دعوتِ اسلامی کے تحت کراچی ساؤتھ زون 2 ماڑی پور کابینہ، کوئٹہ زون اور ہاکس بے میں یومِ دعوتِ اسلامی کے موقع سنتوں  بھرے اجتماعات کا انعقاد کیا گیا جن میں کم و بیش 150 اسلامی بہنوں نے شرکت کی۔

مبلغاتِ دعوت اسلامی نے سنتوں بھرے بیانات کئے جن میں امیرِ اہل سنّت دامت برکاتہم العالیہ کی 40 سالہ جدوجہد دعوت اسلامی کی کاوشوں اور FGRF کے متعلق بتایا نیزوہ اسلامی بہنیں جو پہلے دینی کام کرتی تھیں اَب نہیں کرتی انہیں دوبارہ دینی کاموں کی طرف آنے کا ذہن دیا۔ ساتھ ہی اسلامی بہنوں کو گھر درس دینے،مدنی مذاکرہ دیکھنےاور اصلاح اعمال کے رسالہ کو پُر کرنے کی ترغیب دلائی ۔


انسان کی فطرت ہے کہ حکایات و واقعات کے ضمن میں کی گئی نصیحتوں کو وہ  جلدی قبول کرتا ہے، قرآن پاک نے بھی کئی گزشتہ قوموں کی نافرمانیوں اور بُرے انجام کے واقعات بیان فرما کر ہمیں خبردار کیا ہے کہ ان جیسی نافرمانیوں کا اِرتکاب تم ہرگز نہ کرنا، کہیں ایسا نہ ہو کہ تم بھی ان کی طرح عذاب الہی میں گرفتار کر دیئے جاؤ۔

ان قوموں میں سے ایک حضرت شعیب علیہ السلام کی قوم بھی ہے، حضرت شعیب علیہ السلام کو دو قوموں کی طرف مبعوث کیا گیا۔ 1۔اہلِ مدین، 2۔اصحاب الایکہ

ایکہ مدین کے قریب ہی سر سبز جنگلوں اور مرغزاروں کے درمیان موجود ایک شہر تھا، یہ دونوں قومیں تجارت پیشہ تھیں اور دونوں ایک ہی طرح کی برائیوں میں مبتلا تھیں۔(سیرت الانبیاء، مطبوعہ مکتبہ المدینہ، صفحہ 521، 505 ، کچھ ترمیم کے ساتھ)

بالآخریہ دونوں قو میں بھی قہرِ الٰہی کا شکار ہو کر قیامت تک کے لئے نشانِ عبرت بنا دی گئیں، ان میں پائی جانے والی چند برائیاں درج ذیل ہیں:

1۔اللہ پاک کی وحدانیت کا انکار اور بتوں کی پوجا کرنا۔

2۔نعمتوں کی ناشکری کرنا۔

3۔ناپ تول میں کمی کرنا۔

4۔لوگوں کو ان کی چیزیں کم کرکے دینا۔

5۔قتل و غارت گری وغیرہ کے ذریعے زمین میں فساد پھیلانا۔

6۔ڈاکے ڈال کر لوگوں کا مال لوٹ لینا۔

7۔راستوں میں اس لئے بیٹھنا، تا کہ لوگوں کو اذیت دیں۔

8۔جس چیز کی طرف دیکھنا حلال نہیں، اسے دیکھنا۔

9۔غریبوں پر ظلم کرنا۔

10۔مسلمانوں کا مذاق اڑانا، نماز پڑھنے والوں اور اہلِ علم پر طنز کرنا۔

11۔مال ضائع کرنا۔

12۔غربت کی وجہ سے عار دلانا۔(سیرت الانبیاء، مطبوعہ مکتبہ المدینہ، صفحہ 507،508، کچھ ترمیم کے ساتھ)

آئیے اب ایک نظر اپنے معاشرے پر ڈالتے ہیں، وہ کونسی بُرائی ہے جو آج ہمارے معاشرے میں نہیں پائی جارہی، وہ کون سا گناہ ہے، جو آج بظاہر مسلمان کہلانے والے بھی بے باکی کے ساتھ کرتے نظر نہیں آتے، افسوس! ہم قران پڑھتے تو ہیں، لیکن ان واقعات سے عبرت حاصل نہیں کرتے، ہم نے قرآن کو اپنے گھر کی اَلماریوں کی زینت تو بنا رکھا ہے، لیکن اپنے دِلوں کو نورِ قرآن سے مُزیّن کرنا بھول گئے۔

درسِ قرآن گر ہم نے نہ بھلایا ہوتا

یہ زمانہ نہ زمانے نے دکھایا ہوتا


دعوتِ  اسلامی کےتحت دنیا بھر میں مساجد و مدارس کی تعمیرات کاسلسلہ جاری رہتا ہےاس حوالے سے جہلم کابینہ میں ایک زیر تعمیر اور تین تعمیر شدہ مدارس المدینہ و جامعات المدینہ گرلز کا اسلام آباد ریجن نگران اسلامی بہن نے وزٹ کیا۔ جامعۃ المدینہ گرلز کی ناظمہ اعلیٰ اور کابینہ مشاورت سے ان بلڈنگز میں اسٹاف مکمل کرنے کےحوالےسے تبادلہ خیال کیا۔

باہمی مشاورت سے طے ہوا کہ 15 ستمبر2021ء سے 30 دن کا رہائشی ناظرۂ قراٰن کورس مدرسۃالمدینہ گرلز کے تحت لنگر پورہ میں قائم جامعۃالمدینہ و مدرسۃالمدینہ میں کرایا جائے گا۔

اسلام آباد کی ریجن نگران اسلامی بہن نے جہلم اور گجرات میں قائم دارالسنہ میں اسلامی بہنوں کےلگنےوالےمدرسۃالمدینہ کے تحت ہونے والے کورس کے مقامات کا جائزہ بھی کیا۔


دعوتِ اسلامی کے تحت کراچی ساؤتھ زون 2 بلدیہ ٹاؤن کابینہ میں  یومِ دعوتِ اسلامی کے موقع پر ذمہ دار اسلامی بہنوں کے درمیان سنتوں بھرےاجتماع کاانعقاد کیا گیا جس میں کم و بیش 110 اسلامی بہنوں نے شرکت کی۔

