنے لگتی ہے اور جب کلام کرتے ہیں تو اصحاب ان کے سامنے اپنی آوازیں دھیمی کردیتے ہیں، اور از روئے تعظیم ان کی طرف تیز نگاہ نہیں کرتے۔(سیرت رسول عربی، 481)

یہ تھا صحابہ کرام کا اندازِ تعظیم و توفیق کا اجمالی خاکہ جسے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ایک بیگانے نے پیش کیا تھا ذیل میں چند ایسی مثالیں پیش کرنے کی سعادت حاصل کروں گی جس سے اندازہ لگ سکتا ہے کہ حضرات صحابہ کرام رضی اللہ عنہ کس کس طرح اپنے آقائے نامدار صلی اللہ علیہ وسلم کی تعظیم و توقیر بجالائے اور آپ کا ادب ملحوظ رکھتے تھے۔

حضرت اسامہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں بارگاہِ رسالت میں اس حال میں حاضر ہوا کہ صحابہ کرام آپ کے گرد اس طرح بیٹھے ہوئے تھے گویا ان کے سروں پر پر ندے بیٹھے ہوئے ہیں یعنی وہ اپنے سروں کو حرکت نہیں دے رہے تھے، کیونکہ پرندہ اس جگہ بیٹھتا ہے جوساکن ہے۔(صحابہ کر ام کا عشقِ رسول ، ۳۰)

۲۔ حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ صحابہ کرام (ادب کی وجہ سے ) رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے دروازوں کو ناخون سے کھٹکھٹایا کر تے تھے۔(سیرت رسول عربی، 482)

۳۔ حضرت حذیفہ فرماتے ہیں کہ جب ہمرسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ شریک طعام ہوتے تو ہم طعام میں ہاتھ نہ ڈالتے یہاں تک کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم پہلے شروع فرماتے اور اپنا دست مبارک اس میں ڈالتے۔(سیرتِ رسول عربی، 490)

آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم تعظیم و توقیر جس طرح آپ کی حیات دنیوی میں واجب تھی اسی طرح ظاہری حیات شریف کے بعد بھی واجب ہے، سلف و خلف کا یہی طریقہ رہا ہے ، ذیل میں چند واقعات بغرض تو ضیح درج کی جاتی ہیں۔

۱۔ حضرت اسحق نجیبی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ حضور صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کے وصال مبارک کے بعد جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا ذکر آتا تو صحابہ کرام خشوع و انکسار ظاہر کرتے ان کے بدن کے رونکٹھے کھڑے ہوجاتے اور وہ حضور کے فراق اوراشتیاق میں رویا کرتے یہی حال بہت تابعین کا تھا۔(سیرتِ رسول عربی، 490)

۳۔ امام مالک فرماتے ہیں کہ میں ایوب سختیانی ، محمد بن منکر ، امام جعفر صادق، عبدالر حمن بن قاسم بن محمد بن ابی بکر صدیق ، عامر بن عبداللہ بن زبیر صفوان بن سلیمان اور امام محمد بن مسلم زہری سے ملا ک کر تا تھا ، میں نے ان کا یہ حال دیکھا کہ جب رسول اللہ صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کا ذکر آتا تو ان کا رنگ زرد ہوجاتا۔(سیرت رسول عربی، 492)

شوق زیارت میں رویا کرتے بلکہ بعض تو بے خود ہوجایا کرتے۔

امام مالک نے اپنی تمام عمر مدینہ منورہ میں بسر کی ، پاس ادب کبھی مدینہ شر یف کے حرم کی حد میں بول و براز نہیں کیا۔(سیرتِ رسول عربی، 492)

حضرت احمد بن فضلو یہ بڑے غازی اور تیر انداز تھے انہوں نے جب سنا کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے کمان کو اپنے دستِ مبارک میں لیا ہے تو اس رو ز سےاد ب کی وجہ سے کبھی کمان کو بے وضو نہیں چھوا۔(سیرت ِ رسول عربی، 493)

آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی تعظیم میں سے ایک امر یہ ہے اور آپ کی حدیث شریف کی تعظیم کی جائے۔

اب یہاں چند واقعات پیش کیے جائیں گے جن سے پتہ چلے گا کہہ ہمارے اسلاف کا انداز کیا ہوتا تھا جب لوگ امام مالک کے پاس طالب ِ علم کے لیے آتے تو خادمہ دولت خانہ سے نکل کر ان سے دریافت کیا کرتی کہ حدیث مبارکہ کے لیے آئے ہو یا مسائل فقہ کے لیے اگر وہ کہتے کہ مسائل فقہ کے لیے تو امام موصوف فوراً نکل آتے اور اگر وہ کہتے ہم حدیث کے لیے آئے ہیں تو حضرت غسل کرکے خوشبو لگاتے پھر لباس میں تبدیلی کرکے نکلتے، آپ کے لیے ایک تخت بچھایا جاتا جس پر بیٹھ کر آپ روایت حدیث کرتے، اثنائے روایت میں مجلس میں عود جلایا جاتا ، یہ تخت صرف روایت حدیث کے لیے رکھا ہوا تھا، جب اما م موصوف سے اس کا سبب پوچھا گیا تو فرمایا میں چاہتا ہوں کہ اس طرح رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی حدیث کی تعظیم کروں۔(سیرتِ رسول عربی، 494)

حضرت ابن سیرین تابعی بعض وقت ہنس پڑتے، مگر جب ان کے پُاس رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی حدیث کا ذکر آتا تو ان پر خشوع طاری ہوجاتا۔(سیرتِ رسول عربی، 495)

حضرت قتادہ کی نسبت مروی ہے کہ جب وہ حدیث سنتے تو ان کو گرایا واضطراب لاحق ہوجاتا۔( سیرتِ رسول عربی،495)

کی محمد سے وفا تو نے تو ہم تیرے ہیں

یہ جہاں چیز ہے کا لوح و قلم تیرے ہیں

نوٹ: یہ مضامین نئے لکھاریوں کے ہیں۔حوالہ جات کی تفتیش و تصحیح کی ذمہ داری مؤلفین کی ہےادارہ اس کا ذمہ دار نہیں