نبیِ کریم صلی اللہ علیہ و الہ وسلم کے اوپر دین کا کا مل اور تمام ہونا، اس بات کو مستلزم ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم آخری نبی ہیں، کیونکہ آپ کے بعد کسی اور نبی کا آنا اس وقت ممکن ہوتا، جب آپ کے دین اور آپ کی شریعت میں کوئی کمی ہوتی، جس کمی کو بعد میں آنے والا نبی پورا کرتا اور جب آپ کا دین کامل اور تمام ہے اور اس کا نامکمل ہونا ممکن نہیں ہے تو آپ کے بعد کسی اور نبی کا آنا بھی ممکن ہی نہیں، قرآنِ پاک میں ارشادِ باری ہے:اَلْیَوْمَ اَكْمَلْتُ لَكُمْ دِیْنَكُمْ وَ اَتْمَمْتُ عَلَیْكُمْ نِعْمَتِیْ وَ رَضِیْتُ لَكُمُ الْاِسْلَامَ دِیْنًاؕ- ترجمہ کنز الایمان: آج میں نے تمہارے لیے تمہارا دین کامل کردیا اور تم پر اپنی نعمت پوری کردی اور تمہارے لیے اسلام کو دین پسند کیا۔( پ6، المائدہ:3)ایک اور مقام پر اللہ پاک فرماتا ہے:مَا كَانَ مُحَمَّدٌ اَبَاۤ اَحَدٍ مِّنْ رِّجَالِكُمْ وَ لٰكِنْ رَّسُوْلَ اللّٰهِ وَ خَاتَمَ النَّبِیّٖنَؕ-ترجمۂ کنز الایمان:محمد تمہارے مردوں میں کسی کے باپ نہیں، ہاں اللہ کے رسول ہیں اور سب نبیوں کے پچھلے۔(پ 22، الاحزاب:40)احادیثِ مبارکہ کی روشنی میں:1۔ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم نے فرمایا:میری مثال اور مجھ سے پہلے انبیائے کرام علیہم السلام کی مثال اس شخص کی طرح ہے، جس نے بہت حسین و جمیل گھر بنایا، مگر اس کے کونے میں ایک اینٹ کی جگہ چھوڑ دی، لوگ اس گھر کے گرد گھومنے لگے اور تعجب سے کہنے لگے:اس نے یہ اینٹ کیوں نہ رکھی؟ آپ نے فرمایا:میں (قصرِ نبوت کی) وہ اینٹ ہوں اور میں خاتم النبیین ہوں۔( بخاری،حدیث:3535)2۔حضرت سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم نے حضرت علی رضی اللہ عنہ سے فرمایا:تم میرے لئے ایسے ہو جیسے حضرت موسیٰعلیہ السلام کے لئے حضرت ہارون علیہ السلام تھے، مگر میرے بعد کوئی نبی نہیں ہوگا۔(بخاری، حدیث:4416)3۔حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں:رسول اللہ صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم نے فرمایا:بے شک رسالت اور نبوت منقطع ہو چکی ہے، پس میرے بعد کوئی نبی ہوگا، نہ رسول ہوگا۔(ترمذی، حدیث:2282)4۔حضرت قتادہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی کریم صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم نے فرمایا:میں پیدائش میں سب سے پہلا ہوں اور بعثت میں سب سے آخر۔(کنزالعمال، حدیث31916)5۔حضرت ابوذر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم نے فرمایا:اے ابو ذر! پہلے رسول آدم ہیں اور آخری رسول محمد صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم ہیں۔6۔حضرت عباس بن ساریہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں:رسول اللہ صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم نے فرمایا:بے شک میں اللہ پاک کے نزدیک خاتم النبیین تھا اور بے شک (اس وقت) آدم اپنی مٹی میں گندھے ہوئے تھے۔(مسنداحمد، جلد 4، صفحہ 127)7۔حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں:رسول اللہ صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم نے فرمایا:جب حضرت آدم علیہ السلام کو ہند میں اُتارا گیا تو وہ گھبرا گئے، پس جبرائیل علیہ السلام نے نازل ہوکر اذان دی: اللہُ اکبر اللہ ُاکبر، اشہد ان لا الہ الا اللہ دو دفعہ، اشہد ان محمد الرسول اللہ دو دفعہ، حضرت آدم علیہ السلام نے پوچھا :محمد صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم کون ہیں؟ حضرت جبرائیل علیہ السلام نے کہا:وہ آپ کی اولاد میں سے آخر الانبیاء ہیں۔(دمشق الکبیر، جلد 7، صفحہ 319، حدیث:1979)8۔حضرت ابوطفیل رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں:رسول اللہ صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم نے فرمایا:میرے ربّ کے پاس 10 نام ہیں، حضرت ابو طفیل رضی اللہ عنہ نے کہا: مجھے ان میں سے آٹھ یاد ہیں: محمد، احمد، ابو القاسم، الفاتح(نبوت کا افتتاح کرنے والا)، الخاتم(نبوت کو ختم کرنے والا)، العاقب(جس کے بعد کوئی نبی نہ آئے)، الحاشر، الماحی(شرک کو مٹانے والا)۔(دلائل النبوت لا بی نعیم، ج1، 61، حدیث:2)9۔حضرت ابنِ زمل رضی اللہ عنہ نے ایک خواب دیکھا، نبی کریم صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم نے اس خواب کی تعبیر بیان کرتے ہوئے فرمایا:رہی وہ اونٹنی جس کو تم نے خواب میں دیکھا اور یہ دیکھا کہ میں اس اونٹنی کو چلا رہا ہوں، تو اس سے مراد قیامت ہے، نہ میرے بعد کوئی نبی ہوگا اور نہ میری اُمّت کے بعد کوئی اُمّت ہوگی۔(دلائل النبوۃ، جلد 7، صفحہ 38)10۔حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ معراج کی ایک طویل حدیث روایت کرتے ہیں، اس میں مذکور ہے کہ مسجدِ اقصیٰ میں نبیوں نے حضرت جبرائیل علیہ السلام کے متعلق پوچھا تو انہوں نے کہا: ہذا محمد رسول اللہ خاتم النبیین۔یہ محمد رسول اللہ خاتم النبیین ہیں۔11۔حضرت نعمان بن بشیر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں:حضرت زید بن خارجہ انصاری رضی اللہ عنہ جب فوت ہوگئے تو ان پر جو کپڑا تھا، اس کے نیچے سے آواز آرہی تھی، لوگوں نے ان کے سینے اور چہرے سے کپڑا ہٹایا تو ان کے منہ سے آواز آرہی تھی:محمد رسول اللہ النبی الامی خاتم النبیین ہیں، ان کے بعد کوئی نبی نہیں ہے۔(رسائل ابنِ ابی الدنیا، جلد 3، ص388)