صاحبزادیِ عطار سلمہا الغفار نے اسلامی بہنوں کے درمیان سنتوں بھرا بیان کیا جس میں امیرِ اہل سنّت دامت برکاتہم العالیہ کی جدوجہد اور تنظیم کی کامیابی کے متعلق بتایا۔اس کےعلاوہ اسلامی بہنوں کو آپس میں نرمی سے رہنے اور دوسری اسلامی بہنوں کو دعوتِ اسلامی کے دینی ماحول سے منسلک کرنے کا ذہن دیانیز ہر کام میں اخلاص کو مدِ نظر رکھنے کا ذہن دیتے ہوئے عاجزی و انکساری کرنے کا ذہن دیا۔

مزید اسلامی بہنوں کو گھروں میں درس دینے ، مدنی مذاکرہ دیکھنے، ہفتہ وار رسالہ پڑھنے اور دیگر دینی کاموں میں عملاً شامل ہونے کی نیتیں بھی کروائیں۔آخرمیں صاحبزادیِ عطار سلمہا الغفار کی طرف سے نمایاں کارکردگی والی ذمہ دار اسلامی بہنوں کو تحائف بھی پیش کئے گئےجس پراسلامی بہنوں نے دینی کاموں میں عملاً شامل ہونے کی اچھی اچھی نیتوں کا اظہار کیا۔


شعیب علیہ السلام کی قوم کی نا فرمانیاں

الحمدللہ ہم مسلمان ہیں حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے آخری نبی ہیں ۔ جو ہمارے لیے اللہ کی آخری کتاب لے کر تشریف لائے۔ جس میں از اول تا آخر ہرشے کا بیان موجود ہے ۔ اپنی برگزیدہ کتاب میں اللہ پاک نے اپنے نیک بندوں کے لیے جنت کا وعدہ کیا ہے۔ وہیں نافرمان بندوں کو ڈرانے کے لئے گزشتہ اقوام پر نازل کیے جانے والے عذابوں کا تذکرہ بھی موجود ہے انہی میں سے ایک حضرت شعیب علیہ السلام کی قوم ہے جو مدین کہلاتی تھی۔ اور اس بستی کا نام بھی مدین تھا ۔ اس بستی کا نام مدین اس لیے ہوا کہ یہ لوگ حضرت ابراہیم علیہ السلام کی اولاد کے ایک بیٹے مدین کی اولاد میں سے تھے۔

قرآن پاک کی سورۃ الاعراف کی آیت نمبر 85 میں ارشاد باری ہے :اور مدین کی طرف ان کے ہم قوم شعیب کو بھیجا ۔

انہوں نے فرمایا اے میری قوم اللہ کی عبادت کرو اللہ کے سوا تمہارا کوئی معبود نہیں۔ بے شک تمہارے پاس تمہارے رب کی طرف سے روشن دلیل آگئ۔تو ناپ اور تول پورا پورا کرو اور لوگوں کو ان کی چیزیں کم کر کے نہ دو۔ اور زمین میں اس کی اصلاح کے بعد فساد نہ پھیلاؤ ۔کہ تمہارے لیے بہتر ہے اگر تم ایمان لاؤ۔حضرت شعیب عليه السلام کی قوم میں شرک کے علاوہ جوگناہ عام تھے ان میں سے ایک ناپ تول میں کمی کرنا ہے جب کوئی شخص ان کے پاس کوئی چیز بیچنے آتا تو ان کی كوشش یہ ہوتی کہ وہ تول میں اس چیز كو جتنا زیارہ لے سکتے ہوں اتنا لے لیں اور جب وہ کسی کو کوئی چیز دیتے تو ناپ اور تول میں کمی کرجاتے اسطرح وہ ایک دوسرے کو نقصان پہنچانے مصروف تھے. اسی لیے حضرت شعیب علیه السلام نے انہیں یہ بری عادت چھوڑنے کی دعوت دی اور فرمایا " ناپ تول میں کمی نہ کرو اس کے بعد فرمایا۔ بے شک میں تمہیں خوشحال دیکھ رہا ہوں۔ اور ایسے حال میں آدمی کو چاہیے کہ وہ نعمت کی شکر گزاری کرے اور دوسروں کو اپنے مال سے فائدہ پہنچائے نہ کہ ان کے حقوق میں کمی کرے (تفسیر صراط الجنان)

فی زمانہ بھی بہت سارے لوگ اس قبیح فعل میں مبتلا نظر آتے ہیں ۔ خصوصاً تاجر برادری کے لوگ ان افعال کو تجارت کے اعلی گر سمجھتے ہیں ان کی عقل ناقص کے مطابق جن تاجروں میں یہ اعلی گر نہ ہوں وہ تجارت میں کامیابی حاصل کر ہی نہیں سکتے ۔کبھی ترازو کے باٹوں میں کمی بیشی کی جاتی ہے تو کبھی وزن ناپنے کے اسکیل میں گڑ بڑ کی جاتی ہے ۔ کہیں گرم مسالے کو گیلی بوری کے اندر رکھ کر اسکا وزن بڑھا دیا جاتا ہے تو کہیں مہنگی مصنوعات کے اندر سستی مصنوعات کی آمیزش کے ذریعے اس میں اضافہ کر دیا جاتا ہے ناپ میں کمی اس طرح کی جاتی ہے کہ پورا سوٹ کہہ کر جو کپڑا دیا جاتا ہے گھر آ کر کھولیں تو پورا سوٹ بن ہی نہیں پاتا۔اسی طرح پیٹرول پمپ پر بھی جدید طریقوں سے پورے پیسے لے کر پیٹرول کم کردیا جاتا ہے غرض شعیب علیہ السلام کی قوم پر عذاب جس گناه کی وجہ سے آیا آج ہماری قوم میں بھی یہ گناہ تیزی سے سرایت کرتا نظر آرہا ہے ۔ اس پر تماشا یہ ہے کہ اگر کوئی امت کی خیرخواہی کی نیت سے اسطرح توجہ دلاۓ تو جواب ملتا ہے « یا شیخ اپنی اپنی دیکھ "

اے کاش ہم قرآن پاک کا ترجمہ و تفسیر پڑھ کر گزشتہ اقوام کے احوال سے سبق حاصل کرتے۔ اللہ پاک دنیا و آخرت میں ہمیں اپنے غضب سے محفوظ فرمائے۔ (آمین بجاہ النبی الامین صلی اللہ علیہ وسلم)


مدین حضرت ابراہیم علیہ السلام کے ایک بیٹے کا نام ہے،  بعد میں حضرت شعیب علیہ الصلوۃ والسلام کے قبیلے کا نام مدین پڑ گیا، اکثر مفسرین کی رائے یہ ہے کہ حضرت ابراہیم علیہ السلام کے بیٹے مدین نے اس شہر کی بنیاد ڈالی تھی۔

حضرت شعیب علیہ الصلوۃ والسلام کو مدین والوں کی طرف نبی بنا کر بھیجا گیا، حضرت شعیب علیہ الصلوۃ والسلام نے مدین والوں کو سب سے پہلے یہ فرمایا"اے میری قوم!اللہ پاک کی عبادت کرو، اللہ کے سوا تمہارا کوئی معبود نہیں"، کفر کے بعد چونکہ مدین والوں کی سب سے بُری عادت یہ تھی کہ وہ خرید وفروخت کے دوران ناپ تول میں کمی کرتے تھے، جب کوئی شخص ان کے پاس اپنی چیز بیچنے آتا تو ان کی کوشش یہ ہوتی کہ وہ تول میں اس چیز کو جتنا زیادہ لے سکتے ہوں، اتنا لے لیں اور جب کسی کو اپنی چیز فروخت کرتے تو ناپ اور تول میں کمی کر جاتے، اس طرح وہ ایک دوسرے کو نقصان پہنچانے میں مصروف تھے، اس لئے حضرت شعیب علیہ الصلوۃ والسلام نے انہیں یہ برُی عادت چھوڑنے کی دعوت دی اور فرمایا"ناپ اور تول میں کمی نہ کرو" اور فرمایا"کہ بے شک میں تمہیں خوش حال دیکھ رہا ہوں" اور ایسے حال میں تو آدمی کو چاہئے کہ وہ نعمتوں کی شُکر گزاری کرے اور دوسروں کو اپنے مال سے فائدہ پہنچائے نہ کہ ان کے حقوق میں کمی کرے، ایسی حالت میں اس عادت سے اندیشہ ہے کہ کہیں اس خوشحالی سے محروم نہ کر دیئے جاؤ، اگر تم ناپ تول میں کمی سے باز نہ آئے تو بے شک مجھے تم پر گھیر لینے والے دن کے عذاب کا ڈر ہے کہ جس سے کسی کو رہائی میّسر نہ ہو اور سب کے سب ہلاک ہو جائیں، یہ بھی ہو سکتا ہے کہ اس دن کے عذاب سے عذابِ آخرت مراد ہو۔( تفسیر کبیر، ہود، تحت الآیۃ:84، 6/384، مدارک، ہود، تحت الآیۃ:84، ص 508۔509، ملتقظاً)

قرآن مجید میں ارشادِ رب العزت کا ترجمہ ملاحظہ کیجئے:ترجمہ:"اور اے میری قوم! انصاف کے ساتھ ناپ اور تول پورا کرو اور لوگوں کو ان کی چیزیں گھٹا کر نہ دو اور زمین میں فساد نہ پھیلاتے پھرو، اللہ کا دیا جو بچ جائے وہ تمہارے لئے بہتر ہے، اگر تمہیں یقین ہو اور میں تم پر کوئی نگہبان نہیں۔"(سورہ ھود، آیت84۔ 85)

"اور میں تم پر کوئی نگہبان نہیں"یعنی تم سے صادر ہونے والے ہر معاملے میں میرا تمہارے پاس موجود رہنا ممکن نہیں تاکہ میں ناپ تول میں کمی بیشی پر تمہارا مؤاخذہ کر سکوں۔(قرطبی، ہود، تحت الآیۃ:86، 5/61، الجزء التاسع)

علماء نے فرمایا ہے کہ بعض انبیاء کرام علیہم الصلوۃ والسلام کو جنگ کرنے کی اجازت تھی، جیسے حضرت موسٰی، حضرت داؤد، حضرت سلیمان علیہم الصلوۃ والسلام، بعض وہ تھے جنہیں جنگ کا حکم نہ تھا، حضرت شعیب علیہ الصلوۃ والسلام انہی میں سے تھے، آپ سارا دن وعظ فرماتے اور ساری رات نماز میں گزارتے تھے، قوم آپ علیہ الصلوۃ والسلام سے کہتی کہ اس نماز سے آپ کو کیا فائدہ؟ تو آپ علیہ الصلوۃ والسلام فرماتے" نماز خوبیوں کا حکم دیتی ہے، برائیوں سے منع کرتی ہے" تو اس پر وہ مذاق اڑاتے ہوئے یہ کہتے:

قَالُوْا یٰشُعَیْبُ اَصَلٰوتُكَ تَاْمُرُكَ اَنْ نَّتْرُكَ مَا یَعْبُدُ اٰبَآؤُنَاۤ اَوْ اَنْ نَّفْعَلَ فِیْۤ اَمْوَالِنَا مَا نَشٰٓؤُاؕ-اِنَّكَ لَاَنْتَ الْحَلِیْمُ الرَّشِیْدُ(۸۷)

ترجمہ کنز الایمان:" بولے اے شعیب کیا تمہاری نماز تمہیں یہ حکم دیتی ہے کہ ہم اپنے باپ دادا کے خداؤں کو چھوڑ دیں یا اپنے مال میں جو چاہیں نہ کریں ہاں جی تمہیں بڑےعقل مند نیک چلن ہو۔"( پارہ 12، سورہ ھود، آیت87)

امام فخر الدین رازی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ قوم نے حضرت شعیب علیہ الصلوۃ و السلام کے حلیم و رشید ہونے کا اعتراف کیا تھا اور ان کا یہ کلام طنزاورمذاق اُڑانے کے طور پر نہ تھا، بلکہ اس کلام سے مقصود یہ تھا کہ آپ حلم اور کمالِ عقل کے باوجود ہم کو اپنے مال میں اپنی مرضی کے مطابق تصرف کرنے سے کیوں منع فرماتے ہیں؟ اس کا جواب جو حضرت شعیب علیہ الصلوۃ والسلام فرماتے ہیں، اس کا خلاصہ یہ ہے کہ"جب تم میرے کمالِ عقل کا اعتراف کر رہے ہو تو تمہیں یہ سمجھ لینا چاہئے کہ میں نے اپنے لئے جو بات پسند کی ہے، وہ وہی ہوگی، جو سب سے بہتر ہو اور وہ خدا کی توحید اور ناپ تول میں خیانت نہ کرنا ہے اور چونکہ میں اس کا پابندی سے عامل ہوں تو تمہیں سمجھ لینا چاہئے کہ یہی طریقہ بہتر ہے۔"(تفسیر کبیر، ہود، تحت الآیۃ:88، 6/388)

حضرت شعیب علیہ الصلوۃ والسلام نے مدین والوں کو سمجھانے کے لئے زیادہ گفتگو فرمائی تو انہوں نے جواب دیا"اے شعیب علیہ الصلوۃ والسلام!آپ اللہ پاک کی وحدانیت کا اقرار کرنے، صرف اسی کی عبادت کرنے اور ناپ تول میں کمی حرام ہونے کی جو باتیں کر رہے ہیں اور ان باتوں پر جو دلائل دے رہے ہیں، یہ ہماری سمجھ میں نہیں آتے، نیز بے شک ہم تمہیں اپنے درمیان کمزور دیکھتے ہیں کہ اگر ہم آپ کے ساتھ کچھ زیادتی اور ظلم کریں تو آپ میں دفاع کرنے کی طاقت نہیں، اگر آپ کا قبیلہ ہمارے دین پر ہونے کی وجہ سے ہم میں عزت دار نہ ہوتا تو ہم پتھر مار مار کر آپ کو قتل کر دیتے اور تم تمہارے نزدیک کوئی معزز آدمی نہیں ہو۔(بیضاوی، ہود، تحت الآیۃ:91، 3/286۔287)

جب مدین والوں پر عذاب نازل کرنے اور انھیں ہلاک کر دینے کا ہمارا حکم آیا تو ہم نے حضرت شعیب علیہ الصلوۃ والسلام اور اُن پر ایمان لانے والوں کو محض اپنی رحمت اور فضل کی وجہ سے اس عذاب سے بچا لیا، اس میں اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ بندے کو جو بھی نعمت ملتی ہے، وہ اللہ پاک کے فضل اور اس کی رحمت سے ملتی ہے۔(تفسیر کبیر، ہود، تحت الآیۃ:94، 6/392)

لوگوں نے حضرت شعیب علیہ السلام کی نصیحت کو سن کر کہا"اے شعیب!تو تم ان لوگوں میں سے ہو، جن پر جادو ہوا ہے اور تم کوئی فرشتہ نہیں ہو، بلکہ ہمارے جیسے ایک آدمی ہی ہواور تم نے نبوت کا جو دعویٰ کیا ہے، بے شک ہم تمہیں اس میں جھوٹا سمجھتے ہیں، اگر تم نبوت کے دعوے میں سچے ہو تو اللہ پاک سے دعا کرو کہ وہ عذاب کی صورت میں ہم پر آسمان کا کوئی ٹکڑا گرا دے۔(مدارک، الشعراء، تحت الآیۃ:185۔187، ص830، روح البیان، الشعراء، تحت الآیۃ: 185۔187،6/،304ملتقظاً)

ایکہ(جنگل) والوں کی طرف:

حضرت شعیب علیہ الصلوۃ والسلام کو ایکہ(جنگل) والوں کی طرف بھی رہنمائی کا پیکر بنا کر بھیجا گیا، یہ مدین شہر کے قریب تھا اور اس میں بہت سی جھاڑیاں اور درخت تھے، قرآن مجید میں ارشادِ رب العلمین ہے :

قَالَ رَبِّیْۤ اَعْلَمُ بِمَا تَعْمَلُوْنَ(۱۸۸) فَكَذَّبُوْهُ فَاَخَذَهُمْ عَذَابُ یَوْمِ الظُّلَّةِؕ-اِنَّهٗ كَانَ عَذَابَ یَوْمٍ عَظِیْمٍ(۱۸۹)

فرمایا میرا رب خوب جانتا ہے جو تمہارے کوتک ہیں تو انہوں نے اُسے جھٹلایا تو اُنہیں شامیانے والے دن کے عذاب نے آلیا بےشک وہ بڑے دن کا عذاب تھا۔(پارہ19، الشعراء:188، 189)

جنگل والوں نے حضرت شعیب علیہ الصلوۃ والسلام کو جھٹلایا تو انہیں شامیانے کے دن عذاب نے پکڑ لیا، بے شک وہ بڑے دن کا عذاب تھا، جو کہ اس طرح ہوا کہ انہیں شدید گرمی پہنچی، ہوا بند ہوئی اور سات دن گرمی کے عذاب میں گرفتار رہے، تہ خانوں میں جاتے، وہاں اور زیادہ گرمی پاتے، اس کے بعد ایک بادل آیا، سب اس کے نیچے آ کر جمع ہوگئے تو اس سے آگ برسی اور سب جل گئے۔(مدارک، الشعراء، تحت الایۃ:189، ص830)ہمارے زمانے کے وہ لوگ جنہیں اِسلام کے احکام پر کوفت ہوتی ہے کہ کسی کو سود کی حُرمت ہضم نہیں ہوتی، کسی کو پردے کی پابندی وبالِ جان لگتی ہے اور کسی کو حقوق اللہ کی ادائیگی اور عبادت کی پابندی پر مذاق سُوجھتا ہے، ایسے لوگوں کو اپنے اقوال و افعال کو قومِ شعیب کے بیان کردہ جملوں کے ساتھ ملا کر دیکھ لینا چاہئے کہ کیا یہ اسی کافر قوم کے نقشِ قدم پر نہیں چل رہے۔


مختصر تعارف:

"اہلِ مدین عرب تھے"نسل کے لحاظ سے اہلِ مدین عرب تھے، جو اپنے شہر "مدین" میں رہائش پذیر تھے اور اطراف شام میں"ارض معان" کے قریب اور قومِ لوط کے بحیرہ کے بھی قریب تھا اور قومِ لوط کے بحیرہ کے قریب "ارضِ حجاز" سے متصل تھا، یہ لوگ قومِ لوط کے بعد قریب کے زمانہ میں ہوئے ہیں، مدین" شہر قبیلہ" کے نام سے معروف تھا اور وہ نبی"مدین بن مدیان بن ابراہیم الخلیل" ہیں۔

حضرت شعیب علیہ السلام کا سلسلہ نسب:

وہ "ابن میکیل بن شجن" ہیں، محمد بن اسحاق نے اس کا تذکرہ کیا ہے، وہ کہتے ہیں، انہیں "سریانی" زبان میں"یتر ون" کہا جاتا ہے، لیکن یہ بات محل نظر ہے اور بعض اور بعض نے کہا ہے کہ ان کا سلسلہ نسب یوں ہے کہ"شعیب بن یشخر بن لاوی بن یعقوب" اور بعض نے اس طرح بیان کیا ہے کہ "شعیب بن نویب بن عیفا بن مدین بن ابراہیم علیہ السلام" ہے اور ان کے نسب کے بارے میں اور بھی کئی اقوال ہیں، جیسے بعض نے اس انداز سے ذکر کیا ہے"شعیب بن صیفور بن عیفا بن ثابت بن مدین بن ابراہیم علیہ السلام"۔

قوم کا پیشہ:

یہ لوگ "ناپ تول" والے سودے کا کاروبار کیا کرتے تھے۔

حضرت شعیب کی قوم کی نافرمانیاں:

1۔ناپ تول میں کمی کرنا:

اس کے بارے میں ارشادِ رب العلمین ہے:

وَ یٰقَوْمِ اَوْفُوا الْمِكْیَالَ وَ الْمِیْزَانَ بِالْقِسْطِ وَ لَا تَبْخَسُوا النَّاسَ اَشْیَآءَهُمْ وَ لَا تَعْثَوْا فِی الْاَرْضِ مُفْسِدِیْنَ(۸۵) بَقِیَّتُ اللّٰهِ خَیْرٌ لَّكُمْ اِنْ كُنْتُمْ مُّؤْمِنِیْنَ ﳛ وَ مَاۤ اَنَا عَلَیْكُمْ بِحَفِیْظٍ(۸۶)

اور اے میری قوم ناپ اور تول انصاف کے ساتھ پوری کرو اور لوگوں کو ان کی چیزیں گھٹا کر نہ دو اور زمین میں فساد مچاتے نہ پھرواللہ کا دیا جو بچ رہے وہ تمہارے لیے بہتر ہے اگر تمہیں یقین ہو اور میں کچھ تم پر نگہبان نہیں ۔"(پارہ12، سورہ ھود، آیت84۔ 85)(تفسیر صراط الجنان)

بقیت اللہ:

اللہ کا دیا ہوا جو بچ جائے، یعنی حرام مال ترک کرنے کے بعد جس قدر حلال مال بچے، وہی تمہارے لئے بہتر ہے، حضرت عبداللہ بن عباس فرماتے ہیں:"اس کا معنی یہ ہے کہ پورا تولنے اور ناپنے کے بعد جو بچے، وہ بہتر ہے"، ان کے علاوہ اور بھی مفسرین نے معنی بیان فرمائے ہیں، اس سے معلوم ہوا کہ حلال میں برکت ہے اور حرام میں بے برکتی، نیز حلال کی تھوڑی روزی، حرام کی زیادہ روزی سے بہتر ہے۔(تفسیر صراط الجنان)

2۔حضرت شعیب کا حکم نہ ماننا:

جس کا ذکر اس آیت مبارکہ میں بیان کیا گیا ہے:

وَ اِلٰى مَدْیَنَ اَخَاهُمْ شُعَیْبًاؕ-قَالَ یٰقَوْمِ اعْبُدُوا اللّٰهَ مَا لَكُمْ مِّنْ اِلٰهٍ غَیْرُهٗؕ-وَ لَا تَنْقُصُوا الْمِكْیَالَ وَ الْمِیْزَانَ اِنِّیْۤ اَرٰىكُمْ بِخَیْرٍ وَّ اِنِّیْۤ اَخَافُ عَلَیْكُمْ عَذَابَ یَوْمٍ مُّحِیْطٍ(۸۴)

ترجمہ کنز الایمان: اور مدین کی طرف ان کے ہم قوم شعیب کو کہا اے میری قوم اللہ کو پوجو اس کے سوا تمہاراکوئی معبود نہیں اور ناپ اور تول میں کمی نہ کرو بےشک میں تمہیں آسودہ حال(مالدار وخوشحال) دیکھتا ہوں اور مجھے تم پر گھیر لینے والے دن کے عذاب کا ڈر ہے (پارہ 12، ھود: 85، 84)(تفسیر صراط الجنان، سورہ ھود، آیت84)

حضرت شعیب نے مدین والوں سے کہا:اے میری قوم!اللہ پاک کی عبادت کرو، اس کے سوا تمہارا اور کوئی معبود نہیں، فرمایا کہ"ناپ تول میں کمی نہ کرو" لیکن مدین والوں نے آپ کے حکم پر عمل نہ کیا۔

3۔اللہ پاک کی وحدانیت کا انکار:

جس کا ذکر قرآن پاک میں بیان کیا گیا ہے:

قَالُوْا یٰشُعَیْبُ اَصَلٰوتُكَ تَاْمُرُكَ اَنْ نَّتْرُكَ مَا یَعْبُدُ اٰبَآؤُنَاۤ اَوْ اَنْ نَّفْعَلَ فِیْۤ اَمْوَالِنَا مَا نَشٰٓؤُاؕ-اِنَّكَ لَاَنْتَ الْحَلِیْمُ الرَّشِیْدُ(۸۷)

ترجمہ کنز الایمان:" بولے اے شعیب کیا تمہاری نماز تمہیں یہ حکم دیتی ہے کہ ہم اپنے باپ دادا کے خداؤں کو چھوڑ دیں یا اپنے مال میں جو چاہیں نہ کریں ہاں جی تمہیں بڑےعقل مند نیک چلن ہو۔"( پارہ 12، سورہ ھود، آیت87)

(تفسیر صراط الجنان، ترجمہ کنزالعرفان)

حضرت شعیب نے مدین والوں کو دو باتوں کا حکم دیا تھا،1۔اللہ پاک کی وحدانیت کا اقرار کریں اور اللہ کے علاوہ کسی اور کی عبادت نہ کریں، 2۔ناپ تول میں کمی نہ کریں، قوم نے ان باتوں کا جواب اس طرح دیا کہ ہم ان خداؤں کی عبادت کرنا چھوڑ دیں، جن کی ہمارے باپ دادا عبادت کرتے تھے اور دوسرا کہ ہم اپنے مال میں پورا اختیار رکھتے ہیں، چاہے کم نا پیں کم تولیں، اس آیت میں انہوں نے اللہ پاک کی وحدانیت کا انکار کیا اور بُت پرستی پر اپنے آباؤ اجداد کی تقلید میں لگے رہے۔



حضرت شعیب کی قوم  اہلِ مدین اور اصحاب الایکہ تھی، انہوں نے آنحضرت کی مختلف طریقوں سے نافرمانی کی اور جب ان کی نافرمانی آخری حد تک پہنچ گئ، تو ان پر عذاب نازل ہو گیا۔

حضرت شعیب علیہ السلام تیسرے عرب نبی ہیں، جن کا اسمِ گرامی قرآن کریم میں بیان ہوا ہے اور عرب انبیاء تھے، حضرت ہود، حضرت صالح، حضرت شعیب اور حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم آپ کا نام قرآن کریم میں11 بار ذکر ہوا ہے، اللہ پاک حضرت شعیب علیہ السلام کو مدین اور ایکہ کے لوگوں کی طرف بھیجا، تا کہ آنحضرت ان لوگوں کو خدائی دین اور وحدانیت کی طرف ہدایت کریں اور بُت پرستی اور برائیوں سے نجات دیں، مدین ایسا شہر تھا، جو سرزمینِ معان شام کے قریب حجاز کے آخری حصّہ میں قرار پایا ہے، وہاں کے لوگ بُت پرستی، برائی اور لین دین میں خیانت اور دھوکہ بازی کرتے تھے، ناپ تول میں کمی اور خرید و فروخت میں خیانت کرتے، حتٰی کے پیسوں کے سکّوں میں سونا چاندی کو کم کرنا ان میں عام تھا اور دنیا سے محبت اور دولت اکٹھی کرنے کی وجہ سے دھوکہ فریب دیا کرتے تھے اور طرح طرح کی معاشرتی برائیوں کے عادی تھے، ایکہ مدین کے قریب آباد اور درختوں سے بھرا ہوا گاؤں تھا، وہاں کے لوگ بھی مدین کے لوگوں کی طرح برائیوں میں ڈوبے ہوئے تھے۔اللہ پاک نے مدین کے لوگوں میں سے حضرت شعیب علیہ السلام کو نبوت کے لئے مبعوث کیا، تاکہ ان کے آس پاس والے لوگوں کو گناہوں سے نکال کر توحید کی طرف پکاریں، پروردگارِ عالم نے سورہ ہود میں حضرت شعیب علیہ السلام اور آنحضرت کی قوم کے بارے میں فرمایا ہے:

وَ اِلٰى مَدْیَنَ اَخَاهُمْ شُعَیْبًاؕ-قَالَ یٰقَوْمِ اعْبُدُوا اللّٰهَ مَا لَكُمْ مِّنْ اِلٰهٍ غَیْرُهٗؕ-وَ لَا تَنْقُصُوا الْمِكْیَالَ وَ الْمِیْزَانَ اِنِّیْۤ اَرٰىكُمْ بِخَیْرٍ وَّ اِنِّیْۤ اَخَافُ عَلَیْكُمْ عَذَابَ یَوْمٍ مُّحِیْطٍ(۸۴)وَ یٰقَوْمِ اَوْفُوا الْمِكْیَالَ وَ الْمِیْزَانَ بِالْقِسْطِ وَ لَا تَبْخَسُوا النَّاسَ اَشْیَآءَهُمْ وَ لَا تَعْثَوْا فِی الْاَرْضِ مُفْسِدِیْنَ(۸۵)

ترجمہ کنز الایمان: اور مدین کی طرف ان کے ہم قوم شعیب کو کہا اے میری قوم اللہ کو پوجو اس کے سوا تمہاراکوئی معبود نہیں اور ناپ اور تول میں کمی نہ کرو بےشک میں تمہیں آسودہ حال(مالدار وخوشحال) دیکھتا ہوں اور مجھے تم پر گھیر لینے والے دن کے عذاب کا ڈر ہے اور اے میری قوم ناپ اور تول انصاف کے ساتھ پوری کرو اور لوگوں کو ان کی چیزیں گھٹا کر نہ دو اور زمین میں فساد مچاتے نہ پھرو"(پارہ 12، ھود: 85، 84)

اور سورۃ العنکبوت میں فرمایا ہے:

وَ اِلٰى مَدْیَنَ اَخَاهُمْ شُعَیْبًاۙ-فَقَالَ یٰقَوْمِ اعْبُدُوا اللّٰهَ وَ ارْجُوا الْیَوْمَ الْاٰخِرَ وَ لَا تَعْثَوْا فِی الْاَرْضِ مُفْسِدِیْنَ(۳۶)

ترجمۂ کنز الایمان: مدین کی طرف اُن کے ہم قوم شعیب کو بھیجا تو اس نے فرمایا اے میری قوم اللہ کی بندگی کرو اور پچھلے دن کی اُمید رکھو اور زمین میں فساد پھیلاتے نہ پھرو (پارہ20، عنکبوت:36)

اور نیز اصحاب الایکہ کے بارے میں سورہ ٔ شعراء میں فرمایا ہے:

كَذَّبَ اَصْحٰبُ لْــٴَـیْكَةِ الْمُرْسَلِیْنَۚۖ(۱۷۶) اِذْ قَالَ لَهُمْ شُعَیْبٌ اَلَا تَتَّقُوْنَۚ(۱۷۷) اِنِّیْ لَكُمْ رَسُوْلٌ اَمِیْنٌۙ(۱۷۸) فَاتَّقُوا اللّٰهَ وَ اَطِیْعُوْنِۚ(۱۷۹)

ترجمہ کنز الایمان: بَنْ(جنگل) والوں نے رسولوں کو جھٹلایا جب اُن سے شعیب نے فرمایا کیا ڈرتے نہیں بےشک میں تمہارے لیے اللہ کا امانت دار رسول ہوں تو اللہ سے ڈرو اور میرا حکم مانو۔(پارہ 19، الشعراء:آیت 176 سے 179)

حضرت شعیب علیہ السلام نے لوگوں کو اللہ کے عذاب سے ڈرایا اور بشارت بھی دی اور عذاب قومِ نوح، قومِ ہود، قومِ صالح اور قومِ لوط پر آئے تھے، وہ بھی ان کو یاد دلوائے اور ان کے بُرے کاموں سے دستبردار ہونے کی نصیحت پر پوری کوشش کی، لیکن ان کا طغیانِ کفر اور فسق ہی بڑھتا رہا، ان لوگوں میں سے سوائے چند افراد کے کوئی ایمان نہ لایا، بلکہ آنحضرت کواذیت دی، مذاق اڑایا، دھمکی دی اور دیگر افراد کو شعیب کی فرمانبرداری سے منع کیا، جو راستہ بھی حضرت شعیب پر اختتام پذیر ہوتا تھا، اس پر بیٹھ جاتے اور گزرنے والے لوگوں کو حضرت شعیب علیہ السلام کے پاس جانے سے ڈراتے اور جو آنحضرت پر ایمان لائے تھے، انہیں اللہ کی راہ سے منع کرتے اور اللہ کے راستے کو ٹیڑھا دکھاتے، اور کوشش کرتے کہ جتنا ہوسکے لوگوں میں اس راستے کی نفرت پھیلائیں اور پھر الزام لگانا شروع کر دیا، کبھی آنحضرت کو دھمکی دی، کبھی جادوگر کہتے، کبھی کذّاب(جھوٹا) کہتے، انہوں نے آنحضرت کو دھمکی دی اور کہا کہ اگر آپ تبلیغ سے دستبردار نہ ہوں تو ہم آپ کو سنگسار کریں اور دوبارہ آنحضرت اور آنحضرت پر ایمان لانے والوں کو دھمکی دی کہ ہم تمہیں شہر سے نکال دیں گے، مگر یہ کہ ہمارے بت پرستی کے دین پر آجاؤ، انہوں نے اپنے اس کردار کو باقی رکھا، یہاں تک کہ آنحضرت ان کے ایمان لانے سے بالکل نا اُمید ہو گئے، ان کو ان کے حال پر چھوڑ دیا اور دعا کی، اللہ پاک سے فتح طلب کی اور عرض کیا:

رَبَّنَا افْتَحْ بَیْنَنَا وَ بَیْنَ قَوْمِنَا بِالْحَقِّ وَ اَنْتَ خَیْرُ الْفٰتِحِیْنَ(۸۹)

ترجمہ کنز الایمان: اے رب ہمارے ہم میں اور ہماری قوم میں حق فیصلہ کر اور تیرا فیصلہ سب سے بہتر۔"(پارہ 9، اعراف:89)

اس دعا کے بعد اللہ پاک نے عذاب یوم الظلہ نازل کیا، جس دن سیاہ بادلوں نے ہر جگہ پر اندھیرا کر دیا اور سیلاب بہانے والی بارش برس گئی، اس جھٹلانے والی قوم نے حضرت شعیب علیہ السلام کا مذاق اڑاتے ہوئے کہا کہ اگر واقعی سچے ہو تو ہمارے اوپر آسمان کا کوئی ٹکڑا نازل کر دو، حضرت شعیب علیہ السلام نے کہا کہ ہمارا پروردگار تمہارے اعمال سے خوب باخبر ہے، قرآن کریم نے حضرت شعیب علیہ السلام کی قوم پر عذاب نازل ہونے کے بارے میں فرمایا ہے:

وَ لَمَّا جَآءَ اَمْرُنَا نَجَّیْنَا شُعَیْبًا وَّ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا مَعَهٗ بِرَحْمَةٍ مِّنَّا وَ اَخَذَتِ الَّذِیْنَ ظَلَمُوا الصَّیْحَةُ فَاَصْبَحُوْا فِیْ دِیَارِهِمْ جٰثِمِیْنَۙ(۹۴)

ترجمہ کنز الایمان: اور جب ہمارا حکم آیا ہم نے شعیب اور اس کے ساتھ کے مسلمانوں کو اپنی رحمت فرماکر بچالیا اور ظالموں کو چنگھاڑ نے آ لیا تو صبح اپنے گھروں میں گھٹنوں کے بل پڑے رہ گئے۔ (پارہ12، ھود:94)

حضرت شعیب کی قوم کی نافرمانیاں:

1۔وہ لوگ کفر و شرک میں مبتلا تھے اور درختوں کی پوجا کرتے تھے۔

2۔بیوپار میں بے ایمانی اور ناپ تول میں کمی کرتے تھے۔

3۔راستوں میں بیٹھ کر لوٹ مار کرتے، لوگوں کے اموال چھینتے اور غنڈہ ٹیکس وصول کرتے، بلکہ اگر یہ کہا جائے کہ دنیا میں غنڈہ ٹیکس کی بنیاد قومِ شعیب ہی نے رکھی تو بے جا نہ ہوگا۔

4۔حضرت شعیب علیہ السلام کو اذیت دی، مذاق اُڑایا، دھمکی دی اور دیگر افراد کو آنحضرت کی فرمانبرداری سے منع کیا۔


شعیب علیہ السلامکی قوم کی نافرمانیاں

الله پاک نے مختلف ادوار میں لوگوں کی اصلاح اور انہیں صراط مستقیم دکھانے کے لیے اپنے انبیاء کرام علیہم الرضوان بھیجے ، جنہوں نے انہیں برے افعال و اقوال کو چھوڑ کر ایک اللہ کی عبادت کر نے اور سیدھے راستے پر چلنے کی ہدایت فرمائی ، جن خوش نصیبوں نے ان کی پیروی کی اور حکم پر عمل کیا وه دنیا و آخرت میں کامیاب ہو گئے اور جنہوں نے نا فرمانی و سرکشی جاری رکھی وه عذاب الہی میں گرفتار ہو گئے ۔ اللہ پاک نے ایسی قوموں کا ذکر قرآن پاک میں فرمایا ، انہیں میں سے ایک قوم ” قوم مدین “ ہے ۔ اہل مدین عرب قوم تھے جوکہ اطراف شام میں معان کی سرزمین کی ایک بستی مدین کے رہنے والے تھے۔ اللہ پاک نے اپنے نبی شعیب علیہ السلامکو ان کی طرف بھیجا مگر اس قوم نے دعوت حق قبول نہ کی اور اپنی نافرمانیوں سے باز نہ آئے ،تو اللہ پاک نے اس قوم کو ذلت ورسوائی کا نشان بنادیا۔

قوم مدین کی جن نافرمانیوں کا ذکر قرآن پاک میں ہے وہ یہ ہیں ۔

1. الله پاک پر ایمان لانے والوں کو دھمکا کر روكنا - ( پ 8 ، سورۂ الاعراف 86)

2. راستے میں بیٹھ کر راہ گیروں کو ڈرانا اور لوٹ مار کرنا۔ (پ 8، سورۂ الاعراف 86)

3. ناپ تول میں ، لین دین میں کمی کرنا۔ (پ 12 ، سورہ ہود 84) *

4. حضرت شعیب علیهم السلام کا مذاق اُڑانا ،جب انہوں نے نماز کاحکم دیا۔(پ 12، سورۂ ہود ، 87)

5. نبی کی شان میں گستاخی والے کلمات کہنا ، پتھر مارنے کی دھمکی دینا ۔(پ12 - سورۂ ہود: 91)

6. جب یہ قوم اپنی نافرمانی اور سرکشی سے باز نہ آئی تو اللہ قہار و جبارکے عذاب میں گرفتار ہو گئی، جس کا ذکر قرآن پاک میں ہے ۔ چنانچہ ارشاد ہوتاہے ؛ ترجمہ کنزالایمان: ” تو انہیں شدید زلزلے نے اپنی گرفت میں لے لیا توصبح کے وقت وہ اپنے کمروں میں اوندھے پڑے رہ کرے “ (پ9، الاعراف: 91)

افسوس صد افسوس! اگر ہم قوم مدین میں پائی جانے والی خصلتیں دیکھیں اور اپنے معاشرے کا جائزہ لیں تو یہ سب ہمیں اب بھی نظر آئے گا۔ لوگوں کو سیدھی راہ سے روکنا ، چوکوں اور محلوں میں ڈرانا ، دھمکانااور لوٹ مار کرنا ، ناپ تول میں کمی کرنا الغرض یہ سب ہمارے معاشرے میں بھی عام ہے ، بس یہ ہی سمجھ آتا ہے کہ :

**درس قرآن اگر ہم نے نہ بھلایا ہوتا

یہ زمانہ نہ زمانے نے دکھایا ہوتا**

اب بھی وقت ہے اس قوم کے عذاب سے لرز جائیں اور سامان آخرت کرتے ہوئے گناہوں سے بچیں ! اللہ پاک ہمیں عمل کی توفیق عطافرمائے۔اللھم آمین ۔


حنفی مذہب کی تقویت  پر نماز سے متعلق 40 احادیث کا مجموعہ

اَرْبَعیْنِ حَنفِیَّہ

مؤلف:فقیہِ اعظم حضرت علامہ ابو یوسف محمد شریف نقشبندی کوٹلوی رحمۃ اللہ علیہ

اِس کتاب کی چندخصوصیات:

٭دیدہ زیب ودلکش سرورق(Title)وڈیزائننگ(Designing) ٭عصرحاضرکے تقاضوں کے پیش نظرجدید کمپوزنگ وفارمیشن ٭عبارت کے معانی ومفاہیم سمجھنے کےلئے ’’علامات ترقیم‘‘ (Punctuation Marks) کا اہتمام ٭پڑھنے والوں کی دلچسپی برقرار رکھنے کےلئے عنوانات (Headings) کا قیام ٭فکرِآخرت پرمشتمل اِصلاحی موادکی شمولیت ٭قراٰنی آیات مع ترجمہ ودیگر تمام منقولہ عبارات کے اصل کتب سے تقابل(Tally) کا اہتمام ٭آیات، احادیث ودیگر عبارات کےحوالوں(References) کا خاص اہتمام ٭ایک ہی نظرمیں رسالے کے عنوانات دیکھنے کیلئے کتاب کے آخر میں فہرست(Index) ٭جن کتب کا حوالہ دیا گیا ہے ان کے مصنفین، مکتبوں اورشہرطباعت کی ’’ماخذومراجع‘‘میں تفصیل ٭مکمل کتاب کی دارالافتاء اَہلِ سنت کے مفتیانِ کرام سے شرعی تفتیش ٭اَغلاط کوکم سے کم کرنے کیلئے مکمل کتاب کی کئی بار پروف ریڈنگ

112 صفحات پر مشتمل یہ کتاب2013ء سے لیکر2 مختلف ایڈیشنز میں تقریباً6 ہزارکی تعداد میں پرنٹ ہو چکی ہے۔

اس کتاب کی PDF دعوتِ اسلامی کی ویب سائٹ سے مفت ڈاؤن لوڈ بھی کی جاسکتی ہے۔

Download Now


دعوتِ اسلامی کے شعبہ شارٹ کورسز کے زیرِ اہتمام 09  ستمبر 2021ء کو یوکے برمنگھم ریجن کے علاقے سینٹرل برمنگھم (Central Birmingham) میں ”تفسیر سورۂ ملک کورس“ کا انعقاد کیا گیا جس میں مقامی اسلامی بہنوں نے شرکت کی۔

اس کورس میں سورۂ ملک کا لفظی اور با محاورہ ترجمہ اور اس کی تفسیر وغیرہ کے بارے میں معلومات فراہم کی گئیں۔ 


دعوت اسلامی کے شعبہ اصلاحِ اعمال للبنات کے زیر اہتمام   گزشتہ دنوں یوکے کے شہر راچڈیل (Rochdale) میں اصلاح اعمال اجتماع کا انعقاد کیا گیا جس میں 23 اسلامی بہنوں نے شرکت کی۔

کابینہ سطح کی اصلاح اعمال ذمہ دار اسلامی بہن نے”جنت کی سب سے اعلیٰ نعمت“ کے موضوع پر سنتوں بھرا بیان کیا اور اجتماعِ پاک میں شرکت کرنے والی اسلامی بہنوں کو نیک اعمال کے رسالے پر عمل کرنے اور دینی ماحول سے وابستہ رہتے ہوئے دینی کاموں میں حصہ لینے کی ترغیب دلائی۔